Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

ہوٹل والوں نے اِن سب کی ہدایت کے مطابق میوزک بھی آن کردیا تھا. اور ہشام پر گرائے جانے والی پھول کی پتیاں اب اُن دونوں پر گررہی تھیں.
یہ منظر دیکھنے والے کچھ لوگوں کی نظروں میں حیرت کچھ میں سوال اور کچھ میں حسد اور جیلسی واضح تھی. فائقہ کا دل چاہا تھا. اُس لڑکی کو گھسیٹ کر ہشام سے دور پھینک دے.
ہشام اور مِنہا کے چہرے ایک دوسرے کے بہت قریب تھے. مِنہا ہشام کو اپنے سامنے دیکھ ڈر گئی تھی. کیونکہ پچھلے دو ایکسپیرینس اُس کے بہت بُرے رہے تھے. مِنہا نے اِس ڈر سے کہ کہیں یہ سڑیل پولیس والا ماربل کے فرش پر گرا ہی نہ دے ہشام کے کندھے کو اور مضبوطی سے جکڑ لیا تھا. اُس کی حرکت اور چہرے کے تاثرات پڑھتا ہشام کے چہرے پر نجانے کیسے ایک پل کے لیے محظوظ کن مسکراہٹ بکھر گئی تھی.
یہ لڑکی دو ملاقاتوں میں ہی اُسے سمجھ چکی تھی. کہ وہ کتنا بدلحاظ اور بے مروت انسان ہے.
مِنہا کی ہلکی سی مزاحمت پر ہشام نے ہوش میں آتے اُس کو سیدھا کرتے اپنی بانہوں سے آزادی بخش دی تھی. زیان بھی ہال میں داخل ہوچکا تھا. اور حیرانی سے اُن دونوں کی جانب دیکھ رہا تھا. اُس نے تو ہشام کو اکیلا اندر بھیجا تھا پھر یہ لڑکی کہاں سے آگئی تھی.

مِنہا کا اتنے سارے لوگوں اور ہشام کے ساتھ اپنی پوزیشن پر شرم سے ڈوب مرنے کو دل چاہ رہا تھا. سب لوگوں کی نظریں خود پر محسوس کرتے وہ جلدی سے وہاں سے نکل آئی تھی.

ہشام گھر والوں کی جانب سے دیا جانے والا سرپرائز تو سمجھ چکا تھا. لیکن مِنہا کی یہاں موجودگی اُس کی کچھ خاص سمجھ میں نہیں آئی تھی. مگر جو بھی ہوا تھا ٹھیک نہیں ہوا تھا. ابھی اُسے سب کی مشکوک نظروں کا جواب بھی دینا تھا.

ہشام مسکراتے گھر والوں کی جانب بڑھا تھا. جن میں سے کچھ لوگ ابھی بھی حیرت ذدہ تھے. سب سے جاکر ملتے ہشام نے اتنے زبردست سرپرائز پر خوشی کا اظہار کرتے سب کا شکریہ ادا کیا تھا.

جس پر ابھی تھوڑی دیر پہلے رونما ہونے والے واقعہ کو بھلائے سب محبت سے ہشام کو وش کرنے لگے تھے. فائقہ کا موڈ سخت آف ہوچکا تھا. لیکن ہشام کی خاطر ناچاہتے ہوئے بھی اُس نے اپنے چہرے کو مسکراہٹ سے کور کرلیا تھا.

” کون تھی یہ حسین پری اور تمہاری بانہوں میں کیا کررہی تھی. “

واسع چھیڑنے والے انداز میں کہتے ہشام کے قریب آیا تھا. باقی سب رشتے الگ لیکن واسع کی ہشام سے بہت اچھی دوستی تھی.

” تو تم بھی یہی سمجھ رہے ہو کہ ابھی جو کچھ ہوا. اُس سب کا علم ہے مجھے.”

ہشام کی نظروں میں مِنہا کا دلکش سراپا سمایا تھا. وہ سمجھ نہیں پارہا تھا. کہ یہ صرف اتفاق ہی ہے یا کوئی اور ریزن وہ لڑکی ہر بار کیوں اُس کے سامنے آرہی تھی.

” نہیں ایسی بات نہیں ہے. لیکن تم دونوں کی انٹری بڑی فلمی تھی. جیسے لگ رہا ہوکہ پراپر پلاننگ کی گئی ہو. یہ دیکھو. “

واسع نے اُسے تنگ کرتے ہاتھ میں پکڑا موبائل اُس کے سامنے کیا تھا. جس اُن دونوں کی بہت ہی کمال کی پرفیکٹ پکچر لی گئی تھی. جس میں ہشام اور مِنہا بلکل ایک دوسرے میں کھوئے ہوئے لگ رہے تھے.

” ابھی اور اِسی وقت ڈیلیٹ کرو اِسے. “

جس طرح اُنہیں دیکھ کر سب کا ری ایکشن تھا اُس کی وجہ ہشام پکچر دیکھ کر سمجھ گیا تھا. ہشام نے بے اختیاری میں دونوں ہاتھ مِنہا کی کمر کے گرد پھیلائے اُسے گرنے سے بچایا ہوا تھا. مِنہا نے گرنے کے ڈر سے ہشام کو کندھے سے تھام رکھا تھا.

وہ دونوں بلکل پرفیکٹ کپل لگ رہے تھے. ہشام وائٹ کلر کی پینٹ شرٹ میں ملبوس تھا. اور مِنہا پرپل فراک میں. ہشام فوراً تصویر سے نظریں پھیر گیا تھا.

ہشام کے کہنے پر واسع نے اپنے موبائل سے تو ڈیل کردی تھی. لیکن ہشام کو سینڈ کرنا نہیں بھولا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” ویسے کل جو بھی ہوا پر مزا بہت آیا. لیکن مجھے ابھی تک اِس بات کی سمجھ نہیں آرہی. ہشام بھائی کے ساتھ وہ پیاری سی لڑکی آئی کہاں سے. اگر وہ لڑکی غلطی سے بھی پارٹی میں آگئی پھر بھی ٹائمنگ کتنی پرفیکٹ تھی دونوں کی. “

وہ سب کزنز لاؤنج میں جمع تھیں. جب رمشا کل والے واقعہ کا مزا لیتے بولی. کل تو سب ہشام کے ایک بار یہ کہنے سے کہ وہ نہیں جانتا یہ لڑکی کہاں سے آئی خاموش ہوگئے تھے. مگر ابھی تک کوئی اُس واقعہ کو بھولا نہیں تھا.

” یار پہلے تو سنا تھا کل دیکھ بھی لیا کہ راستہ بھول کر آنے والی پریاں کیسی ہوتی ہیں. “

تیمور بھی اُن سب کے پاس آکر بیٹھتے بولے.

” بے شرم انسان تھوڑی ہی دیر میں لڑکی کو تاڑ لیا تم نے. “

زویا نے اُسے ایک زور دار چپت رسید کی تھی.

” ہاں تو اور کیا زرا سا ٹائم اور ملتا تو نمبر بھی مانگ لینا تھا میں نے اُس حسینہ کا. ہشام بھائی کی طرح بورنگ تھوڑی نہ ہوں. اتنی پیاری لڑکی بانہوں میں تھی. اور وہ آگے سے ہونک بنے کھڑے تھے.”

تیمور کہاں پیچھے رہنے والا تھا. افسوس سے سر ہلاتے اُس نے ایسے جواب دیا جیسے بہت بڑا نقصان ہوگیا ہو اُسکا.

” اُسے بورنگ نہیں شریف انسان کہتے ہیں. ہشام کو اِس ٹائپ کی لڑکیوں میں بلکل بھی انٹرسٹ نہیں ہے. اور تمہاری یہ باتیں ابھی میں ماموں کو بتاتی ہوں پھر وہی تمہیں اُس لڑکی سے نمبر لا کر دیں گے. “

کب سے ہشام اور اُس لڑکی کے حوالے سے باتیں سنتی فائقہ آخر کار بول ہی پڑی تھی.

جبکہ فائقہ کا غصے اور جیلسی سے سُرخ پڑتا چہرا دیکھ تیمور کے ساتھ ساتھ باقی بھی اپنی ہنسی کنٹرول نہیں کر پائے تھے.

” ایک منٹ….تم کہیں اُس لڑکی سے جیلس تو نہیں ہورہی. “

تیمور فائقہ کو چڑھانے کے لیے جان بوجھ کر اور زور زور سے ہنسنے لگا تھا.

” تم ہمیشہ فضول ہی بولنا تیمور. بہت ہنسی آرہی نا سب کو. مجھے تم لوگوں سے بات ہی نہیں کرنی. جارہی ہوں میں. “

فائقہ اُن سب کے ہنسنے پر ناراضگی کا اظہار کرتی وہاں سے اُٹھ گئی تھی. سب کے روکنے پر بھی وہ نہیں رُکی تھی.

” تیمور تم بھی کچھ زیادہ ہی بول دیتے ہو. دیکھو اب وہ ناراض ہوگئی ہے. “

بسمہ نے تیمور کو گھڑکا

” چھوڑو اُس کی عادت ہے. ہر بات پر منہ بنانے کی. ہم سب تو صرف مذاق کررہے تھے. اِس میں اتنا اوور ری ایکٹ کرنے والی کیا بات تھی. ویسے جہاں تک میرا خیال ہے ہشام بھائی کی اِس سے بلکل بھی نہیں بننے والی. اُن کے لیے تو کوئی دھیمے مزاج کی سلجھی ہوئی لڑکی ہی سوٹ کرے گی. “

تیمور کو شروع سے فائقہ کا ایسا بی ہیویر پسند نہیں تھا. جس کا وہ کھلم کھلا اظہار بھی کرتا تھا.

” ٹھیک کہہ رہی تھی فائقہ تم بس اُلٹا ہی بولنا. “

اُس کی بات پر ایگری ہونے کے باوجود بھی رمشا ہنستے ہوئے ٹوک گئی تھی. کیونکہ یہ بڑوں کا فیصلہ تھا. اِس لیے اُن میں سے کوئی بھی اس کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا تھا. رمشا کو بھی فائقہ کزن کے طور پر تو بہت پیاری تھی. لیکن اُسے بھابھی کے رُوپ میں وہ بلکل بھی پسند نہیں تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” پاپا جانی آپ کب آئے. آپ تو سندھ گئے ہوئے تھے نا. کچھ دنوں کے لیے. “

مِنہا صبح صبح اپنے پاپا جانی کو سامنے دیکھ بہت زیادہ خوش تھی. بھاگ کر آتے وہ اُن کے سینے سے آلگی تھی. اُس کے ماتھے پر بوسہ دیتے وہ اُسے اپنے سینے میں بھینچ گئے تھے. جیسے اُسے آگے آنے والے خطرے سے محفوظ رکھنا چاہتے ہوں.

” کام جلدی ختم ہوگیا تھا. مجھے اپنی گڑیا کی یاد آرہی تو اِسی لیے چلا آیا. “

شہباز خان کے لہجے میں اپنی اکلوتی بیٹی کے لیے محبت پیار کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا.

لیکن اُس کی پیشانی پر فکر اور پریشانی کی لکیریں واضح تھیں. ایس پی ہشام گردیزی لمحہ لمحہ اُس کے قریب پہنچ رہا تھا. اور کسی وقت بھی اُسے شہباز خان کے اریسٹ وارنٹ جاری ہوسکتے تھے. خود سے بھی زیادہ شہباز خان کو مِنہا کی ٹینشن تھی. اِس دنیا میں اُس کے سوا اُس کی بیٹی کا کوئی نہیں تھا. جو مِنہا کی اُن کے جیسے حفاظت کرسکے.

شہباز خان کے دشمن جگہ جگہ پھیلے ہوئے تھے. اور شہباز خان کی گرفتاری کی خبر ملتے ہی اُس سے بدلہ لینے کے لیے وہ مِنہا کو نقصان پہنچا سکتے تھے. اِسی بات نے اُن کی راتوں کی نیندیں چھینی ہوئی تھیں.

وہ ایس پی ہشام کے آگے ہار مان چکا تھا. اب وہ اُس کے خلاف بہت سارے ثبوت اکٹھے کرچکا تھا. جن کی بنا پر شہباز خان کا بچ نکلنا بہت مشکل.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

عائلہ نے میر زیان حیدر کے عالی شان آفس میں قدم رکھا تھا. دو دن کے بجائے اُس نے خود کو پورا ہفتہ دے کر دیکھ لیا تھا. مگر زیان کے حوالے سے اُس کے جذبات میں کوئی کمی نہیں آئی تھی. میر زیان اُس کے دل میں اُتر چکا تھا. عائلہ جیسی احساس سے عاری لڑکی پہلی نظر کی محبت میں گرفتار ہوچکی تھی. یہ احساسات اور جذبات عائلہ کے لیے بہت نئے اور انوکھے تھے. جنہوں نے اُس کے دل کی دنیا بدل دی تھی. عائلہ پہلی بار اپنی زندگی کے کسی معاملے میں اتنی سیریس ہوئی تھی.

اُس کو زیان کے آفس میں بیٹھ کر اُسکا ویٹ کرتے تین گھنٹے گزر چکے تھے. وہ جب بھی اُس کی پی اے سے ملنے کا کہتی اُس کا ایک ہی جواب ہوتا سر بزی ہیں. عائلہ سمجھ گئی تھی کہ زیان جان بوجھ کر ایسا کررہا ہے. وہ اُس سے ملنا ہی نہیں چاہتا. مزید ایک گھنٹہ ویٹ کرنے کا سوچتے اُس نے پلان بنا لیا تھا کہ اب اُسے کیا کرنا ہے. زیان سے بغیر ملے تو وہ کسی قیمت پر نہیں جانا چاہتی تھی.

” ایکسکیوزمی. کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں. میر زیان حیدر کا آفس کس سائیڈ پر ہے. “

عائلہ نے پاس سے گزرتے آفس کے ایک ورکر کو روکتے مسکرا کر پوچھا تھا. اُسے پتا تھا اُس کی مسکراہٹ اتنی خوبصورت ہے کہ یہ آدمی نہ چاہنے کے باوجود اُسے بتا دے گا. ہوا بھی ایسا ہی تھا. وہ بہت ہی خوشی خوشی زیان کے آفس کی ساری لوکیشن سمجھا گیا تھا.

عائلہ سب لوگوں سے نظر بچا کر زیان کے آفس کے سامنے پہنچی مگر دروازے کے بلکل باہر پیِن کو جما دیکھ عائلہ جھنجھلا گئی تھی. زیان حیدر سے ملنے کے لیے اُسے کتنے پاپر بیلنے پر رہے تھے.

عائلہ نے جیسے ہی دیکھا پین اُس کی جانب متوجہ ہے. عائلہ آگے بڑھی. لیکن اگلے ہی قدم پر اُس کا پیر مڑا تھا. عائلہ کی چیخ سنتے پین بھاگتا ہوا اُس کے پاس آیا تھا.

” میڈم آپ ٹھیک ہیں. ؟”

پین کو قریب آتا دیکھ عائلہ کی ایکٹنگ شروع ہوچکی تھی. وہ روتے ہوئے اُسے کسی کو ہیلپ کے لیے بلانے کا بول رہی تھی. پین بچارا گھبرایا سا باہر کی جانب بھاگا تھا. اُس سے بھی کہیں زیادہ پھرتی سے عائلہ وہاں سے اُٹھتی زیان کے آفس کی طرف بڑھ گئی تھی.

عائلہ بنا دروازہ ناک کیے زیان کے آفس میں داخل ہوئی تھی. جو کرسی کی بیک سے ٹیک لگائے کسی فون کال میں مصروف تھا. ڈارک براؤن تھری پیس سوٹ میں ملبوس جس کا کوٹ اُتار کر کرسی کی بیک پر ڈالا گیا تھا. سیاہ بالوں کو جیل کی مدد سے بہت ہی نفاست سے سیٹ کیے مکمل اپ ٹو ڈیٹ وہ عائلہ کو مزید اپنا دیوانہ بنا رہا تھا.

آہٹ پر زیان نے جیسے ہی پلٹ کر دروازے کی جانب دیکھا. عائلہ کو وہاں کھڑا دیکھ اُس کی کشادہ پیشانی پر سلوٹوں کا جال بچھ گیا تھا.

” تم تمہاری ہمت کیسے ہوئی. بغیر میری اجازت کے میرے آفس میں داخل ہونے کی. گیٹ آؤٹ. “

زیان فون بند کرتا دبے لہجے میں دھاڑا تھا. وہ اِس لڑکی کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا تھا. جو ہاتھ دھو کر اُس کے پیچھے پڑ گئی تھی.

عائلہ اُس کے چلانے پر بُرا منائے بغیر محبت پاش نظروں سے اُس کی جانب دیکھتی آگے بڑھی تھی.

” میر کیا تم ایک بار میری بات آرام سے سن سکتے ہو پلیز. “

عائلہ نے جس طرح نرم لہجے میں کہتے زیان سے اجازت مانگی تھی. اُسے خود بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ کبھی ایسے بھی بات کرسکتی ہے. اُس نے جس طرح سے زیان کا نام پکارا تھا. اور اُس کی آنکھوں میں واضح التجا دیکھ زیان انکار نہیں کرپایا تھا.

” بولو پانچ منٹ ہیں تمہارے پاس. “

زیان اتنا تو سمجھ گیا تھا کہ یہ ضدی لڑکی اُس کی جان نہیں چھوڑے گی.

پیرٹ کلر کی لانگ شرٹ جس کے فل بازوؤں اور گلے پر شیشوں کا کام کیا گیا تھاکہ ساتھ بلو کلر کی جینز پہنے وہ کھلے بالوں اور نفاست سے کیے میک اپ کے ساتھ کسی کی بھی دل کی دنیا بدلنے کی صلاحیت رکھتی تھی.

حیرت انگیز طور پر آج دوپٹے کے نام پر اُس نے گلے میں ایک چھوٹا سا سکارف لپیٹ رکھا تھا. جو اُسے زرا سا بھی کور کرنے سے قاصر تھا.

عائلہ زیان کے سامنے والی چیئر پر آبیٹھی تھی.

” میں جانتی ہوں تمہاری نظر میں میں بہت بُری لڑکی ہوں. شاید دنیا کی سب سے بُری لڑکی. لیکن یہ سچ ہے کہ میں تم سے بہت زیادہ محبت کرنے لگی ہوں. آج تک مجھے لگتا تھا مجھے کسی کی بھی نفرت سے کوئی فرق نہیں پڑتا. چاہے پوری دنیا مجھے ناپسند کرے. لیکن اِس ایک ہفتے میں مجھے اِس بات نے بہت تڑپایا ہے. کہ جس شخص سے میں سب سے زیادہ محبت کرنے لگی ہوں. وہی مجھے سخت ناپسند کرتا ہے. مجھے تمہاری نفرت سے بہت زیادہ فرق پڑ رہا ہے.

میر زیان ایک بار آزما کر دیکھ لو. میں اتنی بُری لڑکی نہیں ہوں. تم جو کہو گے میں کروں گی. تمہاری خاطر خود کو پوری طرح سے بدل دوں گی. مگر پلیز ایک چانس دو مجھے. “

عائلہ جذبوں سے چور لہجے میں بولتی اپنے جذبات کا اظہار کر گئی تھی. وہ ایسی ہی تھی. نفرت اور محبت دونوں ڈنکے کی چوٹ پر کرتی تھی. ڈرنا تو اُس نے کبھی سیکھا ہی نہیں تھا.

سنجیدگی سے عائلہ کی بات سنتے زیان حیدر نے آخر میں استہزایہ مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے اُس کی جانب دیکھا تھا.

” آج سے پہلے کتنے مردوں کو ایسا بول چکی ہیں آپ مِس عائلہ اکرام. “

زیان کی بات سیدھی عائلہ کے دل میں جاکر چبھی تھی. یہ شخص اُسے سمجھنے کو تیار ہی نہیں تھا. وہ اُس کے ظاہری حلیے سے ہی اُس کے کردار کا اندازہ لگا چکا تھا.

” صرف تم ہی وہ پہلے اور آخری مرد ہو. جس کے سامنے عائلہ اکرام زندگی میں پہلی بار جھکی ہے. “

عائلہ نے زیان کی آنکھوں میں دیکھتے مضبوط لہجے میں کہا تھا. جس پر زیان فوراً نگاہیں پھیر گیا تھا. وہ کوشش کے باوجود عائلہ کی آنکھوں میں موجود سچائی نظر انداز نہیں کر پارہا تھا.

” تم نے جو بات کہنی تھی. میں نے وہ سن لی. اب تم جاسکتی ہو.”

زیان اِس ساحرہ کے سحر میں بلکل بھی نہیں آنا چاہتا تھا. اِس لیے اُسے اُٹھتا نہ دیکھ خود ہی اپنی سیٹ چھوڑ گیا تھا.

” میر پلیز اتنے سنگدل مت بنو. ایک بار مجھے سمجھنے کی کوشش تو کرو. “

عائلہ بھی اپنی سیٹ سے اُٹھتی جلدی سے اُس کے سامنے آئی تھی.

” عائلہ اکرام مجھے تمہاری سب سے زیادہ یہی بات نا پسند ہے. کہ تمہارے لیے تمہاری عزت تمہاری سیلف ریسپیکٹ کو معنی نہیں رکھتی. جتنی میں تمہاری انسلٹ کرچکا ہوں. تمہاری جگہ اگر کوئی عزت دار لڑکی ہوتی تو دوبارہ میرے سامنے آنا بھی پسند نہیں کرتی. مگر تم یہ سب کرکے میرے نزدیک اپنی رہی سہی ریسپیکٹ بھی کھو چکی ہو. “

زیان نفرت بھری نظریں اُس کے تیکھے دلنشین نقوش پر ڈالتا ایک بار پھر اُس کا دل چھلنی کرگیا تھا. لیکن اِس بار عائلہ اپنے غصے کو قابو نہیں کرپائی تھی.

” میر زیان حیدر کہاں لکھا ہے کہ اپنی محبت کا اظہار کرنے والی لڑکی عزت دار نہیں ہوتی. مرد کرے تو سب ٹھیک لیکن عورت اگر اپنے جذبات کا اظہار کرے تو اُسے اِس طرح رسوا کردیا جاتا ہے. تمہارے مطابق میں ایک بدکردار لڑکی ہوں نا تو یاد رکھنا میر زیان حیدر اِسی بدکردار لڑکی سے محبت کرو گے تم. تمہاری زندگی میں اگر کوئی لڑکی شامل ہوگی تو وہ صرف میں ہونگی.

میری اب تک کی زندگی میں صرف نفرت اور دوستی جیسے رشتے تھے. جن کو پوری ایمانداری سے نبھایا ہے میں نے. تو محبت کا رشتہ تو اِن سے کہیں اُوپر ہے اُس کی خاطر تو میں اپنا آپ بھی داؤ پر لگا سکتی ہوں. میر زیان حیدر لکھ لو میری یہ بات ایک دن تم بھی مجھ سے بے انتہا محبت کرو گے. ایسے ہی تڑپو گے میرے لیے جیسے میں تڑپ رہی ہوں تمہارے لیے.”

عائلہ زیان کے کلون کی مہک اپنی سانسوں میں اُتارتی ایک درد بھری مسکراہٹ اُس پر اُچھالتی وہاں سے نکل گئی تھی.

” یہ پاگل لڑکی مجھے بھی پاگل کردے گی. “

زیان ٹیبل پر پڑی فائلز دو اُچھالتا غصے سے دھاڑا تھا. بہت نظر انداز کرنے کے باوجود بھی اِس لڑکی کی باتیں زیان کے دل ہر اثر کررہی تھیں. عائلہ کی آنکھوں میں آج اُسے عجیب سی ویرانی محسوس ہوئی تھی. جیسے وہ محبت کی چاہت کی پیاسی ہوں.

” میں اُس لڑکی کے بارے میں کیوں سوچ رہا ہوں. جب مجھے اُس میں کوئی انٹرسٹ ہی نہیں ہے تو اُس کے بارے میں سوچ کر ٹائم کیوں ویسٹ کرنا. بہت بڑی ڈرامہ باز ہوتیں ہیں ایسی لڑکیاں. نجانے کیسے کیسے طریقوں سے اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش کرتی ہیں. “

زیان عائلہ کی باتوں پر اچھا خاصہ جھنجھلایا ہوا تھا. اِس لیے خود سے بھی اُلجھتے آفس سے نکل گیا تھا.

وہ دونوں ہی نہیں جانتے تھے محبت اور نفرت کی اِس جنگ میں قسمت اُن کے ساتھ کیسا مذاق کرنے والی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

جاری ہے ۔۔۔۔