Teri Galliyon Mein By Farwa Khalid Readelle50117 Episode 9 & 10
No Download Link
Rate this Novel
Episode 9 & 10
شہباز سکتے کے عالم میں اُس نکاح نامے کو گھور رہا تھا. اُسے رفیق نیازی سے اِس حد تک گھٹیا پن کی اُمید نہیں تھی.
شہباز خان کی مسلسل خاموشی ہشام کو یہ بات سچ ہونے کی جانب اشارہ کررہی تھی.
ہشام مُٹھیاں بھینچیں وہاں سے پلٹا تھا. لیکن شہباز خان کی آواز نے اُس کے قدم روک دیے تھے.
” میں مانتا ہوں کہ میں ایک بہت ہی گنہگار اور گھٹیا انسان ہوں. جس نے اپنی اب تک کی زندگی میں دوسروں کو تکلیف پہنچانے کے سوا کچھ نہیں کیا. لیکن یہ بھی سچ ہے کہ میں اپنی بیٹی سے بے انتہا پیار کرتا ہوں. اُس کی خاطر میں اپنا سب کچھ قربان کرسکتا ہوں. تو تمہارا کیا خیال ہے ایس پی میں اپنے مفاد کی خاطر اپنی سے بڑی عمر کے شخص کے ساتھ اپنی بیٹی کا نکاح کردوں گا. ممکن ہی نہیں ہے ایسا. یہ سب رفیق نیازی کی چال ہے. وہ مِنہا کو حاصل کر کے مجھے کمزور کرنا چاہتا ہے. “
شہباز خان کا جواب سنتے ہشام کو لگا تھا اُس کے اندر لگی آگ کچھ کم ہوئی تھی.
” یہ نکاح نامہ نقلی ہے. ایس پی میری بیٹی کو اُس شخص کے چنگل سے نکال کر تم نے جو احسان مجھ پرکیا ہے. اُس کا قرض شاید میں کبھی نہ اُتار پاؤں. کیونکہ وہ میرے لئے دوبارہ زندگی واپس ملنے جتنا بڑا ہے.لیکن پلیز خدا کے لیے اب کی بار بھی میری بیٹی کو اُس گھٹیا انسان سے بچا لو. وہ بہت معصوم ہے. اُسے اِن جیسے لوگوں سے نبٹنا نہیں آتا. “
شہباز خان ہشام کے پیر پکڑتا گرگراتے ہوئے بولا.
” لیکن میں کیسے بچا سکتا ہوں اور کیسے تمہاری بات پر یقین کروں. رفیق نیازی کسی بھی وقت اپنی منکوحہ ہونے کا دعویٰ کرکے اُسے حاصل کرسکتا ہے. “
ہشام نے لاپرواہی سے کاندھے اُچکائے
” میں اپنی عزیز ترین ہستی اپنی بیٹی کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ نکاح نامہ نکلی ہے. میری بیٹی کا کسی سے کوئی نکاح نہیں ہوا. اگر میری باتوں پر یقین نہیں ہے تو تم میری بیٹی سے جاکر پوچھ سکتے ہو. اُس نے تو نہ کبھی زندگی میں جھوٹ بولا ہے نہ اب بولے گی.
ایس پی میں جو ابھی بات کہنے جارہا ہوں. پلیز اُس کا انکار کرنے سے پہلے ایک بار سوچنا ضرور. یہ ایک بے بس اور لاچار باپ کی فریاد ہے. اگر اِس وقت میری بیٹی کو کوئی انسان اُس درندے سے محفوظ رکھ سکتے ہو تو وہ تم ہو. میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑ کر تم سے فریاد کرتا ہوں. میری بیٹی سے نکاح کر لو. “
شہباز خان کی بات سن کر ہشام کو جھٹکا لگا تھا.
” تم ہوش میں تو ہو. کیا کہہ رہے ہو یہ. ٹارچر سہہ سہہ کے تمہارا دماغ تو نہیں چل گیا. “
ہشام فوری طور پر کچھ سمجھ ہی نہیں پایا تھا کہ شہباز خان نے اُسے اتنی بڑی بات بول تھی.
” وہ ادھیڑ عمر شخص میری معصوم بیٹی کے ساتھ جھوٹے نکاح کا دعویٰ کرکے اُسے اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے. میں صرف اتنا چاہتا ہوں کہ جب تک مِنہا اُس درندے سے محفوظ نہیں ہوجاتی. اُس وقت تک کے لیے تم اُسے اپنا نام دے کر. اپنی پناہ گاہ میں رکھو. یہ جان کر کہ مِنہا تمہاری بیوی ہے. رفیق نیازی تمہارے ساتھ تو کسی قیمت پر اُلجھنے کی غلطی نہیں کرے گا.
میں جانتا ہوں میں ایک بہت بڑی چیز مانگ رہا ہوں. لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جب تک میری بیٹی غیر محفوظ رہے گی. میں تمام رازوں سے پردہ نہیں اُٹھا پاؤں گا. چاہے مجھ پر کتنا بھی ٹارچر کیا جائے. “
شہباز خان نے ہشام کو راضی کرنے کے لیے اپنی طرف سے ایک بہت اہم بات کی جانب اشارہ کیا تھا.
جس پر بنا کچھ جواب دییے ہشام خاموشی سے وہاں سے نکل آیا تھا.
ہشام عجیب اُلجھن میں پھنس چکا تھا. وہ سمجھ نہیں پارہا تھا. کہ اُسے اِس وقت کیا کرنا چاہیے. کسی کو اپنے نکاح میں لینا کوئی چھوٹی بات نہیں تھی. اور وہ بھی تب جب آپ پہلے ہی انگیجڈ ہوں.
ہشام جانتا تھا کہ مصلحت کے تحت بھی کچھ ٹائم کے لیے کیا گیا یہ نکاح خفیہ نہیں رہ سکتا. جیسے ہی رفیق نیازی کو اِس بات کا علم ہوگا وہ اِس خبر کو ہر جگہ نشر کروا دے گا.
کافی دیر کی سوچ و بچار کے بعد ہشام فیصلے پر پہنچ چکا تھا. اُس نے ڈیسائیڈ کر لیا تھا. کہ اب اُسے کیا کرنا ہے.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” بی بی جی بیگم صاحبہ آپ کو نیچے بلا رہی ہیں. وہ کہہ رہی ہیں مہمان آچکے ہیں اب آپ بھی نیچے آجائیں. “
رضیہ نے عائلہ کے حلیے کی جانب ایک نظر ڈال کر نظریں جھکا لی تھیں. لیکن اتنا تو سمجھ گئی تھی کہ ابھی تھوڑی دیر میں اِس گھر میں پھر سے ہنگامہ ہونے والا ہے.
” اوکے تم جاؤ میں آرہی ہوں. “
عائلہ نے بیڈ سے اُٹھ کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہوتے اپنی تیاری کا جائزہ لیا تھا.
وائٹ کلر کی ٹائٹ پینٹ کے اُوپر سکائے کلر کی شرٹ پہنے بالوں کا اُونچا سا جوڑا بنائے. بنا دوپٹے کے ہائی ہیل میں واہیات ڈریسنگ کرنے کی پوری کوشش کی گئی تھی. اور رہی سہی کسر اُس کے ڈارک میک اپ نے پوری کردی تھی.
کہیں سے نہیں لگ رہا تھا کہ وہ رشتہ والوں کے سامنے جارہی ہے. بلکہ اُسے دیکھ کر ایسے لگ رہا تھا. کہ کسی کلب پارٹی کے لیے نکل رہی ہے.
” ہائے ایوری ون وٹس اَپ. “
ڈرائنگ روم میں قدم رکھتے عائلہ نے بآواز بلند سب کو مخاطب کیا تھا.
جہاں مہمان عائلہ کے حلیے پر آنکھیں پھاڑے اُسے دیکھ رہے تھے. وہیں اکرام صاحب اور فاخرہ بیگم اپنی متوقع ہونے والی بے عزتی پر شرمندگی سے سر جھکا گئے تھے.
” کیسے ہیں آپ لوگ. کھانا وانہ پیٹ بھر کر کھا لیا نا آپ نے. ہمارا شیف بہت اچھے کھانے بناتا ہے. “
عائلہ کی بات پر مہمان خاتون نے حیران نظروں سے فاخرہ بیگم کی جانب دیکھا تھا.
” لیکن فاخرہ آپ نے تو بولا تھا یہ سب کچھ آپ کی بیٹی عائلہ نے بنایا ہے. “
خاتون کی بات پر عائلہ کا زور دار قہقہہ برآمد ہوا تھا.
” ہاہاہاہا جوک آف دا ڈے. مجھے تو چولہا آن کرنا نہیں آتا آپ یہ سب بنانے کی بات کررہی ہیں. یہ سب تو میری اِن والدہ محترمہ کو بنانا بھی نہیں آتا مجھے کیا آئے گا. “
عائلہ کا ہنس ہنس کر بُرا حال ہورہا تھا. جس کے پیچھے مقصد صرف فاخرہ بیگم کو چڑھانا تھا.
” عائلہ بی ہیو یور سیلف. “
اکرام صاحب نے بہت مشکل سے اپنا غصہ ضبط کرتے اُس کی سرزنش کی تھی.
” اوہ کم آن ڈیڈ. ابھی تو میں بہت اچھے سے بی ہیو کررہی ہوں. ورنہ آپ جانتے تو ہیں کہ میں کتنی بدتمیز ہوں. اچھا آنٹی آپ اپنے اِس چمپو کے لیے میرا رشتہ لے کر آئی ہیں کیا. “
عائلہ اپنی باتوں اور حرکتوں پر منہ سجا کر بیٹھے لڑکے کی جانب اشارہ کرتے بولی. جو بار بار اپنی ماں کو وہاں سے اُٹھنے کا اشارہ کررہا تھا.
” بس لڑکی بہت ہوگیا. فاخرہ اکرام بھائی آپ لوگوں نے ہمیں یہاں بے عزت کرنے کے لیے بلایا ہے کیا. پہلے اپنی اِس بیٹی کو تھوڑی بہت تمیز سکھا دیں پھر اِس کی شادی کے بارے میں سوچئے گا. “
وہ خاتون غصے سے اپنی جگہ سے اُٹھتے بولی. مزید ایک منٹ بھی رُکے بغیر وہ اپنے بیٹے اور ساتھ لائے باقی دو لوگوں کو لے کر وہاں سے واک آؤٹ کرگئی تھی.
” ارے آنٹی یہ تو بتاتی جائیں کھانا تھا کیسا. “
عائلہ نے سامنے پڑے سیب کا سلائس اُٹھاتے پیچھے سے ہانک لگائی تھی.
” عائلہ انف از اِنف. تمہیں شرم نہیں آئی یہ سب حرکتیں کرتے. تھوڑا سا تو اپنے باپ کی عزت کا خیال کر لو. “
اکرام صاحب اپنی جگہ سے اُٹھتے عائلہ پر دھاڑے.
” جب باپ کو اپنی بیٹی کی زرا پرواہ نہیں تو میں کیوں پرواہ کروں. اور ایسا کوئی عزت اُتارنے والا کام کیا بھی نہیں ہے میں نے. جب میں نے آپ کی بیوی کو بتا دیا تھا کہ میں یہ شادی نہیں کرنا چاہتی. شادی کروں گی تو اپنی مرضی سے. تو اِس نے یہ ڈرامہ کیوں لگایا. میں کوئی شوپیس نہیں ہوں. اور نہ ہی کوئی مڈل کلاس لڑکی جو شرماتے لجاتے ایسے لوگوں کے سامنے اپنی نمائش کروائے گی. “
عائلہ کی بات پر اکرام صاحب نے سوالیہ انداز میں فاخرہ بیگم کی جانب دیکھا تھا جنہوں نے اُنہیں یہی کہا تھا کہ عائلہ راضی ہے.
” کیا ہوا غلط بیانی کی آپ کی بیوی نے آپ کے ساتھ. لیکن چھوڑیں پہلی بار تو ہوا نہیں ایسا. “
عائلہ اکرام صاحب کا حیرت ذدہ ہونا نوٹ کرکے سمجھ گئی تھی کہ فاخرہ بیگم ایک بار پھر اُس کے حوالے سے غلط بیانی کر چکی ہیں.
” اگر آج بات نکل ہی آئی ہے تو سن لیں آپ لوگ. میں کسی سے بے انتہا محبت کرتی ہوں. اور شادی بھی اُسی سے کروں گی. اِس لیے مجھے گھر سے نکالنے کے لیے یہ سب کوشش مت کریں. “
عائلہ کی بات سن کر فاخرہ بیگم کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ آئی تھی.
” دیکھا اکرام میں کہتی تھی نا. اِس لڑکی کا کوئی چکر چل رہا ہے. پورا دن باہر رہنا رات کو دیر سے گھر واپس آنا. ضرور کسی کے ساتھ منہ کالا کرتی پھر رہی ہے. ہے نہ پھر ماں کی طرح بدکردار.”
فاخرہ بیگم نے موقع ملتے ہی اندر کا زہر اُگل دیا تھا.
خود پر ہر الزام سہنے والی عائلہ اپنی مری ماں کے بارے میں ایک لفظ برداشت نہیں کر پائی تھی. اور آگے بڑھ کر عائلہ نے پورے زور سے فاخرہ بیگم کو پیچھے کی جانب دھکا مارا تھا.
” تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری ماں کے بارے میں اتنا گھٹیا بولنے کا. بدکردار وہ نہیں تم ہو. جس نے اپنی اداؤں سے ایک شادی شدہ انسان کو پھانس کر دوسری عورت کا گھر برباد کردیا. “
عائلہ کے دھکے پر فاخرہ بیگم پورے قد سے پیچھے پڑے صوفے پر جا گری تھی. اُس کا بس نہیں چل رہا تھا. اِس عورت کا گلا دبا دے. جو اُس کی مری ہوئی ماں کو اب بھی نہیں بخش رہی تھی. اگر اکرام صاحب عائلہ کو نہ پکڑتے تو جتنے غصے میں وہ اِس وقت تھی اُس نے ایسا کر بھی جانا تھا.
” بہت اچھا لگ رہا ہوگا نا. میری ماں اور مجھے بدکردار کہلائے جانے پر. آپ اچھے سے جانتے ہیں میری ماں کتنی نیک عورت تھی. مگر ہمیشہ اِس عورت کے اُن پر لگائے جانے والے تمام الزامات پر خاموش رہے آپ.
میں آپ کو آپ کی اِن تمام نا انصافیوں پر کبھی معاف نہیں کروں گی. کبھی نہیں. آپ بھی ویسے ہی تڑپو گے میرے لیے جیسے میری ماں تڑپی ہے آپ کے لیے. “
عائلہ کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی. لیکن اپنی ماں کے حوالے سے کہی زرا سی بات بھی اُسے کمزور کر دیتی تھی. اور فاخرہ بیگم ہمیشہ اِسی بات کا فائدہ اٹھاتی تھی. عائلہ بھیگی آنکھوں سے اکرام صاحب کو اُن کی غلطیوں سے آگاہ کرتی وہاں سے نکل گئی تھی. آج اتنے عرصے میں پہلی بار اکرام صاحب کو عائلہ کی آنکھوں میں موجود آنسو تڑپا گئے تھے.
سر پکڑ کر واپس صوفے پر گرتے اکرام صاحب اپنی کوتاہیوں اور عائلہ کے ساتھ رواں رکھے جانے والے اپنے رویے پر غور کرنے لگے تھے. جبکہ پاس بیٹھی فاخرہ بیگم کو اپنا سارا گیم خراب ہوتا محسوس ہوا تھا. وہ کسی قیمت پر اِن دونوں باپ بیٹی کو قریب نہیں آنے دینا چاہتی تھیں.
وہ سمجھتی تھیں کہ اگر ایسا ہوا تو اُن کی اِس گھر میں کوئی حیثیت نہیں رہے گی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
آفس کے روم میں بلکل سناٹا چھایا ہوا تھا. وہاں موجود تمام نفوس اپنی اپنی سوچوں میں اُلجھے ہوئے تھے. ہشام نے اُن سب کے سامنے جو بات رکھی تھی. وہ اُن کو مشکل میں ڈال گئی تھی.
ہشام نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ اپنی فیملی ممبرز سے کچھ بھی نہیں چھپائے گا. اِس لیے سب سے پہلے اُس نے آفس جاکر تایا سلمان گردیزی, زاہد گردیزی اور اپنے والد حمدان گردیزی کے ساتھ ساتھ زیان اور واسع کو بھی فون کرکے وہاں بلوا لیا تھا. اُس نے مِنہا سے نکاح کرکے اُسے اپنا نام دے کر اُس کی حفاظت کرنے کا پکا ارادہ کرلیا تھا. اور یہ بھی سوچ لیا تھا کہ چاہے اِس نکاح کا دورانیہ جتنا بھی ہو. وہ اپنے گھر والوں سے یہ بات بلکل بھی نہیں چھپائے گا.
حمدان گردیزی کو جہاں اپنے بیٹے کی سوچ اور عمل پر فخر محسوس ہوا تھا. وہیں وہ اپنی بہن کے ساتھ طے کئے گئے رشتے پر بھی فکرمند تھے. وہ کسی صورت اپنی بہن کو ناراض نہیں کرسکتے تھے.
” ہشام بیٹا آپ نے ہمیشہ ہر مقام پر اپنے پختہ کردار, بہادری اور قابلیت کی بنا پر ہمارا سر فخر سے بلند ہی کیا ہے. اور آج بھی جو بات آپ نے ہمارے سامنے رکھی ہے. اُس نے میرے دل میں آپ کے لیے محبت مزید بڑھا دی ہے.
ایک بچی کو اُس کے باپ کے کیے کی سزا بلکل بھی نہیں ملنی چاہیئے. میں جانتا ہوں آپ جو قدم اُٹھانے جارہے ہو. وہ بہت بڑا ہے. لیکن میں آپ کے ہر فیصلے میں آپ کے ساتھ کھڑا ہوں.”
سلمان گردیزی نے اپنا فیصلہ سنا دیا تھا. جسے سن کر ہشام کو بہت خوشی ہوئی تھی.
” لیکن بھائی صاحب سائرہ کو کیا جواب دیں گے ہم. فائقہ ہمارے گھر کی بچی ہے ہم اُس کے ساتھ غلط نہیں کر سکتے. “
حمدان گردیزی ایک اِسی وجہ سے انکاری تھے.
” حمدان میں نے کب کہا. ہشام اور فائقہ کا رشتہ ختم ہوجائے گا. فائقہ ہی ہمارے گھر کی بہو بنے گی. ہشام اُس بچی سے یہ نکاح صرف اور صرف اُسے اُن درندوں سے بچانے کے لیے کررہا ہے. اور اِس نکاح کی حیثیت صرف کاغذی ہی ہوگی. “
سلمان گردیزی کی بات آج پہلی بار حمدان گردیزی کو مطمئن نہیں کر پائی تھی.
” بابا تایا جان بلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں. یہ نکاح رشتہ جوڑنے کے لیے نہیں کیا جارہا. بلکہ صرف اور صرف اُس لڑکی کو اپنا نام دے کر رفیق نیازی کے اُس گھناؤنے کھیل سے محفوظ کرنے کے لیے ہے. جیسے ہی رفیق نیازی کی گرفتاری ہوجائے گی. اور مِنہا اِس خطرے سے باہر آجائے گی ہمارا یہ نکاح ختم ہوجائے گا. اور یہ ساری باتیں میں نکاح سے پہلے اُس سے ڈسکس کروں گا. “
ہشام کی بات سن کر حمدان گردیزی کسی حد تک راضی ہوچکے تھے. لیکن کسی بچی سے نکاح کرکے اُسے بعد میں ختم کرنا یہ بات اُن جیسے نرم اور حساس دل کے مالک کو بلکل بھی اچھی نہیں لگ رہی تھی.
” جی ماموں جان میں بھی ہشام کے اِس فیصلے میں اُس کے ساتھ ہوں. وہ لڑکی اِس وقت بہت مشکل میں ہے. اور اگر اِس طرح اُس کی مدد ہوسکتی ہے تو مجھے نہیں خیال اِس میں کچھ بھی غلط ہے. “
واسع بھی کھلے دل سے اِس فیصلے پر راضی تھا. زاہد گردیزی اور زیان تو ویسے ہی ہشام کے ہر فیصلے میں اُس کی سپورٹ میں تھے. اُنہیں بھلا کیا اعتراض ہونا تھا.
ہشام اُن سب کو شام کو ہی نکاح کا ٹائم بتاتا وہاں سے نکل آیا تھا. وہ اب یہاں سے سیدھا اپنی ماں کے پاس جانا چاہتا تھا. وہ اُن سے کبھی کوئی بات نہیں چھپاتا تھا. پھر یہ تو ایک بہت بڑا قدم تھا.
ابھی وہ گاڑی میں آکر بیٹا ہی تھا. جب اپنے ماتحت کی بتائی گئی خبر پر ہشام کا دل چاہا تھا. رفیق نیازی کو ابھی اِسی وقت چیر کر رکھ دے.
رفیق نیازی نے ہشام کی شہباز کی گرفتاری کی چھپا کر رکھی گئی خبر نیوز چینلز اور سوشل میڈیا پر پھیلا دی تھی. اور ساتھ ہی مِنہا کے ساتھ اپنے نکاح کی خبر بھی پھیلا دی تھی.
ہشام حمدان گردیزی کو شائستہ بیگم کو اِس بارے میں ساری حقیقت سے آگاہ کرنے کا کہتا جلدی سے ڈرائیونگ کرکے مِنہا کے پاس فلیٹ پر پہنچا تھا. مگر وہاں پہنچ کر وہی ہوا تھا جس کا اُسے ڈر تھا. مِنہا ایل سی ڈی آن کیے ساکت سی بیٹھی بار بار سکرین پر چلتی ایک ہی بریکنگ نیوز پر نظریں گاڑھے ہوئے تھی. جہاں اب ہشام کی تصویر کے ساتھ فخر سے یہ بتایا جارہا تھا کہ اُس نے کتنی بہادری اور قابلیت سے شہباز خان جیسے خطرناک مجرم کو گرفتار کیا تھا. اور ساتھ ہی اپنے حوالے سے خبر سن کر اُسکا دماغ چکرا رہا تھا.
مِنہا اتنے صدمے میں تھی کہ ہشام کی آہٹ بھی محسوس نہیں کر پائی تھی. یہاں تک کہ ہشام اُس کے سامنے صوفے پر آبیٹھا تھا.
” مِنہا….”
آج پہلی بار ہشام نے اُسے نام سے پکارا تھا. ہشام کو مِنہا سے اِس وقت بہت ہمدردی محسوس ہورہی تھی. جو بے قصور ہوتے ہوئے بھی سزا بھگت رہی تھی.
ہشام کی گھمبیر آواز مِنہا کے کانوں سے ٹکرائی تو وہ اجنبی نظروں سے اُس کی جانب دیکھنے لگی تھی. آنکھوں سے آنسو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے. اُس کو ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا کہ اُس کے بابا ایسا کرسکتے ہیں. اُسے یہی لگ رہا تھا کہ یہ سب اُس کے بابا کے خلاف سازش کی جارہی تھی. مگر یہ خبر سن کر کے شہباز خان خود ہی اپنے گناہوں کا اعتراف کر چکا ہے. اِس بات نے اُسے توڑ کر رکھ دیا تھا.
” رفیق نیازی جھوٹ بول رہا ہے. میرا نکاح نہیں ہوا اُس سے. میں تو جانتی بھی نہیں ہوں اُسے کون ہے وہ. پلیز مجھے اُس کے پاس نہیں جانا. “
ہشام کی نظریں مِنہا کے چہرے کے حسین نقوش پر ٹک گئی تھیں.جو مسلسل رونے کی وجہ سے بلکل گلابی ہوچکا تھا. ٹھوڑی پر موجود گڑا بھی آج اُسے بہت اُداس لگ رہا تھا. ہشام نے فوراً نظریں پھیر لی تھیں. بے شک وہ روتے ہوئے بھی بہت زیادہ حسین لگ رہی تھی. مگر ہشام کو یہ منظر نہیں دیکھنا تھا.
اُس کا دل بوجھل سا ہوا تھا. مگر ابھی اُسے اِس نازک لڑکی پر ایک دھماکہ اور بھی کرنا تھا.
” اوکے نہیں بھیجوں گا میں تمہیں اُس کے پاس. مگر اُس کے لیے تمہیں مجھ سے نکاح کرنا ہوگا. “
ہشام نے بہت ہی تحمل کے ساتھ صوفے کی بیک سے ٹیک لگا کر کہتے مِنہا کے سر پر بم پھوڑا تھا.
مِنہا کچھ بے یقینی اور غصے بھری نظروں سے ہشام کی جانب دیکھ رہی تھی.
” سہی کہتے ہیں. آج کل کے دور میں کسی بھی انسان میں اِنسانیت نام کی چیز بچی ہی نہیں ہے. جہاں کسی کو مجبور اور بے بس دیکھا. اُس کی بے بسی کا فائدہ اُٹھانے پہنچ گئے. میں بے وقوف تھی جو آپ کو شریف انسان سمجھنے لگی تھی. مگر آپ بھی اُنہیں پولیس والوں میں سے ہیں جو ضمیر فروش اور اپنی ڈیوٹی کے نام پر عیاشیاں کرتے پھرتے ہیں. نہیں چاہئے مجھے آپ کی کوئی مدد. جارہی ہوں میں یہاں سے. اتنی کمزور بھی نہیں ہوں جتنا آپ نے مجھے سمجھ لیا ہے. “
مِنہا پہلے ہی اتنے بڑے صدمے کا شکار تھی. کہ ہشام کی اچانک کہی گئی بات کا غلط مطلب نکالتے بنا سوچے سمجھے اُسے اتنی بڑی بڑی باتیں بول گئی تھی.
ہشام کا چہرا اُس کی باتیں سن کر غصے کی شدت سے لال ہوچکا تھا. وہ جس لڑکی کی مدد کرنے کی خاطر اپنے عزیز گھر والوں کا دل دکھانے جارہا تھا. وہی لڑکی اُس پر کتنے غلط الزامات لگا رہی تھی.
ہشام نے اُسی غیض و غضب کی حالت میں پاس سے گزر کر باہر کی طرف جاتی مِنہا کا ہاتھ پکڑ کر جھٹکا دیا تھا. جس کے نتیجے میں وہ ہشام کے مقابل صوفے پر آگری تھی.
” کیا بدتمیزی ہے یہ چھوڑو مجھے. “
مِنہا نے ہشام کی گرفت سے ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کرتے اُس کی ہتھیلی پر بہت زور سے کاٹ دیا تھا. اُس کی جنگلیوں والی حرکت پر ہشام نے اُسے چھوڑنے کے بجائے دوسرا ہاتھ بھی پکڑ کر قابو کرتے اُس کی کمر صوفے کے ہینڈ سے ٹکا دی تھی.
” تم ایک نمبر کی بدتمیز اور جنگلی ہو. اور عقل نام کے لفظ سے تو لگتا ہے کبھی تمہارا واسط پڑا ہی نہیں ہے. میں نے تمہیں نکاح کرنے کو بولا ہے. تمہارے ساتھ رات گزارنے کی آفر نہیں کی تمہیں. جس پر تم اتنا اوور ری ایکٹ کررہی ہو. نکاح کرنا کہاں کی عیاشی ہے. “
ہشام مِنہا کی آنکھوں میں جھانکتا ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا تھا. جب کے اُس کے اتنے صاف اور بے باک الفاظ پر مِنہا شرم اور خفت کے مارے لال ہوچکی تھی.
” مجھے کوئی شوق نہیں ہے تم سے نکاح کرنے کا. اور تمہیں یہاں رکھنے کا. یہ سب میں صرف انسانیت کے ناطے اور تمہارے باپ کے بار بار فریاد کرنے پر کررہا ہوں. رفیق نیازی سب کے سامنے تمہیں اپنی منکوحہ ثابت کرکے لے جانا چاہتا ہے. تمہیں اُس گھٹیا شخص کی سازشوں سے بچانے کے لیے میں نے تم سے نکاح کرنے کا فیصلہ کیا ہے. جو میں چھپ کر یا خفیہ طور پر نہیں کروں گا. بلکہ میری فیملی کے تمام معزز لوگ اس میں شریک ہوں گے. اِس نکاح کی اہمیت صرف ایک کاغذی رشتے سے زیادہ کچھ نہیں ہوگی. نہ ہی تمہارا مجھ پر کوئی حق ہوگا نہ میرا تم پر. یہ سارا معاملہ ختم ہوتے ہی نکاح بھی ختم ہوجائے گا. “
ہشام مِنہا کو اچھے سے باور کرواتا اپنی گرفت سے آزاد کرتا اُس کے پاس سے اُٹھ گیا تھا. کیونکہ اِس لڑکی نے ہمیشہ کی طرح اُس کا موڈ سخت آف کردیا تھا. ہشام نہیں جانتا تھا کہ جتنی بڑی بڑی باتیں وہ بول رہا ہے. آگے چل کر وہ اِن سب باتوں پر قائم رہ بھی سکے گا یا نہیں.
“آج شام سات بجے نکاح ہے ہمارا. اور اب دوبارہ اپنی احمقانہ سوچوں پر عمل کرکے مزید کوئی فضول گوئی کرنے کی کوشش مت کرنا. اب کی بار میں مزید بدتمیزی برداشت نہیں کروں گا. “
کھردرے لہجے میں کہتا ہشام اپنے روم کی جانب بڑھ گیا تھا.
مِنہا روتے ہوئے سر پکڑتی وہیں بیٹھتے خود کو ملامت کرنے لگ گئی تھی.
وہ اِس شخص کو کتنا غلط سمجھ رہی تھی. جو اُس کی اتنی مدد کررہا تھا. واقعی اِس بندے کے سامنے آتے وہ ہمیشہ اوٹ پٹانگ ہی بولتی تھی. ورنہ کبھی کسی اور کو آج تک اُس نے اتنی باتیں کبھی نہیں سنائی تھیں.
جس بندے کے پاس وہ اتنے دنوں سے قید تھی. جو آرام سے اُس کا فائدہ اُٹھا سکتا تھا. اُس پر اپنی بے وقوفی میں وہ کیا کیا الزام لگا گئی تھی. مِنہا کو اپنے الفاظ کی سنگینی کا فوراً احساس ہوا تھا.
اُس کا غصہ ایسا ہی تھا جو جتنا جلدی آتا تھا اُس سے بھی کہیں زیادہ جلدی اُتر جاتا. غلطی کا احساس ہوتے ہی چند سیکنڈز میں ہی وہ نارمل ہوجاتی تھی.
اُس نے ایک نظر بند کمرے پر ڈالی تھی. مگر وہ چاہ کر بھی وہاں جانے کی ہمت نہیں کرسکتی تھی. اُسے اِس وقت ہشام سے بہت ڈر لگ رہا تھا.
ایل سی ڈی پر ابھی بھی وہی نیوز چل رہی تھی. منہا کو اپنا سر درد سے پھٹتا محسوس ہورہا تھا. لیکن دل کا درد سر درد سے بہت زیادہ تھا. جو اُسے اپنے قریبی اکلوتے خونی رشتے سے ملا تھا. اُس کے پاپا جانی جو اُس کا فخر تھے. اُس کے آئیڈیل تھے. اُنہوں نے اُسے کہیں منہ دکھانے کے لائک نہیں چھوڑا تھا. اُس کا سر ہمیشہ کے لیے جھکا گئے تھے.
مِنہا کے آنسو ایک بار پھر جاری ہوچکے تھے. جو بھی تھا وہ جتنے بھی بُرے تھے. مگر اُس کے پاپا تھے. جن میں اُسکی جان بستی تھی. یہ درد یہ صدمہ اُس کے لئے بہت بڑا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ہشام کے کہنے پر زیان نے فاریہ کو مِنہا کے لیے بلوا لیا تھا. گردیزی ولا کی خواتین میں سے کسی کو بلوانا اُنہیں مناسب نہیں لگا تھا. فاریہ نے مِنہا کو ہلکا پھلکا تیار کرنے کا اسرار کیا تھا. مگر مِنہا کے دوٹوک انکار پر فاریہ خاموش ہوگئی تھی.
اپنوں کی موجودگی میں ہشام نے مِنہا کے تمام جملہ حقوق اپنے نام لکھوا لیے تھے. جو بقول ہشام کے صرف کاغذی تعلق تھا.
مِنہا نکاح پر سائن کرتے ٹوٹ کر بکھری تھی. جس دن کے لیے اُس کے پاپا جانی نے نجانے کتنے خواب دیکھے تھے. آج اُنہیں کی وجہ سے اُس کا نکاح بھی چھپ کر چوروں کی طرح کیا جارہا تھا.
مولوی صاحب کے ساتھ سائن کروانے کے لیے کمرے میں آئے سلمان گردیزی اور حمدان گردیزی گھونگھٹ ہونے کی وجہ سے مِنہا کا چہرا تو نہیں دیکھ پائے تھے. لیکن اُنہیں دل سے اُس بچی کا دکھ محسوس ہوا تھا. جس کو اُس کے باپ نے ہی بے آسرا کر دیا تھا.
مولوی صاحب کو رخصت کرکے زیان ٹیرس پر کھڑے فون پر بات کرتے ہشام کی جانب بڑھا تھا.
” بہت بہت مبارک ہو جناب. شوہر کے عہدے پر فائز ہوچکے ہو. “
زیان کی بات پر ہشام نے فون بند کرتے اُسے ایک گھوری سے نوازا تھا.
” حقیقت جانتے ہو تم اِس سب کی. فضول مت بولو. “
ہشام کی بات پر زیان معنی خیزی سے مسکرایا تھا.
” اُس حقیقت سے تو واقف ہوں. مگر مجھے تمہاری آنکھوں میں آج کچھ اور ہی حقیقت نظر آرہی ہے. جس کے کچھ آثار تمہارے ہاتھ پر بھی دکھائی دے رہے ہیں”
زیان کی آنکھوں میں صاف شرارت ناچ رہی تھی. ہشام نے جیسے ہی اُس کی نظروں کے تعاقب میں اپنے ہاتھ کی جانب دیکھا. ناچاہتے ہوئے بھی ایک بھرپور مسکراہٹ ہشام کے ہونٹوں پر بکھر گئی تھی. جہاں مِنہا نے آج دن ٹائم ہی اُس سے لڑائی کے دوران اپنے دانت گاڑھ دیے تھے.
ہشام کے ہونٹوں پر بکھرتی مسکراہٹ زیان کے اندر اُٹھتے بہت سارے سوالوں کے جواب دے گئے تھے.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” یو ایڈیٹ تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہ گلاس یہاں سے اُٹھانے کی.”
عائلہ ڈرنک اِس قدر زیادہ مقدار میں کر چکی تھی کہ اُس سے اپنے قدموں پر کھڑا رہنا بھی مشکل ہورہا تھا. ہمیشہ اُسے ایسے وقت پر سنبھالنے والی اُس کی دوست بھی آج اُس کے ساتھ نہیں تھی.
اکرام صاحب سے لڑائی کے بعد وہ گھر سے نکل آئی تھی. اور اب اپنے فیورٹ فائی سٹار ریسٹورنٹ میں بیٹھ کر وہ اچھی خاصی شراب اپنے اندر اُتار چکی تھی.
جب کاؤنٹر پر کسی شخص کے اپنے آگے سے گلاس اُٹھانے پر وہ نشے کی حالت میں اُس کے منہ پر ایک زور دار تھپڑ رسید کرچکی تھی. مقابل نے بھی اتنے لوگوں کے سامنے اپنی ایسی انسلٹ پر غصے میں آتے جواب میں عائلہ پر ہاتھ اُٹھاتے بدلہ لینا چاہا تھا. مگر اُس کا ہاتھ عائلہ تک پہنچنے سے پہلے ہی بیچ میں آتے زیان نے روک دیا تھا.
جو ابھی ابھی کسی کام سے وہاں آیا تھا. اُس شخص کو عائلہ کی جانب بڑھتا دیکھ زیان خود کو روک نہیں پایا تھا.
” مانتا ہوں اُس کی غلطی ہے. مگر عورت پر ہاتھ اُٹھانا ایک مرد کو شیوا بلکل بھی نہیں دیتا. “
زیان تنبیہہ کرتی نظروں سے اُس شخص کو باور کرواتا عائلہ کی جانب مُڑا تھا. جو مسکراتی آنکھوں سے اُس کی جانب دیکھ رہی تھی.
” میں نے کہا تھا نا. تم ہی میرے ہیرو ہو. آج تک اِس طرح میری ڈھال بن کر تو میرے سامنے میرے ڈیڈ بھی کبھی نہیں آکر کھڑے ہوئے. “
عائلہ نے بات کرتے قدم باہر کی جانب بڑھا دیے تھے. مگر بُری طرح لڑکھڑا نے کی وجہ سے وہ زمین بوس ہوتی اُس سے پہلے ہی زیان نے آگے بڑھ کر اُسے تھام لیا تھا.
” تم جیسی لڑکی میں نے آج تک نہیں دیکھی. اِس سے مزید بُرا کوئی اور روپ بھی دیکھانا باقی ہے کیا تمہارا یا یہ لاسٹ سٹیج ہی ہے. “
زیان عائلہ کو باہر لاکر گاڑی کے سہارے کھڑا کرتا دھاڑا تھا. عائلہ اپنے حواس نارمل رکھنے کی بہت کوشش کررہی تھی. مگر کافی زیادہ پی لینے کی وجہ سے اُس کا دماغ بہت زیادہ چکرا رہا تھا.
” میر آج مجھے اِس حال میں دیکھ کر میرے لیے تمہاری نفرت مزید بڑھ گئی ہوگی نا. تمہیں ضرور گھن آرہی ہوگی مجھ جیسی لڑکی سے. جو شراب پیتی ہے. واہیات کپڑے پہنتی ہے. میں بہت بُری سہی لیکن میں بد کردار نہیں ہوں. اور نہ ہی میری ماں بد کردار تھی. مگر تم بھی میرے ڈیڈ کی طرح بد کردار سمجھتے ہونا مجھے. یہ بات میرے دل کو چیر کر رکھ دیتی ہے.
میں سکون چاہتی ہوں. محبت چاہتی ہوں. کیا میرا اِن سب پر حق نہیں ہے. میں اتنی بُری ہوں کیا. کہ مجھ سے نفرت ہی کی جائے. تھک گئی ہوں میں ہر ایک کی نفرت سہتے سہتے. “
عائلہ زیان کے سینے سے اُس کی شرٹ تھامے کھڑی بے ترتیب حملے بولتی اپنے اندر کا دکھ بیان کررہی تھی. زیان خاموش نظروں سے عائلہ کی جانب دیکھ رہا تھا. آج اُس نے نہ ہی عائلہ کو خود سے دور جھٹکا تھا اور نہ ہی اُسے آج عائلہ سے نفرت محسوس ہورہی تھی. بلکہ آج تو وہ اُس کی آنکھوں میں تیرتی نمی اور درد دیکھ رہا تھا.
” تم جانتے ہو میر. جب سے میں نے ہوش سنبھالے ہیں. کسی کو اِس بات کی اجازت نہیں دی کہ وہ مجھے جھڑک سکے. میری اتنی بُری طریقے سے انسلٹ کرسکے. مگر اپنی ذات سمیت ہر حق تمہیں دینا چاہا مگر تم نے بہت بُرے طریقے سے میرا دل توڑتے مجھے ریجیکٹ کردیا. تم بھی باقی سب کی طرح سمجھتے ہو نا. کہ میں ہر بات پر ہنس دیتی ہوں. یا لڑائی کر لیتی ہوں تو مجھے. تکلیف نہیں ہوتی میرا دل نہیں دکھتا. نہیں… تمہارے ہر بار رد کرنے پر میرا یہ دل خون کے آنسو رویا ہے.
میری محبت سچی ہے میر. مگر اب میں مزید خود کو تمہارے آگے بے مول نہیں کروں گی. “
عائلہ زیان پر ایک بھرپور محبت بھری نظر ڈالتی وہاں سے نکل آئی تھی.
زیان کتنے ہی لمحے اپنی جگہ پر اُسی پوزیشن میں کھڑا رہا تھا. وہ اِس لڑکی اور اِس کی باتوں سے بلکل بھی ایفیکٹ نہیں ہونا چاہتا تھا. مگر آج یہ لڑکی کہیں نہ کہیں اُسے ایفیکٹ کر گئی تھی.
” نہیں یہ لڑکی میرے ٹائپ کی نہیں ہے. جان بوجھ کر مجھے ایسی باتیں بول کر گئی ہے. بہت تیز ہے یہ. ایسی لڑکی میری چوائس کبھی نہیں ہوسکتی. “
زیان نے اپنے اندر سے اُٹھتی کمزور سی آواز کو بُری طرح جھٹکتے حیدر صاحب کا نمبر ملا دیا تھا.
” بابا آپ جو لڑکی میرے لیے پسند کر چکے ہیں. اُس کے ساتھ اِس ویک کے اندر اندر میری انگیجنمٹ رکھ دیں. مجھے اُس پر کوئی اعتراض نہیں ہے.”
اتنی رات کو اِس طرح زیان کی ایسی بات کہنے پر حیدر صاحب نے حیرت سے موبائل کان سے ہٹا کر سکرین پر جگمگاتے زیان کے نمبر کو گھورا تھا.
” زیان کیا ہوا اتنی بھی کیا جلدی ہے. ابھی تو تم نے اُس لڑکی کو دیکھا بھی نہیں ہے.”
حیدر صاحب کچھ سمجھ ہی نہیں پائے تھے.
” بابا جو میں نے کہہ دیا ہے وہی ہوگا. میری انگیجنمٹ ہوگی اور وہ بھی اِسی ویک. “
زیان اُن کی کوئی بھی بات سنے بغیر فون بند کر چکا تھا. جب آگے قدم بڑھاتے اُسے اپنے شوز کے نیچے کچھ فیل ہوا تھا. پاؤں ہٹا کر جھک کر اُس نے نیچے پڑی چین اُٹھا لی تھی. جو بہت ہی نازک اور خوبصورت تھی. اور اُس میں چمکتا پینڈنٹ مزید اُس کی دلکشی میں اضافہ کررہا تھا.
زیان نے اِسے آج ہی عائلہ کی گردن میں دیکھا تھا. کچھ پل دیکھنے کے بعد زیان نے کچھ سوچتے اُٹھا کر اُسے اپنی پاکٹ میں رکھ لیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے۔۔۔۔۔
