No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
” سر پولیس نے ہمارے دو اڈوں پر حملہ کرکے اُنہیں اپنے قبضے میں لے لیا ہے. اور اب وہ آپ کو گرفتار کرنے کے لیے مختلف جگہوں پر چھاپے مار رہے ہیں. “
شہباز خان کا خاص آدمی کاشف گھبرایا بوکھلایا اندر داخل ہوا تھا. شہباز خان کو لگا تھا اُس کا انجام بہت قریب آچکا تھا. اُس نے جو آج تک مظلوموں کا ناحق خون بہایا تھا. لوگوں کی زندگیاں برباد کرکے رکھ دی تھیں. آج اُن سب باتوں کا حساب دینے کا وقت آگیا تھا.
شہباز کو اِس بات کا علم تھا کہ ایس پی ہشام کسی بھی وقت اُس تک پہنچ جائے گا. لیکن اتنی جلدی اِس بات کی اُمید اُسے بلکل نہیں تھی. مِنہا کا خیال آتے ہی شہباز خان جلدی سے پچھلے دروازے کی جانب بڑھا تھا. ابھی وہ گرفتاری نہیں دے سکتا تھا. اُسے اپنی بیٹی کو محفوظ کرنا تھا. وہ اُسے کسی صورت اِس بے رحم دنیا کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتا تھا. وہ نہیں چاہتا تھا اُس کے کیے گئے گھنونے کاموں کی سزا اُس کی معصوم بے گناہ بیٹی کو ملے.
” رُک جاؤ شہباز خان. ورنہ جو حال میں تمہارا کروں گا وہ عدالت کی سزا سے بھی کہیں زیادہ عبرت ناک ہوگا. “
اِس سے پہلے کہ شہباز خان وہاں سے فرار ہوتا ایس پی ہشام اُس تک پہنچ چکا تھا. اور اُس کے پیروں کے قریب زمین پر فائر کرتے اُسے فرار ہونے سے باز رکھا تھا. جب اور کوئی راہ نہ پاتے شہباز خان نے خود کو پولیس کے حوالے کردیا تھا. لیکن مِنہا کی فکر اُسے اندر ہی اندر کھائے جارہی تھی.
اُس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ایسا کون ہے اُس کی زندگی میں جس سے وہ مِنہا کی حفاظت کی بھیک مانگ سکتا تھا. کیونکہ اُس کے تمام دوست یہ سن کر کہ وہ گرفتار ہوچکا ہے. اُس کے جانی دشمن بننے والے تھے. اُن کے ہر راز سے شہباز خان واقف تھا. اور سب اِسی ڈر سے کہ کہیں وہ اُن کو بھی نہ پھنسا دے وہ اُسے بلیک میل کرنے کے لیے کچھ بھی کرسکتے تھے.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” ہائے ہینڈسم کیسے ہو. “
زیان معمول کے مطابق صبح پانچ بجے جاگنگ کے لیے قریبی پارک آیا ہوا تھا. جب اپنے پیچھے عائلہ کی آواز سنتے وہ پلٹا تھا.
عائلہ ٹریک سوٹ پہنے اتنی ٹھنڈ میں ہولے ہولے کانپتی مسکراتی نظروں سے اُس کی جانب دیکھ رہی تھی. گرے کلر کے ٹریک سوٹ کے اُوپر بلیک کلر کی سٹائلش سی چادر لپیٹے ٹھنڈ سے بچنے کی کوشش کی گئی تھی. اُس کی بالوں کی کٹی ہوئی لٹیں ماتھے پر بکھری ہوئی تھیں. جنہیں ہٹانے کی اُس نے کوئی زحمت نہیں کی تھی. بالوں کو جوڑے کی شکل دیے ہاتھوں کو گرم کرنے کے لیے آپس میں رگرتی وہ حسین صبح کا ایک دلفریب حصہ لگ رہی تھی. مگر سامنے کھڑے میر زیان حیدر کو اِس دلفریبی میں کوئی انٹرسٹ نہیں تھا.
” تم یہاں. ؟”
زیان کے تیوری چڑھا کر پوچھنے پر عائلہ نے اپنی نظریں پھیر لی تھیں. وہ اُسے کیا بتاتی اِس طرح غصہ کرتا وہ عائلہ کو کتنا پیارا لگتا ہے.
جس کا مضبوط چوڑا وجود ٹریک سوٹ میں مزید نمایاں لگ رہا تھا.
” جب تم نے اپنے آفس اور گھر میں میری انٹری پر پابندی لگا رکھی ہے تو تم سے بات کرنے تمہیں دیکھنے کے لیے یہی جگہ مناسب لگی مجھے. اور میں یہاں آگئی. “
عائلہ اُسے یہ نہیں بتا سکی تھی کہ صرف اور صرف میر زیان حیدر کی خاطر اُس نے اپنی نیند کی قربانی دی تھی. ورنہ نو دس بجے سے پہلے اُٹھنا اُس کے لیے دنیا کا سب سے مشکل ترین کام تھا. اور اب خود کو اچھے سے کور کرنے کے بعد اتنی ٹھنڈ میں اُسے اپنے دانت بجتے محسوس ہورہے تھے. مگر زیان سے ملنے کے لیے تو یہ سب کچھ نہیں تھا.
زیان بنا کچھ بولے افسوس میں سر ہلاتے دوبارہ سے جاگنگ شروع کرچکا تھا.
” میر تم روز یہاں آتے ہو کیا. مطلب اتنی صبح کیسے اُٹھتے ہو روز اور اتنی ٹھنڈ میں طبیعت خراب نہیں ہوتی. “
عائلہ بہت مشکل سے زیان کے ساتھ قدم ملانے کی کوشش میں ہلکان ہوتے سوال کر گئی تھی.
” محترمہ پانچ بجے اتنی صبح نہیں ہوتی. جاگنگ کے لیے نہیں تو نماز کے لیے تو ہر کوئی اُٹھتا ہے. مگر آپ جیسے لوگوں کو کہاں اِن باتوں کا ہوش. “
زیان کے طنز پر عائلہ کے قدم وہی رک گئے تھے. جب سے اُس کی ماما اُسے چھوڑ کر گئی تھیں. اُس نے تو ﷲ سے ناراضگی کا اظہار کرتے نماز پڑھنا ہی چھوڑ دیا تھا. اکرام صاحب اور فاخرہ بیگم نے تو اُسے جھڑکنے اور مارنے کے علاوہ کبھی اُس کی کسی بات میں اصلاح نہیں کی تھی. ہاں مِنہا اکثر اُسے اِس بات کے لیے ٹوکتی اور سمجھاتی رہتی تھی مگر عائلہ پوری دنیا کے ساتھ ساتھ اپنے رب سے بھی ایسی روٹھی تھی کہ کبھی اُس بابرکت اور مہربان ذات کو کبھی دل سے پُکارا ہی نہیں تھا.
آج زیان کی ایک چھوٹی سی بات اُسے اُس کی اتنی بڑی غلطی اور کوتاہی کا احساس دلا گئی تھی. اُس نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ آج سے وہ باقاعدگی سے نماز پڑھنا شروع کرے گی.
اپنی سوچ پر پرسکون سی ہوتی وہ پھر زیان کی جانب بڑھ گئی تھی. جسے دیکھ کر عائلہ کو لگ رہا تھا کہ واقعی یہ شخص اُس کی زندگی بدل دے گا.
” اُف ﷲ جی تم تھکے نہیں ہو. بس بھی کردو اب. “
دو چکروں میں ہی عائلہ کی ہمت جواب دے گئی تھی. وہ زیان سے بات کرنے کی وجہ سے اُس کے ساتھ ساتھ بھاگ رہی تھی. زیان جان بوجھ کر اُس سے پیچھا چھڑاوانے کے لیے اپنے قدم مزید تیز کر دیتا تھا. اُسی چکر میں عائلہ اب بُری طرح ہانپ رہی تھی.
عائلہ کو پانی پی کر سانس بحال کرتا دیکھ زیان آگے بڑھ گیا تھا. یہ لڑکی اُس کی سوچ سے بھی زیادہ چپکو, ضدی اور پاگل تھی.
” دیکھو تم سے بات کرنے کے لیے میں کتنی محنت کررہی ہوں. پلیز دو منٹ بیٹھ کر مجھ سے بات کر لو. “
عائلہ ایک بار پھر اُس کے قریب آکر اب کی بار ساتھ چلنے کے بجائے اُلٹے قدموں اُس کے آگے چلنے لگی تھی. عائلہ کا رُخ زیان کی جانب تھا.
” میں تمہیں کتنی بار بتا چکا ہوں. تم جیسی فضول انسان کے لیے میرے پاس بلکل بھی ٹائم نہیں ہے. “
زیان نے اُسے جواب دیتے سائیڈ سے نکلنا چاہا تھا. جب پیچھے پڑا پتھر نہ دیکھ پانے کی وجہ سے عائلہ کو ٹھو کر لگی تھی. اِس سے پہلے کہ وہ سر کے بل نیچے گرتی زیان نے ایک ہاتھ سے اُس بازو پکڑتے دوسرا بازو اُس کی کمر کے گرد رکھتے اُسے گرنے سے بچایا تھا.
اِس چکر میں دونوں کافی قریب آگئے تھے. عائلہ نے زیان کی شرٹ کو سینے سے اپنی مٹھی میں جکڑ لیا تھا. زیان ہلکا سا عائلہ کے اُوپر جھک ہوا تھا. جس کی وجہ سے اُس کے ہمیشہ جیل کی مدد سے سیٹ کیے گھنے بال ماتھے پر آتے اُس کی وجاہت میں مزید اضافہ کر رہے تھے.
میر زیان حیدر کی قربت اُس کی مسحورکن خوشبو اور اب یہ حسین منظر عائلہ کو بے خود کر گیا تھا. اُس نے ایسے ہی بے اختیاری میں ہاتھ بڑھا کر زیان کے بال ماتھے سے سمیٹنے چاہے تھے.
زیان جس نے عائلہ کو بہت بُری طرح گرتے دیکھ سہارا دیا تھا. اب اُس کی والہانہ محبت پاش نظروں اور بڑھائے جانے والے ہاتھ پر ساری مروت اور انسانیت بھاڑ میں جھونکتے عائلہ بنا سیدھا کیے چھوڑ دیا تھا.
اِس سے پہلے کہ عائلہ اُس کے ماتھے کو چھو کر اپنی خواہش پوری کرتی. زیان اُسے زمین پر پٹخ چکا تھا. عائلہ کی کمر اتنی زور سے نیچے لگی تھی کہ وہ درد سے بلبلا کر کمر پر ہاتھ رکھے زیان کو گھورنے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکی تھی.
” اگر مدد کر ہی دی تھی تو شکریہ کا موقع بھی دے دیتے. اتنے زور سے کیوں واپس گرا دیا مجھے. “
عائلہ اُسی پوزیشن میں زمین پر گرے زیان سے سوال کررہی تھی. گرنے کی وجہ سے اُس کا جوڑا کھل چکا تھا. اور بال چہرے کے اردگرد بکھرے اُس کے چہرے کو مزید حسین بنا رہے تھے.
” کیونکہ مجھے احساس ہوگیا تھا. کہ کچھ لوگ بلکل بھی مدد کے قابل نہیں ہوتے. “
زیان بنا عائلہ کی جانب دوبارہ دیکھے آگے بڑھ گیا تھا.
” ہائے میرے محبوب کے یہ انداز مجھے اِس کے اظہارِ محبت سے پہلے ہی نہ کہیں اُوپر پہنچا دیں. “
عائلہ اُس کے گریز اور نظر انداز کرنے والی حرکت پر فدا ہوتی وہیں گیلے گھاس پر سر ٹکا گئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” یہ والا ڈریس کیسا رہے گا. “
عائلہ نے جیسے ہی اورنج کلر کے خوبصورت سے فراک جس کے اُوپر بڑا سا دوپٹہ تھا پر ہاتھ رکھا. مِنہا نے ناسمجھی سے اُس کی جانب دیکھا تھا.
” تم اپنے لیے ہی شاپنگ کررہی ہو نا. “
مِنہا کے انداز پر عائلہ مسکرا دی تھی.
” میر زیان حیدر کو میری یہ ڈریسنگ نہیں پسند. اِس لیے اب میں اِس ٹائپ کی ڈریسز پہننے کی کوشش کروں گی. “
عائلہ کی بات پر مِنہا نے اُس کے دونوں ہاتھ تھامتے رُخ اپنی جانب موڑا تھا.
” تمہاری طبیعت ٹھیک ہے نا. تم عائلہ اکرام جسے لوگوں کی باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا. جس کی نظروں میں اُس کی مرضی اُس کی خوشی سب سے زیادہ اہم ہے. جو اپنی زندگی اپنے حساب سے جینا چاہتی ہے.
تم کسی اور کی مرضی کی خاطر اور وہ بھی وہ انسان جس سے ملے تمہیں ایک مہینہ بھی نہیں ہوا تم اُس کی خاطر خود کو بدلنا چاہتی ہو. مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا.”
مِنہا کو بہت اچھا لگتا اگر عائلہ اپنی خاطر خود کو بدلنے کی کوشش کرتی. لیکن ایسے انسان کے لیے جو اُس سے بات کرنا بھی پسند نہیں کرتا یہ سب کرنا مِنہا کو بہت بُرا لگ رہا تھا.
” مِنہا محبت کرنے کے لیے تو ایک لمحہ ہی کافی ہوتا ہے اور میری زندگی میں وہ لمحہ آکر گزر چکا ہے. چاہے ایک مہینہ ہی ہوا ہے مجھے اُس سے ملے مگر مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ میں سالوں سے اُسے جانتی ہوں. نجانے کب سے چاہتی آرہی ہوں اُسے. وہ شخص میرے لئے نیا اور اجنبی بلکل بھی نہیں ہے. اور جہاں تک رہی اُس کی ناپسندیدگی کی بات تو اُسی کے لیے ہی تو یہ سب کررہی ہوں. دیکھنا وہ بھی بہت جلد مجھ سے محبت کرے گا. مجھے چاہے گا مجھے پورا یقین ہے. “
یہ بات کرتے عائلہ کی آنکھوں میں ایک چمک واضح ہوئی تھی. جسے آج بہت ٹائم بعد دیکھا تھا مِنہا نے. جہاں ہر وقت اُداسی اور ویرانی ڈیرا ڈالے رکھتی تھی. وہاں آج اُسے اپنی محبت حاصل کرنے کا جنون نظر آرہا تھا.
مِنہا چاہتی تھی عائلہ خود کو بدلے خوش رہے. اور آج عائلہ کو اِس طرح چہکتے دیکھ مِنہا کو خوشی بھی بہت ہورہی تھی. اب وہ بس یہی دعا کرسکتی تھی. کہ میر زیان حیدر کو بھی عائلہ سے محبت کو جائے. اُس کی دوست یک طرفہ محبت کے روگ میں ہی نہ رہ جائے. میر زیان حیدر بھی اُس سے اتنی ہی محبت کرے جس کی وہ دل کی اچھی لڑکی حقدار ہے. جو اُسے کبھی نہیں ملی.
” بہت اچھا ہے یہ ڈریس بہت سوٹ کرے گا تم پر. اور تمہارے اُس میر صاحب کے دل کے تاڑ تو ضرور چھڑیں گے تمہیں اِس ڈریس میں دیکھ کر. “
مِنہا کی بات پر عائلہ محبت پاش نظروں سے اس کی جانب دیکھتے مسکرا دی تھی. عائلہ کے لیے وہ اِس دنیا میں واحد ایسی انسان تھی جو اُسے جانتی تھی سمجھتی تھی. اور زندگی کی ہر مشکل گھڑی میں اُس کے ساتھ کھڑی رہی تھی.
آج بہت دنوں بعد اُن دونوں دوستوں نے جی بھر کر شاپنگ اور انجوائے کیا تھا. ایک بھرپور دن گزار کر مِنہا ڈرائیور کے ساتھ گھر کے لیے نکل آئی تھی.
” کیا ہوا ڈرائیور گاڑی کیوں روک دی. اور یہ کس کی گاڑی ہے اِس طرح ہمارے سامنے کیوں آگئی. “
گاڑی کی اچانک سے بریک لگانے اور کسی اور گاڑی کا سامنے آکر راستہ روکنے پر مِنہا نے خوفزدہ ہوتے ڈرائیور سے پوچھا تھا. روڈ ویران ہونے کی وجہ سے مِنہا کے خوف میں مزید اضافہ ہورہا تھا.
لیکن اِس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتی اور مدد کے لیے کسی کو پکارتی اُس گاڑی سے نکل کر آنے والے نقاب پوش آدمیوں نے پہلے ڈرائیور کے سر پر پسٹل کی پشت مارتے اُسے بے ہوش کیا اور پھر مِنہا کی جانب بڑھتے اُس کے چیخنے سے پہلے ہی اُس کے منہ پر کلوروفام لگا رومال رکھتے بے ہوش کرتے وہاں سے اُٹھا کر لے گئے تھے.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” شہباز خان ملاقات آئی ہے تمہاری. “
شہباز خان کو آج تیسرا دن تھا حوالات میں بند ہوئے. اُس کو ہر طرح سے ٹارچر کرتے بہت سارے راز اُگلوا لیے گئے تھے. نہ ہی کسی کو اُس سے ملنے کی اجازت تھی. اور نہ ہی وہ کسی سے ملنا چاہتا تھا. اُس نے ایس پی ہشام سے منت کی تھی کہ اُس کی بیٹی کو اِس بارے میں کچھ پتا نہ چلے. جس پر ہشام بنا کچھ بولے طنزیا مسکراہٹ اُس پر اُچھالتا نکل گیا تھا.
شہباز خان پولیس والے کی بات پر حیران ہوتے پلٹا تھا. کہ اُس سے بھلا کون ملنے آسکتا ہے.
” کیسے ہو شہباز خان. “
رفیق نیازی کے خاص آدمی نعمان کو اپنے سامنے دیکھ شہباز کی چھٹی حس کچھ غلط ہونے کا الارم دینے لگی تھی.
” تم یہاں کیوں آئے ہو. “
شہباز خان کے دوٹوک انداز پر نعمان ہنسا تھا.
” لگتا ہے شہباز خان تمہیں تو مجھ سے بھی زیادہ جلدی ہے. چلو پھر سنوں. رفیق نیازی نے تمہارے لیے پیغام بھیجوایا ہے کہ اگر تم نے اُس کے خلاف مزید زرا سا بھی منہ کھولا تو اپنی بیٹی کی جان اور عزت جانے کے ذمہ دار تم خود ہوگے. ابھی تک تو تمہاری بیٹی ہمارے پاس بلکل محفوظ ہے مگر صرف اُس وقت تک جب تک تم مزید ایک راز بھی رفیق نیازی کے خلاف نہیں اُگلو گے. تمہاری بیٹی اغوا نہ ہوتی اگر تم اپنی دوستی بھول کر رفیق نیازی کے خلاف بیان نہ دیتے تو. “
شہباز خان کو لگا تھا جیسے آسمان اُس کے سر پہ آگرا ہو. مکافاتے عمل اتنی جلدی شروع ہوجائے گا اُسے یقین نہیں آرہا تھا. اُس کے کیے کی سزا اُس کی بیٹی کو نہیں ملنی چاہئے تھی. اُس کی بیٹی بہت حساس اور نازک تھی وہ یہ سب نہیں سہہ سکتی تھی.
” نعمان میری بات سنو رکو. اِس سب میں میری بیٹی کا کوئی قصور نہیں ہے. چھوڑ دو اُسے. “
شہباز خان روتا گڑگڑاتا رہ گیا تھا. لیکن نعمان اُسے کی بات سنے بغیر وہاں سے نکل چکا تھا.
” مجھے ایس پی ہشام سے ملنا ہے. ابھی اور اِسی وقت خدا کے لیے اُسے بلوا دو. “
شہباز خان نے وہاں تعینات پولیس اہلکاروں کو بلا کر منتیں کرتے اُن کے آگے ہاتھ جوڑ دیے تھے.
جب آخر کار مسلسل اُس کے دو گھنٹوں کی منتوں کے بعد ایس ایس ہشام کو اُس پر ترس آہی گیا تھا.
” شہباز خان اتنی جلدی تمہارا سارا غرور مٹی میں مل جائے گا یقین نہیں آرہا. کہیں یہ بھی تمہاری کوئی چال تو نہیں. “
ہشام کی ملامتی نظریں شہباز خان کے زرد چہرے پر ٹکی ہوئی تھیں.
” دیکھو ایس پی تم جو مجھے بولو گے میں کروں گا. میں قسم کھاتا ہوں ہر لحاظ سے تمہارے ساتھ تعاون کروں گا. خدا کے لیے مجھ پر ایک احسان کردو. میری بیٹی کو رفیق نیازی نے اغوا کرلیا ہے. میری معصوم بیٹی اُس درندے کے پاس بلکل بھی محفوظ نہیں ہے.
وہ بے قصور ہے اُسے میرے کاموں کے بارے میں کچھ پتا نہیں ہے. اور تم خود بھی تو یہی کہتے ہو کہ کسی بے گناہ کو تم کچھ نہیں ہونے دو گے. میری بیٹی بلکل بے گناہ ہے بچا لو اُسے. “
شہباز خان ہشام کے آگے ہاتھ جوڑتے اُس کے پیروں میں آگرا تھا. اُس کی حالت ایسی ہورہی تھی. وہ ایسے تڑپ رہا تھا جیسے کوئی اُس کی شہہ رگ پر مسلسل چھڑیاں چلا رہا ہو.
شہباز خان کی بات سنتے ہشام نے غصے سے مُٹھیاں بھینچ لی تھیں. اُس کی پیشانی پر اُبھرنے والی سلوٹیں اُس کے اندر کے غصے کا پتا دے رہی تھیں. مِنہا کا معصوم چہرا اور نازک سراپا اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم گیا تھا. وہ کسی بات پر ڈرتی کسی پر ڈٹ کرو جواب دیتی ہشام کو کسی بھی طرح کی سزا کی حق دار بلکل بھی نہیں لگی تھی.
وہ بنا شہباز خان کو کوئی جواب دیے تیز قدموں سے وہاں سے نکل آیا تھا. اُسے کسی بھی قیمت پر اُس لڑکی کو محفوظ کرنا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے۔۔۔۔
