Teri Galliyon Mein By Farwa Khalid Readelle50117 Episode 27 & 28 & 29
No Download Link
Rate this Novel
Episode 27 & 28 & 29
” جیسما. کون ہے یہ چڑیل. دیکھا مجھے لگا تھا میر ضرور تمہاری کوئی گرل فرینڈ ہوگی. کیا بہت پیاری تھی وہ.”
عائلہ زیان کے بازو سے سر ہٹاتی دور ہوئی تھی. زیان کے ساتھ اُسے کسی اور لڑکی کا نام بھی برداشت نہیں تھا. زیان نے جذبے لُٹاتی نظروں سے عائلہ کے چہرے پر اُبھر آنے والے خفگی بھرے تاثرات کی جانب مُسکراتی نظروں سے دیکھتے اُسے واپس اپنے قریب کیا تھا.
” مذاق کررہا ہوں زندگی. میری لائف میں آنے والی تم پہلی اور آخری لڑکی ہو. “
زیان عائلہ کا اُداس چہرا نہیں دیکھ سکتا تھا. اِس لیے اُسے تنگ کرنے کا ارادہ ترک کرتے فوراً سچ بول دیا تھا. جس کے جواب میں عائلہ نے اُسے مشکوک نظروں سے گھورا تھا.
” سچ بول رہا ہوں میری جان. “
زیان نے عائلہ کا ماتھا چومتے اُسے یقین دلایا تھا.
” میر ایک اور بات پوچھوں. ناراض تو نہیں ہوگے.”
زیان کے ہاتھ کی انگلیوں میں اپنی اُنگلیاں پھنساتے عائلہ نے اُس کے مغرور دلکش نقوش سے سجے چہرے کو آنکھوں کے راستے دل میں بساتے پوچھا تھا.
جس پر زیان نے صرف سر ہلانے پر ہی اکتاف کیا تھا.
آج کی رات وہ دونوں جاگ کر باتیں کرتے اپنی لائف کی سب سے خوبصورت اور یادگار رات بنانا چاہتے تھے. لیکن کچھ خدشات عائلہ کو اِس حسین رات کی دلفریبی کو دل سے محسوس کرنے میں رکاوٹ پیدا کررہے تھے.
” کل سے میرا ٹریٹمنٹ شروع ہوجائے گا. جس میں میری ریکوری کے چانسز میں جانتی ہوں بہت کم ہے. اِس لیے میں چاہنے کے باوجود دل میں کوئی خوش فہمی نہیں لا پارہی. تو میر پلیز میری اِس بات کا جواب دینا. اگر میں نہ رہی تو کیا تب بھی تم مجھ سے ایسے ہی پیار کرو گے. میں تمہارے لیے ایسے ہی اہم رہوں گی. مجھے کبھی بھولو گے تو نہیں. “
بات کرتے دوران عائلہ کا پورا چہرا آنسو سے تر ہوچکا تھا. عائلہ کی بات سن کر زیان کو ایسا لگا تھا جیسے کسی نے اُس کا دل چیر دیا ہو.
زیان جو بات سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا. عائلہ نے وہ بات اتنے آرام سے اُس کے سامنے کرکے اُسے اچھا خاصہ غصہ دلانے کے ساتھ ساتھ ڈسٹرب بھی کردیا تھا. اُس کا دل بے چین ہو اُٹھا تھا.
” میں اِن فضول سوالوں کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتا.”
زیان نے مختصر سا جواب دیتے ناراضگی کے اظہار کے طور پر اپنا ہاتھ عائلہ کی گرفت سے نکالتے رُخ موڑ لیا تھا.
” میر میں نے اِسی لیے پہلے تم سے پوچھا تھا کہ تم مجھ سے ناراض نہیں ہوگے. اب تم ایسے رُخ نہیں موڑ سکتے.”
عائلہ نے زیان کا کندھا ہلاتے اُس کا رُخ واپس اپنی جانب موڑنا چاہا تھا. مگر وہ اُس کے پہاڑ جیسے وجود کو ہلا بھی نہیں پائی تھی.
” میر میری بات تو سنو نا پلیز. “
عائلہ نے اُٹھ کر بیٹھتے زیان کی جانب جھکتے اُس کا چہرا اپنی طرف موڑا تھا. مگر زیان کی ضبط سے سُرخ ہوتی نم آلود آنکھیں دیکھ وہ ساکت ہوئی تھی. اُسے زیان کا چہرا دیکھ کر ہی اپنی بات کا جواب مل چکا تھا.
” تم اتنا غلط سوچ بھی کیسے سکتی ہو. اگر اِس کے بعد تم نے ایسی کوئی بھی فضول بکواس کی تو میں تمہیں معاف نہیں کروں گا. تمہیں کچھ نہیں ہوگا. یہ ایک چھوٹی سی بیماری ہے. جو بہت جلد ختم ہوجائے گی. “
زیان اُٹھ کر عائلہ کے سامنے بیٹھتے اُسے شعلہ بار نظروں سے گھورتے بولا. جس پر عائلہ اپنے لیے اُس کی شدت پسندی دیکھ مسکائی تھی.
” میر آئندہ ایسی کوئی فضول بکواس نہیں کروں گی. پلیز اِس طرح غصہ مت ہو. ویسے بھی مجھے اِس وقت….. “
عائلہ نے کان پکڑ کر معافی مانگتے زیان کی جانب ایک خوبصورت سی مسکراہٹ اُچھالتے بات ادھوری چھوڑ دی تھی.
” کیا تمہیں اِس وقت . “
زیان نے بھنویں سکیڑتے عائلہ کے مسکراتے چہرے کو گھورا تھا.
” ویسے ہی مجھے اِس وقت تم پر بہت پیار آرہا ہے.”
عائلہ زیان کو اُسی طرح غصے سے بیٹھا دیکھ آگے ہوئی تھی. اور بہت ہی عقیدت اور محبت سے زیان کی آنکھوں کو چومتی فوراً پیچھے ہٹی تھی. عائلہ کی یہ معصوم سی حرکت زیان کا سارا غصہ ختم کرتی اُس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیر گئی تھی.
زیان کی آنکھوں کے بدلتے رنگ دیکھ عائلہ فوراً پیچھے کی جانب کھسکی تھی.
” اب کدھر بھاگ رہی ہو. زرا ٹھیک سے پیار تو کرو. “
زیان عائلہ کے بیڈ سے اُٹھنے کی کوشش ناکام بناتا. اُس کا بازو پکڑ کر اپنے اُوپر گرا چکا تھا.
زیان کے جھپٹنے کے انداز پر عائلہ کی کھلکھلاتی ہنسی پورے کمرے میں پھیل گئی تھی جس میں زیان کے قہقے نے بھی اُس کا بھرپور ساتھ دیا تھا.
وہ دونوں ہی اِس وقت آنے والے تکلف دہ لمحوں کو بھول کر اِن حسین پلوں کو ایک دوسرے کے سنگ بیتانا چاہتے تھے.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
شائستہ اور عالیہ بیگم کی جھاڑ پر ہی آخرکار ہشام اور مِنہا کی جان بخشی کرتے وہ سب ایک ایک کرتے اُن کے بیڈ روم سے نکل آئے تھے.
اُن سب کے جاتے ہی مِنہا روم میں اکیلی رہ گئی تھی. ہشام ابھی تک واپس روم میں نہیں آیا تھا. سب کے سامنے ہنستی مُسکراتی وہ اب ایک بار پھر آنے والے لمحوں کا سوچتے ذہنی اذیت کا شکار ہورہی تھی.
مِنہا ہشام کے نفاست سے سجے پورے روم کا جائزہ لیتے اُداسی سے مسکرائی تھی. جو اُس کا ہوتے ہوئے بھی اُس کا نہیں تھا. جس میں شاید وہ بہت ہی محدود مدت کے لیے آئی تھی. کیونکہ جو حرکت ابھی کچھ گھنٹوں میں وہ کرنے والی تھی. اُس کے بعد ہشام شاید اُس کی شکل دیکھنا بھی پسند نہ کرتا. یہی بات مِنہا کو بار بار رلائے جارہی تھی کہ ہشام اب اُس سے صرف اور صرف نفرت کرے گا.
اُس کی آنکھوں میں موجود والہانہ محبت شاید اب وہ کبھی نہ دیکھ پائے. مِنہا ہشام کے روم کی ایک ایک چیز ہاتھ سے چھو کر محسوس کرتی آخر میں سامنے کی وال پر موجود زیان کی لارج سائز فوٹو کے آگے جا کھڑی ہوئی تھی.
” میں اِس بات کو ہی اپنی خوش قسمتی مان کر پوری زندگی گزار سکتی ہوں کہ آپ جیسا دل کا پیارا اور شاندار مرد میری زندگی میں آیا. آپ کے ساتھ گزارے اپنی زندگی کے یہ گنے چنے کچھ لمحے ہی میرے لیے آگے کی پوری زندگی کاٹنے کے لیے کافی ہیں. “
مِنہا ہشام کی تصویر کو دیوانہ وار نظروں سے دیکھتی دل ہی دل میں اپنی چاہت کا اقرار کرنے میں اِس قدر گم تھی کہ دبے قدموں اپنے پیچھے آکھڑے ہونے والے ہشام کی موجودگی بھی نوٹ نہیں کر پائی تھی.
ہشام نے اُسے اپنی تصویر میں اِس قدر کھویا دیکھ ہنستے ہوئے پیچھے سے اپنے بازوؤں کے حصار میں لیا تھا. مِنہا کی ہمیشہ کی طرح اِس طرح اچانک ہشام کو دیکھ چیخ نکلتے نکلتے بچی تھی.
” یار یہ پورے کا پورا جیتا جاگتا چلتا پھرتا بندہ تمہارے سامنے موجود ہے. تو اُس کی بے جان تصویر میں اِس قدر کھونے کی کیا ضرورت ہے. “
ہشام نے مِنہا کی نازک کلائی اپنے ہاتھ میں لیتے ایک بہت ہی بیش قیمت نفیس سا بریسلٹ اُسے پہنا دیا تھا.
” تھینکس. بہت خوبصورت ہے یہ.”
مِنہا کو بریسلٹ بہت پسند آیا تھا. جس کا اظہار کرتے وہ بھیگی آنکھوں سے مُسکرا دی تھی.
” خالی خولی تھینکس سے کام نہیں چلے گا. مجھے بھی اِس کے بدلے پیارا سا گفٹ چاہئے. “
ہشام کی معنی خیزی سے کہی بات پر مِنہا کا دل زور سے دھڑک اُٹھا تھا. ہشام کی اتنی قربت پر تو اُس کی سانسیں پہلے ہی تیز ہوچکی تھیں.
ہشام اپنا چہرہ مِنہا کے چہرے کے ساتھ مَس کرتا وارفتگی سے بولا. مگر مِنہا کے چہرے کی نمی محسوس کرتے ہشام ٹھٹھکا تھا.
ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر ہشام نے پریشانی کے عالم میں مِنہا کا رُخ اپنی جانب موڑا تھا.
” کیا ہوا ہے مِنہا تم رو کیوں رہی ہو. کیا ہوا ہے تمہیں. گھروالوں میں سے کسی نے کچھ کہا ہے کیا. مجھے بتاؤ شاباش اگر کسی نے کچھ بھی بولا ہے تو.”
مِنہا کا چہرا ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے ہشام فکرمندی سے بولا.
ہشام کی اتنی فکر پر مِنہا کا دل چاہا تھا اپنی ساری اذیت ہشام کو بتا دے مگر رفیق نیازی کی دی گئی ایک ایک دھمکی یاد آتے ہی مِنہا خود کو ایک بار پھر روک گئی تھی. کبھی جھوٹ نہ بولنے والی لڑکی آج اپنے پیار کی خاطر ایک بات چھپانے کے لیے جھوٹ پر جھوٹ بولے جارہی تھی.
” نہیں کسی نے کچھ نہیں کہا مجھے. یہاں تو سب اتنے اچھے اتنے پیارے ہیں. یہ تو خوشی کے آنسو ہیں. اتنا سب کچھ پاکر سب لوگوں کی اپنے لیے محبت دیکھ کر آنکھیں نم ہوگئیں.”
مِنہا نے ہونٹوں پر مُسکان سجاتے ہشام کو مطمئن کرنا چاہا تھا. مگر پہلے کی طرح اِس بار وہ شاید ہشام کی تسلی کرنے میں ناکام رہی تھی. ہشام کی چھٹی حس کچھ گڑبڑ ہونے کا الارم دے رہی تھی. مِنہا کی بے چینی کچھ دنوں سے تو وہ نوٹ کر ہی رہا تھا. مگر اِس طرح آنکھوں میں ہلکورے لیتا خوف اور بار آنکھیں نم ہوجانا یہ سب چیزیں ہشام کو کسی اور جانب ہی اشارہ کررہی تھیں. لیکن اِس بارے میں مِنہا سے پوچھنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں تھا. کیونکہ اگر اُس نے اتنے اعتماد سے جھوٹ بول دیا تھا تو اِس کا مطلب تھا کہ وہ اُسے کچھ نہ بتانے کا ارادہ کرچکی تھی.
” لیکن مجھے کسی بھی کنڈیشن میں اِن آنکھوں میں آنسو منظور نہیں ہیں. چاہے خوشی کے ہوں یا غم کے. “
ہشام نے اُس کے آنسو صاف کرتے نرمی سے تنبہیہ کی تھی. اور مِنہا کے ماتھے پر ہونٹ رکھتے ڈریسنگ روم کی جانب بڑھ گیا تھا.
” آپ کہیں جارہے ہیں کیا. “
ہشام کو وردی پہنے کہیں جانے کے لیے بلکل تیار دیکھ مِنہا حیرانی سے اُس کے قریب آئی تھی. اُس کی آنکھوں کے ساتھ ساتھ چہرے پر بھی اُداسی چھا گئی تھی. یہی تو کچھ لمحے تھے اُس کے پاس ہشام کے ساتھ گزارنے کے. مگر اُس کو یوں کہیں جاتا دیکھ مِنہا کا دل بوجھل ہوا تھا.
” میں آج اتنے خوشیوں بھرے وقت میں بلکل بھی نہ جاتا لیکن ایک بہت امپورٹینٹ کام آگیا جسے پورا کرنا میرے لیے بہت زیادہ ضروری ہے. مگر بس آج کے لیے اپنے اِس پیارے سے چہرے پر اپنی میٹھی سی مسکان سجا کر مجھے رخصت کرو. وعدہ کرتا ہوں میں تم سے. بہت جلد اپنا کام نبٹا کر تمہارے پاس موجود ہوں گا. “
ہشام جھک کر مِنہا کی ٹھوڑی پر اپنا لمس چھوڑتا باہر نکل گیا تھا.
مِنہا نے آنکھوں میں ویرانی بھرے ہشام کو خود سے دور جاتے دیکھا تھا. شاید ہمیشہ ہمیشہ کے لیے.
مِنہا اپنے اردگرد پھیلی ہشام کی خوشبو کو اپنی سانسوں میں بساتی اپنے دل کی طرح اِس کمرے کے خالی پن پر پھیکا سا مُسکرا دی تھی.
اُس کی پوری رات آنکھوں میں کٹی تھی. ہشام کے ساتھ گزارا ایک ایک لمحہ کسی فلم کی طرح اُس کی آنکھوں کے سامنے چلتا رہا تھا. جنہیں یاد کرکے کبھی وہ رو دیتی کبھی ہنس دیتی.
مِنہا مزید نجانے کتنی دیر ایسے ہی ہشام کے خیالوں میں کھوئی رہتی جب اذان کی آواز پر ہوش کی دنیا میں لوٹتے وہ سیدھی ہوئی تھی. اور وضو کرنے واش روم کی جانب بڑھ گئی تھی. اِس بات پر ایمان رکھتے کہ اُوپر بیٹھا اُس کا رب بہت ہی غفورورحیم ہے. وہ اُس کی مدد ضرور کرے گا. اور اِس مشکل گھڑی میں اُسے تنہا بلکل نہیں چھوڑے گا.
مِنہا ﷲ کے حضور سجدہ ریز ہوتے پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی. اور کسی ضدی بچے کی طرح اپنے آگے کی زندگی کے لیے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہشام کا ساتھ مانگنے لگی تھی. جیسے جانتی ہو کہ اُس کا مہربان رب اُس کی دعا آج بلکل بھی رد نہیں کرے گا.
” چلو ہمیں ابھی اِسی وقت نکلنا ہے.”
مِنہا جو نماز پڑھ کر جائے نماز فولڈ کررہی تھی. فائقہ عجلت میں اُس کے روم میں داخل ہوتی اُس سے مخاطب ہوئی تھی.
” مگر ابھی اِس وقت. اتنی جلدی.”
مِنہا گھڑی کی جانب دیکھتے بولی. جہاں ابھی صرف پانچ ہی بجے تھے.
” ہاں اُس رفیق نیازی کا فون آیا ہے. وہ ابھی بلا رہا ہے. اور اگر گھر والوں میں سے کوئی بھی اُٹھ گیا تو ہمارا یہاں سے نکلنا بہت مشکل ہوجائے گا. اب اگر تم زیادہ باتیں بنانے کے بجائے یہاں سے نکلو گی تو زیادہ بہتر ہوگا.”
فائقہ مِنہا کو مزید کچھ بھی بولنے کا موقع دیے بغیر اُس کا ہاتھ پکڑتی وہاں سے نکل آئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
فائقہ رفیق نیازی کی بتائی گئی لوکیشن پر مِنہا کو لے آئی تھی. جہاں رفیق تو نہیں مگر اُس کے آدمی اور کسی نیوز چینل کے لوگ موجود تھے. جنہوں نے مِنہا کا بیان ریکارڈ کرنا تھا.
مِنہا اپنے دل کا خون کرتی اُن لوگوں کی بتائی گئی باتیں جو کہ ہشام کے بلکل خلاف تھیں کیمرے کے سامنے بولنا شروع ہوچکی تھیں.
جن کے مطابق ہشام نے اُسے اتنے وقت سے اپنے طاقت کے زور پر زبردستی اپنے پاس رکھا ہوا تھا. اور نکاح بھی اُس کے بہت انکار پر ڈرا دھمکا کر کیا تھا. اِسی طرح کی اور بھی بہت سی باتیں اُن لوگوں کی ہدایت پر وہ کیمرے کے آگے کہتی گئی تھی. مگر بریک اُسے اُس وقت لگی جب اُس سے یہ کہنے کو کہا گیا کہ اُس کا نکاح پہلے ہی رفیق نیازی سے ہوچکا ہے. ہشام گردیزی نے اُس سے نکاح پر نکاح کیا ہے.
” نہیں میں یہ نہیں بولوں گی. میرا رفیق نیازی سے نکاح نہیں ہوا. میں تو اُس سے آج تک ایک بار بھی نہیں ملی. یہ سب بہت غلط ہے. “
مِنہا نفی میں سر ہلاتے کیمرے کے آگے سے ہٹ گئی تھی.
” جھوٹ مت بولو. میں سب جانتی ہوں تمہارا نکاح ہوچکا ہے رفیق نیازی سے. تمہارا ہشام سے کیا گیا نکاح ناجائز ہے. اب سیدھی طرح جو کہا جارہا ہے وہ بولو. ورنہ اِن کو دیکھ رہی ہو. کچھ ہی دیر میں یہ خود ہی تم سے سارا سچ اُگلوا لیں گے.”
فائقہ ہتھیاروں سے لیس رفیق نیازی کے آدمیوں کی جانب اشارہ کرتے بولی.
” بکواس بند کرو تم اپنی. ہشام کے ساتھ میرا نکاح میرا ہر رشتہ جائز ہے. ایس پی ہشام گردیزی ہی میرا شوہر ہے. میں نہیں جانتی کسی رفیق نیازی کو. “
مِنہا اپنے اور ہشام کے رشتے کے بارے میں کچھ غلط نہیں سن اور بول پائی تھی. اِس لیے فائقہ کو شہرباد نگاہوں سے گھورتے چلائی تھی.
” نہیں جانا تو اب جان لو. جاننے میں کتنا ٹائم لگتا ہے مسز ہشام گردیزی. کیا ہوا جو پہلے میرا تم سے نکاح نہیں ہوا اب کرلیتے ہیں ہم نکاح. اِس سب میں اتنا غصہ کرنے والی کیا بات ہے.”
رفیق نیازی کی آواز پر سب کی نظریں ہال کے دروازے کی جانب اُٹھی تھیں. جہاں سے وہ کمینگی بھری مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے اندر داخل ہورہا تھا.
مِنہا نے نفرت بھری نظر اُس ادھیڑ عمر شخص پر ڈالی تھی. وہ اُس کے باپ سے بھی کافی بڑی عمر کا تھا.
” کچھ خدا کا خوف کرو گھٹیا انسان. تم جیسا بزدل اور بے ضمیر انسان میں نے آج تک نہیں دیکھا. زرا سی بھی غیرت اور شرم نہیں ہے تم میں. اگر تھوڑی سی بھی مردانگی ہوتی نا تم میں تو یو پیٹھ پیچھے وار کرکے میرے ساتھ مقابلہ کرنے کے بجائے سامنے سے آکر میرے شوہر کے ساتھ مقابلہ کرتے. مگر اتنی ہمت تم میں ہے کہاں. “
مِنہا میں اتنی ہمت نجانے کہاں سے آئی تھی کے بنا ڈرے بےخوفی سے وہ رفیق نیازی کو آئینہ دیکھا گئی تھی.
مِنہا کی بات سن کر رفیق کا چہرا غصے سے لال ہوا تھا. مگر اگلے ہی لمحے خود کو نارمل کرتے مِنہا کو گھٹیا انداز میں دیکھتے اُس کا قہقہ برآمد ہوا تھا.
” ہاہاہاہاہا میں نے تو سنا تھا کہ تم بہت ڈرپوک سی ہو. مگر دیکھ کر اچھا لگا کہ ہشام گردیزی نے تو تمہیں نہ صرف بولنا اور غصہ کرنا سیکھا دیا ہے بلکہ اچھا خاصہ بہادر بھی بنا دیا ہے. “
رفیق نیازی اپنی گندی نظریں مِنہا کے چہرے پر گاڑھے قریب آنے لگا تھا. فائقہ جو خاموشی سے اُن دونوں کی باتیں سن رہی تھی. رفیق نیازی کے انداز کو دیکھ کر اُسے بھی خوف آنے لگا تھا.
” میں وعدے کے مطابق اپنا کام کرچکی ہوں. اب میں چلتی ہوں. اور مجھے پوری اُمید ہے کہ تم بھی اپنا کہا نبھاؤ گے. “
فائقہ ایک نظر مِنہا اور دوسری رفیق پر ڈالتی وہاں سے جانے کے لیے باہر کی جانب بڑھی تھی. مگر اُس کے دروازے کے سامنے پہنچنے سے پہلے ہی رفیق نیازی کے اشارے پر آگے آکر اُس کے آدمی نے فائقہ کا راستہ روک دیا تھا.
” کیا بدتمیزی ہے یہ. ہٹوں میرے راستے سے. اپنے آدمی کو بولو مجھے جانے دے یہاں سے.”
فائقہ نے اُس آدمی کو اپنے آگے سے ہٹنے کا کہتے رفیق نیازی کی جانب دیکھا تھا مگر اُس کے چہرے پر موجود پراسرار سی مسکراہٹ دیکھ فائقہ کو اپنے گرد خطرے کی گھنٹی بجتی سنائی دی تھی.
” یہ بدتمیزی نہیں عقلمندی ہے. ایک کے ساتھ ایک لڑکی فری مل رہی ہے. کون بے وقوف بھلا اِس موقعے سے فائدہ نہیں اُٹھائے گا. اور لڑکیاں بھی دونوں وہ جن کا ہشام گردیزی سے قریبی رشتہ ہے. “
رفیق نیازی کا فلک شگاف قہقہ فائقہ کے پیروں تلے سے زمین کھینچ گیا تھا. اِس لمحے اپنی جان اور عزت کے چھن جانے کے خوف سے اُسے شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا. جو مِنہا کے لیے گڑھا کھودتے کھودتے خود بھی اُس میں آگری تھی.
مِنہا نے ساری بات سمجھتے ملامتی نظروں سے اُس بے وقوف لڑکی کی جانب دیکھا تھا. جو انتقام میں اتنی آندھی ہوگئی تھی کہ رفیق نیازی جیسے گھٹیا انسان پر بھروسہ کر بیٹھی تھی.
” تم اتنا بڑا دھوکہ نہیں کرسکتے میرے ساتھ.”
فائقہ اُس کے آدمی سے اپنا بازو چھڑواتی چلائی تھی.
” میں یہ دھوکہ کر چکا ہوں کیونکہ یہی میری فطرت بھی اور کام بھی. اب اپنی زبان بند رکھنا کیونکہ تمہارا زیادہ بولنا تمہارے لیے ہی نقصان کا باعث بن سکتا ہے.”
رفیق نیازی فائقہ کو قہر بھری نظروں سے کہتا سہمنے پر مجبور کرگیا تھا.
” تم میری بلبل کس انتظار میں کھڑی ہو. نہیں آنے والا تمہارا ہیرو آج تمہیں بچانے. جلدی سے اپنا بیان مکمل کرو. پھر نکاح ہے ہمارا. “
رفیق نیازی اب ایک بار پھر مِنہا کی جانب متوجہ ہوچکا تھا. اُس کی بات سن کر مِنہا نفی میں سر ہلاتی پیچھے کو ہوئی تھی.
” میرا نکاح ہوچکا ہے ہشام گردیزی سے. تم چاہے مجھے مار دو. مگر میں اتنا بڑا گناہ بلکل بھی نہیں ہونے دوں گی. “
مِنہا کے انکار پر رفیق نیازی اب آخر کار اپنے اصلی رُوپ میں آتے گھٹیا ارادے کے ساتھ مِنہا کی جانب بڑھا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
زیان عائلہ کو لیے ہاسپٹل پہنچ چکا تھا. جہاں زیان کی بلائی گئی نیورولوجسٹ اور سرجنز کی پوری ٹیم پہلے سے ہی پوری تیاری کے ساتھ موجود تھی. وہ لوگ عائلہ کی تمام رپورٹس دیکھنے کے بعد اور اُس کا کیس اچھی طرح سے سٹڈی کرنے کے بعد اِس فیصلے پر پہنچے تھے. کہ عائلہ کی فوری طور پر سرجری کر دی جائے. مزید دیر کرنا زیادہ خطرے کا باعث بن سکتا تھا.
مگر اِس سرجری سے پہلے کچھ ٹیسٹ کروانے ضروری تھے. جو کافی مشکل تھے جن کے بارے میں سنتے ہی عائلہ بُری طرح خوفزدہ ہوچکی تھی. جس میں سب سے زیادہ وہ ایم آر آئی ٹیسٹ سے ڈر چکی تھی. زیان کے اتنا سمجھانے کے باوجود بھی اُس کا ڈر ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا.
” میر پلیز مجھے نہیں کروانا یہ عجیب و غریب ٹیسٹ. یہ کیا ڈرامہ ہے. اِنہیں کہیں کرنی ہے تو صرف سرجری کریں. مجھے نہیں جانا اُس مشین کے اندر اگر میرا سانس بند ہوگیا اُس میں تو. پلیز میر تم بولو نا ڈاکٹرز کو یہ ٹیسٹ رہنے دیں. “
عائلہ زیان کو راضی کرنے کے لیے اور بھی نجانے کیا کیا بولے جارہی تھی. اُس کی آنکھوں سے جھلکتا بے پناہ خوف واضح دکھائی دے رہا تھا. زیان اُسے کتنی بار ریلیکس کرنے کے کوشش کرچکا تھا. مگر عائلہ اُس کی کوئی بات سننے کو تیار ہی نہیں تھی. اُس کی بس ایک ہی رٹ تھی مجھے کسی قیمت پر اِس مشین کے اندر نہیں جانا.
زیان کچھ لمحے بیڈ پر بیٹھ کر مسلسل بولتی عائلہ کی جانب دیکھتا رہا. اُسے چپ نہ ہوتے دیکھ اگلے ہی لمحے ذیان نے جھک کر عائلہ کے لگاتار چلتے ہونٹوں پر نرمی سے لب رکھتے اُسے اپنے طریقے سے خاموش کروا دیا تھا.
” ریلیکس مائی لو. “
زیان دھیمے لہجے میں اُس کے کان میں سرگوشی کرتے بولا.
عائلہ زیان کے پیچھے ہوتے ہی اپنی بات بھولتی شرم و حیا سے لال چہرے کے ساتھ ناراضگی کا اظہار کرتے اُس کے پاس سے اُٹھی تھی. مگر زیان نے اُس کی یہ کوشش بھی ناکام بناتے اُسے واپس اپنی جانب کھینچ لیا تھا.
” تمہیں مجھ پر کتنا ٹرسٹ ہے. “
زیان نے محبت سے عائلہ کو اپنی بانہوں میں بھرتے پوچھا تھا. زیان کی نظریں عائلہ کے صبیح چہرے پر پھسل رہی تھیں. جو بلیک ڈریس میں ملبوس مسلسل اُسکا ضبط آزمائے جارہی تھی.
” خود سے بھی کئی گنا زیادہ. “
عائلہ اُس کے حصار میں راحت محسوس کرتے اُس کی جانب دیکھتی جذب کے عالم میں بولی.
” تو تمہیں کیا لگتا ہے میں ایسی کسی بات کے لیے راضی ہوں گا. جو تمہارے لیے نقصان یا تکلیف کا باعث ہو. مجھ پر بھروسہ رکھو میری جان. اِس سے تمہیں زرا بھی تکلیف نہیں ہوگی.”
زیان نے اُس کی ہیزل گرین ڈری سہمی آنکھوں میں جھانکتے محبت بھرے پُر یقین لہجے میں کہا تھا.
” میر اُس کے اندر میرا دم تو نہیں گھٹے گا. تم میرے پاس رہو گے نا. “
عائلہ ایک پل بھی اپنی نظریں زیان کی نظروں سے ہٹانا نہیں چاہتی تھی. عائلہ کی بات پر زیان نے مُسکراتے اثبات میں سر ہلایا تھا.
” میں وعدہ کرچکا ہوں تم سے کچھ نہیں ہونے دوں گا تمہیں. اور ایک سیکنڈ سے بھی تمہارے پاس سے نہیں ہٹوں گا. اگر مجھ پر ہوتا تو میں اُس مشین میں تمہارے ساتھ چلا جاتا. “
زیان کی شرارتی لہجے میں کہی آخری بات عائلہ کے چہرے پر بھی مُسکراہٹ بکھیر گئی تھی.
” پرامس کرو میر اُس روم میں میرے ساتھ موجود رہو گے. “
عائلہ نے اپنی نازک ہتھیلی زیان کے سامنے پھیلائی تھی. جسے بہت ہی پیار سے تھامتے زیان نے اُسے چوم لیا تھا.
زیان خود بھی اندر سے بہت زیادہ خوفزدہ تھا. عائلہ سے زیادہ اُس کی فکر میں زیان کی حالت خراب ہورہی تھی. مگر وہ اُس کے سامنے مضبوط بنا ہر طرح سے اُسے سنبھالے ہوئے تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
گردیزی ولا میں ہمیشہ کی طرح ایک خوبصورت صبح کا آغاز ہوا تھا. مگر وہ حسین خوشیوں بھری صبح پریشانی اور فکرمندی میں اُس وقت بدلی تھی. جب سب نے گھر سے مِنہا کو گمشدہ پایا تھا.
ایک اُمید کے تحت ہشام کو کال ملائی گئی تھی کہ شاید مِنہا ہشام کے ساتھ ہو. مگر ہشام اپنے آدمی کی خبر پر پہلے ہی اِس قیامت خیز خبر سے آگاہ ہوچکا تھا. اُسے اپنا کل والا شک بلکل ٹھیک ہوتا محسوس ہوا تھا. مِنہا کوئی بہت بڑی بے وقوفی کر چکی تھی. وہ کل رات سے رفیق نیازی کے خلاف ایک ایسے آپریشن میں مصروف تھا. جس سے اُسے نیازی کی خلاف بہت اہم ثبوت ملے تھے. جن کے ذریعے سے وہ آسانی سے اب اُسے قانون کے دائرے میں رہ کر گرفتار کرسکتا تھا. اور اُس کے تمام گناہوں کی سزا بھی دلوا سکتا تھا. مگر رفیق نیازی گرفتار ہونے سے پہلے ہی بہت بڑا گناہ کر چکا تھا. جس کی وجہ سے اب وہ کی صورت ہشام کے قہر سے نہیں بچ سکتا تھا.
ہشام کو شک تو پہلے سے ہی تھا. جس کی وجہ سے مِنہا کی مزید سیکیورٹی کی خاطر ہشام نے اُسے کل رات جو بریسلٹ پہنایا تھا. وہ کوئی عام بریسلٹ نہیں تھا. بلکہ اس میں ایک چِپ لگی ہوئی تھی. جس سے ہشام آسانی سے مِنہا تک پہنچ سکتا تھا.
مگر اِس وقت ہشام جس قدر مِنہا پر غصے میں تھا شاید اُتنا رفیق نیازی پر بھی نہیں تھا. مِنہا کے نزدیک اُس کی اتنی اہمیت بھی نہیں تھی. زرا سا اعتبار بھی نہیں تھا کہ وہ اُس سے یہ بات شیئر کرسکتی. ہشام نے ریزرو طبیعت کے مالک انسان ہونے کے باوجود بھی اپنے مزاج کے خلاف جاکر مِنہا کو بارہاں اپنے ہونے کا احساس دلایا تھا. اُسے ہر مشکل گھڑی میں ساتھ کھڑے رہنے کا یقین دلایا تھا. مگر مِنہا اُس کے پیار اور محبت کو ایک طرف کرتی اُسے بُری طرح ہرٹ کرنے کے ساتھ ساتھ اُس کے سب گھر والوں کے سامنے بھی شرمندہ کرکے جاچکی تھی.
ہشام گھر والوں کی کال آنے سے پہلے ہی مِنہا کے گھر سے نکل جانے کے بارے میں باخبر تھا. رفیق نیازی کے خاص آدمیوں میں سے ایک شخص ہشام کا مخبر تھا. جو اُسے ساری بات بتا چکا تھا. کہ کِس طرح رفیق نیازی نے مِنہا کو بلیک میل کیا تھا. اور فائقہ نے کیسے رفیق نیازی کا ساتھ دیتے مِنہا کو گردیزی ولا سے نکال کر اُس تک پہنچایا تھا. رفیق نیازی نے یہ کام اتنے خفیہ انداز میں کیا تھا کہ اِس کی خبر اُس کے خاص آدمیوں کو بھی نہیں ہو پائی تھی.
ہشام کے مخبر نے جیسے ہی رفیق نیازی کے ساتھ اُس کے ٹھکانے پر قدم رکھا تھا وہاں مِنہا کو دیکھ اور رفیق نیازی کے فخریا انداز میں بتائی جانے والی ساری سچائی جان کر اُس نے فوراً ہشام کو اطلاع دے دی تھی.
ہشام یہ جان لیوا خبر سنتے ہی فوراً مِنہا کی طرف روانہ ہوچکا تھا. بے انتہا غصہ ہونے باوجود بھی ہشام کو مِنہا کی فکر میں اپنی جان نکلتی محسوس ہورہی تھی. وہ فوراً سے پہلے خطرے میں موجود اپنی زندگی کے پاس پہنچ جانا چاہتا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
عائلہ کا ایم آر آئی ٹیسٹ سٹارٹ کیا جاچکا تھا. اُن کے گھر والے بھی وہاں پہنچ چکے تھے. زیان عائلہ سے وعدے کے مطابق اُسی روم میں عائلہ سے کچھ فاصلے پر موجود تھا.
جیسے جیسے عائلہ کو اندر لے جایا جارہا تھا. زیان کو لگا رہا تھا کہ اُس کا دل جیسے کوئی زور سے اپنی مُٹھی میں لے کر مسل رہا ہو.
عائلہ کے آنکھوں سے اوجھل ہوتے ہی زیان نے دونوں ہاتھوں کی مُٹھیاں بھینچے لی تھیں. اُس کا دل عائلہ کی صحت یابی کے لیے دعا گو تھا. وہ جلد از جلد عائلہ کو اِس ساری تکلیف سے باہر دیکھنا چاہتا تھا. وہ وہاں کھڑا اِس وقت خود کو بہت ہی بے بس فیل کررہا تھا. عائلہ کو کچھ لمحوں کے لیے ہی سہی مگر خود سے دور جاتا دیکھ زیان کو عائلہ کے لیے اپنی محبت کی شدتوں میں اضافہ ہوتا محسوس ہورہا تھا. جو اُسے یہ بات باور کروا رہی تھیں. کہ اِس لڑکی کے بغیر اب اُس کا ایک پل بھی گزارا ممکن نہیں تھا.
آخر کار پورے 30 منٹ کے جان لیوا عذاب کے بعد عائلہ کو واپس باہر لایا گیا تھا. ایم آر آئی مشین سے باہر نکلتے ہی عائلہ نے سب سے پہلے زیان کا نام پکارا تھا. جسے سنتے کچھ ہی فاصلے پر کھڑے زیان حیدر نے بنا ایک سیکنڈ کی بھی دیر کیے عائلہ کے آنکھیں کھولنے سے پہلے ہی اُس کا ہاتھ تھام لیا تھا.
وہاں کھڑے ڈاکٹرز اِس کپل کی اتنی محبت پر مُسکرائے بنا نہ رہ سکے تھے.
زیان عائلہ کو بہت ہی نرمی سے اپنی بانہوں میں اُٹھاتے اُس کے روم کی جانب لے آیا تھا.
” دیکھو کتنی جلدی اور آرام سے یہ ٹیسٹ ہوگیا. تم ایسے ہی اتنا ڈر رہی تھی. اب دیکھنا اِس سے بھی کہیں زیادہ اچھے سے تمہاری سرجری بھی ہوجائے گی. اور تمہیں پتا بھی نہیں چلے گا. “
زیان عائلہ کو اُس کے پرائیویٹ روم میں لاکر بیڈ پر لیٹاتے بولا. عائلہ زیان کی جانب دیکھ کر دلکشی سے مُسکرائی تھی.
” میر تھینکیو سو مچ. “
عائلہ کی بات پر زیان نے سوالیہ نظروں سے اُسے گھورتے پوچھا.
” میر میں نے اُس مشین کے اندر جاتے ہی تمہارے بارے میں سوچنا شروع کردیا. اور میں تمہارے خیالوں میں اِس قدر کھو گئی کہ مجھے پتا ہی نہیں چلا یہ ٹائم کیسے گزر گیا. “
زیان کے ہونٹوں پر عائلہ کی بات سن کر ایک جاندار مسکراہٹ بکھر گئی تھی.
” لو یو سو مچ مائی لو. “
عائلہ کی معصومیت سے کہی بات زیان کے دل کو چھو گئی تھی. جس پر زیان نے جھک کر اُس کا ماتھا چوم لیا تھا.
اُسی لمحے ڈور ناک ہوا تھا. زیان کے یس بولتے ہی فاریہ کے پیچھے باقی سب بھی اندر داخل ہوئے تھے. گردیزی ولا سے ابھی تک کوئی بھی نہیں آیا تھا. احتشام نے کال کرکے زیان کو مِنہا کی گمشدگی کا بتا دیا تھا. زیان نے عائلہ کے کتنی بار مِنہا کے نہ آنے کے بارے میں پوچھا بھی تھا. مگر زیان نے اُسے اصل بات نہیں بتائی تھی. وہ عائلہ کو سرجری سے پہلے کسی قسم کی کوئی ذہنی ٹینشن نہیں دینا چاہتا تھا.
” بھئی ہمیں بھی تھوڑا سا ٹائم دے دو. ہماری بھابھی کے ساتھ سپینڈ کرنے کا. تم نے تو بلکل ہی میری دوست پر اپنا قبضہ جما لیا ہے. “
فاریہ عائلہ کے پاس آتے زیان کو چھیڑتے ہوئے بولی. اُس کی بات پر زیان سمیت وہاں موجود سب افراد کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی.
” ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق مجھے سرجری سے پہلے اپنی بیوی کو تم جیسی خوفناک چیزوں سے دور رکھنا ہے.”
زیان کے جواب پر فاریہ کی اپنی ہنسی نکل گئی تھی. مگر اُس کے باوجود اُس نے زیان کو مصنوعی گھوری سے ضرور نوازا تھا.
اکرام صاحب کچھ فاصلے پر کھڑے اپنی بیٹی کی جانب دیکھتے اُس کی صحت یابی کیلئے دعاگو تھے.
زیان اور فاریہ کی باتوں پر مُسکراتے عائلہ کی نظر اکرام صاحب پر پڑی تھی. اور ہمیشہ کی طرح آج بھی اُس کے دل میں یہ حسرت ہی رہی تھی کہ اُس کے ڈیڈ اُس کے پاس آکر اُس کا ماتھا چوم کر اُسے حوصلہ دیں گے. سب کچھ ٹھیک ہوجانے کا یقین دلائیں گے. مگر ہمیشہ کی طرح اِس بار بھی وہ اُس کے دل کی بات نہیں سمجھ پائے تھے.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” دور رہو مجھ سے خبردار جو قریب آنے کی کوشش کی تو. “
مِنہا رفیق نیازی کو اپنے قریب آتا دیکھ وارنگ دیتے پیچھے کی جانب ہٹی تھی.
” ہاہاہاہاہا مسز ہشام گردیزی اتنی ہمت ہے اگر تو روک کے دیکھاؤ. “
رفیق نیازی قہقہ لگاتے مِنہا کی کلائی اپنی وحشیانہ گرفت میں لیتے اُسے کھینچتے ہوئے کیمرے کے پاس لے گیا تھا.
” بیان دے اِس پے. جو کہا ہے میں نے تجھ سے. بہت دیر سے برداشت کررہا ہوں تیرا یہ ناٹک.”
رفیق نیازی نے جس بُری طرح سے مِنہا کی کلائی کو دبوچا ہوا تھا اُسے محسوس ہوا تھا جیسے اُس کی کلائی ٹوٹ چکی ہو. وہ مر کے بھی نکاح پر نکاح والا اتنا بڑا گناہ نہیں کرسکتی تھی. اِس لمحے مِنہا کے دل نے شدت سے ہشام کو پُکارا تھا. جو اُس کا مجازی خدا ہونے کے ساتھ ساتھ ہمیشہ اُس کا محافظ رہا تھا.
” نہیں بولوں گی. مزید کوئی جھوٹ نہیں بولوں گی. پہلے بھی جو بولا تھا وہ صرف اور صرف جھوٹ اور بکواس تھا. “
مِنہا نے اُس کی بات کے جواب میں اُتنے ہی زور سے چیختے سامنے پڑے کیمرے کو لات رسید کرتے دور اُچھال دیا تھا.
مِنہا کی اِس حرکت پر رفیق نیازی غصے سے آگ بگولا ہوتے اِس سے پہلے کے کوئی گھٹیا حرکت کرتا باہر سے آتی آوازوں اور دروازہ کھول کر بھاگ کر آتے اپنے آدمی کو دیکھ وہ کچھ گڑبڑ ہونے کے احساس سے اُس کی جانب متوجہ ہوا تھا.
” سر ایس پی ہشام گردیزی نے بھاری مقدار میں پولیس نفری کے ساتھ یہاں پر ریڈ کر دی ہے. باہر موجود ہمارے سارے آدمی مارے جا چکے ہیں. وہ لوگ کسی بھی لمحے اندر پہنچ سکتے ہیں.”
وہ آدمی جس تیزی سے آیا تھا. اپنی بات ختم کرتے اُسی تیزی سے واپس چلا گیا تھا.
اُس کی بات سنتے منہا کے ساتھ ساتھ فائقہ بھی پرسکون ہوئی تھی کہ اگر ہشام گردیزی یہاں آچکا تھا تو اب کوئی اُن کا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا تھا.
” دیکھ لو آگیا میرا ہیرو مجھے بچانے اب تم اپنی خیر مناؤ. عورتوں کے آگے تو اپنی مردانگی کا زعم دیکھاتے بہت اُچھل رہے تھے. اب اگر ہمت ہے تو مقابلہ کرکے دیکھاؤ. “
مِنہا آنکھوں میں نفرت لیے رفیق نیازی کے مکروہ چہرے کی جانب دیکھتی زہر خند لہجے میں بولی.
” مقابلہ چاہے نہ کر سکوں اُس سے مگر تم لوگوں کو تو اُس کے حوالے بلکل بھی نہیں کروں گا. “
رفیق نیازی نے اپنے آدمی کو فائقہ کو بھی پچھلے دروازے کی طرف سے باہر لے جانے کا اشارہ کرتے مِنہا کو قابو کرنا چاہا تھا. مگر مِنہا ایک زور دار ٹانگ اُس کے پیٹ پر رسید کرتے اپنی کلائی اُس کے بازو سے چھڑاتی پیچھے ہٹی تھی.
مِنہا کی حرکت پر قہر برساتی نظروں سے اُس کی جانب دیکھتے اُس کے بھاگنے سے پہلے ہی وہ مِنہا کے سر پر اپنی رائفل کی پشت مارتے اُسے بے ہوش کر چکا تھا. مِنہا اپنا درد سے پھٹتا سر پکڑتی زمین بوس ہوئی تھی. یہی وہ لمحہ تھا جب ہشام نے وہاں قدم رکھا تھا. اور رفیق نیازی کی حرکت اُس کے اشتعال اور غصے میں مزید اضافہ کر گئی تھی.
ہشام نے فائقہ کو لے کر پچھلے گیٹ کی جانب بڑھتے شخص کی دونوں ٹانگوں پر فائر کرتے اُسے وہی روک دیا تھا.
” کمینے انسان میں نے کہا تھا تم سے میری بیوی کو نقصان پہنچانے کی کوشش مت کرنا. مگر لگتا ہے تمہیں اپنی کچھ دنوں کی آزادی بھی منظور نہیں تھی. قانون تو تمہیں سزا دے گا ہی سہی مگر اُس سے پہلے جو عبرت ناک سزا میں تجھے دوں گا وہ آخری سانس تک نہیں بھولے گا تو. “
ہشام نے فرار ہونے کی کوشش کرتے رفیق نیازی کو گریبان سے دبوچتے ایک زور دار پنچ اُس کے منہ پر رسید کیا تھا. جو اُس کا جبڑا ہلانے کے ساتھ ساتھ اُس کے آگے کے دانت بھی ہوا میں اچھالنے کا باعث بنا تھا. اور اُس کے بعد تو حقیقت میں ہشام رفیق نیازی پر قہر بن کر ٹوٹا تھا. اور اُس کو بُری طرح پیٹتے لہولہان کر ڈالا تھا. جس ہاتھ سے رفیق نیازی نے مِنہا پر وار کیا تھا. وہ اب ہشام کے تشدد کے بعد بے جان ہوتا اُس کے وجود کے ساتھ لٹک کر رہ گیا تھا. فائقہ نے زمین پر گری مِنہا کا سر اپنی گود میں رکھتے اُس کا گال تھپتھپا کر ہوش میں لانے کی کوشش کی تھی.
ندامت کے احساس سے فائقہ کا سر بلکل جھک چکا تھا. وہ ہشام سے نظریں ملانے کے قابل بھی نہیں رہی تھی.
ہشام اچھی طرح اپنے اندر کی بھڑاس نکالنے کے بعد اُسے اپنے پیچھے موجود اہلکاروں کے حوالے کرتا فکرمندی سے بے سُدھ پڑی مِنہا کی جانب بڑھا تھا.
” ﷲ کا شکر مناؤ کے تم گردیزی خاندان کی بیٹی ہو ورنہ تمہاری اِس حرکت کے بعد میں تمہارا جو حال کرتا اُس کے بارے میں تم سوچ بھی نہیں سکتی. میری بیوی کو نقصان پہنچانے کی جو کوشش تم نے کی ہے اُس کی معافی تو تمہیں کسی صورت نہیں ملے گی.”
ہشام مِنہا کو بہت ہی احتیاط سے فائقہ کی گرفت سے لیتے اُس کو نفرت اور حقارت آمیز نظروں سے دیکھتے وہاں سے نکل گیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
عائلہ کو آئی سی یو میں لے جایا جا چکا تھا. زیان دروازے کے باہر ہی کھڑا بے چینی سے دروازے پر موجود چھوٹی سی کھڑکی پر نظریں گاڑھے ہوئے تھی.
ڈاکٹرز کے مطابق وہ برر ہول ڈرینج سرجری کے تھرو عائلہ کا بلڈ کلاٹ ختم کرنے والے تھے. جس میں ایوریج ٹائم 5 سے 6 گھنٹے لگ سکتے تھے. زیان کافی دیر وہاں کھڑا رہنے کے بعد بنا کسی سے کچھ بولے ہاسپٹل سے نکل آیا تھا. اُس کا رُخ مسجد کی طرف تھا.
زیان عائلہ اور سب گھر والوں کے سامنے بہت مضبوط بنا رہا تھا. اپنی تکلیف سب کے سامنے بہت مشکل سے دل کے اندر ہی چھپا رکھی تھی. مگر اُس کا ضبط اُس وقت ٹوٹا تھا. جب سرجری سے پہلے اُس سے کچھ پپپرز سائن کروائے گئے تھے. جس پر لکھے گئے لفظ پڑھتے زیان کو اپنا دل پھٹتا محسوس ہوا تھا.
وہاں صاف لفظوں میں لکھا گیا تھا کہ عائلہ کہ پاس سروائیول کے چانسز بہت کم ہیں. اگر سرجری کے دوران اُس کی جان جاتی ہے یا اُس کے علاوہ اُسے کوئی ذہنی یا جسمانی ڈِس ایبیلٹی ہوتی ہے تو اِس کے ذمہ دار ڈاکٹرز اور ہاسپٹل کی انتظامیہ نہیں ہوگی. پہلے تو عائلہ کے حوالے سے اتنے سنگدلی سے لکھے الفاظ دیکھ کر ہی زیان ڈاکٹرز پر پھٹ پڑا تھا کہ سرجری سے پہلے ہی آپ لوگ یہ بکواس کیسے لکھ سکتے ہیں. مگر زیان کے وہاں موجود دوست جو اُس ٹیم کا حصہ تھے کے سمجھانے پر جاکر کہیں زیان کچھ نارمل ہوا تھا. اور دل پر پتھر رکھتے پیپرز سائن کر دیئے تھے.
زیان مسجد میں آکر عائلہ کی صحت یابی کیلئے اپنے رب کے آگے سجدے میں گرتے رو پڑا تھا.
وہ لڑکی جس کے ساتھ اُس کی کہانی نفرت سے شروع ہوئی تھی. جسے نجانے کتنی بار دھتکارتا رہا تھا. جو اُس کی محبت میں بہت وقت تک تڑپتی رہی تھی. آج میر زیان حیدر اُسی لڑکی کی محبت میں اپنی ساری انا اکڑ بھول چکا تھا. اُسے یاد تھا تو صرف یہ کہ وہ عائلہ سے بے انتہا پیار کرتا ہے. عائلہ کو خود سے دور نہ جانے دینے کی خاطر وہ مضبوط اعصاب کا مالک شخص آج سجدے میں گرا بچوں کی طرح رو دیا تھا. اُسے کسی حال میں بھی اپنی زندگی میر کی عائلہ سہی سلامت چاہئے تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
گردیزی ولا میں ہر شخص مِنہا اور ہشام کی سلامتی کے لیے دعاگو تھا. سب کی نظریں بے چینی سے فون پر ٹکی ہوئی تھیں. شائستہ بیگم کا دل روتے ہوئے اپنے بیٹے کے ساتھ ساتھ بہو کی خیریت کے لیے بھی ﷲ کے حضور سجدہ ریز تھا. جو اُن کے بیٹے کی خوشی اور سکون کا باعث تھی.
گھر کا ہر فرد اپنی اپنی جگہ خاموش اور بہت سی سوچوں میں گِھرا ہوا تھا. جن میں سب سے بڑا سوال مِنہا کا اِس طرح گھر سے باہر نکلنا تھا. مگر ہر سوچ کو پس پشت ڈالے سب لوگ بس یہی چاہتے تھے کہ ہشام اور مِنہا صحیح سلامت گھر پہنچ جائیں. سائرہ بیگم اور واسع بھی وہاں ہی موجود تھے. وہ سب مِنہا کی پریشانی میں فائقہ کی غیر موجودگی نوٹ ہی نہیں کر پائے تھے. سائرہ بیگم کے ایک دو بار پوچھنے پر صبا نے فائقہ کے پڑھائے گئے سبق کے مطابق جھوٹ بول دیا تھا کہ اُس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے وہ اُوپر روم میں آرام کر رہی ہے. اِسی جھوٹ کی وجہ سے اب صبا دوہری ٹینشن کا شکار تھی. وہ کئی بار اُس کا فون ٹرائے کر چکی تھی. مگر اُس کا فون مسلسل آف جارہا تھا.
” مبارک ہو سب کو. ہشام اور مِنہا بھابھی دونوں بلکل ٹھیک ہیں. اور کچھ ہی دیر میں گھر پہنچنے والے ہیں.”
ولید نے ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے سب کو جیسے زندگی کی نوید سنا دی تھی.
وہاں موجود ہر چہرے پر رونق بکھر گئی تھی.
کچھ ہی دیر بعد ہشام مِنہا کو بانہوں میں اُٹھائے اندر داخل ہوا تھا. سب لوگ ایک پل کے لیے مِنہا کو بے ہوش دیکھ کر ڈر گئے تھے. مگر ہشام اُن سب کو تسلی دیتا اپنے روم کی جانب بڑھ گیا تھا. اصل جھٹکا تو سب گھر والوں کو ہشام کے پیچھے سر جھکائے اندر داخل ہوتی فائقہ کو دیکھ کر لگا تھا.
” فائقہ بیٹا کیا ہوا تمہیں. “
سائرہ بیگم اپنی بیٹی کی قابلے رحم حالت دیکھ آگے بڑھی تھیں. اُنہوں نے فائقہ کا ہاتھ تھامنا چاہا تھا مگر وہ سیدھی اُن کے قدموں میں جاگری تھی.
” مما مجھے معاف کر دیں. میں بہت بُری ہوں. بہت بڑا گناہ کیا ہے میں نے. اگر ہشام ٹائم پر نہ آتے تو نجانے کیا ہو جاتا. میں اتنی گھٹیا کیسے ہوسکتی ہوں بھلا. مجھے گھن آرہی ہے اپنے آپ سے. ایک لڑکی ہوکر میں دوسری لڑکی کے ساتھ غلط کیسے کر سکتی ہوں. “
فائقہ سائرہ بیگم کے قدموں سے اُٹھ کر سلمان صاحب کے قدموں میں گرتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی.
” بیٹا یہ کیا کررہی ہیں آپ. اُوپر اٹھیں. اور میری طرف دیکھ کر بتائیں مجھے کیا کیا ہے آپ نے. “
سلمان صاحب فائقہ کو کندھوں سے تھام کر اپنے سامنے کھڑا کرتے فکرمندی سے بولے.
سب گھروالے فائقہ کی حالت پر حیران پریشان کھڑے تھے.
سلمان صاحب کے پوچھنے پر فائقہ نے روتے ہوئے آنسوؤں کے درمیان ساری سچائی سب گھر والوں کے آگے رکھ دی تھی.
اُس کی ساری بات سنتے جہاں سلمان صاحب اُس کے کندھوں سے ہاتھ ہٹاتے دور ہوئے تھے وہیں سائرہ بیگم دکھ , غصے اور شرمندگی کے احساس کے تحت فائقہ کی جانب بڑھی تھیں. اور پے در پے تھپڑوں سے اُس کا چہرا لال کر دیا تھا.
” بے شرم لڑکی تمہیں زرا شرم نہیں آئی یہ سب کرتے ہوئے. تھوڑا سا ہی خیال کر لیتی اپنی ماں باپ کی عزت کا. مجھے شرم آرہی ہے کہ تم میری بیٹی ہو. میں نے تمہاری ایسی تربیت تو نہیں کی تھی. کہ تم اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے اِس حد تک گر جاؤ.
اِتنے کونسے ظلم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے تم پر کہ تم اپنے سگے ماموں کا گھر برباد کرنے چلی تھی. تم نے جس کو مروانا چاہا جس کی بیوی اُس کی عزت کو خراب کرنا چاہا آج وہی تمہاری عزت بچا کر تمہیں یہاں لے آیا ہے. شرم سے ڈوب مرنا چاہیئے تمہیں. “
سائرہ بیگم کا بس نہیں چل رہا تھا کہ فائقہ کو اپنے ہاتھوں سے گلا دبا کر مار دیں. جس نے اُنہیں کہیں منہ دیکھانے قابل نہیں چھوڑا تھا.
سب لوگ بنا کچھ بولے فائقہ پر تُرحم آمیز نظر ڈالتے ہشام کے روم کی جانب بڑھ گئے تھے.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
مِنہا نے ہوش میں آتے کسمسا کر آنکھیں کھول دی تھیں. اُس کا سر بُری طرح دُکھ رہا تھا. کچھ دیر غائب دماغی سے اردگرد کا جائزہ لیتے آہستہ آہستہ مِنہا کے حواس بیدار ہوئے تھے. مکمل طور پر ہوش میں آتے ہی مِنہا نے پریشانی کے عالم میں اردگرد کا جائزہ لیا تھا.
خود کو سہی سلامت بیڈ پر ہشام کے کمرے میں ہی لیٹا پاکر مِنہا نے بے تاب نظروں سے ہشام کو ڈھونڈنا چاہا تھا. مگر وہاں ہشام کے علاوہ سب گھر والوں موجود تھے. ہشام کو وہاں نہ پاکر مِنہا کی پریشانی میں مزید اضافہ ہوا تھا. اُسے اتنا تو یاد تھا کہ ہشام وہاں اُسے بچانے کے لیے آیا تھا.
تو اب کہاں تھا ہشام وہ ٹھیک بھی تھا یا کہیں اُس رفیق نیازی نے ہشام کو نقصان تو نہیں پہنچا دیا تھا. اِس سوچ کے آتے ہی مِنہا نے فوراً اپنی جگہ سے اُٹھنا چاہا تھا. مگر دماغ میں اُٹھنے والی درد کی شدید ٹیسوں نے اُسے ایسا کرنے ہی نہیں دیا تھا.
” بیٹا آپ لیٹی رہو آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے.”
مِنہا کو اپنی جگہ سے اُٹھنے کی کوشش کرتے دیکھ شائستہ بیگم اور امبر فوراً اُس کے قریب آئی تھیں.
” آنٹی ہشام کہاں ہیں. وہ ٹھیک ہیں نا. پلیز مجھے ابھی اُن سے ملنا ہے. پلیز اُن کو بلوا دیں. “
مِنہا آنکھوں میں آنسو بھرے ملتجی لہجے میں بولی. جب کے اُس کی بات پر شائستہ بیگم فوراً نظریں چُرا گئی تھیں.
” مِنہا بیٹا آپ آرام کرو. آپ کو چوٹ لگی ہے آپ کو آرام کی ضرورت ہے. ہشام بلکل ٹھیک ہے. ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی آپ کی جانب سے تسلی کرکے وہ پولیس اسٹیشن گیا ہے.”
شائستہ بیگم کے بجائے سلمان صاحب نہایت ہی نرمی سے مِنہا کو اُس کی بات کا جواب دیتے وہاں سے نکل گئے تھے. مِنہا شائستہ بیگم کا نظریں چُرانا محسوس کر چکی تھی.
مگر بنا اور کوئی سوال کیے اُس نے تکیے کے سہارے اُٹھ کر بیٹھتے بھیگی آنکھوں کے ساتھ سب کے آگے ہاتھ جوڑ دیئے تھے.
” آنٹی پلیز آپ سب لوگ مجھے معاف کردیں. میں نے آپ سب کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے. آپ لوگوں نے مجھے اتنا پیار دیا کھلے دل سے قبول کیا اور میں نے آپ لوگوں کو بنا بتائے اتنا بڑا قدم اُٹھا لیا. مگر میں مجبور تھی. مجھے بہت زیادہ دھمکیاں دی گئی تھیں کہ اگر میں نے ہشام یا کسی کو بھی کچھ بتایا تو وہ ہشام سمیت اُن کی پوری فیملی کو نقصان پہنچائیں گے.
میں بہت پیار کرتی ہوں ہشام سے آپ سب سے. میں اپنی وجہ سے کسی کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی تھی. اِس لیے میں نے اتنا بڑا قدم اُٹھایا. پلیز آپ سب مجھے معاف کردیں.”
مِنہا اُن سب کے سامنے ہاتھ جوڑے روتے ہوئے ہچکیوں کے درمیان بولتی سب کے دلوں میں موجود معمولی سی بدگمانی بھی دور کر گئی تھی.
شائستہ بیگم نے اُس کا ہاتھ تھامتے اُسے اپنے سینے سے لگا لیا تھا. عالیہ بیگم بھی اُس کا کندھا سہلاتے پاس آکھڑی ہوئی تھیں.
” بیٹا ہم سب سمجھ رہے ہیں کہ تم اُس وقت کیسی سچویشن کا شکار تھی. ہم میں سے کوئی بھی تم سے ناراض نہیں ہے. مگر میں ماں ہونے کی حیثیت سے تمہیں یہ سمجھانا چاہتی ہوں کہ آگے چاہے زندگی میں کیسا بھی موڑ آئے مشکل سے مشکل گھڑی کیوں نہ ہو. اپنے شوہر سے کبھی کچھ مت چھپانا. اُسے کبھی بے اعتبار مت کرنا. تم آج کے واقعہ کے بعد اتنا تو جان گئی ہوگی کہ ہشام سے اتنی بڑی بات چھپانا تمہیں کتنے بڑے خطرے سے دوچار کرسکتا تھا. مجھے امید ہے اِس واقعہ سے سبق سیکھتے تم آگے ایسی کوئی غلطی نہیں دہراؤں گی. ہشام تم سے بہت پیار کرتا ہے. تم پر بہت بھروسہ کرتا ہے. مگر اُس سے اتنی بڑی بات چھپا کر , بغیر بتائے اتنا بڑا قدم اُٹھا کر تم نے اُس کو بہت ٹھیس پہنچائی ہے.”
شائستہ بیگم کی بات پر مِنہا نے سر اُٹھا کر اُن کی جانب دیکھا تھا.
مِنہا ہشام کو یہاں موجود نہ پاکر ہی اُس کی ناراضگی سمجھ گئی تھی. مگر شائستہ بیگم کی باتیں اُسے مزید ندامت کی جانب دھکیل گئی تھیں.
وہ تو ہشام پر خود سے بھی زیادہ بھروسہ کرتی تھی. لیکن شاید اُس نے اپنی اِس حرکت سے ہشام کو اُس کے گھر والوں کے سامنے بہت شرمندہ اور ہرٹ کردیا تھا.
مِنہا کو تو اِس وقت بھی ہشام کی اتنی فراخ دلی پر حیرت ہورہی تھی. کوئی شخص اتنا اچھا کیسے ہوسکتا تھا مِنہا کی اتنی غلط حرکت کے باوجود بھی اُسے اُتنی ہی عزت اور احترام کے ساتھ اپنے گھر لے آیا تھا.
مِنہا کو تو لگ رہا تھا کہ وہ اِس حرکت کے بعد شاید اب کبھی مِنہا کی شکل دیکھنا بھی پسند نہ کرے. اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خود سے جدا نہ کر دے.
مگر خود کو ہشام کے کمرے میں پاکر اُس کے دماغ سے بہت سارے خدشے نکل چکے تھے.
” کیا ہشام مجھ سے بہت زیادہ ناراض ہیں. بہت غصے میں بھی ہوں گے نا وہ. “
شائستہ بیگم اُس سے پیار کرتیں, مزید کچھ باتیں کرکے اُس کو آرام کرنے کا کہتیں عالیہ بیگم کے ساتھ باہر نکل گئی تھیں.
اب مِنہا کے پاس صرف ہشام کی کزنز ہی رہ گئی تھیں. اِس لیے مِنہا نے کب سے ہونٹوں پر اُمڈ آتی بات آخر کار پوچھ ہی لی تھی.
” بہت زیادہ غصے میں تھے. اتنا غصے میں ہم نے اُنہیں پہلے کبھی نہیں دیکھا. مگر غصے میں ہونے کے باوجود آپکی بے ہوشی سے پریشان تھے لیکن جیسے ہی ڈاکٹر نے بتایا کہ آپ بلکل ٹھیک ہیں اور آپ کو کچھ دیر میں ہوش آجائے گا. وہ کسی کام کا کہتے فوراً گھر سے نکل گئے. ہشام بھائی بلاوجہ ناراض نہیں ہوتے لیکن اگر ناراض ہوجائیں تو اُن کو منانا بہت مشکل ہے. “
رمشا مِنہا کو تفصیل سے جواب دیتے بولی. اور ساتھ ہی مِنہا کی پریشانی میں مزید اضافہ کر گئی تھی.
” رمشا بھابھی پہلے ہی پریشان ہیں تم اُنہیں مزید ڈرا رہی ہو. بھابھی ہشام بھائی آپ سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں. آپ فکر مت کریں زیادہ دیر ناراض نہیں رہیں گے آپ سے. “
بسمہ رمشا کو ٹوکتے ہو?
