Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz Readelle50262 Tera Ishq Jaan Lewa (Episode 20) Last Episode
Rate this Novel
Tera Ishq Jaan Lewa (Episode 20) Last Episode
Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz
امجد دونوں کو ہنستا دیکھ کر ہکا بکا تھا جو اب امجد کو دیکھ رہے تھے۔
“لگتا ہے بھائی امجد کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان اسکی حیران پریشان شکل دیکھ کر محفوظ ہو رہا تھا۔
“بات بھی تو پریشانی والی ہے نہ سلیمان،میری بیوی اور میرا بھائی اس شاہانہ نامی چڑیل کے قبضے میں ہیں اور میں یہاں بیٹھا ہنس رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل کے لب و لہجے سے چھلکتی شرارت صاف محسوس کی جا سکتی تھی۔
“مطلب کہ سب کچھ آپ کے علم میں تھا بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”امجد جیسے کسی نتیجے پر پہنچا تھا۔
“بھائی کا ہی آئیڈیا تھا میں تو خواہ مخواہ لوگوں کی نظروں میں بدنام ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان نے امجد کو جتایا جو جز بز ہو گیا۔
“اب مجھے کیا پتہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”امجد نے صفائی دی۔
“اوکے بوائز اب میرے خیال میں اس ڈرامے کا ڈراپ سین ہو جانا چاہئیے کیونکہ میں نے سنا ہے کہ حیدر کا دماغ کام کر گیا ہے اور اس نے میری بیوی کو بتا دیا ہے جو مجھ سے ناراض ہو چکی ہے اگر میں نے ایک دن اور لیٹ کیا تو وہ مجھے دیکھنا ہی چھوڑ دے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل جو فاریسہ کے کلپ میں لگے وائس ٹریکر سے سب سن چکا تھا اب کچھ بے چین نظر آ رہا تھا امجد اور سلیمان نے بے ساختہ اپنی مسکراہٹ چھپائی تھی کہ سب کو ڈرا کر رکھنے والا آج اپنی بیوی کی ناراضگی سے ڈر رہا تھا۔
“سلیمان مسکراؤ مت ورنہ میں ہر چیز تم پر ڈالتا خود صاف بچ نکلونگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل اسے مسکراتا دیکھ کر گھورنے لگا اسکی بات پر سلیمان کے لب سکڑے تھے کیونکہ اسے پتہ تھا وہ ایسا کر بھی سکتا تھا آخر برزل ابراہیم کے سامنے سلیمان کی سنتا بھی کون تھا اسکا سگا باپ تک نہیں۔
“چلو اب جو کہا ہے اس پر عمل کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل کہتا ہوا اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔
!____________________________!
“ہانیہ آپ یہاں کیسے آئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر کے سوال پر ہانیہ نے ایک نظر اسے دیکھا جس کی آنکھوں میں محبت اور احترام کی روشنی صاف نظر آ رہی تھی وہ فاریسہ کی طرف دیکھنے لگی جیسے چاہ رہی ہو کہ وہ ہی جواب دے کیونکہ وہ رات کو فاریسہ کو سب بتا چکی تھی۔
“حیدر یہ اکیلی نہیں بلکہ سب لڑکیاں یہاں ہیں جو اس سہارا فاؤنڈیشن میں تھیں،جیسا کہ تم مجھے بتا چکے ہو کہ تم بھی وہاں اسی وجہ سے گئے تھے کہ وہ لوگ بے سہارا عورتوں کو سہارا دے کر پھر انکو یہاں تک لاتے ہیں اور پھر انکو آگے بیچ دیتے ہیں،کس قدر ظالم لوگ ہیں خدا کا قہر ٹوٹے گا ان پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فاریسہ تو رات سے ایسے ایسے انکشافات سن اور دیکھ رہی تھی کہ وہ ہل کر رہ گئی تھی کہ وہ کس دنیا میں آج تک جیتی آئی تھی کہ باہر کی دنیا میں ہونے والے مظالم وہ جان ہی نہ پائی تھی۔
“اور عروج،اسکا کیا ہوا،وہ کہاں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اب کی پھر سے حیدر نے ہانیہ کی طرف دیکھ کر سوال کیا۔
“آپ کیسے جانتے ہیں اسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ہانیہ کے یوں براہ راست کیے جانے والے سوال پر وہ دو پل کو چپ ہوا تھا پھر کہہ اٹھا۔
“کیونکہ میں صدف بن کر کافی دن تم لوگوں کے ساتھ رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر نے اسے سچائی بتانے کا سوچ لیا تھا کیونکہ وہ اسے اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا تھا تو سب سچ بتا کر ہی وہ ایسا کرنا چاہتا تھا۔
ہانیہ منہ کھولے ہکا بکا اسے دیکھ رہی تھی اب اسے پتہ لگا تھا کہ وہ حیدر کو دیکھ یہی سوچتی تھی کہ اسے کہیں دیکھا ہے اب حقیقت اس کے سامنے کھلی تھی۔
“کیا،آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ صدمے میں تھی کہ کس قدر وہ ان کے جذبات کے ساتھ کھیلتا انکو بیوقوف بناتا رہا تھا۔
“ہاں میں ہی وہ روپ لیے ہوئے تھا اگر یقین نہیں تو بھابھی سے پوچھ لیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اب کہ حیدر نے اسکی توجہ خاموش بیٹھی ہانیہ کے تاثرات کا جائزہ لیتی فاریسہ کی طرف اشارہ کیا تھا۔
“آپ نے اتنا بڑا دھوکہ دیا ہمیں،ہمارے جذبات کے ساتھ کھیلے آپ،کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
“یہ جو سہارا فاؤنڈیشن نے آپ لوگوں کو دھوکہ دیا اس کے مقابلے میں تو میں کچھ بھی نہ تھا اور دوسری بات میرا مقصد میری نیت غلط نہیں تھی بلکہ سہارا فاؤنڈیشن کا اصلی گھناؤنا چہرہ سب کے سامنے لانا تھا تا کہ آئندہ سے آپ جیسی کوئی ہانیہ کوئی عروج ان کے ہتھے نہ چڑھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر نے کمال مہارت سے ہانیہ کا غصہ کم کیا تھا۔
“ہاں ہانیہ،حیدر تو وہ روپ نہیں لینا چاہتا تھا مگر میرے شوہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فاریسہ کی زبان سے نکلنے لگا مگر اسے یاد آیا کہ وہ تو ناراض تھی اس لیے بات پلٹ دی۔
“حیدر کے بھائی نے مجبور کیا تھا،اور مجھے بھی یہ سب رات کو ہی پتہ لگا ورنہ میں بھی اس سب سے لا علم تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اصل میں برزل بھائی ایک سیکرٹ ایجنٹ کے طور پر کام کرتے ہیں وہ ان لوگوں تک پہنچنا چاہتے تھے جن جن کا ان کرائمز میں ہاتھ تھا،ہمیں بھی وہی اور تمہیں بتانے کا یہ مقصد ہے کہ تم اب ہماری فیملی کا حصہ بننے جا رہی ہو اور تمہیں سب پتہ ہونا چایئیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ہانیہ جو بڑے دھیان اور نرمی سے سب سن رہی تھی اس کی آخری بات پر چونکی تھی۔
“یہاں سے نکلتے ہی میں تمہیں اپنی دیورانی بنانے والی ہوں کیونکہ تم نہ صرف حیدر کی پسند ہو بلکہ مجھے بھی بہت اچھی لگی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فاریسہ کو یہ بھول گیا تھا کہ وہ لوگ اغوا ہوئے تھے کسی کی قید میں تھے۔
“یہ سچویشن یہ جگہ ایسی تو نہیں ہے مگر میں وہ پہلا لڑکا ہونگا جو یوں اس طرح کے حالات میں اپنی بھابھی کے سامنے کسی کو پرپوز کر رہا ہوں پر میں آج موقع نہیں گنوانا چاہتا ہوں،میں تمہارے بارے تمہارے ماضی کے بارے سب کچھ جانتا ہوں اور آج کے بعد تم میرے منہ سے تمہارے ماضی کے بارے کبھی کوئی سوال کوئی بات نہیں سنو گی،میں پوری عزت اور دل کی رضامندی کے ساتھ تمہیں اپنانا چاہتا ہوں کیا تمہیں میرا ساتھ قبول ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر ایک جذب سے کہہ رہا تھا اور ہانیہ ساکت سی ٹک ٹک اسے دیکھی جا رہی تھی جتنا کچھ وہ کر چکی تھی اس کے بعد اس طرح کا صلہ یا معافی وہ تصور بھی نہ کر سکی تھی کیا اللہ یوں بھی معاف کر دیتا ہے۔
“میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کچھ کہنا چاہتی تھی مگر حیدر نے اسکا ہاتھ پکڑتے ہوئے اسے بولنے سے روک دیا تھا۔
“تم ہاں ناں کا آپشن رکھتی ہو مگر پلیز ایک دفعہ مجھ پر اعتبار کر کے دیکھ لو میں کبھی بھی تمہارا اعتبار ٹوٹنے نہیں دونگا،محبت سے پہلے عزت کا رشتہ قائم کرونگا،چاہو تو مجھ سے کوئی گارنٹی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“نہیں مجھے آپکی آنکھوں سے چھلکتی محبت سے زیادہ کسی گارنٹی کی ضرورت نہیں ہے،میں اس قابل تو نہیں تھی کہ اللہ مجھ پر یوں کرم کرتے مگر وہ بہت بے نیاز ہے،اپنے بندے سے اتنی محبت کرتا ہے کہ اسکی ہر خطا معاف کر دیتا ہے،آپ میرے اللہ کی طرف سے انعام ہیں مجھے قبول ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ہانیہ کے لبوں سے نکلتے الفاظ حیدر کے ساتھ ساتھ فاریسہ کو بھی خوشی سے نہال کر گئے۔
“بہت شکریہ،مجھے میری محبت کو قبول کرنے کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اسکا ہاتھ ہلکے سے دباتا وہ اٹھ کھڑا ہوا جبکہ فاریسہ نے بے اختیار ہانیہ کو اپنے ساتھ لگایا تھا۔
!____________________________!
برزل ابراہیم جس نے سارا پلان صرف نینا کی وجہ سے کیا تھا جس آدمی کے ساتھ اس نے نینا کو پانچ سال پہلے دیکھا تھا اسی آدمی کے ساتھ شاہانہ کو دیکھنے پر وہ سلیمان کو اس لڑکی کے پاس بھیجنے پر مجبور ہوا تھا جو کہ برزل ابراہیم کو دو دفعہ کلب میں مل چکی تھی اور برزل کے ساتھ کی بھی خواہش مند تھی مگر جب برزل نے اسے دھتکارا تو سلیمان کو شاہانہ کے قریب ہونے کا موقع مل گیا پھر سلیمان نے خود کو برزل کا دشمن ظاہر کیا جو اس سے بدلہ لے رہا تھا اور اپنی نفرت کا اظہار کرکے اسے یقین دلانے کے لیے وہ شاہانہ کو برزل کے وہ سیکرٹ اوپن کرنے لگا جو برزل چاہتا تھا کہ انکو پتہ چلے۔
سلیمان چاہتا تھا کہ شاہانہ اسے اس آدمی تک لے جائے جو ان کو نینا تک لے جائے گا مگر سلیمان صرف یہ جان سکا تھا کہ نینا ابھی بھی اس آدمی کے پاس ہے مگر یہ نہیں کہ کہاں اور یہ کہاں’معلوم کرنے کے لیے آخرکار برزل کو ایک بڑا فیصلہ لینا پڑا اور وہ تھا فاریسہ کو وہاں تک بھیجنا مگر وہ اکیلی فاریسہ کو بھیج کر کوئی رسک نہیں لینا چاہتا تھا اس لیے سلیمان کے زریعے وہ شاہانہ تک یہ بات پہنچانے میں کامیاب ہوا تھا کہ حیدر کو اغوا کرنے میں بھی شاہانہ کو فائدہ تھا کہ برزل اسکی ہر بات مان لے گا یہاں تک کہ اس سے شادی بھی کر سکتا تھا۔
“تم جانتے ہو نہ کہ کیا کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس ویران علاقعے میں پہنچ کر برزل نے ایک بار پھر سلیمان کو کچھ باور کروایا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ ان کی زرا سی کوتاہی حیدر،فاریسہ اور نینا کے لیے کسی پریشانی کا باعث بنے۔
“بھائی آپ فکر نہ کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان نے یقین دہانی کروائی اور پراعتماد انداز میں چلتا اندر کی طرف بڑھ گیا جبکہ برزل اپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ اسکے سگنل کا انتظار کرنے لگا۔
سلیمان کو دیکھ کر وہاں موجود گارڈز نے شاہانہ کو بلایا تھا جو سلیمان کو سامنے پا کر مسکرائی تھی۔
“آؤ،آؤ،تمہارا ہی انتظار تھا،آج برزل ابراہیم کو سپرائز دینے کا دن ہے جو تمہارے بغیر ممکمن نہیں تھا…………”
“مگر میں سب سے پہلے حیدر کو اپنا اصلی چہرہ دکھا کر دھچکا دینا چاہتا ہوں تا کہ اسے پتہ چلے کہ مجھ پر روب چلانے کا وہ کتنا برا انجام دیکھے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس وقت شاہانہ کو وہی نفرت اسکی آنکھوں میں نظر آئی جسے وہ دو سالوں سے دیکھتی آ رہی تھی۔
“کیوں نہیں،آؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسے اپنے ساتھ لیے تہہ خانے کی سیڑھیاں اترنے لگی سلیمان نے اپنے ٹائی پن پر لگا کیمرہ اچھی طرح فوکس کیا تا کہ باہر بیٹھا برزل سب دیکھ سکے۔
“سلیمان بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر اسے دیکھ کر خوشگوار لہجے میں بولتا اٹھا تھا فاریسہ اور ہانیہ(جسے وہ سب بتا چکے تھے)وہ بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔
“شاہانہ تم نہیں جانتی کہ تم نے مجھے کتنی بڑی خوشی دی ہے ان کو اس قید میں رکھ کر،اب برزل ابراہیم سے سارے حساب بے باق کرنے کا ٹائم آ گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان کے الفاظ تینوں کو ساکت کر گئے حیدر نے اپنے دماغ کو ہلا کر اسے اپنے ٹھکانے پر لایا اور غور سے سلیمان کی طرف دیکھا جس کی شرٹ پر لگا ٹائی پن اسے بہت کچھ سمجھا چکا تھا کیونکہ ایسا پن ان دونوں کے پاس تھا جو برزل نے ہی دیا تھا حیدر جیسے ریلیکس ہوا تھا مگر فاریسہ تو سلیمان کی شکل میں دکھائی دیتی امید کا سرا ہاتھ سے نکلنے پر آبدیدہ سی ہو گئ۔
“بھائی آپ یہ کیسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اوہ مائے سویٹ انوسینٹ بھابھی،آپکو ابھی میرا پتہ ہی نہیں کہ میں کیا کیا کچھ کر چکا ہوں اور کرنے والا ہوں،وہ آپکا شوہر جو مجھ پر بہت اعتبار کرتا ہے مجھے اپنا رائٹ ہینڈ سمجھتا ہے اسے یہ نہیں معلوم کہ میں اسے کیسا سپرائز دینے والا ہوں،تم دونوں سے نبٹنے کے بعد اسکی باری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان کے لہجے میں نفرت درشتگی اور کھٹیلا پن صاف نظر آ رہا تھا۔
“شاہانہ ڈارلنگ چلو چلتے ہیں ان کے لیے اتنا ہی دھچکا کافی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ شاہانہ کا ہاتھ پکڑ کر چلا گیا تو فاریسہ کے کب سے رکے آنسو بے اختیار ہو گئے وہ سلیمان کے اس روپ پر ابھی تک بے یقین تھی۔
“بھابھی ریلکیس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر اسکے زرد رنگ کو دیکھ کر گھبرایا تھا۔
“آپ نے دیکھا،یہ وہ سلیمان بھائی تو نہ تھے،برزل نے کتنا یقین کیا ان پر وہ کیسے برداشت کریں گئے اتنی بڑی سچائی کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“یہ بھی آپکے شوہر کا کارنامہ ہے بھابھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر جو اتنے جھٹکوں پر خود حیران و پریشان تھا آخرکار جھنجھلا گیا۔
“کیا مطلب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“سلیمان بھائی آنسہ پھوپھو کے بیٹے ہیں،وہ ایسے کیسے کر سکتے ہیں یقیننا اس سب کے پیچھے بھی آپکے شوہر کا ہاتھ ہے ویسے بھی وہ بہت بڑے پلان میکر ہیں،آپکو نہیں پتہ وہ چٹکیوں میں کیا کیا کھیل کھیل جاتے ہیں کہ ہمارے جیسے معصوم دھچکوں کی زد میں ہی رہ جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر اب کے اپنا سارا غصہ نکال رہا تھا۔
“میں ان سے اب کبھی بات نہیں کرونگی،پہلے تو ہمیں یہاں پھنسایا اور اب سلیمان بھائی کو یہ سب کرنے لے لیے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ خود سے عہد کرتے ہوئے بول اٹھی اور حیدر بھی یہی چاہتا تھا کیونکہ وہ تو برزل سے کوئی بھی سوال جواب کرنے کی ہمت نہیں پاتا تھا بس فاریسہ کے زریعے ہی اپنا بھی بدلہ لینا چاہتا تھا۔
!_____________________________!
“بھائی میں چاروں تہہ خانوں میں دیکھ چکا ہوں نینا یہاں نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان جسکا مقصد ہی یہاں آنے کا یہ تھا وہ پن کیمرہ کے زریعے برزل سے بولا جو خود بھی سب دیکھ چکا تھا اب کچھ پریشان ہوا تھا صرف نینا کی وجہ سے تو وہ فاریسہ کو یہاں بھیجنے پر مجبور ہوا تھا۔
“پر حملہ تو کرنا پڑے گا،نہ صرف حیدر اور فاریسہ کے لیے بلکہ یہاں موجود ان پچاس لڑکیوں کے لیے بھی جو نجانے کب سے اس دلدل میں پھنسی ہوئی ہیں،تم ایسا کرو بس کسی طرح ان سب کے موبائل سروس کو ہیک کرو تا کہ باہر سے کوئی ہم پر حملہ نہ کر سکے باقی یہ شاہانہ اور اس کے بیس چیلے تو ہمارے دائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اوکے بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان کہتا ہوا وہی کرنے لگا جو برزل نے کہا تھا پھر اگلے بیس منٹ میں وہ سب کو اپنے قابو میں کر چکے تھے۔
“اوہ بلڈی باسٹرڈ،تو تم نے دھوکہ دیا ہمیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”شاہانہ سلیمان کو غصے سے دیکھتی چلائی تھی جس نے ایک جلی ہوئی مسکراہٹ اس پر پھینکی تھی۔
“تم جانتی ہو کہ میں کس کا بیٹا ہوں،اس کرنل رفیع کا جس کے ڈر سے پورا نائن گروپ کانپ رہا تھا جس نے برزل بھائی کو تم لوگوں کی تباہی کے لیے یہاں بھیج کر تم سب کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے،تو میں کیسے برزل بھائی کے خلاف اپنے بابا کے خلاف جا سکتا تھا. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اوہ تو تمہارا پلان تھا یہ مگر یہ سب کر کے بھی تم لوگ نائن گروپ کا کچھ نہیں بگاڑ پاؤ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“یہ تو اس بندے کی اگلی چال تک ہے،تمہارے اینڈ کے بعد وہ بندہ انہیں کا اینڈ کرنے والا ہے،شاید تم یہ نہیں جانتی کہ وہ بندہ کس شکل اور روپ سے نائن گروپ میں گھس چکا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان برزل ابراہیم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا جو سب لڑکیوں کو سپاہیوں کے ساتھ سیو جگہ پر پہنچا رہا تھا۔
“نینا تو پھر بھی نہیں ملے گی تم لوگوں کو،کیونکہ وہ یہاں نہیں ہے جہاں وہ ہے وہاں تک پہنچنا برزل ابراہیم کے لیے ناممکن ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اب کی بار وہ چلائی تھی جس پر برزل ابراہیم شان بے نیازی سے چلتا اس کے قریب آیا تھا۔
“اسکی فکر تم مت کرو،یہ غلط فہمی بھی میں ابھی پوری کر دونگا،تم بس اپنے انجام کی پرواہ کرو،سلیمان مجھے ایسے لوگ زمین پر چلتے پھرتے زرا اچھے نہیں لگتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“جی بھائی میں سمجھ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان اسکا اشارہ سمجھتا پسٹل نکال گیا برزل وہاں سے حیدر اور فاریسہ کے پاس آیا جو اس کی طرف دیکھنے سے بھی گریزاں تھے برزل کو یاد تھا جب وہ ان کو آزاد کروانے اس تہہ خانے میں گیا تھا تب بھی دونوں نے اس سے کوئی بات نہیں کی تھی اور خاموشی سے باہر چلے گئے تھے۔
“تم لوگ ٹھیک ہو نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ دونوں کی خاموشی پر کھلنے لگا تھا فاریسہ تو امجد کو چلنے کا اشارہ کرتی ہانیہ کو ساتھ لیے گاڑی میں جا بیٹھی تھی اور حیدر بھی فاریسہ کے ساتھ بیٹھ گیا وہ بھی فاریسہ کا ساتھ پا کر شیر بنا ہوا تھا اور دل ہی دل میں برزل کی بے بسی پر محفوظ ہو رہا تھا۔
“امجد تم ان کو گھر چھوڑ کر دوبارہ یہاں مت آنا،اوکے اب جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل امجد سے بولتا ہوا واپس پلٹ آیا جہاں سلیمان اسکا ہی منتظر تھا۔
“سب کا کام تمام کر دیا ہے مگر کسی کے منہ سے بھی نینا کے بارے ایک لفظ نہیں نکلا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”دو پل کو وہ رکا۔
“مگر جب اس آدمی کو پکڑا تھا تو اس نے یہی کا بتایا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان نے سوالیہ نگاہوں سے برزل کو دیکھا جو کچھ سوچ رہا تھا۔
“سر ہر جگہ دیکھ لیا ہے،اب اس بلڈنگ کو آگ لگا دوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”یاسر ان کے پاس چلا آیا۔
“ہاں لگانی تو آگ ہی ہے کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ نائن گروپ کو ابھی اس بات کی بھنک ہی پڑے کی کسی نے پلان کے طور پر یہ سب کیا ہے جب تک میرے ہاتھ انکی گردنوں تک نہ پہنچ جائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”۔
“اور نینا،اسکا کیا اب،اس فیلڈ میں آنے کی پہلی وجہ نینا دوسری وجہ نازر اعوان اور تیسری وجہ ملک دشمن عناصر تھے،آخری والی دونوں وجوں پر آپکو کامیابی ملی ہے مگر پہلی وجہ تو پھر وہی رہ گئی،جب تک نینا پاکستان میں ہے تب تک ہی ہمارے لیے آسانی ہے ورنہ تو ہم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“یو ڈونٹ وری سلیمان،نینا یہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سلیمان کو چونکاتا آگے بڑھنے لگا سلیمان اور یاسر بھی اس کے ساتھ آئے جو اندر آ کر شاہانہ کے موبائل سے چھیڑ چھانی کر رہا تھا پھر اگلے پانچ منٹ میں ہی اس نے سکرین سلیمان کے آگے کی جہاں ایک پیغام لکھا تھا۔
“سر نے کہا ہے ان پچاس لڑکیوں کو آج رات ہی آگے سپلائی کرنا ہے جبکہ وہ نینا نامی لڑکی سیدھی ہمارے پاس لائی جائے گی کیونکہ اس کا ریلیشن کرنل رفیع سے نکلا ہے اور وہ ہمارے بہت کام آنے والی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
“یہ،مطلب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان الجھا جس کی الجھن برزل نے دور کی۔
“یہ میسج آج صبح شاہانہ کو ریسیو ہوا مطلب یہ کہ اج رات ہی یہ سب ہونے والا تھا،تو پھر نینا یہی ہوئی نہ،جب شاہانہ اور اس کے باس کو معلوم ہوا کہ نینا کرنل رفیع کی بھانجی ہے تو انہوں نے شاہانہ کو اسے ان لڑکیوں سے الگ رکھنے کا کہا کیونکہ اب وہ ان کے لیے خاص مہرہ ثابت ہونے والی تھی تو خود سوچو کہ اگر یہ میسج شاہانہ کو آیا ہے تو شاہانہ کو پتہ تھا اسکا کہ وہ یہاں ہے مگر اس نے بتایا نہیں کیونکہ وہ یہ تو جانتی تھی کہ ہم اسے ہر حال میں مار دیں گئے اس لیے وہ ہمیں نہ بتا کر اپنی طرف سے ہم سے بدلہ لے گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مگر ہم نے تو کونہ کونہ چھان مارا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”یاسر نے لب کشائی کی۔
“وہ کونوں میں نہیں شاہانہ کی گاڑی کی ڈگی میں ملے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل کی بات پر دونوں حیران ہوئے۔
“میرا دماغ ہمیشہ دشمن سے ایک فٹ آگے چلتا ہے،جب ہم نے سلیمان کو اندر بھیجا تب شاہانہ کہیں جانے لگی تھی اس کی گاڑی ریڈی تھی مگر سلیمان نے اسے اپنی باتوں میں الجھا کر روک لیا تھا تو اس بات کا مطلب یہی کہ شاہانہ نینا کو ہی کہیں لےکر جانے والی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے کہتے ہوئے بلڈنگ سے باہر کھڑی تین گاڑیوں کی طرف بڑھے ایک گاڑی جو شاہانہ کے استمال میں تھی سلیمان اسے فورا پہچان گیا تھا برزل تب تک گاڑی کا لاک کھولنے میں کامیاب ہو چکا تھا ڈگی کو ان لاک کرتا وہ ڈگی کی طرف آیا اور وائٹ چادر میں بیہوش نینا ان کے سامنے تھی جسے دونوں فورًا پہچان چکے تھے۔
“نینی،نینی آنکھیں کھولو،میری جان دیکھو بھائی آ گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل اس کے گال تھپتھپاتا اسے ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگا مگر بے سود برزل نے اسکی کلائی پکڑ کر نبض چیک کی جو بہت آہستہ آہستہ چل رہی تھی۔
“میں اسے گھر لے کر جا رہا ہوں اسے ٹریٹمنٹ کی ضرورت ہے،تم لوگ اپنا کام کر لینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سلیمان سے کہتا نینی کے بیہوش وجود کو اپنی بانہوں میں بھرتا اپنی گاڑی کی طرف بڑھا تھا۔
!_______________________________!
وہ اسے سیدھا گھر لایا تھا مس زونا کو ڈاکٹر کو کال کرنے کا بول کر وہ اسے اپنے کمرے میں لایا تھا فاریسہ اور حیدر جو ہانیہ کو اسے دیے گئے ایک کمرے میں بیٹھے گپ شپ کر رہے تھے برزل کی آواز پر باہر نکلے تھے اور ایک وجود کو اٹھائے دیکھ کر اس کے پیچھے ہی لپکے تھے۔
“بھائی کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر بولتا اندر داخل ہوا تھا مگر جب اسکی نگاہ نیلے رنگ کے عام سے لباس میں ملبوس نینا پر پڑی تو اس کے باقی کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے تھے۔
“نینی،میری بہن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ خوشی سے اسکے قریب چلا آیا جو آنکھیں بند کیے ان سب چیزوں سے نا واقف تھی۔
“نینی مل گئی،شکر ہے میرے اللہ،نینی آنکھیں کھولو،کیا ہوا ہے اسے،بھائی یہ آنکھیں کیوں نہیں کھول رہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر نینا کو جھنجھورنے لگا تھا برزل حیدر کی کیفیت کا اندازہ کرتا اس کے قریب آیا۔
“وہ ابھی ہوش میں نہیں،ڈاکٹر آ رہا ہے،تم پریشان مت ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دی تھی فاریسہ اور ہانیہ یک ٹک اس بیس سالہ لڑکی کی طرف دیکھ رہے تھے جسکی شکل حیدر اور برزل سے ملتی جلتی تھی۔
ڈاکٹر نے چیک کرنے کے بعد بتایا کہ وہ زہنی پریشانی کی وجہ سے بیہوش ہوئی تھی اسے اب اچھی خوراک اور اچھے ماحول کی ضرورت تھی۔
“میرے خیال میں یہ تھوڑی دیر تک ہوش میں آ جائے گی،فاریسہ تم اور ہانیہ اس کے پاس ہی رہنا اور حیدر تم بھی،کیونکہ نینی کی دونوں بھابھیاں ابھی اس کے لیے انجان ہیں اس لیے یہ نہ ہو وہ ڈر جائے،تمہیں دیکھ کر وہ سب سمجھ جائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل کے نرم اور ہلکے پھلکے رویعے پر جہاں ہانیہ پرسکون ہوتی مسکرائی تھی وہی حیدر بے اختیار اس کے گلے لگا تھا۔
“تھینکیو سو مچ بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر کی آواز میں ہلکی سی نمی گھل گئی تھی برزل نے اسکی پشت تھپتھپا کر اس کا سر چوما تھا حیدر اور نینا کی شکل میں دو ہی تو اسکا خاندان تھے اب وہ فاریسہ کی طرف دیکھنے لگا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی مگر اس کے دیکھنے پر نظریں پھیر گئی برزل کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھو لیا۔
“میں آتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل حیدر سے کہتا چلا گیا۔
پھر جب نینا کو ہوش آیا تب ایک بار پھر جذباتی منظر دیکھنے کو ملا تھا وہ اپنے دونوں بھائیوں کو پا کر جہاں خوش ہوئی تھی وہی اپنے مما پاپا اور بڑی مما اور بڑے پاپا کی وفات پر دکھی بھی ہوئی تھی۔
“مجھے لگا میں اب کبھی بھی آپ سے مل نہیں پاؤنگی،میں نے اپنے مرنے کی بہت دعائیں کی،کئی دفعہ خودکشی کرنے کی کوشش بھی کی مگر ہر دفعہ بچ گئی اور اپنے بچ جانے پر مجھے رونا آتا تھا اب پتہ لگا کہ اللہ مجھے کیوں بچانا چاہتے تھے،صرف اپنے بھائیوں سے ملنے کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نینا نم لہجے میں بولی وہ برزل کے کندھے کے ساتھ لگی ہوئی تھی اور حیدر کا اس نے ہاتھ پکڑا ہوا تھا جبکہ سلیمان۔فاریسہ اور ہانیہ ان تینوں بہن بھائیوں کے ملن کو مسکرا کر دیکھ رہے تھے۔
“گزرے اذیت بھرے پل،وہ تکلیف زدہ باتیں تم اب سب کچھ بھول جاؤ کیونکہ اب تم اپنے گھر اپنے بھائیوں کے پاس ہو،اب میرا تم سے وعدہ ہے کہ میں تم تک کسی بھی تکلیف کو آنے نہیں دونگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے اسکی پیشانی پر بوسہ دیا جس پر وہ مسکرا دی۔
“ہمارا تعارف تو کروائیں سویٹ کزن سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان کی مسکراتی آواز پر نینا نے سلیمان کی طرف دیکھا تھا اور نہ جانے کیوں اسے دیکھنا اسے اچھا لگا تھا۔
“یہ آنسہ پھوپھو کے بیٹے ہیں سلیمان،تمہیں یاد تو ہوگا بچپن میں ہم انکے گھر بہت رہتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے مسکرا کر تعارف کروایا۔
“اور یہ فاریسہ بھابھی ہیں برزل بھائی کی زوجہ محترمہ اور یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اور یہ ہماری ہونے والی بھابھی مطلب کہ حیدر صاحب کی ہونے والی گھر والی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر کی بات کو سلیمان نے اچک لیا تھا جس پر سب مسکرائے تھے اور ہانیہ کے گال سرخ ہوئے تھے۔
“سر کھانا لگ چکا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مس زونا کی اطلاع پر سب نے سر ہلا کر آنے کا اشارہ کیا تھا۔
سلیمان کے نمبر پر پاپا کالنگ کے الفاظ چمکے تو وہ گہرا سانس بھرتا کال یس کرتا موبائل کان سے لگا گیا۔
“یہ کیا کرتے پھر رہے ہو تم لوگ،کیسے برزل نے یہ رسک لیا فاریسہ اور حیدر کو وہاں پہنچانے کا،اور بنا مجھ سے بات کیے تم لوگوں نے ان سب لوگوں کا صفایا کر دیا،کم از کم مجھے تو لا علم نہ رکھتے تا کہ خدا ناخواستہ اگر کچھ برا ہو جاتا تو میں کچھ کر لیتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”دوسری طرف سے کرنل رفیع کی غصے سے بھڑکیلی آواز اسکی سماعتوں سے ٹکڑائی تو اس نے برزل کو دیکھا جو اسکا اڑا رنگ دیکھ کر معاملہ سمجھ چکا تھا اور اب محفوظ ہوتا مسکرا رہا تھا۔
“پاپا میں نے کچھ نہیں کیا یہ سارا آپکے لاڈلے کا پلان تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان دونوں طرف سے پیس کر رہ جاتا تھا۔
“مجھے بتانے کو بھی کیا اس نے منع کیا تھا،حد ہے نالائقی کی،تمہاری ممی اور ریحان آ رہے ہیں نیکسٹ ویک تب آؤنگا میں،پھر تمہارے اور تمہارے اس فیورٹ بھائی کے کان کھینچونگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”کرنل رفیع نے کہہ کر کال بند کر دی تو سلیمان نے تشکر کا سانس لیا۔
“شکر ہے مما آ رہی ہیں وہ بچا لیں گی مجھے،ورنہ میں بھی سارا الزام ان کے لاڈلے پر ڈال دونگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان بڑ بڑایا اور ڈائینگ ٹیبل کی طرف بڑھتے ہوئے اسکی نظر حیدر کی کسی بات پر مسکراتی ہوئی نینا پر پڑی تو وہ دیکھتا رہ گیا جو فاریسہ کے گرین لباس میں بالوں کو کیچر میں مقید کیے بہت خوبصورت لگی تھی۔
“تو آخرکار میری تلاش بھی ختم ہوئی،مما آپ جلدی آئیں تا کہ اس نیک کام میں اور دیری نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان مسکراتے ہوئے دل ہی دل میں کہہ اٹھا۔
!______________________________!
برزل رفیع چاچو سے بات کر کے کمرے میں آیا تو فاریسہ کو سر تک کمبل میں لیٹے دیکھ کر حیران ہوا کہ دس منٹ پہلے جب وہ نینا کے پاس سے اٹھا تھا تب یہ سب اس کے کمرے میں تھے تو کیا دس منٹ میں ہی وہ کمرے میں آ کر سو چکی تھی۔
“اوہ تو محترمہ میری وجہ سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل کو سارے معاملے کی سمجھ آئی تھی وہ دیکھ رہا تھا کہ فاریسہ اس سے نہ بات کر رہی تھی نہ دیکھتی تھی اب بھی وہ برزل کے آنے سے پہلے سو جانا چاہتی تھی تا کہ اسے پتہ چل سکے کہ وہ اس سے بہت ناراض تھی۔
برزل نے دروازہ بند کیا اور موبائل ٹیبل پر رکھ کر جوتا اتار کر وہ اس کے ساتھ لیٹ گیا۔
“فاریسہ،کیا سو گئی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسکے ہلتے پاؤں کو دیکھتا ہوا بولا جس کی حرکت فورًا رکی تھی برزل مسکرا دیا پھر تھوڑا سا اسکے قریب ہوتا وہ اسی کمبل میں گھس گیا مگر فاریسہ نے کروٹ لے کر چہرہ دوسری طرف کر لیا۔
“اف بیوی کیا اب ناراض رہ کر جان لو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا جسے جھٹک دیا گیا تھا اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا وہ کچھ سوچنے لگا پھر شرارت سے اسکے بالوں کو ہاتھ میں لپیٹ کر اپنے لبوں سے لگایا مگر دوسری طرف کچھ اثر نہ ہوا۔
“برزل ابراہیم کاش بیوی کو منانے کے طریقے ہی پوچھ لیتے کسی سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بڑبڑایا پھر اسکی طرف کروٹ کر کے وہ اسکی قمر پر ہاتھ پھیرنے لگا جس سے دوسری طرف منہ کیے ہوئے فاریسہ دھک ہوئی اپنی قمر پر تھرکتی اسکی انگلیاں اسے عجیب سے احساس میں گرفتار کر گئیں اب وہ ہاتھ آہستہ آہستہ چلتا اس کے پیٹ پر آیا تھا اور یہی فاریسہ کی ہمت جواب دے گئی وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔
“شرم کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ دھک دھک کرتے دل کو سمبھالتی اسے بول گئی جو اپنی کامیابی پر مسکراتا ہوا اسے پیچھے سے گرفت میں لے چکا تھا۔
“میری جان ناراض ہے اور اسے منانے کے لیے اگر بے شرم بھی بننا پڑا تو بن جاؤنگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے کہتے ہوئے اسکے چہرے کے ساتھ چہرہ مس کیا تھا۔
“آپ بہت برے ہیں،آپ سے مجھے بات نہیں کرنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سخت خفا تھی برزل نے اسکا رخ اپنی طرف کیا۔
“میں جانتا ہوں میری جان اور تمہیں ناراض ہونے کا حق بھی ہے مگر پچھلے چار گھنٹوں سے جو تم مجھے اگنور کر رہی ہو بات نہیں کر رہی دیکھ نہیں رہی یہی سزا بہت ہے میرے لیے،اب چھوڑ دو یہ ناراضگی پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اسکے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں کے کر وہ التجائیہ لب و لہجے میں کہتا اسے پگھلا گیا مگر یاد آنے پر وہ بول اٹھی۔
“آپ نے مجھے کچھ بھی نہیں بتایا،یہ سب باتیں حیدر بھائی نے بتائیں کہ آپ اصل میں کیا کرتے ہیں،آپ مجھے اغوا کروانے سے پہلے مجھے بتا تو سکتے تھے نہ تا کہ مجھے تکلیف تو نہ ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس کے شکوے پر وہ شرمندہ ہوا۔
“ائم صوری میری جان مگر مجھے یہ سب نینا کو واپس لانے کی وجہ سے کرنا پڑا، اور جہاں تک تمہیں نہ بتانے کی بات ہے تو وہ میں کسی ٹائم کا انتظار کر رہا تھا مگر بتا نہیں سکا،بٹ آج سے پرامس میں اب کچھ بھی تم سے چھپاؤنگا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اسکا ہاتھ اپنے لبوں سے لگاتا وہ وعدہ کر رہا تھا اور فاریسہ جانتی تھی کہ برزل ابراہیم جھوٹا وعدہ نہیں کرتا تھا۔
“ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ مسکرا کر بولتی برزل کو ہلکا پھلکا کر گئی مگر اگلے لمحے ہی پھر سے ایک سوال پر برزل کو الجھا گئ۔
“وہ لڑکی کہتی تھی کہ وہ آپ سے شادی کر لے گی،کیا آپ اسے میری سوکن بنا دیتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ارے میں پاگل ہوں کہ ایسا کرونگا،تم سے محبت کرتا ہوں تم سے پہلے کسی کو نظر بھر کر نہیں دیکھا تمہارے ملنے کے بعد تو صرف تمہارا ہو کر رہ گیا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”محبت سے چور لہجہ تھا فاریسہ کے دل میں جیسے ٹھنڈی پھواڑ برسنے لگی۔
“اور مجھے یہ جان کر اچھا لگا کہ تم میرے لیے اتنی پوزیسو ہو،کیا اتنی محبت کرتی ہو مجھ سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل کے شرارتی سوال پر وہ جھینپی تھی۔
“بولو نہ،اتنا پیار کرتی ہو اپنے شوہر سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ہولے ہولے سے اسکا ہاتھ دباتا اسے بولنے پر اکسا رہا تھا جو سرخ ہوتی لب کاٹ رہی تھی۔
“بولو نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ہر بیوی اپنے شوہر سے پیار کرتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نپا تلا سا جواب تھا۔
“میں ہر بیوی کے بارے میں نہیں اپنی بیوی کے بارے میں پوچھ رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“میں بھی تو ایک بیوی ہوں نہ تو میں بھی تو اپنے شوہر سے کرونگی نہ پیار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اپنے انداز کے مطابق اظہار کر گئی برزل مسکراتا ہوا اسکی روشن پیشانی پر اپنے لب رکھ گیا۔
“اور ایسا اظہار میں روز سننا پسند کرونگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے اسے اپنے ساتھ لگایا تھا وہ ہلکا پھلکا ہو گیا تھا آج اسے اپنی زندگی کا سب سے بڑا وعدہ پورا کرنے کی خوشی بھی نینا کی شکل کی صورت میں مل چکی تھی۔
“نیکسٹ ویک ہمارے ولیمے کا گرینڈ ریسپیشن ہوگا اور ساتھ حیدر اور ہانیہ کا نکاح بھی،پھوپھو لوگ بھی آ رہے ہیں اب تمہارے پاس ایک ویک ہے تم نے ہانیہ اور نینی کے ساتھ مل کر اپنی بھی شاپنگ کرنی ہے اور انکی بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل اسے بتانے لگا جو سب سن کر خوش ہوئی تھی اور برزل بھی نائن گروپ کا کام تھوڑی دیر کے لیے ملتوی کر کے اپنی زندگی کو ٹائم دینا چاہ رہا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا اس کام میں اس کے تین ماہ تو لگ جانے تھے۔
“مجھے دلہن بننے کا بہت شوق ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اور مجھے ہر رات کو شادی کی رات بنانے کا بہت شوق ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل معنی خیزی سے کہتا اسے بیڈ پر لٹا چکا تھا۔
“یہ غلط ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فاریسہ نے اسکے سینے پر دونوں ہاتھ رکھ کر اسے کسی بھی پیش قدمی سے روکنے کی ہلکی سی کوشش کی تھی۔
“اور جو تم کر رہی ہو وہ ٹھیک ہے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے اسکے ہاتھ نرمی سے پیچھے کیے تھے اور اس کے چہرے پر جھکا جو اسکی قربت پر سرخ ہوتی اس کے سینے میں ہی پناہ ڈھونڈنے لگی تھی اور برزل نے مسکراتے ہوئے لیمپ کو آف کر دیا مگر انکی زندگی میں داخل ہوتی محبت کی روشنی ہر جگہ پھیل چکی تھی۔
!___ختم شدہ_______!
