Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz Readelle50262 Tera Ishq Jaan Lewa (Episode 11)
Rate this Novel
Tera Ishq Jaan Lewa (Episode 11)
Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz
حیدر جس راستے سے گیا تھا اُسی راستے سے واپس آ گیا تھا کہ کسی کو پتہ ہی نہیں چل سکا تھا کہ وہ اس فاونڈیشن میں تھا بھی کہ نہیں اور یہ سب ہانیہ کی مدد سے ہوا تھا جسکا وہ احسان مند تھا۔
“صدف،یہ کیا ہوا تمہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”عروج اور ہانیہ اسکی بگڑی شکل دیکھ کر چونکیں تھیں جس شکل کو وہ میک اپ کر کے کافی حد تک سنوار چُکا تھا۔
“گھر واپسی کا یہی انجام ہوتا ہے ہم جیسوں کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر اُن سے ہمدردی سمیٹنے لگا تھا۔
“دفعہ کرو تم سب کو،وہ اپنے ہی کیا جو یوں کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ہانیہ کو تکلیف ہوئی تھی۔
“دفعہ نہیں نہ کر سکتی میں،یہی تو ہوتا نہیں مجھ سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”صدف کی آنکھوں کے سامنے برزل ابراہیم کا غصیلا عکس لہرانے لگا۔
“اور اسی چیز کا وہ فائدہ اُٹھاتے ہیں،تم اپنی ماما سے مل آئی ہو نہ،باقیوں کو بھاڑ میں جھونکو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”عروج نے بھی اُسے تسلی دینے کی کوشش کی تھی۔
!________________________________________!
“تمہارا کام ہو گیا ہے اعوان،کل صبح تمہارا ملزم سلاخوں کے پیچھے ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رئیس کی کال اور بات نے جتنی خوشی نازر اعوان کو دی تھی وہ اُتنا ہی کھل کر ہنسا تھا جس پر مہ پارہ بیگم بھی چونک گئیں تھیں کیونکہ آجکل وہ نازر اعوان کو بس برزل ابراہیم سے انتقام کی آگ میں ہی جلتادیکھ رہی تھی۔
“کیا بات ہے،آپ بہت خوش نظر آ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نازر اعوان کے کال بند کر کے موبائل ٹیبل پر رکھتے ہی مہ پارہ بیگم پوچھنے لگی تھیں۔
“یقینناً تم بھی سن کر خوشی محسوس کرو گی کہ کل تک تمہاری بیٹی واپس آجائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُنکی بات پر وہ پہلے سے زیادہ چونک کر دیکھنے لگیں۔
“کیا مطلب،کیسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“یہ کل پتہ چل جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کہتے ہوئے واشروم میں گھس گئے مہ پارہ بیگم حیرانگی کے اثر سے نکلتیں جلد ہی اپنے موبائل کی طرف لپکیں اور فاریسہ کو کال ملائی جس نے تیسری بیل پر ہی کال ریسیو کی تھی۔
“فاریسہ میری بات دھیان سے سُنو،برزل کو میسج کرو یا کال کہ اُسے تمہارے پاپا سے خطرہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ماما یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ نہ سمجھی اور حیرانگی کہ ملے جلے تاثرات لیے مخاطب ہوئی جو اُسکی بات کاٹ کر گویا ہوئیں۔
“یہ وقت کیوں اور کیسے کے سوالوں میں پڑنے کا نہیں ہے جو کہا ہے وہ کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”بات ختم ہوتے ہی کال بند ہو گئی تھی مگر فاریسہ کی اُلجھن ختم نہیں ہوئی تھی۔
“نہیں میں اُنکو نہیں بتاؤنگی ورنہ،ورنہ وہ میرے پاپا کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ مہ پارہ بیگم کی ساری باتیں زہن سے جھٹکتی موبائل رکھتی خود اضطرابی انداز میں کمرے میں چکر لگانے لگی تھی نہ جانے کیوں دل ہمک ہمک کر اسے کچھ اور ہی کہہ رہا تھا مگر وہ اسے نظرانداز کرتی کتابوں کی طرف اپنی توجہ مبذول کرنے لگی جس میں بھی وہ بڑی طرح ناکام ہوئی تھی۔
دوسری طرف ان سب باتوں سے انجان برزل ابراہیم اپنے آفس سے نکلتا سلیمان کو کال ملاتا بلوتوتھ کان سے لگاتا خود ڈرائیونگ کی طرف متوجہ ہو گیا۔
“ہاں سلیمان کہاں ہو،ایسا کرو کہ ابھی مجھے غاذی چوک پر ملو،اوکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”کہتا ہوا کال بند کرکے ہاتھ میں پہنی گھڑی کی طرف دیکھا جو کہ شام کے چھ کے ہندسے کو کراس کرنے کی کوششوں میں تھی۔
غاذی چوک سے سلیمان کو لیتا اس نے گاڑی گھر کے راستے پر ڈال دی تھی۔
“اب نیکسٹ ہم کیا کرنے والے ہیں بھائی کیونکہ شیخ کے مرنے کے بعد چیزیں کچھ کنفیوز ہو رہی ہیں،کسی کا لنک بھی کسی کے ساتھ نہیں مل رہا ہے ہم وہاں تک اب کیسے پہنچیں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان کچھ نہیں شاید زیادہ ہی کنفیوز ہو رہا تھا۔
“ریلیکس سلیمان،یہ جو سب تمہیں کنفیوز لگ رہا ہے نہ اصل میں یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں وہاں تک لے جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ایزی انداز میں کہتا وہ گاڑی کی سپیڈ ہلکی کر گیا تھا کیونکہ آگے ناکہ بندی تھی جس پر سلیمان بھی کچھ حیرت سے دیکھنے لگا جہاں پولیس والے انکو گاڑی روکنے کا اشارہ کر رہے تھے۔
“سر ہمیں آپکی گاڑی کی تلاشی لینی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”پولیس کانسٹبل سلیمان کی طرف کھڑکی میں جھکا تھا۔
“کس چیز کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“سلیمان یہ انکا فرض ہے،ہوگا انکا کوئی سیکورٹی ایشو،جی آپ لے سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم نے کہتے ہوئے سلیمان کو گاڑی سے نکلنے کا اشارہ کیا تھا اور خود بھی گاڑی سے نکلتا ایک طرف کھڑا ہو گیا تھا اور باریک بینی سے اردگرد کا جائزہ لیا کہ پولیس والے جو پہلے ایک دو گاڑی رکوا کر کھڑے تھے اب سب کو جانے کا کہتے صرف اسکی گاڑی کی طرف ہی متوجہ تھے جیسے وہ صرف رکے اس کے لیے تھے برزل ابراہیم گیم کو اچھے سے سمجھ گیا تھا۔
“بھائی یہ سب کیا ہے،یہ لوگ صرف ہماری تلاشی کے لیے ہی ناکہ بندی کرکے بیٹھے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان بھی ان سب چیزوں کی آبزرویشن کر چکا تھا۔
“ریلکیس،گاڑی میں کونسا کچھ نکلنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل کہتا ہوا اس پولیس افسر کی طرف متوجہ ہوا جو اس کی گاڑی سے ایک سفید پیکٹ نکالتا ایس ایچ اوہ کے پاس آیا تھا۔
“یہ دیکھیں سر،جسکی اطلاح ملی تھی،دو کلو سفید پاؤڈر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”جہاں وہ ایس ایچ اوہ مسکرایا تھا وہی سلیمان بھی ششدر سا برزل ابراہیم کو دیکھنے لگا جو کہ بے تاثر چہرہ لیے بس پولیس وین کی طرف دیکھا رہا تھا جس میں سے ایس پی نازر اعوان اترا تھا۔
“بھائی ہم ٹریپ ہو گئے ہیں اس ایس پی کے ہاتھوں،اوہ نو،اب کیا ہوگا الزام بھی اتنا بڑا اور حیدر بھی وہ جو کچھ نہیں جانتا کہ ہمارے بعد وہ کس سے رابطہ کرسکے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان کچھ زیادہ ہی بوکھلاہٹ کا شکار لگتا تھا جس کے برعکس برزل ابراہیم ریلکیس تھا۔
“سلیمان تم بہت جلدی پریشان ہو جاتے ہو،میں انکو باتوں میں لگاتا ہوں تم بس مجھے یہ پتہ کر کے دو کہ فاریسہ سیو ہے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل کہتا ہوا پولیس کی طرف متوجہ ہوتا اپنی ایکٹنگ شروع کر چکا تھا اور سلیمان سب سے نظریں بچاتا گھر میسج کرنے لگا جس کے جواب پر وہ ریلیکس ہوتا برزل کو اشارہ کر گیا تھا اور پھر برزل کی طرف متوجہ ہوا کہ اس سچویشن سے نکلنے کے لیے وہ آخر کونسا حربہ آزمانے لگا تھا۔
!____________________________________________!
وقار رانا اور مسز رانا اس وقت ڈنر کر رہے تھے اور ساتھ دونوں ہی ایک دوسرے کے الفاظ جانچ رہے تھے کہ جو برزل ابراہیم ان کے کانوں میں ڈال چکا تھا وہ کس حد تک درست ثابت ہونے والا تھا۔
“میں سوچ رہی تھی کہ فاؤنڈیشن کی ساری زمعداری ثمن پر ڈال دوں اور وہ وہاں ہی رہا کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مسز رانا کی بات پر وقار رانا ٹھٹھکے تھے اور یہی انکا زرد چہرہ مسز رانا کے یقین کے لیے کافی تھا۔
“میرا نہیں خیال کہ ثمن یہ زمعداری نبھا پائے گی اور ویسے بھی وہ اتنے سالوں سے میری سیکٹری ہے اور سارا کام وہی دیکھ رہی ہے تو مجھے مشکل ہو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وقار رانا سمبھل کے جواب دے ریا تھا۔
“تمہیں تو مشکل ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ دل ہی دل میں مسکرائی۔
“نیکسٹ پراجیکٹ کے لیے مشینری کی ضرورت ہے جس کے لیے مجھے ایک ہفتہ بنکاک جانا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وقار رانا کی بات پر وہ محض سر ہلا گئیں کیونکہ یہ برزل ابراہیم انکو پہلے ہی بتا چکا تھا کہ وہ دونوں ایک ساتھ جائیں گئے اور کس ہوٹل میں رہیں گئے۔
“بچے نیکسٹ ویک آ رہے ہیں،کچھ پلان کرنا چاہئیے اُنکی آؤٹنگ کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وقار رانا نے اپنے پر سے توجہ ہٹانی چاہی۔
“ہاں میں بھی سوچ رہی ہوں اس لیے سارا کام اعزاز کے سپرد کر رہی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“یہ اعزاز ابھی تک کنوارہ ہے نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”کانٹے کی مدد سے فرائیڈ فش کا پیس منہ میں رکھتا وہ نارملی بات کر رہا تھا مگر دھیان مسز رانا کی طرف ہی تھا۔
“ہاں وہ شادی نہیں کرنا چاہتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا کسی کی محبت میں مبتلا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وقار رانا کے سوال پر وہ زرا گڑبڑائی۔
“نہیں مجھے نہیں پتہ کبھی اتنا پرسنل نہیں ہوئی میں اُس کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“حالانکہ تمہارا پرسنل سیکڑی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”پرسنل پر کافی زور دیا گیا تھا جن پر وہ کندھے اُچکاتی اٹھ کھڑی ہوئیں۔
“میں چلتی ہوں جان۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اپنا گال وقار رانا کے گال کے ساتھ ٹچ کرتی وہ یہ جا وہ جا جبکہ وقار رانا کے لبوں پر زہرخند مسکراہٹ تھی۔
!___________________________________________!
“تو مسٹر برزل ابراہیم آپکو ڈرگز کی اسمگلنگ کے جُرم میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ایک منٹ ایس ایچ اوہ صاحب،اتنی جلدی کس بات کی ہے،آپ پہلے ہمارے بیٹھنے کے لیے تو انتظام کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم ریلکیس انداز میں بولتا پولیس والوں کے ساتھ سلیمان کو بھی حیرت میں ڈال رہا تھا جو اس صورتحال میں فق چہرہ لیے برزل ابراہیم کو دیکھ رہا تھا۔
“فکر کیوں کرتے ہو برزل ابراہیم،تمہارے لیے بہت اچھی جگہ رینج کی ہوئی ہے ہم نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اب کی بار ایس پی نازر اعوان بولا تھا برزل نے ایسی سرد مہری سے دیکھا تھا کہ اُسکی آنکھوں میں چھلکتی نفرت پر نازر اعوان بھی ایک پل کو ساکت ہوا تھا۔
“پر افسوس کہ آپکی یہ خواہش تو اس جہان میں پوری ہو نہیں سکے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ جیبوں میں ہاتھ پھنسائے ایس ایچ اوہ کی طرف مڑا۔
“میرے خیال میں کوئی پندرہ سال تو اس سروس میں آپ نے گزار لیے ہونگے اور کئی دفعہ ڈرگز دیکھی ہونگیں تو ایسی بھی کیا مجبوری تھی کہ اس سفید پاؤڈر کو چیک کرنے کے بجائے الزام تراشی پر آگئے،کوئی خاص وجہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اتنے ٹھنڈے لہجے میں گویا ہوا کہ سب کو سن کر گیا۔
“یہ نشینل کا نمک ہے،چکھ کے دیکھ لیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اسکی بات پر سب ٹھٹھک کر اس شاپر کی طرف متوجہ ہوئے تھے اور ایس ایچ اوہ کیا سب نے چکھ کر بار بار دیکھا تھا وہ نمک ہی تھا سب بے ساختہ نازر اعوان کی طرف دیکھ رہے تھے جو اپنے پلان کی ناکامی پر شعلے بار نظروں سے برزل ابراہیم کو دیکھ رہا تھا جس کے لبوں پر زہریلی اور جلا دینے والی مسکراہٹ تھرک رہی تھی۔
“صوری سر،ہمیں غلط فہمی ہوئی آپ جاسکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ایس ایچ اوہ نے معذرت کی جس پر وہ سر ہلاتا ہوا ایس پی کے قریب آیا۔
“یہ ہربہ بہت سٹوپڈ تھا،کچھ نیا تلاش کرو جو برزل ابراہیم کے لائق تو ہو کیونکہ برزل ابراہیم کو مات دینا تم جیسے چھوٹے کھلاڑیوں کے لیے بہت مشکل ہے۔۔۔۔۔۔۔”وہ جانے لگا پھر پلٹا تھا۔
“اور ایک بات اب تم بھی اپنی الٹی گنتی شروع کر دو ایس پی کیونکہ برزل ابراہیم اب تمہیں برباد کرنے والا ہے وہ ڈھنکے کی چوٹ پر،تمہاری طرف تو بہت پرانے حساب نکلتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سرد لب و لہجے میں اسے دیکھتا وہ اپنی گاڑی کی طرف چل دیا پیچھے نازر اعوان ہاتھ پہ ہاتھ مارتا رہ گیا۔
“شکر ہے میں تو ڈر گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان اس چوکی سے نکلتا گہرا سانس بھر کر بولا۔
“تم تو ایسے ہی چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان ہو جاتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ارے بھائی یہ چھوٹی بات نہیں تھی،پر یہ سب ہوا کیاتھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان ابھی تک حیران تھا۔
“یہ ایک ٹریپ تھا کہ برزل ابراہیم کو پکڑا جا سکے اور پھر پولیس مقابلے میں مار دیا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ایس پی نازر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان نے نفرت سے نام لیا تھا۔
“آپ نے کیسے سب ہینڈل کیا،کیسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان کے تجسس پر برزل مسکرایا۔
“مجھے شروع سے ہی قدم پھونک کر رکھنے کی عادت ہے،آج صبح میری گاڑی جسے میں لاک لگا کر آفس میں گیا تھا باہر آیا تو گاڑی کا بیک ڈور اوپن تھا اور یہی چیز میرے دماغ میں کلک کر گئی تلاشی لینے پر مجھے بہت بڑی مقدار میں ڈرگز ملے جن کو ضائع کر کے میں نے نمک رکھ لیا اور پھر میں دیکھنا چاہتا تھا کہ ایس پی کی شکل کیسے ہوگی جب وہ اپنے پلان میں بڑی طرح ناکام ہوگا جو دیکھ کر کافی مزہ آیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل کی بات پر سلیمان محفوظ ہوا۔
“اسکا مطلب وہ ناکامی کے بعد ایک اور حملہ کرے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“پر اس دفعہ اسے اتنابھی موقع نہیں ملے گا کیونکہ اب ایس پی کی الٹی گنتی شروع۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل کے لہجے میں ایسی سختی تھی کہ سلیمان کو ایس پی پر ترس آنے لگاتھا۔
!___________________________________________!
برزل کمرے میں آیا تو فاریسہ کو پریشان اور گم صم صوفے پر بیٹھے دیکھ کر حیران ہوا تھا۔
“کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اسکی آواز پروہ چونک کر اسے دیکھنے لگی جو شرٹ کے کف لنکس کھولتا اس کے تاثرات کا جائزہ لے رہا تھا۔
“آپ،آپ آ گئے،آپ ٹھیک ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بے اختیار بولی تھی پھر اُسکی حیران نظروں کو دیکھتی گڑبڑا گئی۔
“میں تو ٹھیک ہوں،کیا کچھ ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“نہیں،نہیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ ساتھ سر بھی نفی میں ہلا رہی تھی۔
“اوکے ریلکیس،میرے کپڑے نکال دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کہتا ہوا شرٹ کے بٹن کھولنے لگا جبکہ فاریسہ مہ پارہ بیگم کی کال پر پھر سے الجھنے لگی وہ کتنی زیادہ پریشان رہی تھی ایک طرف باپ اور ایک طرف وہ انسان جس کے لیے آج پہلی مرتبہ اس نے تکلیف محسوس کی تھی مگر باپ کی محبت پھر بھی غالب آ گئی تھی اور اس نے اسے کال نہیں کی تھی۔
کچھ دیر بعد وہ ڈائنگ ٹیبل پر برزل ابراہیم کے ساتھ بیٹھی بھی اسی الجھن میں گرفتار تھی کہ برزل نے اسکی توجہ اپنی طرف کی۔
“تم کھانا کیوں نہیں کھا رہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“جی،کھا رہی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ جلدی سے اپنی پلیٹ کی طرف متوجہ ہوئی۔
“کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ تم کہیں جاؤ تو مجھے میسج کر دیا کرو،جسٹ فار انفارمنگ تا کہ مجھے پریشانی نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بہت نرمی سے اسے کہنے لگا کیونکہ حیدر پر غصہ نکال سکتا تھا مگر اس پر نہیں۔
فاریسہ نے کچھ نہ سمجھی سے دیکھا پھر جیسے اسے کچھ یاد آیا۔
“میں اور حیدر بھائی کل کھانا کھانے گئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کوئی مسلہ نہیں آگے بھی جا سکتی ہو،شاپنگ کرنے بھی مگر جانے سے پہلے ایک میسج کر کے احسان کر دیا کرو کیونکہ میں اپنے گارڈز کو اپنی بیوی کی ایک ایک چیز پر نظر رکھنے کا کہہ کر اسکی پرائویسی کو ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتا ہوں اوکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل کے نرم لہجے پر وہ پرسکون ہو کر سر ہلا گئی یہ بات اسے اچھی لگی تھی۔
“کل حیدر بھائی کو کسی نے مارا تھا،بہت زیادہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اپنی طرف سے اس نے بہت بڑی بات بتائی تھی مگر برزل سر ہلاتا کھانے میں یوں مگن تھا جیسے کچھ سنائی نہ دیا ہو جبکہ فاریسہ سوچنے لگی کہ اپنے بھائی کے بارے میں سن کر وہ غصے میں آ جائے گا۔
“انکو چوٹیں آئی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس نے پھر احساس دلانا چاہا مگر نہ جی۔
“بہت خون بہہ رہا تھا انکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اس خاموشی پر حیران تھی آخرکار بول اٹھی۔
“آپ کچھ نہیں کریں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“جو کرنا تھا کر لیا ویسے بھی غلطی اسکی تھی اگر یوں کسی کی بیوی کو بنا پوچھے بتائے لے کر جائے گا تو ایسا تو ہوگا نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل کی بات اسکے پلے نہ پڑی تھی اس لیے کچھ دیر سمجھتی پھر سر جھٹک گئی۔
“کیا میں انکا حال پوچھ سکتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اسکی بات پر برزل نے اسے دیکھا جو حیدر کے ذخموں کا سوچتی پریشان ہو اٹھی تھی۔
“اوہ تو بھائی کی چوٹوں کی وجہ سے پریشان تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ تھوڑی دیر پہلے اسکی خاموشی کا مطلب اخذ کرتاکندھے اچکاتا اٹھ کھڑاہوا۔
“وہ ٹھیک ہے اب،پرسوں تک آ جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل اپنے موبائل پر آتی کال کی طرف متوجہ ہوا پھر رک کر اسے دیکھا۔
“اپنی پلیٹ ختم کر کے اٹھنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اسے ہدایت دیتا چلا گیا تو وہ گہرا سانس بھرتی کھانے سے دو دو ہاتھ کرنے لگی۔
!____________________________________________!
