Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz Readelle50262 Tera Ishq Jaan Lewa (Episode 04)
Rate this Novel
Tera Ishq Jaan Lewa (Episode 04)
Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz
بابا اُسکا فاریسہ سے شادی کرنے کا کیا مقصد ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فاریسہ کے جانے کے بعد احسن نے سوال کیا بلکہ سب ہی اسی اُلجھن میں تھے اُن کو بھی برزل ابراہیم کے اس اقدام کی سمجھ نہیں آ رہی تھی۔
“وہ صرف اپنے خوف میں مبتلا کرنا چاہتا ہے مجھے،وہ چاہتا ہے کہ میں اُس سے ڈر جاؤں اور اُس کے خلاف کوئی کاروائی نہ کروں ورنہ اس کے علاوہ اور اُسکا کیا مقصد ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تو بھائی صاحب آپ کیوں اُس سے دُشمنی لے رہے ہیں؟جو اُس رات ہمارے گھر میں آ گیا اب شادی کا کہہ رہا وہ تو کچھ بھی کر سکتا ہے نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” تنزیلہ بیگم جو اس سارے عمل سے کچھ خوفزدہ ہو گئیں تھیں نازر اعوان سے بولیں مگر اُن کے چہرے پر برہمی کے آثار دیکھ کر خاموش ہو کر اپنے شوہر کی طرف دیکھنے لگیں جو اُنکو چپ رہنے کا اشارہ کر رہے تھے۔
“وہ سوائے ڈرانے دھمکانے کے اور کچھ نہیں کر سکتا ہے،جب تک میں ہوں آپ لوگوں کو خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے آپ لوگ بس کل تک جو کچھ ضروری ہے وہ کریں میں نے ھادی سے بات کر لی ہے اُنکو کوئی مسلہ نہیں ہے کل نکاح کرنے میں،وہ دس لوگ آئیں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نازر اعوان کی بات مکمل سُن کر مہ پارہ بیگم اُٹھ کھڑی ہوئیں۔
“آپ جو کہے گئے وہ ہو جائے گا مگر اس بات کا خیال رکھیے گا کہ اس مجرم کے چکر میں میری اولاد کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کہتے ہوئے چلی گئیں نازر اعوان نے پُرسوچ نگاہیں دیوار پر ٹکا دیں اب انکو کوئی مضبوط حکمت عملی کرنی تھی۔
!____________________________________________!
وہ گھر آیا تو سلیمان اور حیدر اُسے ہال میں بیٹھے ہی مل گئے وہ اپنے کمرے میں جانے کا ارادہ کینسل کرتا ان دونوں کی طرف پلٹ آیا۔
“ہم آپکا کب سے ویٹ کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔!حیدر اسے دیکھ کر اُٹھ کھڑا ہوا۔
“خیریت تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سامنے صوفے پر ٹک کر ہاتھ میں پکڑا موبائل صوفے پر رکھ گیا۔
“ہاں وہ مجھے شاپنگ پر جانا تھا،سلیمان بھائی کے ساتھ ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس کے دیکھنے پر وہ جلدی سے سلیمان کی طرف اشارہ کر گیا جس پر سلیمان مسکرایا۔
“ہاں ضرور جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بولتا سلیمان کو تو نہیں حیدر کو ضرور حیران کر گیا۔
“مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل کے مگر پر وہ سانس روک گیا۔
“اپنی آنکھیں کُھلی رکھا کرو حیدر،اس ملک میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو میری کمزوریوں کی تلاش میں ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ تم میری کمزوری بنو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“جی بھائی آپ فکر نہ کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ مضبوط لہجے میں بولا برزل ابراہیم نے سر ہلایا۔
“کل دوپہر کو تم دونوں مجھے تیار ملو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُٹھتا ہوا دونوں سے مخاطب ہوا۔
“کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان نے پوچھا۔
“بارات لے کر جانا ہے ایس پی کے گھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ آرام و سکون سے بولتا موبائل ہاتھ میں پکڑتا اُن دونوں کے حیران چہروں پر نظر دوڑاتا سیڑھیاں چڑھ گیا جبکہ وہ حیرت کے شدید جھٹکوں سے نکلتے اب ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے کہ کیا جو انہوں نے سُنا اُسکا وہی مطلب تھا جو وہ سمجھ رہےتھے۔
!___________________________________________!
فاریسہ وائٹ فراک اور چوڑی دار پاجامے میں وائٹ ڈوپٹہ بائیں کندھے پر ڈالے اور سُرخ کامدار ڈوپٹہ سر پر لیے ہلکے پُھلکے میک اپ اور جیولری میں بھی بہت خوبصورت لگ رہی تھی کہ سامنے صوفے پر بیٹھے ھادی کی نگاہیں مسلسل اس کے ارد گرد ہی گھوم رہی تھیں جبکہ فاریسہ اس کی نگاہوں کے تاثر سے بے نیاز آنے والے وقت کے بارے میں سوچتی پریشان ہو رہی تھی بے اختیاری میں وہ بار بار اُنگلی میں پہنی گئی برزل ابراہیم کی انگوٹھی کو گھما رہی تھی وہ برزل ابراہیم کو زرا پسند نہیں کرتی تھی بلکہ یہ کہنا سہی ہوگا کہ اُس کے خوف کے زیر اثر وہ آج تک یہ سمجھ ہی نہیں پا رہی تھی کہ وہ اُسے نا پسند کرتی ہے کہ نفرت؟
“احسن مہمان آ چُکے ہیں تمہارے بابا کہاں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
مہ پارہ بیگم احسن کے قریب آئیں۔
“مما،بابا زرا سیکیورٹی سسٹم چیک کرنے گئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آ رہی،آخر ہو کیا رہا ہے تمہارے بابا یہ تو کہتے ہیں کہ ڈرنے کی ضرورت نہیں وہ دھمکی دے رہا ہے پھر یہ سب کیوں کر رہے ہیں،رشتے دار کتنی باتیں بنائیں گئے آخرکار وہ بھی تو سب محسوس کررہے ہیں نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مہ پارہ بیگم فکرمندی سے گویا ہوئیں کیونکہ وہ لوگوں کے طرح طرح کے سوالات کےجواب دے دے کر تنگ آچُکی تھیں۔
“مما پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے،بابا پولیس میں ہیں اورسب کو پتہ ہے کہ جب بھی کوئی پولیس والا کسی مجرم پر ہاتھ ڈالتا ہے تو وہ اسطرح کی دھمکیاں ہی دیتے ہیں،بابا تو بس نکاح کر کے اس دھمکی کے اثر سے نکلنا چاہتے ہیں،وہ آ گئےبابا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”احسن کے نرمی سےکہنے پر مُسکرائیں پھر اُس کے نازر اعوان کی طرف اشارہ کرنے پر اُس طرف متوجہ ہوئیں جہاں نازر اعوان اور شاہ زر اعوان آ رہے تھے۔
“مہمانوں کی ریفریشمنٹ کا بندوبست کریں مولوی صاحب عصر کی نماز ادا کر کے آئے گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نازر اعوان نے مہ پارہ بیگم سے کہا۔
“جی میں نے کہہ دیا ہے انجم کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ایک نظر ہال میں بیٹھے مہمانوں پر ڈال کر وہ فاریسہ کی طرف بڑھیں جو کچھ پریشان سی لگ رہی تھی اُن کے لاکھ دلاسے تسلیوں کے باوجود وہ اپنے ڈر سے نکل نہ پا رہی تھی اور آگے کیا ہوگا یہی سوچ کر پریشان ہو رہی تھی اس گھر میں بس فاریسہ اعوان ہی تھی جسے پورا یقین تھا کہ وہ آئے گا کیونکہ ان تین ملاقاتوں میں وہ اتنا تو اسے جان پائی تھی۔
“مسٹر ہادی کیا آپ اپنے موبائل کا سپیکر آن کر کے میرا پیغام سب تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کریں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ ھادی نے کسی انجانے نمبر سے کال یس کرکے موبائل کان سے لگایا تھا کہ دوسری طرف سے ایک مسکراتی آواز پر اُس نے اپنی آنکھوں پر لگے نظر کے چشمے کو ہاتھ کے انگوٹھے سے درست کرتا پوری اعوان فیملی پر نظر دوڑانے لگا جو سب بھی اسے کچھ پریشان سا دیکھ کر کچھ نہ کچھ معاملہ سمجھ گئے تھے۔۔
“سپیکر آن کرو ہادی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اعوان ہاوس کے سب سے بڑے بیٹے ایس پی نازر اعوان کے کہنے پر ہادی نے سپیکر آن کیا۔
“میں نے سُنا ہے یہاں نکاح کی تیاریاں چل رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”دوسری طرف سے آتی آواز پر ایک دفعہ سب ساکت ہوئے تھے کہ اسے پتہ کیسے چل گیا وہ تو سب چوری کر رہے تھے اُس کے دیے گئے ٹائم سے ایک دن پہلے۔
“آپ لوگ یہ تو نہیں سوچ رہے کہ مجھے پتہ کیسے لگ گیا تو اس کے لیے اتنا ہی کہنا چاہونگا کہ فاریسہ اعوان میری ہے تو جو میرا ہو جاتا ہے اُسکو نظر میں رکھنا اور اُس پر نظر رکھنا مجھے بخوبی آتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکے مسکراتے لہجے پر فاریسہ کے چہرے کا رنگ بدلا تھا۔
“تمہاری یہ بھول جلد ختم ہو جائے گی برزل ابراہیم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اب کی بار شاہ زر نے مظبوط لہجے میں کہتے ہوئے احسن اور قمر کو کو مولوی کو جلد لانے کا اشارہ کیا تھا وہ سمجھ کر سر ہلاتا اُٹھ کھڑا ہوا۔
“مجھے خوشی ہوئی یہ سب جان کر کہ آپ لوگوں نے خود ہی سارے انتظامات کروا لیے نکاح کے اب بس دولہے کی مطلب کہ میرے آنے کی دیر ہے تو وہ آپ فکر نہ کریں مولوی کے آنے تک میں بھی حاضر ہو جاؤنگا اچھا ہے میرا اور فاریسہ کا نکاح اُس کے اپنوں کے درمیان ہو تا کہ وہ مجھے بعد میں یہ تانہ نہ دے سکے کہ میں نے اُس کے اپنوں کے سامنے اُسے اپنے نام نہیں کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”جیسے جیسے وہ بولتا جا رہا تھا سب کے سانس بیٹھے جا رہے تھے فاریسہ نے تو اپنے ساکت دل پر ہاتھ رکھ کر یہ یقین کیا تھا کہ دل کے ساکت ہو جانے پر بھی وہ سانس کیسے لے پا رہی تھی۔
“فاریسہ میری زندگی اچھے سے تیار ہونا اور وائٹ ڈریس پہننا کیونکہ وائٹ کلر میرا فیورٹ کلر ہے جو تم پر بہت سُوٹ کرتا ہے، اوکے پھر ملتے ہیں ایک گھنٹے بعد تمہیں مسز برزل ابراہیم بنانے کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فاریسہ کی جان نکالتا وہ کھٹاک سے فون رکھ گیا ہادی نے اپنے چہرے پر آیا پسینہ صاف کیا اور سب کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا جیسے پوچھ رہا ہو کہ اب کیا کرنا ہے؟
“بابا،مماپلیز بچا لیں مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔”فاریسہ روتی ہوئی مہ پارہ بیگم کے سینے سے جا لگی جنہوں نے ڈبڈائی آنکھوں سے اپنے شوہر کی طرف دیکھا۔
“ہم برزل ابراہیم کو اتنی آسانی سے جیتنے نہیں دیں گئے اُس نے ایک گھنٹے بعد آنے کا کہا ہے نہ تو اچھا ہے ایک گھنٹہ آنے کے بعد وہ فرایسہ اعوان سے نہیں فاریسہ ہادی سے ملے گا، جلدی نکاح خواں کو بلاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”شاہ زر اعوان کے بولنے پر جہاں باقی سب کے چہرے پر اُمید کی کرن آئی وہی ہادی نے اپنے خُشک لبوں پر زبان پھیر کر اپنی عینک کو درست کیا تھا۔
!___________________________________________!
“مجھے تو ابھی تک یقین نہیں آ رہا کہ برزل بھائی شادی کرنے جا رہے ہیں اور ہم بارات لے کر جا رہے ہیں ایس پی کے گھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر جسکا دماغ برزل ابراہیم کے احکامات سے سُن ہو چُکا تھا اپنے ساتھ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے سلیمان سے بولا جس نے کندھے اُچکائے تھے۔
“میں بھائی کے فیصلوں پر کبھی اتنا حیران نہیں ہوا جتنا اب ہوا ہوں کیونکہ مجھے اس فیصلے کے پیچھے چھپے مقصد کی کوئی سمجھ نہیں آ رہی،بھائی کے لیے ایس پی ایک معمولی پریشانی ہے مگر اتنا بڑا قدم کیوں اُٹھا رہے ہیں کچھ معلوم نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان کی بات پر حیدر گہری سانس بھر کررہ گیا اور ایس پی کے بنگلے کے آگے گاڑی روک دی۔
دوسری طرف نازر اعوان مسلسل بڑھتے غصے کو قابو میں کرتا ادھر سے اُدھر ٹہلتا احسن اور قمر کا انتظار کر رہا تھا جو ابھی تک نہیں آئے تھے۔
“کہاں رہ گئے یہ لڑکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”موبائل پر اُنکا نمبر ملاتا وہ پریشان ہو اُٹھا تھا جو کہ مسلسل بند جا رہا تھا۔
“آپ لوگ یقیننا ہمارا ہی انتظار کر رہے ہونگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم کی آواز پر وہ سب چونک کر ہال کے دروازے کی طرف دیکھنے لگے تھے جہاں بلیک پینٹ پر وائٹ بٹن ڈاؤن شرٹ اور بلیک کوٹ پہنے اپنی مردانہ وجاہت لیے وہ سب کے سانس روک گیا تھا فاریسہ نے اپنے سفید پڑتے چہرے اور ڈبڈائی آنکھوں کے ساتھ مہ پارہ بیگم کی طرف دیکھا جو خود جامد تھیں۔
“تم،تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہاں آنے کی،سیکیورٹی،دفعہ ہو جاؤ ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نازر اعوان حیرانگی سے نکلتا چلا اُٹھا تھا۔
“ہمت؟ابھی بھی آپکو میری ہمت کا اندازہ نہیں ہوا سُسر جی۔۔۔۔۔۔۔۔”نازر اعوان کے سُرخ چہرے پر مسکراتی نگاہ ڈالتا وہ اُسے مزید تپا گیا تھا۔
“تم نے ہماری ہمت دیکھی نہیں ابھی۔۔۔۔۔۔۔۔”حسنین نے آنکھیں نکالیں تھی جس پر سلیمان غصے سے اس کی طرف بڑھنے لگا مگر برزل نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا۔
“میں کہہ رہا ہوں دفعہ ہو جاؤ ورنہ یہ دن تمہاری زندگی کا آخری دن ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”پسٹل نکال کر برزل ابراہیم پر تان گیا جو مسکرا رہا تھا سلیمان اور حیدر نے پسٹل نکال کر ایس پی کی طرف تانے تھے جس پر فاریسہ کی چیخ نکل گئی برزل ابراہیم نے اُس ڈری سہمی ہرنی کی طرف ایک خاص نگاہ ڈالی جو کہ آنکھوں میں آنسو لیے اس کی طرف ہی دیکھ رہی تھی۔
“نیچے کرو پسٹل،یہ کیا طریقہ ہے سلیمان؟وہ میرے سسر جی ہیں کیا مجھے اتنا بے ادب سمجھا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مصنوعی خفگی سے اُنکو کہتا وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا صوفے کی طرف آیا اور آ کر بیٹھ گیا۔
“وہ آ گئے مولوی صاحب،نکاح شروع کریں کیونکہ مجھے اتنی دیر کسی کے گھر بیٹھنا پسند نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مولوی کو پاس آنے کا اشارہ کرتا وہ شاہ زر اعوان سے مخاطب ہوا۔
“اور مجھے تمہیں اپنے گھر بٹھانے کا شوق بھی نہیں ہے،میں نہیں جانتا کہ تم کیسے میری سیکیورٹی کو چکما دے کر میرے گھر میں گھس آئے مگر میں اتنا ڈرپوک نہیں کہ تمہاری اس گھٹیا بات کو مان لونگا،مجھے اس وقت تمہیں مارنا بھی پڑا تو مار دونگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ایس پی نازر کی آنکھوں میں نفرت اور غصے کی چنگاریاں صاف دیکھی جا سکتی تھیں۔
“جی جانتا ہوں میں،اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ لوگ یہ نہیں چاہے گئے کہ میری وجہ سے میرے دو سالے مارے جائیں،اب اس سب میں احسن اور قمر کا کیا قصور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے منہ سے نکلتے الفاظ سب کو ساکت کر گئے ماسوائے اُن تینوں کے جن کے چہروں پر خون جلا دینے والی مسکراہٹ تھی۔
“احسن۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مہ پارہ بیگم کی آنکھوں سے آنسو چھلکے تھے اور فاریسہ تو بس مرنے کے قریب تھی۔
“کہاں ہے میرا بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔”تنزیلہ بیگم چلا اُٹھیں تھیں۔
“بھائی صاحب میرے بیٹے کا اس میں کیا قصور ہے اگر میرے بیٹے کو کچھ ہوا نہ تو پھر دیکھیئے گا۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔”
“ریلیکس خاتون،آپ بے فکر ہو جائیں اگر آپ خوشی خوشی یہ نکاح پڑھا دیں گئے تو اُنکو کچھ نہیں ہوگا ورنہ۔۔۔۔۔۔۔”سب پر ایک نظر ڈالتا وہ رُکا تھا۔
“ورنہ شاید آپ لوگ اُنکو زندہ نہ دیکھ سکیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ جتنا خود پرسکون تھا اُتنا ہی سب کو بے سکون کر رہا تھاپھر ایک کٹیلی نگاہ ھادی پر ڈالی جو کچھ عجیب نگاہوں سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا بلکہ کچھ کر بھی رہا تھا کیا کر رہا تھا برزل ابراہیم سمجھ کر مُسکرا دیا تھا۔
“نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مہ پارہ بیگم رو دیں تھیں نازر اعوان نے بے بسی سے پسٹل والا ہاتھ نیچے کیا تھا اور پھر کچھ سوچ کر موبائل پر نمبر ڈائل کرنے لگا۔
“اگر ایک کال بھی ہوئی تو اپنے بیٹوں کی زندگی مشکل میں ڈالو گئے،تمہاری کوئی کال بھی میرا کچھ نہیں بگاڑ پائے گی مگر شاید کچھ ایسا ہو جائے کہ یہ دونوں خاتون برداشت نہ کر پائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ مہ پارہ بیگم اور تنزیلہ بیگم کی طرف اشارہ کرتا ہوا بولا پھر اُٹھ کھڑا ہوا۔
“دو منٹ ہیں سوچ لیں،یا تو بیٹی مجھے سونپ دیں یا بیٹے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ نازر اعوان کی طرف آیا تھا۔
“اگر بیٹی سونپیں گئے تو برزل ابراہیم یہ گارنٹی دے گا کہ جب تک زندہ رہونگا اُس تک کوئی پریشانی نہیں آنے دونگا،اگر بیٹے سونپیں گئے تو پھر ساری زندگی اُنکو ترسیں گئے آپ لوگ،میرے جانے کے بعد اگر آپ لوگ پورے ملک کا قانون بھی لے آئیں گئے تو آپ لوگ کبھی ثابت نہیں کر پائیں گئے کہ یہ کام میں نے کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ جیبوں میں ہاتھ پھنسا کر نازر اعوان کے قریب آیا تھا۔
“کیونکہ میں ایک عام اور شریف آدمی،دن دہاڑے ایس پی کے بیٹوں کو اغوا کیسے کر سکتا ہوں بلکل بھی نہیں سُسر جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” برزل کے لبوں پر بڑی جان لیوا مسکرایٹ تھرک رہی تھی جو نازر اعوان کو اندر تک جلا گئی تھی۔
“بہت پچھتاؤ گئے تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نفرت ہی نفرت تھی۔
“بلکل یہی آپ سے کہہ رہا ہوں کہ میری بات نہ مان کر بہت پچھتاؤ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“نکاح شُروع کریں مولوی صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم صوفے پر آ کر ٹک گیا اور سلیمان اور حیدر کو پاس آنے کا اشارہ کیا۔
کب سے خاموش تماشائی بنے مولوی نے نازر اعوان کو دیکھا جو برزل ابراہیم کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا پھر شاہ زر اعوان کو جس نے سر اثبات میں ہلا دیا تھا مہ پارہ بیگم نے کرب سے آنکھیں بند کی تھیں فاریسہ ایک آخری اُمید بھری نظر ماں باپ پر ڈالتی رو پڑی تھی ھادی نے سرد نگاہوں سے برزل ابراہیم کے فاتحانہ چہرے کی طرف دیکھا تھا اور حسنین نے اپنے باپ کی بے بسی دیکھ کر غصے سے مٹھیاں بھینچ لیں تھیں۔
!___________________________________________!
فریسہ نہیں جانتی تھی کہ اُس نے کیسے کب سائن کیے تھے وہ حواسوں میں تب آئی تھی جب برزل ابراہیم اس کے پاس آ کھڑا ہوا تھا۔
“چلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سر نفی میں ہلاتی اپنی ماں کی طرف بڑھنے لگی تھی۔
“یہ کوشش نکاح سے پہلے کرنی چاہیئے تھی میم۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکا ہاتھ اپنی مضبوط گرفت میں لیتا وہ باہر کی جانب قدم بڑھانے لگا۔
“نہیں،مما،بابا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ رو دی تھی مگر برزل ابراہیم بنا پرواہ کیے آگے بڑھ بڑھتا رہا اور سلیمان اور حیدر بھی اپنا اپنا کام ختم کرتے اُس کےپیچھے چل دیے۔
“ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔”فاریسہ کو پچھلی سیٹ پر دھکیل کر وہ سلیمان کی طرف مُڑا۔
“جی بھائی،آپ کے کہے کے مطابق میں نے ایس پی کے گھر کی موبائل سروس ہیک کر دی تھی جس سے ایک گھنٹے تک وہ جس کو بھی کال کرے گا نمبر بند ہونے کا ہی جواب ملے گارڈز کو بھی نجم کا لایا گیا مشروب پلا دیا گیا جس کا اثر دو منٹ تک ختم ہو جائے گا،ھادی کے علاوہ اور کسی کے موبائل میں ویڈیو نہیں بنائی گئی اور ھادی کا موبائل سے وہ ویڈیو ڈیلیٹ کر کے اُسکا سارا سسٹم ہی بلاک کر دیا ہے کہ کہیں اوربھی ہوگی تو نہیں مل سکے گی اُسے،ایس پی کے سیکیورٹی کیمرے بھی ہیکڈ تھے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“گڈ،آ جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”دونوں کو کہتا وہ دوسری طرف سے آ کر فاریسہ کے ساتھ ٹک گیا جو اب آنسو روک کر خوفزدہ ہونے لگی تھی۔
“مجھے آپ کا سُسرال زرا پسند نہیں آیا،کسی نے بھی کھانے کا نہیں پوچھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر کی بات پر وہ مُسکرا دیا۔
“کبھی ایسے باراتی بن کر بھی تو نہیں گئے نہ تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے فاتحانہ نظر فاریسہ کے جھکے سر پر ڈالی تھی۔
“یہ تو ہے ویسے بھابھی بہت کیوٹ ہیں پر افسوس کہ یہ میرے طرح بہت بہادر ہیں. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر کی بات کے پیچھے چھپے مطلب کو سمجھ کر وہ دونوں ہنس دیے۔
“یہی تو چیز یہاں تک لے آئی مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ خود سےبولتا مسکرایا۔
“_________________^^^^^^^^________________”
برزل ابراہیم کے جانے کے کچھ دیر بعد ہی احسن اور قمر گھر میں داخل ہوئے سب اُنکی طرف بے قراری سے لپکے۔
“میرے بچے تم ٹھیک ہو نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”تنزیلہ بیگم بھاگ کر قمر کی طرف بڑھیں۔
“شکر ہے تم لوگ خیریت سے آ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مہ پارہ بیگم نے تشکر کی سانس بھری۔
“کہاں سے اغوا کیا اُس نے تم لوگوں کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اغوا،کس نے بابا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”احسن اُلجھ کر نازر اعوان کو دیکھنے لگا۔
“تم دونوں کو برزل ابراہیم نے اغوا کیا تھا نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”شاہ زر اعوان نے دونوں کو دیکھا جو نہ سمجھی سے انکی طرف دیکھ رہے تھے۔
“کس نے کہا آپ سے؟ہمیں تو کسی نے اغوا نہیں کیا تھا بابا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”قمر کی بات پر سب چونکے تھے۔
“برزل ابراہیم نے کہا کہ___تم لوگ کہاں تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اصل سوال کی طرف آئے۔
“ہم مولوی صاحب کو لے کر آ رہے تھے کہ گھر سے تھوڑی دُور ایک لڑکی ہماری گاڑی سے ٹکڑا گئی،وہ کافی ذخمی ہو گئی تھی،ہم نے مولوی صاحب کو گھر بھیج دیا اور خود اُسے لے کر ہسپتال چلے گئے،اب وہ بہتر ہوئی تو ہم گھر آ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“احمق لوگو………..”نازر اعوان غصے سے مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا۔
“کیا ہوا ہے بابا،فاریسہ کہاں؟ہو گیا نکاح؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”احسن سب کے پریشان چہروں کی طرف دیکھ کر ہال میں نظریں دوڑانے لگا ہادی کی تلاش میں مگر وہ لوگ جا چکے تھے۔
“وہ میری بچی کو لے گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مہ پارہ بیگم کی آنکھوں سے آنسو بے اختیار ہوئے۔۔
“کیا،مگر کیسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟احسن کو حیرت کا جھٹکا لگا جیسے نازر اعوان اپنے بیوقوف بن جانے پر حیرت زدہ تھا۔
“تم دونوں کی نالائقی کی وجہ سے،اُس نے تم لوگوں کو مارنے کی دھمکی دی تھی،تم دونوں بچے تھے کہ منہ اُٹھا کر اُس لڑکی کے ساتھ ہسپتال چل پڑے گھر میں کسی کو اطلاح تو کرتے بیوقوف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نازر اعوان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ دونوں کو ہی پیٹ دے۔
“ہم نے کالز کی تھیں مگر سب کے نمبرز بزی تھے،سو ہم نے سوچا کہ نکاح میں مصروف ہونگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”قمر نے جواب دیا۔
“مگر تم لوگوں کے نمبر تو بند،اوہ__نہیں،ہماری موبائل سروس بند کی گئی تھی،واہ برزل ابراہیم واہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نازر اعوان ساری گیم سمجھتا پیچ و تاب کھانے لگا۔
“کتنی آسانی سے وہ ہمیں پاگل بنا گیا،شاید وہ لڑکی وہ ایکسڈنٹ بھی اُسی کی چال تھی،اصل میں وہ اپنی کاروائی کا کوئی ثبوت چھوڑے بغیر سب کر گیا تا کہ کل کو ہم اُس کے خلاف چاہ کر بھی کچھ نہ کر سکیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نازر اعوان
گہرے گہرے سانس لینے لگا۔
“بابا اُس نے ہماری بہن کے ساتھ زبردستی شادی کی ہے،ہم کیس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حسنین نے نئی راہ دکھانی چاہی۔
“زبردستی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نازر اعوان نے خشمگیں نگاہوں سے دیکھا۔
“جب نکاح کے وقت وہ حیدر وڈیو بنا رہا تھا تو اُس میں صاف دکھائی دے رہا تھا کہ ہم سب نکاح میں موجود تھے اور کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ یہ نکاح نہ ہو،اب ہم عدالت جائیں تو وہ فاریسہ کو ہمارے خلاف لے آئے گا،اُس سے کسی کام کی بھی توقع کی جا سکتی ہے،ہماری عزت پہلے ہی بہت خراب ہو چکی ہے باقی عدالتوں میں جا کر ختم کر دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“میری بچی کا کیا ہوگا نازر،اُسے کس بات کی سزا ملی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”مہ پارہ بیگم کے رونے پر احسن اُن کے قریب آ گیا۔
“آئے گی وہ واپس،دو دن تک ہی مگر بیوہ ہو گر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سفاکیت سے کہتے وہ باہر کی طرف چل دیے۔
!_________________________________________!
