Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz Readelle50262

Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz Readelle50262 Last updated: 24 September 2025

54.5K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

 

Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz 

"اوہ تو وہ لوگ آج ہی آ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"دلگرفتگی سے وہ بیگ اُٹھائے گیٹ کی طرف چل دی۔
باہر آ کر دیکھا تو ڈرائیور یا گاڑی کہیں دکھائی نہ دی وہ کچھ پریشان سی ہوتی ادھر اُدھر دیکھنے لگی تبھی ایک بلیک گاڑی کھڑی نظر آئی۔
"یہ تو ہماری گاڑی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ سر نفی میں ہلاتی واپسی کے لیے قدم موڑے کہ اپنے پیچھے کھڑے اُس چھ فٹ سے نکلتے قد والے برزل ابراہیم کو دیکھ کر دل اُچھل کر نہ صرف حلق میں آ رُکا تھا بلکہ اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا سانس نیچے اٹک گیا تھا۔
"یقننا بُرا تو بلکل نہیں لگا ہوگا مجھے یہاں دیکھ کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ اپنے دونوں ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں پھنسائے دلچسبی سے اس کے تاثرات جانچنے لگا۔
"میں_میں نے،یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ اپنے خُشک لبوں پر زبان پھیرتی اپنا انگوٹھی والا ہاتھ آگے کر گئی جیسے کہہ رہی ہو کہ میں نے رنگ پہن لی ہے اب کیا لینے آئے ہو۔
"نائس۔۔۔۔۔۔۔۔"برزل ابراہیم نے رنگ کو اپنے ہاتھوں کی دو پوروں سے چھو کر سراہا تھا جو جلدی سے نہ صرف اپنا ہاتھ پیچھے کر گئی بلکہ خود بھی دو قدم پیچھے ہٹی تھی۔
"ویل،گاڑی میں چلنا زرا،مجھے تم سے کام ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ اسکی گھبراہٹ کا جائزہ لیتا بے نیازی سے بولا۔
"نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"فاریسہ قطعیت سے انکار کر گئی مگر اس کے دیکھنے پر جلدی سے وضاحت دینے لگی۔
"وہ،مجھے گھر_جانا ہے،وہ میرا،ڈرائیور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
"میں نے ہی بلوایا ہے تمہیں،تمہارا ڈرائیور ٹھیک ایک گھنٹے بعد اپنے ٹائم پر ہی آئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"فاریسہ حیرت کے شدید جھٹکے کے زیر اثر اُسے دیکھنے لگی۔
"آ،آپ،آپ نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ خود کو کوسنے لگی کہ گیٹ سے باہر ہی کیوں نکلی پہلے ڈرائیور کی نشانداہی تو کر لیتی مگر وہ فاریسہ اعوان تھی سب کے حکم پر سر خم کرنے والی اتنی سمجھداری کا مظاہرا کیسے کر سکتی تھی۔۔
"اب چلو گی کہ مجھے تمہارا ہاتھ پکڑ کر یا بازو سے کھینچ کر زبردستی گاڑی میں لے جانے کی دھمکی دینی ہو گی،اگر ایسا ہی کوئی سین کریٹ کرنا چاہتی ہو تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"برزل ابراہیم نے اپنے ازلی لاپرواہی والے انداز میں کندھے اُچکائے تھے جبکہ فاریسہ سر نفی میں ہلاتی قدم بڑھا گئی اور اپنے دھک دھک کرتے دل کو قابو میں کرتی کن انکھیوں سے کالج کے گیٹ کی طرف دیکھنے لگی جو بند ہو چُکا تھا پھر سڑک کی دفعہ دیکھا جہاں اس وقت اُکا دُکا گاڑیاں گزر رہی تھیں وہ اس سے بچنے کے لیے کُچھ بھی نہیں کر سکتی تھی سوائے رونے کے اور اُس نے ویسا ہی کیا تھا اُسکی آنکھوں میں پانی اکھٹا ہونے لگا تھا وہ ہمیشہ کی طرح اب بھی اُس کے سامنے بے بس ہو گئی تھی۔
گاڑی کی پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولا گیا تھا وہ بیگ سمبنھالتی اندر بیٹھ گئی اندر بیٹھنے پر اُسے اندازہ ہوا وہ کوئی کار نہیں تھی بلکہ آمنے سامنے سیٹوں والی کوئی اور ہی گاڑی تھی جس کی سیٹوں کے درمیان ایک ٹیبل تھا جس میں دو تین قسم کے کھانے تھے اپنے ڈر،اپنی بے بسی سے آنکھوں میں آ جانے والے آنسوؤں کو صاف کرتی وہ یہ نہیں دیکھ سکی تھی کہ دو آدمی فرنٹ سیٹس سے اُٹھ کر جا کر باہر کھڑے ہو گئے تھے۔
"اصل میں مجھے لنچ کرنا تھا تو میں نے سوچا کیوں نہ تمہارے ساتھ کیا جائے،دوسرا شکریہ بھی تو وصول کرنا تھا اس ادنی سی چیز کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ رنگ کی طرف اشارہ کرتا پانی کی بوتل منہ سے لگا گیا۔فاریسہ کا دل کیا کہ وہ رنگ اُتار کر اس کے منہ پر دے ماڑے مگر وہ ایسا کر نہیں پائی تھی کیونکہ اُس کے اندر ایسا کرنے کی ہمت نہیں تھی اسلیے تو اپنی کم ہمتی پر آرام سے آنسو بہانے لگی تھی۔
"تمہیں لگتا ہے کہ مجھے تمہارے ان آنسوؤں سے فرق پڑے گا،بلکل نہیں میرا اور تمہارا ایسا کوئی رشتہ نہیں کہ تم آنسو بہاؤ اور میں کہوں کہ مت رو تمہارے آنسو میرے دل پر گڑ رہے ہیں،سو یہ صاف کرو اور سکون سے کچھ باتیں سُنو اور چلی جانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"اس کی طرف ٹشو پیپر بڑھایا جسے فاریسہ نے مرے مرے ہاتھ سے تھام کر آنسو صاف کرنے لگی جو اس کھٹور کی باتوں پر بلاوجہ ہی آئے جا رہے تھے۔