Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz Readelle50262 Tera Ishq Jaan Lewa (Episode 06)
Rate this Novel
Tera Ishq Jaan Lewa (Episode 06)
Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz
نازر اعوان موبائل ہاتھ میں پکڑے کسی گہری سوچ میں مبتلا تھا کہ موبائل کی رنگ ٹون نے اُسے سوچ کی گہرائی سے نکالتے ہوئے اپنی طرف متوجہ کیا۔
“رئیس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رئیس کا نمبر دیکھ کر وہ پُرجوش ہوتا کال یس کر کے کان سے لگا گیا۔
“ہاں بولو ایس پی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”دوسری طرف سے رئیس کی بھاری اور روب دار آواز اُسکی سماعتوں سے ٹکڑائی۔
“مجھے تم سے کسی اہم مسلے میں مدد چاہئیے اس لیے تم سے ملنا چاہتا ہوں میں جتنی جلدی ہو سکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“آج تو مجھے برجیس کے جنازے میں شرکت کرنی ہے،کل کسی وقت بھی تم آ سکتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ٹھیک ہے پھر کل فارم ہاوس میں ملتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نازر اعوان نے ایک بوجھ سر سے سرکتا ہوا محسوس کیا تھا وہ جلد سے جلد برزل ابراہیم سے بدلہ لینا چاہتا تھا اور وہ جتنا اب تک برزل ابراہیم کو جان پایا تھا اُسے اتنا معلوم ہو چکا تھا کہ یہ کوئی عام آدمی نہیں ہے۔
“سر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”تبھی ایس ایچ اوہ نسیم کمرے میں داخل ہوتا نازر اعوان کو اپنی طرف متوجہ کر گیا۔
“ہاں بولونسیم کیا بنا دلاج آفندی کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“سر اُسکی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ وہ برجیس آفندی کو قتل تو کر گئی تھی مگر اپنے پکڑنے جانے کے خوف میں اس قدر مبتلا ہو گئی تھی کہ اُسکا دماغ یہ ٹینشن قبول نہیں کر پایا اور اُسکا دماغی توازن بگڑ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نسیم کے بتانے پر نازر اعوان پرسوچ انداز میں سر ہلا گیا۔
“نہ جانے کیوں میری چھٹی حس کہتی ہے کہ اس میں کسی تیسرے کا ہاتھ ہے مگر ہمارے ہاتھ کوئی بھی ثبوت نہیں جس کی وجہ سے اس کیس کو بند کرنا ہی پڑے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اور دوسرے کام کا کیا بنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نازر اعوان نے سوالیہ نگاہوں سے نسیم کو دیکھا۔
“آپ کے حکم کے مطابق ہم نے برزل ابراہیم پر اپنی پُوری نگاہ رکھی ہے،فلحال وہ اپنے گھر اور بی_سکائے شوروم کے علاوہ کہیں نہیں جا رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تم پھربھی اُس پر گہری نظر رکھو،وہ کہاں آتا جاتا ہے کس سے ملتا ہے ایک ایک پل کی اطلاع دو مجھے،اُسے تم کوئی عام انسان مت سمجھو نسیم،وہ ایک پُرسرار شخص ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نازر اعوان نے نسیم کو باور کروایا تھا کیونکہ نسیم کی اب تک کی تحقیق کے مطابق وہ ایک عام شہری ہی تھا۔
!____________________________________________!
دوپہر کا سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا اُسکی روشنی کھڑکی سے ہوتی چھن سے اُن کے کمرے سے ٹکڑا رہی تھی فاریسہ اپنی نیند پوری کر چُکی تھی اس لیے کسکسما کر وہ آنکھیں کھولتی پہلے تو اس نئے منظر اور اپنی یہاں موجودگی کو سمجھتی چت لیٹی رہی پھر پاس کسی دوسرے کی موجودگی کا تعین کرتی وہ چہرا موڑ کر اپنے دائیں پہلو میں لیٹے برزل ابراہیم کو دیکھ کر دھک رہ گئی جو آرام دہ آنکھیں موندیں پُرسکون نیند لے رہا تھا فاریسہ ایک جھٹکے سے اُٹھ کر بیٹھی اور اس سے پہلے کے بیڈ سے اُترتی اُسکا ہاتھ برزل ابراہیم کی مظبوط گرفت میں آ چُکا تھا وہ جہاں تھی وہی دم سادھ گئی۔
“اتنی بُری شکل بھی نہیں ہے میری کہ تم یوں ڈر کر بھاگو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُٹھ بیٹھا تھا۔
“میری طرف دیکھنے کا شرف بخشو گی کہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُس سے مخاطب ہوا جو بلکل ساکت تھی برزل ابراہیم جانتا تھا کہ وہ اس کی طرف دیکھنے کی ہمت کبھی بھی نہیں کر سکتی تھی اس لیے وہ اُس کے بازو سے پکڑ کر نہ صرف اُسکا رُخ اپنی جانب کیا تھا بلکہ اپنے ہاتھ سے اُسکا چہرہ اونچا کیا تھا۔
“کیا تم مجھ سے ڈر رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس سوال کا جواب وہ بہتر جانتا تھا مگر پھر بھی پوچھ رہا تھا اصل میں وہ اس سے بات کر کے اس کا ڈر ختم کرنا چاہتا تھا۔
“بتاؤ،کچھ پوچھ رہا ہوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے اُس کے ہاتھ کو اپنی گرفت میں لیا جو بلکل ٹھنڈا ہو رہا تھا فاریسہ خشک لبوں پر زبان پھرتی سر اثبات میں ہلا گئی تھی اور لبوں سے “نہیں” کہہ کر برزل کو مسکرانے پر مجبور کر گئی۔
“میرا نہیں خیال کہ اب تمہیں مجھ سے ڈرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اب تم مسز برزل ابراہیم ہو جس کے سامنے میں بھی کبھی آواز بلند نہیں کر پاؤنگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے نرم لہجے اور بات کے مطلب پر وہ پہلی مرتبہ اسے دیکھنے لگی جو نگاہوں میں ایک خاص تاثر لیے اسے دیکھ رہا تھا فاریسہ اُسکی نظروں کے تسلسل سے گڑبڑا کر نظریں جُھکا گئی۔
“کیا تم کچھ بول کر مجھ پر احسان کرو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟اُس کے ہاتھ کو ہلکے سے دبایا تھا جبکہ فاریسہ کے اس کے انداز اور اس کے اتنے قریب ہونے پر پسینے چھوٹ رہے تھے وہ کبھی بھی اتنی بہادر نہ رہی تھی کہ کسی بھی مرد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکے اور اب تو اُس کے سامنے برزل ابراہیم تھا جس کا ڈر پہلی ملاقات میں ہی اُس کے اندر بیٹھ چُکا تھا۔
“وہ،ا،احسن،بھائی،وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رات سے وہ اپنے بھائی کی وجہ سے پریشان تھی کہ برزل ابراہیم کی قید سے وہ آزاد ہوا تھا یا نہیں؟
“وہ تو کل کا گھر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل اُسکی بات کا مطلب سمجھ کر بتانے لگا۔
“اُسے نقصان پہنچانا میرا مقصد نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تو پھر کیا مقصد تھا آپکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بولی تو نہیں تھی مگر اُسکی آنکھوں میں یہی سوال اُبھرا تھا جسے برزل ابراہیم پڑھ کر زیرلب مُسکرایا۔
“میرا مقصد تمہیں اس حیثیت سے اس جگہ تک لانا تھا جہاں تم اب براجمان ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ ایک پل کو رُکا پھر کہنے لگا۔
“یہ گھر اب تمہارا ہے یہاں صرف تمہاری مرضی چلے گی،جس کو چاہو گی وہی اس گھر میں رہے گا،تم اپنی مرضی سے ہر کام کر سکتی ہو کوئی روک ٹوک کرنے والا نہیں ہوگا،جیسے چاہو رہو،جہاں دل کرے جانا بس گھر سے باہر جانا ہو تو وہ میرے علم میں لائے بغیر مت جانا اس کے علاوہ کسی کام میں بھی تم سے زبردستی نہیں کی جائے گی،یہی سمجھو کہ تم سے نکاح جو زبردستی کیا ہے اس کے بدلے تمہیں ہر قسم کی آزادی دے رہا ہوں بس خود سے آزاد اب ساری زندگی نہیں کرونگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ جیسے ہر کام میں مہارت رکھتا تھا ایسے دلوں کو جیتنے کے فن سے بھی بخوبی واقف تھا وہ جانتا تھا اُس کے سامنے وہ لڑکی بیٹھی ہے جو ساری زندگی اپنی مرضی کرنے کو ترستی آئی ہے اُس کے ہاتھ میں “جیسے چاہو جیو” کی چابی پکڑا کر وہ اُس لڑکی کے دل میں ایک خوش کن احساس پیدا کر گیا تھا وہ حیرت سے اُسکی طرف دیکھتی جیسے اُسے سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی اُسے بلکل توقع نہیں تھی کہ برزل ابراہیم اُسے یہ سب کہے گا وہ تو یہی سمجھ رہی تھی کہ باپ کی دشمنی کی بھینٹ چڑھتی وہ ایک قید خانے سے نکل کر دوسرے قید خانے میں جا رہی تھی مگر برزل ابراہیم کا رویعہ اُسے انجانہ سا سکون دے گیا تھا۔
“تمہیں اس گھر میں عزت،اعتبار،محبت اور خوشیاں سب کچھ ملے گا بس بدلے میں تمہیں مجھ سے ایک وعدہ کرنا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”میٹھے لہجے میں بولتا اُس کے ہاتھ پر دباؤ بڑھا گیا فاریسہ نے کچھ خوفزدہ نگاہوں سے دیکھا کہ پتہ نہیں کیا مانگنے والا ہے۔
“میں ہمیشہ تمہاری خوشی کو اہیمت دونگا،کبھی وہ کام نہیں ہوگا جس میں تمہاری مرضی شامل نہ ہو بس اس کے بدلے میں تم سے ایک چیز مانگوں گا اور وہ ہے کہ تم میری زندگی تک مجھ سے دور نہیں جاؤ گی،کبھی بھی اُس راستے پر نہیں چلو گی جو تمہیں مجھ سے دور لے جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”محبت چاہت کیا کچھ نہیں تھا اُس کے لہجے میں برزل ابراہیم محبت کے معاملے میں اپنی انا اپنا غرور سب اس لڑکی پر وار گیا تھا اور محبت کا اصول بھی یہی تھا جس سے ہو جائے پھر اُس کے سامنے سب ہار جانے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں بچتا۔
“تمہارے حصے میں یہ گھر،عزت،محبت،آزادی اور میرے حصے میں صرف تُم،بولو منظور ہے نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم نہیں جانتا تھا کہ وہ فاریسہ کو کیا کچھ سونپ گیا تھا ہر لڑکی کی یہی تو خواہش ہوتی ہے اور فاریسہ تو شروع سے ان چیزوں کو ترستی آئی ہے۔
فاریسہ نے اپنی گھنی پلکیں اُٹھا کر اس خوبرو چہرے والے برزل ابراہیم کی طرف دیکھا جو پوری جان سے اس کی طرف متوجہ تھا فاریسہ نے آہستہ سے سر ہلا دیا،
“بہت شکریہ میم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے چہرے پر آسودگی بھری مسکراہٹ تھی۔
“میرے خیال میں اب کچھ کھا لینا چاہیئے،ناشتے کا تو ٹائم گزر گیا،اب لنچ ہی کرنا پڑے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس کا ہلکے سے دبا کر وہ اُٹھ کھڑا ہوا فاریسہ نے اپنے ہاتھ کو دیکھا جہاں ابھی بھی برزل ابراہیم کا لمس دہک رہا تھا زندگی میں پہلی دفعہ کسی مرد نے اُسے چُھوا تھا اور پہلی مرتبہ ہی اُس کی دھڑکن یوں بے ترتیب ہوئی تھی۔
“میں فریش ہونے جا رہا ہوں،مس زونا کو لنچ کا کہہ دینا اور ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُسکی طرف پلٹا جو وہی بیٹھی ہوئی تھی۔
“یہ ڈریسنگ روم ہے یہاں تمہارے کپڑوں سے لے کر جیولری تک ہر چیز موجود ہے،جو اچھا لگے پہن لینا جو نہ لگے اُسکی طرف دیکھنا بھی مت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”کہتے ہوئے وہ واشروم میں گھس گیا جبکہ فاریسہ حیران سی اُٹھ کھڑی ہوئی۔
“میرے کپڑے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ حیرت زدہ تھی اُسی حیرانگی کو دور کرنے کے لیے وہ ڈریسنگ روم کی طرف آئی وارڈرب کی سلائیڈ ہٹا کر بائیں جانب دیکھا تو حیرانگی میں اضافہ ہو چلا تھا۔
ایک طرف رنگ برنگے کپڑوں کی قطاریں تھیں تو دوسری طرف جوتے،اگر ایک طرف ہینڈ بیگز کی کولیکشن تھی تو دوسری طرف جیولری اور بہت ساری استمال کی وہ چیزیں جن کو دیکھ کر وہ لال سُرخ ہوتی سلائیڈ بند کرتی واپس آ گئی اور واش روم سے پانی گرنے کی آواز کا اندازہ کرتی وہ کمرے سے باہر نکل آئی جہاں لاؤنج میں ہی اُسے مس زونا مل گئی۔
“جی میم،کچھ چاہیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟اُس کے پوچھنے پر اس نے فقط سر ہلا دیا۔
“جی کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مس زونا پوری طرح مودب تھی فاریسہ کچھ ہچکچا گئی پھر خود میں ہمت پاتی بولی۔
“وہ لنچ کا کہہ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اوکے میم،دس منٹ تک آپکا لنچ کمرے میں آ جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مس زونا کہتی ہوئی کچن کی طرف چل دی فاریسہ لب کاٹتی وہی صوفے پر ٹک گئی اور برزل ابراہیم کی باتوں پر غور و فکر کرنے لگی وہ جس طرح کے حالات کا سامنا کر کے اس گھر میں موجود تھی کیا اب آسانی سے سب فراموش کرکے وہ ایک پُرسکون زندگی گزار سکتی تھی؟
!_________________________________________!
وہ موبائل پر سینڈ ہوا ایڈریس غور سے دیکھتا اپنے مطلوبہ پتے پر آ کر گہری سانس بھر گیا دس مرلے کا وہ گھر دیکھنے کے لائق تھا اُس نے گیٹ پر موجود بیل کا بٹن دبایا اور کسی کے آنے کا ویٹ کرنے لگا دو منٹ بعد ہی ایک ستر سالہ شخص اُس کے سامنے تھا اُن پر سلامتی بھیجتا وہ اپنے مدعے پر آیا۔
“کیا یہ زوالفقار صاحب کا گھر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
“نہیں بیٹا،یہ تو میرا گھر ہے اور میرا نام امیر علی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”امیر علی اسے پہچاننے کی ناکام کوشش کرتا بولا تو وہ لب بھینچ گیا۔
“اصل میں جہاں تک مجھے اطلاع دی گئی ہے یہاں زوالفقار صاحب رہتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ہمارے آنے سے پہلے رہتے ہونگے کیونکہ یہ گھر ہم نے بیس سال پہلے ہی خریدا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”امیر علی کی اطلاع اُسے کچھ بے سکون کر گئی تھی۔
“کیا آپ بتا سکتے ہیں جنہوں نے آپ کو یہ گھر بیچا اُنکا کوئی نام پتہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مجھے اور تو کچھ نہیں پتہ بس اتنا یاد ہے کہ یہ گھر میں نے اپنے چچازاد بھائی سرور علی کے توسط سے لیا تھا،اس گھر کے پرانے مالک مکان سرور علی کے دوست تھے اس سے زیادہ مجھے کچھ پتہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا سرور علی کا ایڈریس دے سکتے ہیں آپ مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے ہاتھ میں ایک نئی اُمید کی کرن آئی تھی مگر امیر علی کی اگلی بات نے اُس کرن کو بھی بجھا دیا تھا۔
“اُسکا تو کچھ سال پہلے ہی انتقال ہو گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اوہ،اوکے بہت شکریہ آپکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”جلدی سے کہتا وہ وہاں سے ہٹ گیا امیر علی جو اس کے بارے میں جاننا چاہتے تھے اسے یوں جاتا دیکھ کر اپنے گھر کو ہو لیے۔
“یا اللہ کتنے سال ہو گئے مجھے اُس بندے کو تلاشتے ہوئے،پلیز میری مدد فرما اور میں اس تلاش میں کامیاب ہو جاؤں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”زیرلب اللہ سے کہتا وہ لمبے لمبے بھرتا وہاں سے چل دیا۔
!___________________________________________!
برزل ابراہیم اپنے آفس میں بیٹھا فائلز دیکھ رہا تھا کہ مجید دستک دیتا اس کے مصروف سے انداز میں ‘یس’ کے الفاظ اپنے کانوں میں انڈیلتا اندر داخل ہوا۔
“سر آپ سے ملنے کوئی اعجاز سہگل آیا ہے،کہتا ہے ضروری ملنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اعجاذ سہگل۔۔۔۔۔۔۔”وہ اس نام کے کسی آدمی کو نہیں جانتا تھا۔
“اوکے بھیج دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ دوبارہ سے فائلز پر جھک گیا۔
“سر مجھے وہ آدمی مشکوک لگتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مجید کی بات پر وہ مسکرایا۔
“مجید میرے خیال میں تمہیں اس شوروم میں نہیں کسی کرائم برانچ میں ہونا چاہیئے تھا ہر کوئی تمہیں مشکوک لگتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“سر اس بار شک کچھ غلط نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اچھا،وہ کیسے۔۔۔۔۔۔۔۔؟برزل ابراہیم نے دلچسپی سے پوچھا۔
“سر وہ پہلے ہمارے شوروم میں آتا ہے اور کہتا ہے کہ اُسے وہ گاڑی چاہئیے جو برزل ابراہیم تک باآسانی اُسے پہنچا سکے،پھر وہ برزل ابراہیم کے زیر استمال گاڑیوں کو دیکھنے کے بعد برزل ابراہیم کے متلعق جاننے کی کوشش کرتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ مجھے اُس سے ملنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ویل،مجید بھیجو زرا اُسے تا کہ برزل ابراہیم سے یادگار ملاقات کروائی جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم کو بھی دال میں کچھ کالا لگا تھا مجید مسکرا کر باہر چل دیا دو منٹ بعد ہی ایک چالیس سالہ پینٹ کوٹ میں ملبوس اعجاز سہگل نامی شخص کمرے میں داخل ہوا۔
“بہت حسرت تھی آپ سے ملنے کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل کو دیکھتا وہ مسکرایا تھا برزل نے غور سے اُسکی آنکھوں میں دیکھا جہاں ایک عجیب سی مسکراہٹ کندہ تھی۔
“ایسا بھی کیا ہے اس نا چیز انسان میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے پیون کو چائے کے کپ رکھتے ہوئے دیکھ کر کہا۔
“یہ تو آپ غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں خود کو ناچیز کہہ کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اعجاز سہگل نے چائے کا کپ پکڑ کر لبوں سے لگا لیا۔
“بات کو گھما پھرا کر کرنے کے بجائے سیدھی طرح کلیر کر دیں تو ہم دونوں کا بہت سا قیمتی وقت برباد ہونے سے بچ سکتا ہے،دوسرا میں ایک شریف آدمی اس طرح کے اُلجھے دھاگے نہیں سُلجھا سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم نے دو ٹوک بات کی جس پر اعجاز سہگل ہنس دیا۔
“شریف آدمی۔بہت خوب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
برزل ابراہیم نے بمشکل خود پر کنٹرول کیا تھا کیونکہ وہ کچھ ایسا نہیں کرنا چاہتا تھا جس سے لوگوں کو اس کو جاننے میں پرکھنے میں دلچسبی ہونے لگے۔
“میں نے سر فصیح سے بہت کچھ سن رکھا تھا آپ کے بارے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ شاید اسے چونکانا چاہتا تھا برزل ابراہیم جو اپنے تاثرات کو کنٹرول کرنا جانتا تھا اس لیے حیرت سے بولا۔
“کون سر فصیح۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
“ارے مجھ سے چھپانے کا کوئی فائدہ نہیں،میں سب جانتا ہوں،اصل میں سر فصیح مجھے اپنا دوست مانتے ہیں ورنہ خود سوچو اتنا بڑا راز وہ بھلا کیونکر مجھے بتائیں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ ریلیکس انداز میں بولتا مسکرایا۔
“ویل،لگتا ہے آپ کو بہت بڑی غلط فہمی ہوئی ہے،آپ کسی اور آدمی کی تلاش میں غلط آدمی کے پاس آ چُکے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل کے انداز میں کہیں بھی گربڑاہٹ نہیں تھی وہ بہت پُرسکون تھا۔
“بلکل بھی نہیں،اس آدمی کی تلاش میں،میں نے سات سال برباد کیے ہیں،برزل ابراہیم کی کھوج مجھے کہاں سے کہاں تک لے گئی ہے یہ تم نہیں جانتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“میں جاننا چاہتا ہوں کہ آپ میری کھوج میں کیونکر تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”موبائل ہاتھ میں لیے کچھ ٹائپ کرتا وہ مُسکرا کر پوچھنے لگا۔
“میں دیکھنا چاہتا تھا آخرکار وہ کون ہے جو نائن گروپ کا سب سے بڑا دشمن ہے مگر کوئی اسے نہیں جانتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اعجاز سہگل کے انداز میں کچھ تھا برزل ابراہیم کے تاثرات بدلے تھے۔
“نائن گروپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ نہ سمجھی سے دیکھنے لگا۔
“برزل،برزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسکے معصوم بننے پر ہنسا تھا۔
“تم بہت تیز ہو،بہت دماغ ہے تمہارے پاس اور اُسکا استمال تم اچھے سے کرنا جانتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سرہانے لگا برزل نے سر ہلاتے ہوئے آخری الفاظ ٹائپ کیے اور موبائل ٹیبل پر رکھ دیا۔
“آپ کیا کہنا چاہتے ہیں،مجھے تو کسی بات کی سمجھ نہیں آ رہی مسٹر سہگل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اعجاز سہگل کی ٹائی پن کو اپنی نظروں کی گرفت میں لیے وہ بلکل پُرسکون تھا۔
“برزل ابراہیم بس کرو اب،میں تمہیں جان چُکا ہوں اور تمہارے لیے سر فصیح کی نائن گروپ کی لسٹ لے کر آیا ہوں،آئی تھنک اسے پڑھ کر تم خود کو مزید چھپا نہیں سکو گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اپنی جیب سے ایک چٹ نکال کر اُسکی طرف بڑھائی برزل نے تھام کر ایک نظر اُس پر ڈالی اور بے تاثر انداز میں بولا۔
“یہ سب کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟وہ برزل ابراہیم تھا اعجاز سہگل گہری سانس بھر کر رہ گیا۔
“لگتا ہے آپ اپنا اور میرا وقت ضائع کرنے آئے ہیں،اپنا مطلوبہ شخص ڈھونڈنے کے لیے آپکو بی_سکائے پیلس نہ کافی ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سپاٹ لہجے میں برزل ابرہیم بولتا اُسے جانے کا اشارہ کر گیا اعجاز سہگل اپنی ناکامی پر گہری سانس بھرتا وہاں سے نکل گیا۔
اُس کے جانے کے بعد برزل ابراہیم نے اُس چٹ کو دوبارہ دیکھا اور مُسکرادیا۔
“آہ بیوقوف دُشمن،جو چیز مجھے کچھ کنفیوز کر رہی تھی وہ تم نے خود ہی کلیر کر دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
دس منٹ بعد ہی سلیمان کمرے میں داخل ہوا برزل نے سوالیہ انداز میں دیکھا۔
“بھائی آپ کے حُکم کے مطابق کام ہو گیا،اُسکی گاڑی موٹر وے پر چڑھتی ہی بلاسٹ ہوگئی اور وجہ وہی گیس لیک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان کی اطلاع پر وہ پُرسکون ہوا۔
“بے چارہ اعجاز سہگل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“یہ کون تھا بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان جاننا چاہتا تھا۔
“وہی آدمی جس کے بارے میں سر فصیح نے کہا تھا کہ کوئی میری کھوج میں ہے،کوئی میری حقیقت اور نائن گروپ کا راز جاننے کی کوشش میں ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ پابھی گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم کرسی سے اُٹھ کھڑا ہوا۔
“تو بھائی اسے مارنے سے بہتر تھا کہ اسے پکڑ کر سب کچھ پتہ کروا لیتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“میں تھوڑی سی معلومات کی خاطر کوئی بڑا خطرہ پیدا نہیں کرنا چاہتا تھاسلیمان،وہ آدمی کسی کے ساتھ کنیکٹڈ تھا اُسکی ٹائی پن پر کیمرہ لگا تھا مطلب کہ ہماری ملاقات کسی اور کی نظر میں بھی تھی اور میں اُسے قید کر کے سب کے شکوک پر یقین کی مہر نہیں لگانا چاہتا تھا،اس لیے تمہیں کہا کہ اُس کی گاڑی میں ہی اُسکی موت کا سامان تیار کرو تا کہ اُس کے کنیکٹڈ مین کو لگے وہ خود مرا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مطلب کوئی ہے ایسا جو ہمیں فالو کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان کے کہنے پر برزل ابراہیم نے مسکرا کر اُسکی طرف دیکھا۔
“کرنے دو سلیمان،اس سے ہمارا کام اور آسان ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“سب سے پہلے یہ پتہ لگانے ہوگا کہ اعجاز سہگل کس کے لیے کام کرتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“یہ جاننا مشکل نہیں ہوگا بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان نے پُراعتماد لہجے میں یقین دلایا۔
“اعجاز سہگل جاتے ہوئے ایک بہت اچھا کام کر گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل مسکرا کر ٹیبل کی طرف آیا اور وہ چٹ ہاتھ میں لی۔
“نائن گروپ کے نام ہیں اس میں اور سب سے مزے کی بات کہ مسز اور مسٹر وقار رانا کا نام نہیں ہے اس میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مطلب کہ وہ ان دونوں کو ہماری نظروں سے ہٹانا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ہاں وہ جس آدمی کے ساتھ بھی تعلق رکھتا تھا وہ ان دونوں کو بچانا چاہتا تھا کیونکہ یہ دونوں میاں بیوی ہمیں اُس آدمی تک پہنچا سکتے ہیں تمہاری اطلاع کے مطابق مسز رانا ہی دلاج آفندی کو ملنے آئی تھی،مطلب یہی بندی ہماری راہیں ہموار کرے گی اور یہ دونوں میاں بیوی نہ صرف نائن گروپ کی بربادی کی وجہ بنے گئے بلکہ میرے مقصد میں بھی کامیابی دلوا سکتے ہیں،جس مقصد کے لیے میں اب تک جیتا آیا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آخر میں اُسکی آنکھوں کی سُرخی بڑھ گئی تھی سلیمان جو انکی وجہ اچھی طرح جانتا تھا لب بھینچ گیا۔
“انشاءاللہ بھائی ہم بہت قریب آ چکے ہیں انکے اور کامیابی ہمیں ہی ملے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“انشاءاللہ سلیمان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُس دُکھ کی کیفیت سے جلد نکل آیا۔
“سب سے پہلے میں مسٹر اور مسز وقار رانا تک رسائی حاصل کرونگا اور تم مسز رانا کے پورے ملک میں جتنے بھی دارلامان ہیں اُنکی لسٹ اور تمام سیکیورٹی بیچ کو انڈرلائن کرو گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“وہ تو ہو جائے گا مگر وہ عورتوں کی جائے پناہ ہے،ہم کس طرح اندر داخل ہونگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
“حیدر داخل ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم سکون سے بولتا اُسے حیران کر گیا۔
“وہ بھی تو لڑکا ہے کسطرح عورتوں اور لڑکیوں کے بیچ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“لڑکا ہے مگر اُسے دوسری مخلوق بنانے میں صرف ڈوپٹہ اور ایک لپ اسٹک کی ضرورت ہو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم نے مسکراہٹ روکی تھی اور سلیمان حیرت زدہ ہنس دیا۔
“حیدر نہیں مانے گا بلکہ پورے گھر میں ڈانس کرے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اور ہم اُسی ڈانس کا فائدہ اُٹھا لیں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابرہیم کی شرارتی مسکراہٹ سلیمان کو بھی مسکرانے پر مجبور کر گئی۔
!____________________________________________!
فاریسہ برزل ابراہیم کی غیر موجودگی کا فائدہ اُٹھاتی ہوئی اُس کے لائے گئے ڈریس میں سے بلیک سوٹ کا انتخاب کرتی اُسے اپنے تن پر سجاہ گئی تھی اُسے یہاں آج تیسرا دن تھا اور برزل ابراہیم اُس لنچ کے بعد گیا ابھی تک نہ واپس آیا تھا فاریسہ اُسے بلکل یاد نہیں کرنا چاہتی تھی مگر پھر بھی سوچ میں تھی کہ وہ دو دن سے تھا کہاں؟
“بابا نے کہا تھا وہ بہت بڑا مجرم ہے،تو مجرم گھر میں نہیں رہتے کہ پولیس نہ پکڑ لے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ دل و دماغ کو باور کرواتی کمرے سے نکل آئی۔
برزل ابراہیم کی غیر موجودگی میں وہ بس کمرے کی ہو کر رہ گئی تھی مس زونا سے ناشتہ کھانا سب کمرے میں ہی منگوا لیتی تھی ایک دو دفعہ کمرے سے نکل کر لاؤنج تک گئی مگر پھر اپنے گھر کی یاد اور برزل ابراہیم کی زور زبردستی یاد کر کے غم زدہ سی کمرہ نشین ہو گئی مگر دو دن اپنے دکھ میں اچھا سا ٹائم بتا کر وہ اب خود کو فریش محسوس کر رہی تھی اس لیے آج نہ صرف کمرے سے باہر نکلی بلکہ سارا گھر بھی دیکھ چکی تھی جو اسے بہت پسند آیا تھا۔
سب جگہ دیکھتی وہ کچن کی طرف آئی وہ بہت مسرور تھی کہ یہ شاندار گھر اُسکا ہے اس کے ساتھ ساتھ ایک شاندار برزل ابراہیم بھی اُسکا ہے یہ وہ سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی سامنے سے آتے حیدر کو دیکھ وہ ہچکچا کر رک گئی شادی کے دن کے بعد یہ دوسری ملاقات تھی۔
“کیسی ہیں بھابھی آپ………..؟حیدر مسکراتے ہوئے پوچھنے لگا فاریسہ نے بس سر ہلانے پر اکتفا کیا۔
“میں آپکا دیور حیدر ہوں،بھائی نے تو ہمارا تعارف بھی نہیں کروایا کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ ہماری دوستی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”.
“کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”بے ساختہ اُس کے لبوں سے پھسلا تھا۔
“ادھر آئیے میں بتاتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر اُسے لاؤنج میں بیٹھنے کا اشارہ کرتا صوفے پر بیٹھ گیا اس وقت جو حیدر کے دماغ میں چل رہا تھا وہ برزل ابراہیم کے لیے نہ قابل برداشت ہونے والا تھا۔
!___________________________________________!
