Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz Readelle50262

Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz Readelle50262 Tera Ishq Jaan Lewa (Episode 17)

54.5K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Ishq Jaan Lewa (Episode 17)

Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz

نازر اعوان مر گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم کو یہ اطلاع صبح سات بجے ہی مل چکی تھی اور تب سے وہ اپنے کمرے میں چکر لگاتا فاریسہ کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ اسے یہ خبر دینی چاہئیے یا نہیں اگر نہیں تو کس طرح روکا جائے اور اگر ہاں تو کیسے اسے اس غم سے دو چار کیا جائے۔

آج برزل ابراہیم اپنے ماں باپ کے قاتل کو اپنے انجام تک پہنچا کر پُرسکون ہو گیا تھا ورنہ پندرہ سالوں سے وہ اذیت میں مبتلا تھا کہ اس کے ماں باپ کا قاتل کیسے گھوم پھر رہا ہے جس نے ایک بہن کو اپنے ہاتھوں سے موت کے گھانٹ اتار دیا تھا اور ابراہیم کو کسی جعلی کیس میں گرفتار کروا کر پولیس مقابلے کا نام دے کر ابدی نیند سلا دیا تھا۔برزل ابراہیم تب اپنے چاچو،چچی اور حیدر کے ساتھ اپنی آنسہ پھوپھو کے پاس گیا ہوا تھا جبکہ نینا جسکی عائشہ کے ساتھ بہت بنتی تھی وہ عائشہ کے ساتھ ہی رک گئی جس سے نازر اعوان کو لگا کہ عائشہ کی بیٹی ہے جسے اس نے اغوا کروا دیا تھا مگر بعد میں اغوا کرنے والا آدمی فرار ہو گیا تو نازر اعوان نے اس خبر کو کچھ اہمیت نہ دی بلکہ جان چھوٹی کہہ کر اپنی زندگی میں مگن ہو گیا۔

رفیع جو آنسہ کے شوہر بھی تھے اور ابراہیم کے کزن بھی اس کی مدد سے ہی برزل ابراہیم یہاں تک پہنچ پایا تھا کیونکہ عائشہ کی فیملی کے بارے میں ابراہیم کے علاوہ کوئی نہیں جانتے تھے اس لیے برزل کو انکو ڈھونڈنے میں کافی عرصہ کوشش کرنی پڑی اور آج اسکی یہ کوشش رنگ لائی تھی۔

وہ فاریسہ کے موبائل پر بار بار آتی مہ پارہ بیگم کی کال دیکھ چکا تھا اس لیے ایک فیصلے پر پہنچتے ہوئے اس نے کال پک کر لی۔

“فاری،تمہارے پاپا نہیں رہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مہ پارہ بیگم کی بھیگی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکڑائی۔

“اوکے وہ جنازے کے ٹائم آ جائے گی مگر ایک بات مسز اعوان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مہ پارہ بیگم جو اسکی آواز پر چونکیں تھی اس کی بات پر بولتے بولتے رک گئی۔

“فاریسہ کے ساتھ اگر کسی نے بھی مس بی ہیو کیا نہ تو مجھ سے برا کوئی نہیں اور اپنے بیٹوں سے بھی کہہ دیجئے گا بنا ثبوت اگر انہوں نے فاریسہ کے سامنے میرا نام لیا تو وہ بھی اپنی گنتی شروع کر لیں کیونکہ عائشہ ابراہیم کا خون اتنا سستا نہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم کے لہجے مین کیا کچھ نہ تھا،وارننگ غصہ اور آخر میں جس راز سے اس نے پردہ اٹھایا تھا دوسری طرف مہ پارہ بیگم تو ششدر سی اپنے بیڈ پر گرنے والے انداز میں بیٹھی تھیں وہ حق دق سی باربار برزل ابراہیم کے آخری الفاظ یاد کر رہی تھیں۔

“عائشہ کا بیٹا ہے یہ،عائشہ کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مہ پارہ بیگم نے آنکھوں میں آئے آنسوؤں کو ہاتھ سے صاف کیا وہ تو عائشہ پر کیاایک ایک ظلم جانتی تھیں۔

“تو تم اس گناہ میں بھی سرخرو ہو گئے برزل،قصاص تمہارا حق تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ ہولے سے بولیں اب انکو پتہ تھا کہ کیا کرنا ہے اس لیے اپنے دونوں بیٹوں کا انتظار کرنے لگیں تا کہ انکو سچ بتا کر ان کے اندر پلنے والے انتقام کو ختم کر سکیں۔

!_________________________!

برزل نے فاریسہ کو یہ خبر دیتے ہوئے بڑی نرمی سے اسے سھمبھالا تھا کیونکہ وہ جس طرح ٹوٹ کر بکھری تھی برزل کو اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ بھی ایک عام سے بیٹی تھی جو اپنے باپ کی سختی اور ظلم سے واقف ہو کر بھی اس سے محبت کی انتہا پر تھی۔

سلیمان خدشات کی بنا پر اعوان ہاوس میں فاریسہ کے ساتھ جانا چاہتا تھا مگر برزل نے اسے منع کر دیا اور خود ساتھ آیا تھا فاریسہ کو اندر بھیج کر وہ خود باہر ہی کھڑا رہا تھا وہ اس گھر میں داخل ہونا نہیں چاہتا تھا اس لیے تین گھنٹے وہ گاڑی میں ہی بیٹھا رہا اور ساتھ وہ اندر کی ساری خبر سلیمان سے لیتا رہا جس نے اعوان ہاوس کے کیمرے ہیک کیے ہوئے تھے۔

فاریسہ کے بھائیوں نے برزل کو دیکھ کر سوائے گھورنے کے اور کوئی ری ایکٹ نہیں کیا تھا اور کیوں نہیں کیا تھا یہ برزل اچھی طرح جانتا تھا۔

“آپ جنازے کے ساتھ نہیں جائیں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سوجھی آنکھیں لیے وہ روتی ہوئی اس کے سامنے تھی۔

“میرا بس چلتا تو میں نازر اعوان کو قبر بھی نصیب ہونے نہ دیتا اور تم جنازے کی بات کرتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے اپنے سے کچھ فاصلے پر نازر اعوان کی لاش کو سرد نگاہوں سے دیکھا تھا مگر فاریسہ کا خیال کرتے ہوئے بول اٹھا۔

“مجھے ضروری کام ہے،تم چلو اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“میں یہاں رُکنا چاہتی ہوں کچھ دن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فاریسہ کی بھیگی آواز پر برزل نے دانت پیس کر مٹھیاں بھینچ لیں تھیں اس نے بمشکل خود کو کچھ سخت کہنے سے باز رکھا تھا۔

“مجھے تو کوئی پرابلم نہیں مگر تمہارے بھائی تمہاری یہاں موجودگی سے خوش نہیں ہیں اور تم جانتی ہو کہ کس طرح کے حالات رہے ہیں اس لیے تمہیں یہاں چھوڑ کر جانا مجھے مناسب نہیں لگ رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“آپ فکر نہ کریں،وہ مجھے کچھ نہیں کہیں گئے،مما بہت رو رہی ہیں اور مجھے بھی مما کے پاس رہنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے دیکھا جس کی آنکھیں مسلسل رونے کے باعث سرخ ہو چکیں تھیں برزل کا دل کٹ کر رہ گیا مگر صرف فاریسہ کے غم سے ورنہ نازر اعوان کو وہ سو دفعہ مارنے کو تیار تھا۔

“اوکے میں کل لینے آ جاؤنگا تمہیں،اپنا خیال رکھنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے جھک کر اسکی پیشانی چومی تھی اور اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا تھا فاریسہ نے محسوس کیا تھا کہ پچھلے پانچ گھنٹوں سے اس نے ایک دفعہ بھی فاریسہ کے ساتھ اس کے بابا کے مرنے کا افسوس نہیں کیا تھا کیونکہ وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ برزل کو افسوس تو تھا ہی نہیں بس خوشی تھی جس کو وہ چھپا رہا تھا۔

!<__________________________>!

“آپ بھابھی کو وہاں کیوں چھوڑ آئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!حیدر کو فاریسہ کا وہاں رکنا پسند نہیں آیا تھا اور یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ زہر تو برزل کو بھی لگ رہا تھا۔

“میری بیوی کا باپ مرا ہے حیدر،ایک بیٹی کا باپ اب میں ایک بیٹی کی فیلگنز کیسے ہرٹ کرتا،بٹ ڈونٹ وری ایک رات کی تو بات ہے،دوسرا میری اس پر کیا اس گھر کے ایک ایک بندے پر نظر ہے،اس گھر کے باہر دو گارڈز ہیں جو میرے بندے ہیں اس گھر کے اندر ایک ملازمہ ہے جو میرے لیے کام کر رہی ہے سو اب تم اس کی ٹینشن مت لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے اسے ریلکیس کیا جس پر وہ ہو بھی گیا۔

“مس زونا کافی پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے مس زونا کو مخاطب کیا جس پر وہ سر ہلا کر کچن میں چلی گئیں۔

“یہ سلیمان بھائی کہاں جا رہے اتنے تیار شیار ہو کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر نے سلیمان کو سر سے لے کر پاؤں تک دیکھا تھا جو بلیک پینٹ پر وائٹ شرٹ اور بلیک لیدر کی جیکٹ میں بلا کا ہینڈسم لگ رہا تھا۔

“کوئی ڈیٹ کا سین ہے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر کے آنکھیں ٹپٹانے پر وہ اسے ایک مکا لگاتا باہر چلا گیا۔

“کچھ گڑ بڑ ہے بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر نے برزل کی توجہ اس طرف دلائی جو کہ اپنے موبائل پر بزی تھا۔

“کوئی گڑ بڑ نہیں ہے حیدر،وہ تمہاری طرح چوری چھپے کچھ نہیں کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“مطلب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سمجھ نہ پایا۔

“تم سہارا فاؤنڈیشن میں کس لڑکی سے ملنے گئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل کے براہ راست پوچھنے پر حیدر کی کرنٹ کی طرح اچھلا۔

“میں گیا تھا،کب،کس نے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اچھا بھلا گڑبڑا گیا تھا۔

“کیا اب اس لڑکی کے کپڑوں کا کلر بھی بتاؤں یا اس کی وہ وارننگ جو وہ تمہیں دے کر گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل کی خشمگیں نگاہوں پر وہ روہانسا ہو گیا۔

“آپ نے پھر سے امجد کو میرے پیچھے لگا دیا،بندے کی پرائیویسی بھی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“جی بلکل ہوتی ہے مگر بندے کی تم جیسے بندر کی نہیں،اب کی بار جاؤ تو زرا ہمت سے جانا اور دوٹوک بات کرنا،اگر اسے عزت دینا چاہتے ہو تو پہلے اسے اپنی عزت بناؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل اٹھ کھڑا ہوا مس زونا کے ہاتھ سے کافی کا مگ لیتا وہ اپنے کمرے میں چلا گیا جبکہ حیدر برزل کی بات پر خوش ہوتا اوہ صوری پہلی بات پر ناراض اور دوسری بات پر خوش ہوتا اب آئندہ کی ملاقات کے بارے سوچنے لگا جس میں وہ سب بتا دینا چاہتا تھا اور پرپوز بھی کرنا چاہتا تھا۔

!____________________________!

!اوہ شکر ہے تم آ تو گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”شاہانہ ایک ادا سے سلیمان کے ساتھ لگی تھی جس نے آگے سے بھی گرم جوشی دکھائی تھی۔

“تمہیں پتہ تو ہے ڈارلنگ کہ برزل ابراہیم کو ڈاج دے کر آنا کتنا مشکل کام ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ صوفے پر ٹکتا کہنے لگا۔

“تو کب تمہارا کام ختم ہوگا جب تم اس برزل ابراہیم کی غلامی سے آزاد ہو گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”شاہانہ نے ہمیشہ کی طرح سوال کیا تھا۔

“بہت جلد،میں خود بہت تنگ آ چکا ہوں تمہیں اندازہ نہیں شاہانہ اس شخص کا حکم ماننا کتنا مشکل کام ہے جس سے آپ حد سے زیادہ نفرت کرتے ہوں اور میری نفرت میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے ان دونوں بھائیوں کے لیے جن کو یہ نہیں پتہ کہ میں ہی انکا سب سے بڑا دشمن ہوں،ہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان ایک قہقہ لگاتا شاہانہ کے ہاتھ سے وائن کا گلاس پکڑ چکا تھا۔

“وہ ہیں کہ مسلسل میرے سنی سے بیوقوف بنتے جا رہے ہیں جسے وہ یہاں وہاں ڈھونڈ رہے ہیں وہ تو ان کے سامنے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!شاہانہ محفوظ ہو رہی تھی۔

“ابھی تو کھیل شروع ہوا ہے ڈارلنگ،تمہیں نہیں پتہ کتنی مشکل سے میں اس برزل ابراہیم کا اعتماد جیتنے میں کامیاب ہوا اور کس قدر دی گریڈ کیا اس نے مجھے اور میں برداشت کرتا رہا اور وہ تھپڑ جو چار دن پہلے اس نے مجھے سب کے سامنے مارا وہ سود سمیت اسے لٹاؤنگا،تم دیکھتی جاؤ بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”بھینچے لہجے میں وہ کہہ رہا تھا سلیمان کی آنکھوں میں نفرت صاف محسوس کی جاسکتی تھی۔

“سود سمیت تو اسے بہت کچھ ملنے والا ہے،وہ نہیں جانتا کہ وہ اپنے سیکرٹ کس بندے کے ہاتھ دے رہا ہے اور یہی اسکی بھول اسکی بربادی لے کر آئے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”شاہانہ بھی کم نہ تھی آخرکو وہ بھی برزل کی ڈسی ہوئی تھی۔

“پہلے آفندی،پھر سونیا،مسٹر اور مسز رانا اور شیخ بھی دیکھتے دیکھتے اس نے ہمارے کتنے بندوں کو مار دیا اور مجھے سب دیکھ کر بھی برداشت کرنا پڑا صرف نائن گروپ کی اس فائل کے لیے جو اس رفیع کے پاس ہے مگر برزل کی وجہ سے میں ابھی تک اسے حاصل نہیں کر پا رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس وقت سلیمان ایک الگ ہی روپ میں تھا جس کے لب لہجے میں پہلے والی نرمی اور حلاوت سب غائب تھا۔

“ریلیکس میری جان،تم سب حاصل کرو گئے اور اس کے بعد ہم دیکھیں گئے برزل کی بربادی،جس کی شروعات میں اسکی بیوی سے کرونگی کیونکہ مجھے وہ زہر لگتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!شاہانہ کی آنکھوں میں مری میں شاپنگ کرتے برزل اور فاریسہ کے مسکراتے چہرے لہرائے تو وہ نفرت سے پھنکاری تھی کیونکہ وہ برزل ابراہیم کے پاس فاریسہ کی موجودگی برداشت نہیں کر سکتی تھی اور یہ سلیمان بھی جانتا تھا اس لیے تو سلیمان کے ساتھ کام کرنے پر وہ راضی ہوئی تھی۔

_______________________________

فاریسہ نے مہ پارہ بیگم کے کمرے میں جھانکا جہاں وہ بیڈ پر آرام فرما رہی تھیں فاریسہ انکے پاس چلی آئی۔

“مما۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فاریسہ کے پکارنے پر مہ پارہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔

“آؤ میری جان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“وہ برزل مجھے لینے آئے ہیں باہر،میں نے سوچا آپ سے مل کر جاؤں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فاریسہ کچھ مدھم لہجے میں بولی کیونکہ کل کا وہ دیکھ رہی تھی سوائے مہ پارہ بیگم کے کوئی بھی اس سے سیدھے منہ بات نہیں کرتا تھا بھائیوں نے اتنا نہیں کیا تھا کہ گلے سے لگا کر اسے دلاسہ ہی دے دیں۔

“برزل ٹھیک رہتا ہے نہ تمہارے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ استسفار کرنے لگیں۔

“جی وہ بہت اچھے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“چلو شکر ہے،اب میں تمہاری طرف سے بلکل فکرمند نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ مسکرائیں۔

“مما،بابا کو کس نے مارا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟فاریسہ کے سوال پر مہ پارہ بیگم چونکیں تھیں۔

“کیا مطلب،تمہیں بتایا تو تھا کہ ہارٹ اٹیک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

“چچی کہتی ہے کہ برزل نے مارا ہے انکو،قمر بھائی نے بھی یہی کہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کچھ روہانسی ہو رہی تھی کچھ خوفزدہ تھی کچھ بے یقینی تھی۔

“وہ اس لیے کہ برزل کی تمہارے بابا کے ساتھ دشمنی کو سب جانتے ہیں اس لیے انکو شک ہے مگر ایسا کچھ نہیں ہے کیونکہ برزل اپنے ماموں کو کیسے مار سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مہ پارہ بیگم کے انکشاف پر وہ ساکت ہوئی تھی۔

“کیا مطلب مما۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“مطلب یہ کہ برزل تمہاری عائشہ پھوپھو کا بیٹا ہے،تو وہ کیسے اتنا بڑا ظلم کر سکتا ہے،تم اپنے دل سے پوچھو کیا برزل تمہیں ایسا لگتا ہے اور کیا تم یوں ہی ہر کسی کی باتوں میں آ کر برزل پر شک کرو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مہ پارہ بیگم اسکا زہن ہر قسم کی سوچ سے پاک کرنے لگیں کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ فاریسہ برزل سے بد ظن ہو اور انکا گھر خراب ہو۔

نازر اعوان کے ساتھ جو بھی کیا وہ اس پر برزل کو حق پر سمجھتیں تھیں کیونکہ نازر اعوان نے عائشہ اور ابراہیم کے ساتھ جو کچھ کیا تھا مہ پارہ بیگم اسکی گواہ تھیں۔

“نہیں مما،میں نے تو ویسے ہی آپ سے پوچھا کیونکہ چچا کو جو ہارٹ اٹیک ہوا تھا اسکا قصور وار بھی وہ برزل کو ٹھہرا رہیں تھیں اور کہہ رہی تھیں کہ تمہارے شوہر کی وجہ سے ہمارا بزنس ٹھپ ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“وہ تمہارے چچا کی حالت پر ایسے رہ ایکٹ کر رہی ہے،تم اسکی فکر نہ کرو اور اپنے گھر پر توجہ دو،اب جاؤ برزل انتظار کر رہا ہوگا،میں اب ملنے آیا کرونگی تمہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مہ پارہ بیگم نے اسکی پیشانی چومی تھی۔

وہ جب باہر آئی تو برزل گاڑی کے پاس کھڑا موبائل کان سے لگائے ہوئے تھا۔

“کیسی ہے میری جان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل موبائل جیب میں رکھتا گرم جوشی سے اسکی طرف بڑھا تھا اسے اپنے ساتھ لگائے وہ اسکی پیشانی چوم گیا۔

“میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ آہستہ سے بولی اور برزل کے فرنٹ ڈور اوپن کرنے پر گاڑی میں بیٹھ گئی۔

“طبعیت تو ٹھیک ہے نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فکرمندی سے پوچھنے لگا برزل کو وہ چپ چپ لگی۔

“جی،بس نیند پوری نہیں لے سکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“اوکے اب گھر جا کر جتنا چاہو ریسٹ کر سکتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے پیار سے گال تھپتھپایا تو وہ ہلکے سے مسکرادی۔

!__________________________!