Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz Readelle50262 Tera Ishq Jaan Lewa (Episode 05)
Rate this Novel
Tera Ishq Jaan Lewa (Episode 05)
Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz
سلیمان نے گاڑی بی_سکائے پیلس کے پورچ میں آ کر روکی تو برزل ابراہیم ایک نظر خاموش آنسو بہاتی فاریسہ پر ڈالی پھر دروازہ کھول کر باہر آ گیا اور دوسری طرف آ کر دروازہ کھولتا اس کے باہر نکلنے کا انتظار کرنے لگا فاریسہ جو اس کی ایک نظر پر ہی خوف محسوس کرتی خود میں سمٹ گئی تھی دروازہ کُھلنے پر باہر نکل آئی۔
“چلیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ جو حیدر اور سلیمان کو دیکھ رہی تھی جو ان سے کافی آگے نکل گئے تھے برزل ابراہیم کی آواز پر اُسکی طرف دیکھنے لگی جو اسکے چلنے کا ہی ویٹ کر رہا تھا فاریسہ چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتی اس کے پیچھے چلتی ہال میں داخل ہوئی جہاں ایک طرف سلیمان اور حیدر کھڑے تھے اور دوسری طرف ایک پچیس سال کی لڑکی کھڑی تھی۔
“مس زونا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم کے پُکارنے پر وہ لڑکی ان کے پاس آئی۔
“جی سر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“میم کو کمرے میں لے جائیں اور انکی ہر ضرورت کا خیال رکھنا اب آپ کے زمعے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم کے کہنے پر مس زونا نے اپنی نم نم آنکھوں والی خوبصورت میم کو دیکھ کر سر ہلایا تھا۔
“سر،آپ کے روم میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟مس زونا کچھ تذبذب کا شکار ہوئی کیونکہ برزل ابراہیم کے الفاظ نے کونسے کمرے میں لے کر جانا ہے انکی نشانداہی نہیں کی تھی۔
“مس زونا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں پھنسائے اس کے قریب آیا۔
“جب برزل ابراہیم ان کا ہو گیا تو پھر کمرے کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے،ایک کمرہ کیا یہ پورا بی_سکائے پیلس ان کو حق مہر میں دے دیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے الفاظ میں اگرچہ نرمی تھی مگر اُسکا لہجہ کچھ باور کرواتا تھا جیسے اُسے مس زونا کا یہ سوال پسند نہ آیا ہو۔
“سوری سر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مس زونا کو بھی اس چیز کا احساس بخوبی ہو گیا تھا۔
“تم اپنے کمرے میں جاؤ آرام کرو بہت جلد ملاقات ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اب کہ وہ فاریسہ کی طرف مُڑتے ہوئے بولا جو ایک خشک نگاہ اس پر ڈالتی سر جھکا گئی۔
“آئیے میم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مس زونا کے کہنے پر وہ اس کے ساتھ چل دی وہ جانتی تھی کہ اگر وہ کوئی واویلا کرے گی تو برزل ابراہیم نے زبردستی کیا بس ایک غصے کی نظر سے ہی اسے پست کر دینا تھا وہ اب تک اتنا تو جان گئی تھی کہ برزل ابراہیم کچھ بھی کر سکتا تھا یہ جانے بنا کہ اس میں کسی کی مرضی ہے بھی یانہیں؟
“حیدر یہ اب تم پر ہے کہ تم گھر کو ایس پی کی کسی بھی بیوقوفی سے کیسے سیکیور کرتے ہو اور سلیمان اب ہمارا کام اور بھی محتاط طریقے سے ہوناچاہئیے،ذخمی گیڈر اب اور بیتابی سے ہم پر وار کرنے کی کوشش کرے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“جی بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”دونوں ایک ساتھ بولے تھے اُس نے سر ہلا دیا۔
“مجھے ایک کام نپٹانا ہے اس لیے میں جا رہا ہوں،تم لوگ خیال رکھنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”کہتا ہوا وہ ایک نظر اپنے بیڈ روم کے بند دروازے پر ڈال کر باہر کی طرف ہو لیا۔
!_________________________________________!
مس زونا اسے جس کمرے میں لے کر آئی تھی وہ کہنے کو تو بیڈ روم تھا مگر اُسکی کشادگی بہت زیادہ تھی ایک طرف صوفے اور دیوان رکھ کر چھوٹے سے ڈرائنگ روم کی شکل دی گئی تھی اور دوسری طرف اسٹڈی روم کی طرز کا ایریا تھا جہاں ٹیبل اور اُس کے اوپر لیپ ٹاپ اور بہت ساری فائلز تھیں اگر اسٹڈی ایریا کے ساتھ دیکھا جائے تو گلاس ڈور تھا جس کے پیچھے ڈریسنگ روم تھا اور آگے بیڈ روم تھا رائل طرز کا شاہانہ بیڈ روم جو اپنے مالک کی خوبصورتی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
“میم آپ فریش ہو جائے اور مجھے بتا دیں کہ آپ اس وقت کیا کھانا پسند کریں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مس زونا کی آواز پر وہ انکی طرف مُڑی۔
“نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سر نفی میں ہلا گئی۔
“میم کچھ تو کھانا پڑے گا ورنہ سر مجھ پر غصے ہونگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مس زونا کی بے چارگی پر وہ ایک نظر ڈال کر رہ گئی پھر اُسے جانے کا اشارہ کرتی وہ بیڈ پر بیٹھ گئی۔
“مما۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سر ہاتھوں میں تھام گئی اُسے ابھی تک یقین نہیں آ رہا تھا کہ زندگی اُس کے ساتھ اتنا بڑا گیم کر گئی تھی اور وہ بلکل چپ تھی۔
“مجھے یہاں نہیں رہنا،میں،میں واپس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُٹھتے ہوئے بولی مگر پھر یکدم رُکی تھی۔
“کہاں جاؤنگی میں،وہ کہیں نہیں جانے دے گا مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے آنسو آنکھوں سے بے اختیار ہو گئے تھے۔
“کیا کروں میں؟گھر میں سب کیا کر رہے ہونگے مما،بھائی اور بابا،بابا تو بہت غصے میں تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکا زہن اسکے اپنوں کی طرف ہی بھٹک رہا تھا تبھی مس زونا ٹی ٹرالی لیے کمرے میں داخل ہوئی۔
“میم یہ آپ کے لیے،اب تو میں سب اپنی پسند سے لے آئی ہوں پر بعد میں سب آپکی پسند سے تیار ہوا کرے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مس زونا کہہ کر چلی گئی فاریسہ نے ایک نظر کھانے کی طرف ڈالی پھر نہ چاہتے ہوئے بھی کھانے کی طرف ہاتھ بڑھا گئی کسی نے سچ ہی کہا ہے نیند اور بھوک انسان کو حالت جنگ میں بھی نہیں چھوڑتیں۔
!__________________________________________!
وہ وائٹ پھولوں کا گلدستہ ہاتھ میں لیے گیٹ کے پاس آ کر ُرک گیا اور کلائی پر بندھی گھڑی کی طرف دیکھا جہاں اُس کے آنے کا ٹائم ہو چُکا تھا سر پر رکھی ریڈ کیپ کو ہاتھ سے دُرست کرتا وہ ایک طرف کھڑا ہو گیا اور گاڑی کی ہیڈ لائٹس سے بچنے کی خاطر زرا سا رُخ موڑ لیا تھا تبھی گاڑی کُچھ فاصلے پر رُکی تھی اور اُس میں سے نکلنے والی دلاج آفندی اپنی شاہانہ چال چلتی اُس کے قریب آئی تھی۔
“آج پھر کورئیر والا کچھ لے کر آیا ہے میرے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی مسکراتی آواز پر وہ اسکی طرف مڑا جو کہ چونک گئی تھی۔
“آج بھیجنے والا خود ہی آ گیا ہے آپ سے ملنے مس آفندی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم کی آواز پر وہ اُس کے سحر سے نکلی تھی۔
“ابراہیم تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ خوشی سے چہکی تھی۔
“لگتا ہے میری طرح آپ بھی بہت بیتاب تھیں مجھ ناچیز کو ملنے کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم نے اُس کے خوبصورت چہرے پر ایک مسکراتی نگاہ ڈالی تھی۔
“یہ تو پوچھو مت کہ میں کس قدر بے قرار تھی تم سے ملنے کے لیے ابراہیم،اگر تم نے مجھے روکا نہ ہوتا تو میں ضرور ملنے آجاتی،تمہیں نہیں پتہ میں نے کس قدر بےقراری سے یہ پانچ دن نکالے ہیں تم نے مجھے اتنا بے چین کر دیا ہے کہ اب تو بستر بھی کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ ایک جذب سے بولتی اس کے قریب آ چُکی تھی برزل ابراہیم نے وہ پُھول اُس کی طرف بڑھائے جسے اُس نے ایک پیار بھری مسکراہٹ سے کسی اعزاز کی طرح تھام لیے تھے اور اُنکی خوشبو اپنی سانسوں میں اُتارنے لگی۔
“ہمیشہ کی طرح شُکریہ میری زندگی۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ پیار بھری نگاہوں سے اُسے دیکھتی اُسکا ہاتھ تھام کر لبوں سے لگا گئی۔
“میں اب ان دوریوں کو ختم کرنا چاہتی ہوں ابراہیم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُسکی قربت کے لیے مچل رہی تھی برزل ابراہیم نے ایک مسکراتی نگاہ اُس کے حسین سراپے پر ڈالی اور اُس کے کان میں سرگوشی نما انداز میں بولا۔
“میں بھی ایسا ہی چاہتا ہوں خوبصورت ملکہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تو پھر دیر کس چیز کی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ پُرجوش ہو کر بولی۔
“اس چیز کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم نے ہاتھ سامنے کیا جس پر ایک چھوٹی ڈبیہ تھی۔
“یہ کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ حیران ہوئی
“یہ ہمارے ملن کا راستہ ہے دلاج۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“میں سمجھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُلجھن آمیز نظروں سے دیکھنے لگی۔
“یہ تمہارے نام نہاد شوہر برجیس آفندی کے لیے ہے تا کہ وہ ہمارے ملن کی رات میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اُسکی تم فکر نہ کرو میں اُسے اکثر ہی سلیپنگ پلز دیتی رہتی ہوں وہ صُبح کو ہی ہوش میں آتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“یہی تو میں نہیں چاہتا کہ وہ صُبح بھی ہوش میں آئے،یہ پلز اُسے دو دن تک ہر چیز سے بے خبر رکھیں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“دو دن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ حیرت سے بولی۔
“ہاں دو دن میری جان،کیا تم سمجھتی ہو کہ تمہارے ساتھ بس ایک رات گُزار کر ہی میرا دل مطمن ہوگا تو بلکل غلط ہے،تمہارے اس حسین اور دلکش وجود میں دو دن تو کھویا رہنے کا حق ہے نہ مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نہایت دلکشی سے بولتا اُسے نہال کر گیا وہ اُس کے سینے سے جا لگی۔
“میں تو خود چاہتی ہوں کہ تمہارے ساتھ باقی کی اپنی پوری زندگی گُزار دوں،کاش برجیس آفندی سے پہلے تم مجھے ملے ہوتے تو میں اُسکی بے پناہ دولت پر لات مار کر تمہارے پاس آنے کو ترجیح دیتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“وقت تو ابھی بھی ہمارے ہاتھ میں ہے میری جان،تم بس یہ کام کرو اور مجھے اسی گیٹ پر واپس ملو،یہاں سے سیدھا ہم اُسی ہوٹل میں جائینگے جو میں نے تمہارے لیے سجایا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم نے نرمی سے اُسے اپنے سے الگ کیا تو وہ مُسکراتی ہوئی جانے لگی پھر رُکی۔
“کہیں وہ بُڈھا اس سے مر تو نہ جائے گا اُسے پہلے ہی ہارٹ پرابلم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“فکر نہ کرو میری جان،اس کے کھانے سے بس میٹھی پُرسکون نیند آئے گی،اس میں مرنے کا چانس ایک پرسنٹ اور زندہ رہنے کا 99 پرسنٹ ہے لیکن یاد رہے یہ ملانے کے تیس سیکنڈ تک ہی اُسے پلا دینا ویسے بھی میں نے تمہارے بیڈروم کا کیمرہ دو ہفتے پہلے ہی بند کر دیا تھا تم آرام سے اُسے پلا سکتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اوکے ملتے ہیں پھر بیس منٹ بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کہتے ہوئے چل دی تو برزل ابراہیم نے اُسکی گاڑی کے چلنے کے بعد پھولوں میں رکھا ٹریسر آن کیا پھر اپنا موبائل نکال کر برجیس آفندی کے روم کے کمیروں سے کنکیٹ کیے جہاں ساٹھ سالہ برجیس آفندی یقیننا دلاج کا ہی ویٹ کر رہا تھا۔
تقریباً پانچ منٹ بعد ہی دلاج آفندی کمرے میں داخل ہوئی تھی۔
“میری جان کہاں رہ گئی تھی تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برجیس آفندی خوشدلی سے اسکی طرف بڑھا تھا۔
“تمہاری یہ جان ہی تمہاری جان لے گی فکر نہ کرو برجیس آفندی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم نے ایک کٹیلی نگاہ اُسکے مسکراتے چہرے کی طرف ڈالی تھی پھر کچھ دیر بعد ہی اُس کے ہاتھ میں دودھ کا گلاس تھا اُس نے ایک نظر نائٹ ڈریس میں ملبوس برجیس آفندی پر ڈالی جو کہ ڈریسنگ ٹیبل کے آگے کھڑا بال سنوار رہا تھا دلاج نے بڑی پیار سے بیڈ پر بیٹھ کر سائیڈ ٹیبل پر گلاس رکھا اور اُسے آواز دی۔
“آ جائیے نہ جان،اور کتنا انتظار کروائیں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”دلاج کے کہنے پر وہ مسکراتا ہوا بیڈ پر آ بیٹھا تھا۔
“آج دودھ آپ میرے ہاتھ سے پیئے گئے تاکہ آپ کو آج جلدی نیند نہ آئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”دلاج مدہوش کرنے والی نظروں سے دیکھتی اُسے سائیڈ ٹیبل کی طرف مڑی اور گلاس کے اندر وہ ٹیبلٹ ڈال دی۔
“اچھے بچوں کی طرح سارا ختم کرنا ہے آپ نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُسکی گردن میں بازو ڈالے لاڈ سے بولتی اُسے مدہوش کیے جا رہی تھی برجیس آفندی نے دودھ کا گلاس لبوں سے لگا کر ایک سانس میں ہی پی لیا خالی گلاس ٹیبل پر رکھتا وہ دلاج پر جُھکا تھا۔
سب دیکھتا برزل ابراہیم چہرے کا رُخ موڑ گیا پھر تین منٹ بعد سکرین کی طرف دیکھا جہاں اُسکی پلائی گئی دوائی اثر کر گئی تھی اور وہ بیڈ پر چت لیٹا تھا۔
“میری جان میں آ رہی ہوں تمہارے پاس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”دلاج نے موبائل پکڑ کر اسے ٹیکسٹ کیا اور کپڑے نکال کر واشروم میں گھس گئی۔
“پر افسوس میرے تک پہنچ نہ پاؤ گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم کے لبوں پر مُسکراہٹ تھی اُس نے برجیس آفندی کے روم کے کیمرے کو ہیک کیا جس میں یہی ویڈیو تھی وہ مسکراتا ہوا اُسے سٹارٹ کر گیا۔
دلاج آفندی واشروم سے سُرخ نازیبا لباس میں باہر آئی اور ایک مسکراتی نگاہ برجیس آفندی پر ڈالتی پرس لیے باہر نکل آئی۔
برزل ابراہیم نے اُسے کال کی جو اُس نے دوسری بیل پر ہی ریسسو کر لی تھی۔
“میری جان تم سیدھا ہوٹل چلی جانا میں وہی ملتا ہوں تمہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی سُنے بغیر کال کٹ کی سم موبائل سے نکال کر توڑ دی اور پانی میں بہا دی۔
“اب تمہاری اُلٹی گنتی شروع دلاج آفندی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ زہرخند مسکراہٹ سے بولا اور وہاں سے چل دیا۔
!__________________________________________!
دلاج ابراہیم کے بتائے گئے ہوٹل آئی مگر وہاں ابراہیم کا نام ونشان ہی نہ تھا وہ اُسے بار بار کال ملا رہی تھی مگر اُسکا نمبر ہی بند تھا اُسکا سر اب زور زور سے چکرانے لگا تھا وہ سر میں اُٹھتی درد کی ٹھیسوں کو برداشت کرتی ہوٹل کے روم میں بیٹھ کر وہ اُسکا انتظار کرتی کرتی نیند کی وادیوں میں کھو گئی یہ اُن پھولوں کا اثر تھا جو ابراہیم سے لے کر وہ خوشی سے انکی مسکراہٹ اپنے ناک کے زریعے سینے میں اُتارتی رہی تھی۔
صُبح اُسکی آنکھ کھلی تو درد ویسے ہی ہو رہی تھی آنکھیں سُرخ ہو چکی تھیں وہ اپنے چکراتے سر کو سھنبالتی اُٹھی اور آہستہ چلتی گرتی پڑتی اپنی گاڑی تک آئی مگر سر تھا کہ پھٹا جا رہا تھا جیسے کوئی دماغ میں ہتھوڑے برسا رہا تھا وہ گاڑی میں بیٹھنے لگی کہ ایک وجود اس کے قریب آ رُکا تھا۔
“ہوش کی دُنیا کی آخری ملاقات کرنے آیا ہوں تم سے دلاج آفندی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ابراہیم کی آواز پر وہ اس کی طرف دیکھنے لگی مگر سر کی درد برداشت سے باہر ہوتی جا رہی تھی۔
“ابرا،ابراہیم،میرا سر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ مسلسل اپنے سر کو دبا رہی تھی برزل ابراہیم مسکرادیا۔
“مائے ڈئیر یہ اُن پھولوں کا کمال ہے جن کی خوشبو تم باربار اپنی سانسوں میں اُتارتی رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مطلب،تم نے کچھ کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ حیرانگی سے بولی۔
“جی بلکل،یہ میرا ہی کارنامہ ہے،اصل میں تمہیں یہاں ایک خبر دینے آیا ہوں جو یقینناً تمہارے لیے صدمے کا باعث بنے گی مگر تم زرا احتیاط سے کام لینا یہ نہ ہو کہ تمہارا دماغ اس دھچکے کو برداشت نہ کر پائے اور تم وقت سے پہلے ہی اپنے ہوش و حواس گنوا دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم نے اُسے دیکھا جو بار بار اپنا سر دبا رہی تھی اب تو اُسکی آنکھوں سے پانی نکل رہا تھا۔
“تمہارے شوہر برجیس آفندی اس دُنیا سے جا چُکے ہیں اور پولیس تمہیں ڈھونڈ رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اپنے چکراتے سر کو تھامتی بمشکل بول پائی تھی۔
“رات کو جو ٹیبلٹ تم نے اُسے دودھ میں ملا کر دی اصل میں وہ جان لیوا زہر تھا مس آفندی،پولیس کو سی سی ٹی فوٹیج کے زریعے آپ کا کارنامہ ملا،یہ کیا کر دیا آپ نے؟پہلے شوہر کی طرح دوسرے شوہر کی جان بھی لے لی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تم،تم نے کیا یہ،کیا کیا ہے تم نے میرے ساتھ،تم نے کہا تھا وہ نیند کی دوا ہے،مرنے کا چانس نہیں تھا،تم نے مجھے پھنسایا،میں بتا دونگی سب کو ابراہیم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اپنی بے حال ہوتی حالت پر رو دی تھی۔
“میں نے صرف ایک بُرے انسان کو استمال کیا ہے دوسرے بُرے انسان کے خاتمے کے لیے تا کہ دونوں کو اُنکی بُرائی سے نجات دلا سکوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تم نے،آہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکا سر درد سے پھٹا جا رہا تھا کہ وہ کراہ اُٹھی۔
“فکر نہ کرو بس دو منٹ تک تم اس درد سے نجات پا لو گی اور ساتھ ان تلخ حقیقتوں سےبھی،میں یہاں تم سے معذرت کرنے آیا تھا اصل میں مجھ سے غلطی ہو گئی جو کل رات تمہیں پلز دی تھیں اُن میں مرنے کا چانس 99 پرسنٹ تھا اور زندہ رہنے کا ایک پرسنٹ،مجھے یقین ہے تم اسے میری بھول سمجھ کر معاف کر دو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ایک آخری مسکراتی نگاہ اُس پر ڈالی جو بیہوش ہو رہی تھی برزل ابراہیم نے اردگرد دیکھا اور وہاں سے چل دیا۔
!____________________________________________!
سلیمان اور حیدر لان میں بیٹھے چائے سے لُطف اندوز ہوتے باتیں کر رہے تھے کہ گیٹ کے کُھلنے اور برزل ابراہیم کی گاڑی اندر داخل ہوتی دیکھ کر اُٹھ کھڑے ہوئے۔
برزل ابراہیم گاڑی کو لاک کرتا ان دونوں کی طرف آ گیا۔
“کیسے ہو تم دونوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ دونوں سے کہتا کرسی گھسیٹ کر ٹک گیا۔
“بلکل ٹھیک ہیں بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر نے کہا اور سلیمان اُس کے لیے چائے بنانے لگا۔
“آپ کو معلوم ہے بھائی کہ برجیس آفندی مر گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر کی اطلاع پر وہ حیران ہوا۔
“اچھا،وہ کیسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اُسکی دوسری بیوی نے اُسے مارا ہے زہر دے کر،اور خود وہ فرار تھی مگر کچھ دیر پہلے اُسے پکڑ لیا گیا ہے مگر وہ اپنے ہوش و حواس میں نہیں ہے اب،اُسے پاگل خانے منتقل کر دیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر کے بتانے وہ سر ہلا گیا جبکہ سلیمان نے حیرت سے دیکھا کہ یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ برجیس آفندی مرتا اور برزل ابراہیم بے خبر رہتا مگر وہ اس سے سوال جواب کرنے کی ہمت خود میں نہیں پاتا تھا۔
“مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آئی اُس کی بیوی نے جائیداد کے کیے برجیس آفندی کو مارا مگر وہ یکدم پاگل کیسے ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان کے سوال پر برزل ابراہیم نے ایک نظر اُس پر ڈالی جو سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
“یہ تو پھر تمہیں دلاج آفندی ہی بتا سکتی ہے،پولیس کی طرح تم بھی اُسکی صحت یابی کی دعا کرو سلیمان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُٹھ کھڑا ہوا۔
“میرا یہ مطلب تو نہیں تھا بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ شرمندہ ہوا۔
“مجھے ہر بات کے پیچھے چھپے مطلب کو بخوبی جاننا آتا ہے،تم بس ایک کام کرو کہ دلاج آفندی سے ملاقات کے لیے جو بھی آئے اُسکا نام پتہ مجھے ملنا چاہیئے اور یہ کام کسی کی نظروں میں آئے بغیر کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“جی بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سر ہلا گیا۔
“حیدر تم برجیس کے جنازے پر جاؤ گئے،مجھے اب شام سے پہلے کوئی ڈسٹرب نہ کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”کہتا ہوا وہ اندر کی جانب بڑھ گیا۔
“کیا پتہ دلاج آفندی پاگل ہونے کا ڈرامہ کر رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”یہ بات حیدر کے دماغ میں کب سے تھی۔
“بلکل نہیں،یہ جس بندے کا کام ہے وہ کبھی کچے کھیل نہیں کھیلتا حیدر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان مسکراتا ہوا برزل ابراہیم کی پُشت کو دیکھنے لگا وہ جانتا تھا کہ اتنی ہویشاری سے صرف برزل ابراہیم ہی اپنے دشمنوں کا صفایا کرتا ہے۔
!_________________^^^^^^^_____________!
وہ کمرے میں آیا تو فاریسہ بیڈ پر براجمان نیند کی وادیوں میں کھوئی ہوئی تھی برزل ابراہیم نے ایک گہری نگاہ اپنی سوئی ہوئی شریک حیات پر ڈالی جو اُسی لباس میں ملبوس تھی کمبل سینے تک پھیلائے وہ کروٹ کے بل لیٹی ہوئی تھی برزل نے ٹائم دیکھا جہاں صبح کے دس بجنے والے تھے شاید ساری رات وہ دُکھ اور خوف کی کیفیت میں مبتلا رہی تھی اس لیے لیٹ سونے کی وجہ سے وہ ابھی تک سوئی ہوئی تھی۔
برزل ابراہیم نے بیڈ کے دوسری طرف بیٹھ کر شوز اُتارے اور گھڑی اُتار کر سائیڈ ٹیبل پر رکھی وہ بنا شور کیے موبائل بھی ساتھ رکھ گیا اور آہستہ سے کمبل میں گھستا لیٹ گیا فاریسہ کی اس طرف پشت تھی اس لیے برزل نے اُس کے کالے سیاہ بالوں پر نظریں ٹکا دیں اور ایک گہرا سانس بھر کر رہ گیا اگر آج سے کُچھ دن پہلے کی بات کی جائے تو یہ برزل ابراہیم کے وہم و گماں میں بھی نہ تھا کہ وہ یوں اچانک اس طرح شادی کرے گا اپنی زندگی کے ان اکتیس سالوں میں اُس نے ایک دفعہ بھی کسی لڑکی کے بارے میں نہیں سوچا تھا اور اب نہ صرف سوچا تھا بلکہ اتنا بڑا فیصلہ بھی کر گیا تھا اور یہ سب کس چیز کے زیر اثر کیا تھا وہ چاہ کر بھی اپنے لبوں پر نہیں لانا چاہتا تھا۔
“تم نہیں جانتی کہ تم اپنے تمام ڈر اور خوف کے باوجود اتنی طاقت ور ہو کہ تم نے مجھ جیسے شخص کو تسخیر کر لیا ہے،اب تمہارے بنا سانس لینا بھی مشکل لگتا ہے اور تم واحد وہ انسان ہو جو برزل ابراہیم کو ہر معاملے میں جھکا سکتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے ڈوپٹے کو اپنے ہاتھ میں لیتا اُسکی خوشبو اپنے اندر اُتارتا وہ پلیکیں موند گیا تھا۔
!____________________________________________!
