Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz Readelle50262

Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz Readelle50262 Tera Ishq Jaan Lewa (Episode 16)

54.5K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Ishq Jaan Lewa (Episode 16)

Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz

حیدر ہانیہ سے ملنے کے لیے وہاں آ تو گیا تھا مگر اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اندر کیسے جائے یا ہانیہ کو کیسے بلوائے تبھی اسکی نگاہ اس چوکیدار پر پڑی جس کی مدد سے وہ اس دن فرار ہوا تھا۔

“مگر برزل بھائی نے کہا تھا کہ میں اس سے اپنی اصلی حالت میں جان پہچان نہیں کروا سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل کی کہی تاکید پر وہ سر جھٹک کر کچھ اور سوچنے لگا۔

تبھی اسکی نگاہ مین گیٹ سے واپس آتیں کچھ لڑکیوں پر پڑی جن میں عروج اور ہانیہ بھی تھی۔

“یہ کہاں گئیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ خود سے بڑبڑایا اور اپنی گاڑی سے ہٹ کر انکی طرف آیا۔

“ایکسیوزمی مس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اپنی بھاری آواز میں وہ بولتا ہانیہ کو اپنی طرف متوجہ کر گیا جو کہ کچھ چونک کر اسے دیکھنے لگی۔

“پتہ نہیں کون ہے ہانیہ،دفعہ کرو تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!عروج نے ہانیہ کو آگے بڑھنے کا کہا تو وہ بھی سر جھٹکتی آگے بڑھنے لگی کہ بے اختیار حیدر کو اسے آواز دینی پڑی۔

“ہانیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اپنے نام کی پکار پر نہ صرف اس کے قدم رکے تھے بلکہ وہ پلٹ کر اسے دیکھنے لگی۔

“وہ مجھے آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے،پلیز دو منٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر کے التجائی لہجے پر ہانیہ نے ایک نظر اندر جاتی عورتوں اور گیٹ پر کھڑے چوکیدار کو دیکھا پھر عروج کو اندر جانے کا کہتی اس کے تھوڑا سا فاصلے پر آ رکی۔

“آپکو میرا نام کیسے پتہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ حیران تھی۔

“مجھے نام کیا سب کچھ پتہ ہے آپ کے بارے مس ہانیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ عجیب سی نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔

“کیا مطلب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“مطلب بھی سمجھا دیتا ہوں،پہلے آپ بتائیں کہاں گئے تھے آپ لوگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر کے سوال پر وہ اسے گھورنے لگی اور پھر ایک جھٹکے سے واپسی کے لیے مڑنے لگی کہ حیدر کے اگلے اقدام پر جہاں وہ ششدر رہ گئی تھی وہی حیدر بھی اپنے اس عمل پر حیران تھا کہ وہ کیسے اتنی جرت کر گیا تھا کہ راہ چلتے ایک لڑکی کا ہاتھ پکڑ چکا تھا۔

“ہانیہ پلیز میری بات سن کے جانا،میں سب بتاتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر اس کی آنکھوں کی تپش سے گھبراتا اسکا ہاتھ چھوڑ کر التجائیہ لہجے میں کہتا اسے غصہ دلا گیا۔

“تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرا راستہ روکنے کی اور مجھے ہاتھ لگانے کی،میں نہیں جانتی تم کون ہو اور کیسے میرے بارے جانتے ہو مگر آئندہ سے یہاں آ کر اس طرح کا تماشہ کھڑا کر کے مجھے اس جگہ سے بھی نکلنے پر مجبور نہ کرنا اور نہ اس خوش فہمی میں رہنا کہ میں اگر لا وارثوں کی طرح رہ رہی ہوں تو آسانی سے تمہارا نوالہ بن جاؤنگی میں تمہاری جان لے لونگی سمجھے تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اپنی زبان سے زہر اگلتی اندر کی طرف بڑھ گئی جبکہ حیدر سر پر ہاتھ پھیر کر رہ گیا۔

“صدف کے ساتھ تو اتنی میٹھی بن کر رہتی تھی اور اب میرے ساتھ،اف یہ تو برزل بھائی کے گروپ کی معلوم ہوتی ہے برے پھنسے ہو حیدر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ منہ ہی منہ میں بولتا اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔

!_______<<<<<__________________<<<<<<<_____!

“میں نے کیا کہا تھا سلیمان کہ اُس پر نظر رکھو مگر تم نے کیا کیا،تم نے میری سالوں کی محنت پر پانی پھیر دیا،صرف دو دن تم اسے فوکس میں نہ رکھ سکے صرف تمہاری دو دن کی لاپرواہی نے مجھے کتنی بڑی اذیت سے دو چار کر دیا ہے تم یہ سوچ بھی سکتے ہو کہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بول نہیں رہا تھا بلکہ دھاڑ رہا تھا اپنے کمرے میں بیٹھا حیدر بھی دوڑ کر باہر آیا تھا مگر برزل کو اس قدر اشعتال میں دیکھ کر سیڑھیوں کے پاس ہی تھم گیا۔

“صوری بھائی،پتہ نہیں کیسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان شرمندہ سا بولنے کی کوشش کرنے لگا مگر برزل ابراہیم کی اگلی دھاڑ نے اس کے الفاظ منہ میں ہی بند کر دیے۔

“کیسے پتہ نہیں چلا تمہیں کیسے نہیں سلیمان،تم جانتے ہو نہ کتنے سالوں سے میں اس آدمی کے پیچھے زلیل و خوار ہو رہا ہوں،میری جان اسکی قید میں ہے اور تم کیسے اتنی لا پرواہی برت گئے کیسے،تم جانتے تھے نہ کہ میری زندگی کا مقصد میرے ماں باپ سے کیا وعدہ ہمارا سکون سب کچھ اس آدمی کے چلے جانے سے بھاڑ میں چلا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“بھائی کیا ہوا نینی کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر کا رنگ لٹھے کی مانند سفید ہو چکا تھا اور برزل ابراہیم حیدر کو ساکت دیکھتا جلدی سے اسکی طرف بڑھا تھا۔

“ریلیکس حیدر،کچھ نہیں ہوا ہماری نینی کو اور میں اسے کچھ ہونے بھی نہیں دونگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”کچھ دیر پہلے منہ سے آگ برسانے والے برزل سے وہ بہت مختلف تھا حیدر کو اپنے ساتھ لگائے اسے تسلیاں دیتا فاریسہ کو الجھن میں ڈال گیا۔

“نینی کون ہے.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ خود سے بولی پھر برزل کی طرف دیکھا جو سلیمان کو اسٹڈی میں جانے کا کہتا حیدر کو لیے اسکے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

“بھائی،بات سنیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فاریسہ سلیمان کے پیچھے لپکی۔

“جی بھابھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان کی نظریں جھکیں ہوئی تھیں۔

“یہ نینی کون ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس کے سوال پر سلیمان نے ایک نظر فاریسہ کو دیکھا اور دوسری نظر برزل کو جو اس طرف ہی آ رہا تھا سلیمان بنا کچھ کہے اسٹڈی روم میں چلا گیا۔

“تم جاؤ روم میں فریش ہو کے سو جاؤ،رات کو ملتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نرمی سے اسکا گال تھپتھپا کر وہ سلیمان کے پیچھے چلا گیا فاریسہ نے پہلے حیدر کے کمرے میں جانے کا سوچا مگر پھر نیند لینے کے خیال سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔

!_____________\\\\\\\\\\\______________!

“سب سے پہلے اس ایس پی کا کام تمام کرو میں اسے اور زمین پر چلتا پھرتا نہیں دیکھ سکتا،کل اسکا آخری دن ہونا چاہیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے لیپ ٹاپ کو اپنے آگے کرتے ہوئے سلیمان سے کہا تو اس نے سر ہلا دیا۔

“آپ ملاقات نہیں کریں گئے اس سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“کچھ دیر تک نکلتا ہوں پہلے یہ بتاؤ کہ مسٹر اور مسز وقار رانا کے جنازے پر کوئی ایسا بندہ جو پہلے نہ دیکھا ہو یا جس کے بارے تم مشکوک ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل کا غصہ اب اتر چکا تھا اس لیے وہ جلد سے جلد اب اس معاملے کو ہینڈل کر لینا چاہتا تھا کیونکہ اس کام میں صرف کچھ دن ہی بچے تھے۔

“جنازے پر تو نہیں مگر اس کے کمرے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک آدمی مشکوک لگا جو بڑی پریشانی سے اس کے کمرے کی تلاشی لے رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان نے اپنے موبائل کی سکرین اس کے سامنے کی جہاں وہ آدمی مسز رانا کا لاکر کھولنے کی کوشش میں تھا۔

“سب لوگ جنازے کے ساتھ گئے تھے مگر یہ کمرے میں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان نے برزل کو انفارم کیا جو بہت غور سے دیکھ رہا تھا اور پھر جیسے مسکرایا تھا۔

“یہی وہ بندہ ہے جو ہمیں نینی تک لے کر جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“مطلب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان نہ سمجھی سے دیکھنے لگا تو برزل نے اپنے لیپ ٹاپ سے ایک تصویر نکال کر اس کے سامنے کی۔

“یہی بندہ آج سے پانچ سال پہلے نینی کے ساتھ اسلام آباد ائیر پورٹ سے نکلتے دیکھا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان نے غور کیا تو دونوں سیم ہی تھے۔

“اس لیے کہوں کہ اسے کہا دیکھا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان اب کی بار کچھ ریلکیس ہوا تھا۔

“میں ایس پی سے ملنے جا رہا ہوں تم ایسا کرو کہ اس بندے کی موجودگی کہاں کہاں ہو سکتی ہے سب جگہوں کی اپ ڈیٹ مجھے سینڈ کر دینا اوکے اور دوسری بات اوپر تک خبر پہنچا دو کہ برزل ابراہیم اصل میں ہے کون۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اسکا اشارہ جس طرف تھا سلیمان سمجھ چکا تھا اس لیے سر اثبات میں ہلا دیا برزل نکلنے لگا کہ فاریسہ کا خیال کرتے ہوئے کمرے میں چلا آیا جہاں وہ سکون سے بیڈ پر آرام فرما رہی تھی برزل جانتا تھا کہ وہ اس کے آج کے رویعے پر کچھ پریشان ہو گئی تھی اور برزل نے اپنی پریشانی میں اسکی پریشانی اگنور کر دی تھی۔

“تم نہیں جانتی اور نہ کبھی جان سکو گی کہ تمہارے باپ نے کس قدر اذیتیں دی ہیں ہمیں اس لیے ہوسکے تو اپنے باپ کے قتل پر معاف کر دینا مجھے میں تمہیں بہت بڑی تکلیف دینے جا رہا ہوں پر وہ شخص اس قابل نہیں کہ اسے تمہارے آس پاس بھی برداشت کیا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل فاریسہ سے مخاطب تھا جو ان سب باتوں سے انجان نیند کی وادیوں میں اتری ہوئی تھی۔

برزل نے جھک کر اسکی پیشانی پر اپنے لب رکھے تھے اور اس پر کمبل ٹھیک کرتا کمرے سے باہر نکل گیا۔

!_______________________!

نازر اعوان شکستہ سا سلاخوں کے پیچھے بیٹھا تھا دلاور کا کچھ اتہ پتہ نہ تھا اپنے لیدر کی فیکٹری میں لگی آگ اور شاہ زر اعوان کے ہارٹ اٹیک کی خبر نے اسے بلکل نڈھال کر دیا تھا اوپر سے رئیس جیسے لوگ بھی اسکا ساتھ چھوڑ چکے تھے جن کی وجہ سے وہ اس حال تک پہنچا تھا۔

“برزل ابراہیم چھوڑونگا نہیں تمہیں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم سے نفرت تھی کہ بڑھتی چلی جا رہی تھی تبھی ایک سپاہی نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔

“کوئی ملنے آیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نازر اعوان اپنے کسی پیارے کو دیکھنے کی چاہ میں جھٹکے سے اٹھا تھا مگر برزل ابراہیم کو سامنے پا کر وہ چونکا تھا پھر نفرت اور غصے کی شدت سے پھٹ پڑا تھا۔

“تم،تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہاں آنے کی،کیا یہ سب کر کے میری فیکٹری میں آگ لگا کر تم جیت گئے ہو تو یہ تمہاری سب سے بڑی بھول ہے تمہیں اندازہ نہیں کہ نازر اعوان کیا کچھ کر سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“مجھے اندازہ ہے اس بات کا کہ اپنی انا کی تسکین کے لیے نازر اعوان اتنا گر سکتا ہے کہ اپنی بہن کی جان بھی لے سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل کے سپاٹ لہجے پر وہ چونکا تھا۔

“تم،تم کہنا کیا چاہتے ہو،کون ہے میرا دشمن جو تم سے سب کروا رہا ہے کون بولو کیا وہ رفیع جو بھاگ گیا تھا یہاں سے مجھے اس پر شک تھا کہ وہی ہے تمہارے پیچھے،کیا لگتے ہو اسکے بیٹے ہو کیا،ارے جو مرضی کر لو میرا کچھ بگاڑ نہ پاؤ گئے بس مجھے یہاں سے نکلنے دو ایک دفعہ تم سب کو دیکھ لونگا اور اپنی بیٹی کو بھی تم سے طلاق۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“میری بیوی کا نام بھی مت لو اپنی زبان سے نازر اعوان کیونکہ تم تو باپ کہلانے کے لائق بھی نہیں رہے جس نے اپنی بیٹی کو ہی نقصان پہنچانے کے لیے دلاور کو بھیج دیا،اپنی سگی بیٹی کی عزت پر ہاتھ ڈلوانے والا ایک باپ کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل کے ٹھنڈے لہجے پر نازر اعوان سن ہوا تھا۔

“افسوس تو تمہیں ہوا ہوگا دلاور کی موت کا سن کر اور اپنی بیٹی کا زندہ بچ جانے پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“مار دیا تم نے دلاور کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ باپ کیا انسان کہلانے کے لائق بھی نہ تھا برزل نے تاسف سے دیکھا۔

“تو کیا کرنا چاہتے تھے تم فاریسہ کو نقصان پہنچا کر؟مجھے جیل کے اندر کرنے کے لیے فاریسہ کو قربان کرنا چاہتے تھے نہ تا کہ تم مجھے آسانی سے مار سکو جیسے آج سے پندرہ سال پہلے تم نے ایک ابراہیم نامی انسان کے ساتھ کیا تھا ہے نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ دو پل کو رکا۔

“اب سمجھ میں آیا کہ تم نے میری مما کو کیسے موت دی ہوگی کیونکہ تمہارے جیسا پتھر دل انسان ہی یہ کام کر سکتا تھا اور تم وہ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اب کی بار ٹھٹھکنے کی باری نازر اعوان کی تھی۔

“تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نازر اعوان کا دماغ جو پہلے ان حادثوں کے صدمے مشکل سے برداشت کر رہا تھا اب تو سن ہو کر رہ گیا تھا۔

“میں مسز عائشہ ابراہیم کا بیٹا ہوں جو بدقسمتی سے تمہاری بہن تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل کے لہجے میں کاٹ تھی۔

“ایسا کیسے،عائشہ کی تو بیٹی تھی،وہ جسے اغوا کروایا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نازر اعوان کے منہ سے نکلے ان الفاظ کوبڑی مشکل سے برزل نے برداشت کیا تھا ورنہ دل تو کر رہا تھا کہ اس مکار کا منہ نوچ لے جس نے اس کے ماں باپ کو ابدی نیند سلا دیا تھا اور معصوم سی بچی کے ساتھ ظلم کیا تھا۔

“عائشہ کا بیٹا تھا برزل ابراہیم،جو تمہارے سامنے کھڑا ہے تمہیں تمہارے کیے کی سزا دینے تا کہ کچھ تو تمہارے گناہوں کا کفارہ ہو سکے کیسے اتنا بوجھ لے کر آگے جاؤ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

نازر اعوان نے اب کی بار غور سے دیکھا تو وہ اسے اسی ابراہیم کا بیٹا لگا جسے اس نے جھوٹے کیس میں پھنسا کر جیل کے اندر ہی مار دیا تھا اور عائشہ کو گھر جا کر موت کی گہری وادی میں دھکیل دیا تھا۔

پہلے جتنی بار بھی وہ اس سے ملا تھا ہمیشہ نفرت اور غصے کی آگ میں جلتا وہ اس کے نقوش پر دھیان دینے سے قاصر رہا تھا جو ہو بہو ابراہیم سے ملتے تھے۔

“تمہاری بدقسمتی کہ میں اس وقت رفیع چاچو کے ساتھ تھا اور شاید تمہاری موت میرے ہاتھوں لکھی تھی اس لیے تو اللہ نے مجھے زندہ رکھا تمہارے کیے کا تم سے حساب لینے جو تم نے میرے پیاروں کے ساتھ کیا نازر اعوان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم کے لب و لہجے میں اس کے لیے سرد مہری اور نفرت صاف محسوس کی جاسکتی تھی نازر اعوان اس کے کرخت انداز پر گھبرایا تھا مگر پھر جیل کا خیال آتے ہی ریلکیس ہوا تھا اس چیز سے بے خبر کہ برزل طنزیہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔

“افسوس نازر اعوان،تمہاری یہ جیل جس میں تم نے اپنا راج بنایا ہوا تھا یہ بھی تمہیں مجھ سے محفوظ نہ رکھ پائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے کہتے ہوئے اپنے ہاتھ میں پکڑا ایک باکس سامنے کیا جس پر نازر اعوان کی نظر اب اٹھی تھی۔

“کیا کرنے لگے ہو تم،سپاہی،شوکت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ خوف کا شکار ہوا تھا اور برزل یہی چاہتا تھا کہ ڈر اور خوف سے ہی مر جائے تا کہ اسے یاد آئے کہ اس نے کیا کیا ظلم کیے ہیں۔

“افسوس کہ یہاں سننے والا کوئی نہیں ہے،وہ دیکھ رہے ہو،یہ ساؤنڈ پروف آلہ ہے،اس سے تمہاری چیخ و پکار کوئی نہیں سن پائے گا سوائے موت کے فرشتے کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے چھت کی طرف اشارہ کیا تھا جہاں کالے رنگ کا مقناطیس شکل کا ایک آلہ چھت سے چپساں تھا اور یہ کیسے کیا تھا اسکا جواب مانگنے کی نازر اعوان میں اب ہمت نہ تھی اور نہ ہی ضرورت رہی تھی۔

“یہ چھوٹا سا تحفہ تمہارے داماد کی طرف سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے وہ باکس اوپن کر کے جیل میں پھینک دیا اور اس میں سے نکلنے والے دو بچھوؤں کو دیکھتا نازر اعوان خوف سے تھرتھرانے لگا تھا۔

“یہ تمہیں مار دیں گئے یا تم ان دونوں کو مار دو گئے،میرا مقصد صرف تمہیں ٹارچر کرنا ہے مر تو تم کل جاؤ گئے ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے کہتے ہوئے واپسی کو قدم موڑے تھے اور پیچھے صرف نازر اعوان کی بچاؤ بچاؤ کی آوازیں تھیں جو کہ اس جیل کے اندر ہی دب کر رہ گئیں۔

!_______________________________________!

برزل گھر آیا تو رات کے نو بج رہے تھے وہ مس زونا سے حیدر کے بارے پوچھتا اس کے کمرے میں چلا آیا جہاں وہ اور فاریسہ باتوں میں مصروف تھے۔

“کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ خوش مزاجی سے پوچھنے لگا۔

“کچھ نہیں میں اور بھابھی باتیں کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“تمہاری بھابھی مجھ سے تو باتیں نہیں کرتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل کے شکایتی لہجے پر فاریسہ نے نظریں جھکائیں تھیں۔

“آپ پیار سے کریں گئے تو بھابھی بھی کریں گی کیونکہ آپ تو ہر ٹائم آگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر نے اسے اپنی طرف گھورتے پا کر زبان دانتوں تلے دبائی تھی ورنہ ہو سکتا تھا کہ برزل اسکی گردن ہی دبا دیتا۔

“چلو یہ طریقہ بھی آزما لیں گئے، فاریسہ تم زرا ایک کپ کافی تو لے آؤ کمرے میں،مس زونا نے بنا دی ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے نرمی سے کہا جس پر وہ سر ہلاتی کمرے سے نکل گئی۔

“حیدر تمہیں ایک کام کرنا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فاریسہ کے جانے کے بعد برزل اس کی متوجہ ہوا۔

“کیا کام بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“پہلے پرامس کرو کہ تم چاچو کو اس بارے کچھ نہیں بتاؤ گئے،یہ ہم بھائیوں کا سکرٹ ہے اپنی بہن کو واپس لانے کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل کا اشارہ سر رفیع کی طرف تھا۔

“اوکے میں چاچو کو کچھ نہیں بتاؤنگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر نے یقین دلایا جس پر برزل اسے کچھ سمجھانے لگا تھا۔

جب پندرہ منٹ بعد برزل کافی کا کپ لیے اپنے کمرے میں آیا تو فاریسہ وارڈرب سے اپنا نائٹ ڈریس نکال رہی تھی برزل نے کافی کا کپ ٹیبل پر رکھا اور قدم اس کی طرف بڑھاتے ہوئے فاریسہ کو اپنے بازؤں کی گرفت میں جکھڑ لیا کہ وہ جو اس افتاد کے لیے بلکل تیار نہ تھی دھک سی رہ گئی۔

“یہ آپ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“پیار کرنے کی چھوٹی سی کوشش کیونکہ میں باتوں سے زیادہ عمل کرنے کو پیار سمجھتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اسکی بات اچک کر کہتا وہ اپنی گرفت اور مضبوط کرنے لگا۔

“آپ صبح پریشان تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فاریسہ کی سوئی اسکی صبح کے ردعمل پر ہی اٹکی تھی برزل نے گہرا سانس لیتے اس کا رخ اپنی طرف کیا۔

“ہاں میں کچھ پریشان تھا اس لیے تمہیں بھی نظر انداز کیا جس کے لیے معافی چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے کہہ کر اسکی روشن پیشانی پر بوسہ دیا تھا۔

“نینی کون ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس کے دل میں جو جو سوال اُبھر رہے تھے وہ سب کے جواب چاہتی تھی برزل نے اسے بیڈ پر بٹھایا اور خود بھی ساتھ ٹک گیا۔

“نینا ہماری بہن ہے،حیدر کی چھوٹی بہن ہے وہ،آج سے پندرہ سال پہلے وہ چھ سال کی تھی جب اسے اغوا کیا گیا تھا،پانچ سال پہلے میں اس تک پہنچ سکا تھا میری اس پر نظر تھی اور سکون تھا کہ وہ محفوظ ہے بس اسے واپس گھر لانے پر میں کام کر رہا تھا کہ آج صبح مجھے خبر ملی کہ نینی کو ملک سے باہر لے کر جایا جا چکا ہے جسکی وجہ سے میں آؤٹ آف کنٹرول ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“اوہ تو اب کیا کریں گئے آپ،وہاں جائیں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فاریسہ حقیقتا پریشان ہوئی۔

“نہیں کیونکہ وہ پاکستان میں ہی ہے،کہاں ہے یہ بھی کچھ دنوں تک پتہ چل جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“انشاءاللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فاریسہ کے پُرخلوص لہجے پر برزل کے لبوں پر آسودہ مسکراہٹ چمکی تھی اس نے نرمی سے اسے اپنے سینے سے لگایا تھا۔

“تم جانتی ہو کہ تم سے محبت کرنے کی سب سے بڑی وجہ کیا تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“میرا ڈر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فاریسہ کے بے اختیار کہنے پر وہ قہقہ لگاگیا جس پر وہ خجل سی ہو گئی۔

“بلکل نہیں،وہ وجہ تمہاری معصومیت تھی مگر اب لگ رہا کہ اتنی معصوم بھی نہیں ہو تم جتنی میں سمجھا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ محفوظ ہوتا بول رہا تھا۔

“چالاک ہوں کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ خفگی سے دیکھنے لگی۔

“ہاں بہت چالاک کہ مجھے پتہ بھی نہیں لگنے دیا اور مجھے لُوٹ لیا تم نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اسے بیڈ پر لٹا کر اس کے اوپر جھکا تھا فاریسہ جو اس کے بوجھل لہجے اور قربت پر پزل ہو رہی تھی اس کی بھرپور شرارتوں پر سٹپٹا کر ادھر ادھر پناہ کی تلاش میں دیکھنے لگی مگر آخرکار اس کے سینے میں ہی چھپ کر پناہ لینی پڑی جو اپنی بھرپور محبت کا یقین اپنے عمل سے دلاتا اسے اپنے مظبوط حصار میں قید کر چکا تھا۔

!_____________\\\\\\\_______________!