Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz Readelle50262

Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz Readelle50262 Tera Ishq Jaan Lewa (Episode 03)

54.5K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Ishq Jaan Lewa (Episode 03)

Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz

وہ ساری رات اسی کشمکش میں رہی تھی کہ اس رنگ کو پہننا ہے یا نہیں مگر وہ صبح تک فیصلہ نہ کر پائی تھی کالج کے لیے تیار ہو کے رنگ کو پکڑ کر ڈریسنگ کے ڈرا میں رکھتی وہ جانے کے لیے مُڑی کہ کمرے میں داخل ہوتیں مہ پارہ بیگم کو دیکھ کر وہ رُکی اور اپنا ہاتھ ڈوپٹے کی اوٹ میں کر لیا۔

“ہو گئی تیار تم۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسکا تفصیلی جائزہ لیتیں بولیں۔

“جی مما۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“اصل میں،میں تم سے ضروری بات کرنے آئی تھی،تمہاری ساس کی کال آئی تھی وہ ڈیٹ فکس کرنے آنا چاہتی ہیں،میں نے کہا کہ تمہارے بابا سے بات کر کے آپکو بتا دونگی۔۔۔۔۔۔۔۔”مہ پارہ بیگم کی بات پر وہ گہرا سانس بھرتی عجیب سے انداز میں مُسکرائی تھی۔

“اور بابا تو کہتے ہونگے کل کے بجائے آج ہی وہ آ جائیں اور مجھ مصیبت کو لے جائیں تا کہ بابا کی فکر ختم ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکے طنز پر مہ پارہ بیگم خاموش ہو گئیں تھیں کیونکہ یہی جواب نازر شاہ سے ملا تھا۔

“پر ماما میرے پیپر۔۔۔۔۔۔۔۔”

“تم فکر نہ کرو وہ تمہاری اسٹڈی میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالیں گئے بلکہ وہ خود چاہتے ہیں کہ تم تعلیم جاری رکھو۔۔۔۔۔۔۔۔”مہ پارہ بیگم نے نرمی سے اُسکا گال سہلایا تھا وہ مُسکرادی۔

“رنگ کہاں ہے۔۔۔۔۔۔۔؟مہ پارہ بیگم اُسکے ہاتھ کو دیکھتیں کہہ اُٹھیں فاریسہ گڑبڑا گئی۔

“وہ_وہ ڈرا میں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“کیوں؟کل بھی تمہاری چچی رنگ کے بارے پوچھ رہی تھیں،جلدی سے پہنو۔۔۔۔۔۔۔۔”مہ پارہ بیگم کے اسرار پر وہ سر ہلاتی نہ چاہتے ہوئے بھی وہ رنگ نکال کر اُنگلی کی زینت بنا چُکی تھی۔

!__________________________________________!

نازر اعوان اس وقت ایک ہوٹل میں بیٹھا دلاور کا انتظار کر رہا تھا جو کہ اپنے دیئے گئے ٹائم سے دس منٹ لیٹ ہو چُکا تھا۔

“سب کے سب نہ کارہ لوگ ہیں یہاں۔۔۔۔۔۔۔۔”کلائی پر بندھی گھڑی پر نگاہ ڈالتا وہ پانی کا تیسرا گلاس منہ سے لگا گیا۔

دو دنوں سے وہ ایسے ہی پیج تاب کھا رہا تھا آخر کو کوئی بڑی دیدہ دلیری سے نہ صرف اُس کے گھر میں گھسا تھا بلکہ سر عام اُسے دھمکی سے بھی نواز گیا تھا۔

“صوری سر لیٹ ہو گیا میں۔۔۔۔۔۔۔۔”تبھی دلاور اس کے پاس آتا جلدی سے بولا نازر اعوان بس غصے سے گھور کر رہ گیا۔

“کام کا بتاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم کے بارے میں جاننے کے لیے نازر اعوان بہت بے تاب تھا۔

“سر آؤٹ ورڈلی دیکھا جائے تو وہ ایک عام شہری ہے جو بڑے شریفانہ طور پر رہ رہا ہے مگر ان ورڈلی وہ شریف نہیں ہے،اُسکا بیک گراؤنڈ کلیر ہے اُسکا کام دھندا لیگل ہے مگر اُسکا اپنا ایک گینگ ہے جو پُورے ملک میں کیا باہر کے ممالک میں بھی کام کرتا ہے مگر حیرت کی بات ہے کہ وہ کیا کام کرتے ہیں کیسے کرتے ہیں اور بنا ثبوت چھوڑے وہ کیسے سب کی نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں یہ بھی نہیں معلوم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”دلاور کی انفارمیشن پر نازر اعوان کا دماغ گرم ہواتھا۔

“یہ اطلاعات ہیں تمہاری،یہ مخبری کرتے ہو تم،کوئی ایک بات جو میرے پتے کی بتائی ہو تم نے،ایک عام آدمی کے بارے میں تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“سر وہ عام آدمی نہیں ہے،کسی پولیس اسٹیشن کسی بھی انوسٹیگٹر کسی بھی گینگ کے پاس اُسکی زرا بھی انفارمیشن نہیں ہے،ثبوت تو دور کی بات کوئی جانتا بھی نہیں کہ وہ کام کیا کرتا ہے بس اتنا ہے کہ لوگ اُس کے نام کو جانتے ہیں اور اُس کی عزت کرتے ہیں کیونکہ اُسکا اُٹھنا بیٹھنا بہت بڑے بڑے سیاست دانوں اور قانون کے رکھوالوں کے ساتھ ہے کیونکہ وہ فنڈنگ بہت دیتا ہے سیاسی پارٹیوں کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”دلارو نے اُسکی بات کاٹ کر سچائی بیان کی جو اُسے کسی صُورت ہضم نہیں ہوئی تھی۔

“پر اب اُسکا پالا میرے ساتھ پڑا ہے نازر اعوان کے ساتھ،اور میں بخوبی جانتا ہوں کہ اپنی بل میں چھپے سانپ کو کیسے باہر نکالنا ہے،ایک دفعہ وہ میرے پر کُھل جائے پھر کیس بنانا اور اُسے اندر کرنا بہت آسان ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نازر اعوان کی آنکھوں میں بدلے کی آگ صاف دکھائی دے رہی تھی۔

“سر اُس نے کیا کیا ہے ویسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“یہ تمہارا مسلہ نہیں ہے اور نہ تمہارے لیے جاننا ضروری ہے،تُم بس اتنا کرو کہ جن سیاسی پارٹیوں کو وہ فنڈ دیتا ہے وہ کونسی ہیں تا کہ پتہ چلے اُن سے وہ کونسے کام نکلواتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

نازر اعوان اُٹھتے ہوئےکچھ نیلے نوٹ اس کے سامنے ٹیبل پر رکھتا ہوٹل سے باہر نکل گیا۔

!__________________________________________!

وہ غائب دماغی کے ساتھ کلاس روم میں بیٹھی پینسل سے لکیریں کھینچتی سب سے لاتعلق تھی کہ اُسکے ساتھ بیٹھی اُسکی دوست حرا نے دوسری بار اُسے ٹہوکا دیا۔

“کہاں گم ہو آج۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“آں،ہاں،کہیں نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بوجھل دل کے ساتھ گہری سانس بھر گئی۔

“مجھے لگا شاید اُس ہینڈسم کے بارے میں سوچ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حرا کی معنی خیز بات پر وہ نہ سمجھی سے دیکھنے لگی۔

“کون ہینڈسم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟

“ارے وہی جو اُس دن کالج کے گیٹ پر تھا تمہارے ساتھ،تمہارا منگتیر ھادی اور کون۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حرا کی بات پر وہ بھونچکی سی اُسے دیکھنے لگی۔

“وہ_نہیں وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“ویسے بہت زیادہ خوش قسمت ہو کہ تمہیں اتنا خوبصورت اور چارمنگ پرسنالٹی کا منگیتر ملا اور اُوپر سے لونگ اور کیرنگ بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حرا اپنے ہی دھیان میں بولی جا رہی تھی وہ بار بار کچھ کہنے کو لب وا کرتی پھر چپ ہو جاتی اُس کے خاموش ہونے کے بعد وہ بولتی کہ پرنسپل کے آفس میں اُس کا بلاوا آ گیا۔

“میڈم نے مجھے کیوں بُلایا۔۔۔۔۔۔۔”خود سے کہتی اور سوچتی وہ پرنسپل رخشندہ کے آفس میں داخل ہوئی۔

“جی،آپ نے بُلایا،میڈم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فاریسہ کے کہنے پر میڈم رخشندہ نے اسکی طرف دیکھا۔

“ہاں وہ باہر آپ کے ڈرائیور آئے ہیں،آپ کے گھر سے کال آئی تھی کہ آپ کے گھر مہمان آ رہے ہیں سو آپکی ہاف چُھٹی منظور ہو گئی ہے،آپ جا سکتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”میڈم کی بات پر اُس کا دھیان مہ پارہ بیگم کی طرف گیا جو صُبح اسے اطلاع دے رہی تھیں۔

“اوہ تو وہ لوگ آج ہی آ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”دلگرفتگی سے وہ بیگ اُٹھائے گیٹ کی طرف چل دی۔

باہر آ کر دیکھا تو ڈرائیور یا گاڑی کہیں دکھائی نہ دی وہ کچھ پریشان سی ہوتی ادھر اُدھر دیکھنے لگی تبھی ایک بلیک گاڑی کھڑی نظر آئی۔

“یہ تو ہماری گاڑی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سر نفی میں ہلاتی واپسی کے لیے قدم موڑے کہ اپنے پیچھے کھڑے اُس چھ فٹ سے نکلتے قد والے برزل ابراہیم کو دیکھ کر دل اُچھل کر نہ صرف حلق میں آ رُکا تھا بلکہ اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا سانس نیچے اٹک گیا تھا۔

“یقننا بُرا تو بلکل نہیں لگا ہوگا مجھے یہاں دیکھ کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اپنے دونوں ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں پھنسائے دلچسبی سے اس کے تاثرات جانچنے لگا۔

“میں_میں نے،یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اپنے خُشک لبوں پر زبان پھیرتی اپنا انگوٹھی والا ہاتھ آگے کر گئی جیسے کہہ رہی ہو کہ میں نے رنگ پہن لی ہے اب کیا لینے آئے ہو۔

“نائس۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم نے رنگ کو اپنے ہاتھوں کی دو پوروں سے چھو کر سراہا تھا جو جلدی سے نہ صرف اپنا ہاتھ پیچھے کر گئی بلکہ خود بھی دو قدم پیچھے ہٹی تھی۔

“ویل،گاڑی میں چلنا زرا،مجھے تم سے کام ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسکی گھبراہٹ کا جائزہ لیتا بے نیازی سے بولا۔

“نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فاریسہ قطعیت سے انکار کر گئی مگر اس کے دیکھنے پر جلدی سے وضاحت دینے لگی۔

“وہ،مجھے گھر_جانا ہے،وہ میرا،ڈرائیور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“میں نے ہی بلوایا ہے تمہیں،تمہارا ڈرائیور ٹھیک ایک گھنٹے بعد اپنے ٹائم پر ہی آئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فاریسہ حیرت کے شدید جھٹکے کے زیر اثر اُسے دیکھنے لگی۔

“آ،آپ،آپ نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ خود کو کوسنے لگی کہ گیٹ سے باہر ہی کیوں نکلی پہلے ڈرائیور کی نشانداہی تو کر لیتی مگر وہ فاریسہ اعوان تھی سب کے حکم پر سر خم کرنے والی اتنی سمجھداری کا مظاہرا کیسے کر سکتی تھی۔۔

“اب چلو گی کہ مجھے تمہارا ہاتھ پکڑ کر یا بازو سے کھینچ کر زبردستی گاڑی میں لے جانے کی دھمکی دینی ہو گی،اگر ایسا ہی کوئی سین کریٹ کرنا چاہتی ہو تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم نے اپنے ازلی لاپرواہی والے انداز میں کندھے اُچکائے تھے جبکہ فاریسہ سر نفی میں ہلاتی قدم بڑھا گئی اور اپنے دھک دھک کرتے دل کو قابو میں کرتی کن انکھیوں سے کالج کے گیٹ کی طرف دیکھنے لگی جو بند ہو چُکا تھا پھر سڑک کی دفعہ دیکھا جہاں اس وقت اُکا دُکا گاڑیاں گزر رہی تھیں وہ اس سے بچنے کے لیے کُچھ بھی نہیں کر سکتی تھی سوائے رونے کے اور اُس نے ویسا ہی کیا تھا اُسکی آنکھوں میں پانی اکھٹا ہونے لگا تھا وہ ہمیشہ کی طرح اب بھی اُس کے سامنے بے بس ہو گئی تھی۔

گاڑی کی پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولا گیا تھا وہ بیگ سمبنھالتی اندر بیٹھ گئی اندر بیٹھنے پر اُسے اندازہ ہوا وہ کوئی کار نہیں تھی بلکہ آمنے سامنے سیٹوں والی کوئی اور ہی گاڑی تھی جس کی سیٹوں کے درمیان ایک ٹیبل تھا جس میں دو تین قسم کے کھانے تھے اپنے ڈر،اپنی بے بسی سے آنکھوں میں آ جانے والے آنسوؤں کو صاف کرتی وہ یہ نہیں دیکھ سکی تھی کہ دو آدمی فرنٹ سیٹس سے اُٹھ کر جا کر باہر کھڑے ہو گئے تھے۔

“اصل میں مجھے لنچ کرنا تھا تو میں نے سوچا کیوں نہ تمہارے ساتھ کیا جائے،دوسرا شکریہ بھی تو وصول کرنا تھا اس ادنی سی چیز کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ رنگ کی طرف اشارہ کرتا پانی کی بوتل منہ سے لگا گیا۔فاریسہ کا دل کیا کہ وہ رنگ اُتار کر اس کے منہ پر دے ماڑے مگر وہ ایسا کر نہیں پائی تھی کیونکہ اُس کے اندر ایسا کرنے کی ہمت نہیں تھی اسلیے تو اپنی کم ہمتی پر آرام سے آنسو بہانے لگی تھی۔

“تمہیں لگتا ہے کہ مجھے تمہارے ان آنسوؤں سے فرق پڑے گا،بلکل نہیں میرا اور تمہارا ایسا کوئی رشتہ نہیں کہ تم آنسو بہاؤ اور میں کہوں کہ مت رو تمہارے آنسو میرے دل پر گڑ رہے ہیں،سو یہ صاف کرو اور سکون سے کچھ باتیں سُنو اور چلی جانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس کی طرف ٹشو پیپر بڑھایا جسے فاریسہ نے مرے مرے ہاتھ سے تھام کر آنسو صاف کرنے لگی جو اس کھٹور کی باتوں پر بلاوجہ ہی آئے جا رہے تھے۔

“لنچ کرنا ہے تو کر لو،ویسے بھی رات کا کھانا بمشکل ہی ہضم ہوگا تمہیں،کیونکہ میں تمہارے لیے رات تک ایک سپرائز پلان کر رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”کانٹے اور سپون کی مدد سے سیلڈ کھاتا وہ فاریسہ کا دم خشک کرنے لگا۔

“مجھ سے شادی کرو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ جو ابھی اُسکی پہلی بات پر سوچ میں پڑ گئی تھی اب تو ششدر آنکھیں پھاڑے اُسے دیکھ رہی تھی جو اتنی بڑی بات کہنے کے بعد بھی پُرسکون سا کھانا کھا رہا تھا۔

“تمہارے بابا سے بات کرنے سے پہلے میں نے سوچا تم سے پوچھ لوں،کیونکہ کل کو میں یہ نہیں سُننا چاہتا کہ مجھ سے کسی نے میری مرضی ہی طلب نہیں کی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ شاید اسے اپنی باتوں سے ختم کرنا چاہتا تھا اس لیے باتوں کے تیر چلاتا گیا یہ دیکھے بنا کہ اگلا بندہ مرنے کے قریب ہو چلا تھا۔

“نہیں،نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”پھر سے اُسکی آنکھوں سے جیسے سیلاب اُتر آیا تھا۔

“بابا مار دیں گئے مجھے،بابا،نہیں،پلیز مجھے معاف کر دیں،یہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ آگے کا سوچ کر ہی دھل گئی تھی وہ جانتی تھی کہ یہ سُننے کے بعد اُسکا باپ اُس کے منہ سے صفائی کا ایک لفظ بھی نہیں سُنے گا۔

اُس کے سفید پڑتے چہرے کی طرف دیکھ کر برزل نے کھانے سے ہاتھ روکا اور اب کی بار کچھ نرم لہجے میں گویا ہوا۔

“تم فکر نہ کرو، جس طرح میں رشتہ طلب کرونگا تمہارے بابا تمہیں ماریں گئے نہیں بلکہ تمہیں محفوظ کریں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی تسلی پر وہ مسلسل سر نفی میں ہلا رہی تھی۔

“میری شادی ہونے والی ہے،میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“ہاں تو یہی تو کہہ رہا ہوں کہ تیار ہو جاؤ تمہاری شادی ہونے والی ہے،دو دن دے رہا ہوں تمہیں،تیسرے دن آ جاؤنگا تمہیں رُخصت کروانے کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ دھماکے پہ دھماکہ کیے جا رہا تھا بنا سوچے کے سامنے والے میں اتنی ہمت ہےکہ وہ ان دھماکوں کے اثرات کو برداشت کر سکے فاریسہ کے ابھی سے ہاتھ پاؤں پھول گئے تھے وہ زرد چہرہ لیے برزل ابراہیم کی طرف رحم کی اپیل کرتی نظروں سے دیکھنےگی وہ اسے نہیں بتا سکتی تھی کہ وہ اس سے ہرگز شادی نہیں کرنا چاہتی اور وہ اپنے باپ کو بھی جانتی تھی کہ وہ اس کو مارنے میں ایک پل بھی نہیں سوچیں گئے۔۔

“اب تمہیں جانا چاہیئے کیونکہ ٹائم ہو گیا ہے تمہارے ڈرائیور کے آنے کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اپنی کلائی پر بندھی گھڑی پر نظر ڈالتا دوسری اس پر ڈالی جو سفید یونفارم میں سفید ہو گئی تھی۔

“اب تین دن بعد تم سے ملاقات ہو گی،فاریسہ اعوان سے نہیں فاریسہ برزل ابراہیم سے،تب تک کے لیے اللہ حافظ۔۔۔۔۔۔۔۔”اس کے نکلتے ہی وہ بولا اور دور کھڑے آدمیوں کو اشارہ کرتا بلیک چشمہ آنکھوں پر چڑھاتا ایزی ہو کر بیٹھ گیا۔

فاریسہ مرے مرے قدموں سے کالج کے گیٹ کی طرف بڑھتی اپنی زندگی کے آخری پلوں کو محسوس کرنےگی۔

!__________________________________________!

“سر برزل ابراہیم آپ سے ملنا چاہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ایس ایچ او نسیم کی آواز پر نازر اعوان نے چونک کر سر اُٹھایا تھا۔

“بھیجو اُسے اور ہاں دروازے پر ہی رہنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نسیم کو کہتا وہ اپنا پسٹل نکال کر ٹیبل پر رکھ گیا تبھی دروازہ کُھلا اور بلیک جینز پر گرے ٹی شرٹ پر بلیک لیدر کی جیکٹ پہنے وہ اپنی بھرپور مردانہ وجاہت لیے اسکے سامنے تھا۔

“سلامتی تو آپ پر بھیجنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ ہم دونوں ہی ایک دوسرے کی سلامتی نہیں چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”اس کے سامنے کرسی پر بیٹھتا وہ مُسکرا کر بولا۔

“آپ کے گھر میں بنا اجازت گھسا تھا جو آپ کو کافی نا قابل قبول لگا اس لیے آپ کے تھانے میں اجازت سے آیا ہوں یقیننا یہ بھی اچھا تو بلکل نہیں لگا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے پُرسکون نظروں سے نازر اعوان کے غصے سے سُرخ ہوتے چہرے کی طرف دیکھا۔

“یہ تو ماننا پڑے گا برزل کہ باپ بیٹی میں ایک چیز کامن ہے وہ ہے مجھے دیکھ کر چہرہ لال کرنا،وہ ڈر کی وجہ سے اور یہ غصے کو ضبط کرنے کی وجہ سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے سر جھٹکا۔

“یہاں آنے کا مقصد۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“ایک زاتی کام سے آیا ہوں،ویسے ملاقات تو گھر میں کرنی چاہیئے تھی مگر وہ کیا ہے نہ اس بار میں زرا بے ادبی نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“مجھے اتنا ہلکا نہ لو لڑکے ورنہ اس بار کی غلطی آخری غلطی بن جائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نازر اعوان کے لہجے میں اور آنکھوں میں صاف نفرت دیکھی جا سکتی تھی۔

“وہ تو آپ لے رہے ہیں مجھے،یہ جو آپ کے مخبر میرے خلاف کچھ جاننے کی،کچھ تلاشنے کی غلطی کر رہے ہیں تو میں بتا دوں کہ وہ اپنا ٹائم ویسٹ کر رہے ہیں،کیونکہ میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم نے بولتے ہوئے دیوار پر لگے کیمرے کی طرف دیکھ کر مسکرایا اور اپنی بات مکمل کی۔

“کیونکہ میں ایک نہایت شریف آدمی ہوں اور شریفانہ طور پر چھوٹا سا کاروبار کر رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“تم فکر نہ کرو برزل ابراہیم ثبوت ملے نہ تو ثبوت بنانا کوئی مشکل کام نہیں ہوتا ہمارے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نازر اعوان تلخی سے بولا۔

“اچھی بات ہے،بہت اچھا لگا سُن کر،مطلب کافی مزہ آنے والا ہے سپاہی اور شریف آدمی کی لڑائی میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اپنی مرضی کے مطابق جملے کو ڈال گیا۔

“ویل اس وقت مجھے ایک اور کام سے آنا پڑا،اگر میرے گھر میں مجھ سے کوئی بڑا ہوتا تو وہ آتا مگر وہ کیا ہے نہ کہ گھر میں،میں ہی بڑا ہوں سو مجھے ہی آنا پڑا آپ سے آپکی بیٹی کا ہاتھ مانگنے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل کے آخری الفاظوں نے نازر اعوان کے دماغ کو جھٹکا دینے کے بعد جھنجنا کر رکھ دیا تھا۔

“تم،تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہ کہنے کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نازر اعوان اپنی سیٹ سے اُٹھتا کھا جانے والے انداز میں چلایا تھا۔

“ٹیک اٹ ایزی،ریلیکس میں بھی تو ہوں نہ جو تم سے رشتے داری کرنے لگا ہوں مگر صرف نکاح ہونے تک پھر تمہارا اور میرا کوئی واسطہ نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“اس سے پہلے کہ میں تمہیں یہی مار دوں میری نظروں کے آگے سے دفعہ ہو جاؤ اور میری بیٹی کے بارے میں اب ایسا سوچنا بھی مت۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نازر اعوان نے اُسے قہر بھری نگاہوں سے گھورا تھا جو ریلیکس انداز میں اُٹھ کھڑا ہوا۔

“تمہاری بیٹی کے بارے میں ایسا نہیں سوچ رہا،اُسے تو میں ٹھیک سے جانتا بھی نہیں بلکہ دیکھا بھی نہیں غور سے،یہ سب تو میں تمہارے لیے کر رہا ہوں تا کہ داماد بن کر میں تمہارے قریب آ سکوں اور تم میرے بارے میں جاننے کے لیے یوں یوں ٹکے ٹکے کے لوگوں کے سامنے پیسہ نہ پھینکو اس لیے تیار رہنا پورے تین دن بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔”کہہ کر وہ جانے لگا پھر کچھ یاد آنے پر پلٹا جو آگ برساتی نگاہوں سے اسے دیکھتا

اپنے اشعتال کو قابو میں کیے ہوئے تھا۔

“میں نے سُنا تھا کہ پولیس والے اپنے دامادوں کی بڑی عزت کرتے ہیں،پر تم نے بتا دیا کہ میں نے ٹھیک سُنا تھا مگر اُمید غلط بندے سے لگا لی،تین دن بعد ملاقات ہو گی بائے سُسر جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”دل جلانے والی مسکراہٹ اُچھالتا وہ نکل گیا نازر اعوان نے غصے سے ٹیبل پر پڑا گلاس زمین پر دے مارا۔

“تمہارا کوئی علاج کرنا پڑے گا بہت جلد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نازر اعوان موبائل ہاتھ میں لیے اپنے آفس سے نکلا۔

!__________________________________________!

وہ رات تک پریشان اور بے فکر رہی تھی اُسے رہ رہ کر برزل ابراہیم کی دیدہ دلیری پر غصہ آرہاتھا اور اپنی شامت آنے کا اتنا خوف طاری ہو گیاتھا کہ وہ کمرے میں ایک جگہ سے دوسری جگہ چکر لگاتی مسلسل دُعائیں مانگ رہی تھی اور نازر اعوان کے ردعمل کا سوچ سوچ کر اُسکا دل بیٹھا جا رہا تھا۔

“چھوٹی بی بی آپکو بڑے صاحب اپنے کمرے میں بُلا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اپنی سوچوں میں اس قدر محو تھی کہ انجم کے آنے پر چونکی اور اُسکے پیغام پر دم سادھے اُسے دیکھنے لگی جیسے وہ اُسکی لیے موت کاپروانہ لے کر آئی ہو۔

“بابا،بابا نے،کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”دھک دھک کرتے دل کی رفتار کو قابو میں کرتی پوچھنے لگی جو کندھے اُچکا کر چلی گئی۔

“اوہ تو برزل ابراہیم تم نے میری موت کا سامان تیار کروا دیا،مطلب میرا آج آخری دن تھا۔۔۔۔۔۔۔۔”اپنے کمرے پر نگاہ دوڑاتی وہ آنکھوں میں آئے آنسوؤں کو اپنے اندر اُتارتی بوجھل دل لیے نازر اعوان کے کمرے کی طرف چل دی۔

“میں تمہیں کبھی معاف نہیں کرونگی برزل ابراہیم،مر کے بھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”اس لمحے اُسے برزل ابراہیم سے نفرت محسوس ہو رہی تھی۔

“جی،جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُن کے کمرے میں بیٹھے سب لوگوں پر نگاہ دوڑاتی وہ ہاتھ مسلتی نم آنکھیں مہ پارہ پر جمائے بولی جو پریشان اور فکرمند نظر آ رہی تھیں۔

“تمہارا پرسوں نکاح ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”نازر اعوان کی اطلاع پر وہ بھونچکی سی اُن کو دیکھتی رہ گئی وہ تو کسی اور الفاظ کی توقع کر رہی تھی۔

“کل سے تم کالج نہیں جایا کرو گی،بلکہ پرسوں تک اس گھر سے باہر پاؤں بھی نہیں رکھنا،کچھ مخالف لوگ تعاقب میں ہیں اس لیے پرسوں ہادی کے ساتھ نکاح ہے تمہارا اور رُخصتی کچھ دن بعد۔۔۔۔۔۔۔۔”نازر اعوان نے بات ختم کرکے اُسے جانے کا اشارہ دے دیا اُن کے کمرے سے نکلتی وہ حیران و پریشان تھی اور سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ بچ کیسے گئی۔

“فکرنہ کرو جس طرح میں رشتہ طلب کرونگا تمہارے بابا تمہیں ماریں گئے نہیں بلکہ محفوظ کریں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم کے الفاظ اُس کے کانوں میں گونجے تھے وہ گہرا سانس بھر گئی۔۔۔

!__________________________________________!