Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz Readelle50262 Tera Ishq Jaan Lewa (Episode 07)
Rate this Novel
Tera Ishq Jaan Lewa (Episode 07)
Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz
“یہاں بیٹھیں بھابھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر اُسے سنگل صوفے پر بیٹھنے کا کہہ کر خود ٹوسٹر صوفے پر بیٹھ گیا۔
“آپ کو پتہ ہے بھائی کو سب سے زیادہ کیا پسند ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر کے سوال پر وہ سر نفی میں ہلا گئی ابھی تک تو اُس نے برزل ابراہیم کو غور سے نہیں دیکھا تھا اُسکی پسند نہ پسند کے بارے وہ کیسے معلوم کر سکتی تھی اور ویسے بھی ابھی وہ جس سچوئیشن میں تھی وہ ایسا جاننے کے بارے میں خواہش مند بھی نہ تھی۔
“میں بتاتا ہوں،بھائی کو سب سے زیادہ ‘ڈر’ پسند ہے جو کسی کے پاس ہو صرف برزل ابراہیم کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر کی بات پر وہ نہ سمجھی سے دیکھنے لگی۔
“کیا مطلب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مطلب یہ کہ بھائی چاہتے ہیں کہ ہر کوئی اُن سے ڈرتا رہے،اور جو نہیں ڈرتے اُن سے بھائی دب کے رہتے ہیں جیسے مثال کے طور پر میں،بھائی مجھ سے دب کے رہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر نے آخری الفاظ ادا کرتے ہوئے اپنے دائیں بائیں جانب دیکھنا لازمی سمجھا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا اگر یہ الفاظ برزل ابراہیم کے کانوں تک پہنچ جاتے تو اس نے زمیں کے اندر ضرور دب جانا تھا۔
“وہ،آپ سے ڈرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فاریسہ کو شاید یقین نہ آیا تھا۔
“ایسا ویسا ڈرتے ہیں،وہ تو میں ذرا بڑا ہونے کی وجہ سے اُنکو عزت دینے پر مجبور ہوں ورنہ تو میری مرضی کے بغیر وہ ایک کام بھی نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تو پھر،اس لیے وہ نہیں چاہتے تھے کہ میں آپ سے ملوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فاریسہ نے جیسے یقین کر لیا ہو حیدر زور سے سر ہلانے لگا۔
“بلکل،اُن کو پتہ تھا کہ میں آپ سے ملا تو میں آپ کو بھی زرا اُن پر روب ڈالنے کا اور نہ ڈرنے کا کہونگا وہ نہیں چاہتے کہ ایک اور حیدر جیسا اس گھر میں ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر کمال چالاکی سے الفاظ کا ہیر پھیر کرتا اُسے اکسانے پر لگا ہوا تھا وہ اصل میں یہ نہیں چاہتا تھا کہ حیدر کی طرح ایک اور ڈرپوک اس گھر میں ہو وہ فاریسہ کو برزل ابراہیم کے آگے کھڑا کرنا چاہتا تھا کیونکہ اسے پتہ تھا کہ برزل ابراہیم فاریسہ سے کسی بھی معاملے میں سختی نہیں کر سکتا تھا اور اسی چیز کا فائدہ حیدر اُٹھانا چاہتا تھا۔
“مجھے کیا کرنا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فاریسہ کی بات پر وہ مسکراتا پُرجوش سا کہنے لگا۔
“آپ نے بس یہی کرنا ہے کہ ہر کام میں بس اپنی مرضی کرنی ہے،وہ کوئی بھی بات کہیں آپ نے اُنکی کسی بات پر عمل نہیں کرنا،بلکہ آپ نے اپنی بات ہی منوانی ہے زرا روب میں رہنا ہے اوکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“جی ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مجھے پتہ ہے بھابھی آپ بہت بہادر ہیں،آپ بھائی سے بلکل نہیں ڈرتی بلکہ آج سے وہ آپ سے ڈر کر رہیں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر نے اس سے زیادہ خود کو یقین دلایا تھا۔
“ہاں میں بہت بہادر ہوں،میں نہیں ڈرتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فاریسہ نے بھی خود کو باور کروایا تھا۔
“گُڈ بھابھی،آپ سب سے اچھی والی بھابھی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر اپنی کامیابی پر خوش ہو گیا تھا فاریسہ بھی دھیمے سے مُسکرادی تھی اسے حیدر اچھا لگا تھا۔
“آپ کیا کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے زہن میں آیا کہ کہیں یہ بھی تو برزل ابراہیم کی طرح یہ بھی تو مجرم نہیں تھا۔
“میں ابھی اسٹڈی سے فارغ ہو کر ریسٹ کر رہا ہوں پھر مجھے بی_سکائے شوروم کا انچارج سھنبھالنا ہے جب بھائی واپس اپنی جگہ پر چلیں جائیں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کونسی جگہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فاریسہ کے پوچھنے پر وہ بتاتا کہ
تبھی لاونج کے دروازے سے سلیمان اور برزل ابراہیم داخل ہوئے۔
“کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم حیدر کے ساتھ آ کر ٹک گیا جبکہ سلیمان فاریسہ کے دائیں جانب بیٹھ گیا تھا۔
“کچھ نہیں بھائی،بس بھابھی سے گپ شپ ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اوہ تو کیا تمہاری بھابھی گپ شپ کر لیتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے ایک مسکراتی نگاہ سر جھکائے بیٹھی فاریسہ پر ڈال کر حیدر سے پوچھا۔
“ہاں کیونکہ بھابھی مجھے اپنا بھائی مانتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تو پھر بھابھی مجھ سے بھی گپ شپ لگا سکتی ہیں کیونکہ میں بھی بھابھی کا بھائی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان کے کہنے پر فاریسہ نے دیکھا جو نرم سی مسکراہٹ لیے اس کی طرف دیکھ رہا تھا فاریسہ سر ہلا گئی برزل ابراہیم کچھ پرسکون ہوا تھا کہ فاریسہ ان کے ساتھ گھلنے ملنے کو تیار ہو گئی تھی تبھی مس زونا سب کے لیے چائے اور برزل ابراہیم کے لیے کافی لے کر آئی۔
“مس زونا میرے لیے کچھ کھانے کا لے آئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر کے کہنے پر مس زونا نے سرہلایا۔
“آپ کیا کھائیں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کباب لے آئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر کی فرمائش پر وہ کچن میں چلی گئ جبکہ سلیمان نے معنی خیز نظروں سے حیدر کی طرف دیکھا اور مُسکرا دیا برزل ابراہیم بھی سلیمان کی مسکراہٹ کو سمجھتا مسکرایا تھا۔
“میرے شیر کھا پی کر جان بناؤ دو دن تک،پھر تمہیں پتہ نہیں کتنے دن دال روٹی پر گزارا کرنا پڑے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان نے حیدر کے کلین شیو چہرے پر نظر ڈال کر جیسے اُسے تیار کرنے کی کوشش شروع کی تھی۔
“کیوں،اب کیا کوئی نئی سزا ملنے لگی ہے اب میں نے کیا کر دیا ہے بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ چائے کا کپ وہی رکھتا برزل ابراہیم کی طرف متوجہ ہوا جو صوفے سے اُٹھ رہا تھا۔
“بعد میں بات کرتے ہیں حیدر،ابھی اپنا فوڈ انجوائے کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے اُسکا شانہ تھپتھایا تھا اور حیدر انجان نہیں تھا وہ اس تھپکی کا مطلب اچھے سے سمجھتا تھا۔
“میم آپ میرے ساتھ آئیں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم نے فاریسہ سے کہا جو کچھ ڈر گئی تھی بے ساختہ وہ حیدر کی طرف دیکھنے لگی جس نے سر نفی میں ہلایا تھا کہ انکی مان کر مت جائیے گا سلیمان نے حیرت سے حیدر کی طرف دیکھا تھا اور سارا معاملہ سمجھ کر وہ مسکرا دیا تھا۔
“وقت سے پہلے مرے گا یہ بھائی کے ہاتھوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان سوچ کر رہ گیا۔
“اُٹھو گی کہ میں سہارا دوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم کے لہجے میں کچھ تھا کہ وہ جلدی سے اُٹھ گئی تھی۔
“اُف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُن دونوں کا جاتے دیکھ کر حیدر نے اپنا سر کشن سے دے مارا تھا۔
“بھابھی آپ میری ہی بہن نکلی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بڑبڑا کر رہ گیا سلیمان ہنس دیا۔
“چھوٹے تم جس کام میں پڑ رہے ہو نہ وہ تمہیں اس گھر سے کیا دُنیا سے بھی کِک آؤٹ کروا سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان نے خبردار کرنا ضروری سمجھا تھا حیدر اُسکی بات پر خفیف سا ہو گیا۔
“میں تو بس بھابھی کو بہادر بنانے کی کوشش کر رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“وہ کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اس گھر میں اور کتنے بزدل جنم لیں گئے،کسی کو تو بہادر ہونا پڑے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر کے منہ بسورنے پر سلیمان قہقہ لگا کر ہنس پڑا تھا۔
“اس گھر میں ایک بہادر ہی کافی ہے حیدر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان نے اُسے سمجھاتے ہوئے پلیٹ سے ایک کباب اُچک لیا جو مس زونا رکھ کر جا چُکی تھی۔
!___________________________________________!
وہ اپنی چادر کو کندھوں پر ڈالتی اُن تینوں سوئی لڑکیوں پر نظر ڈالتی کمرے سے باہر نکل کر راہداری سے گُزرتی بالکونی میں آ کر چاند کو دیکھنے لگی جو کہ اس کی طرح اُسے خاموش لگا تھا وہ سیاہ آسمان کو تکتی دیوار سے ٹیک لگا گئی اور اپنی پچھلی زندگی کو سوچنے لگی جو ہر دفعہ اُس کے لیے آنسوؤں کا ہی زریعہ بنی تھی۔
اس دارالمان میں آئے اُسے چھ ماہ ہوچُکے تھے وہ اب کافی حد تک سھنبل چُکی تھی مگر پھر بھی ان چھ ماہ میں ایسی کوئی رات نہ تھی کہ جس پر وہ آنسو نہ بہاتی ہو اور اپنی غلطیوں پر پشیمان نہ ہوتی ہو ایک گہرا سانس بھرتی وہ کمرے میں واپس جانے لگی کہ اُس کے کانوں میں کسی کی سسکیوں کی آواز پڑی وہ اُس آواز کے تعاقب میں سیڑھیوں کی طرف آئی جہاں دوسری سیڑھی پر وہ وجود بیٹھا سسکیاں لے رہا تھا۔
ہانیہ نے اُس وجود کی صورت دیکھتے ہوئے گہرا سانس بھرا یہ عروج تھی جو آج ہی کسی کی ستائی ہوئی اس دارالامان میں آئی تھی۔
“رونے سے اگر سب ٹھیک ہو جاتا تو میں بھی چھ ماہ بعد بھی رو نہ رہی ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ہانیہ کی آواز پر عروج نے چہرہ اُٹھا کر اُسکی طرف دیکھا جو اُس کے پاس ہی بیٹھ گئی تھی۔
“میں کچھ ٹھیک کرنے کے لیے نہیں رو رہی،بلکہ اس بات پر رو رہی ہوں کہ میں نے سب غلط کیسے کر لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ رندھی آواز میں بولی تو ہانیہ کے چہرے پر اذیت بھری مسکراہٹ آئی۔
“اصل رونا ہی یہی ہے کہ ہم لوگوں کو عقل ہی تب آتی ہے جب ہم اتنا کچھ غلط کر لیتے ہیں کہ پیچھے مُڑنے کا کوئی راستہ نہیں بچتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیونکہ ہم سارے راستے خود ہی جلا کر آگے بڑھتے ہیں اور بعد میں ہمارا مقدر ایسی جگہیں یا دو گز قبریں ہی بنتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ شاید کسی سے بات کرنے کی خواہش مند تھی اس لیے اس کی باتوں کا جواب دینے لگی تھی ورنہ ہانیہ نے دیکھا تھا صبح سے وہ رونے کے علاوہ کچھ نہیں کر رہی تھی۔
“میں یہ نہیں پوچھونگی کہ تم کیسے اس جگہ تک پہنچی کیونکہ مجھ سمیت یہاں کی دو سو عورتوں کی لگ بھگ یہی کہانی ہے وہ کسی نہ کسی طرح اپنی غلطیوں،بیوقوفیوں اور کسی نامحرم پر اندھا اعتماد کر کے ہی اس مقام تک پہنچ سکی ہیں،جس سے پوچھو محبت میں ماری گئیں یا کسی کی انا اور خودغرضی کی بھینٹ چڑھ گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ہانیہ کے لہجے میں دُکھ کی کیفیت تھی جس پر عروج کے آنسو تیز بہنا شروع ہو گئے کیونکہ وہ بھی تو ایسی ہی چوٹ کھا کر آئی تھی۔
“اُس نے کہا تھا کہ تم اپنے ماں باپ چھوڑ دو اور میں اپنے چھوڑ دونگا،میں نے تو چھوڑ دیے ہمیشہ کے لیے مگر وہ اپنے دو ماہ تک بھی نہ چھوڑ سکا اور آخرکار مجھے چھوڑ دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”عروج نے بھرائے ہوئے لہجے میں کہا تو ہانیہ کے ہونٹوں سے درد بھری سسکی نکلی۔
“یہی تو اصل تکلیف ہے عروج کہ ہم جب نا محرم کی محبت میں پڑتی ہیں تو اپنے محرم رشتے ہی ہمیں اپنے سب سے بڑے دشمن لگنے لگتے ہیں ایسا لگتا ہے جیسے وہ ہماری خوشیوں کو ہم سے چھین کر ہمیں برباد کرنا چاہتے ہوں،اُنکی کہی ہر بات ہمیں اپنے خلاف لگتی ہے کہ وہ ہمیں ہماری زندگی جینے نہیں دے رہے یہ کیا ہر بات میں روک ٹوک یہ نہ کرو ایسے باہر نہ جاؤ کسی نا محرم سے آنکھ بھی مت ملاؤ،بھائیوں کی طرح ہم آزاد کیوں نہیں ہیں ہم اپنی مرضی کا ہم سفر کیوں نہیں چُن سکتی ہیں،ہم بس اس بات کا فائدہ اُٹھاتی ہیں کہ اسلام میں لڑکی کی پسند کا کہا گیا ہے مگر یہ نہیں پتہ کہ کس طریقے سے لڑکی کو اپنی پسند کا کہا گیا ہے،باہر ہوٹلوں میں مل کر لڑکے سے جان پہچان بڑھا کر پسند کرنے کا نہیں کہا گیا ہے،جس انجان پر ہم اندھا اعتماد کر کے اپنوں کو بے اعتمادی کی بھینٹ چڑھاتے ہیں وہی ہمیں پھر ہماری اصل اوقات ہم پر واضح کر دیتے ہیں،جس گھر میں ہم ات اتنے سال آزادی سے رہ رہے ہوتے ہیں وہی ہمیں قید خانہ لگنے لگتا ہے اور ہم اُس قید خانے سے نکلنے کے لیے اتنے بےتاب ہو جاتے ہیں کہ آخر کار وہاں سے نکل کر اس جیسی جگہوں پر آ جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ہانیہ کے لہجے میں جو درد بول رہا تھا عروج اُس کو اچھے سے محسوس کر سکتی تھی مگر افسوس کے سب کھو جانے کے بعد ہی یہ سب محسوس ہوا تھا۔
“کیا میری طرح تمہیں بھی استمال کر کے چھوڑ دیا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”عروج نے دلگرفتگی سے پوچھا جس کی آنکھوں میں آنسوؤں کا جیسے سیلاب اُمڈ آیا تھا۔
“میں سب سے زیادہ مخالفت کیا کرتی تھی کہ یہ پیار محبت سب فضول ہے کوئی سچا پیار نہیں کرتا اور پھر احمر سے ملنے کے چار ماہ بعد ہی میری سوچ کیا میرا دل بھی بدل گیا،وہ چار ماہ تک میرے پیچھے زلیل ہوتا مجھے اپنی محبت کا یقین دلا گیا ہے کہ،یقین بھی کیا مجھے بیوقوف بنا گیا تھا اب سوچتی ہوں تو خود پر زور زور سے قہقے لگانے کا دل کرتا ہے،بس وہ چار ماہ تک دھوپ میں کھڑا میرا بس اسٹاپ پر انتطار کرتا اور میں بس اس میں ہی پگھل گئی،مجھے اپنے گھر والے بُرے لگنے لگے کیونکہ وہ جان چُکے تھے کہ میں اُس سے شادی کرنا چاہتی ہوں مگر وہ کہتا تھا کہ وہ اپنے گھر والوں کو نکاح کرنے کے بعد آگاہ کرے گا کیونکہ اُسکی کزن کے ساتھ اُسکی بات طے تھی،میری بہن میری ماں نے مجھے سمجھایا مگر میرا یہ ماننا تھا کہ احمر ایسا نہیں وہ مجھے اکیلے میں ملنے کا نہیں کہتا کوئی بُری حرکت نہیں کرتا بس بات ہی تو کرتا تھا وہ باقی لڑکوں جیسا نہیں کیونکہ اُسکا لہجہ اُسکی قسمیں سب بتاتا تھا کہ وہ بہت مجبور ہے مگر وہ میرے لیے سب کچھ فیس کرے گا،ایک رات اُس کے کہنے پر سب چھوڑ چھاڑ کر ایک کرائے کے گھر میں چلی آئی اور نکاح سے ایک رات قبل ہی مجھے منہ کی کھانی پڑی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ہانیہ نے ایک کرب سے آنکھیں میچیں تھیں جیسے سارا کچھ نئے سرے سے تازہ ہو گیا تھا۔
“وہ مجھ سے نکاح نہیں کرنا چاہتا تھابلکہ استمال کرنا چاہتا تھا پوری آزادی کے ساتھ وہ بھی اکیلا نہیں بلکہ اپنے دوستوں کی شراکت داری سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ہانیہ کے لبوں سے سسکیاں نکلیں تھیں اور عروج اپنا غم بھول کر اُس کے غم میں آنسو بہانے لگی تھی۔
“میں جانتی ہوں میں کیسے وہاں سے بھاگی اپنی عزت بچا کر اور یہاں پناہ لے لی،اب بتاؤ عروج غلطی تو میری تھی نہ تو پھر سزا بھی مجھے ہی ملنی تھی نہ،اپنے ماں باپ کی مرضی پر ایک ناپسندیدہ کے لیے سر جھکانے والیوں کو تو ایک دن صبر آ جاتا ہے مگر اپنی پسند کے لیے ماں باپ کو چھوڑنے والیوں کو صبر نہیں آتا عروج۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ہانیہ نے بے دردی سے اپنی آنکھوں کے آنسو صاف کیے تھے۔
“محبت کے بغیر جی لیتا ہے انسان پر عزت کے بغیر جینا مرنے سے بھی بدتر ہو جاتا ہے اور یہ بات اب سمجھ میں آئی مجھے،میں نے محبت ترجیح دیتے ہوئے اپنی اور اپنے ماں باپ کی عزت کو ملیا میٹ کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”عروج نے ہانیہ کے سسکیاں بھرتے وجود کو خود سے لگا کر دلاسہ دینے کی کوشش کی تھی۔
!_________!__________________________________!
فاریسہ اُس کے پیچھے ہی کمرے میں داخل ہوئی تھی جو کہ بیڈ پر ٹک گیا تھا۔
“ادھر آؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ جو بیٹھنے کے لیے جگہ دیکھ رہی تھی اس کے پاس بلانے پر خوف سے زرد ہوئی تھی۔
“وہ میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے،یہاں آ کر بیٹھو،میں نے اُس دن کہا تھا نہ کہ میں تمہاری مرضی کے خلاف کوئی کام نہیں کرونگا تمہیں مجھ سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل کے انتہائی نرم انداز پر وہ جھجھکتی ہوئی اس سے کچھ فاصلے پر ٹک گئی مگر اُس کے دل کی رفتار تیز ہو گئی تھی۔
“ریلکیس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے دھیان سے اُس کی طرف دیکھا جو اس کے لائے گئے بلیک ڈریس میں بالوں کی چٹیا کیے اپنی معصومیت اور سادگی میں برزل کے دل کے تار ہلا رہی تھی۔
“یہ میں تمہارے لیے لایا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ایک مہنگا موبائل سیٹ اُسکی طرف بڑھاتے ہوئے وہ اُسے حیران کر گیا۔
“میرے خیال میں موبائل تمہارے پاس ہونا چاہیئے تا کہ تمہارا جس سے دل چاہے تم بات کر سکو،جیسا کہ اپنی فرینڈز سے،اپنے بھائیوں اور اپنی ماما سے جو یقیننا تمہارے لیے پریشان ہونگیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم کی بات پر وہ تشکر سے اُسے دیکھتی موبائل کو دیکھنے لگی چار دنوں سے وہ کتنی دفعہ مما کو یاد کر کے روئی تھی اُن سے بات کرنے کے لیے بے چین ہوئی تھی۔
“اس کے اندر سم وغیرہ ڈال دی گئی ہے،میرا نمبر،سلیمان اور حیدر کا بھی سیو ہے،میں چاہتا ہوں کہ تم کبھی بھی ہم تینوں کے علاوہ کسی پر بھروسہ مت کرو،مجھ سے اگر کچھ نہ کہہ سکو تو حیدر اور سلیمان کو اپنے بھائی سمجھ کر کچھ بھی کہہ اور کروا سکتی ہو وہ تمہیں کبھی مایوس نہیں کریں گئے،دوسرا میں نے تمہاری مما کا نمبر بھی سیو کیا ہے کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ تمہیں اُنکا نمبر یاد نہیں ہے ورنہ چاردنوں سے تم اس گھر میں ہو تم لینڈ لائن نمبر سے بھی رابطہ کر سکتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم کے مظبوط اور پریقین لہجے پر وہ شرمندہ سی ہو کر سر جھکا گئی کیونکہ حقیقت بھی یہی تھی اسے کسی کا نمبر زبانی یاد نہیں ہوتا تھا۔
“لیکن میں چاہتا ہوں کہ تم میرا نمبر ہر حال میں یاد رکھو اور تم یاد کرو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ جیسے اس کے تاثرات پڑھ رہا تھا موبائل اسکی طرف بڑھایا جسے وہ تھام چُکی تھی۔
“وہ میں،یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کہنا چاہتی تھی کہ اُسے پتہ نہیں کہ موبائل استمال کیسے کرنا ہے مگر کہہ نہ سکی پھر حیدر کا سوچ کر چپ ہو گئی کہ اُس سے سیکھ لے گی برزل ابراہیم جو اُسے ہی دیکھ رہا تھا اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھتا وہ سب سمجھ گیا تھا۔
“لاؤ میں تمہیں اس کے فنکشنز سمجھا دوں،تا کہ تمہیں آسانی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل تھوڑا سا اسکی طرف جھکا تھا وہ پزل ہوتی دم سادھ گئی مگر برزل اس کے کیفیت کو نظرانداز کرتا موبائل کے بارے میں بتانے لگا وہ جو اس کی قربت پر دھک دھک کرتے دل کو قابو کرنے میں ہلکان ہو رہی تھی اس کی موبائل کی طرف توجہ پر کچھ ریلیکس ہوتی اُس کی طرف متوجہ ہوئی جو ایک ایک کرکے سب فنکشنز سمجھا رہا تھا۔
پندرہ منٹ تک وہ اُس کی ہر مشکل آسان کر گیا تھا فاریسہ اب کہ ریلیکس بیٹھی موبائل کے ساتھ لگی تھی برزل اُس کے قریب سے اُٹھتا ڈریسنگ روم کی طرف بڑھا اپنے کپڑے لے کر وہ فریش ہونے واشروم میں چلا گیا جب دس منٹ بعد آیا وہ وہی بیٹھی موبائل کے ساتھ ہی چھیڑ کھانی کر رہی تھی۔
“کل سلیمان تمہیں بُکس وغیرہ لا کر دے گا تم پیر سے اپنے کالج جایا کرو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
فارسیہ برزل کے نئے آڈر پر چونک کر اُسکی طرف مُڑی جو ڈریسنگ مرر کے سامنے کھڑا بال بنا رہا تھا ٹرازور اور ٹی شرٹ میں ملبوس اپنی وجاہت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
“کالج۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ یقیننا حیران تھی۔
“ہاں کالج،تمہارے دو ماہ تک ایگزیمز ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ تم ایگزائمز دو،ابھی تم اسی کالج میں ہی پڑھو گی اُس کے بعد تمہارا کسی یونیورسٹی میں ایڈمیشن کروا دونگا،اس لیے اچھے سے تیاری کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُسے جھٹکے پر جھٹکے لگا رہا تھا فاریسہ حیران تھی کہ وہ اس نئی زندگی کو اپنی خوش قسمتی سمجھے یا اپنے ماں باپ سے دوری کی وجہ سے اس گھر کو اپنی قید سمجھے۔
“ڈنر پر ملتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اپنا موبائل پکڑتا وہ اس پر ایک نرم نگاہ ڈالتا چلا گیا جبکہ فاریسہ حیران ہوتی وہی رہ گئی۔
!_________________________________________!
برزل ابراہیم سیڑھیاں اُترتا نیچے آیا تو حیدر اور سلیمان میں کسی بات پر بحث چل رہی تھی اسے دیکھ کر دونوں خاموش ہو گئے تھے۔
“حیدر اسٹڈی میں جاؤ،مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“جی بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ مودب سا بولتا چلا گیا۔
“سلیمان پیر سے فاریسہ کالج جایا کرے گی اُسکی سیکیورٹی اب تمہاری زمعہ داری ہے،وہی کچھ کرنا جو حیدر کی اسٹڈی کے دوران کیا تھا،سمجھ گئے ہو نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
وہ سلیمان کی طرف مُڑا۔
“جی بھائی،آپ فکر نہ کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مجھے ایس پی کی خاموشی کچھ پُرسرار سی لگ رہی ہے،میں نہیں چاہتا کہ وہ فاریسہ کو کوئی نقصان پہنچائے اس لیے دھیان میں رکھنا اُسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“جی بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اب چلو زرا اس لڑکے کی سرکس دیکھ لیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم نے مسکراتے ہوئے کہا جس پر سلیمان بھی مسکراتا ہوا اُس کے ساتھ اسٹڈی میں داخل ہوا جہاں حیدر پہلے سے براجمان تھا۔
“حیدر میں نے تمہیں پہلی اسائمنٹ دی تھی جس میں رئیس کے آدمیوں کو پکڑوانا تھا مگر تم ناکام ہوتے خود پکڑے گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اُس ایس پی نے جان بوجھ کر مجھے پکڑا تھا بھائی صرف اُن آدمیوں کو نکالنے کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر نے صفائی دینا ضروری سمجھا تھا۔
“بات یہ نہیں کہ کسی نہ جان بوجھ کر پکڑا کہ انجانے میں،بات یہ ہے کہ ہم پکڑے ہی کیوں گئے ہمارا کام ہی ایسا ہے کہ ہمیں ہر کام بنا پکڑے یا کسی کی نظروں میں آئے بغیر کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے بیٹھتے ہوئے اسے کچھ باور کروایا تھا وہ سر ہلا گیا۔
“سلیمان۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم کے اشارے پر سلیمان نے کچھ فوٹیج ایل ڈی پر ظاہر کیے تھے۔
“یہ تو مسز رانا ہیں،ٹی وی ہر دوسرے دن آ جاتی ہیں کسی نہ کسی ٹاک شو میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر نے سکرین پر اُبھرتی تصویر کو دیکھتے ہوئے کہا تھا۔
“ہاں بلکل ٹھیک پہچانا تم نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان نے سر ہلایا۔
“مجھے کیا کرنا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اتنا تو جان چُکا تھا کہ کوئی نیو اسائمنٹ ہے۔
“یہ عورت روپ تو مدر ٹریسا کا لیے پھر رہی ہے مگر اصل میں اسکی حقیقت کچھ اور ہے،اس کا شوہر وقار آفندی ایک سیاست دان اور بزنس مین ہے مگر اس کے علاوہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ مل کر انڈر گراونڈ لڑکیوں کا کام کرتے ہیں،اس عورت کا جو دارلامان ہے اور بے سہارا فاؤنڈیشن وہ سب ہے ہی اصل میں جوے کا اڈا ہے،یہ لوگ بے سہارا عورتوں کو پناہ کے لالچ میں رکھتے ہیں مگر پھر اُنکو کہیں نہ کہیں اپنے فائدے کے لیے استمال کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان دو پل رُکا پھر سکرین پر دلاج آفندی اور مسز رانا کی تصویر اُبھرنے پر بولا۔
“دلاج آفندی بھی اس کے دارالمان میں آنے والی ایک لڑکی تھی مگر وہ ملزم تھی کیونکہ وہ اپنے شوہر کی قاتل تھی،مسز رانا نے اُسکی ایسی برین واشنگ کی کہ وہ اُن کو فائدہ دے سکے،وہی ہوا کہ کچھ ماہ بعد ہی اپنے دوست نما حریف برجیس آفندی کے لیے اُسے استمال کیا،اسی طرح یہ لوگ نہ صرف لڑکیوں بلکہ چھوٹی بچیوں کا بھی استمال کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان کہہ کر چپ ہو کر برزل کی طرف دیکھنے لگا۔
“مجھے ان دونوں میاں بیوی تک جانا ہے جبکہ تم مسز رانا کے دارالامان میں جاؤ گئے اور جب تک میرا کام نہیں ہو جاتا تم وہی رہو گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم کے کہنے پر وہ حیرانگی سے بولا۔
“پر بھائی میں کیسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟اُس کے سوال پر سلیمان نے مسکراتے ہوئے برزل ابراہیم کی طرف دیکھا تھا۔
“تمہیں اپنی بھابھی کے کپڑے اور میک اپ استمال کرنا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر جھٹکا کھا کر دونوں کے مسکراتے چہرے دیکھنے لگا۔
“مطلب میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سوچ ہی اُسے دنگ کر گئی تھی بھلا وہ کیسے ایک ہجرا بن سکتا تھا۔
“نہیں نہیں،مجھے نہیں بننا وہ،اس سے بہتر ہے کہ میں مر جاؤں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر فورًا سے پیشتر انکار کر گیا۔
“مرنے سے پہلے یہ کام کر جاؤ تو اچھا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “برزل جا کر کرسی پر بیٹھتا لیپ ٹاپ کھول لیا حیدر نے سلیمان کو دیکھا جو ہنس رہا تھا حیدر کے تپنے میں ایک منٹ نہ لگا تھا۔
“آپ مجھے سمجھ کیا رہے ہیں،میں کیسے ایک ہجرا بن سکتا ہوں بھائی،شکر ہے مما پاپا زندہ نہیں ورنہ وہ اس دن پر ہی دُکھ سے مر جاتے کہ اُنکا بڑا بیٹا اپنے چھوٹے بھائی کو ایک ہجرا بنانے پر تُلا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تم بہت اچھے لگو گئے حیدر،ٹرسٹ می۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم کی آنکھیں مُسکرا رہی تھیں جبکہ سلیمان زبردست قہقہ لگا گیا۔
“بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ پاؤں پٹخ کر رہ گیا بے بسی سے مُٹھیاں بھینچ گیا۔
“لوگ اپنے بھائیوں کو پال پوس کر بڑا کرتے ہیں کہ وہ ڈاکٹر بنیں،انجینر بنیں فوجی بنیں اور آپ،اتنا پڑھا لکھا کر مجھے یہ بنا رہے ہیں،آج مما پاپا ہوتے تو میرے ساتھ یہ سب نہ ہوتا،لوگ مجھے دیکھ کر ہنسیں گئے اور وہاں دارالامان میں پتہ نہیں کیسے لوگ ہونگے آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں،میری جگہ ہم اصل والا بھیج دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اب وہ جذباتی بلیک میلنگ پر آیا تھا برزل ابراہیم اُٹھ کر اس کے قریب آیا تھا۔
“اس کام کے لیے میں رسک نہیں لینا چاہتا حیدر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“پر بھائی یہ سب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کرنا پڑے گا حیدر،تم جانتے ہو نہ ہمارا مقصد ہماری خواہشوں اور جانوں سے بڑھ کر ہے،ہم ہر حال میں جو کرنا پڑے کر کے اپنے مقصد کو حاصل کریں گئے،تم مما پاپا سے کیا پرامس بھول گئے ہو کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر جس بات کی طرف اشارہ کیا تھا حیدر نے زور سے سر ہلایا تھا۔
“میں اُس پرامس کو پورا اور اُس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کچھ بھی کرونگا بھائی کیونکہ وہ میری جان سے بھی بڑھ کر مجھے عزیز ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر کے چہرے پر اس وقت جو سنجیدگی اور دُکھ تحریر تھا برزل نے اُسے اپنے ساتھ لگا کر اُسکی پیٹ پر تھپکی دے کر خود کو مضبوط رکھتے ہوئے پلٹ گیا تھا۔
“تم بس ایک کھیل کی طرح لو اسے،جیسے کہ تم کسی ڈرامعے میں ایکٹینگ کر رہے ہو،تم نے دیکھا نہیں فلموں اور ڈراموں میں لوگ کس طرح کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان کی بات پر وہ سر ہلا کر برزل ابراہیم کی طرف دیکھنے لگا جو اضطرابی انداز میں ادھر سے اُدھر چکر کاٹ رہا تھا یہ اضطراب کس لیے تھا وہ دونوں ہی اچھی طرح جانتے تھے۔
“بھائی،آپ پریشان نہ ہو ایک دن ہم اُن تک پہنچ جائیں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر نے کہا تو برزل ابراہیم گہری سانس بھرتا سر ہلا گیا۔
“اب تمہیں سلیمان باقی کی تفصیل بتا دے گا اور یہ بھی کہ تم کس طرح وہاں داخل ہو گئے،کیا باتیں کرنی ہیں کس طرح رہنا ہے یہ بھی سب،کور سٹوری ایسی ہو کہ کسی کو شک نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“جی بھائی میں سمجھ گیا جس طرح آپ نائن گروپ کو جاننے کے لیے ایک سال تک پاگل بنے رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر کے کہنے پر برزل ابراہیم مسکرایا۔
“مگر تمہارا کام زیادہ اچھا ہوگا میری نسبت،شوخ اور رنگین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے معنی خیز مسکراہٹ سے کہا تو حیدر تپ گیا تھا یہی مذاق اور طنز اُس کے لیے ناقابل برداشت تھے۔
!__________________________________________!
ایس پی نازر اعوان اس وقت رئیس کے فارم ہاوس میں موجود تھا اور رئیس کا انتظار کر رہا تھا جو دو منٹ ہی کمرے میں داخل ہو گیا تھا۔
“کیسے ہو ایس پی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رئیس ہمیشہ کی طرح شلوار قمیض پر واسکوٹ پہنے اس کے سامنے تھا۔
“میں ٹھیک ہوں،بس کچھ پریشانی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“بلکل ویسی جیسی آج سے بیس سال پہلے تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رئیس کی معنی خیز بات پر وہ گہرا سانس بھرتا سر جھٹک گیا۔
“نہیں اُس سے کچھ مختلف ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ہاں بتاؤ،ہم یاروں کے یار ہیں،تمہیں پریشانی سے نکالنے کی پوری کوشش کریں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“برزل ابراہیم،جس کے بھائی نے تمہارے بندوں کے پاس ڈرگز دیکھ کر پولیس کو کال کر دی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ہاں تو وہ معاملہ تو کب سے رفع دفع ہو گیا،کیا اس وجہ سے وہ پریشان کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رئیس نے سگریٹ لبوں سے لگائی۔
“ہاں تب کا وہ پیچھے پڑا ہوا ہے،کہتا ہے کہ میں نے اُس کے خلاف جا کر اچھا نہیں کیا ہے،اُس نے مجھے بہت بڑی تکلیف سے دوچار کیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ وہ اُس سے بڑی تکلیف میں مبتلا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نازر اعوان کے لہجے میں اُس کے لیے نفرت صاف محسوس کی جا سکتی تھی۔
“اوکے تصویر دے دو،کل تک مر جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مارنا ہے اُسے پر مجھے خود مارنا ہے میں چاہتا ہوں ہوں کہ تم کچھ ایسا کرو کہ وہ جیل کے اندر ہو،پھر میں اُسے بتاؤں کہ میرے ساتھ پنگا لینے والوں کاانجام کیا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“فکر نہ کرو،ہو جائے گا ایس پی،ایک معمولی سے بندے کو جال میں پھنسانا کونسا مشکل کام ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“وہ معمولی نہیں ہے رئیس،وہ بہت طاقتور اور تیز دماغ کا آدمی ہے،اُسکا اُٹھنا بیٹھنا بہت بڑے لوگوں کے ساتھ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نازر اعوان نے اُسے آگاہ کرنا ضروری سمجھا تھا۔
“جو بھی ہے میں دیکھ لونگا،تم بس اُس کو کیسے مارنا ہے یہ سوچو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رئیس کی بات پر وہ مسکرایا تھا۔
!___________________^^^______^^^______________!
