Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz Readelle50262

Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz Readelle50262 Tera Ishq Jaan Lewa (Episode 15)

54.5K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Ishq Jaan Lewa (Episode 15)

Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz

“اتنی بھی جلدی کیا ہے دلاور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”دلاور جو اُسکی طرف جھکنے والا تھا ایک آواز پر وہ چونک کر دوسری طرف مڑا جہاں برزل ابراہیم جیبوں میں ہاتھ پھنسائے بڑے ریلکس انداز میں منہ میں کچھ چباتا اس کی طرف آ رہا تھا تبھی زمین پر پڑے وجود نے ایک کک دلاور کے پیٹ میں ماری تھی کہ وہ وہی دوہرا ہوتا زمین پر منہ کے بل گرا تھا۔

“گڈ جاب لائبہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے سراہا تھا۔

“شکریہ سر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اپنا حلیہ درست کرتی ایک طرف ہو کر دلاور کی طرف دیکھنے لگی جو ششدر سا اپنی جگہ ہی پڑا تھا۔

“تو تمہیں کیا لگا دلاور کہ برزل ابراہیم اتنا بے خبر ہو سکتا ہے وہ بھی اپنی بیوی سے،وہ برزل جو لوگوں کے ساتھ گیم کھیلتا ہے وہ اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو حتی کہ اس کے سگے باپ کو بھی کوئی گیم کھیلنے دے گا تو یہ تمہاری بہت بڑی بھول تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل اس کے قریب آیا۔

“اصل میں تمہارے اس ایس پی نے کچھ زیادہ ہی شریف سمجھ لیا ہے مجھے مگر تمہیں بتا دوں کہ میں اتنا شریف بھی نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے ایک دو تین گھونسے اس کے منہ پر مارے تھے کہ اس کے ناک سے خون نکلنے لگا تھا اس سے پہلے کہ دلاور اپنے پسٹل کو ہاتھ میں لیتا برزل اس کا پسٹل لے چکا تھا۔

“ابھی برزل کے مقابلے کے لیے چھوٹے ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے اس کے گریبان سے پکڑا اور اسے لیے اوپر کی طرف بڑھنے لگا۔

“مجھے معاف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“خاموش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل اتنی زور سے دھاڑا کہ دلاور کا گلا خشک ہو گیا۔

“میری بیوی کو نقصان پہنچانے کی نیت سے تم آؤ اور میں تمیں معاف کر دوں نہ جی برزل اب اتنا بھی سخی نہیں ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“گڈ بائے دلاور فکر نہ کرو تمہارے باس کو جلدی ہی تمہارے پاس بھیج دونگا تا کہ تم اکیلا محسوس نہ کرو خود کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”کہتے ہوئے برزل نے اسے دھکا دیا تھا اور وہ ایک چیخ کے ساتھ کھائی میں جا گرا تھا۔

“بے چارہ پاؤں پھسلا اور کھائی میں جا گرا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بڑبڑایا اور پھر واپس لائبہ کے پاس آیا۔

“تمہاری میم۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“سر انکو وہی بٹھا کر آئی ہوں جہاں آپ نے کہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“اوکے،تم واپس ہوٹل جاؤ تا کہ کسی کو شک نہ ہو،میں فاریسہ کو ساتھ کاٹیج لے جاؤنگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“اوکے سر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”لائبہ سر ہلاتی چلی گئی برزل نے ایک گہرا سانس لیا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا اس طرف چل دیا جہاں فاریسہ براجمان تھی۔۔

!_____________________________________________!

فاریسہ کی نظر دائیں طرف اٹھی تو وہ چونک گئی اور چونکنے کی وجہ مسز فاریسہ ابراہیم کا نام تھا جو کہ ٹری کے اوپر جگمگا رہا تھا تبھی ویٹر ایک ٹرے پکڑے اس کے ٹیبل پر آیا اور اس ٹرے پر پڑا ہارٹ شیپ کا کیک جس پر ہیپی برتھڈے فاریسہ لکھا ہوا تھا ارد گرد لگی کینڈلز وہ سب دیکھ کر حیران ہوتی جا رہی تھی اور آنکھیں تب کھلی کی کھلی رہ گئیں جب اس نے بلیک پینٹ کوٹ میں ملبوس برزل ابراہیم کو اپنی طرف آتے دیکھا وہ حیرت سے کھڑی ہو گئی۔

“آپ یہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“ویلکم کرنے کا انداز اچھا لگا مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اس کے کھڑے ہونے کی طرف اشارہ کر کے بولا تھا۔

“بیٹھیں میم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!وہ نرمی سے اسکے کندھوں پر دباؤ ڈالتا اسے کرسی پر بٹھا گیا۔

“یہ سب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“ہیپی برتھڈے ٹو یو مائے لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس کے کان میں سرگوشی کرتا جھک کر اسکی روشن پیشانی پر نرم سا لمس چھوڑتا وہ یقیننا اسے جھٹکے پر جھٹکا دے رہا تھا۔

“مجھے لگا تمہاری برتھڈے کو یادگار بنانے کے لیے اس سے اچھا پلان تو ہو ہی نہیں سکتا تھا،امید ہے آپکو اپنے شوہر کی یہ چھوٹی سی کاوش اچھی لگے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل اس کے سامنے ٹک گیا۔

“آپکو کیسے پتہ لگا کہ میری سالگرہ ہے آج۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ ابھی تک حیران تھی اور بہت خوش بھی۔

“بیوی ہو میری اور مجھے شادی سے پہلے ہی پتہ لگ گیا تھا کہ تمہاری سالگرہ اس ڈیٹ کو ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اسے کیک کاٹنے کا اشارہ کرنے لگا پھر فاریسہ نے اپنی زندگی کی پہلی سالگرہ یوں گھر سے باہر اتنی اچھی سیلبریشن اور گریٹ سپرائز میں منائی کہ وہ خوشی سے نہال ہی ہو گئی تھی آج اسکی سالگرہ تھی یہ تو اسے بھی بھول چکا تھا مگر برزل ابراہیم کے اس سپرائز نے اسے فخر کرنے پر مجبور کر دیا تھا کہ اس کے پاس ایسا شخص ہے جو اسکی قدر کرتا ہے اسکی ہر خوشی کا خیال رکھنے والا ہے۔

“بہت بہت شکریہ آپکا،آپ بہت اچھے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ آسمان کی طرف غبارے چھوڑتی اسکی طرف خوشی سے پلٹی جو اسے مسکراتی نظروں سے اس کے روشن چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا۔

“آپ بھی بہت اچھی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے اس کے خوبصورت چہرے سے بالوں کی لٹیں ہٹائیں پھر اپنی جیب سے اس کے لیے پینڈینٹ نکال کر ایک اسکی طرف دیکھا جس کی آنکھوں میں پسندیدگی کی چمک صاف محسوس کی جا سکتی تھی پھر نرمی سے اسکی گردن میں سجا دیا۔

“یہ چھوٹا سا گفٹ قبول کیجئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!برزل نے نرمی سے اسکی گردن پر اپنی انگلیوں کا لمس چھوڑا تھا کہ فاریسہ اسکی نزدیکی اور اس لمس پر دہکنے لگی تھی۔

“میرے خیال میں اب ڈنر کر لینا چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے کہتے ہوئے ویٹرز کو اشارہ کیا تھا اور اگلے پانچ منٹ میں وہ دونوں باربی کیو سے لطف اندوز ہوتے ساتھ ساتھ باتیں کر رہے تھے۔

“ایک بات کہوں تو مانو گی تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”کباب کا پیس منہ میں رکھتی وہ اسے دیکھنی لگی جو سنجیدہ سا لگا تھا۔

“جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سر ہلا گئی۔

“کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ تم میرے علاوہ کسی پر اعتبار نہ کرو،حیدر یا سلیمان واحد دو انسان ہیں جن کو اپنے بعد میں تمہیں ان پر اعتبار کرنے کا کہہ سکتا ہوں مگر ان کے علاوہ تم کسی پر بھی اعتماد نہیں کرو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے ہی لائبہ کو بولا تھا فاریسہ کو یہاں لانے کا مگر وہ اس بات پر کافی حیران اور پریشان تھا کہ وہ کیسے یوں کسی پر بھی اعتماد کر کے اتنی آسانی سے آ سکتی تھی اس لیے پہلی دفعہ برزل کا دل ڈرا تھا کہ اگر لائبہ کی جگہ کوئی اسکا دشمن ہوتا تو؟ کیا تب بھی فاریسہ یوں اعتماد کر کے چل پڑتی بنا کچھ کہے بنا انفارم کیے۔

“تم سے پہلے بھی کہا تھا کہ کہیں بھی جاؤ جس کے ساتھ بھی کم از کم مجھے کال یا ایک میسج تو کر سکتی ہو نہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اسکی بات پر وہ شرمندہ سی ہو گئی اور خود کو کوسنے لگی کہ کیوں وہ یہ بات بھول گئی تھی۔

“وہ مما کو کال نہیں ہو رہی تھی تو مجھے لگا شاید آپکو بھی نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“مجھے کال کر کے دیکھنا کسی بھی حالت میں مجھے کال ضرور ہوا کرے گی اوکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل کے نرم لہجے پر وہ سر ہلا گئی۔

برزل ابراہیم نے کچھ جگہوں سے اسے شاپنگ کروائی تھی پھر اس کی میڈم کو کال کرکے فاریسہ کی اپنے ساتھ جانے کا کہتا وہ اسے لیے ایک خوبصورت کاٹیج میں آیا تھا۔

“یہاں میرے مما بابا نے اپنے ہنی مون کا کافی عرصہ گزارہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ شاپنگ بیگز صوفے پر رکھتا بتانے لگا فاریسہ نے دیکھا سامنے دو کمرے تھے اور ساتھ اوپن کچن اور جہاں وہ کھڑے تھا وہ سٹنگ ایریا تھا۔

“واو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!فاریسہ نے مرر ونڈو سے باہر کا نظارہ دیکھا جہاں سے ایک جھیل نظر آ رہی تھی رات کی چاندنی ہر سو ایک خوبصورت منظر پیش کر رہی تھی۔

“پاپا کی ڈائری میں لکھا ہے کہ جب پاپا مما کو پہلی مرتبہ لائے تھے وہ بھی اس بیک ڈور ونڈو سے باہر کا منظر دیکھ کر کافی خوش ہوئیں تھیں……….”دیوار سے ٹیک لگاتا وہ پہلی دفعہ اس سے کچھ شیئر کر رہاتھا۔

“انکی ڈیتھ کیسے ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فاریسہ نہیں جانتی تھی کہ اس نے کیا سوال کر دیا ہے اور کس سے کیا ہے جس کے ماں باپ کو مارنے والا ہی اسکا سگا باپ تھا۔

اس سوال پر برزل کے تاثرات ایک دم سے بدلے تھے اسکی آنکھوں میں ایک خاص سرد پن تھا جس پر فاریسہ الجھتی ہوئی کچھ پریشان ہوئی تھی مگر اگلے ہی پل وہ خود کو سھمبال چکا تھا۔

“تم فریش ہو جاؤ،میں سلیمان کو کال کر کے آتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سامنے کمرے کی طرف اشارہ کرتا وہ خود باہر چلا گیا۔

!___________________________________________!

ہانیہ نے جب سے سنا تھا کہ صدف نے خودکشی کر لی ہے وہ گم صم ہو کر رہ گئی تھی عروج کو پتہ تھا کہ اتنے دن میں وہ صدف کے کافی قریب آ چکی تھی اس لیے اسے دلاسہ دینے لگی دکھ تو اسےبھی ہوا تھا۔

“گھر والے اتنے ظالم کیسے ہو سکتے ہیں،اب وہ جیسی بھی تھی اس میں اسکا تو قصور نہیں تھا نہ،گھر والے سپورٹ کرنے کے بجائے جب یوں تکلیف پہنچائے تو پھر خودکشی ہی کی جاتی ہے،پتہ نہیں کس تکلیف میں آ کر صدف نے یہ فیصلہ لیا ہوگا،مرنے کے لیے بہت بڑا دل چاہئیے ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ہانیہ کی آنکھوں سے آنسو بے اختیار ہوئے تھے وہ صدف کی تکلیف سے زیادہ اس بے حسی پر رو رہی تھی جو کئی کبھار گھر والے لوگوں کے ڈر سے کر جاتے ہیں یہاں تک کہ اپنی اولاد کو گلے لگانے سے بھی ڈرتے ہیں۔

“تم پریشان مت ہو،ایسی کہانیاں تو ہمارے معاشرے میں ہزار ہیں پتہ نہیں کتنی صدف اس معاشرے کی بے حسی کی بھینٹ چڑھیں ہونگیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”عروج نے اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تھا۔

“یہ تو ٹھیک کہا تم نے،صدف کے ساتھ ساتھ ہماری طرح کی لڑکیاں بھی ہوتی ہیں جو نہ سمجھی میں آ کر جذبات میں بہت آگے نکل جاتی ہیں مگر دنیا سے ٹھوکر کھا کر واپس پلٹتیں ہیں تو سوائے ان پناہگاہوں کے دوسرا کوئی سہارا نہیں ہوتا،یقین کرو عروج ماں باپ کو دھوکا دینے کی تکلیف الگ ہے کسی بے وفا کے ہاتھوں بیوقوف بننے کا درد ایک طرف مگر اب جو ماں باپ کی بے رُخی تڑپا رہی ہے نہ اسکی تکلیف ناقابل برداشت ہو رہی ہے،اتنا بڑا گناہ کر دیا میں نے کہ ایک معافی نہیں مل سکتی مجھے،ایک معافی بھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ ہچکیوں سے رونے لگ پڑی جب کہ اس بار عروج بھی اپنے آنسو نہ روک پائی۔

“اللہ بھی تو ہے نہ جتنے مرضی گناہ کر لیں وہ پھر سے توبہ کرنے پر اپنے بندے کو اپنی رحمت میں لے لیتا ہے مگر یہ اس کے بندے،یہ ہماری ایک غلطی بھی معاف نہیں کر پا رہے،میں بیٹی ہوں انکی ایسے کیسے وہ مجھ سے لاتعلق ہو سکتے ہیں ایک دفعہ تو سن لیتے میری ایک دفعہ تو معاف کردیتے مجھے پھر چاہے ساری عمر شکل نہ دیکھتے مگر ایک دفعہ تو بس ایک دفعہ تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کہتی جا رہی تھی اور روتی جا رہی تھی اور عروج آنسو بہائے اسے دلاسہ دینے کی کوشش کرتی رہی اسکا بھی تو وہی دکھ تھا۔

!__________________________________________!

دس منٹ بعد وہ کمرے میں آیا تو فاریسہ کو بیڈ پر موبائل لیے بیٹھا دیکھ کر اپنا موبائل ٹیبل پر رکھتا واشروم میں گھس گیا۔

“یہ مما کا نمبر کیوں بزی جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بیس دفعہ ڈائل کر چکی تھی مگر نو رسپانس۔

“ان کے موبائل سے کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کہتی ہوئی برزل کے سمارٹ فون کو ہاتھ میں لیتی بیڈ کے پائنتی پر بیٹھ گئی اور کال لاگ نکال کر نمبر لکھنے لگی تبھی برزل ابراہیم واش روم سے نکلتا اسکی طرف آیا۔

“میں مما کو کال کر رہی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!برزل کا موبائل کان سے لگاتی وہ اسے انفارم کر گئی برزل نے کندھے اچکائے مگر اسکا سارا دھیان اس طرف ہی تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ مہ پارہ بیگم کی اس سے بات ہو اور وہ نازر اعوان کے بارے میں اسے کچھ بتائیں۔

“ہیلو مما۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”دوسری طرف کال ریسسو ہو چکی تھی اور برزل نے بے اختیار اپنی مٹھی بھینچی تھی۔

“اٹس اوکے برزل،تم فاریسہ کو ہینڈل کر سکتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے خود کو تھپکی دی اور خود کمرے سے باہر آ گیا تا کہ وہ ریلکیس ہو کر بات کر سکے اور جب پانچ منٹ بعد وہ کمرے میں جانے لگا تو وہ یہی سوچ رہا تھا کہ وہ اپنے باپ کا سن کر روتی ہو گی پریشان بیٹھی ہو گی مگر وہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ سچویشن اسکے برعکس تھی فاریسہ ریلکیس انداز میں صوفے پر بیٹھی برزل کے موبائل کی گیلری اوپن کیے پکس دیکھنے میں مصروف تھی۔

“بات ہو گئی مما سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ جاننا چاہ رہا تھا کہ فاریسہ کو کیا معلوم ہوا ہے جسکی وجہ سے وہ یوں ریلکیس تھی۔

“جی ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسے جواب دے کر پھر سے موبائل میں بزی ہو گئی تھی۔

“مطلب کہ اسکی مما نے اسے نازر اعوان کے بارے کچھ نہیں بتایا تا کہ یہ پریشان نہ ہو یا شاید فاریسہ نے ٹرپ کے بارے بتا دیا ہو اور وہ اسکی ٹرپ خراب نہ کرنا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل یہی سوچ کر سر جھٹک گیا اور اس کے قریب بیٹھ گیا جو بڑی دلچسبی سے برزل کی تصویریں دیکھ رہی تھی جو مختلف مقامات کی تھیں۔

“پیارا لگ رہا ہوں نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل کے سوال پر وہ گڑبڑائی کیونکہ وہ ایک تصویر کو دیکھے گئی جس میں وائٹ شرٹ میں مسکراتا برزل بہت اچھا لگ رہا تھا فاریسہ نے موبائل سائیڈ پر رکھ دیا وہ اپنی چوری پکڑے جانے پر خجل سی ہو گئی۔

“چلو تم نہ بتاؤ مجھے پر میں تو بہت تفصیل سے بتانے لگا ہوں کہ تم مجھے کتنی پیاری لگتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے نرمی سے اس کا ہاتھ پکڑ کر لبوں سے لگایا تھا اور اپنی پرشوق نظریں اس پر جما دی جس کے چہرے کا رنگ سرخی مائل ہونے لگا تھا۔

“اور ویسے بھی شکریہ بھی تو وصول کرنا ہے تم سے ابھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل کی معنی خیزی پر وہ اس دن والا شکریہ سمجھتی دونوں گالوں پر ہاتھ جما گئی جس پر برزل محفوظ ہوتا کھل کر مسکرایا تھا اور اس کی ادا پر نثار ہوتا اس کے لبوں کو فوکس میں رکھتا جھک گیا تھا۔

فاریسہ تو اس ردعمل پر بھونچکی رہ گئی تھی وہ وہی فریز ہوتی مزاحمت بھی نہ کر سکی تھی۔

“آپ،آپ بہت برے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”اس کو پرے کرتی وہ دھک دھک کرتے دل کو کنٹرول کرنے کی کوشش میں بری طرح ناکام ہوتی اس پر جھنجھلائی تھی جو مسکراتا ہوا پیچھے سے اسے اپنے حصار میں لے چکا تھا۔

“پر تم بہت اچھی ہو کہ اس برے کو آج کی ساری گستاخیوں پر معاف کر دو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل کے لب اب اس کی گردن پر تھے اور فاریسہ اب کی بار اس کے ہاتھ اپنے وجود سے جھٹک نہ سکی تھی کیونکہ وہ بھی اس کو اپنے دل میں داخل ہونے سے روک نہ پائی تھی۔

“کیا اجاذت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے اسکا رخ اپنی طرف کرکے گھمبیر لہجے میں بولتا اسکی اجازت کا منتظر تھا جو کہ بس ایک نظر اسے دیکھ کر اس کے سینے میں منہ چھپا گئی تھی اور برزل ابراہیم تو اس اجاذت نامے پر ہی دل و جان سے فدا ہو گیا تھا وہ خود پر نازاں ہو رہا تھا۔

“بہت شکریہ میری جان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!اس کے کان کی لو کو چومتا وہ اسے اپنے بازووں میں اٹھا کر بیڈ کی جانب بڑھا تھا۔

!____________________________________________!

سلیمان بے چینی سے ادھر ادھر چکر لگا رہا تھا تبھی اسے مطلوبہ خبر کی اطلاع بذریعہ کال دی گئی تھی۔

“اوہ ڈیٹس گریٹ،آخرکاد مسٹر وقار اور مسز رانا دونوں اپنے اپنے انجام کو پہنچے،اوکے سعد اب تم نائن گروپ پر نظر رکھو،نہیں وہ برزل بھائی خود دیکھ لیں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان نے کال بند کر کے برزل کے نمبر پر میسج کر دیا اور خود اسٹڈی سے نکلتا پورچ میں آیا جہاں حیدر کہیں جانے کے لیے تیار تھا۔

“تم کہاں جا رہے ہو،بھائی اگر یہاں نہیں تو انکی غیر موجودگی کا غلط فائدہ مت اٹھاؤ حیدر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“اف کیا ہو گیا ہے بھائی،بس آدھے گھنٹے کے لیے جا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر جھنجھلا کر بولا مگر سلیمان کے گھورنے پر بے چارگی سے کہنے لگا۔

“آپ برزل بھائی کی طرح مت کریں،وہ بھی تو بنا بتائیں اسلام آباد جا کر سیریں کر رہے ہیں نہ تو کیا میں ایک دوست سے تعزیت کرنے نہیں جا سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

“کس دوست سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان کی انویسٹگیشن پر وہ گڑبڑایا۔

“وہ ہے ایک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

“حیدر شاید تم کچھ بھول رہے ہو کہ بھائی نے کچھ کہا تھا کہ ہم اپنے آنے جانے کا ہمیشہ انکی انفارم میں رکھیں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“جی پتہ ہے،مسز رانا کی ڈیتھ کی نیوز سنی تو اپنے ایک دوست سے ملنے جا رہا ہوں جو مسز رانا کے انسٹیوٹ میں کام کرتا تھا بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“اوکے جاؤ مگر دھیان سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان کی اجازت پر وہ خوش ہوتا گاڑی کی طرف آیا۔

“کیا ہانیہ مجھے پہچان پائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ یہی سوچتا ایکسائٹڈ ہو رہا تھا۔

!_________^^_________________________^^________!

برزل کی آنکھ میسج کی ٹون پر کھلی تھی وہ ایک نرم نگاہ اپنے پہلو میں سوئی فاریسہ پر ڈالتا اٹھ بیٹھا میسج سلیمان کا تھا جس میں مسٹر وقار رانا اور مسز رانا کی ویسے ہی پلان کے مطابق ڈیتھ کا بتایا گیا تھا برزل مسکراتا ہوا اٹھا اور وارڈرب سے اپنا سوٹ نکال کر واشروم میں چلا گیا جب دس منٹ بعد باہر آیا تو فاریسہ اسی حالت میں سوئی ہوئی تھی برزل پیار بھری نظروں سے دیکھتا اس کے قریب آ کر ٹک گیا اور آہستہ سے اسکی پیشانی پر ہونٹ رکھے جس پر وہ ہلکا سا کسمکسائی تھی۔

“صبح بخیر جان من۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!برزل نے اس کے کان میں سرگوشی تھی جس پر فاریسہ نے پٹ سے آنکھیں کھولیں تھیں اور برزل ابراہیم کو اپنی طرف مسکراتی نظروں سے متوجہ دیکھ کر وہ شرم سے دوہری ہوتی کمبل میں منہ چھپا گئی اور کمبل کو مضبوطی سے پکڑ لیا جیسے وہ اب اس کو اپنا چہرہ نہیں دکھائے گی برزل ابراہیم کا ایک بھرپور قہقہ کمرے میں گونجا تھا۔

“اوکے اوکے،میں باہر جا رہا ہوں تم فریش ہو جاؤ،میں تب تک ناشتے کا انتظام کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!برزل مسکراہٹ روکتا اٹھ کر کمرے سے باہر آ گیا فاریسہ کو جب یقین ہو گیا کہ وہ چلا گیا ہے تو اٹھ کھڑی ہوئی۔

“اف کیسے سامنا کرونگی میں انکا،توبہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ رات کے لمحات یاد کرتی پھر سے شرم سے سرخ پڑنے لگی پھر اپنا ڈریس لے کر وہ جب کپڑے بدل کر کوئی آدھے گھنٹے بعد کمرے سے جھجھکتی ہوئی نکلی تو لاؤنج میں ادھر سے ادھر چکر لگاتے برزل کو دیکھ کر وہ چونکیں تھیں اور چونکنے کی وجہ برزل کی سرخ آنکھیں تھیں وہ غصے سے بار بار کوئی نمبر ڈائل کر رہا تھا فاریسہ کو بہت گڑ بڑ لگی اور اس بات کا یقین تب ہوا جب وہ لوگ اگلے کچھ گھنٹوں میں گھر پہنچے تھے اور سلیمان کے سامنے آتے ہی برزل نے ایک کھینچ کا تھپڑ اس کے منہ پر دے مارا تھا جہاں سلیمان اس افتاد پر ٹھٹھک کر رہ گیا وہی فاریسہ بھی منہ پر ہاتھ رکھتی دم سادھ گئی۔

!_____________________________________________!