Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz Readelle50262

Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz Readelle50262 Tera Ishq Jaan Lewa (Episode 10)

54.5K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Ishq Jaan Lewa (Episode 10)

Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz

اس وقت وہ مسز رانا کے انتظار میں ایک کیفے میں بیٹھا کافی سے لطف اندوز ہو رہا تھا دو منٹ بعد ہی مسز رانا کیفے میں داخل ہوتی ادھر اُدھر دیکھتی اسے ہی تلاش کرنے کی کوشش میں تھی برزل ابراہیم نے کھڑا ہو کر اُسے اپنے طرف آنے کا اشارہ کیا تھا وہ اسے دیکھتی اس طرف چلی آئی۔

“اوہ تو تم ہو ابراہیم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اپنا بیگ ٹیبل پر رکھے اپنے بالوں کو کان کے پیچھے کرتی وہ اس خوبرو مرد کو غور سے دیکھنے لگی۔۔

“جی اور یہ خاکسار آپکا بہت احسان مند ہے کہ آپ نے یہاں آ کر مجھے شرف بخشا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اپنے سینے پر ہاتھ رکھتا وہ ایک ادا سے بولتا مسز رانا کو مسکرانے پر مجبور کر گیا۔

“باتیں اچھی کرتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“لوگوں کو قتل بھی بہت اچھے سے کرتا ہوں،ٹرسٹ می۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سکوائش کا گلاس لبوں سے لگاتا وہ مسز رانا کو چونکنے پر مجبور کر گیا۔

“کیا مطلب؟کونسی بات تھی جس کے لیے تم مجھے اکیلے اس انجان اور شہر کی آبادی سے دُور اس چھوٹے سے کیفے میں بُلایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“آپ جیسی مشہور ہستی کو اگر اس شہر کے کسی فیمس کیفے میں بُلاتا تو اس وقت پورا میڈیا وہاں پر موجود ہوتا اور میں یہ نہیں چاہتا تھا کہ آپکی اور میری ملاقات کسی کی نظر میں آئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“ایسی بھی کیا چیز ہے اس ملاقات میں جو کسی کی نظر میں نہیں آنی چاہیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مسز رانا کے چہرے پر اُلجھن رقم تھی۔

“کسی مطلب آپکے شوہر مسٹر وقار رانا کی نظر میں نہیں آنی چاہیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“کیا وجہ ہے اسکی،تم کھل کر بات کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مسز رانا نے اپنے کٹ شدہ بالوں کو ایک ادا سے پیچھے کیا تھا وہ تھی تو لگ بھگ چالیس سال کے مگر اپنی عمر سے کم ہی دکھتی تھی اپنے فیشن اور فٹنس کی وجہ سے۔

“اوکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سر ہلاتا ہوا ادھر اُدھر دیکھتا اب اُنکو پوری توجہ سے دیکھتا کہنے لگا۔

“اصل میں آپ کے شوہر نے مجھے آپ کو قتل کرنے کے لیے ہائر کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بہت آسانی کے ساتھ اگلے کو جھٹکا دیا کرتا تھا اب بھی ایسا ہوا تھا مسز رانا آنکھیں پھاڑے اُسے دیکھ رہی تھی۔

“کیا مطلب ہے تمہارا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“وہی بتانے لگا ہوں،ریلکیس میم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اپنی جینز کی پاکٹ میں سے کچھ تصویرں نکال کر مسز رانا کے آگے رکھیں جن کو دیکھ کر اُنکی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ایک تصویر میں وہ اور اعزاز ناقابل نظر پوز میں تھے تو ایک تصویر میں وقار رانا اپنی سیکٹری کے ساتھ نازیبا حرکات میں نظر آ رہا تھا جبکہ ایک تصویر آفس کی تھی جہاں برزل ابراہیم وقار رانا سے پیسے لے رہا تھا۔

“یہ،یہ سب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُنکا وجود زلزوں کی لپیٹ میں تھا بے یقینی اور اپنا گناہ منظر عام پر آنے کی دہشت اُنکی آنکھوں میں صاف دیکھی جا سکتی تھی۔

“اعزاز،آپکا سیکٹری اور کلاس فیلو،جسکی محبت میں آپ یونی کی لائف میں مبتلا تھیں مگر وقار رانا کی دولت کی وجہ سے آپ کو اُسے چھوڑنا پڑا،مگر دس ماہ پہلے ہی وہ دوبارہ سے آپکی لائف میں آیا تو آپ خود کو روک نہ پائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ جیسے جیسے بول رہا تھا مسز رانا کا دل بیٹھا جا رہا تھا۔

“اس تصویر میں یہ ثمن ہے،جس کا افیئر آپکے شوہر کے ساتھ کچھ سالوں سے چل رہا ہے کیونکہ آپکی بے رُخی کی وجہ سے وہ اُسکی طرف راغب ہونا پڑا اور اب تو وہ اُس سے شادی کا خواہش مند ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“اور یہ تصویر جس میں آپکے شوہر مجھے ایڈوانس کی رقم دے رہے ہیں آپکو اُنکی زندگی سے نہیں بلکہ اس دُنیا سے بھی آؤٹ کرنے کے لیے،کیونکہ اگر وہ آپکو طلاق دیتے ہیں تو ففٹی پرسنٹ جائیداد بھی آپکو دینی پڑے گی سو اگر آپکی موت واقع ہو جاتی ہے تو پھر ساری جائیداد اُن کو ملے گی،ویسے بھی وہ ایک سیاست دان ہیں تو طلاق دے کر اپنی سیاست خراب نہیں کریں گئے بلکہ آپ موت سے لوگوں کی ہمدردی حاصل کر کے اپنے ووٹ بڑھائیں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اپنی بات ختم کرتا وہ کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتا ان کے تاثرات کو غور سے دیکھنے لگا جو اتنے جھٹکوں کے بعد کچھ بھی بولنے کی پوزیشن میں نہ تھیں۔

“میں چھوڑوں گی نہیں اسے،ابھی پوچھتی ہوں وقار سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ غصے سے اُٹھنے لگیں مگر برزل ابراہیم نے روک دیا تھا۔

“کیا چاہتی ہیں کہ آجکی رات آپکی آخری رات ہو،اگر مرنے کی خواہش ہے تو جائیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل کے پُرسکون انداز پر وہ نڈھال سی بیٹھ گئی۔

“تم مجھے بچانا چاہتے ہو کہ مارنا چاہتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“اگر مارنا ہوتا تو اب تک پورے پاکستان میں یہ نیوز پھیل گئی ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم کے کہنے پر وہ پُر یقین لہجے میں بولیں۔

“کیا تم میری مدد کرو گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“آپکی مدد کرنے ہی تو یہاں تک آیا ہوں،بس آپ مجھ پر یقین رکھے اور جو میں کہتا ہوں وہ کرتی جائیے،مگر ایک بات یاد رکھیے گا کہ وقار رانا کو ہرگز شک مت ہونے دیجئے گا کہ آپ سب جانتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم کی بات پر وہ سر ہلا گئیں تو ابراہیم کے لبوں پر پُر سرار مسکراہٹ تھرکنے لگی۔۔

!___________________________________________!

حیدر آج پھر رات کی تاریکی اور خاموشی کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے سیکنڈ فلور پر موجود تھا کوریڈور میں لگے کمیروں کو آف کرتا وہ آفس کے کیمرے بھی ہیک کر چُکا تھا آفس کے دروازے کو اپنی مہارت سے کھولتا آفس کے اندر داخل ہوتا دروازہ بند کر گیا ایک نظر آفس پر ڈالی جہاں ایک طرف ٹیبل پر بہت ساری فائلز اور لیپ ٹاپ پڑا تھا جبکہ ایک طرف صوفے رکھے گئے تھے وہ اپنے مطلب کی طرف متوجہ ہوتا لیپ ٹاپ کو آن کرنے لگا اور اپنی جیب سے یو ایس بی نکال کر لیپ ٹاپ سے کنکیٹ کی اور اپنے ہاتھوں کو تیز چلانے لگا مگر جس فائلز کی اُسے تلاش تھی اُن پر لگا پاسپورڈ دیکھ کر وہ جھنجھلا کر رہ گیا حیدر نے ایک حتیاطی نظر بند دروازے کی طرف ڈالی پھر موبائل نکال کر برزل ابرہیم کا میسج دیکھا جہاں اس پاسورڈ کو ہیک کرنے کا طریقہ درج تھا وہ اُس پیغام کو زہن میں رکھتا پانچ منٹ کی محنت سے آخرکار کامیاب ہو گیا تھا جلدی سے اپنا کام ختم کرکے وہ اُس آفس سے نکل آیا تھا۔

اب اگلا کام یہ تھا کہ اُسے یہ یو ایس بی برزل ابراہیم تک پہنچانی تھی اس لیے وہ اس جگہ سے نکلنے کے بارے میں سوچنے لگا۔

“کیا بات ہے تم بڑی چپ چپ ہو صبح سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”شام تک وہ یہاں سے نکلنے کے بارے ہی سوچتا رہا تھا اس لیے اُسکو سوچوں میں ڈوبا دیکھ کر ہانیہ اور عروج اس کے پاس آ بیٹھی تھیں وہ دونوں کو دیکھتا جیسے کسی نتیجے پر پہنچا تھا۔

“مجھے اپنی ماں بہت یاد آ رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر اتنا تو جان گیا تھا کہ عورتوں کو ہمدردی کے نام پر کس قدر آسانی سے بیوقوف بنایا جا سکتا تھا۔

“ماں کسے یاد نہیں آتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”عروج نے گہری سانس ہوا کے سپرد کی جبکہ ہانیہ خاموش ہی رہی تھی۔

“ہاں پر میں ملنا چاہتی ہوں اپنی ماں سے،چاہے وہ مجھے نہ ملیں پر میں اُنکو دیکھ کر ہی سکون محسوس کرونگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر نے اپنی آواز میں ایک گہرا سوز شامل کیا تھا۔

“کیا میڈم تمہیں اجازت دیں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”عروج جس کو یہاں آئے کچھ دن ہوئے تھے اس لیے اس جگہ کے قانون سے نا واقف تھی اس لیے ہانیہ کی طرف دیکھنے لگی۔

“ایک دو دفعہ کچھ لڑکیوں کو اجازت ملی تو ہے مگر وہ بھی وہ لڑکیاں جن کے والدین خود آئے تھے ملنے ورنہ ایسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ہانیہ نے صدف کے منہ لٹکے چہرے کی طرف دیکھ کر بات اُدھوری چھوڑ دی جبکہ دوسری طرف حیدر گہرے اضطراب میں پڑ گیا وہ جانتا تھا کہ اگر کسی عقل مند نے لیپ ٹاپ کو دیکھا تو اُسے پتہ چل جائے گا کہ اس کے ساتھ چھیڑ کھانی کی گئی ہے کیونکہ وہ فائلز یو ایس بی میں انسٹال کرنے کے بعد باقی کی کرپٹ ہو چکی تھیں اس سے پہلے کہ سب کی تلاشی لی جاتی وہ یہاں سے نکلنا چاہتا تھا۔

“تم فکر نہ کرو،میں کچھ کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”۔

“کیا کرو گی تم؟کیا میڈم سے بات کرو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ وہ سب کی نظروں میں آئے کہ وہ یہاں سے غائب ہوا تھا۔

“نہیں کیونکہ انہوں نے ایسے ہرگز نہیں ماننا،میں چوری تمہیں یہاں سے نکالوں گی مگر دن کی سفیدی سے پہلے واپس آ جانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”جو وہ چاہتا تھا ہانیہ اپنی عقل مندی سے جلد ہی وہاں تک آ گئی تھی حیدر نے مسکراہٹ روکتے ہوئے پسندیدہ نظروں سے دیکھا تھا جبکہ عروج ہکا بکا رہ گئی۔

“تم پاگل ہو ہانیہ،اس بے چاری کے ساتھ خود بھی اس چھت سے محروم ہونا چاہتی ہو،اگر کسی کو پتہ لگ گیا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“فکر نہ کرو،کسی کو کچھ پتہ نہیں لگے گا،ویسے بھی ہمارے سوا صدف کے پاس آتا کون ہے،وہ نیاز جو کھانا دینے آتا بس،تو ہم سب کو یہی کہیں گئے کہ یہ بیمار ہے آرام کر رہی ہے،نیاز کو میں اچھی طرح سمبھال لونگی مگر میں تو اپنی ماں سے پتہ نہیں ساری زندگی نہ مل پاؤں مگر تمہیں ضرور ملوانا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ہانیہ نے اُس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر پُریقین لہجے میں کہا تو حیدر کی آنکھیں چمک اُٹھیں وہ مسکرا دیا۔

“لڑکی تو کمال ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سوچ کر رہ گیا پھر اُنکی طرف متوجہ ہوا جو فرار کا راستہ سوچنے لگیں تھیں وہ اُن کو مکمل دھیان سے سُنتا یہ نہ بتا سکا کہ وہ بہت اچھے سے فرار کا راستہ جانتا ہے بس اُسے یہی تھا کہ اُس کی غیر موجودگی کسی کے نوٹس میں نہ آئے۔

!_____________________________________________!

“شیخ صاحب سٹی ہوٹل میں آپکا ویٹ کر رہے ہیں،ٹیبل نمبر تھری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ شیخ کی گاڑی کے پاس کھڑا تھا کہ شیخ کا ڈرائیور اُسے شیخ کا پیغام دیتا وہاں سے چلا گیا برزل ابراہیم نے ایک نظر اپنے حلیے پر ڈالی وہ اس وقت ڈھیلی پینٹ اُس پر بٹن ڈاؤن شرٹ پہنے بالوں کو جیل کی مدد سے سر پر چپکائے سیدھی مانگ نکالے آنکھوں پر نظر کی عینک اور معمولی لباس نے اُسے برزل ابراہیم کی شناخت سے کافی حد تک چھپایا ہوا تھا۔

سٹی ہوٹل میں داخل ہوتے اُس نے اطراف میں نظریں دوڑایں تو ٹیبل نمبر تھری پر جا کر ہی اُسکی نظریں ٹک گئیں جہاں شیخ ڈنر کرتا دکھائی دیا تھا برزل ابراہیم سب لوگوں پر سرسری نظر ڈالتا شیخ کی ٹیبل کے پاس آ رُکا۔

“اجاذت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس کے پوچھنے پر شیخ نے بنا دیکھے سر ہلا دیا برزل ابراہیم کرسی پیچھے کرتا وہی ٹک گیا۔

“کیا رپورٹ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اپنے کھانے کی طرف متوجہ ہوتا ہوا پوچھنے لگا۔

“آپ کا اندازہ ٹھیک تھا،ایک جاسوس لگایا ہوا ہے اُن لوگوں نے آپ کے پیچھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”شیخ نے پہلی دفعہ کھانے سے توجہ ہٹا کر اسکی طرف دیکھا تھا۔

“اوہ!کون ہے وہ؟کیا نام ہے اُسکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“یہ ابھی تک میں پتہ نہیں کروا سکا،کیونکہ اُنکا نیٹ ورک بہت وسیع پیمانے تک پھیلا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“تو عالم صاحب آپ مجھے یہ بتانے یہاں تک آئے ہیں کہ آپ ابھی تک اُس جاسوس کا پتہ نہیں لگا سکے جو میرے خلاف ثبوت اکھٹے کر رہا ہے،تم جانتے ہو نہ اگر اس بات کا علم اوپر والوں کو ہو گیا تو وہ اس جاسوس کے مجھ تک آنے سے پہلے ہی مجھے قتل کر دینگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”شیخ کے لہجے اور انداز میں اس کے لیے غصہ اور اپنے لیے ڈر صاف محسوس کیا جا سکتا تھا۔

“میں نے آپکو کہا تھا کہ آپ بے فکر ہو جائیں میں اُس تک پہنچنے کی پوری کوشش کر رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم نے اپنا چشمہ درست کرتے ہوئے اُسے یقین دلانے کی کوشش کی تھی۔

“بس دو دن ہیں تمہارے پاس عالم،مجھے ہر حال میں اُس جاسوس کا پتہ چاہئیے،اعجاز سہگل جو اس کام میں مہارت رکھتا تھا اور وہ بہت قریب بھی تھا اُس جاسوس کے مگر وہ مارا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”شیخ کے افسوس سے سر ہلانے پر برزل ابراہیم نے حیرانگی ظاہر کی۔

“مگر اعجاز سہگل تو کار ایکسڈینٹ میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“یہی تو اُس آدمی کی خاصیت ہے کہ وہ بڑی ہویشاری سے اپنا کام کر جاتا ہے اور کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“اسکا مطلب اُسکا اب منظر عام آنا ضروری ہو گیا ہے ورنہ وہ بہت بڑا خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“اس لیے تو تمہیں سونپا ہے یہ کام آخر تم بھی تو بہت عقلمند اور تیز ہو اس کام میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”شیخ نے نیپکن سے ہاتھ صاف کرنے لگا۔

“مگر میں تب تک آپکی اس بات کو تسلیم نہیں کرونگا جب تک مجھے اُس ایجنٹ کی اصل شناخت نہیں ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”عالم کے پُرجوش لہجے پر شیخ نے مسکراتے ہوئے اُس کے کندھے پر تھپکی دی تھی جیسے کہ اُسے سراہا گیا تھا۔

“تم اگر اس اسائنمٹ میں کامیاب ہو جاتے ہو تم نائن الیون گروپ کا ایک خاص ممبر بن سکو گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم نے کہتے ہوئے شیخ کی طرف دیکھا جس کی نگاہیں کسی منظر پر ٹھٹھک کر رُکی تھیں برزل نے اُسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو اگلہ لمحہ اُس کے لیےبھی چونکا دینے والا تھا اُسکا دماغ بھک سے اُڑا تھا مگر وہ جلد ہی اپنے تاثرات پر قابو پا گیا تھا مگر اُسکی آنکھوں میں کاٹ اور سرد پن صاف محسوس کیا جا سکتا تھا۔

شیخ کی نظروں کی گرفت میں فاریسہ برزل ابرہیم تھی جس کی وجہ سے برزل کا خون کھول اُٹھا تھا۔

“شیخ صاحب،آپ کس طرف متوجہ ہو گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اس سے زیادہ برداشت نہیں کر سکتا تھا کہ اُسکی بیوی پر کوئی یوں نظریں جما لے۔

“کیا قیامت خیز حسن ہے،معصومیت اور حسن ایک ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”شیخ کی آنکھوں سے چھلکتا چھچھورا پن اور لبوں سے ادا ہوتے جملے برزل ابراہیم کو غصے سے مٹھیاں بھینچنے پر مجبور کر گئے تھے اُس نے قہر آلود آنکھوں سے اپنی بیوی کے ساتھ بیٹھے حیدر کو دیکھا تھا۔

“یہ کون ہے،پتہ کرو عالم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”شیخ کے لہجے میں بیتابی چھلکی تھی جسے برزل ابراہیم نے بمشکل ہضم کیا تھا۔

“فکر نہ کریں آپ،آپ کھانا انجوائے کریں میں ابھی آیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر کو وہاں سے اُٹھتا دیکھ کر وہ شیخ سے کہتا ہوا ہوٹل کی راہداری سے گزرتا ہوا واشروم کے دروازے میں آ رُکا اور اُس کے اندازے کے مطابق حیدر بھی اسی سمت آیا تھا۔

برزل ابراہیم نے ایک نظر آس پاس گزرتے اجنبیوں پر ڈالی پھر ایک طرف کھڑا ہو گیا جیسے ہی حیدر نے مین باتھ انٹریا پر قدم رکھے برزل نے ایک جھٹکے سے اُسکا رُخ اپنی طرف کیا اور اُس کے سمھبلنے سے پہلے ہی ایک زور دار مُکا اُس کے منہ پر دھڑا کہ حیدر جا کر دروازے سے لگا تھا وہ جو برزل ابراہیم کو حیران پریشان دیکھتا ابھی سمجھنے کی کوشش میں تھا تب تھا اُسکا دوسرا مُکا اُس کے ناک سے خون نکال چُکا تھا۔

“بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر ناک سے نکلتا خون صاف کرتا رحم طلب نظروں سے اُسے دیکھنے لگا جو کہ اُسے بُری طرح گھور رہا تھا۔

“تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بیوی کو میری اجاذت کے بغیر یہاں لانے کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ دھیمی آواز میں غرایا تھا۔

“وہ میں آپ کو یو ایس بی دینے آیا تھا پر گھر میں نہ آپ تھے اور نہ سلیمان بھائی،بھابھی کو دی ہے اور پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ رُکا پھر نظریں چُراتا بولنے لگا۔

“میں نے کہا کہ کچھ اچھا کھانے کو دل ہے،بھابھی نے کہا کہ چلو باہر ڈنر کرتے ہیں قسم سے آپ بھابھی سے پوچھ لیں میں سچ کہہ رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے تاثرات سے خوفزدہ ہوتا وہ جلدی سے صفائی دینے لگا تھا برزل ابراہیم کے سرد تاثرات میں زرا کمی نہیں آئی تھی بلکہ آنکھوں اور لہجے میں برہمی چھلکنے لگی تھی۔

“تمہاری اس بیوقوفی کی وجہ سے مجھے شیخ کی جان لینی پڑے گی جس کے پیچھے میں اتنے سالوں سے خوار ہو رہا تھا صرف تمہاری وجہ سے حیدر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ایک آخری پنچ اُس کے منہ پر مارتا وہ وہاں سے چلا گیا تھا حیدر درد سے بلبلاتا آئینے میں اپنا سوجھا ہوا منہ دیکھتا وہ باہر فاریسہ کے پاس آیا جو اسے دیکھتی حیران و پریشان ہو اُٹھی تھی۔

“یہ،یہ کیا ہوا بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ فکرمندی سے بولی تھی۔

“کچھ نہیں بھابھی،چلیں یہاں سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ جلد از جلد اُسے وہاں سے لے کر جانا چاہتا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا اگر پانچ منٹ بھی مزید رُکتا تو برزل ابراہیم نے اسے چلنے کے قابل بھی نہیں چھوڑنا تھا۔

“مگر ہوا کیا،کس نے کیا یہ سب،بتائیے نہ کس سے جھگڑا ہوا ہے آپکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے سوال پر حیدر نے خفگی بھری نظر شیخ کے ساتھ بیٹھے برزل ابراہیم پر ڈالی تھی اور اس سے پہلے کہ فاریسہ دیکھتی حیدر اُسکا ہاتھ پکڑتا وہاں سے نکل گیا تھا۔

“ارے وہ حسینہ کہاں گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم جس نے شیخ کو اپنے مسلے پر اُلجھایا ہوا تھا فاریسہ اور حیدر کے نکلتے ہی وہ ریلکیس ہوتا کرسی کی پُشت سے کمر ٹکا گیا جبکہ شیخ خالی جگہ دیکھ کر حیران ہوا۔

“کون۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم نے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔

“وہی لڑکی جو تمہیں دکھائی تھی،جو بھی کرو عالم مگر وہ لڑکی مجھے چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”شیخ کی اگر بیتابی عروج پر تھی تو برزل ابراہیم کی برداشت آخری حدوں کو چھونے لگی تھی۔

“چلیے میرے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ہر انجام سے بے نیاز ہوتا وہ اُٹھ کھڑا ہوا۔

“کہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“آپ چلیں تو سہی،کسی حسین چہرے سے ملاقات کروانی ہے آپکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم کی آنکھوں میں ایک خاص معنی خیزیت تھی جسے اپنے مطلب پر لیتا شیخ مسکراتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔

“آپ مجھے فالو کریں،اور ہاں اکیلے ہی آئیے گا گارڈز کو یہی انتظار کا بول دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”جب باہر گاڑی کے پاس آیا تو برزل ابراہیم شیخ کو کہتا ہوا اپنی بائیک کی طرف چلا گیا۔

شیخ خود ہی ڈرائیونگ کرتا پانچ منٹ کی مسافت طے کرتا ایک جگہ پر رُکا جہاں برزل ابراہیم بائیک کھڑی کیے اُس کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا تھا۔

“یہاں ہے وہ حسینہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”شیخ کہتا ہوا اُس کے پاس آیا جو بہت سرد نگاہوں سے اُسے دیکھ نہیں بلکہ گھور رہا تھا۔

“پہلے مجھ سے تو مل لو جسکی تمہیں کافی عرصے سے تلاش تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم نے پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ پھنساتے ہوئے اُسکی طرف قدم موڑے جو کہ آنکھوں کی طرح چہرے پر بھی حیرانگی کے تاثرات لیے اسکی طرف متوجہ تھا۔

“کون،کون ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“میں برزل ابراہیم،میری ہی تلاش تھی نہ تم کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل کے الفاظ اُسے حیرت کے شدید جھٹکے میں غوطہ زن کر گئے تھے۔

“تم ہو برزل ابراہیم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”بے یقینی ہی بے یقینی تھی۔

“ہاں میں ہوں اگر کوئی شک ہے تو وہ پانچ منٹ بعد دور ہو جائے گا جب میں تمہاری جان لونگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم کے الفاظ ہی اُسکی جان لے گئےتھے شیخ نے بھاگنے کے لیے ادھر اُدھر دیکھا مگر اس سے پہلے کے وہ بھاگنے کی کوشش کرتا برزل ابراہیم اُس تک پہنچ چُکا تھا۔

“ابھی تمہیں مارنا میرے پلان میں نہیں تھا مگر جس انسان پر تم نے بُری نظر ڈالی تھی وہ میری بیوی ہے اور میری بیوی پر بُری نظر ڈالنے والا زندہ نہیں رہ سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے کہتے ہوئے اپنے ہاتھوں پر گلوز چڑھائے اور اُسی کا پسٹل نکال کر اُس کے ہاتھ میں زبردستی تھماتا اُسکی کنپٹی سے لگا گیا۔

“تم مجھے نہیں مار سکتے،میرے پاس نائن الیون کی ساری انفارمیشن ہے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“یہ تمہاری غلط فہمی ابھی دور کر دیتا ہوں کہ برزل ابراہیم کبھی کسی کی بلیک ملینگ میں نہیں آیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”بولتا ہوا وہ اپنا کام کر گیا تھا پسٹل شیخ کے ہاتھ میں ہی تھا اور وہ گاڑی پر لڑھک گیا تھا۔

“خودکشی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ہر چیز کا معائنہ کرتا وہ زیرلب بولا اور اپنی بائیک پر بیٹھتا یہ جا وہ جا۔

!____________________________________________!

حیدر گھر میں داخل ہوتا ہی جلدی سے اپنا گیٹ اپ چینج کرنے کے لیے کمرے میں جانے لگا کہ اپنے کمرے سے نکلتے سلیمان نے اسے دیکھا تو ٹھٹھک کر رُکا۔

“یہ کیا ہوا ہے،کس نے کیا ایسا بولو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان کو اس کی آنکھ کے پاس بنے سُرخ نشان کو دیکھ کر آگ ہی لگ گئی تھی آخر کو وہ دونوں کو عزیز تھا۔

“یہی تو پورے راستے میں پوچھتی آئی ہوں مگر بھائی کچھ بول ہی نہیں رہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فاریسہ کی بات پر سلیمان نے ایک نظر حیدر کے خفا خفا چہرے پر ڈالی اور دوسری فاریسہ پر اور پھر جیسے سارا معاملہ سمجھتا ہوا ہولے سے مسکرا دیا مگر حیدر جو اس سے ہمدردی کا خواہاں تھا اسے مسکراتا دیکھ کر پاؤں پٹختا اپنے کمرے میں چلا گیا۔

“ارے بھائی،اس نے آپکو بھی کچھ نہیں بتایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“اصل میں وہ اس وقت کچھ بتانے کے قابل ہی نہیں، ویسے آپ پریشان نہ ہوں یہ دو ماہ میں ایک دفعہ ہو جاتا اس کے ساتھ،آپ جا کرآرام کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان اُسے راستہ دیتے ہوئے پیچھے ہٹ گیا تو فاریسہ اس کی بات کا مطلب سمجھنے میں اُلجھتی ہوئی اپنے روم کی طرف بڑھ گئی۔

جس وقت برزل ابراہیم گھر میں داخل ہوا تب تک حیدر جا چُکا تھا اور برزل کا سپاٹ چہرہ دیکھ کر سلیمان نے شُکر ہی کیا تھا کہ وہ یہاں نہیں ورنہ برزل ابراہیم کو روکنے کی ہمت اُس میں بھی نہ تھی۔

“تمہاری بھابھی کے پاس یو ایس بی ہے،جاؤ لے کر آؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم کا غصہ ابھی تک ہوا نہیں ہوا تھا اس لیے سلیمان کو کہتا وہ اسٹڈی روم کی طرف بڑھ گیا تھا۔

برزل ابرہیم نے جیب سے موبائل نکال کر ٹیبل پر رکھا ہی تھا کہ کسی پرائیوٹ نمبر سے کال آنے لگی تھی وہ یس کا بٹن پُش کرتا موبائل کان سے لگاتا شرٹ کے بازو فولڈ کرنے لگا۔

“تم شیخ کو کیسے مار سکتے ہو برزل ابراہیم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”دوسری طرف سر رفیع تھے برزل ایک گہرا سانس بھرتا چیئر پر بیٹھ گیا۔

“اس طرح کی بکواس کرنے والے کو سو بار بھی مار سکتا ہوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“میں نے کہا تھا کہ تم نے اپنی پرسنل لائف کو اس مشن سے دور رکھنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“آپ شاید بھول رہے ہیں کہ اس مشن کے ساتھ جُڑنے کی وجہ ہی میری پرسنل لائف تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“تم نے وعدہ کیا تھا کہ تم میرے کہے پر چلوگئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“اور ساتھ میں نے یہ بھی کہا تھا کہ میں اپنے سے جُڑے رشتوں پر ہلکی سی آنچ بھی آنے نہیں دونگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”دوبدو بولتا وہ سر رفیع کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر گیا۔

“تم ہمیشہ سے ہی ضدی رہے ہو،اب مجھے ڈیٹا سینڈ کرو مسز وقار کے فاونڈیشن کا،تا کہ اگلا قدم اُٹھائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“اوکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے کہتے ہوئے سلیمان کو دیکھا جو اس کی طرف ہی آ رہا تھا۔

“یہ سب سر رفیع کو سینڈ کرو میں زرا کام سے جا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُسے کہتا کمرے سے نکل گیا۔

!________________________________________!