Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz Readelle50262 Tera Ishq Jaan Lewa (Episode 02)
Rate this Novel
Tera Ishq Jaan Lewa (Episode 02)
Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz
نازر اعوان شدید غصے کے زیر اثر تھا اور بات چھوٹی بھی نہ تھی برزل ابراہیم ایک ایس پی کے گھر میں نہ صرف آسانی سے داخل ہوا تھا بلکہ نازر اعوان کو اپنی بے خوفی کا کُھلا چیلنج کر گیا تھا اور یہی چیز نازر اعوان کو سکون نہ لینے دے رہی تھی۔
“رات کو کون آیا تھا یا کیا ہوا تھا یہ بات اس گھر سے باہر نہیں جانی چاہیئے میں نہیں چاہتا لوگوں کو ہم پر ہسنے کا موقع ملے اور آگے کسی اور کی ہمت پڑے اعوان ہاوس کی طرف نگاہ کرنے کی بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”صبح ناشتے کی ٹیبل پر نازر اعوان نے سب کو باور کروایا اور اپنی کیپ پکڑتا پورچ کی طرف بڑھا۔
“میں سیکیورٹی بڑھا رہا ہوں پھر بھی اب آنکھیں کھول کر رہنا تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اپنے سیکیورٹی گارڈ کو گھورنے لگا جو نادم سا ہو کر سر جھکا گیا وہ کہنا چاہتا تھا کہ جب ایک ایس پی ہو کر آپ بے بس ہو گئے تھے تو وہ بے چارہ کیا کرسکتا تھا مگر کہہ نہ سکا کیونکہ کہنے کی صورت میں وہ نوکری کیا دنیا سے بھی جا سکتا تھا کیونکہ نازر اعوان اس وقت ایک زخمی شیر کی طرح پھڑپھڑا رہا تھا جس کے جنگل میں ہی کوئی اُسے مات دے گیا تھا۔
آفس آ کر اُس نے سب سے پہلے ایس ایچ او نسیم کو بلایا تھا۔
“برزل ابراہیم کے بارے میں جو کچھ جانتے ہو یا جو کچھ ملے جلدی سے میرے ٹیبل پر لا کر رکھو،پندرہ منٹ ہیں تمہارے پاس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سختی سے آڈر کرتا اُسے جانے کا اشارہ کیا اور اپنے موبائل سے ریئس کا نمبر ری ڈائل کیا۔
“نہیں مجھے یہ خود ہی ہینڈل کرنا ہوگا،ایک عام سے آدمی کے ساتھ لڑنے کے لیے مجھے ریئس کی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”کال ڈسکنٹ کر کے موبائل ٹیبل پر رکھا اور برزل ابراہیم کے بارے میں سوچنے لگا جس سے اسکی آنکھیں غم و غصے کی شدت سے سُرخ ہو رہی تھیں۔
“تُم نہیں جانتے برزل ابراہیم کہ تم نے شیر کی کچھار میں ہاتھ ڈالا ہے،بچنا نہ ممکن ہے اب تمہاراایسی سزا دونگا کہ سات پُشتیں یاد رکھیں گئیں کہ نازر اعوان کے گھر میں گھسنے کا کیا انجام ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس سے مخاطب ہوتا وہ زور سے ٹیبل پر ہاتھ مار گیا۔
نسیم کے آنے پر وہ اُسکی طرف متوجہ ہوا۔
“سر،برزل ابراہیم گاڑیوں کے شوروم بی_سکائے کا اونر ہے،پاکستان میں ٹوٹل اُسکی نو برانچ ہیں جو ہر بڑے شہر میں ہے،باہر کے ملکوں کے ساتھ بھی اسکا لین دین ہے،بی_سکائے پیلس میں اکیلا رہتا ہے،ماں باپ مر چکے ہیں اور سوائے ایک چچا زاد کے اُسکا کوئی رشتےدار نہیں،سلیمان اُسکا رائٹ ہینڈ ہے جو اُس کے تمام معمالات پر نظر رکھتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نسیم کی انفارمیشن پر نازر اعوان سر نفی میں ہلاتا اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا۔
“ایک ایس پی کے گھر میں بلا خوف گھسنے والا ایک عام آدمی نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی بڑبڑاہٹ پر نسیم نے نہ سمجھی سے دیکھا تھا۔
“اُس دن حیدر کو پکڑا تھا کہ وہ اسمگلنگ کر رہا تھا تو پھر۔۔۔۔۔۔۔”
“صوری سر بات کاٹنے کی معافی چاہتا ہوں مگر حیدر ہی وہ بندہ تھاجس نے اسمگلنگ کی نشانداہی کی تھی اور اُن بندوں کو پکڑوانے کے لیے وہ اُدھر رُکا تھا مگر ہماری غلطی کی وجہ سے اصل مجرم بھاگ گئے اور اُسے ہم نے پکڑ لیا حالانکہ پانچ منٹ بعد آتے فون نے ہمیں اُسے چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھامگر وہ بے گناہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تم سے جتنا پوچھا جائے اُتنا جواب دیا کرو نسیم،اور جاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نازر اعوان کو اُسکا حیدر کی فیور میں بولنا ناگوار گُزرا تھا اس لیے جھڑکتے ہوئے باہر کی راہ دکھائی۔
“کُچھ تو ایسا ہے جو اُس کے بارے میں یہ پولیس نہیں جانتی،پتہ لگانا ہوگا اور یہ کام دلاور ہی کر سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس نے اپنے خاص مخبر کا نمبر ڈائل کرکے موبائل کان سے لگا لیا۔
!__________________________________________!
وہ بیلو جینز پر وائٹ شرٹ ذیب تن کیے شرٹ کے کف لنکس کو فولڈ کرتا سیڑھیاں اُتر رہا تھا حیدر اُسے دیکھتا اُٹھ کھڑا ہوا۔
“آپ کہیں جا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”؟حیدر کے سوال پر برزل ابراہیم نے ابرو اُچکا کر اُسے دیکھا تھا جو گڑبڑا گیا تھا۔
“میرا مطلب ہے کہ آپ نے آج مجھے لنچ باہر کروانے کا بولا تھا،میں مس زونا کے ہاتھ کے بد زائقہ۔۔۔۔۔۔۔”اس سے پہلے کہ وہ اپنا جملہ مکمل کرتا مس زونا کے نمودار ہونے پر وہ زبان کو روک گیا تھا مگر برزل ابراہیم نے اُس کی کوشش کو اپنے پاؤں سے کچلتے ہوئے خود ہی اُسکا بھانڈا پھوڑ دیا تھا۔
“سُن لیا آپ نے مس زونا،آپ میری غیر موجودگی میں جو اسے چٹ پٹے کھانے بنا بنا کر کھلاتی ہیں نہ یہ اُنکا صلہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم نے پلٹ کر مس زونا کو کہا جبکہ حیدر کا دل کیا کہ اپنا سر کسی بھاڑی چیز سے ٹکڑا دے کیونکہ سامنے والے کا تو وہ کُچھ بگاڑ نہیں سکتا تھا۔
“میرا وہ مطلب نہیں تھا مس زونا۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر جلدی سے اُس کے قریب آیا تھا آخر ایک واحد مس زونا ہی تو تھی جو اُسکی مان لیتی تھی۔
“جی کیا مطلب تھا آپکا سر حیدر۔۔۔۔۔۔۔۔”مس زونا کی آنکھوں میں ہلکی ہلکی خفگی دیکھ کر حیدر بے چارگی سے برزل ابراہیم کو دیکھنے لگا جو کہ اسکی حالت سے کافی محفوظ ہو رہا تھا۔
“میرے خیال میں مس زونا آج سے دو ہفتے تک آپ حیدر کی ہر فرمائش کو ایک کان سے سُن کر دوسرے کان سے نکال دیں تو بہتر ہے،اتنی سی سزا تو بنتی ہے آپ کے محنت سے بنائے گئے فاسٹ فوڈ اور باربی کیو کی توہین پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“جی بلکل سر۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سر ہلاتیں چلی گئیں تو برزل ابراہیم نے مسکراتی نظر حیدر پر ڈالی جو منہ لٹکائے بیٹھ گیا تھا حیدر نے تو بس اسکے ساتھ لنچ پر جانے کی وجہ سے کہا تھا ورنہ مس زونا کے کھانوں کی وجہ سے ہی تو وہ زندہ تھا یہ حیدر کی زاتی رائے تھی اپنے بارے میں۔
“میں سوچتا ہوں تمہیں باہر لنچ کروانے کے بارے میں،فلحال تو تم مس زونا کے ہاتھ کے دال چاول انجوائے کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس پر اپنی شاندار مسکراہٹ اُچھالتا اُسے تپانے کا آخری پتہ بھی استمال کر گیا تھا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا لاؤنج سے نکلتاچلاگیا۔
“ماما پاپا،جاتے ہوئے مجھے اس پتھر دل بندے کے سُپرد کر کے کس گناہ کی سزا دی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر کی حالت اس وقت اُس انسان کی تھی جو اپنے پاؤں پر خود ہی کلہاڑی مار چکا تھا۔
!__________________________________________!
فارسیہ اعوان گیٹ سے باہر نکلتی اپنی گاڑی کی تلاش میں نظریں دوڑانے لگی مگر جس مخصوص جگہ پر اُسکی گاڑی اور ڈرائیور امتیاز ہوتے تھے آج وہ جگہ خالی تھی اور اس کالچ میں آئے چار سالوں میں ایسا پہلی دفعہ ہوا تھا۔
“یہ انکل کہاں رہ گئے۔۔۔۔۔۔۔؟وہ کلائی پر بندھی گھڑی پر نگاہ ڈالتی ادھر اُدھر دیکھنے لگی تبھی دس قدم کے فاصلے پر موجود برزل ابراہیم پر نظر پڑتے ہی اُسکی حالت رات سے کُچھ مختلف نہ تھی وہ پتھرائی نظروں سے اُسے دیکھ رہی تھی جو اس کا تفصیلی جائزہ لیتا اس کے قریب آ گیا تھا فارسیہ اعوان جو اُسے یہاں اپنے سامنے دیکھ کر جامد ہو گئی تھی ہوش کی دُنیا میں آتے ہی وہ کالج کے گیٹ کی طرف قدم موڑ گئی مگر برزل ابراہیم کی سرد آواز پر نہ صرف اُسکے قدم تھمے تھے بلکہ دل بھی ایک پل کے لیے رُکا تھا۔
“تو تم رات والی غلطی دوہرانا چاہتی ہو،اوکے ویل،مگر میں ایک دفعہ ہی کسی کی غلطی کو لائٹ لیتا ہوں،اب کی بار کالج نہیں تمہارے گھر میں تم سے ملاقات ہو گی۔۔۔۔۔۔۔۔”
“م_میر_میرے_گھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بے یقینی سے بولی تو برزل ابراہیم نے پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ پھنسا کر ریلیکس انداز میں کہا۔
“ہاں تمہارے گھر پر اور اس دفعہ تمہارے باپ کے روم میں نہیں سب کے سامنے تمہارے روم میں آؤنگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کہہ کر اس کے خوف سے پڑتے سفید چہرے کی طرف دیکھنے لگا پھر اسکی نگاہ اُس کے ہاتھ کی دوسری اُنگلی میں پڑی انگوٹھی پر پھسلی تھی۔
“کیا چاہیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟”وہ کن انکھیوں سے اردگرد گُزرتے سٹوڈنٹس کو دیکھتی اصل مدعے پر آئی اصل میں وہ اپنے ڈرائیور کے آنے سے پہلے اسے یہاں سے بھیجنا چاہتی تھی کیونکہ وہ کبھی بھی نازر اعوان کو اپنی طرف سے مشکوک نہیں کرنا چاہتی تھی اور اسکی وجہ اُسکا یہ خوف تھا جس کی وجہ سے وہ کبھی اپنی صفائی پیش نہیں کر سکتی تھی اور یہ خوف اُس کے دل و دماغ میں بٹھانے والا خود اُسکاباپ تھا اسی لیے وہ کبھی کسی کے سامنے کھل کر نہ بات کر سکی تھی اور نہ کبھی اپنے سیلف ڈیفنس میں کچھ کر پائی تھی بس اپنی کم ہمتی کی وجہ سے جسکا سب نے فائدہ اُٹھایا تھا اور شاید برزل ابراہیم بھی اُٹھا رہا تھا۔
“تم سے کل رات کے بارے میں پوچھنے آیا ہوں تم کچن میں کیوں نہیں رُکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم کی نگاہ دوسری دفعہ اُسکی اُنگلی میں پڑی اُس ہیرے کی انگوٹھی سے اُلجھی تھی مگر چہرہ بے تاثر تھا۔
“وہ_میں_میں مما کے ساتھ_اُنہوں نے کہاتھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فارسیہ نے اپنے دائیں جانب کھڑی اپنی کلاس فیلوز کو دیکھا جو برزل ابراہیم کو بڑے اشتیاق سے دیکھتیں شاید نہیں یقیننا اُس کی وجاہت اور پرسنالٹی پر کمنٹس دے رہی تھیں۔
“میرا کہا زیادہ ضروری تھا فارسیہ اعوان،اسکی سزا ملے گی۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے اُسکے رنگ بدلتے چہرے پر اپنی نگاہیں فوکس کیں۔
“صوری_صوری پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی کوئی بھی سزا سُنے بغیر وہ معافی مانگ گئی تھی جس پر برزل نے گہرا سانس بھرا تھا وہ اُسکی معافی نہیں چاہتا تھا۔
“اللہ کے نام پر کچھ دے دو بابا،اللہ جوڑی سلامت رکھے۔۔۔۔۔۔۔۔”یکدم ایک فقیر دونوں کے پاس رُکا جس کی آواز پر فارسیہ ڈر کر پیچھے ہوئی تھی۔
“بابا جی کو کچھ دو گی نہیں تم۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم کی بات پر فارسیہ نے کُچھ اچنبھے سے دیکھا۔
“کیونکہ میرے پاس کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”یہ برزل ابراہیم کہہ رہا تھا اگر یہاں سلیمان ہوتا تو شاید چکرا کر رہ جاتا اور اگر حیدر یہ سن لیتا کہ برزل ابراہیم کے پاس کچھ نہیں تو وہ صدمے سے شاید بے ہوش ہو جاتا۔
“میں کیا دوں۔۔۔۔۔۔۔”فارسیہ اپنے ہاتھ میں پکڑے نوٹ بک کو پیچھے کرتی اپنے کاندھے پر لٹکے بیگ میں سے تلاشنے لگی مگر اگلے ہی پل وہ ٹھٹھک کر برزل ابراہیم کو دیکھ رہی تھی جو اُس کے ہاتھ کو پکڑ چُکا تھا۔
“یہ لیں بابا جی اور دُعاوں میں یاد رکھیے گا۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کمال سادگی سے اُس کی اُنگلی سے وہ ہیرے کی انگوٹھی اُتار کر اُس فقیر کو دیتا پھر پہلے والی پوزیشن میں کھڑا ہو چکا تھاوہ جو اس سارے عمل میں فریز ہوئی تھی بے یقینی سے اُس فقیر کو دیکھنے لگی جو خود بھی اُلجھا سا اس انگوٹھی کو دیکھتا آگے جا رہا تھا۔
“وہ_میری انگوٹھی_رُکیں وہ۔۔۔۔۔۔۔۔”صدمے اور بے یقینی کی کیفیت سے نکلتی وہ اُس فقیر کی طرف قدم بڑھانے لگی مگر برزل اُس کے راستے میں آ کھڑا ہوا کہ وہ بمشکل اُس سے ٹکڑاتے بچی۔
“کیا تمہارے باپ نے یہ نہیں بتایا کہ فقیروں کو جو چیز دی جائے وہ واپس نہیں لیتے اس سے وہ ناراض ہو کر بددُعائیں دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ پُرسکون تھا جیسے بہت بڑا بوجھ سر سے اُتر گیا ہو مگر فارسیہ تو ابھی تک صدمے کی حالت میں تھی وہ اُسکی منگنی کی انگوٹھی تھی اُسے اچھی طرح یاد تھا کہ جب اُسکی ساس نے یہ انگوٹھی اُسکی اُنگلی میں پہنائی تھی تو کہا تھا۔
“یہ ہادی نے سپیشل دبئی سے خریدی تھی فاریسہ کے لیے وہ بھی پورے دس لاکھ کی۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اتنا چھوٹا سا دل ایس پی کی بیٹی کا،افسوس کی بات ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُس کے تاثرات کا جائزہ لیتا مایوسی سے سر نفی میں ہلاگیا فاریسہ نے اب کی بار نم آنکھوں سے اُسے دیکھا تھا۔
“وہ رنگ_میری_میری نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اوہ تو پہلے بتانا تھا چلو کوئی بات نہیں جس کی بھی ہو اُسے ثواب ہی ملنا ہے ویسے وہ کونسا اتنی مہنگی تھی یہی کوئی ایک دو ہزار تک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ معصوم دکھنے کی اداکاری اچھے سے کر رہا تھا کیونکہ کہ برزل ابراہیم کبھی معصوم بن نہیں سکتا تھا۔فارسیہ اُسے کہنا چاہتی تھی کہ یہ رنگ قیمتی تھی سب سے بڑی بات کہ منگنی کی تھی مگر اُس کے گلے میں جیسے آنسوؤں کا پھندا سا پڑ گیا تھا وہ مہ پارہ بیگم اور نازر اعوان کے متوقع ردعمل کو سوچ کر پریشان ہو گئی تھی کہ کیا کہے گی اُنکو رنگ کہاں گئ؟
“تمہارے انکل کے آنے میں تیس سینکڈ رہ گئے ہیں،باقی باتیں اگلی ملاقات میں سہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُسکی نم آنکھوں لرزتے ہونٹوں پر نگاہ ڈالتا چل دیا فاریسہ رنگ کے غم میں مبتلا اُسکے الفاظ پر غور ہی نہ کر سکی۔
برزل ابراہیم نے اپنی گاڑی کے پاس آ کر دیکھا جہاں اُسکا ڈرائیور گم صُم کھڑی فاریسہ کے پاس آ چُکا تھا اور یقیننا کار خراب ہونے کا بتا رہا تھا برزل نے موبائل پر کوئی نمبر ڈائل کیا اور نظریں گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھتی فاریسہ پر ٹکائیں۔
“یاسر مجھے ڈائمنڈ کی رنگ چاہیئے آج رات تک،نہیں ڈیزائن میں بتاؤنگا ویسی سیم ہونی چاہیئے اور اُسکی قیمت بیس لاکھ سے کم نہیں ہونی چاہیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”کال بند کرتا اب وہ نظروں سے اوجھل ہوتی گاڑی پر سے نظریں ہٹا کر اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا۔
!____________________________________________!
فارسیہ اعوان سارے راستے ہی رنگ کی پریشانی اور سب کے سوال جواب پر سوچتی ہلکان ہوتی آئی تھی اپنے بائیں ہاتھ کو ڈوپٹے کی اوٹ میں چھپاتی ہال میں بیٹھیں تنزیلہ بیگم اور مہ پارہ بیگم سے سرسری سلام دعا کرتی وہ اپنے کمرے میں آ کر دروازہ بند کیے بیٹھ گئ۔
“ماما کو پتہ چل جائے گا،نہیں چچی کو پتہ لگے گا وہ پوچھیں گی کیا کہوں گی میں،گم گئی، نہیں بابا غصہ کریں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بڑبڑاتی دونوں ہاتھوں کو آپس میں مسلنے لگی۔
“مجھے مما کو بتا دینا چاہیئے اُس کے بارے،وہ کالج آ گیا پر میرے کالج کا کیسے پتہ لگا اُسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ واقع میں شیدید پریشان تھی اس لیے اُسکا دماغ کام نہیں کر پا رہا تھا ورنہ اُسکی سوچ کی سُوئی بس اسی سوچ پر آ کر نہ رُکتی۔
“میں کیا کروں،کس سے مدد لوں،اگر بابا کو پتہ لگ گیا کہ میں اُس سے ملی تھی یا اُس نے میری رنگ فقیر کو دے دی تو وہ مجھے زندہ نہیں چھوڑیں گئے،اور چچی لوگ سمجھیں گئے وہ میری وجہ سے گھر آیا تھا،کیا کروں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ گہرے اضطراب میں مبتلا گالوں میں پھسلتے آنسوؤں کو بے دردی سے رگڑتی برزل ابراہیم سے آج دوسرا رشتہ قائم کر گئی تھی وہ تھا نفرت کا اور پہلا رشتہ جو ان دو ملاقاتوں میں اُبھر کر آیا تھا وہ خوف کا تھا۔
“اس کے لیے میں تمہیں کبھی معاف نہیں کرونگی۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُس کے نام سے ناواقف تھی اور ناواقف ہی رہنا چاہتی تھی۔
پھر وہ سارا دن کسی نہ کسی بہانے سے اپنے کمرے میں ہی مقید رہی تھی مگر رات کے ڈنر کے وقت اُسے نیچے آنا پڑا تھا ہاتھ کو ڈوپٹے کی اوٹ میں کرتی وہ سب کو سلام کرتی چیئر گھسیٹ کر ٹک گئی۔
“کُچھ پتہ چلا بھائی صاحب اُس لڑکے کا،کون تھا کیا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔”تنزیلہ بیگم نازر اعوان سے پوچھنے لگی جبکہ اُنکی بات پر فاریسہ اپنی جگہ چور سی ہو کر رہ گئی۔
“میں نے صبح بھی کہا تھا کہ وہ ایک مجرم تھا میرا،مجھے دھمکانے یہاں تک آ گیا،اُس کے ساتھ کیا کرنا ہے یہ بھی مجھے پتہ ہے آپ لوگ بے فکر ہو کر رہیں۔۔۔۔۔۔۔”نازر اعوان نے دو ٹوک بات کر کے اپنی توجہ کھانے کی جانب مبذول کی۔
“بابا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بے اختیار پُکار بیٹھی تھی مگر جس طرح اُنہوں نے سر اُٹھا کر اسکی طرف دیکھا تھا اُس کے الفاظ اُس کے منہ میں ہی دب گئے تھے۔
“کیا بات تھی۔۔۔۔۔۔۔”وہ بے زاری سے بولے فاریسہ کی آنکھیں پُرنم سی ہو گئیں نازر اعوان اپنے انداز سے ہمیشہ اُسے باور کرواتا تھا کہ وہ اُس کے لیے عام ہے اوررہے گی۔
“اب بول بھی چُکو کم عقل لڑکی۔۔۔۔۔۔۔۔”اب تو اُن کے لہجے میں ناگواری صاف محسوس کی جا سکتی تھی جس کو مہ پارہ بیگم نے تاسف سے دیکھا تھا جبکہ باقی سارے اس چیز سے لا تعلق ہو کر کھانے میں مصروف تھے۔
“وہ_میرے کالج میں_کالج میں سپیچ کمپیٹیشن ہے_ بوائز کالج کے ساتھ_میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ہرگز نہیں،جب ایک دفعہ کہہ دیا کہ تم بس کالج اور گھر کی حد تک رہو گی تو پھر؟ اور بات ختم اب۔۔۔۔۔۔۔”کہہ کر وہ پانی کا گلاس منہ سے لگا گئے فارسیہ نے ڈبڈائی آنکھوں سے مہ پارہ بیگم کی طرف دیکھا جو افسوس سے سر ہلا کر رہ گئیں تھیں ہمیشہ سے اُنکو نازر اعوان کا فارسیہ کے ساتھ رویعہ بُرا لگتا تھامگر وہ اُسکی “وجہ” کی وجہ سے خاموش ہو جاتی تھیں۔۔
“ویسے ڈیئر سسٹر،کیا تم بول لو گی سب کے سامنے۔۔۔۔۔۔۔”یہ قمر تھا اُسکا چچازاد بھائی اُسکی بات پر فارسیہ نے غصے سے دیکھا مگر قمر کے ساتھ بیٹھے احسن کی ہنسی دیکھ کر وہ لب کاٹ کر رہ گئی پھر بڑی بے دلی سے وہ کھانا کھا کر مردوں کے اُٹھنے کے بعد اُٹھی مگر تنزیلہ چچی کے سوال پر رُکی تھی۔
“تمہاری منگنی کی رنگ کہاں ہے۔۔۔۔۔۔۔”اُن کے سوال پر خشک ہوتے گلے کو تر کرتی مُڑی۔
“اُس کے روم میں ہو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مہ پارہ بیگم نے اُسکی مُشکل آسان کی تھی وہ گہرا سانس بھرتی سر ہلاتی اپنے کمرے میں آ گئی۔
“آج روم میں تھی کل روم میں ہو گی اور ایک دن سب کو پتہ لگ جائے گا میں کیا کہونگی سب کو۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سر تھامے بیڈ پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئی وہ اس وقت اُس بیلو جینز اور وائٹ بٹن ڈاؤن شرٹ والے برزل ابراہیم کو سوچنا نہیں چاہتی تھی مگر وہ اُس گرے آنکھوں والے برزل ابراہیم کو سوچ رہی تھی۔
!____________________________________________!
“میرا کام اچھے سے ہو جانا چاہیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”بات ختم کرتا وہ کھانے کی ٹیبل پر آیا تھا جہاں ہمیشہ کی طرح وہ دونوں اسکا انتظار کر رہے تھے۔
“شروع کرو تم دونوں۔۔۔۔۔۔”مس زونا کو اشارہ کرتا وہ دونوں سے بولا مس زونا نے کھانا پلیٹ میں نکال کر اُس کے سامنے رکھا اور خود زرا سا پیچھے ہو کر کھڑی ہو گئی۔
“ارے یہ کیا،اپنے حیدر میاں آج دال چاول کھا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان جو سارے واقع سے لاعلم تھا حیدر کے آگے پڑی پلیٹ کو دیکھ کر حیران ہوا تھا جو دل پر پتھر رکھ کر کھا رہا تھا۔
“اوہ حیدر تم کافی سادہ ہوتے جا رہے ہو،کھانے میں سادگی بہت اچھی بات ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم نے مسکراہٹ ہونٹوں میں دبا کر اُسے سراہا تھا جو ضبط کے گھونٹ بھر کر رہ گیا۔
“لگتا ہے حیدر میاں کو سزا دی گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان کو اُسکا دال چاول کھانا اور پھر خاموش رہنا ہضم نہیں ہو رہا تھا اس لیے مس زونا کی طرف دیکھا جس نے کندھے اُچکا دیے سب جانتے تھے کہ مس زونا سوائے برزل ابراہیم کہ کسی کو وضاحت نہیں دیتی تھی.
“کس نے دی ہے بتائے گا کوئی مجھے،کس کی اتنی ہمت کہ میرے بھائی کو اس طرح کی سزا دے۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم اُس کے سُرخ چہرے کے تاثرات دیکھ کر لُطف اندوز ہو رہا تھا۔
“تھنکیو سو مچ،آپ نے میرے لیے اسٹینڈ لیا،مجھے بہت اچھا لگا ہے،اب کیا میں یہ سادہ کھانا کھا سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔”بڑے تحمل سے بولتا سلیمان کو قہقہ لگانے پر مجبور کر گیا کیونکہ وہ ساری گیم سمجھ چُکا تھا۔
“شیور مائے لٹل برو۔۔۔۔۔۔۔”برزل مسکراہٹ دبا گیا۔
“بھائی ایس پی آپ کے بارے میں جاننے کی کوشش کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔”سلیمان کی اطلاع پر برزل نے سر ہلایا۔
“اچھا ہے سلیمان،اُسے میرے بارے میں جاننے کی کوشش بھی کرنی چاہیئے کیونکہ یہ اُس کے لیے اب اشد ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔”
“اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے بھائی کہ وہ آپ کے بارے میں جان تو لے گا مگر کُچھ کر نہیں پائے گا کیونکہ بی_سکائے جو بھی کام کرتے ہیں اُنکے ثبوت نہیں چھوڑتے۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان کا لہجہ مُسکراتا تھا جس کو سمجھ کر برزل کے لب پھیلے تھے۔
“اس بار نازر اعوان کے ساتھ بلی چوہے کا کھیل کھیلنے کو دل کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔”کھانے سے ہاتھ کھینچتا وہ اُٹھ کھڑا ہوا۔
“اس کھیل میں چوہا تو نازر اعوان ہوگا مگر بلی۔۔۔۔۔۔؟خاموشی سے کھانا کھاتے حیدر نے پہلی دفعہ اس گفتگو میں حصہ لیا تھا غصہ تو اُسے بھی تھا نازر اعوان پر جس نے جان بوجھ کر اسے پکڑا تھا۔
برزل ابراہیم کی آنکھوں کے سامنے وہ خوفزدہ ہرنی آئی تھی اُس کے لب مسکرا اُٹھے۔
“ہے ایک ڈرپوک اور معصوم بلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”کہتا ہوا وہ چلا گیا حیدر نے نا سمجھی سے سلیمان کی طرف دیکھا جو خود اسکی بات کا مطلب سمجھ رہا تھا۔
“فاریسہ اعوان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان کے زہن میں جھمکا ہوا وہ حیرانگی سے سیڑھیاں چڑھتے برزل ابراہیم کو دیکھنے لگا۔
“ڈرپوک بلی۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر ابھی تک اُلجھن میں تھا۔
“_________________________________________!
فارسیہ ابھی تک سوچوں میں ڈوبی تھی کہ دستک کی آواز پر اپنے خیالوں سے نکل کر دروازے کی طرف دیکھا جہاں انجم کھڑی تھی۔
“آ جائیں۔۔۔۔۔۔۔”وہ سیدھی ہو کر بیٹھی تو انجم کمرے میں آئی اُس کے ہاتھ میں کُچھ تھا۔
“چھوٹی بی بی یہ آپ کے لیے۔۔۔۔۔۔۔”ایک چھوٹا سا ڈبہ تھا اس کے سامنے رکھتی وہ چلی گئی فارسیہ جو پوچھنے لگی تھی کہ اس میں کیا ہے اور کس نے بھیجا مگر اُسکی جانے کی پُھرتی دیکھ کر چُپ ہو گئی اور ڈبہ کھولا جس کے اندر ایک چھوٹی سے میرون ویلوٹ کلر کی ڈبی اور ساتھ ایک چِٹ تھی۔
“یہ کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔”وہ سوچتی ڈبی کو کھولنے لگی تو اُس کے اندر ہیرے کی رنگ دیکھ کر وہ ششدر رہ گئی وہ بلکل اُس جیسی رنگ تھی بس فرق تھا اُس کے اندر ” بی” کا وہ بھی بڑے غور سے دیکھنے پر نظر آتا تھا ورنہ کوئی سرسری دیکھتا تو یہ پہچان ہی نہ پاتا کہ یہ وہ رنگ نہیں ہے۔
“یہ کیسے؟کس نے بھیجی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُلجھن کا شکار ہونے لگی پھر اُس چِٹ کو کھول کر دیکھا تو اُس پر لکھی عبارت پڑھ کر وہ حیرانگی کے شدید جھٹکے کے زیر اثر چلی گئی۔
“یہ رنگ پہن لینا اور اُتارنے کا کبھی سوچنا مت ورنہ پھر تُم مجھے تو جان گئی ہو گی کہ میں جو کہتا ہوں وہ کرتا بھی ہوں،
اب شکریہ تو فرض ہے تم پر اور خود کو تیار رکھو بہت جلد شُکریہ وصول کرنے آؤنگا۔۔۔برزل ابراہیم”
وہ جیسے جیسے پڑھتی گئی ویسے ویسے اُسکا دم خُشک ہوتا گیا۔
!_________________________________________!
