Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz Readelle50262

Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz Readelle50262 Tera Ishq Jaan Lewa (Episode 09)

54.5K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Ishq Jaan Lewa (Episode 09)

Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz

نازر اعوان اس وقت اپنی اسٹڈی میں بیٹھا کسی کیس کی فائل دیکھ رہا تھا کہ اُسکا موبائل بج اُٹھا دھیان موبائل کی سکرین کی طرف گیا جہاں رئیس کالنگ کے الفاظ اُسے ہر چیز سے بے نیاز کرتے کال پک کرنے کی طرف متوجہ کر گئے۔

“ہاں رئیس بولو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“میں نے پتہ کروایا ہے اُس لڑکے کے بارے میں،مجھے تو کچھ خاص نہیں ملا اُس میں سوائے یہ کہ اُسکا اُٹھنا بیٹھنا کچھ سیاسی لوگوں کے ساتھ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رئیس کی بات پر نازر غصے سے اعوان مُٹھیاں بھینچ گیا مگر خود پر قابو پاتے ہوئے بولا۔

“تو دوسرے کام کیا سوچا تم نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“وہ دو دن تک ہو جائے گا،تم اُسکی فکر نہ کرو بلکہ یہ سوچو کہ اُسے پولیس مقابلے میں مارنا کہاں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رئیس کی مسکراتی آواز اُسے ریلکیس کر گئی۔

“وہ سوچ لیا ہے میں نے،تم بتاؤ کیسے اُسے میرے تھانے تک پہنچاؤ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“رئیس کے لیے کوئی کام ناممکمن نہیں ہے،تمہیں برزل ابراہیم کو سلاخوں کے اندر ڈالنے کے لیے کسی بڑی وجہ کی ضرورت ہے نہ تو وہ وجہ میں تمہیں میسر کر دونگا،جیسے آج سے کچھ سال پہلے تمہارے لیے کسی کو اس دُنیا سے اُٹھوا دیا تھا،ہم تو یاروں کے یار ہیں ایس پی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رئیس کی بات اُسے کچھ یاد دلا گئی تھی پھر سر جھٹک کر اُسکا شکریہ بولتا فون رکھ گیا۔

“وہ ابراہیم بھی ضدی تھا اور یہ ابراہیم بھی ضدی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ایس پی بڑبڑا کر رہ گیا تبھی مہ پارہ بیگم ان سے اجازت لیتی اندر داخل ہوئیں۔

“میں بس آ ہی رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نازر اعوان کو لگا شاید کھانے کے لیے بلانے آنے آئی تھیں۔

“مجھے آپ سے کچھ کہنا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مہ پارہ بیگم جھجھکتے ہوئے کہنے لگیں۔

“جی بولیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ایس پی نازر اعوان فائل کے اندر کاغذات رکھنے لگا جبکہ کان مہ پارہ بیگم کی طرف ہی متوجہ تھے۔

“جیسا کہ آپ کو پتہ چل چکا ہے کہ میری فاریسہ سے کال پر بات ہوئی تھی تو میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ فاریسہ خوش ہے وہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نازر اعوان نے مہ پارہ بیگم کی طرف سپاٹ نگاہوں سے دیکھا وہ دو پل کو چپ کر گئیں پھر خود میں ہمت لاتے ہوئے بول پڑیں۔

“میں نے کھل کر بات کی اُس سے،وہ لڑکا اُس کے ساتھ بہت اچھا سلوک کر رہا ہے، فاریسہ کو مکمل آزادی دے رکھی ہے اُس نے،کل سے وہ کالج بھی جایا کرے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مہ پارہ بیگم کے لہجے میں سکون اور ایک خوشی کا احساس تھا جو ہر ماں کے لہجے میں بیٹی کو خوش دیکھ کر ہوتا تھا۔

“کالج،کالج جائے گی وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نازر اعوان کو یہ اطلاع معقول لگی تھی۔

“جی اُس نے خود بتایا کہ وہ کل سے کالج بھی جوائن کر رہی اور اُسے کہیں بھی آنے جانے کی مکمل آزادی ہے،وہ لڑکا چاہے مجرم ہے آپکا مگر وہ ہماری بیٹی کے لیے اچھا ثابت ہو رہا ہے اس لیے۔۔۔۔۔۔۔وہ ایک پل کو رُکیں پھر کہہ اُٹھیں۔

“اس لیے میں چاہتی ہوں کہ آپ بھی اُس لڑکے کو قبول کرنے کی کوشش کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“میرا خیال ہے تم وہ بے عزتی اور زلت فراموش کر چُکی ہو جو اُس دن ہادی کے خاندان کے سامنے مجھے سر جھکانے پر مجبور کر گئی تھی،اُس کے بعد کیسے کیسے لوگوں کی نظریں برداشت کی ہیں اور تم بس وہ اُسے کالج جانے دے رہا ہے تو موم ہو گئی واہ بیگم واہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ایس پی کے طنزیہ فقرے اُنکو سر جھکانے پر مجبور کر گئے۔

“وہ ایک مجرم ہے جس نے صرف مجھے نیچا دکھانے کے لیے تمہاری بیٹی سے نکاح کیا اور تم چاہتی ہو کہ میں واقع میں جُھک جاؤں اُس کے آگے تا کہ کل کو کوئی اور منہ اُٹھا کہ یہ سب کرے ہمارے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ایس پی نازر اعوان کے منہ سے شعلے نکلنے لگے تھے۔

“کیا آپ اپنی بیٹی کو بیوہ کریں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“ہاں کرونگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “وہ دو بدو بولتے مہ پارہ بیگم کو لاجواب کر گئے۔

“یہ مت بھولو کہ میں اپنے گھر کی عزت کی طرف آنکھ اُٹھا کر دیکھنے والے کی آنکھیں نکال لیا کرتا ہوں،یہ لڑکا تو میرے ہاتھوں ہی مرے گا اور تم فکر نہ کرو ہادی بیوہ کو اپنا لے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُنکو کچھ باور کرواتے وہاں سے چلے گئے۔

“آپ کے لیے آج بھی ایک بیٹی کا گھر اُجاڑنا اُتنا ہی آسان ہے جتنا تب تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مہ پارہ بیگم کی آنکھوں میں گہرے دُکھ کی چھاپ اُبھری تھی۔

!___________________________________________!

وہ کالج جانے کے لیے تیار ہو کر لاونج میں آئی تو مس زونا ناشتہ ریڈی کر کے اُس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔

“میم ناشتہ ریڈی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مس زونا کے کہنے پر وہ بیگ صوفے پر رکھتی ناشتے کے لیے ٹیبل پر آ بیٹھی صرف ایک گلاس جوس اور ایک بریڈ کھا کر وہ اُٹھ کھڑی ہوئی۔

“بھابھی!بھائی فون کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”بیگ لیے وہ باہر پورچ میں آئی کہ سلیمان جو فون پر یقیننا برزل ابراہیم سے ہی بات کر رہا تھا اسکی طرف دیکھ کر کہنے لگا تو فاریسہ جلدی سے اپنے بیگ سے موبائل نکال کر دیکھا جہاں برزل ابراہیم کی پانچ مسڈ کالز تھیں اور پھر سے کال آنا شروع ہو چکی تھی وہ گھبراہٹ میں سلیمان کی طرف دیکھنے لگی جو کچھ دور جا کر کھڑا ہو گیا تھا۔

“جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کال یس کرتی مدھم آواز میں بولتی اُسے غصہ دلا گئی مگر وہ کمال مہارت سے پی گیا تھا۔

“میرا فون سُننے سے تو آپکا کچھ نہیں جائے گا محترمہ،اگر کال کرتا ہوں تو اُسے پک کرلیا کریں اتنا احسان تو مجھ ناچیز پر کر سکتی ہیں نہ آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم کا ٹھنڈا لہجہ اُسکی سماعتوں سے ٹکڑایا تو وہ اپنے سوکھے لبوں کو تر کرتی کہہ اُٹھی۔

“وہ،وہ میں نے بیل بند کر دی تھی کیونکہ،کیونکہ کالج جانا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی صفائی پر وہ سمجھ گیا کہ کالج میں سیل الاؤ نہیں تھا۔

“تم فکر نہ کرو میں تمہاری پرنسپل سے بات کر لیتا ہوں مگر تم کبھی بھی میری کال سننے میں ایک سیکنڈ کی بھی دیر مت لگانا کیونکہ یہ چیز مجھے بہت ناگوار گُزرتی ہے،ویسے بھی بنا کسی ضروری کام میں کوشش کرونگا کہ تمہیں کالج ٹائم تنگ نہ کروں،اوکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اب کہ بار اُسکا انداز کچھ نرم تھا۔

“جی۔۔۔۔۔۔۔۔”فقط اتنا ہی زبان سے ادا کیا گیا۔

“میں نے ویسے تو سلیمان کو سب سمجھا دیا ہے مگر تم سے پھر کہہ رہا ہوں کہ اپنی حفاظت کرنا تم اپنے پاس برزل ابراہیم کی امانت ہو اس لیے کسی بھی غیر ضروری فرد سے بات کرنے سے پرہیز کرنا اوکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“جی ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔”وہ ساتھ سر بھی ہلا گئی کیونکہ وہ خود سے واقف تھی سوائے اپنی دو دوستوں کے وہ زیادہ تر کسی سے بات نہیں کرتی تھی۔

“اوکے پھر رات کو ملتے ہیں،اللہ حافظ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”کہہ کر فون بند کر دیا گیا وہ بھی موبائل کو بیگ میں رکھتی گاڑی میں بیٹھ گئی تو سلیمان نے آ کر فرنٹ سیٹ سمبھال لی۔

سلیمان نے جب گاڑی کالج کے راستے میں ڈالی تو فاریسہ نے دیکھا کہ ایک اور گاڑی ان کے ساتھ گیٹ سے نکلی تھی وہ سیکیورٹی کے خیال سے چپ کر گئی۔

“بھابھی یہ دونوں گارڈز یہاں ہی رہا کریں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان اُسے کالج کے گیٹ کے پاس چھوڑتا اُس گاڑی کی طرف اشارہ کر کے بولا جو پورے راستے اُن کے ساتھ رہی تھی وہ سر ہلا کر اندر چلی گئی اُسکی دوستیں اتنے دن بعد اسے دیکھ کر خوش ہوئیں تھیں وہ بھی خوشی خوشی اپنی غیر حاضری کی اصل وجہ بیان کرنے سے گریز کرتی اُنکو اپنا موبائل دکھانے لگی تبھی اُسکی نظر کلاس میں داخل ہوتی ایک نئی لڑکی پر پڑی۔

“یہ نیو ہے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فاریسہ زارا سے پوچھنے لگی جو اس کی نظروں کے تعاقب میں اُس لڑکی کی طرف دیکھ کر سر ہلا گئی۔

“ہاں آج تیسرا دن ہے اسکا یہاں،لائبہ نام ہے اسکا،کسی سے بات چیت نہیں کرتی ہے اتنی اس لیے زیادہ نہیں پتہ مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”زارا کے جواب پر فاریسہ سر ہلا گئی پھر ٹیچرز کے لیکچرز کے دوران فاریسہ کو کئی دفعہ احساس ہوا کہ جیسے وہ کسی کی نظروں کے احصار میں ہے مگر اپنا وہم سمجھتی وہ سر جھٹک گئی۔

!___________________________________________!

حیدر(صدف) کو یہاں آج دوسری رات تھی مگر وہ بہت اُکتا گیا اس ماحول سے اور اپنے اس صدف کے گیٹ اپ سے اگر سچی پوچھا جائے تو وہ اس دالامان کے پھیکے اور سادہ کھانوں سے بھی تنگ آ گیا تھا اس لیے اپنا کام ختم کر کے وہ جلد سے جلد وہاں سے جان چاہتا تھا اس لیے سب کے سونے کے بعد وہ دھیرے سے اپنے پلنگ سے اُترا اور بے آواز چلتا باہر نکل آیا سیکنڈ فلور پر مین آفس تھا وہ سی سی ٹی وی کیمروں سے بچتا اوپر والے پورشن میں آ گیا اور ابھی اُس کے قدم آفس کی طرف بڑھے تھے کہ ہانیہ کی آواز پر وہ سخت جھنجھلا کر مُڑا۔

“صدف تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ہانیہ کا کمرہ اس فلور پر تھا وہ پانی پینے کے خیال سے باہر آئی تھی۔

“کچھ نہیں،بس جگہ کو دیکھ رہی تھی اصل میں نیند نہ آنے کی وجہ سے ٹائم پاس کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر اپنا غصہ چھپا کر خود پر صدف کی مظلومیت طاری کرتا ہوا بولا تو ہانیہ گہرا سانس بھرتی افسردگی کی لیپیٹ میں آ گئی۔

“میں سمجھ سکتی ہوں تمہاری کیفیت،کیونکہ میں بھی اس کیفیت سے گزر چکی ہوں،اتنی جلدی اس جگہ سے مانوس ہونا بہت مشکل ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ہانیہ کہتی ہوئی سیڑھی کہ سٹیپ پر بیٹھ گئی تو حیدر بھی نہ چاہتے ہوئے اُس سے تھوڑے سے فاصلے پر بیٹھ گیا اب نیند نہ آنے کا بہانہ بنایا تھا اب پورا تو کرنا تھا۔

“کیا تمہیں مجھ سے وحشت یا اُلجھن نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر کو دو دن سے اسکا آس پاس پھرنا ناگوار گزر رہا تھا اس لیے پوچھنے لگا۔

“سچ کہوں تو آج سے کچھ ماہ پہلے اگر تم یوں میرے سامنے آئی ہوتی تو میں شاید ایک نظر ڈالنے کا بعد دوسری نہ ڈالتی کیونکہ شروع سے مجھے عجیب سی جھجک محسوس ہوتی آئی ہے مگر اب جب خود ایک ٹھوکر سے گر کر اُٹھی ہوں تو ہر ایک کا درد دل پر محسوس ہونے لگا ہے اور تم لوگوں کا بھی جو زمانے کی ٹھوکروں پر رہتے ہیں اور لوگ حقیر نظروں سے دیکھتے ہیں اور ہنستے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بول رہی تھی اور حیدر اُسکی طرف دیکھ رہا تھا جو سادہ سی پر ایک عجیب سی کشش لیے ہوئے تھی کہ وہ بے ساختہ اُسے دیکھے گیا۔

“تم یہاں کیسے آئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر کے سوال پر وہ ایک ٹھنڈا سانس بھر کر رہ گئی۔

“وہی جو ہمارے معاشرے کی چالیس پرسنٹ لڑکیوں کی داستان ہے،کسی کی جھوٹی اور وقتی محبت کے بہکاوے میں آ کر اپنے والدین کی عزت کی پرواہ کیے بغیر قدم اُٹھا لینا اور پھر ایسا گرنا کہ دُنیا کے رحم و کرم پر آ جانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکا لہجہ بھیگ گیا تھا اور آنکھوں میں ایک دُکھ کی کیفیت تھی۔

“محبت تو نہ نہ ہوئی وہ،کیونکہ محبت ایسی نہیں ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“آجکل محبت ہوتی ہی نہیں ہے صدف،بس ایک کھیل ہے جو جتنا اچھا کھیل گیا وہ جیت گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ہانیہ کے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ تھی۔

“میں نہیں مانتی اس بات کو،محبت ہوتی ہے مگر جو محبت کے ساتھ کھیلتے ہیں اصل میں وہ محبت نہیں کرتے اور جو کرتے ہیں وہ کھیل نہیں کھیلتے بلکہ اپنی بُری نظر بھی اپنی محبت پر نہیں پڑنے دیتے اور ایک جائز رشتے کی طرف چل پڑتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر کے انداز میں کچھ تھا ایسا کہ وہ بے اختیار اُسے دیکھے گئی جو کہ اب اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔

“میرے خیال میں اب چلنا چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”صدف کہتی ہوتی وہاں سے چل دی تو ہانیہ بھی سر جھٹکتی اُٹھ کھڑی ہوئی۔

!____________________________________________!

“سر آپ سے کوئی ابراہیم نامی شخص ملنا چاہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وقار رانا اس وقت اپنے آفس میں بیٹھا کسی فائل پر جھکا تھا کہ پیون کی اطلاع پر سر ہلا کر اُس انسان کو اندر آنے کی اجازت دیتا پھر سے فائل پر جھک گیا۔

“کیا میں اندر آ سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نووارد کی آواز پر وقار رانا نے سر اُٹھا کر دیکھا بلیک جینز کی پینٹ پر وائٹ شرٹ زیب تن کیے وہ بہت خوش شکل جوان تھا۔

“آئیے بیٹھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وقار رانا فائل بند کرتا اسکی طرف متوجہ ہوا جو کہ کرسی سھمبال چکا تھا۔

“دو دن سے تم مجھ سے ملنا چاہتے تھے کیا بات تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وقار رانا کی بات پر وہ مسکرایا۔

“یہی سمجھ لیں کہ آپکی زندگی اور موت کی بات تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ابراہیم کی بات پر وقار رانا کے تاثرات بدلے تھے۔

“کیا مطلب ہے تمہارا،تم جانتے نہیں کہ میں کون ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“جانتا ہوں اس لیے تو آیا ہوں،آپ نہ صرف ایک سیاست دان بلکہ ایک سماجی شہرت یافتہ بزنس مین ہیں اور یقین مانے تو میں آپ سے ملنے ہی اس لیے آیا ہوں کہ آپ سہارا گروپ آف فاؤنڈیشن کے آنر ہیں جہاں ہر سال کتنی ہزار عورتیں معاشرے کے گرم تھپڑوں سے بچنے کے لیے پناہ لیتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“کیا کہنا چاہتے ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وقار رانا نہ سمجھی سے دیکھنے لگا تھا۔

“بتاتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اپنے موبائل پر انگوٹھا چلانے لگا وقار رانا کو پتہ بھی نہ چلا اور وہ آفس کے کیمرے بلاک کر گیا تھا تا کہ اسکی ریکارڈنگ نہ ہو۔

“سب سے پہلے میں اپنا مکمل تعارف کرواتا چلوں،میرا نام ابراہیم ہے اور میں ایک ٹارگٹ کلر ہوں جسے آپکی بیوی مسز رانا نے آپکے لیے ہائر کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بہت پرسکون سا بولتا وقار رانا کے سر پر آفس کی چھت گرا چکا تھا۔

“تم،کیا مطلب ہے اس بات کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وقار رانا بے یقینی سے دیکھنے لگا۔

“یہی کہ آپکی بیوی نے بیس لاکھ کے بدلے میں مجھ سے آپکی جان مانگی ہے سمپل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“کیا بکواس کر رہے ہو،کون ہو تم،ابھی پولیس کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وقار رانا کی زبان کے ساتھ ہاتھ بھی چلنے لگے وہ موبائل اُٹھا گیا کہ ابراہیم نے اُسے روک دیا۔

“ایک منٹ،بات سُن لو پھر جسے مرضی کال کرنا،تمہاری بیوی کے پلان کے مطابق ہی تم سب کر رہے ہو اور اس میں صرف تمہارا نقصان ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“کیا ثبوت ہے تمہارے پاس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وقار رانا نے موبائل واپس رکھ دیا۔

“تمہاری بیوی جانتی ہے کہ تمہارا افیر اپنی ورکر ثمن کے ساتھ چل رہا ہے مگر شاید تم نہیں جانتے کے تمہاری بیوی اپنے سیکٹری اعزاز کے ساتھ دس سالوں سے ریلشن میں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مسز رانا اور اعزاز کی تصویریں اُس کے آگے ٹیبل پر رکھتا وہ اُس کے ہوش و حواس ساکن کر گیا تھا وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اپنی بیوی کی نازیبا سیلفیاں دیکھ رہا تھا جو برزل ابراہیم نے بڑی محنت کے بعد اعزاز کے موبائل سے حاصل کی تھیں۔

“اعزاز اُن سے شادی کرنا چاہتا ہے اس لیے آپکو اُن کے راستے سے ہٹانے کے لیے مجھے ہائیر کیا گیا ہے،وہ ایک طلاق یافتہ عورت کے طور پر نہیں بلکہ بیوہ کے طور اعزاز کی ہمسفری اختیار کرنا چاہتی ہیں،کیونکہ اگر وہ طلاق لے کر آپ سے الگ ہوتی ہیں تو جائیداد کا ففٹی پرسنٹ اُنکے ہاتھ سے نکل جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ابراہیم کے حقائق وقار رانا کو گہری سوچ میں مبتلا کر گئے تھے ان سب باتوں کے بعد شک کی گنجائش ہی کہاں بچی تھی۔

“تم مجھے کیوں سب بتا رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟اپنی سوچوں سے نکلتا وہ سوال کر گیا جس پر برزل ابراہیم کے لبوں پر پرسرار مسکراہٹ چمکی تھی۔

“تمہاری بیوی نے تمہاری جان لینے کی قیمت بیس لاکھ رکھی ہے جبکہ اب میں تم سے تیس لاکھ چاہتا ہوں جو تم مجھے دو گئے اور دوسرا یہ کہ مجھے اپنے ملک کو ایک اچھے انسان اور اتنے عظیم سیاستدان کی موت سے نقصان نہیں پہنچانا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“میں کیسے یقین کر لوں کہ تم اب مجھے نقصان نہیں پہنچاؤ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”چیک بک نکال کر وہ اس سے پوچھنا نہیں بھولا تھا۔

“اگر میرے کہے کے مطابق چلو گئے تو میں کیا کوئی بھی تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا کیونکہ اگر تمہاری بیوی مجھے ہائیر کر سکتی ہے تو کسی اور کو بھی تو کر سکتی ہے نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم جس طرف لے کر جانا چاہتا تھا آسانی سے وہ یہ کام کر گیا تھا۔

!_____________________________________________!

فاریسہ اپنے کمرے میں بیڈ پر آلتی پالتی مارے بیٹھی پوری ایل ڈی پر نظریں جمائے ڈرامہ دیکھنے میں اس قدر محو تھی کہ برزل ابراہیم کے آنے کا اُسے پتہ ہی نہیں چلا تھا۔

“کیا کل کلاس میں اس ڈرامے کے بارے سوال جواب ہونے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل اسکی محویت پر مسکراتا ہوا بولا جس پر وہ خفیف سی ہوتی سر نفی میں ہلا گئی۔

“کیسا رہا آج کا دن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ موبائل اور والٹ سائیڈ ٹیبل پر رکھتا پوچھنے لگا۔

“اچھا رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”دو لفظی جواب دے کر اسکی طرف دیکھنے لگی جو اب گھڑی اُتار بیڈ پر بیٹھتا کر شوز اُتار رہا تھا۔

“مس کیا مجھے کہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”یہ سوال اُسے گہری سوچ میں مبتلا کر گیا کہ کیا جواب دے اگر حقیقتا وہ بتاتی تو کل رات کمرے میں اُسکی غیر موجودگی اُسے محسوس ہوئی تھی۔

“بتاؤ نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اسرار کیا گیا تھا۔

“وہ حیدر بھائی کب آئیں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”جلدی سے پوچھتی سوال سے بچنے کی کوشش کر گئی تھی برزل ابراہیم مسکراتا ہوا اُس کے قریب آیا اور ہاتھ پکڑ کر اُسے اپنے روبرو کھڑا کیا۔

“یہ جواب تو نہیں بنتا تھا میم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے چہرے پر چھائی سُرخی کو وہ نظر بھر کر دیکھنے لگا۔

“چلو میں بتاتا ہوں کہ میں نے تمہیں کتنا مس کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم شرارت سے کہتا ہوا اُسکے چہرے پر جھکنے لگا کہ وہ خوف سے بے اختیار پیچھے ہوئی تھی اگر اُسکا ہاتھ برزل ابراہیم کی گرفت میں نہ ہوتا تو وہ یقیننا بیڈ پر جا گرتی۔

“ویری بیڈ مسز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسے زرا اچھا نہیں لگا تھا اس لیے اُسکا ہاتھ سختی سے دباتا پیچھے ہٹ گیا فاریسہ نے سکون کا سانس لیا تھا۔

“کپڑے نکالو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسے حکم دیتا وہ شرٹ کے بٹن کھولنے لگا فاریسہ جھجھکتی ہوئی اُس کے قریب سے گزرتی آگے بڑھنے لگی کہ برزل ابراہیم نے قمر سے پکڑ اپنے بے حد قریب کر لیا تھا فاریسہ جو اس کے لیے بلکل تیار نہ تھی اُسکا دل اُچھل کر حلق میں آ گیا تھا۔

“اب میں اتنا بھی اچھا نہیں ہوں کہ تم میرا ہاتھ جھٹکو اور میں اسکی سزا نہ دوں مسز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے چہرے پر ہاتھ رکھتا اُسکی خوفزدہ آنکھوں میں جھانکتا وہ اُسے سٹپٹانے پر مجبور کر گیا۔

“وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“ہشششششش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”لبوں پر اُنگلی رکھ کر خاموش کروایا گیا تھا فاریسہ کی جان جیسے اُس کی اُنگلی کے نیچے دبے لبوں پر آ ٹکی تھی۔

“میں صرف ایک بار معاف کرتا ہوں اور وہ موقع تمہیں آج دے رہا ہوں،آئندہ ایسا مت کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسے نرمی سے چھوڑتا وہ اچھے سے باور کروا گیا پھر اُسے وہی ساکت چھوڑ کر وارڈرب کی طرف بڑھ گیا جبکہ فاریسہ دھک دھک کرتے دل کو قابو میں کرتی کمرے سے نکلتی لاونج میں آ گئی تھی۔

!___________________________________________!