Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz Readelle50262 Tera Ishq Jaan Lewa (Episode 19) 2nd Last Episode
Rate this Novel
Tera Ishq Jaan Lewa (Episode 19) 2nd Last Episode
Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz
برزل آج صبح ہی اسلام آباد کے لیے نکل چکا تھا ان دونوں کی سی آف کرنے کے لیے بس سلیمان ہی تھا جو حیدر کے اشاروں پر امجد کی طرف مُڑا تھا۔
“امجد تمہیں ائیرپورٹ جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے،ڈرائیور چھوڑ آئے گا انکو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مگر سلیمان یہ تو بھائی کا حکم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ان سے میں بات کر لونگا تم ٹینشن مت لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان کے دو ٹوک انداز پر وہ شش وپنج میں پڑا تھا ایک طرف برزل تھا جس کا حکم سب سے اول تھا ایک طرف سلیمان تھا جسکی کوئی بات برزل ٹالتا نہیں تھا۔
“اوکے خداحافظ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”دونوں کی طرف مسکرا کر دیکھتا وہ اندر کی طرف بڑھ گیا تو ڈرائیور نے بھی گاڑی گیٹ سے باہر نکال لی اور اب گاڑی اپنی منزل کی طرف فراٹے بھر رہی تھی۔
“بھائی کو دیکھا آپ نے،ہمیں سی آف بھی نہیں کیا اور اسلام آباد چلے گئے،مجھے تو لگتا کہ وہ ہمیں جان بوجھ کر یہاں سے بھگانا چاہ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر کے پاس برزل کی کافی شکایتیں اکھٹی ہو گئی تھیں جو وہ آنسہ پھوپھو سے کرنا چاہتا تھا۔
“نہیں وہ ایسا صرف پھوپھو کی وجہ سے کر رہے ہیں کیونکہ وہ ہم سے ملنا چاہتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”فاریسہ نے صفائی دی تھی۔
“ریحان سے میری بات ہوئی تھی کل،وہ لوگ خود آنا چاہ رہے تھے مگر انکو برزل بھائی نے روک دیا،پتہ نہیں بھائی کے دماغ میں کیا چل رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر الجھنے لگا تھا۔
“وہ شاید ہمیں بھیج کر سکون سے نینا کو تلاش کرنا چاہتے ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فاریسہ کی اس بات پر حیدر بھی متفق ہوا تھا۔
“ہاں یہ ہو سکتا ہے اس لیے تو بھائی نینی کو لانے کا وعدہ کر چکے ہیں اور آپ کو ایک بات بتاؤں بھائی اپنا ہر وعدہ پورا کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر کے لہجے میں برزل کے لیے پیار اور یقین صاف محسوس کیا جا سکتا تھا۔
وہ دونوں ہلکی پھلکی باتیں کر رہے تھے کہ یکدم چونکے تھے اور چونکنے کی وجہ انکی گاڑی کا رکنا اور ڈرائیور کا ایک طرف لڑھک جانا تھا۔
“یہ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “جہاں فاریسہ چیخی تھی وہی حیدر نے اپنی بیک سیٹ سے پسٹل نکالنا چاہا تھا مگر وہاں کچھ نہیں تھا اور حیدر کو اچھی طرح یاد تھا کا تھا اس گاڑی میں اس نے خود پسٹل رکھا تھا۔
“میرا فون کہاں گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فاریسہ جسے برزل کو اطلاع دینے کا خیال آیا تھا مگر اس کے بیگ میں موبائل ہی نہیں تھا حیدر بھی اپنے موبائل کی تلاش میں ادھر ادھر جھانکنے لگا مگر کچھ ہوتا تو ملتا نہ دونوں ہکا بکا رہ گئے۔
“بھابھی،ہمیں جان بوجھ کر ٹریپ کیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر کا جہاں رنگ پھیکا پڑا تھا وہی فاریسہ بھی خوف سے سفید ہونے لگی جب اس نے اسلحہ تھامے تین آدمیوں کو اپنی گاڑی کے پاس آ کر کھڑے ہوتے دیکھا۔
“عزت سے باہر نکلو گئے یا مجھے ذحمت کرنی ہو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ایک نسوانی آواز پر دونوں چونکے تھے ان کے سامنے ایک پچیس چھبیس سالہ لڑکی تھی جو ہاتھ میں گن لیے انکو باہر نکلنے کا اشارہ کر رہی تھی۔
“مسز برزل آپ ہمیں اپنی مہمان نوازی کا شرف بخشنا پسند فرمائیں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ لڑکی کا لہجہ سپاٹ اور آنکھوں میں ایک خاص نفرت تھی جسے فاریسہ محسوس کرتی سن ہو گئی پھر حیدر کے اشارے پر مرے مرے قدموں سے باہر نکلی ساتھ حیدر بھی نکل آیا۔
حیدر نے ارد گرد دیکھا یہ علاقہ کچھ سنسان تھا پاس سے اکا دکا ہی گاڑیاں گزر رہی تھیں مگر کوئی بھی ایک طرف کھڑی گاڑی اور اس میں ہونے والے واقع کو جانے بغیر آگے بڑھتا رہا تھا۔
“سلیم انکو گاڑی میں بٹھاؤ اور برزل ابراہیم تک یہ سپرائز ضرور پہنچا دینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”شاہانہ کہتی ہوئی اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئی تو وہ سلیم نامی آدمی ان دونوں کو گاڑی کی طرف دھکیلنے کے لیے فاریسہ کو ہاتھ لگانے لگا کہ حیدر ایک الٹا ہاتھ اس کے منہ پر دے مارا تھا۔
“میری بھابھی کو ہاتھ لگایا نہ تو جان لے لونگا تم سب کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ غرایا تھا سلیم نے غصے سے اسکی طرف پیش قدمی کی مگر شاہانہ کے اشارے پر صبر کے گھونٹ بھر کر رہ گیا۔
“یہ ہمیں کہاں لے کر جا رہے ہیں بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فاریسہ کی آنکھوں سے پانی کا جھرنا بہنے لگا تھا وہ پھر سے چھ ماہ پہلی والی فاریسہ بن چکی تھی تھر تھر کانپنے والی جسے برزل کی نرم طبعیت اور اس کے پیار نے بدل ڈالا تھا۔
“یہ تو میں بھی نہیں جانتا مگر آپ پریشان نہ ہو برزل بھائی سب سھنبال لیں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر جو اندر سے خود بہت پریشان تھا مگر اسے تسلی دیتے ہوئے ریلکیس کرنے لگا۔
آدھے گھنٹے کی مسافت پر وہ لوگ جہاں انکو لے کر آئے تھے وہ ایک ویران علاقہ تھا جہاں دو منزلہ عمارت بھی باہر دیکھنے سے ویران تھی مگر جب وہ اندر گئے تو ایک دروازے سے گزر کر وہ سیڑھیاں اترتے کسی طے خانے میں داخل ہوئے تھے جہاں ان کے علاوہ بھی کچھ لڑکیاں تھیں جن کو دیکھ کر فاریسہ کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں وہ جان چکی تھی کہ وہ لوگ کس مصیبت میں پھنس چکے تھے۔
“یہاں چلانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ آواز دروازے کے باہر نہیں جاتی اس لیے کل تک زرا سکون سے ان کے ساتھ رہو تم دونوں پھر کل پتہ چل جائے گا کہ تم لوگ ہمارے کس کس کام آنے والے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”شاہانہ کہتی ہوئی اب فاریسہ کی طرف بڑھی جو خوف سے حیدر کے ساتھ لگی تھی۔
“اور تم فاریسہ اعوان،تمہیں فاریسہ برزل بننے کی سزا ضرور ملے گی آخر کو تم نے شاہانہ کے پیار کو اپنی قسمت کا تاج بنایا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ زہر خند لہجے میں بولتی فاریسہ کو نفرت سے دیکھتی چلی گئی فاریسہ نے ڈبڈائی نظروں سے حیدر کی طرف دیکھا جو کہ شاہانہ کی پشت کو گھور رہا تھا پھر اسکی طرف پلٹا۔
“آپ پریشان نہ ہوں جب تک میں زندہ ہوں کسی کی اتنی جرت نہیں کہ آپ کو ہاتھ لگائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اب کیا ہوگا بھائی،برزل کیسے ہمیں بچانے آئیں گئے،انکو تو اس جگہ کا پتہ نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فاریسہ کی آنکھوں میں پانی جمع ہونے لگا تھا۔
“آپ بیٹھیں یہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر نے ایک کرسی پر اسے بٹھایا اور دوسری پر خود ٹک گیا۔
“آپ دل چھوٹا نہ کریں،برزل اور سلیمان بھائی کا نیٹ ورک بہت سٹرانگ ہے،وہ ہمیں جلد ڈھونڈ لیں گئے،اگر ہمارے موبائل ہوتے تو اس میں لگے ٹریک کی مدد سے وہ فورا ڈھونڈ لیتے مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”کہتے ہوئے حیدر نے اپنی گھڑی کی طرف دیکھا اور اسکی آنکھیں چمکی تھیں۔
“ارے یہ تو میں بھول ہی گیا تھا،اس میں ٹریکر لگا ہوا ہے،یہ بھائی نے گفٹ کی تھی دو سال پہلے،بہت خاص گھڑی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر اب کی بار آہستہ آواز میں بولتا اسے بتانے لگا جس پر فاریسہ بھی ہلکی پھلکی ہو گئی۔
“یہ آن کر دیا ہے،اب بھائی دیکھ لیں گئے کہ ہم کہاں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر اب کہ ریلکیس ہوتا اٹھ کھڑا ہوا اور ارد گرد کا جائزہ لینے لگا یہ ایک ہال نما کمرہ تھا جس کے ایک طرف پانچ لڑکیاں بیٹھیں تھی کچھ رونے میں مشغول تھیں تو کچھ حیرت اور تاسف سے انکو دیکھ رہی تھیں۔
“آپ لوگ فکر نہ کریں،بہت جلد یہاں سے آزاد ہونگی آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ پُراعتماد انداز میں ان سے مخاطب ہوا جن کے وجود میں اس اجنبی کی بات پر زرا بھی ہلچل نہ ہوئی تھی۔
“بھابھی آپکا موبائل کہاں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اب کہ وہ اسکی طرف پلٹا۔
“میں نے تو کلچ میں ڈالا تھا مگر نکلا نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ پھر سے پریشان ہونے لگی۔
“حیرت کی بات ہے میرا موبائل بھی میری جیب میں تھا تو کیا گھر میں ہی کسی نے ایسا کیا،کوئی تو تھا جو ان کے ساتھ ملا ہوا ہے کیونکہ ان لوگوں نے ہماری تلاشی نہیں لی جیسے انکو پتہ ہو کہ ہمارے پاس کچھ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر کا دماغ اب کام کرناشروع ہوا تھا وہ گھڑی کی طرف دیکھنے لگا جس میں لگا ٹریکر ابھی تک ریڈ سنگلر دے رہا تھا کہ دوسری طرف سے ابھی اسے ایکٹیویٹ نہیں کیا گیا تھا۔
“بھائی ہم سے لاپروہ نہیں ہو سکتے،یہ نہ ممکمن ہے،میں شہر میں کہیں جاؤں تو وہ امجد کو میرے پیچھے لگا دیتے ہیں اب یوں کیسے وہ انجان رہ سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر کا دماغ اسی کشمکش میں الجھنے لگا تھا۔
!____________________________!
“حیدر اور بھابھی ائیرپورٹ نہیں پہنچے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”امجد کی اطلاع پر سلیمان نے کچھ چونک کر دیکھا تھا یا شاید ایکٹینگ کی تھی۔
“کیا مطلب؟کیا کہہ رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ابھی ائیرپورٹ پر رابطہ کیا وہ دونوں ائیرپورٹ پہنچے ہی نہیں اور انکی گاڑی کو ٹریک کیا تو وہ ایک گھنٹے کی مسافت پر کھڑی ہے جب ایک آدمی کو وہاں بھیجا تو ڈرائیور مر چکا تھا اور گاڑی میں نہ حیدر تھا اورنہ بھابھی کا کوئی نام و نشان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”امجد بہت پریشان لگ رہا تھا آخر کو برزل اسکی زمعداری مقرر کر کے گیا تھا ان کو بحفاظت پہنچانے کی مگر سلیمان کی وجہ سے وہ مجبور ہو گیا تھا۔
“اوہ یہ تو اچھا سائن نہیں،ایسا کرو تم خود جا کر وہاں دیکھو میں برزل بھائی کو کال کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان کے کہنے پر وہ چلا گیا سلیمان جو اس کے سامنے موبائل نکال کر نمبر پش کرنے لگا تھا اسے جاتا دیکھ کر مسکرا دیا ااور کسی نمبر پر میسج کرتا ریلکیس اندازمیں بیٹھ گیا۔
“مس زونا کچھ اچھا سا لے آئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ وہی سے آواز لگاتا اب ٹی وی کی طرف یوں متوجہ تھا جیسے اس سے بڑا کوئی کام اور ہو ہی نہ۔
!_________________________!
امجد وہاں کی صورتحال پر غور کرتا اب برزل کو کال ملا رہا تھا۔
“بولو امجد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل کی آواز کچھ عجلت میں لگی
“بھائی میں نے سب دیکھ لیا مگر حملہ کرنے والوں کا کوئی سراغ نہیں ملا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
“کیا مطلب؟کونسا حملہ کونسا سراغ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل کے سوالیہ انداز پر امجد چونکا تھا کیونکہ اسے آئے ایک گھنٹہ ہو گیا تھا تو کیا سلیمان نے ابھی تک برزل کو اطلاع نہ دی تھی۔
“بھائی آپکو نہیں پتہ کہ حیدر اور بھابھی کو کسی نے اغوا کر لیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“واٹ یہ کیا کہہ رہے ہو،میں آ رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”دوسری طرف سے برزل کی سختی بھری آواز ٹکڑائی تھی امجد کال بند ہونے پر سلیمان کے بارے میں سوچنے لگا اور پھر دو گھنٹے بعد جب برزل کے حضور وہ پیش ہوا اس نے اپنا خدشہ بیان کر دیا تھا۔
“جب میں نے تمہیں کہا تھا کہ ان کو سی آف کرنے تم جاؤ گئے تو پھر تم کیوں نہیں گئے امجد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل سب سے پہلے امجد پر برسا تھا۔
“بھائی گستاخی معاف مگر یہ سب کیا سلیمان بھائی کا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا مطلب ہے تمہارا امجد،تم جانتے ہو نہ کہ کیا بول رہے اور کس کے آگے کس کے بارے میں بات کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل کے لہجے میں دبا دبا غصہ تھا مگر امجد بنا ڈرے بولنے لگا۔
“جی بھائی میں سب جانتا ہوں،پہلی بات تو یہ کہ مجھے سلیمان بھائی نے کہا تھا کہ میں ان کے ساتھ نہ جاؤں،دوسری بات جب مجھے پتہ چلا کہ وہ لوگ ائیر پورٹ نہیں پہنچے اور میں نے سب سلیمان بھائی کو بتایا انہوں نے مجھے اس جگہ جانے کا کہا اور بولا کہ وہ آپ کو انفارم کرتے ہیں مگر ایک گھنٹے بعد میں نے آپکو بتایا اتنی بڑی بات آپ سے سلیمان بھائی کیسے چھپا سکتے ہیں،پھر جب میں گھر آیا تو مس زونا نے بتایا کہ سلیمان بھائی کھانا کھا کر تیار ہو کر گھر سے نکل گئے ہیں اور اب انکا نمبر بند ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ حیدر اور بھابھی کا موبائل ان کے روم میں ملا مجھے،یہ سب باتیں کیا ظاہر کرتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”امجد بہت باریک بینی سے جائزہ لے چکا تھا اس کے دلائل اور حقائق ایسے تھے کہ برزل بھی کسی گہری سوچ میں پڑ گیا تھا امجد اندازہ نہ لگا سکا کہ برزل کیا سوچ رہا تھا۔
“تم جاؤ،مجھے پتہ ہے سلیمان کہاں ملے گا اور کل شام تک حیدر اور فاریسہ بھی گھر پر ہونگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل اٹل انداز میں کہتا اپنے لیپ ٹاپ کی طرف بڑھا۔
!____________________________!
“بھائی ابھی تک اسے کنکیٹ نہیں کر رہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر اب کہ جھنجھلانے لگا تھا بار بار گھڑی کی طرف دیکھتا وہ فاریسہ کو پریشان لگا تھا۔
“کیا ہوا ہے بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس سے پہلے کہ حیدر کچھ جواب دیتا دروازہ کھلا تھا اور شاہانہ اندر داخل ہوئی اس کے پیچھے دو آدمی اور دس لڑکیاں بھی تھیں جبکہ حیدر کی نظر صرف شاہانہ پر تھی جو اسکی طرف آ رکی تھی۔
“تم چلو ہمارے ساتھ،یہاں بس یہ لڑکیاں رہے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”شاہانہ کے تحکمانہ انداز پر فاریسہ ڈر کر حیدر کے بازو کو پکڑا تھا وہ ابھی تک اگر ہوش و حواس میں تھی تو صرف اسی وجہ سے کہ حیدر اس کے ساتھ تھا۔
“میں اپنی بھابھی کے ساتھ ہی رہونگا،چاہے جو بھی کر لو تم مجھے ایک انچ بھی ہلا نہیں سکو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر کا لہجہ بہت مضبوط تھا جس پر شاہانہ مسکرائی۔
“کیا بات ہے ایک بیوی کا پیارا وہاں اسے ڈھونڈ رہا اور ایک بھابھی کا پیارا یہاں اس کی حفاظت کر رہا،بہت اچھا لگا دیور جی پر کاش تم اس کے بجائے میرے دیور ہوتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”شاہانہ نے حیدر کے چہرے پر ہاتھ رکھا تھا جسے اس نے نفرت سے جھٹکا تھا۔
“اب لگا برزل ابراہیم کے بھائی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ محفوظ ہوئی تھی۔
“آج کی رات یہی رک جاؤ تم یہ تمہاری ہونے والی بھابھی اتنا تو احسان کر ہی سکتی ہے نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ مسکرائی اور پھر نفرت بھری نگاہوں سے فاریسہ کو دیکھا۔
“اور تم میری سوکن،بہت جلد اس دنیا سے جانے والی ہو،آج کی رات اپنی آخری ہی سمجھو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ فاریسہ کا خون خشک کرتی وہاں سے چل دی تو حیدر نے فاریسہ کو ریلیکس کیا۔
“آپ پریشان نہ ہوں وہ تو فضول بکواس کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا واقع یہ تمہاری بھابھی بن جائینگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر اسکی بات پر حیرانگی سے مڑا تھا مطلب اسے اپنے مرنے والی بات سے زیادہ اس بات پر دھچکا لگا تھا کہ وہ برزل سے شادی کرنا چاہتی تھی اور کہیں ایسا ہو نہ جائے اس ٹف سچویشن میں بھی حیدر ہنس دیا تھا۔
“بھابھی ٹیک اٹ ایزی،بھائی اس طرح کے سفید پاؤڈروں کو پسند نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر مسکراتا ہوا مڑا تھا اور تبھی اسکی نظر ان دس لڑکیوں کے درمیان کھڑی ہانیہ پر پڑی تو وہ ششدر سا اسے دیکھنے لگا جو اسے پہچان کر خود بھی حیران تھی کہ یہی لڑکا اسے اس دن ملا تھا۔
“تم یہاں کیسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بے ساختہ اس کے قریب چلا آیا۔
“کون ہو تم،میں نہیں جانتی تمہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ہانیہ وہ پہلے والی ہانیہ نہیں تھی یہ تو کوئی ڈری سہمی لڑکی تھی۔
“میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سب کی سوالیہ نگاہوں پر گھبرا گیا اور اپنا تعارف کروانے پر جھجھک کا شکار ہوا آخر کہتا بھی کیا کہ میں صدف ہوں۔
“اوکے ریلکیس مس،میں آپ کو جانتا ہوں،آپکی دوست عروج کو بھی،وہ کہاں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”عروج کے نام پر ہانیہ چونکی تھی۔
“اسکا کوئی پتہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ہانیہ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہونے لگے جو حیدر کو بہت تکلیف دے رہے تھے وہ حیران سی فاریسہ کی طرف مڑا۔
“بھابھی یہ آپکی ہونے والی دیورانی ہے،پلیز اسے دلاسہ دیں کہ ہم یہاں سے نکل جائیں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا مطلب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“یہ ہانیہ ہے،میں نے زکر کیا تھا نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر کے سرگوشی کے انداز میں بتانے وہ سر ہلا کر اسکی طرف بڑھی اور پھر اگلے دس منٹ میں حیدر نے دیکھا کہ فاریسہ نہ صرف ہانیہ کو بلکہ سب کے چہرے پر امید کی مسکراہٹ لے آئی تھی۔
!________________________!
اگلی صبح ہی انکو کچھ کھانے کو مل سکا تھا جس پر وہ سب شکر ادا کرتے کھانے کی طرف متوجہ ہو گئے۔حیدر کھانے سے فارغ ہوتا فاریسہ کے پاس آیا جو رات سے ہانیہ کے ساتھ تھی اور ہانیہ بھی اب فاریسہ کے ساتھ اٹیچ ہوتی اب حیدر کے گھورنے پر بھی برا نہیں منا رہی تھی۔
“بھابھی بات سنیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فاریسہ اٹھ کر اس کے پاس چلی آئی۔
“بھابھی کیا بھائی نے کوئی خاص چیز یا خاص بات کی آپ سے کل،کچھ بھی ایسا جو آپکو عجیب لگا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر جو رات سے کڑھیاں ملانے میں لگا ہوا تھا اس سے پوچھنے لگا۔
“نہیں تو کچھ بھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فاریسہ سر نفی میں ہلا گئی۔
“شاہانہ کی باتوں سے یہ تو اندازہ ہوا کہ بھائی سب جان گئے ہیں پھر بھائی میری گھڑی میں لگا ٹریکر ابھی تک ایکٹیویٹ کیوں نہیں کر رہے،یہ بات مجھے پریشان کر رہی ہے،حالانکہ یہ گھڑی ہے اسی مقصد کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا پتہ انکو یاد۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“وہ برزل ابراہیم ہے آپکو نہیں پتہ انکا،وہ دس منٹ سے پہلے یہاں تک پہنچ جاتے اگر ان کو پہچنا ہوتا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر کی بات پر فاریسہ نے حیرانگی سے دیکھا۔
“مطلب وہ جان بوجھ کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“جی بھابھی،ہمیں کسی اور نے نہیں بلکہ آپکے شوہر نے ٹریپ کیا ہے،آخر میں بھی انکا بھائی ہوں اتنے سالوں سے ان کے ساتھ ہوں مگر ہر دفعہ کی طرح میرا زہن لیٹ کام کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر کو کچھ تو سمجھ آنے لگی تھی۔
“نہیں برزل ایسا نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اسکی آنکھوں سے آنسو رواں ہونے لگے برزل کی امید پر ہی تو وہ سکون میں تھی اور اب برزل ہی سب کر رہا تھا۔
“انہوں نے کر دیا ہے بھابھی،آپ خود سوچیں ہم دونوں دبئی جا رہے تھے مگر ہمارے پاس ہمارے پاسپورٹ نہیں تھے،پھر ریحان جسے ہمارے آنے کا پتہ ہی نہیں تھا بلکہ وہ خود پاکستان آ رہا ہے پھوپھو کے ساتھ نیکسٹ ویک،دوسرا بھائی نے مجھے یہ سب رفیع چاچو سے چھپانے کا کہا پر کیوں؟اسی وجہ سے،ہمارے موبائل میرا پسٹل کیوں غائب ہوا،وہ بھائی جو کالج تک ہمیں سیکورٹی میں جانے دیتا یوں دو گھنٹوں کا سفر بس ڈرائیور کے ساتھ اور اوپر سے ایک رات گزر چکی مگر بھائی ہم سے رابطہ تک نہیں کر پا رہے ایسا نہیں ہو سکتا،آپکو نہیں پتہ بھائی ہر کام پلان سے کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر رات سے اسی نتیجے تک پہنچ پایا تھا تبھی فاریسہ نے اپنے بالوں سے لگا کلپ اتار کر حیدر کے سامنے کیا جس کو حیدر نے حیرانگی سے دیکھا۔
“کل صبح یہ دیا تھا انہوں نے مجھے اور کہا تھا کہ اسے کسی بھی صورت میں اپنے سے الگ نہ کروں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فاریسہ کی بات پر حیدر نے اس کلپ کو کھولا تھا اور پھر مسکرا دیا تھا اس میں لگا ٹریکر اور ایک مخصوص چپ وہ دیکھ چکا تھا۔
“آپ کے شوہر بہت چالاک ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ فاریسہ کو دوبارہ اسے بالوں میں لگاتا پرسکون ہوتا مسکرایا تھا۔
“تو بھائی نے ہمیں دو دن کے لیے دبئی نہیں یہاں بھیجا ہے،واو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر محفوظ ہوا تھا مگر فاریسہ ناراض ہو گئی تھی۔
“وہ کیسے ہمارے ساتھ ایسا کر سکتے ہیں،میں بلکل بات نہیں کرونگی ان سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فاریسہ نارضگی سے کہتی ہانیہ کی طرف چل دی جبکہ حیدر جو اسے کچھ بتانا چاہتا تھا چپ کر گیا ہے۔
“اچھا ہے بھائی زرا آپکو بھی پتہ چلے کیسے چھوٹے بھائی سے کچھ چھپاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
!_____________________________!
سلیمان گھر آیا تو ہال میں برزل ابراہیم کو دیکھتا رکا تھا پھر ایک نظر امجد کو دیکھا جو بڑی عجیب نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
“آ گئے آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان اس کے قریب آیا۔
“امجد نے مجھے کافی کچھ بتایا تمہارے بارے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل کی آواز پر امجد نے مسکراتی نظروں سے سلیمان کو دیکھا کہ اب تمہاری گیم اوور۔
“اچھا ہم بھی تو سنے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ ریلکیس ہوتا صوفے پر ٹکا۔
“میرے بھائی اور بیوی کو اغوا کر کر اتنے سکون میں بیٹھے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے گھورا تھا۔
“جی جیسے آپ اپنے بھائی اور اپنی بیوی کو اغوا کروا کر سکون سے بیٹھے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان نے دوبدو جواب دیا اور پھر دونوں قہقہ لگا کر ہنس پڑے اور امجد،وہ تو بس ہکا بکا دونوں کو مسکراتے دیکھ رہا تھا۔
!_______________________________!
