Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz Readelle50262 Tera Ishq Jaan Lewa (Episode 14)
Rate this Novel
Tera Ishq Jaan Lewa (Episode 14)
Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz
مہ پارہ بیگم بار بار فاریسہ سے رابطہ کرنے کی کوشش میں ہلکان ہوتیں جا رہی تھیں وہ اتنا تو جان گئی تھیں کہ نازر اعوان کی نوکری ختم کرنے والا اور اسے سلاخوں کے پیچھے بھیجنے والا صرف برزل ابراہیم تھا اور یہی بات وہ فاریسہ کو بتانا چاہتی تھیں کہ وہ برزل سے بات کر کے نازر اعوان کو جیل سے باہر کروا دے اور پھر نازر اعوان ان کے راستے میں کبھی نہیں آئے گا اس بات سے بے خبر کہ برزل ابراہیم اسے اپنے راستے سے ہی نہیں بلکہ دینا سے بھی ہٹا دینا چاہتا تھا۔
“یہ اسکا نمبر کیوں مسلسل انگیج جا رہا ہے،میسج کا بھی ریپلائے نہیں کر رہی ہے،کہیں برزل نے میری بیٹی کے ساتھ تو کچھ،نہیں،نہیں،ایسا کیوں کرے گا بھلا وہ،تو کیا نازر نے فاریسہ کے ساتھ،نہیں وہ تو خود اس وقت اتنی مشکل میں ہے وہ بھلا کیا کریں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔”
ایسی بہت ساری سوچیں ان کے دل دماغ میں حاوی ہو رہی تھیں مگر سب کو وہ جھٹک کر ایک بار پھر فاریسہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کررہی تھیں۔
جبکہ دوسری طرف ان کے میسج ریسیو کرتا سلیمان مسکرا دیا تھا جس نے برزل کے کہنے پر انکا فاریسہ سے ہر قسم کا رابطہ منقطع کر رکھا تھا تا کہ اسے کسی بھی ایسی خبر کا معلوم نہ ہو جو فاریسہ کے لیے پریشانی کا باعث بن سکے۔
!____________^^^_______________^^^____________!
دلاور کو پل پل کی رپورٹ مل رہی تھی جسکی وجہ سے وہ اپنے پلان میں کامیابی کے بہت نزدیک تھا بس رات ہونے کا ویٹ کر رہا تھا اسے اطلاع مل چکی تھی کہ دو گھنٹے پہلے وہ لوگ اسلام آباد پہنچ چکے تھے اور ایک سی کلاس ہوٹل میں رک کر سامان وغیرہ رکھ کر وہ لوگ لنچ کر کے اب قریبی جگہوں پر سیر کرنے نکلے تھے دس دس لڑکیوں کے پانچ گروپ تھے اور ہر گروپ کے ساتھ ایک فی میل ٹیچر اور ایک میل سیکیورٹی گارڈ تھا۔
دلاور نے دور سے ہی ان لڑکیوں کے گروپس میں سے فاریسہ اعوان کو تلاشا تھا جو کہ اپنی فرینڈز کے ساتھ گھومتی ہوئی اس بات سے بلکل انجان تھی کہ یہ ٹرپ اس کے لیے کافی یادگار بننے والی تھی۔
“ایس پی اوہ نہیں نہیں ایک سابق ایس پی کی بیٹی ہے تو کافی خوبصورت تو کیوں نہ دلاور مارنے سے پہلے اسکی خوبصورتی سے فائدہ اٹھایا جائے،آخر ہمارا بھی تو حق ہے نہ حسن کو خراج تحسین پیش کرنے کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اسکی آنکھوں میں اس وقت ہوس کی چمک صاف محسوس کی جا سکتی تھی اور لبوں پر کمینی سی مسکراہٹ تھی وہ اس لڑکی سے نظر ہٹاتا اب ہوٹل کی طرف مڑا۔
“ہاں بتاؤ،کیا پلان ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ موبائل کان سے لگاتا وہاں سے ہٹ گیا۔
دوسری طرف فاریسہ نے زارا کو لائبہ کی طرف اشارہ کیا جو اب ایک طرف ہو کر کال سن رہی تھی۔
“آو اس سے بات کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فاریسہ زارا کا کاتھ پکڑے اس طرف کو آئی جہاں لائبہ انکو اپنی طرف آتا دیکھ کر کال بند کر گئی۔
“آپ نام سے تو واقف ہونگی لائبہ،تو کیوں نہ اس ٹرپ کو ایک ساتھ انجوائے کیا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“جی شیور،اصل میں مجھے زرا لوگوں سے گھلنا ملنا اتنا خاص پسند نہیں تھا اس لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”لائبہ کے جواب پر دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
“پر آپ لوگوں کے ساتھ باتیں کرنا اچھا لگ رہا ہے،کیا ہم فرینڈز بن سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”لائبہ کی بات پر دونوں مسکرائیں اور اس سے ہاتھ ملایا۔
“جی آج سے ہم آپکے دوست ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مائے پلیزر،میں اسلام آباد بہت دفعہ آ چکی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ ان کے ساتھ چلتی بتانے لگی۔
“اوہ پھر تو آپ نے ساری اچھی جگہیں دیکھ رکھی ہونگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”زارا نے نے پوچھا تو وہ سر ہلا کر فاریسہ سے بولی۔
“یہاں بہت خوبصورت جگہ ہے ایک تو بہت زیادہ خوبصورت ہے پر وہاں بس رات کو ہی جاتے ہیں لوگ مگر میم لوگ ہمیں وہاں لے کر نہیں جائیں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فاریسہ نے سوالیہ انداز سے دیکھا۔
“کیونکہ وہ ایک سنسان راستے سے گزر کر پھر آتی ہے دوسرا وہ اوپن ہی رات کو ہوتی ہے تو میں نے میم سے کہا تھا مگر وہ سختی سے منع کر گئیں کیونکہ وہاں کی ایک ٹکٹ بھی ہزار کی ہے تو میم نے کہا کہ کوئی ضرورت نہیں جانے کی،مگر وہاں جا کر تو پتہ چلتا ہے کہ دنیا خوبصورت ہے بہت سارے فلم ایکٹرز اور سنگرز وہاں آتے ہیں اور تو اور وہاں پر میجک بوکس گیم ہے جس میں بہت مزہ آتا ہے اگر ون کر جائیں تو سنگرز کا آٹو گراف کے ساتھ لائیو ملاقات بھی کرنے کا موقع ملتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس نے اپنی بات کو اور دلچسب انداز میں ڈالا تھا کہ دونوں ہی اس کے پیچھے لگ گئیں۔
“پلیز ہمیں بھی لے چلو نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تو میم سے کیا کہیں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فاریسہ کے دماغ میں بات آئی تو وہ منہ لٹکا گئیں۔
“ارے ہم نو بجے کے بعد آئیں گئے تب تک میم اور باقی سٹوڈنٹس بھی سونے کے لیے اپنے اپنے کمرے میں جا چکے ہونگے،بس دو گھنٹے کی تو بات ہے کسی کو پتہ بھی نہیں لگے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”لائبہ کے پلان وہ دونوں شش و پنج میں پڑ گئی مگر پھر اس کے تسلی اور حوصلہ دلانے سے کچھ دیر میں ہی مان گئی تھی۔
“شکر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”لائبہ نے دل ہی دل میں کہتے ہوئے گہرا سانس لیا۔
!____________________________________________!
لائبہ فاریسہ کو چلنے کا کہہ کر خود زارا کے پاس کھڑی ہوگئی۔
“لپ اسٹک ریڈ اچھی لگے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”زارا کو پنک کلر کی لپ اسٹک لگاتے دیکھ کر لائبہ نے اپنے بیگ سے ریڈ لپ اسٹک نکالی اور اسے لگانے لگی۔
“اوہ،یہ پھیل گئی ایک منٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”لائبہ نے اپنے ہینڈ بیگ سے ٹشو نکالا جس پر کلوروفل وہ پہلے ہی لگا چکی تھی زارا کے ناک پاس کیا اور اسکی سوچ کے مطابق تیس سیکنڈذ کے اندر ہی وہ ہوش سے بیگانہ ہوتی ایک طرف لڑھکنے لگی تھی کہ لائبہ نے جلدی سے پکڑ کر اسے بیڈ پر لٹایا اور اس پر کمبل اوڑھتی وہ دروازہ بند کرتی باہر نکل آئی جہاں کوریڈور سے نکلتے ہی اسے ایک طرف ریلنگ کے پاس کھڑی فاریسہ نظر آئی۔
“زارا نہیں آئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“وہ عائشہ آ گئی تھی اسکا نیٹ نہیں چل ریا تھا تو اسنے گھر بات کرنی تھی،زارا اسکی بات کروا کر آ جائے گی میں نے اسے سارا راستہ سمجھا دیا تھا،ویسے بھی اچھا ہے الگ الگ جائیں تاکہ کسی کو شک بھی نہ پڑے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”لائبہ نے اسکی تسلی کروائی جس پر وہ سر ہلاتی اس کے پیچھے پیچھے چل دی۔
ہوٹل سے نکل کر دائیں طرف ایک کچی ڈھلوان تھی وہ اسی راستے سے گزرنے لگی۔
“اف کتنا اندھیرہ ہے یہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فاریسہ نے درختوں کے درمیان بنے اس راستے کو دیکھتے ہوئے جھرجھری لی تھی۔
“کوئی نہیں بس پانچ منٹ کا راستہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”لائبہ نے موبائل کی ٹارچ آن کی۔
وہ دونوں دس منٹ تک مطلوبہ مقام تک پہنچ چکیں تھیں،
“واؤ نائس ہے نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”گیٹ سے ٹکٹ لیتیں وہ آگے بڑھیں جہاں ایک طرف اوپن ریسٹورنٹ بنا ہوا تھا اور وہاں سے اٹھتی باربی کیو کی خوشبو جبکہ دوسری طرف ایک اسٹیج جس پر کوئی لوک فنکار بیٹھا اپنی مدھم سرائی لوگوں تک پہنچا رہا تھا اور سب سے خوبصورت چیز یہ تھی کہ وہاں پر لائٹنگ بہت زیادہ ہوئی تھی درختوں اور پودوں پر چمکتی لائٹس اور ایک طرف لگے اسٹالز جن پر مختلف چیزیں لگیں تھیں۔
“یہاں سے آگے ہے وہ جگہ،مگر تم ابھی یہی بیٹھو تا کہ میں زارا کو لے آؤں،لگتا ہے کہ راستہ بھول گئی ہو گی وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”لائبہ کہتی ہوئی چلی گئی تو فاریسہ پسندیدہ نظروں سے دیکھتی سب ایک کرسی پر آ کر بیٹھ گئی۔
“میم آپکا وہ ٹیبل ہے،مسز برزل ابراہیم کے نام سے بک کروایا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ویٹر کی بات پر وہ حیران ہوتی اُس ٹیبل کی طرف دیکھنے لگی جو کہ باقی ٹیبلز سے زیادہ خوبصورت سجایا گیا تھا۔
“لائبہ نے کیا ایسا کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ خود سے سوال و جواب کرتی وہاں آ کر بیٹھ گئی تو تبھی اسکی نظر دوسری طرف اٹھی تھی اور وہ چونک گئی۔
!_______^^_________________________^^______!
برزل ابراہیم گھڑی پر ٹائم دیکھتا کسی کا انتظار کر رہا تھا تبھی مسز رانا اس طرف آتی اس کے سامنے ٹک گئی۔
“اتنی ایمرجنسی میں کیوں بلایا ابراہیم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“جب خطرہ قریب آنے لگے تو پھر ایمرجنسی ہی بنتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا مطلب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مطلب یہ کہ مسز رانا،آپ کے شوہر نامدار کو آپکو مارنے کی کچھ زیادہ ہی جلدی ہو رہی ہے،وہ مجھے اس کام لے لیے ناکارہ سمجھ کر کسی اور کلر سے رابطہ کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم کی اطلاع پر مسز رانا دم سادھے اسے دیکھنے لگی۔
“اب،اب میں کیا کروں،تم اس کلر کا بتاؤ مجھے تا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کتنے لوگوں کو خریدیں گی آپ،ویسے بھی مسز رانا ہر ایک کے دل میں آپ کے لیے عزت نہیں ہوتی کہ وہ سمجھیں کہ مسز رانا بے سہارا عورتوں کے لیے اتنا کچھ کر رہی ہیں تو ہم انکی جان نہ لیں تا کہ وہ ہمارے وطن عزیز کے لیے کام کرتی رہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ دو پل کو رکا۔
“ویسے بھی روز روز کے ڈر سے بہتر ہے آپ ایک دفعہ ہی اس ڈر سے جان چھڑوا لیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیسے؟بتاؤ مجھے میں ویسا ہی کرونگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس وقت اس کے چہرے پر موت کا ڈر صاف محسوس کیا جا سکتا تھا برزل ابراہیم کی آنکھوں میں طنزیہ مسکراہٹ چمکی تھی۔
“اس سے پہلے کہ وہ آپ کو ماریں آپ انکو مار دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بے یقینی سے برزل کو دیکھنے لگی۔
“جی آپ، اب میری بات دھیان سے سُنیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ تھوڑا سا اسکی طرف جھکا۔
“آپ نے کل ناشتے کی ٹیبل پر ہی ہنگامہ کھڑا کر دینا ہے کیسے کرنا یے وہ آپکو پتہ ہے،آپ کے گھر کے نوکر بھی سب دیکھ لیں گئے کہ مسٹر وقار آپکو مارنا چاہتے ہیں یوں مسٹر وقار غصے میں اپنا پسٹل نکالیں گئے جس کے اندر ایک گولی بھی نہیں ہو گی کیسے نہیں ہو گی وہ آپ مجھ پر چھوڑ دیں،آپ کا باڈی گاڑڈ اسلم ان کو پسٹل نکالتا دیکھ کر انکی طرف اپنی گن کر کے نشانہ لگا دے جس سے یہی ہوگا کہ وہ آپ کو قتل کرنے والے تھے تو آپ کے گارڈ نے آپکی جان بچاتے ہوئے انکی جان لے لی،اسکا فائدہ آپکو یہ ہوگا کہ ایک مسٹر وقار سے جان چھوٹ جائے گی اور آپ انکی بیوہ بن کر اعزاز سے شادی کر لینا اور دوسری یہ کہ سیلف ڈیفنس کے طور پر قتل کا کیس نہیں بنتا بس آپکا گن مین کچھ ماہ کے لیے اندر ہوگا پھر وہ آزاد کر دیا جائے گا اور تیسرا فائدہ یہ کہ جائیداد بھی آپ کے پاس رہے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل نے بات ختم کر کے اس کے چہرے کی طرف دیکھا جہاں پر نہ صرف سکون بلکہ ایک انوکھی چمک بھی دیکھنے کو ملی تھی۔
“تم تو بہت چالاک ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ دلچسبی سے دیکھتی اسے سراہنے لگی۔
“نہیں جی میں تو ایک عام سا شریف سا آدمی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بولتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا اور پھر اگلے ایک گھنٹے کے دوران وہ مسٹر وقار رانا کے پاس بیٹھا یہی کچھ کہہ رہا تھا۔
“آپ نے غصے میں جب پسٹل نکالنی ہے تو مسز رانا کا گن مین آپ پر اپنا نشانہ باندھے گا جس سے آپ نے مسز رانا پر گولی چلا دینی ہے،اسلم کی گن میں ایک گولی بھی نہیں ہو گی جس سے آپکو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا،اور وہ گولی کس طرح نہیں ہو گی یہ آپ مجھ پر چھوڑ دیں،سیلف ڈیفنس کے طور پر کیا جانے والا قتل صرف کچھ ماہ کا کیس ہوتا ہے جس طرح آپ کی اوپر تک پہنچ ہے آپ تو باعزت بری ہو نگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“گریٹ آئیڈیا،تم بہت قابل کلر ہو،اس سب کے بعد میں تمہیں اپنے ساتھ رکھ لونگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
وقار رانا خوش ہوا تھا جبکہ برزل ابراہیم اس کو تاسف سے دیکھتا اٹھ کھڑا ہوا۔
اپنی گاڑی کے پاس آ کر وہ سلیمان کو کال ملا گیا۔
“ہاں کیا رپورٹ ہے،فاریسہ ٹھیک ہے،اوکے گڈ،نیکسٹ جو کہا ہے وہ کرنا اوکے بائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”بات مکمل کرتا موبائل گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر رکھتا خود اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا۔
!___________________________________________!
وہ مسلسل بھاگ رہی تھی اندھیرے کی وجہ ایک پاؤں ادھر تو دوسرا ادھر پڑ رہا تھا اس کے کپڑے مٹی اور پانی میں گرنے کی وجہ سے خراب ہو چکے تھے جھاڑیوں سے کپڑوں کو الجھاتی اور چھڑواتی وہ بس یہاں سے دور نکل جانا چاہتی تھی اسکا موبائل بھی کہیں پیچھے کسی کھائی میں گر چکا تھا جس کو پکڑنے کے بجائے وہ اس راستے کی تلاش میں تھی جو راستہ ہوٹل کی طرف جاتا تھا۔
“ہاں یہ راستہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اپنے پیچھے قدموں کی آواز کو محسوس کرتی وہ جلدی سے ایک درخت کی اوٹ میں ہو گئی تھی کہ اس کے پیچھے آتے دلاور کی نظروں سے اوجھل ہونے میں وہ کامیاب ہو گئی تھی تبھی اسے محسوس ہوا جیسے جھاڑیوں میں دھرے اس کے پاؤں پر کوئی نرم سی چیز گزری تھی وہ چیخ مارتی اٹھی اور بھاگنے لگی مگر بڑی قسمت کہ نہ صرف پاؤں کے لڑکھڑانے کے باعث وہ گر چکی تھی بلکہ دلاور کی گرفت میں بھی آ چکی تھی۔
“مسز فاریسہ ابراہیم،اتنی بھی جلدی کس بات کی تھی آپکو،میں نے کہا تو تھا کہ اپنی بانہوں میں اٹھا کر آپکو آپکے روم تک پہنچا کر آؤنگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ مسکراتا ہوا اس کے پاؤں کو اپنی گرفت میں لے چکا تھا جس پر وہ خوف سے سفید پڑتی چیخیں مارنے لگ پڑی مگر دلاور نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اس کی باقی چیخوں کا گلا گھونٹ دیا۔
“چھوڑو مجھے،چھوڑو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اپنا آپ چھڑوانے کو مچل رہی تھی مگر دلاور جس کو وقار رانا نے فاریسہ کو مارنے اور سارا الزام برزل ابراہیم پر ڈالنے کا کہا تھا اس وقت فاریسہ کی خوبصورتی دیکھ کر اسکی نیت پھسل چکی تھی وہ اسے مارنے سے پہلے اپنے نفس کی تسکین چاہتا تھا اس لیے ہی وہ ہوس زدہ نگاہوں سے اس کے سراپے کو دیکھتا اس پر جھکا تھا۔
!____________________________________________!
