Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz Readelle50262 Tera Ishq Jaan Lewa (Episode 01)
Rate this Novel
Tera Ishq Jaan Lewa (Episode 01)
Tera Ishq Jaan Lewa By Amreen Riaz
وہ اضطرابی کیفیت میں مبتلا مسلسل ٹانگ ہلا رہا تھا یہ چیز جانتے ہوئے بھی اُس کے سامنے بیٹھے برزل ابراہیم کو یہ حرکت کس طرح ناگوار گُزر رہی تھی۔
“سکون سے خود بیٹھو گئے یا مجھے کوشش کرنی ہو گی۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابرہیم کے سپاٹ انداز پر وہ سر ہلاتا اپنی ٹانگ پر ہاتھ رکھ کر جیسے اُسے ہلنے سے روک رہا تھا یہ اُسکی شروع سے عادت تھی کہ وہ جب پریشان ہوتا تھا تو ٹانگ ہلانا شروع کر دیتا تھا اور کچھ عادتیں چاہنے کے باوجود بھی نہیں چھوڑی جاتی ہیں۔
“اوکے مسٹر دانیال میں آپکا یہ کام کر دونگا آپ رقم سلیمان کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کروا دیجئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابرہیم نے کال منقطع کر کے موبائل سامنے ٹیبل پر رکھا اور نظروں کے فوکس میں حیدر کو لیا جو کہ اپنا سانس سینے میں اٹکتا ہوا محسوس کر رہا تھا۔
“بھا_بھائی_وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ ہکلایا تھا جبکہ برزل ابرہیم کے دائیں جانب کھڑا سلیمان اُسکی حالت سے محفوظ ہو رہا تھا۔
“سیلمان میں فریش ہونے جا رہا ہوں،میرے آنے تک ایس پی کی ساری ڈیٹیل اس ٹیبل پر ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابرہیم نے اُٹھتے ہوئے سلیمان سے کہا جبکہ حیدرنے جان چُھوٹ جانے پر شکر ادا کیا مگر اگلے ہی لمحے اُس کا سانس اوپر کا اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔
“اور حیدر کی ٹائیگر کے ساتھ ریس کرواؤ جو ہار گیا اُس کا انجام تم لوگ جانتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“بھائی پلیز نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر جلدی سے منت کرتا اُٹھ کر اُس کے پاس آیا۔
“حیدر تمہیں پانی پی کر خود کو ریس کے لیے تیار کرنا چاہیئے،اور مجھے یقین ہے تم ہار کر مجھے شرمندہ نہیں کرو گئے۔۔۔۔۔”وہ حیدر کا شانہ تھپتھپا کراندر کی جانب بڑھ گیا سلیمان نے تب کا ضبط کیا قہقہ ہوا کہ سُپرد کیا۔
“ویسے ایک کُتے کے ساتھ ریس لگاتے اچھے لگوگئے تم۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان کے مسکراتے لہجے پر حیدر دانت پیس کر رہ گیا اور اس کے زہن کے پردوں میں آج سے دو دن پہلے کا منظر گھوم گیا جب سجاد نے ٹائیگر کے ساتھ ریس لگائی تھی اور ہارنے کی شکل میں سجاد ٹائیگر کا ہی ڈنر بن گیا تھا۔۔
!_____________________________________!
“بھائی ایک بات کہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”جب وہ دس منٹ بعد آیا تو سلیمان نے ایس پی کی ساری انفارمیشن اُس کے سامنے رکھتے ہوئے اجاذت چاہی جو کہ سر ہلانے کی صورت میں دی گئ تھی۔
“حیدر کی پہلی اسائمنٹ تھی یہ سزا اُس کے لیے زیادہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“وہ میرا چچا زاد بھائی ہے سلیمان،مجھے اسکا خیال ہے پر اُسے سبق بھی سکھانا ہے کہ آئندہ وہ کسی بھی کوشش میں ناکام نہ ہو اور فکرنہ کرو ٹائیگر اُسے ہارنے نہیں دے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابرہیم کی بات پر سلیمان نے تشکر بھری سانس خارج کی تھی۔
“ایس پی نازر اعوان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابرہیم نے ٹیبل پر پڑی فائل اُٹھائی تھی۔
“بھائی، اعوان ہاوس میں ٹوٹل نو مالکان اور چار ملازم ہیں جن میں ایس پی نازر اعوان اُسکی بیگم مہ پارہ بیگم دو بیٹے احسن اور حسنین اعوان جبکہ ایک بیٹی فاریسہ اعوان اور شاہ زر اعوان اُسکی بیگم تنزیلہ اور دو بیٹے ثمر اور قمر باقی کی تفصیل اس فائل میں موجود ہے اُن کے کاروبار سے لے کر اُن کے جن جن لوگوں کے ساتھ تعلقات اور لین دین ہے۔۔۔۔۔۔”سلیمان کے بتانے پر وہ ایک نظر فائل پر ڈالتا اُٹھ کھڑا ہوا۔
“تو کیا خیال ہے آج رات ایس پی کو کوئی تحفہ نہ دیاجائے اب اُس نے برزل ابراہیم کے راستے میں ٹانگ آرائی ہےکُچھ تو انعام بنتا ہےنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے لہجے میں چھپی معنی خیزیت دیکھ کر سلیمان مسکرا دیا۔
“تو پھرمیں جاؤں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ پوچھنے لگا۔
“تُم نہیں سلیمان،مجھے تعارف کروانا ہے اپنا،اُس نے حیدر سے کہا تھا کہ وہ کسی برزل ابرہیم کونہیں جانتا اب اُسے اپنی پہچان بھی تو کروانی ہےنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کی آنکھوں میں جو سرد پن نظر آ رہا تھا سلیمان نے دل ہی دل میں ایس پی کے بچ جانے کی دُعا کی تھی۔
!____________________________________!
“فاریسہ جب تمہارے بابا نے منع کیا تھا پھر بھی کیوں تُم نے اپنا نام لکھوایا،بتاؤ مجھے۔۔۔۔۔۔۔”مہ پارہ بیگم کڑھے تیوروں سے اُسکی طرف بڑھیں تھیں جو کہ سہم گئی تھی۔
“جب تم اچھے سے جانتی ہو کہ تمہارے بابا کو یوں اکیلی لڑکی کا کہیں بھی جانا گوارہ نہیں ہوتا اور کالج ٹرپ پر مری جانے کی بات کر رہی ہو وہ بھی دو دن کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مما ،پلیز بس دو دن کی تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ ہلکا سا ممنائی تھی مگر مہ پارہ کی گھوری نے اُسکی زبان کو وہی روک دیا تھا۔
“دو دن تو دور دو گھنٹے کی بات ہی کیوں نہ ہو فاریسہ،تم جانتی ہو کہ تمہارےبابا جتنے مرضی پڑھے لکھے اور آزاد خیال ہیں پر وہ بیٹی کے معاملے میں بلکل نہیں ہیں تمہیں پڑھنے کی اجاذت بھی بس اس صورت دی گئی کہ تمہارارشتہ کسی اونچی فیملی ہو جائے اور لوگ تمہارے بابا کو باتیں نہ سُنائیں کہ نازر اعوان کی بیٹی ان پڑھ ہے،چودہ سال ہو گئے تمہیں پڑھتے ہوئے کیا ایک دفعہ بھی اکیلی کو گھر سےباہرجانے کی اجاذت دی گئی؟تو اتنی دور وہ تمہیں کبھی نہیں بیھجیں گئے اس لیے فضول کی تکرار مت کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مہ پارہ بیگم کے دو ٹوک انداذ پر وہ آنسو پیتی وہی ٹک گئی ایک موہوم سے اُمید تھی کہ اب منگنی ہو جانے کے بعد تو وہ کہیں جا سکتی تھی پر مہ پارہ بیگم نے وہ بھی ختم کر دی تھی۔
“پھپھو آپ کے کیے کی سزا کب تک مجھے ملے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ دلگرفتگی سے دل ہی دل میں عائشہ پھپھو سے مخاطب ہوئی۔
“دو ماہ صبر کر لو شادی کے بعد اپنے شوہر کے ساتھ پاکستان کیا پوری دنیا دیکھنا۔۔۔۔۔۔۔”مہ پارہ نے اس کے لٹکے منہ کو دیکھ کر اسے ایک اور اُمید کی کرن تھمانی چاہی۔
“کیا پتہ ماما اس سونے کے پنجرے سے نکل کر دوسرے گھر جاؤں تو وہ بھی فاریسہ کے لیے ایک پنجرہ ہی ہو جس میں مجھے بس اپنی مرضی سے سانس لینے کی اجاذت ہو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اپنی خواہش کے ٹوٹ جانے پر وہ خود بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگی تھی مہ پارہ بیگم کے دل پر لگی تھی وہ نم آنکھوں سے اُسکی پیشانی چومتیں اسے اپنے ساتھ لگا گئیں۔
“ایسا کیوں سوچتی ہو تم،ہادی امریکہ سے پڑھ کر آیا ہے بہت آزاد خیال اور زندگی کو جینے والا ہے دیکھ لینا تمہیں بہت خوش رکھے گا،کئی دفعہ وہ اشاروں میں تم سے بات کرنے کا کہہ چُکا ہے مگر تمہارےبابا کی وجہ سے میں چپ ہو جاتی ہوں،کل تو وہ تمہیں موبائل گفٹ کرنے کا بھی کہہ رہا تھا مگر میں نے منع کر دیا کہ دوماہ رہ گئے شادی میں تب ہی دے لینا پھر تم بھی موبائل سے اپنی تصویریں بھی بنانا اور دوستوں کے ساتھ بھی گپ شپ کرنا کوئی روک ٹوک نہیں ہو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مہ پارہ بیگم نے اُسکی جھولی میں اُمیدوں کے نئے جُگنو ڈالے تھے تو وہ بھی آنکھوں میں مستقبل کے خوش نما سپنے بنتی مسکرا دی تھی۔
“پھر کیا میں یونی سے ماسٹرز بھی کر لونگی۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے مسکراتے لہجے پر انہوں نے مُسکراتے ہوئے سر ہلا دیا تھا۔
!______________________________________!
رات کا پچھلا پہر تھا وہ اعوان ہاوس کی ساری سیکیورٹی پہلے سے ہی دیکھ چُکا تھا اس لیے کمال مہارت سے دیوار پھلانگتا لان سے گزرتا ہوا وہ گھر کے اندر داخل ہو گیا تھا وہ چاہتا تو چوری چپکے بھی نازر اعوان کے روم میں جا سکتا تھا مگر وہ بے خوف ہو کر اپنے دُشمن کو خوفزدہ کرتا تھا۔
تفصیلی نگاہوں سے ہال کا جائزہ لیتا وہ پانی پینے کے خیال سے کچن میں گیا فریج میں سے پانی کی بوتل نکالی گلاس پکڑا اور پانی ڈال کر منہ سے لگاتا پانی چڑھا گیا۔
“دُشمن کے گھر کا پانی پی لیا ہے تم نے برزل ابراہیم،کیا اب اس پانی کو حلال کرو گئے۔۔۔۔۔۔۔۔؟وہ خود سے بولتا گلاس واپس رکھتا باہر کی جانب بڑھنے لگا مگر کچن کی طرف آتے کسی وجود کو محسوس کرتا وہی رُک گیا اور آنے والے کا انتظار کرنے لگا قدموں کی رفتار سے اتنا تو اسے بخوبی علم ہو گیا تھا کہ کچن کی طرف آتا نسوانی وجود تھا۔
“عورتوں کی چیخ و پکار کو برداشت کرنے کا زرا موڈ نہیں برزل ابرہیم۔۔۔۔۔۔۔”وہ بڑبڑایا تبھی فارسیہ اعوان نے کچن میں پاؤں رکھا تھا اور چھ فٹ سے نکلتے قد والے ایک انجان آدمی کو اپنے کچن میں دیکھ کر اُسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھیں وہ اس قدر بھونچکی رہ گئی تھی کہ اُس کے حلق سے چیخ تک نہ نکل سکی تھی جبکہ دوسری طرف برزل ابرہیم نے گہری نگاہوں سے اس فریز ہوئی لڑکی کو دیکھا تھا جو اپنی چیخ حلق میں ہی دباتی اسے حیران کر گئ تھی۔
“مجھے بہت کم لوگ حیران کرتے ہیں جن میں تم بھی شامل ہو چُکی ہو،اچھا لگا تمہارا چپ ہونا کیونکہ اگر تم زرا بھی آواز نکالتی تو جان سے جاتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل اُسے سرہاتا پسٹل نکال کر شیلف پر رکھ گیا فاریسہ جو پہلے ہی ڈر سے دم سادھے کھڑی تھی پسٹل کو پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھتی وہ اس کے آخری الفاظ پر خوف سے سفید پڑ گئی تھی۔
“تم_چ_چور_ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فارسیہ ہکلائی۔
“تمہارے اس عالیشان گھر میں ایسا کچھ بھی نہیں جو میرے کسی کام کا ہو سوائے تمہارے باپ کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی بات کا مطلب سمجھ کر وہ اپنے بابا کے لیے پریشان ہوئی تھی ایک سوچ اُس کے زہن میں آئی شاید کوئی مجرم جو اُس کے باپ سے اب بدلہ لینے آیا تھا۔
“کیا تمہارا باپ بھی تمہاری طرح ڈرپوک ہے پھر تو زرا مزہ نہیں آنے والا مجھے۔۔۔۔۔۔۔”پسٹل کو دوبارہ اپنی جیب میں رکھتا وہ باہر نکلنے لگا مگر پھر کُچھ یادآنے پر اس کی طرف مُڑا جو کن انکھیوں سے اسے دیکھ رہی تھی واپس مڑتا دیکھ کر لرزنے لگی۔
“بنا کوئی آواز نکالے یہی بیٹھ جاؤ،جب تک میں تمہارے باپ سے نہ مل کر آؤں تم یہاں سے کہیں نہیں جاؤ گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُنگلی اُٹھا کر اُسے وارن کرگیاوہ زور زور سے سر ہلاتی وہی کرسی پر ٹک گئی۔
برزل کو یقین تھا کہ وہ جس قدر ڈری سہمی تھی کوئی ایسی حرکت نہیں کرے گی اس لیے وہ ایس پی نازر اعوان کے کمرے کی فوٹیج اپنے زہن میں لاتا سیڑھیوں کی طرف بڑھا اور دائیں طرف مُڑا جہاں ایس پی نازر اعوان کا روم تھا۔
“کھڑکی سے اندر جانا بُری بات برزل،میاں بیوی کی پرائیوسی کا خیال رکھا کرو۔۔۔۔۔۔۔۔”کھڑکی سےہٹتا وہ دروازے کو ناک کرنے لگا اور تمیزدار بن کر دروازہ کُھلنے کا انتظار کرنے لگا اگر یہاں حیدر یا سلیمان ہوتے تو اسکے مینرز پر حیران رہ جاتے۔دو دفعہ دستک دینے کے بعد دروازہ کُھلا تھا مہ پارہ بیگم رات کے اس پہر جہاں دروازہ ناک کرنے پر حیران ہو کر اُٹھیں تھیں وہ بھی فارسیہ کا خیال کر کے کہ وہ کئی دفعہ رات کو ڈر جاتی تھی مگر سامنے کھڑے اس اجنبی کو دیکھ کر وہ بھی ششدر رہ گئی تھیں۔
“ہیلو آئی ایم برزل ابراہیم،اصل میں مجھے آپ کے شوہر سے کچھ ضروری بات کرنی ہے آپ براہ مہربانی پانچ منٹ کا ٹائم دیں اور کچن میں جا کر پانی پی کر خود بھی ریلکس ہو جائیں اور اپنی بیٹی کوبھی ریلکس کریں،شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ جتنے آرام وسکون سے بولتا اندر داخل ہو کر دروازہ بند کر گیا تھا مہ پارہ بیگم کو اُتنے ہی زور کا کرنٹ لگا تھا۔
“یہ،چور،فارسیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فارسیہ کا خیال آتے ہی وہ کچن کی طرف بھاگیں تھیں۔
دوسری طرف برزل نے آرام سے سوئے نازر اعوان کو گھورتے ہوئے دیکھا اور جب اُسے اُٹھایا تو اُسکی حالت بھی مہ پارہ بیگم سے مختلف نہ تھی۔
“تم ہو کون؟اتنی جُرت کہ ایس پی اعوان کے گھر تک آ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نازر اعوان نیند بھگاتا اُٹھ کر پسٹل پکڑنے لگا جوکہ پہلے ہی برزل کے قبضے میں جا چُکا تھا۔
“گُڈ کوئسچن،میں برزل ابراہیم ہوں اور جُرت تو ابھی دیکھی کہاں ہے تم نے میری،دوسری بات تمہارے گھر تک نہیں تمہارے کمرے میں موجود ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”کُرسی کھینچ کر اُس کے مقابل بیٹھتا ہوا اُسے غصہ دلا گیا۔
“اوہ تو تم ہوبرزل ابراہیم،تمہارے کارندے کو پکڑا تو تم اُسکی تڑپ میں یہاں تک آ گئے،اب جو میرے گھر تک آئے ہو اسکی سزا بھی ملے گی تم جانتے نہیں مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نازر اعوان نے اپنے خوف پر قابو پا لیا تھا آخر پولیس والا تھا اس طرح کے کاموں سے کئی دفعہ پالا پڑا تھا مگر برزل ابراہیم کے طریقے پر وہ ڈر ضرور گیا تھا۔
“ایک بات وہ میرا کارندہ نہیں بھائی تھا،دوسری بات تم نے اُسے پکڑا اور پانچ منٹ بعد ہی اُسے چھوڑ دیا کیسے چھوڑا اُسے یہ بھی تم جانتے ہو،تیسری بات میں غلطی ایک دفعہ معاف کرتا ہوں اور آخری بات میرے راستے میں آنے کی بُھول دوبارہ ہرگز نہ کرنا ایس پی ورنہ اس بار نتیجہ بُرا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُٹھ کھڑاہوا۔
“تُم یہ تو جانتے ہو گے کہ کسی پولیس والے کے گھر آنا اُسے دھمکانے کی سزا کیا ہو سکتی ہے،ایسا کیس بنا دونگا کہ تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اپنی وردی کا روب ڈالنے لگا برزل کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھو لیا جیسے کسی بچکانہ بات پر مسکرایا جاتا ہے۔۔
“پر افسوس کے تم میرے خلاف ہر کوشش میں ناکام ہو جاؤ گئے،خیر اب چلتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔”پسٹل اُسکی طرف بڑھاتے ہوئے کہنے لگا نازر اعوان نے جلدی سے پسٹل پکڑنا چاہا مگر برزل نے پھر سے پسٹل اچک لیا۔
“مجھے کیوں لگتا ہے کہ تم پھر سے کوئی بیوقوفی کرو گئے،ادھر آؤ۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم اُسے لیے ونڈو کے پاس آیا جس باہر گیٹ کامنظر صاف نظر آ رہا تھا جہاں اس کے باڈی گارڈز کو برزل کے بندے گھیرے بیٹھے تھے اور دو لوگ اس کے گھر میں داخل ہو رہے تھے۔
“تمہیں کیالگتا ہے کہ تم مجھ پر پیچھے سے وار کرو گئے تو بچ جاؤ گئے،یہ لوگ ایک منٹ میں تمہاری فیملی اور گھر کو بھون ڈالیں گئے اس لیے سوچ سمجھ کر اب برزل ابراہیم کے راستے میں آنا کیونکہ اب کی بار میرا کوئی بھائی نہیں بلکہ میں تمہارا مقابلہ کرونگا۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکا پسٹل اُس کے ہاتھ میں تھماتا وہ پُر اعتماد قدموں سے چلتا اُس کے کمرے سے نکلنے لگا ایس پی اعوان نے پہلے پسٹل اُس کی پیٹھ پر تانہ مگر اُسکا ہاتھ ٹریگر پر کانپنے لگا تو غصے سےپسٹل بیڈ پر پھینک دیا۔
برزل ابراہیم لمبے لمبے ڈگ بھرتا نیچے آیا تو اعوان ہاوس کی ساری فیملی باہر موجود تھی۔
“تم،تمہاری ہمت کیسے ہوئی ہمارے گھر آنے کی۔۔۔۔۔۔۔”احسن کا جوان خون گرم ہوا تھا اس سے پہلے کہ وہ اسکی طرف لپکتا برزل ابراہیم کے پسٹل کی نوک نے اُسے وہی روک دیا تھا۔
“مجھے اس طرح کی بتمیزیاں کُچھ خاص پسند نہیں۔۔۔۔۔۔۔”وہ سپاٹ لہجے میں بولا اور ایک سرد نظر سب کے چہروں پر ڈالی جو خوف سے پیچھے ہٹ گئے تھے۔
“اور تم جو ہمارے گھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“احسن خاموش ہو جاؤ،کوئی نہیں آئے گا اس کے راستےمیں۔۔۔۔۔۔۔”نازر اعوان کی آواز پر احسن نے اپنے لب بھینچ لیے تھے برزل نے پسٹل اپنے بلیک لیدر کی جیکٹ میں رکھا اور آگے بڑھ گیا مگر پھر اُس کے قدم رُکے تھے فارسیہ جو مہ پارہ بیگم کی اوٹ سے اسے دیکھ رہی تھی اسکی خود پرنظر پڑتے دیکھ کر چُھپنے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔
“میں نے تمہیں وہی کچن میں رُکنے کا کہا تھا مگر تُم نے ثابت کیا کہ تم ڈرپوک ہونے کے ساتھ ساتھ نالائق بھی ہو،اس کی سزا ملے گی تمہیں فارسیہ اعوان،انتظار کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ اس پر گہری نگاہ ڈالتا وہاں سے نکل گیا۔
“بھائی آپ نے ہمیں باہر رُکنے کا کیوں کہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔”گاڑی میں بیٹھتے ہی سلیمان نے پوچھا۔
“اندر تم لوگوں کی ضرورت نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔”وہ گاڑی چلانے کا اشارہ کر گیا۔
“ایس پی نے میڈیا کے سامنے اپنی واہ واہ کے لیے حیدر کو نہیں پکڑا تھابلکہ وہ رئیس کے آدمیوں کو بچانا چاہتا تھا،ایس پی کا کُچھ لنک ہے اُن کے ساتھ پتہ کرو۔۔۔۔۔۔۔۔”
“جی بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“پر سب سے پہلے مجھے فارسیہ اعوان کےبارے میں ساری انفارمیشن چاہیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”برزل ابراہیم کی بات پر سلیمان نے چونک کر دیکھا اُسے برزل ابراہیم کے منہ سے شاید اس بات کی توقع نہیں تھی دس سال ہو گئے تھے اُنہیں ساتھ کام کرتے کبھی بھی برزل ابراہیم کے منہ سے کسی لڑکی کا نام نہیں سُنا تھا۔
“جی،جی بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔”اپنی حیرت پر قابو ڈالتا وہ مودب انداز میں گویا ہوا تو برزل اپنے موبائل کے ساتھ چھیڑ کھانی کرنے لگا۔
!____________________________________________!
برزل ابراہیم کے جانے کےبعد وہ سب نازر اعوان کی طرف لپکے تھےجبکہ مہ پارہ بیگم فارسیہ کی طرف مُڑی جو ابھی تک برزل ابراہیم کی آخری بات کے خوف کے زیر اثر تھی۔
“تم ڈرو مت وہ صرف دھکما کر گیا ہے تمہارے پاپا ہیں نہ وہ سب سمبھال لیں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔”مہ پارہ بیگم نے اُسے خوف سے نکالا تھا۔
“بابا یہ کون تھا جس کی اتنی ہمت کے وہ اس ٹائم ہمارے گھر میں آ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”احسن کا غصے سے بُرا حال تھا۔
“ایک مجرم تھا بس،جاؤ تم لوگ اپنے اپنے کمرے میں،میں ہوں نہ سب سمبھال لونگا۔۔۔۔۔۔۔”نازر اعوان کی پُرسوچ نگاہیں کہیں ٹکیں تھیں۔
“کیسے سو جائیں بھائی صاحب،پہلی دفعہ آپکی موجودگی بھی اس خوف کو ختم نہیں کر پا رہی کہ کوئی اتنی آسانی سے ہمارے گھر میں آ گیا ہے کل کو وہ ہماری جان تک لے جائے گا تو آپ کیا کریں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”شاہ زر اعوان کی بات پر باقی بھی متفق ہوئے تھے۔
“ایسا نہیں ہوگا، تم لوگ سکون سے جا کر سو جاؤ۔۔۔۔۔۔۔”وہ اس وقت سوال جواب کے موڈ میں نہ تھے اس لیے سب کو کہتے وہ باہر گارڈز کی باز پرس کرنے کی طرف بڑھے۔
!__________________________________________!
سلیمان فارسیہ اعوان کی تفصیلات لیے اندر کی جانب بڑھا کہ حیدر کو ٹائیگر سے پیار کرتے دیکھ کر رُکا۔
“میرے شہزادے میرے ٹائیگر تم نے ثابت کر دیا کہ تم نے میرا نمک کھایا ہے مجھ سے ہار کر تُم نے میرا دل جیت لیامیرے لال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر کے پچکارنے پر سلیان قہقہ لگا گیا حیدر اُسکی موجودگی پر کچھ خفیف سا ہوتا اُٹھ کھڑا ہوا۔
“تمہارے جیسے بھائی سے یہ ٹائیگر اچھا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر کو اُس کے دانتوں کی نمائش ایک آنکھ نہ بھائی تھی۔
“وہ تومیں دیکھ چُکا ہوں مگر اتنابھی پیار نہ جتاؤ پرائی چیز سے،یہ بھائی کا وفادار ہے اگر اب کی بار کُچھ ایسا کیا تو یہ بھی معاف نہیں کرے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان کے کہنے پر وہ منہ لٹکا گیا۔
“اُس ایس پی کو میں نے معاف نہیں کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیدر نے غصے سے مٹھیاں بھینچ لیں۔
“تم اُسکی فکرنہ کرو اُسے بھائی خود دیکھ رہے ہیں،تم نئی اسائمنٹ پر کام کرو بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان کے کہنے پر وہ سر ہلا گیا تو سلیمان ہال میں آیا جہاں اُسے مس زونا ملی۔
“بھائی کہاں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔؟وہ پوچھنے لگا۔
“سر اس وقت جم میں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے بتانے پر وہ جم کی طرف بڑھ گیا۔
“بھائی یہ مس اعوان کی انفارمیشن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
وہ بلیک ٹرازور اور بلیک ٹی شرٹ میں ملبوس برزل ابرہیم سے بولا جو کہ تولیے سے منہ پر آیا پسینہ صاف کرتا اُسے گلے میں ڈال کر پانی کی بوتل منہ سے لگا گیا۔
“بولو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“فاریسہ اعوان نازر اعوان کی اکلوتی بیٹی ہے،جو اسی شہر کے گرلز کالج میں گریجویشن کر رہی ہے پڑھائی میں اچھی ہے مگر اس کے باوجود وہ کسی اچھے ادارے میں نہیں گئی،وہ صبح آٹھ بجے اپنے ڈرائیور کے ساتھ کالج جاتی ہے اور ایک بجے واپس،صرف گھر تک محدود ہے اگر کبھی شاپنگ کرنے بھی گئی ہے تو اپنی مدر کے ساتھ اس کے علاوہ وہ کہیں اتنا آتی جاتی نہیں حتی کے وہ نہ کسی سکول ٹرپ اور نہ کسی کالج ٹرپ کے ساتھ گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان کی بات پر اُس نے سر ہلایا تھا۔
“اور کُچھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟سوالیہ نگاہوں سے دیکھا تھا۔
“چھ ماہ پہلے اُسکی منگنی رائل انڈسٹری کے مالک کے چھوٹے بیٹے ھادی انصار کے ساتھ ہوئی تھی اور دو ماہ بعد شادی کا پلان ہے،آج تک وہ اپنے فیانسی سے نہ ملی ہیں اور نہ کوئی بات چیت کیونکہ اُسےموبائل کی سہولت نہیں دی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”منگنی کے بارے بتاتے ہوئے سلیمان نے غور سے اُس کے چہرے کی طرف دیکھا تھاجو بلکل بے تاثر تھا وہ کچھ بھی اُخذ کرنے میں ناکام رہا تھا۔
“اوکے تم جاؤ اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سلیمان کو جانے کا کہہ کر وہ ٹائم دیکھنے لگا جہاں گھڑی دس بجا رہی تھی۔
“تو آج ملتے ہیں تم سے فاریسہ اعوان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُس کا خوفزدہ چہرہ آنکھوں کے سامنے لاتا مسکرایا تھا۔
!________________________________________!
