275.2K
19

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tehreer Episode 9

Tehreer by Jameela Nawab

صبح کا وقت تھا ابھی ابھی بارش کچھ دیر سےرکی ہوئی تھی جب اسے باہر ایک شور سنائی دیا تھا وہ جلدی سے باہر آیا تھا اس کے گھر کے گیٹ کے باہر بہت سے لوگ برہم سے کھڑے تھے وہ سب ساحل سے ملنا چاھتے تھے کسی ضروری بات کا کہہ رہے تھے ان کے ساتھ جوزف بھی تھا یہی وجہ تھی کہ زمرد خان کو خطرہ محسوس ہوا تھا اور وہ فلحال ساحل کو باہر نہیں بلا رہا تھا مگر ساحل اب ان کے سامنے کھڑا تھا

“زمرد خان ان سب کو اندر آنے دو اور ان کے لئے چاۓ ناشتے کا انتظام کرو”

ساحل یہ کہہ کر اندر چلا گیا تھا زمرد خان ان سب کو اندر لے آیا تھا ساحل کی طرف سے اس مہربان رویئے پر وہ ٹھنڈے پڑگئے تھے اب ایک نسبتأ بڑے کمرے میں وہ سب ساحل کے ساتھ بیٹھے ہوۓ تھے

“جی اب بتائیں بھائیوں۔۔۔۔۔!!!

میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں”

ساحل نہایت عزت سے ان سب کو باری باری دیکھتا ہوا بولا تھا

“جوزف ہمارا همسايا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کی بیوی آپ کی وجہ سے مری ہے”

ان میں سے ایک آدمی رک رک کر بولا تھا

“کیا ان کو شک ہے کہ ان كی بیوی کو میں نے مارا ؟؟”

ساحل نے کچھ سوچ کر پوچھا تھا اب وہاں خاموشی کا راج تھا

ساحل نے اپنا سوال دوہرایا تھا

“ہاں ۔۔۔۔”

جوزف نے چیخ کر کہا تھا

“کیا ثبوت ہے اس بات کا ؟؟؟”

ساحل نے ترکی بہ ترکی چیخ کر پوچھا تھا

“یہ ہے ثبوت”

اس نے ادھوری کہانی کا کل پبلیش ہوا حصہ اس کے سامنے کھول کر رکھا تھا

“میری کہانی تمہاری کہانی سے يكسر مختلف ہے پھر تم نے اپنی بیوی کو میری کہانی پڑھ کرکیوں قتل کیا جوزف ؟؟؟؟”

ساحل نے جوزف کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھا تھا

“تم نے وہ ہی لکھا جو میرا سچ ہے میری روز اپنی بیوی سے جس بات پر لڑائی ہوتی تھی تم نے اس کی وجہ اپنی کہانی میں لکھ دی جو میری برداشت سے باہر تھی اور میں نے اس بار اسے اتنے زور سے دھکا دیا کہ اس کا سر ٹیبل کی نوک پر لگا اور وہ مر گئی ۔۔۔۔”

جوزف اب رو رہا تھا

“اب میں بھی خود کو مار دوں گا”

جوزف نے آنأ فانأ پستول نکالی اور اپنے سر میں گولی چلا دی اس کے خون کے چھینٹے ساحل کو اپنے چہرے پر محسوس ہوۓ تھے

“جوزف نہیں”

ساحل اس کا نام لے کر چیخا تھا

وہ نیند سے بیدار ہوا تھا وہ بری طرح پسینے میں شرابور تھا دل بری طرح گھبرارہا تھا اس وقت فجر کا وقت تھا دور کہیں اذان کی آواز اس کو سنائی دی تھی دل شدت سے اس آواز کے بلاوے کی طرف متوجہ ہوا تھا مگر کسی خاص منفی قوت نے اس کے قدم بستر سے اترنے سے روک لیئے تھے وہ دل پر منوں بوجھ سمیت اس خواب کو سوچتا ہوا لیٹ گیا تھا

اس نے موبائل اٹھا کر زمرد خان کا نمبر ملایا تھا جو فورا اٹھا لیا گیا تھا ساحل جانتا تھا زمرد خان فجر پڑھنے اٹھ چکا ہوگا

“السلام علیکم صاحب خیریت ہے ؟؟؟”

“وعلیکم السلام ہاں ۔۔۔تم نماز پڑھ کر آ جاؤ میں جوزف سے ملنا چاہتا ہوں”

ساحل نے کروٹ بدلتے ہوۓ سانس کھینچ کر کہا تھا

“لیکن صاحب وہ تو کل ہی ہمارے گھر سے جانے کے بعد خود کو گولی مار چکا ہے ۔۔۔سب جانتے تھے وہ کافی عرصہ سے ذہنی مرض کی دوائی لیتا تھا تھوڑا کھسکا ہوا تھا لہذا بنا کسی شور شرابے کے بیوی کے غم کو س وجہ خود کشی سمجھ کر اسے دفنا دیا گیا ہے ۔۔۔اب اس کا گھر بلکل خالی ہےکیوں کہ اولاد اس كی ہے نہیں ۔۔۔باقی اس کے رشتہ داروں کا بھی خاص آنا جانا نہیں تھا ۔۔۔چیپٹر کلوز ۔۔۔”

“تم نماز پڑھ کر آؤ مجھے اس کا گھر وزٹ کرنا ہے”

ساحل اب کال کاٹ کر بے چینی سے پورے کمرے میں پھر رہا تھا

ایک دم سے کچھ یاد آنے پر اس نے اپنی شرٹ اتار کر اپنی کمر پر دجال کا وہ خاص نشان دیکھا تھا وہ ابھی بھی موجود تھا

“مجھ سے شادی کرلو اور اپنا سچ پا لو”

مایا کے الفاظ کے ساحل کے کان میں گونجے تھے پھر ساحل کو اس کی خوبصورتی کی اصلیت اس کا وہ بیماری زدہ جسم یاد آیا تھا جیسے سوچتے ہی اسے ابكائی آئی تھی

“میں سب پتہ لگا لوں گا”

وہ منہ ہاتھ دھو نے واش روم گھس گیا تھا زمرد خان نماز پڑھ کر اب دروازے میں کھڑا اس کا منتظر تھا

بارش فلحال رکی ہوئی تھی دونوں جوزف کے گھر آ چکے تھے جو گھر کے مكينوں کے بغیر اب گہری تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا

دونوں کے کمرے الگ الگ تھے جس کا اندازہ کمروں میں رکھے سامان سے آسانی سے لگایا جا سکتا تھا ساحل کو دیکھ کر حیرانگی ہوئی تھی کہ وہ سب ویسے ہی تھا جیسا اس نے اپنی کہانی میں لکھا تھا کہانی کے مطابق کھیترين کسی بازار حسن کی پیداوار تھی یہی بات وہ اپنے شوہر سے چھپانے کے چکر میں ہر بار چھپ کر اپنی ماں سے رابطہ رکھتی ہے جس پر اس کا شوہر اس پر شک کرتا ہے اور بد گمان رہتا ہے لڑائی كی وجہ بھی یہی بد گمانی بنتی ہے جیسے ہی جوزف کو یہ سچ پتہ چلتا ہے وہ اس سے اتنا بڑا سچ چھپانے كی سزا میں غصے سے دھکا دیتا ہے جو اس کے لئے جان لیوا ثابت ہوتا ہے ۔۔۔

ایک بات جو دونوں نفوس کے کمروں میں مشترک تھی وہ ساحل کی کہانیوں کو شوق سے پڑھنا تھا مگر یہاں یہ بات سب سے عجیب اور پریشان کن تھی وہ ان کہانیوں کا ساحل کے نام پر چھپنا تھا جو اس نے کبھی اپنے ہواسوں میں کیا ہی نہیں تھا ۔۔۔اور کھیترین كی کہانی جو وہ رات میں لکھ کر سویا تھا وہ اس کتاب میں صبح ہونے سے پہلے کیسے پبلیش ہوگئی ؟؟؟

“صاحب روشنی ہونے سے پہلے پہلے ہمیں یہاں سے نكلنا ہوگا”

زمرد خان ساحل کے پاس آیا تھا جو اب جوزف کے کمرے میں بیٹھا اس سب کا کوئی مطلب نکال رہا تھا اسی دوران ساحل نے زمرد كی طرف دیکھا اور اس کے پیچھے دروازہ کے ساتھ پڑی کچھ فائلز نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا

ساحل نے اٹھ کر ان فائلز کو دیکھنا شروع کیا ان میں سے ایک فائل جوزف کے لئے بہت خاص تھی شاید کیوں کہ اس کا رنگ سب سے الگ اور خوبصورت تھا

اس میں بائبل میں خود کشی کرنے كی گاڈ کی نظر میں بہت سختی سے ممانعت کرنے والی آیات کو ایک فائل کی شکل میں كلرفل کاغذوں کے چھوٹے چھوٹے ٹكڑوں پر لکھ کر سنبھالا گیا تھا

مطلب صاف تھا جوزف اپنے مذہب میں اس جرم کے گناہ عظیم ہونے کے سچ سے بخوبی واقف تھا ۔۔۔

ساحل یہ سب دیکھ کر اور بھی الجھ گیا تھا اس کا سر درد سے پھٹنے کو تھا وہ زمرد کو جانے کا اشارہ کر کے باہر آ گیا تھا

“یہ جگہ کدھر ہے ؟؟”

ساحل نے گاڑی میں بیٹھ کر موبائل نکال کر جوہڑ کی وہ تصویر زمرد کو دکھائی تھی

“یہ قبرستان میں سے گزر کر آگے جنگل ہے اس کے وسط میں ہے ۔۔۔یہاں کوئی نہیں جاتا صاحب ۔۔۔جو بھی گیا ہے آج تک واپس نہیں آیا ۔۔۔۔اس کا آدھا راستہ گاڑی میں سفر کا ہے باقی پيدل ۔۔۔۔جو بہت زیادہ خطرناک ہے ۔۔۔معاف کیجیے گا صاحب میں صرف گاڑی کے راستے تک ہی آپ کے ساتھ جا سکتا ہوں ۔۔”

وہ صاف الفاظ میں بولا تھا

“یار ۔۔۔۔کسی پرسکون جگہ لے کر جاؤ مجھے فلحال”

ساحل اپنے بال دونوں ہاتھوں میں نوچ کر بولا تھا

“جی صاحب ۔۔۔ہے ایک ایسی جگہ یہاں ۔۔۔جہاں بہت سکون ملے گا آپ کو”

زمرد نے عجیب سے لہجے میں کہا تھا ساحل آنکھیں بند کیئے سیٹ پر سر رکھ کر پیچھے ہو کر لیٹ گیا تھا

“ساحل ۔۔۔۔میری جان ۔۔۔میرے پاس آؤ تمہیں سکون دوں ۔۔۔۔”

سفید پھولوں میں سفید ڈریس شرٹ اور ٹرووزر پہنے ساحل نے خود کو آواز كی سمت بھٹکتے ہوۓ دیکھا تھا

“تم کہاں ہو ؟؟؟کون ہو ؟؟؟میرے سامنے آؤ پلیز ۔۔۔میں ۔۔۔میں پاگل ہو جاؤں گا”

ساحل آرام آرام سے بولتا اپنی دل کی دھڑکن خود سنتا ہوا بولا تھا

“میں یہاں ہو ساحل ۔۔۔میرے پاس آؤ ۔۔۔۔میرا انتظار ختم کرو ۔۔۔۔”

وہ سر گوشی میں بولی تھی

ساحل سفید موتیوں جیسے سفید پھول دونوں ہاتھوں سے پیچھے کرتا اس سمت بھاگا تھا

لگاتار بھاگتے ہوۓ وہ ایک دم رکا تھا اس کے سامنے وہ ہی خوبصورت سانولی لڑکی سفید ساڑی پہنے باہیں پھیلائے کھڑی تھی اس کا پیٹ اور کمر اب بھی برہنہ تهی بال موٹی موٹی لٹوں کی صورت اس كی موٹی آنکھوں کے آس پاس اس کے خوبصورتی کو چار چاند لگا رہے تھے

ساحل کو اس کی طرف عجیب سے کشش کھینچتی چلی گئی وہ پاس ہونے کی بجاۓ دور ہوتی جا رہی تھی ایک دم ساحل کو یہ احساس ہوا تھا کہ زمین ختم ہو چکی ہے اور وہ اب ہوا میں کھڑا ہے وہ لڑکی اب بھی کھڑی اسے اپنی طرف بلا رہی ہے

اب منظر بدلا تھا وہ لڑکی دیو ہیکل چیل بن کر اپنی خاص آواز نکالتی ایک طرف کو اُڑ گئی تھی آسمان سیاہ ہو چکا تھا اور مکمل طور کالی آنکھوں والی جنگلی پرندوں سے بھر گیا تھا وہ ایک غول كی صورت آوازیں نکالتے ساحل کی طرف بڑھ رہے تھے جبکہ ساحل تیزی سے اب زمین کی طرف جا رہا تھا

خوف اور گهبراہٹ سے ساحل کی آنکھ کھل گئی تھی وہ اس بارش میں بھی پسینے سے شرابور تھا

بارش پھر سے تیز ہوئی تھی اور گاڑی بھی رک گئی تھی بہت سے پرندے ایک ساتھ ان كی گاڑی کے اوپر سے آوازیں نکالتے ہوۓ گزرے تھے ساحل كی سانس پھولی ہوئی تھی وہ مشکل سے سانس لے رہا تھا وہ واقعی ایسا ہی محسوس کر رہا تھا جیسے اس سب سے وہ سچ میں ابھی ابھی گزرا ہو ۔۔

رنگ برنگی موسیقی کی آواز ساحل کو سنائی دی تھی

زمرد نے گاڑی ایک شاندار حويلی کے داخلی بڑے دروازے پر کھڑی کی تھی

“اس سے زیادہ پر سکون جگہ اس وقت اور کہیں نہیں ہے ساحل صاحب ۔۔۔۔”

زمرد نے زہریلی مسکراہٹ کے ساتھ اترتے ہوۓ کہا تھا

“یہ کون سی جگہ ہے ؟؟”

ساحل نے خود کو کمپوز کرتے ہوۓ اتر کر پوچھا تھا

“ایسی جگہوں کے نام نہیں ہوا کرتے صاحب چلیں اندر”

اس وقت صبح ہونے کو تھی دن کی روشنی دھیرے دھیرے پھیل رہی تھی بارش اب پھر سے شروع ہونے کو تھی

وہ دونوں اندر ایک بڑے سے ہال میں بیٹھ گئے تھے جہاں اور بھی مرد موجود تھے ۔۔۔

مدھر کن میوزک (گانا تباہ ہوگئے(فلم كلنک) کا شروع کا میوزک)

بجنا شروع ہوا تھا ایک سجی دھجی دهان پان سی لڑکی ادا سے اس میوزک کے حساب سے چلتی ہوئی اس ہال میں داخل ہوئی تھی اس کے چہرے پر جالی دار گھونگھٹ تھا

“دی نہیں دعا بھلے ۔۔۔۔ نا دی کبھی بد دعا ۔۔۔ “

“نا خفا ہوۓ نا ہم ہوۓ کبھی بے وفا ۔۔۔ “

“تم۔۔۔۔ اگر بےوفا ہو گئے کیوں خفا ہوگئے ؟؟؟؟؟”

کہ تم سے جدا ہو کہ ہم تباہ ہوگئے ۔۔۔۔۔ تباہ ہو گئے ۔۔۔تباہ ہو گئے ۔۔۔۔”

اس لڑکی کے رقص کی ہر ادا میں اذیت اور تکلیف تھی جو ساحل کو اپنے سینے میں محسوس ہوئی تھی ۔۔۔وہ ساحل کے پاس ناچتے ناچتے آئی تھی

“سجدے میں ہم نے مانگا تھا ۔۔۔۔

عمر بھی ہماری لگ جائے تم کو ۔۔

خود سے ہی توبہ کرتے تھے ۔۔۔۔

نظر نا ہماری لگ جائے تم کو ۔۔۔۔۔

ہم اگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آآآآ ۔۔۔۔ہم اگر ناگوارا تمہیں کس طرح ہو گئے ۔۔۔۔۔کہ تم سے جدا ہو کر ہم تباہ ہو گئے ۔۔۔۔”

وہ گھونگھٹ میں ساحل کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

وہ رو رہی تھی ۔۔۔۔وہ تکلیف میں تھی ۔۔۔۔

ساحل نے غیر ارادی طور اس کا گھونگھٹ اٹھا دیا تھا

“ماسوری ؟؟؟؟؟”

اس سے پہلے کہ ساحل اس کا ہاتھ پکڑکر اپنے پاس کرتا وہ رقص کرتی ہوئی اس سے دور چلی گئی تھی ۔۔۔

وہاں موجود تمام تماش بین اس کے رقص پر دل کھول کر اسے داد دے رہے تھے گانا مکمل ہو چکا تھا وہ اپنے کمرے میں جا چکی تھی اب وہاں موجود ہر مرد منہ مانگی بولی لگا کر اس کا ساتھ چاہ رہا تھا ۔۔۔۔

ساحل بے دم سا یہ سب ہوتا دیکھ رہا تھا آج وہ سب سچ میں محسوس کر رہا تھا جو وہ

ماسوری کے خواب میں تب محسوس کرتا تھا جب وہ سات مرد اس کے ماتھے میں سندور ڈال رہے ہوتے ہیں اور وہ کچھ نہیں کر پاتا بے بسی سے فقط دیکھنے کے علاوہ ۔۔۔

“صاحب ؟؟؟چلیں ؟؟؟”

زمرد خان نے ساحل کو ہاتھ سے پکڑ کر اوپر اٹھایا تھا اور باہر لے آیا ۔۔۔

یہ تو طے تھا کوئی نا کوئی بولی جیت جاتا اور اپنی مرضی کا وقت گزارتا ۔۔۔

“مگر یہ سب مجھے کیوں تکلیف دے رہا ہے ؟؟؟؟وہ ایک طوائف ہی تو ہے ۔۔۔۔پہلی بار تو یہ سب نہیں ہوا ہوگا ۔۔۔۔”

ساحل کا ایک ہاتھ زمرد خان پکڑے ہوۓ تھا بارش نے زور پکڑا تھا ساحل نے گیٹ پر پہنچ کر اپنا ہاتھ زمرد سے چھڑوا کر مڑ کر دیکھا تھا

ماسوری سادہ سا جوڑا پہنے نم آنکھوں سے ساحل کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔

اب کسی نے اسے آواز دی تھی وہ آنسو صاف کرتی اب جانے کے لئے مڑی تھی

ایک مرد جو اس کے کمرے میں دروازہ لاک کر کے داخل ہوا تھا ساحل نے کمرے کی کھلی کھڑکی سے دیکھ لیا تھا ۔۔

ماسوری اب بھیگی آنکھوں سے ساحل کو دیکھتی کھڑکی کا پٹ بند کررہی تھی جبکہ وہ مرد اس کا دوپٹہ کھینچ رہا تھا

کھڑکی بند ہو چکی تھی اور دوسری طرف ساحل کا دل ۔۔۔۔

وہ بیہوش ہو چکا تھا ۔۔۔

تیز بارش اور اس میں دنیا کے ہر غم سے بے نیاز بیہوش پڑا ساحل ۔۔۔۔

۔************

“آپ میرے بیٹے کو اس گندی جگہ کیوں لے کر گئے تھے سجاول؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟”

زاہرہ اس کا گريبان پکڑ کر چیخی تھی

“سونے دو صبح بات کرتا ہوں”

سجاول پُرسکون سا زاہرہ کے قریب ہو کر اس کا گال چوم کر بولا تھا شراب كی باس اس کی روح تک میں محسوس ہوئی تھی

“میں ہرگز یہ برداشت نہیں کروں گی سجاول سنا آپ نے ؟؟؟؟!”

وہ درد سے روتے ہوۓ ایک بار پھر چیخی تھی اس كی گرفت سجاول کے گرد ڈھیلی ہوئی تھی

“مت کرنا جان ۔۔۔۔۔ابھی میری بات سنو۔۔۔ “

وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے کمرے میں لے آیا اور دروازہ بند کر دیا ۔۔۔۔

“بیٹا پاپا آپ کو کدھر لے کر گئے تھے ؟؟؟؟”

مولوی صاحب نے اپنی گهبراهٹ پر قابو پاتے ہوۓ جواب سے ڈرتے ہوۓ پوچھا تھا

“میں تو پاپا کے دوست کے گھر تھا ان کے دوست اور پاپا کہیں گئے تھے تب تک میں ان کے بیٹے کے ساتھ کھیلتا رہا پھر وہ دونوں واپس آگئے اور پاپا مجھے گھر لے آۓ”

بچے نے معصومیت سے ساری بات لفظ با لفظ بتا دی تھی جیسے سنتے ہی مولوی صاحب اللّه کا شکر ادا کرتے سجدے میں گر گئے تھے جبکہ ان کا پوتا حسب عادت اپنے دادا ابو کے کمرے میں ہی ان کے ساتھ اپنی جگہ پر سونے لیٹ گیا تھا

صبح ہوئی تو زاہرہ کی لال آنکھیں اس کی رات کا پتہ بخوبی دے رہی تھیں

مولوی صاحب نے اس بچے کی بتائی پوری بات بتا کر نارمل کرنے كی کوشش كی تھی وہ سب جان کر تھوڑی بہتر ضرور ہوگئی تھی مگر اندیشے کی تلوار اب بھی اس کے سر پر لٹک رہی تھی

خیر وقت گزرتا گیا ۔۔۔۔اب زاہرہ کا نواں مہینہ شروع ہونے کو تھا اس کی طبیعت اس بار پہلے سے زیادہ خراب رہنے لگی تھی کمزوری تو تھی ہی مگر اس سے زیادہ پریشانی نے اس کو دیمک کی طرح چاٹ لیا تھا سجاول کا اب بھی وہ ہی رویہ اور روٹین تھی ۔۔۔

“پتہ نہیں میں بچو گی بھی کہ نہیں ۔۔۔میرے بچوں کو اچھائی اور برائی میں تمیز کون بتائے گا ؟؟؟؟اگر دوسری بیٹی ہوئی تو ؟؟؟؟”

یہ دونوں سوال زاہرہ کو پل پل مار رہے تھے

“میں اس بار نہیں بچوں گی ۔۔۔”

شام کا وقت تھا جب وہ جائے نماز پر بیٹھی پیٹ پر ہاتھ رکھے بار بار دوہرا رہی تھی آخر وہ کچھ سوچ کر آنسو صاف کرتی ہوئی اٹھی تھی

“ابو ۔۔۔آپ اس کو ساتھ ہی رکھیں میں کسی کام سےجا رہی ہوں واپس نا آئی تو میرے دونوں بچے آپ کے پاس میری امانت ہونگے ۔۔۔۔۔اللّه کے بعد میں ان کو آپ کے حوالے کرتی ہوں”

زاہرہ پھوٹ پھوٹ کر روتے، بڑی چادر اوڑھتے ہوۓ بولی تھی

“مگر بیٹا موسم خراب ہے اور تمہاری طبیعت بھی ،سجاول آ جائے اس کے ساتھ چلی جانا ۔۔۔”

مولوی صاحب فوراً بولے تھے

“جہاں جا رہی ہوں وہ وہی تو ہونگے ۔۔۔”

اس کے رونے میں اس بات سے اور بھی شدت آئی تھی

مولوی صاحب روکتے رہے مگر زاہرہ جا چکی تھی

وہ تانگے میں بیٹھ گئی تھی

“باجی کدھر جانا ہے ؟؟؟”

کوچوان نے پوچھا تھا

“لکشمی بائی کے کھوٹے پر”

وہ بهرائی آواز میں بولی تھی

۔*************

ایک تاریک غار جہاں بہت سی عورتیں جسم پر فقط کالی چادریں لپیٹے منہ نیچے کیے بیٹھی ہوئیں تھیں

بہت سے جنگلی پرندے ان کے پاس بیٹھے مخصوص بھيانک آواز نکال رہے تھے

“زیبا ؟؟؟؟؟دیکھو ۔۔۔کوئی مر گیا ہو تو ان کو ڈال دو ۔۔۔۔کب سے بھوکے بیٹھے ہیں یہ سب ۔۔۔

ان منہ چھپاے بیٹھی عورتوں میں سے ایک نے بمشکل کہا تھا اس كی آواز میں بلا كی تکلیف تھی ۔۔۔

“جی باجی ۔۔۔۔۔زویا مر گئی ہے ۔۔۔۔۔آپ کی زویا ۔۔۔ ہاے اللّه جی ۔۔۔میری زویا ۔۔۔۔۔”

زیبا دھاڑے مار مار کر رو کر بولی تھی

اس بات پر وہاں موجود ہر عورت بین ڈال کر رونے لگی تھی ۔۔

یہ سننے کی دیر تھی وہ پرندے سب ایک ساتھ اڑکر ایک سمت پرواز کر گئے تھے ۔۔۔

زیبا ۔۔۔۔وہ مُہر لو ۔۔۔۔اس لڑکے کو لگا دیں ۔۔۔۔شاید شیطان ہم سے خوش ہو کر ہم پر رحم کر دے ۔۔۔۔

کاش ہم نے اللّه کا سیدھا اور آسان راستہ چُنا ہوتا ۔۔۔۔وہ ہمیں ایک توبہ پر معافی دے دیتا ۔۔۔”

“اللّه ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

وہ تڑپ کر روئی تھی

اس عورت کی آواز اس غار میں گونج کر واپس پلٹ کر سب کو سنائی دی تھی ۔۔۔