Tehreer by Jameela Nawab Readelle 50381 Tehreer Episode 10
Rate this Novel
Tehreer Episode 10
Tehreer by Jameela Nawab
رات کا وقت تھا جينی سو چکی تھی سُکھاں بلی کی چال چلتی اُٹھ کر کمرے سے باہر آئی تھی بارش ہلکی ہلکی ہو رہی تھی وہ تیز قدم چلتی جنگل کی طرف بھاگی تھی
وہ ننگے پیروں چلتی جا رہی تھی اس بات سے اسے کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا کہ وہ کیچڑ میں لت پت ہوتی جا رہی ہے اس کی نظر آسمان پر تھی جو گھنے جنگل میں کہیں کہیں ہی دیکھا جا سکتا تھا پورا آسمان جنگلی بڑے پروں والے پرندوں سے بھرا ہوا تھا جو اپنی مخصوص بھیانک آواز نکال رہے تھے
آخر ایک جگہ پر آ کر اس کے قدم رُکے تھے جہاں وہ ایک آنکھ والا بد صورت آدمی کھڑا تھا وہ کالا چولا پہنے اس کی طرف ہی دیکھ رہا تھا
سُکھاں نے اس کے قدموں میں سر رکھ کر کچھ خاص الفاظ دوہرائے تھے
“اپنی بیٹی کو نہیں لائی ؟؟”
وہ بولا تو بدبو کے شدید بھبھوکے پورے ماحول میں پھیلے تھے
“وہ ۔۔۔۔۔اس واقعے کے بعد بھی اپنے رب سے بد گمان نہیں ہوئی شاکا میرے عالی جآہ ۔۔۔۔۔”
وہ سر جھکائے ہی بولی تھی
“عجیب ہوتے ہیں یہ مسلمان بھی ۔۔۔ایک طرف ان لوگوں کا یہ ایمان ہے کہ اس ذات کی مرضی کے بغیر پتا بھی نہیں ہل سکتا اور دوسری طرف یہ لوگ اپنی ہر تکلیف میں اسی سے مدد مانگتے ہیں ۔۔۔اگر وہ ان لوگوں سے اتنی محبت کرتا ہے تو وہ تکلیف ان تک پہنچنے ہی کیوں دیتا ہے ؟؟؟”
وہ ایک ٹانگ پر کھڑا بدصورتی کی ہر حد چھو رہا تھا
“یہ دنیا ایک آزمائش گاہ ہے عالی جآ ۔۔۔۔اللّه ہر انسان کو مکمل پیدا کر کے صحیح غلط اپنے قران اور انبیاء کو مادی وسیلہ بنا کر ہم تک پہنچا چکا ہے ۔۔۔اس نے یہ سب نا صرف مسلمانوں کو بلکہ تمام انسانوں کو بن مانگے عطاء کیا ہے ۔۔۔وہ ہمیں کیڑے مکوڑوں كی طرح بھی پیدا کر کے بھی انسان کا عہدہ دینے پر قادر تھا مگر ۔۔۔۔اس پاک پروردگار نے ایسا نہیں کیا ۔۔۔۔ہمیں خوبصورت،خوش شکل اور آنکھوں کو اچھا لگنے والا بنایا ۔۔۔۔ وہ ہمیں تکلیف اس لئے دیتا ہے تا کہ ہم اس سے مدد مانگے اور وہ ہمیں اپنی رحمت سے نوازے ۔۔۔۔۔اسے ہماری عبادت کی ضرورت نہیں ۔۔۔اس کام کے لئے فرشتے اور روحانی تخلیقات بہت ہیں ۔۔۔وہ تو بس خود سے اپنی محبت کا اظہار چاہتا ہے ۔۔۔۔”
سکھاں آنکھیں بند کیئے بولتی چلی گئی ۔۔۔
“بکواس بند کرو اپنی ۔۔۔۔۔یہ سب سننے نہیں بلایا تمہیں ۔۔۔اپنی بیٹی کو جلد از جلد میری عبادت میں لگاؤ ۔۔۔۔ورنہ اس بار اس کا وہ حال کروں گا کہ وہ خود سے نظریں ملانے کے قابل نہیں رہے گی ۔۔۔”
وہ بدصورت وجود دھاڑا تھا
“نہیں ۔۔۔آپ اسے ایسا کچھ مت کرنا ۔۔۔۔میں اسے اللّه کی عبادت سے نہیں روک سکتی ۔۔۔بیشک اپنی عبادت کے لئے وہ اپنے بندے خود چنتا ہے ۔۔۔۔ورنہ ناپاک نطفے سے بنے ہوۓ اس انسان کی کیا مجال جو وہ اس پاک ذات کا پاک نام تک بھی لے سکے ۔۔۔میں جیسمین کے معاملے میں بے بس ہوں عالی جآہ ۔۔۔میں چاہ کر بھی اس کے اور اس کے رب کے درمیان نہیں آسکتی ۔۔۔۔”
وہ التجاء کرتے ہوۓ بولی تھی
“ویسے بھی آپ کی پُجاری تو میں ہوں ۔۔۔میں ویسے ویسے کرتی ہوں جیسا آپ کہتے ہو ۔۔۔اس کو اس سب سے دور رہنے دیں ۔۔۔۔وہ اپنے باپ پر گئی ہے ۔۔۔”
وہ قدموں میں لیٹنے کی حد تک بیٹھ کر بولی تھی
“تمہارا بڑا دل کر رہا ہے آج اس کے رب کی عبادت کا ساریکا عرف سکھاں ۔۔۔۔۔تم ہندو ہو اور میری بهگت ۔۔۔۔یہ مت بھولو ۔۔۔تب کیوں اس کا انکار کیا تھا جو تمہیں اتنا ہی شعور ہے اس کے واحد ہونے کا ؟؟؟”
وہ سکھاں جس کا اصل نام ساریکا تھا اسے تھوڈی سے پکڑ کر کھڑا کرتے ہوۓ بولا تھا
“میں توقیر سے محبت کر بیٹھی تھی ۔۔۔۔میں مسلمان نہیں ہوں وہ یہ جانتا تھا ۔۔۔اس نے اپنے رب کے لئے مجھ سے شادی کی ۔۔۔۔مجھے كلمہ پڑھا کر مسلمان کیا ۔۔۔۔مجھے نماز قرآن سکھایا ۔۔۔۔اپنی عبادت کی ہر ضروری بات سمجھائی مگر۔ ۔۔۔میں دل سے کبھی مسلمان نہیں ہوئی ۔۔۔دکھاوہ کرتی رہی ۔۔۔۔اس دکھاوے میں نماز پڑھتی ۔۔۔اس کے رب سے دعا کرتی ۔۔۔وہ مجھے جائے نماز پر دیکھ کر جی اٹھتا ۔۔ ان کی ہمیشہ سے عادت تھی ان کا کوئی بھی کام اٹکا ہوتا وہ خود حافظ قرآن اور مولوی ہونے کے باوجود بھی خود دعا کرنے کی بجائے مجھ سے وہ دعا کرنے کو کہتے ۔۔۔۔۔وہ نہیں جانتے تھے مگر ان کا رب تو جانتا تھا کہ میں اس کو دل سے نہیں مانتی ۔۔۔۔مگر وہ پھر بھی ہر بار میری دعا قبول کر لیا کرتا ۔۔۔۔۔توقیر میرا ہاتھ پکڑ کر چومتے اور کہتے اللّه تم سے بہت محبت کرتا ہے تمہاری ہر عبادت قبول کرتا ہے یہی وجہ ہے وہ تمہاری ہر دعا پوری کر دیتا ہے ۔۔۔میں منوں مٹی تلے خود کو دفن محسوس کرنے لگتی ۔۔۔اس کا رب میری عزت رکھ کر مجھے میری ہی نظر میں شرمندہ کر دیتا ۔۔ میں اکثر سوچتی ۔۔۔جو لوگ اس کی دل سے اور یقین سے عبادت یا دعا کرتے ہونگے ان کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا ؟؟؟”
ساریکا اب رونے لگی تھی
“جب تک وہ زندہ تھے میں دکھاوا کرتی رہی ان کی اچانک موت نے مجھے اتنا بدگمان کر دیا کہ میں واپس اپنے مذہب میں آگئی ۔۔۔۔۔”
“بال لائی ہو گوہر کے ؟؟؟”
وہ بدصورت وجود جس کے پر کسی بڑے حجم والے پرندے کی طرح تھے رازداری سے بولا تھا
“جی لائی ہوں”
وہ ہاتھ آگے کرتے ہوۓ بولی تھی جس میں گوہر کے سر کے بال تھے جو سُکھاں نے چپكے سے اس کو غسل دینے سے قبل لوگوں کی آمد سے پہلے قینچی سے کاٹ کر لیئے تھے
“مگر آپ اس کا کیا کریں گے ؟؟؟”
“بہت کڑیل مسلمان تھی وہ اس نے پھر بھی اپنے رب کی حد توڑی اس کے یہ چند بال میری شکتی بڑھا دیں گے”
وہ خوش ہوتا ہوا بولا تھا
“گوہر کو آپ نے مارا ہے عالی جآہ؟؟
سوال ڈر ڈر کر کیا گیا تھا
“نہیں ۔۔۔۔اسے اس کی ناامیدی نے مارا ہے کافر تھی وہ ۔۔۔”
“ابھی آپ نے کہا وہ بہت اچھی مسلمان تھی ۔۔۔”
سُکھاں متجسس ہوئی تھی
“نا امیدی کفر تک لے جایا کرتی ہے ان مسلمانوں کو ساريكا ۔۔۔۔کفر کا مطلب جانتی ہو کبھی بتایا ہے تمہیں مولوی جی نے ؟؟؟”
شاکا نے بلند آواز سے قہقہ لگا کر پوچھا تھا
“جی ۔۔۔۔میں جب بھی اولاد نہ ہونے پر نا امید ہوئی وہ یہی کہتے تھے نا امیدی کفر ہے ۔۔۔۔نا امیدی ۔۔۔کفر یعنی اللّه کے ہونے پر شک کرنا یا اس كی رحیم ہونے پر انگلی اٹھانا ۔۔۔”
ساریکا نے کچھ سوچتے ہوۓ کہا تھا
“گوہر کس بات سے نا امید تھی ؟؟”
ساریکا نے اپنا سوال دوہرایا تھا
“ننگے سر چھت پر پھر رہی تھی شام کا وقت تھا میرے ایک چیلے کو وہ پسند آ گئی ۔۔۔وہ ہر رات اس پر حاوی ہونے لگا اس کے خوابوں میں آتا اور اس سے غلط تعلق بناتا مگر وہ سب خواب کی حد تک ہی تھا ۔۔۔۔اس نے اس دوران اپنے رب سے رابطہ مضبوطی سے بنانے کی بجائے بلکل توڑ دیا ۔۔۔۔حلانکہ وہ اپنی پاک کتاب كی آخری دونوں سورتیں(سورہ الناس ،سورہ الفلق) پڑھ کر خود پر پڑھنا شروع کر دیتی تو میرا وہ چیلا جل کر راکھ ہو جاتا ۔۔۔۔”
“یہ میرے سوال کا جواب نہیں عالی جآہ ۔۔۔”
ساریکا نے ادب سے کہا تھا
“اس نے کبھی بھی اپنے گھر والوں کو یہ سب نہیں بتایا الٹا اس نے اس حقیقت سے بھاگنے کے لئے نیند کی گولیاں کھانا شروع کردی۔۔یہ نا امیدی کی شروعات تھی ۔۔۔حقیقت سے فرار ۔۔۔۔اللّه کا کلام پڑھ کر بھی نیند آ سکتی تھی مگر وہ پانچ وقت کی نمازی لڑکی اتنا نہ کر سکی اور اس مصیبت سے نجات کا واحد حل خود کشی نکالا ۔۔۔میرے چیلا اس پر حاوی ہوا اور وہ پهنكے کے ساتھ جھول گئی ۔۔۔اب وہ روز یہی کرے گی ۔۔۔”
“اب تم جاؤ اور اپنی بیٹی کو جلد از جلد راضی کرو”
وہ بھیانک وجود غائب ہو چکا تھا سکھاں جو اب اس سے سخت تنگ آ چکی تھی تیزی سے گھر كی طرف پلٹی تھی ۔۔۔
(یہاں پر میرا اشارہ آج کل کی ایک بہت ہی تیزی سے پھیلنے والی بیماری کی طرف ہے جیسے ڈیپریشن کا نام دیا جاتا ہے ۔۔۔۔نئی نسل مختلف فضول وجوہات کو بنیاد بنا کر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاتی ہے دن رات میں فرق ختم کر کے ڈیپریشن کے نام پر خدا رسول کو فراموش کر کے بستر توڑا جاتا ہے نیند کی گولیاں پھانکی جاتی ہیں اگر کوئی وظیفہ بتا دے نماز كی پابندی کا کہہ دے تو وہ نہیں کیا جاتا بس منہ بنا کر پورے گھر کو بے سکونی میں ڈال دیا جاتا ہے اب تک کوئی ایسی بیماری آئی ہی نہیں ہے جس کا علاج اللّه نے نا بھیجا ہو ذہنی اور دل کاسکون اللّه کے ذکر میں ہے بہت پہلے ہی یہ بتایا جا چکا ہے مگر اس بات کو يكسر نظر انداز کر کے فقط گولیاں کھائی جاتی ہیں۔۔۔۔
افسوس صد ہا افسوس ۔۔۔
اس دوران موبائل جو کہ شیطان کا خاص چیلا ہے اس کے ساتھ تعلق بنا کر غلط چیزیں دیکھ کر سکون حاصل کیا جاتا ہے پھر ایک وقت آتا ہے روح پر بوجھ بنتا چلا جاتا ہے ایک وقت ایسا آتا ہے کہ جسم روح کا بوجھ اٹھانے سے انکار کر دیتا ہے اور نتیجہ حرام موت كی صورت سامنے آتا ہے ۔۔۔
ایک ہی گھر میں پاس ہو کر بھی کوئی ساتھ نہیں ہوتا ۔۔۔گھر کا ہر فرد موبائل میں گروپ کی شکل میں فیملی بنا کر بیٹھ گیا ہے جو لوگ ساتھ رهتے ہیں ان کی زندگی سے بے خبر ۔۔۔۔والدین اب جوان اولاد کو موبائل میں مصروف دیکھ کر ان سے ان کے مسائل پوچھنا ضروری نہیں سمجھتے ۔۔۔
خود کشی کی تیزی سے بڑھتی شرح کے ذمہ دار والدین ہیں جن كی اولاد کی تربیت کی ذمہ داری نیٹ اور موبائل نے لے لی ہے ۔۔۔)
مولوی صاحب یعنی کہ توقیر جينی کے والد کی اچانک حادثاتی موت کی وجہ سے ساریکا اتنے صدمے میں آگئی کہ وہ اب باقاعدہ مندر جانے لگی وہ وقت بے وقت بیٹی سے چھپ کر وہاں جاتی اور گھنٹوں اپنی مذہب كی عبادت کرکے بھگوان سے معافی مانگتی ۔۔۔وہ بیٹی اور سب کی نظر میں اب بھی مسلمان تھی ۔۔۔وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ مسلمان اور کافر میں ایک بنیادی فرق اس نماز کا بھی ہے جسے آج کا مسلمان نہایت ہی ارزاں(معمولی) سمجھ چکا ہے ۔۔۔اور جسے وہ اب مستقل چھوڑ چکی تھی ۔وہ واقعی دائرہ اسلام سے اس وجہ سے بھی نکل رہی تھی وہ یہ نہیں جانتی تھی ۔۔۔
بیشک نماز زندگی میں روشنی کی وہ واحد مشعل ہے جس کی روشنی میں آپ زندگی کی ہر حقیقت کو اس کے صحیح متن کے ساتھ پڑھ سکتے ہو ۔۔۔
نماز کے بغیر زندگی ایک سیاہ غار ہے ۔۔۔اگر آپ نے نماز چھوڑ دی تو سمجھ جایئں اب ناکامی آپ کا مقدر بن چکی ہے ۔۔۔یہی ہوا تھا مولوی صاحب کے ہوتے ایک متوسط گھر بار اور پیٹ بھر کر کھانا مل جایا کرتا تھا مگر آہستہ آہستہ ساریکا کی بدنيتی كی وجہ سے سب ہاتھ سے نكلتا چلا گیا اور نوبت وہ گھر چھوڑ کر اس جنگل میں آ کر رہنے تک آ گئی اس علاقہ میں جہاں ان کو کوئی بھی ان کے ماضی کے حوالے سے نہیں جانتا تھا ۔۔
سکھاں یہ نہیں جانتی تھی کہ جب اللّه کسی سے ناراض ہوتا ہے تو وہ رزق نہیں بند کرتا بلکہ اس سے سجدہ کرنے کی توفيق چھين لیا کرتا ہے ۔۔۔
دکھاوے کی عبادت ،عبادت سرے سے نا کرنے سے بھی بڑا گناہ ہے ۔۔۔
اللّه نے سکھاں کو اسلام قبول کرنے کے بعد سیدھا رستے پر آنے کے بہت سے مواقع دیئے مگر وہ پھر بھی دل سے انکاری رہی اور اللّه تو نیت کو دیکھتا ہے عمل تو اس کے بعد کا معاملہ ہے ۔۔۔
“اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے”
باوجود اس کے اللّه اسے نوازتا رہا ۔۔۔ ۔۔۔مگر وہ دل سے اس پر ایمان لانے سے قاصر رہی ۔۔۔
ایسی ہی ایک رات تھی جب وہ سنسان مندر میں بیٹھی عبادت کر رہی تھی اور شیطان کی منفی قوتوں کا وہاں سے گزر ہوا تھا یہ خاص شیطانی قوت دجال کا فتنہ ہے جس کا کام کمزور ایمان والی عورتوں اور مردوں کو مختلف گمراہ کُن وسوسوں میں الجھا کر زمین پر فساد برپا کرنا ہے ۔۔۔
کہانی میں اس فتنے کو مادی شکل دے کر بیان کیا جارہا ہے جبکہ اصل میں اس کا تعلق ہماری سوچ،ھمارے “اگر ،مگر “سے ہے ۔۔۔جہاں رب کی رضا پر انگلی اٹھائی جاتی ہے ان دو الفاظ کا ہی استعمال کیا جاتا ہے
وہ قوت ہیولے کی صورت ساریکا کے پاس آئی تھی
“میں بھگوان کا خاص چیلا ہوں جب تک تم میری خاص باتیں نہیں پوری کرتی وہ تمہیں معافی نہیں دے گا”
وہ بهیيانک آواز میں بولا تھا
ساریکا اس کے قدموں میں ڈھیر ہو کر اپنی خاص تپسیا کے پورا ہونے پر بہت خوش ہوئی تھی اسے خاص درشن جو ہوۓ تھے
“آپ جو کہیں گے میں کروں گی بس بھگوان سے مجھے شما دلا دیں”
وہ ادب سے بولی تھی
“میرے ساتھ چلو”
وہ اسے ایک سیاہ غار میں لے کر گیا تھا جہاں ایک ہندو پنڈت اپنا مکرو چہرہ لئے بیٹھا ہوا تھا جو مختلف نجس طریقوں سے کالا علم کرتا ساريكا نے جھک کر اسے سلام کیا تھا
“بھگوان تمہیں شما کر دیں گے بس تم جیسا میں کہتا جاؤں کرتی جاؤ”
وہ آنکھیں بند کئے بولا تھا
“میت نہلا لیتی ہو ؟؟؟”
“جی ۔۔۔”
ساریکا نے جواب دیا تھا
“یہ تعویز رکھو اور اب جہاں بھی فوتگی ہوئی اس میت کو نہلانے کے بعد جب وہ پاک ہو جائے تو لوگوں سے چھپ کر اس کے دانتوں میں یہ دبا دینا”
ساريكا نے ڈر ڈر کر وہ تعویز لے لیا تھا
وہ دن تھا اور آج کا دن تھا یہ پنڈت(جس کا حلیہ بتایا جا چکا ہے) اپنے ہیولے کے ذریعہ سکھاں کو ملنے بلاتا اور ساريكاسے مختلف گھناؤنے کام کرواتا ۔۔۔وہ اس دلدل میں دھنستی چلی گئی ۔۔۔اور اب نوبت یہ آ چکی تھی کہ اس کی بیٹی کو اللّه سے دور کرنے کے لئے انسانی شکل میں ہیولا بھیج کر داغ دار کیا گیا مگر وہ اس میں ناکام رہا۔۔۔
۔************
زمرد خان ساحل کو ایک ہسپتال لے آیا تھا جو ایک پرائیویٹ ہسپتال تھا
ڈاکٹر حمزہ نے ساحل کا معائنہ کیا تھا اس کے مطابق وہ شدید ذہنی صدمے کے زیر اثر تھے مختلف خون کے ٹیسٹ کے ساتھ ساتھ ان کا فوری سٹی ۔سکين کیا گیا تھا جس کی رپورٹ میں کچھ ایسے اشارے ملے تھے کہ ان کا ايم ۔آر ۔آئی بھی کر دیا گیا جس كی رپورٹ فوری طور نہیں ملی تھی اس کے لئے دو دن بعد آنے کا کہا گیا تھا فلحال چند سکون آور ادویات دے کر اسے گھر بھیج دیا گیا تھا
ساحل کو زمرد گھر لے آیا تھا
“جب تک آپ بلکل ٹھیک نہیں ہو جاتے صاحب میں ادھر ہی سویا کروں گا”
زمرد ساحل کے پاس آ کر بیٹھ کر بولا تھا ساحل اپنے بال دونوں میں ہاتھ میں پکڑے پریشان سا بیٹھا ہوا تھا
“مجھ سے پہلے یہاں کون رہتا تھا ؟؟؟”
ساحل سر نیچے کئے پوچھ رہا تھا
“صاحب یہاں ایک ماسوری نام کی لڑکی رہتی تھی ہندو تھی”
اس جواب پر ساحل چونکا تھا
“پھر وہ چلی کیوں گئی ؟؟؟”
“وہ اپنی مرضی سے نہیں گئی تھی صاحب اس کے قبیلے کے لوگ اسے زبردستی لے گئے تھے ان کا کہنا تھا اس نے ہمارے مذہب کا مذاق بنایا ہے اب یہ سزا كی مستحق ہے وہ روتی رہی مگر وہ اسے لے گئے ۔۔ “
زمرد نے اس بات سے اداس ہوا تھا
“تو اس لڑکی کا کیا کہنا تھا ؟؟؟”
ساحل زمرد کے پاس آ کر بیٹھا تھا
“وہ کہہ رہی تھی میں ستی ہو جاؤں گی مگر رامو کے ساتھ پھیرے نہیں لوں گی میں اسلام قبول کر چکی ہوں اور ایک غیر مسلم سے شادی نہیں کر سکتی ۔۔۔۔”
“گھر سے فون آ رہا ہے صاحب میں ایک گھنٹے تک واپس آتا ہوں”
زمرد بات مکمل کر کے اٹھ چکا تھا ساحل کے سر کا درد مزيد بڑھ گیا تھا
“صاحب وہ یہ بھی کہہ رہی تھی کہ وہ کسی مسلمان لڑکے سے نکاح کر چکی ہے جو بہت جلد اس کو ان سب سے دور لے جائے گا ۔۔۔وہ کہہ رہی تھی وہ
بہت نيک اور اللّه والا ہے وہ مجھے بچا لے گا ۔۔۔”
زمرد خان ایک نئی پہیلی دے کر جا چکا تھا
ساحل آنکھیں بند کر کے ٹی ۔وی لاؤنچ میں ہی صوفہ پر ٹیک لگا کر لیٹ گیا تھا اس کی آنکھ لگ گئی تھی
وہ ایک بہت خوبصورت مسجد تھی وہاں سکون ہی سکون تھا ۔۔۔
ساحل نے دیکھا ایک لڑکا بیٹھا خوبصورت آواز میں قرآن پاک کی تلاوت کر رہا تھا
“بیٹا بہت خوبصورتی اور دل سے خدا کا کلام پڑھتے ہو ۔۔۔۔روح تک سکون مل جاتا ہے سن کر ۔۔۔۔”
کسی نے اس کے کندھے پر تھپکی دے کر کہا تھا
“جی مولوی صاحب ۔۔۔۔جب تک قرآن پاک نہیں پڑھ لیتا میری روح بے چین رہتی ہے ۔۔۔۔میرے ہر غم پر مرہم سا لگ جاتا ہے یہاں آ کر ۔۔۔میں بھی مولوی بننا چاہتا ہوں،آپ مجھے مولوی بنا دے گے ؟؟؟”
وہ لڑکا جو لگ بھگ 16سال کا تھا نہایت ادب سے بولا تھا
“ہاں کیوں نہیں ۔۔۔بیٹا باہر کوئی آپ کو آواز دے رہا تھا”
مسجد کے مولوی صاحب(سجاول کے والد مولوی صاحب نہیں ہیں یہ) نے کچھ یاد آنے پر کہا تھا
وہ لڑکا باہر آیا گلی سنسان پڑی تھی تیز بارش ہو رہی تھی
“یہاں تو کوئی نہیں ہے”
وہ لڑکا ذیرلب بڑ بڑایا اور اندر جانے لگا اتنے میں کسی نے اس کا ہاتھ زور سے پکڑا اور نیچے کو کھینچا اب منظر بدل گیا تھا
وہ لڑکا پانی میں غوتے کھا رہا تھا اس کا سانس بند ہونے کو تھا جب ساحل کی آنکھ کھل گئی
اس كی سانسیں پھولی ہوئی تھیں وہ مکمل طور بھیگا ہوا تھا اور اس کے کپڑوں سے پانی رس رہا تھا
“یہ سب میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے ؟؟؟؟”
وہ چیخا تھا
اب سامنے پڑا ٹی۔وی آن ہوا تھا
وہ ہی بچہ بیٹھا ساحل کی طرف دیکھ رہا تھا وہ سر پر ٹوپی اور سفید جوڑا پہنے ہوۓ تھا عام طور پر جیسے کسی مدرسے کے طالبِ علم پہنا کرتے ہیں
وہ مولوی صاحب اب اس کے پاس آ کر بیٹھے تھے
“بیٹا بتاؤ یہ رشتہ کرنا ٹھیک ہوگا یہاں باہر ایک خاتون آئی ہیں وہ پوچھ رہی ہیں؟؟؟
وہ ایک کاغذ پر کچھ لکھ کر اس بچے کو دیتے ہوۓ بولے تھے
“نہیں ۔۔۔۔یہ لڑکا شادی شدہ ہے اس سامنے بیٹھے ہوۓ لڑکے کی طرح”
وہ بچہ ساحل کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا تھا
ساحل گھبرا کر کھڑا ہو گیا تھا اس کی سانس بند ہو رہی تھی وہ کچن میں پانی پینے آیا تھا جہاں وہ مولوی اور بچہ پہلے سے بیٹھے ہوۓ تھے
ایک دم منظر بدلا تھا اب پورا کچن جنگلی پرندوں سے بھرا ہوا تھا وہ بین ڈالتی عورتیں کالی چادر میں لپٹی ہوئی اس بچے کی کمر پر اب وہ ہی نشان بنا رہی تھیں جبکہ مولوی کی لاش پھنکے کے ساتھ لٹک رہی تھی وہ مولوی اور بچہ خوفناک مسکراہٹ لئے ساحل کو دیکھ رہے تھے ساحل گرتا پڑتا کچن سے باہر نکلا اور گھر سے باہر دوڑ لگا دی
بوندا باندی پہلے ہی ہو رہی تھی اب بجلی بھی بار بار کڑک رہی تھی
اس وقت رات کا کوئی پہر تھا ساحل بنا سمت کا تعین کئے بس بھاگتا جا رہا تھا
ساحل کا پاؤں کسی چیز سے ٹکڑایا اور وہ منہ کے بل گر گیا
اس بار بجلی گرجی تو ساحل نے دیکھا بہت سے لوگ ماسوری کو ہاتھ سے کھینچ کر لے کر جا رہے ہیں اور وہ بار بار ساحل كی طرف دیکھتی ہے
“مت کرو ایسا ۔۔۔۔”
ساحل کو اپنی آواز سنائی دی تھی مگر وہ خاموش تھا
پھر منظر بدلا تھا اب بہت سے جنگلی پرندے ایک جگہ جمع کچھ نوچ نوچ کر کھانے میں مشغول تھے
ساحل گرتا پڑتا ان کے پاس گیا تو وہ زویا تھی جس کا بدن جگہ جگہ سے کٹا ہوا تھا اور وہ بھیانک مسکراہٹ لئے ساحل کو دیکھ رہی تھی
ساحل الٹے قدم واپس بھاگا اور کسی وجود سے ٹکڑا کر نیچے گر پڑا ۔۔۔
