Tehreer by Jameela Nawab Readelle 50381 Tehreer Episode 18 (Last Episode Part 2)
Rate this Novel
Tehreer Episode 18 (Last Episode Part 2)
Tehreer by Jameela Nawab
“پتہ کیسے چلے گا کہ ساحل ٹھیک ہے اور دن کی طرح اس کی طبیعت نہیں بگڑے گی؟؟؟”
ڈاکٹر حمزہ نے فکر مندی سے پوچھا تھا
“جیسے ہی کچھ برداشت سے باہر ہوگا یہ جاگ جائے گا کسی خواب کی طرح،ساحل ماضی کی ادھوری کہانی ایسے ہی مکمل کرے گا اب اور کوئی چارہ باقی نہیں ورنہ وہ لوگ مسلسل اسے تنگ کرتے رہیں گے
جس سے یا تو یہ پاگل ہو جائے گا یا پھر خود کشی کر کے حرام موت کو چن لے گا،اس کی دماغی صحت کے لئے اس کا ماضی سے پیچھا چھڑوانا بے حد ضروری ہے۔اس طریقہ سے اس کے حال پر کوئی فرق نہیں پڑے گا کیوں کہ وہ اس کو بھی کسی خواب کی طرح سمجھ کر بھول جائے گا مگر وہ لوگ اس کو پریشان کرنا چھوڑ دیں گے”
ڈاکٹر طاہر نے ساحل کے چہرے پر ہاتھ آگے پیچھے کرتے ہوۓ اس کے مکمل طور پر ہیپنوٹائز ہو جانے کی تسلی کی تھی۔
اب ساحل اس گاؤں میں پہنچ گیا تھا۔ہر طرف خاموشی تھی۔وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا اس غار کی طرف آیا تھا۔
“کوئی ہے یہاں ؟؟؟؟”
وہ بلند آواز سے بولا تھا۔اسی وقت کالی چادر میں ملبوس عورتیں اس کے سامنے آئی تھیں۔
“شکر ہے تم یہاں آ گئے ہو ساحل بیٹا ۔۔۔۔ہم کب سے تمہارے منتظر تھے”
لکشمی بهرائی ہوئی آواز میں بے بس سی بولی تھی۔
“مگر ؟؟؟میں کیا کر سکتا ہوں آپ سب کے لئے ؟؟؟”
ساحل ایک پتھر پر بیٹھ کر بولا تھا۔
“تم ہی تو ہو جو ہمیں اس عذاب سے نکال سکتے ہو ہمیں موت چاہیے ہمیں موت دے دو خدا کے لئے،یہ زندگی ہم پر بوجھ ہے”
وہ رو دی تھی ۔اس کے ساتھ باقی عورتیں بھی بین ڈالنے لگی تھیں۔
“میں نے آپ سب کو اپنی ماں کی طرف سے معاف کیا،میرا رب بھی آپ کو معاف کردے گا”
ساحل نے پتھر پر کھڑے ہو کر بلند آواز سے کہا تھا اس کی آواز پوری غار میں گونجی تھی۔
اسی وقت وہ عورتیں ساحل کو شکریہ کہتی ہوئی سجدے میں گِر گئیں تھیں۔ان عورتوں میں زیبا اور مایا بھی تھیں۔
اب وہ سب اپنے اپنے اصلی روپ میں آ گئی تھیں ان پر سے بد دعا کا اثر ختم ہو گیا تھا۔
“زیبا ؟؟؟مایا میری جان؟؟؟”
ولی وہاں ایک دم سے آیا تھا وہ روتا ہوا ان کو گلے سے لگا رہا تھا۔
“مجھے معاف کردو ولی مجھ سے غلطی ہو گئی میں نے آپ کو سچ نہیں بتایا کیوں کہ میں ڈرتی تھی کہ کہیں آپ مجھ سے شادی سے انکار نا کر دیں اور میں ایک بار پھر بے آسرا نہ ہو جاؤں اور میں جانتی تھی اسلم مجھے واپس نہیں رکھیں گے”
وہ روتے ہوۓ بولی تھی۔
“وقت کم ہے اس سے پہلے کہ وہ شیطان شاکا یہاں پہنچے ہم سب کو یہاں سے کسی محفوظ جگہ پر جانا ہوگا”
ساحل نے ان سب کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا تھا۔وہ بہت خوبصورت مسجد تھی جس میں ساحل ان تمام عورتوں کو لے آیا تھا۔وہ اندر جاتے ہی سجده ریز ہو کر اللّه سے گڑگڑاکر معافی مانگنے لگیں تھیں۔
“آپ سب لوگ غسل کر لیں”
ساحل نے سب کو مسجد میں موجود غسل خانوں میں باری باری غسل کرنے بھیجا پھر وہ بلند آواز میں بولا
“لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ”
سب نے کلمے کو سن کر دوہرایا تھا۔
پھر ساحل نےان کو قران پاک دیا اوربولا
“قران پاک جس کو آتا ہے جو مسلمان ہے وہ پڑھ لیں جو نو مسلم ہے وہ اس کے اوراق کو چوم کر سکون حاصل کر لے بیشک دلوں کا سکون رب نے اپنے پاک کلام میں رکھا ہے”پھر وہ خود ولی کے ساتھ باہر آگیا۔
وہ عورتیں زور قطار روتی رہی اور قران پاک چوم چوم کر پڑھتی رہی۔
“افسوس رب تو فقط چند لفظوں کے اقرار کی دوری پر تھا اور ہم نے اتنا عرصہ خود کو اس کی رحمت سے محروم رکھا”
وہ دیوانہ وار قران کو چوم کر تھک نہیں رہی تھیں۔بد دعا کا اثر ختم ہوتے ہی وہ اپنی اپنی عمر کے حساب سے دکھنے لگی تھیں وقت گزرنے کے اثار ان کے چہروں پر ایک عام انسان كی طرح دکھنے لگے تھے۔
ساحل اور ولی جیسے ہی باہر آئے شاکا برہم سا ان کے سامنے آیا تھا۔
اس نے جیسے ہی ساحل پر حملہ کیا ولی نے ساحل کو اپنی طرف کھینچا ساحل ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گیا اس كی سانس بری طرح پھولی ہوئی تھی۔اس نے فورا پانی مانگا تھا۔
ڈاکٹر طاہر نے اسے پانی دیا تو ساحل كی نظر سامنے لیٹے ولی پر پڑی وہ فورا بولا
“میں نے ابھی ابھی اسے خواب میں دیکھا ہے”
“ڈاکٹر حمزہ آپ ان کو فلحال وارڈ میں لے جایئں باقی کا لاسٹ سیشن کل کہیں جا کر کریں گے،ابھی آپ سب ریسٹ کریں”
ڈاکٹر طاہر ولی کے پاس آ کر بولے تھے۔
“یہ بہت جلد ٹھیک ہو جائے گا اور لوگوں کو مال حلال کی ترغیب دے گا”
ساحل نے جاتے ہوۓ ولی کو دیکھا اور کہا جس پر خوشی اور حیرانگی سے ڈاکٹر طاہر نے ڈاکٹر حمزہ کو دیکھا تھا۔
وہ دونوں آنکھوں آنکھوں میں ایک دوسرے کو کامیابی کی مبارک باد دے رہے تھے۔
ڈاکٹر حمزہ ساحل کو وارڈ میں چھوڑ کر خود بھی سونے چلے آئے تھے۔ان کے گھر کے لوگ بھی اسی تالاب کا حصہ بن چکے تھے۔اس نے اپنا گھر اس گاؤں سے باہر ہی بسا لیا تھا اس کی بیوی آج کل زچکی کے لئے اپنے میکے گئی ہوئی تھی لہذا ڈاکٹر حمزہ کے پاس ساحل کی مدد کرنے کے لئے وقت ہی وقت تھا۔جبکہ ڈاکٹر طاہر خاص ساحل کے کیس کے لئے دوسرے شہر سے بلوائے گئے تھے جو ساحل کا مسئلہ حل کر کے ہی واپس جا سکتے تھے۔
رات بہت ہو چکی تھی اور مسلسل ہوتی بارش نے خنکی بھی بڑھا دی تھی وہ سب سکون سے سو گئے تھے۔ساحل بھی آج کافی دنوں بعد پر سکون نیند سو پایا تھا اس کے پاس لگے بیڈ پر زمرد خان سو رہا تھا۔ساحل کا خواب شروع ہوا تھا۔
بہت پیارے پھول تھے۔زاہرہ پھولوں جیسا بنا ہوا خوبصورت لباس پہنے ہاتھ میں قرآن پاک پکڑے خوبصورت آواز میں تلاوت کر رہی تھی ساحل پاس بیٹھا سر جھکائے ان کی تلاوت سن رہا تھا۔پھر انہوں نے قرآن پاک چوم کر بند کیا ور ساحل پر اپنا پڑھا ہوا سبق پھونک دیا۔
“تم نے بہت اچھا کیا بیٹا ان عورتوں کو میری طرف سے معافی دے کر،بیشک میں بھی بہت گناہ گار تھی مگر میں نے یہاں آ کر دیکھا اللّه نے میرے بہت سے گناہوں کی پوچھ گچھ کئے بغیر ہی معاف کردئیے تب مجھے بہت افسوس ہوا کہ کاش میں نے بھی ان کو معاف کر دیا ہوتا بد دعا نا دی ہوتی۔بیشک بد دعا دینا ایک ناپسندیدہ فعل ہے،بڑائی تو معاف کرنے میں ہے،جب ہم کسی کے حق میں دعا یا بد دعا کرتے ہیں تو فرشتے دونوں صورتوں میں وہ ہی دعا یا بد دعا ہمارے حق میں کر کے اس پر آمین بولتے ہیں،میں واقعی مظلوم تھی مگر یہ ضروری بھی نہیں کہ ہر بد دعا دینے والا خود کو مظلوم سمجھے اور وہ واقعی مظلوم بھی ہو لہذا بد گمانی سے بچنا چاہیئے،خاموشی اختیار کر کے معاملہ اللّه کی عدالت میں چھوڑ دینا چاہیے بیشک وہ بہترین منصف ہے”
زاہرہ ساحل کے بالوں میں ہاتھ پھیرتی ہوئی اسے اپنی گود میں جھکا چکی تھی۔
“لیکن بیٹا کبھی بھی رب سے انصاف نہیں مانگنا چاہیے”
وہ ساحل کا سر چوم کر بولی تھی۔
“وہ کیوں امی ؟”
ساحل نے سر اٹھا کر پوچھا پھر دوبارہ ماں کی گود میں سر رکھ لیا اور آنکھیں موند لی۔
“اللّه کے انصاف کا معاملہ ذرے ذرے سے برابر ہوتا ہے پھر،پھر ظالم اور مظلوم دونوں لپیٹ میں آتے ہیں،ہاں بس دعا کرتے وقت لفظ بدلا استعمال کرنا چاہیے انصاف کی بجائے”
زاہرہ نے مسکرا کر کہا تھا۔
“ساحل اب میں جا رہی ہوں اپنے بھائی ثاقب کا بہت خیال رکھنا اسے تمہاری بہت ضرورت ہے”
“جی امی میں بھائی کا بہت خیال رکھوں گا”
ساحل مسلسل یہ جملہ دوہرا رہا تھا جس پر زمرد خان نے اسے ہلا کر جگایا تھا۔
“صاحب آپ ٹھیک ہیں ؟؟”
“ہاں ۔۔۔۔میں ٹھیک ہوں،وقت کیا ہوا ہے ؟؟؟زمرد خان مجھے قرآن لا کر دو،میں وضو کر کے آتا ہوں”
ساحل کہہ کر فوراً اٹھ گیا تھا۔وہ جب تک وضو کر کے آیا زمرد قرآن پاک لے کر اس کا منتظر تھا۔
رات کے دو بج رہے تھے۔ساحل نے قرآن کھول کر اپنے سینے سے لگا کر کافی دیر آنکھیں بند رکھیں پھر وہ نم آنکھوں سے پڑھنا شروع ہوا۔پہلے لفظ پر وہ زار و قطار رونے لگا وہ اتنا رویا کہ اس کی ہچکی بندھ گئی زمرد خان نے اسے جلدی سے پانی دیا تھا۔
“زمرد بھائی آپ جانتے ہیں میں یہی بھول رہا تھا۔میری بے سکونی کی وجہ قرآن پاک کو اپنی زندگی سے نکال دینا تھی،آپ نہیں جانتے میرا دل کتنا پر سکون ہو گیا ہے اس پاک کتاب کو ہاتھ میں لیتے ہی آپ اندازہ بھی نہیں کر سکتے”
ساحل نے پھر سے قرآن پاک کو سینے سے لگا کر اسے دیوانہ وار چوما تھا۔
“میں سمجھ سکتا ہوں صاحب مگر یہ تو خوشی کی بات ہے نہ،آپ اس طرح رو کیوں رہے ہیں ؟؟”
زمرد نے ساحل کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بهرائی آواز میں کہا تھا۔
“میں نے اتنے سال تک اس پاک کتاب کو نظر انداز کر کے گزار دیئے یہ تو سراسر ہدایت ہے,اس کو تو بھیجا ہی ہمارے لئے گیا تھا پھر میں نے وہ وقت اس کے بغیر کیسے گزار لیا،اب میں وہ وقت واپس کیسے لاؤں جس میں اس پاک کتاب کا بھی حصہ تھا؟؟میں نے اس پاک کتاب کو اس کا حق نہیں دیا۔۔۔زندگی اس پاک کتاب کے بغیر ممکن ہو بھی کیسے سکتی تھی؟؟؟رب نے مجھے وہ سب تو کرنے نہیں بھیجا تھااس دنیا میں جو میں کرتا رہا میں اسے کیسے بھول گیا تھا ؟؟؟”
ساحل پھر سے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا تھا۔ زمرد خان بھی اب روتے ہوۓ وضو کرنے اٹھا تھا۔
۔**********
“اماں کیا بات ہے آج آپ رات سے چپ کیوں ہیں؟؟؟”
جينی نے خاموش کھڑی سکھاں کو کوئی تیسری بار یہی پوچھا تھا جو دروازے میں کھڑی تیز ہوتی بارش کو مگن سی دیکھ رہی تھی۔جبکہ جینی فجر پڑھ کر فارغ ہوئی تھی۔
“جیسمین ۔۔۔۔۔تیرا باپ کہتا تھا دل میں درد ہونے لگے یا گھبراہٹ ہونے لگے تو سمجھ جاؤ رب نے بندے کو یاد کیا ہے”
سکھاں ہنوز بارش کو دیکھتی ہوئی بولی تھی۔
“اماں بات کیا ہے وہ بتائیں ؟؟؟باقی رہی بات رب کی یاد کرنے كی تو وہ تو کبھی بھی اپنے بندے سے غافل نہیں ہوتا بس بندہ ہی غفلت کر جاتاہے”
جینی دوپٹے کا ستر کھول کر گلے میں ڈال کر بارش کی بوندوں کو ہاتھ میں لے کر بولی تھی۔
“جیسمین میں نے اپنی تخلیق کا مقصد ڈھونڈ لیا ہے اب میں جو کرنے والی ہوں تم نے اس دوران اس میں خلل نہیں ڈالنا”
سکھاں نے غسل کیا لباس تبدیل کيا اور وہ ایک بڑی سی چادر اپنے پاس تہہ کر کے قرآن پاک لے کر بیٹھ گئی۔اب وہ قرآن پاک کی آخری چار سورہ کو بار بار پڑھتی اور اس چادر پر پھونکتی جاتی اس عمل میں
صبح سے دوپہر ہوگئی مگر سکھاں نے نا ہی کچھ کھایا نا ہی کوئی بات کی،جينی روز مره کے کام کر کے صحن میں چار پائی پر بیٹھی ہوئی تھی۔بارش فلحال رکی ہوئی تھی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔جب وہاں ساحل،ڈاکٹر طاہر،ڈاکٹر حمزہ،زمرد خان اور ولی جو صبح ہی کومے سے باہر آگیا تھا جنگل سے ہوتے ہوۓ ادھر پہنچے تھے۔
جينی ان کو دیکھ کر دوپٹہ ٹھیک کرتی ہوئی پریشان سی لگ رہی تھی کیوں کہ آج سے پہلے یہاں کوئی بھی نہیں آیا تھا۔
“بیٹا ڈرو مت ہم بس اس جگہ کی تلاش میں ادھر پہنچے ہیں کیا آپ ہماری کوئی مدد کر سکتی ہیں ؟؟”
ڈاکٹر طاہر نے ساحل کے موبائل میں اس تالاب کی تصویر نکال کر دکھائی تھی۔
ساحل کو جينی کو دیکھ کر عجیب سا لگا تھا۔وہ اسے پہچاننے کے چکر میں مسلسل دیکھ رہا تھا جس پر وہ پریشان ہو رہی تھی۔
“وعلیکم السلام ۔۔۔نہیں میں کبھی یہاں سے آگے نہیں گئی میری امی کو پتہ ہو شاید مگر وہ اندر ہیں وہ فلحال بات نہیں کریں گی وہ کوئی وظیفہ کر رہی ہیں جس میں خاموشی شرط ہے شاید”
جینی نے سہم کر جواب دیا تھا۔
ساحل کو مسلسل جینی کو دیکھتے دیکھ کر ڈاکٹر طاہر نے ساحل کو سوالیہ انداز سے دیکھا تھا۔
“یہ لڑکی وہ ہی جس نے کل مجھے سورہ الناس پڑھائی تھی۔جس کے بعد میں نے خود کو مسجد میں دیکھا تھا۔”
ساحل نے رک رک کر بہت سوچ کر جواب دیا تھا۔ڈاکٹر طاہر بھی اب گہری سوچ میں لگ رہے تھے۔وہ حمزہ کو اشارہ کر کے سائیڈ پر ہوۓ تھے۔
“حمزہ اگر ہمیں وہ تالاب مل بھی جاتا ہے تو ہم ماسوری کو باہر نہیں بلا سکتے کیوں کہ شرط کے مطابق ساحل کا اپنی مکمل یاد داشت کے ساتھ اسے بیوی مان کر آواز دینا ضروری ہے،مگر ایک حل ہے جس سے وہ پھر بھی باہر ضرور آجائے گی”
ڈاکٹر طاہر نے جینی کو دیکھتے ہوۓ کہا تھا۔
“یہ لڑکی بہت نيک ہے،اور ساحل کی مدد بھی یہی کرے گی اس بات کا اشارہ کل ساحل کو اللّه دے چکا ہے”
ڈاکٹر طاہر اب ساحل کو دیکھ رہے تھے جو پریشان سا زمین کو گھور رہا تھا۔
“ڈاکٹر کھل کر بات کریں آپ کیا سوچ رہے ہیں؟”
ڈاکٹر حمزہ نے اپنی کنپٹی کو سہلاتے ہوۓ پوچھا تھا۔
“تو سیدھی بات یہ ہے کہ اگر ہم تالاب کے پاس جا کر ساحل کا نکاح اس لڑکی کے ساتھ پڑھوا دیتے ہیں تو ساحل ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ماسوری سے چھن جائے گا جس کا مطلب ہے وہ کبھی اسے نہیں پکارے گا اور وہ اسی گندے پانی میں قيد رہے گی۔وہ اپنی کل طاقت کا استعمال کر کے آخری کوشش کے طور ضرور باہر نکلے گی۔یہ کہانی ماسوری اور ساحل ہی ختم کرسکتے ہیں”
ڈاکٹر طاہر نے بات مکمل کی اب وہ چارپائی پر بیٹھ کرجینی کی والدہ کے منتظر تھے۔جو دروازے میں کھڑی ان دونوں كی بات سن چکی تھی۔
“مجھے یہ رشتہ قبول ہے چلیں میں آپ سب کو اس تالاب پر لے چلتی ہوں”
وہ سب اب گھنے جنگل سے ہوتے ہوۓ تالاب کی طرف جا رہے تھے بارش بھی شروع ہو چکی تھی۔
وہ سب بارش میں بھیگ چکے تھے اب اس تالاب کے سامنے کھڑے تھے۔سکھاں وہ چادر ہاتھ میں لئے کھڑی تھی۔
ڈاکٹر طاہر نے کچھ قرآنی آیات پڑھی پھر جينی کو مخاطب کیا۔
ساحل ولد سجاول کیا آپ کو ان سے نکاح منظور ہے ؟؟؟”
جينی اور ساحل اس اچانک سوال پر حیران پریشان سب کو دیکھ رہے تھے۔
“قبول ہے بول دو جیسمین ۔۔۔یہ تمہاری ماں کا حکم ہے”
سکھاں نے جينی کو محبت سے کہا تھا۔جينی نے سر جھکا کر قبول ہے بول دیا تھا۔اس کے ساتھ ہی تالاب میں ہلچل ہوئی تھی۔اب ڈاکٹر طاہر نے ساحل سے اس کی رضا پوچھی تھی اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا ماسوری بھیانک آوازیں نکالتی تالاب میں سے باہر نکلی تھی چونکہ وہ شاکا کے بتائے طریقے کے بغیر نکلی تھی تو اس کی شکل بگڑی ہوئی تھی اور اس کا پورا جسم پانی میں رہنے کی وجہ سے گلا گلا سا لگ رہا تھا۔
“ہاں مت بولنا ساحل تمہاری بیوی میں ہوں،مجھے پکارو فورا”
وہ چیخی تھی۔اسی لمحے شاکا بھی وہاں حاضر ہوا تھا جو اس سب کے لئے بلکل بھی تیار نہیں تھا اس کو بوکھلاہٹ اس کے چہرے پر صاف عیاں ہو رہی تھی۔
پہلے ماسوری پھر شاکا کو دیکھ کر ساحل کے سر میں کچھ یاد کرنے کی کوشش میں شدید درد ہوا تھا وہ اپنا سر دونوں ہاتھوں میں پکڑے نیچے بیٹھ گیا تھا۔
“ساحل نکاح قبول کرو وقت کم ہے ہمارے پاس”
ڈاکٹر طاہر چلاکر بولے تھے۔
“ساحل نہیں ۔۔۔۔۔اگر تم نے ایسا کیا میں اس کو بھی اس تالاب میں اپنے ساتھ قيد کرلوں گی”
ماسوری نے جينی پر حملہ کیا تھا۔جس پر ساحل کا درد مزيد تیز ہوا تھا۔وہ بس بیہوش ہونے کو تھا۔اسے سب دھندلا دکھائی دے رہا تھا۔وہ بے سدھ سا لیٹ گیا تھا۔
سکھاں نے جينی کو کھینچ کر اپنی طرف کیا تھا۔جس سے ماسوری کا وار خالی گیا تھا۔
“تم باہر کیوں آئی ہو بد ذات لڑکی؟؟؟”
شاکا ماسوری کو دیکھ کر چلایا تھا۔
“تم اپنی بکواس بند رکھو،نا تم مجھے یہاں قيد کرتے نا آج میں اس حال تک پہنچتی،بڑے آئے مجھے بهگوان بنانے والے،بھگوان ہوتا کیا ہے ؟؟؟اللّه بننے کی نا تو آج تک کسی نے کوشش كی ہے نا ہی کسی نے دعوا کیا ہے جس نے دعوا کیا تھا وہ فرعون ایسا
ونابود ہوگیا،پھر یہ بھگوان بن کر میں کیا کروں گی جو خود بھی اسی اللّه کا محتاج ہے ؟؟؟؟”تیری وجہ سے میں نے اللّه کو ناراض کیا ہے مگر اب میں سچے دل سے توبہ کروں گی اور ساحل کے ساتھ زندگی گزاروں گی”
ماسوری ساحل کو دیکھ کر بولی تھی جو اب اٹھ کر کھڑا ہو گیا تھا اور اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔
“تم جھوٹ بول رہی ہو ماسوری،ایک بار پھر تم میرے ساتھ ساتھ اپنے ساتھ جھوٹ بول رہی ہو،مجھے سب یاد آ گیا ہے،تم ختم ہونے والی ہو،تم سب ہوتی پر کاش منافق نا ہوتی میں تمہیں دل سے قبول کر لیتا”
وہ مزيد بولا
“مجھے یہ نکاح قبول ہے ڈاکٹر طاہر،میں اس لڑکی کو بھانپ چکا ہوں بیشک اس سے بہترین میرا ہمسفر کوئی ہو ہی نہیں سکتا”
ساحل کے یہ کہنے كی دیر تھی ماسوری برہم ہو کر تالاب سے مکمل باہر آئی تھی۔ایسا کرتے ہی وہ آگ میں جلتی ہوئی چیختی چلاتی دھواں بن کر غائب ہوگئی تھی، کیوں کہ شاکا نے اس کا حصار کھینچ رکھا تھا وہ تالاب سے باہر مکمل طور پر نہیں آسکتی تھی۔اب شاکا ساحل پر جھپٹنے کو تھا مگر اس کی اس کوشش سے پہلے ہی سکھاں نے وہ دم والی چادر شاکا کی طرف اچھال دی۔جس سے اس کو آگ لگ گئی اور اس سے اٹھتے کالے شعلے آسمان تک جانے لگے تیز بارش بھی ان شعلوں کا کچھ نہیں بگاڑ پا رہی تھی۔اس کی تکلیف کی فلک شگاف آوازیں پورے علاقے میں گونجنے لگی تھی۔اس کے ساتھ ہی اس تالاب سے وہ سب گاؤں والے باہر آئے تھے جو ماسوری کے ساتھ قيد ہوۓ تھے۔ماسوری کے باپ نے ساحل کو گلے لگا کر ماسوری کے گناہ پر شرمندہ ہوتے ہوۓ معافی مانگی تھی۔
“جب اولاد بارہ سال سے اوپر ہو جاتی ہے تو وہ اپنے اچھے برے کی ذمہ دار اور گناہ گار خود ہوا کرتی ہے،آپ معافی مانگ کر مجھے گناہگار مت کریں آپ میرے والد کی جگہ ہیں”
ساحل نے انھیں صدق دل سے گلے لگایا کر کہا تھا
جينی روتی ہوئی ماں کے گلے لگی تھی۔
“تم ہمیشہ کہتی تھی نا جینی کہ اللّه نے کوئی بھی شے بے مقصد نہیں بنائی،مگر میں کہتی ہوں ہاں یہ بھی سچ ہے مگر وہ مقصد اگر انسان خود سے کھوجتا نہیں ہے اس کا وجود بے مقصد ہی ہے،میں نے سوچا جب اللّه نے ریت کا ایک زرہ بھی بے مقصد نہیں بنایا پھر مجھے تو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل ہے میں تو سب سے افضل مخلوق ہوں پروردیگار کی پھر میں بے مقصد کیسے ہو سکتی ہوں ؟؟؟بس پھر میں نے اس منحوس شیطان شاکا کے خاتمے کو اپنا مقصد حیات بنا لیااور رب نے میری مدد کی”
“آج میں نے ثابت کر دیا تمہارے ابو مولوی برکت صاحب نے میرے انتخاب میں غلطی نہیں كی تھی”
وہ اب جينی کے گلے لگ کر رونے لگی تھی۔سب کی آنکھیں آبدیدہ ہوئی تھیں۔
وہ سب گھنے جنگل میں سے ہوتے ہوۓ اس غار کے پاس سے گزرے تھے جہاں شاکا کئی سالوں سے ان عورتوں سے نجس افعال کروا کر اس جگہ کو نجس کر چکا تھا جو شاکا کے ختم ہوتے ہی آگ کے شعلوں میں جلتی ہوئی غائب ہوگئی تھی۔
وہ تھوڑے آگے گئے تو ان کی ملاقات ثاقب سے ہوئی تهی۔جسے شاکا نے اپنے جادو سے قيد کر لیا تھا اور اس کی جگہ کسی اور آدمی کو مردہ بنا کر قابت کو مردہ ثابت کر دیا۔ وہ اصل میں بھی ثاقب کو بھی ختم کر سکتا تھا مگر پھر وہ اس کے بھيس میں ہیولا نہیں بن سکتا تھا جو ساحل کو پانی پلاتا اور زویا کو بیوی بنا کر ساحل کے پاس لے کر جاتا۔
دونوں بھائی گلے لگ کر خوب روۓتھے۔
راستے میں ان کی نظر اس بندے اسلم پر پڑی تھی جو میتوں کی بے حرمتی كر کے ان کے اعضاء بیچ کر اپنی زندگی سنوارنے چلا تھا۔انسان جتنی چاہے چال بازی کر لے وہ اپنے نصیب سے زیادہ اور وقت سے پہلے نہیں کھا سکتا ۔۔۔مگر افسوس وہ یہ بھول چکا تھا۔
ساحل نے اس کو دیکھ کر فوراً پہچان لیا تھا۔اب وہ سب مسجد کے اندر آ گئے تھے۔جہاں وہ عورتیں بلند آواز میں اللّه کا ذکر کرنے میں مصروف تھیں۔
زیبا اسلم کو دیکھ کر رونے لگی تھی۔
“میں تمہیں اپنے رشتے سے آزاد کرتا ہوں زیبا ۔۔۔تم ولی سے نکاح کرلو”
وہ یہ جملہ تین بار دوہرا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا تھا۔
پھر زیبا کا نکاح ولی سے کروا کر وہ سب گاؤں کی طرف آگئے تھے وہ گاؤں جسے پہلے اس شاخ دار بیماری اور پھر ہم جنس پرستوں کی وجہ سےزلزلہ تباہ کر چکا تھا۔
(چونکہ ایک لمبے عرصہ سے وہ الگ تھے لہذا زیبا پر عدت لازم نہیں تهی)
اب وہ دوبارہ سے آباد ہوا تھا انہی انسانوں سے مگر بس فرق تھا تو اتنا کہ اب وہاں رب کا نور تھا رب کی رحمت اور خوشنودی تھی۔
۔**********
دو سال بعد ۔۔۔۔
صبح کا وقت تھا وہ سب فجر پڑھنے اٹھے تھے۔مسجد سے راموں کی اذان دیتی آواز آ رہی تھی۔
ساحل اور جينی تہجد پڑھ کر اب نماز کے لئے اٹھے تھے۔
“ساحل چلو مسجد وضو کر لیا ہے میں نے”
ثاقب دروازے میں کھڑا ہو کر بولا تھا
“آ رہا ہوں بھئی بس احمد(ساحل کا بیٹا جس کا نام اس نے اپنے والد کے نام پر رکھا) کو پیار کر کے دعا دے رہا ہوں بیشک والدین کی دعا اولاد کے لئے کامیابی کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے والدین کو چلتے پھرتے یہ کام کرتے رہنا چاہیے۔”
“آپ نے زاہرہ بیٹی کو دعا دے دی ؟؟”
ساحل نے ٹوپی پہنتے ہوۓ باہر آکر پوچھا تھا۔
“جی ہاں دے دی ہے”
وہ سرشار سا اپنی بیٹی کے ذکر پر بولا تھا
“ساحل بھائی ؟؟”
مایا دوپٹے سے سر اچھے سے ڈھانپے وہاں آئی تھی۔
“جی بھابھی؟؟”
“زاہرہ ابھی ابھی سوئی ہے میں قرآن پاک کا سبق یاد کرنے لگی ہوں پھر آپ نے مجھے سے واپسی پر فورا سن لینا ہے ورنہ پھر میری زاہرہ اٹھ جائے گی”
وہ کہہ کر جلدی سے عبادت کے لئے بنے کمرے میں قرآن پاک لے کربیٹھ گئی تھی۔
“بھائی بہت اچھا فیصلہ کیا آپ نے مایا کو میری بھابھی بنا کر،وہ بہت اچھی ہیں”
ساحل ثاقب کا ہاتھ پکڑے باہر داخلی دروازے کی طرف جاتا ہوا بولا تھا۔
“اچھا جی ۔۔۔۔ہاں واقعی وہ بہت اچھی ہے،میں اس کے ساتھ سے مکمل ہو گیا ہوں”
وہ باتیں کرتے گلی میں آے تھے جو بڑے بوڑھوں،جوانوں اور بچوں سے بھری ہوئی تھی وہ سب فجر پڑھنے مسجد جا رہے تھے۔
ان سب نے یہ ثابت کیا تھا وہ مکمل مسلمان ہیں۔
کوئی نعت پڑھ رہا تھا تو کوئی حمد ایسا لگ ہی نہیں رہا تھا یہ صبح کے چار بجے کا وقت ہے۔ جشن کا سا سماں تھا۔۔۔۔۔۔۔ساحل اور ثاقب بھی ان کے ساتھ اس کارواں میں شامل ہوۓ تھے۔سفید جوڑے پہنے سر پر ٹوپی لئے وہ سب عاشق محمد صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کا لشکر لگ رہے تھے۔ان کے اس شور میں بھی بلا کی خاموشی تھی۔۔۔۔۔وہ خاموشی ضمیر کا سکون تھا ۔۔۔۔
وہ سب جاگ چکے تھے۔۔۔۔۔کاش ہم بھی جاگ سکتے۔۔۔۔
