Tehreer by Jameela Nawab Readelle 50381 Tehreer Episode 8
Rate this Novel
Tehreer Episode 8
Tehreer by Jameela Nawab
اب سجاول شام میں گھر جلدی آنے لگا تھا مگر یہ بدلاؤ بس کچھ دن تک تھا ۔۔۔۔
زاہرہ کی اپنی طبیعت ہی اب بیگانی رہنے لگی تھی وہ دل کے زور پر گھر دیکھتی قے کر کے مدہوش سو جاتی شوہر سے اس کا دھیان وقتی طور ہٹ گیا تھا یہی غلطی ہر عورت کر جاتی ہے وہ سمجھتی ہے باپ بنا رہی ہوں کافی ہے مگر مرد کے لئے فقط یہ بہانہ کافی نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔بس ذرا سی چونک حادثے میں بدل جاتی ہے ۔۔۔
ایک بار بھٹکا ہوا مرد شاید ہی لوٹ پاتا ہو ۔۔۔۔۔دوسری بات جیسے پانی کو نجس کرنے کے لئے ایک قطرہ ناپاکی ہی کافی ہوا کرتی ہے بلکل ویسے ہی پرسکون زندگی میں بے برکتی اور بے سکونی کی آميزش کرنے کے لئے قصدأ ایک بار گناہ کرنا ہی کافی ہوتا ہے ۔۔۔پھر وہ گناہ شاید ہی کسی مرد کا دامن چھوڑتا ہو ۔۔۔۔اللّه کسی کو ہدایت دے دے تو وہ رب كی شان ہے ۔۔۔مگر سجاول کا گزارا اب مشکل سے ناممکن ہو گیا تھا باپ بننے کی خبر زیادہ دن تک اس کے پيروں کی بیڑی نہیں بنی ۔۔۔۔
وہ زاہرہ کے ساتھ روڈ تو پہلے بھی نہیں تھا نہایت مناسب رویہ اپنائے ہوۓ تھا بس وہ اپنے دوستوں کے پاس جب کبھی بھی جاتا وہ اسے شراب بھی پلادیتے اور لکشمی بائی کے کھوٹے کی سیر بھی کروا دیتے ۔۔۔
دھیرے دھیرے یہ شوق کب لت بن گیا یہ خود سجاول کو بھی پتہ نہیں لگا ۔۔۔۔جب کبھی زاہرہ کی طبیعت زیادہ نڈھال ہوتی وہ کسی ضروری کام کا بہانہ بنا کر اپنی عادت پوری کرآتا ۔۔۔
زاہرہ کے آخری آخری دن چل رہے تھے اب ہر رات ہی بے سکون اور بےزار تھی ایسی ہی ایک رات تھی جب سجاول اس کی طبیعت خراب دیکھ کر کھوٹے چلا گیا اور پیچھے دائی زكيہ کو بلوانا پڑا ۔۔۔
صبح جب وہ رات کے خمار میں مست گھر آیا تو زاہرہ کے ساتھ ایک گول مٹول بچہ سویا ہوا تھا سجاول خوش ضرور ہوا تھا مگر رات جاگ کر گزارنے کی وجہ سے وہ زیادہ دیر جاگ کر اپنی خوشی کا کوئی خاص اظہار نہیں کر پایا وہ زاہرہ کا حال احوال پوچھے بنا ہی دوسرے کمرے میں سونے چلا گیا
زاہرہ کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا مگر وہ بیچاری اپنی قسمت کا لکھا سمجھ کر وہ درد بھی پی گئی ۔۔۔
“اور اب تو وہ ماں بن گئی تھی نا ۔۔ ماں ۔۔۔اب تو وہ بس ایک ماں تھی وہ ماں جسے اپنی اولاد کو اس کے باپ کا سایہ دینے کے لئیے یہیں صبر سے رہنا تھا ورنہ لوگ کیا کہتے ؟؟؟؟وہ اب نا کسی کی بیٹی تھی نا بہن ۔۔۔ان سب کو چھوڑ وہ تو اب ایک جیتی جاگتی مکمل انسان بھی نہیں تھی جسے سب كی طرح ایک بار ہی یہ زندگی جینے کو ملی تھی اس کا بھی دل تھا دماغ تھا کچھ خواہشیں کچھ چاہتیں تھیں۔۔۔۔۔ نہیں وہ بس اب ایک ماں تھی جسے خود کو بس ایک اچھی ماں ثابت کرنا تھا ۔۔۔۔
کاش کبھی کوئی مرد سمجھ پاتا ۔۔۔۔جب کوئی عورت قبر میں اتاری جا رہی ہوتی ہے وہ تب پہلی بار تو نہیں مرتی ۔۔۔ہاں مگر تب وہ آخری بار ضرور مرتی ہے ۔۔۔۔
اسکے شوہر کو رنڈوہ ہونے پر دلاسے دینے والے لوگ کیا جانے وہ کب کب قطرہ قطرہ کر کے جیتے جی تڑپ کر مری ہے۔۔۔۔اسکا شوہر۔۔۔۔جسے معاشرہ محض چار دیواری کاتحفظ دینے پر اسے اسکا سائباں کہتا ھے۔۔۔۔۔ وہ اس بات سے بے خبر ہے۔۔۔۔کہ وہ اسے زندہ سمجھ کر اپنے گھر میں دو وقت کی روٹی کے بدلے زندہ درگور کرتا رہا ہے اپنے الفاظ سے اس کے دل کا قتل کرتا رہا ہے ۔۔۔۔اور آج اس کی موت پر تعزیت وصول کر رہا ہے ۔۔۔۔واہ رے مرد تیری اس منافقت پر تھو ۔۔۔۔۔
وقت گزرتا گیا ۔۔۔۔مولوی صاحب گزرتے وقت کے ساتھ اپنے آخری سفر کے قريب سے قریب تر ہو رہے تھے اب وہ مشکل سے بس اذان ادا کرنے جاتے بچوں کو پڑھانا اب ان کی بس کی بات نہیں تھی
سجاول کا بڑا بیٹا اب سات برس کا ہونے کا تھا جب زاہرہ دوبارہ امید سے ہوئی تھی
کمزوری ہونے کی وجہ سے اس کی طبعیت ہر وقت خراب رہنے لگی تھی یہی وجہ تھی کہ اس کا بڑا بیٹا زیادہ وقت باپ کے ساتھ گزارتا ۔۔۔وہ رات تک بیٹھا باپ کا انتظار کرتا ۔۔۔۔وہ انسان جیسے شوہر بن کر بیوی کی منتظر نگاہوں کا کوئی احساس نہیں تھا اب بیٹے کے لئے رات کو جلدی آنے لگا ۔۔۔
زاہرہ نے اب صبر کر لیا تھا وہ آج بھی چھت پر وہیں اکیلی کھڑی تھی جہاں شادی کے شروع کے دنوں میں وہ سجاول کی واپسی کے لئے سامنے نظر آتے گیٹ پر نظر رکھنے کے لئے کھڑی ہوا کرتی ۔۔۔آج وہ اس کے بڑے بیٹے کو بھی ساتھ لے کر گیا تھا جس کا مطلب تھا وہ کم از کم بازار حسن نہیں گیا ۔۔۔
“زاہرہ بیٹی سجاول کا انتظار کر رہی ہو ؟؟”
مولوی علی محمد ہانپتے ہوۓ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آۓ تھے
“ابو آپ مجھے بلا لیتے میں آجاتی آپ نے کیوں تکلیف كی۔۔ “
“ابو انتظار ان کا کیا جاتا ہے جن كی واپسی کی کوئی امید ہو ۔۔۔۔سجاول تو کب کے جا چکے کبھی نا واپس لوٹنے کو ۔۔۔۔ آپ کے پوتے کا انتظار کر رہی ہوں ۔۔۔”
زاہرہ نے پاس کھڑے سسر کو عزت سے جواب دیا تھا
“میں سمجھتا تھا اولاد اسے بدل دے گی ۔۔ زاہرہ ۔۔۔۔مگر افسوس ۔۔۔۔۔سجاول نے اپنے باپ کو غلط ثابت کر دیا ۔۔۔۔۔مگر تم دل چھوٹا مت کرو ایسی عورت کے لئے اللّه کے ہاں بہت اجر ہے۔۔۔”
“سجاول تمہاری اس قربانی کو بھلا سکتا ہے مگر وہ رب اپنے بندے کا صبر کبھی نہیں بھولتا ۔۔۔۔رب کہتا ہے شوہر شرابی ہے،زانی ہے،جواری ہے دنیا کا کوئی بھی گناہ کرتا ہو اسے اپنے نيک اعمال صبر اور رب سے لو لگا کر دعا سے بدلنے كی کوشش آخری دم تک کرو ۔۔۔۔علیحدگی اس کا پہلا حل نہیں ۔۔۔۔ہر طرح کی کوشش کے بعد یہ اقدم نہایت آخری حل سمجھا جائے ۔۔۔میرے رب کے ہاں اس دوران ہونے والی ہر اذیت کو سہہ کر ازداواجی زندگی کو برقرار رکھنے کے بدلے بہت بڑا اجر ہے بیشک زاہرہ بیٹی ۔۔۔تمہیں اللّه اس بات کا اجر ضرور دے گا ۔۔۔”
“اپنا خیال رکھا کرو ۔۔۔بیٹا ۔۔ اس حالت میں اس طرح اداس رہنا تمہیں اور بھی بیمار کر دے گا”
مولوی صاحب نے کرسی پر بیٹھ کر شکستہ سی آواز میں یہ سب کہا تھا
“ابو میں آپ کو زندہ لگتی ہوں ؟؟؟؟”
“میں نے ۔۔۔۔ہمیشہ آپ كی بات سنی ہے ۔۔۔۔ابو ۔۔۔سب سہتی چلی گئی ۔۔۔۔وقت گزرتا گیا ۔۔۔۔مگر اب تهک گئی ہوں ۔۔۔۔اولاد ۔۔۔۔ایک عورت کے لئے سب کچھ نہیں ہوتی ابو ۔۔۔۔شوہر ۔۔۔۔شوہر کی جگہ تو کوئی بھی نہیں لے سکتا ۔۔۔اس سے نفرت بھی ہو جائے تو اس کی جگہ ویران پڑی قبرستان بن جایا کرتی ہے پھر اسے آباد کرنا کسی بھی رشتے کے بس کی بات نہیں ہوتی ۔۔۔۔ جس دل میں قبر ہو وہاں خوشی کیسے اپنی جگہ بنا سکتی ہے ابو ؟؟؟”
زاہرہ گلے میں پھنسے آنسو دبا کر بمشکل بول رہی تھی
“کسی نے کیا خوب کہا ہے ابو ۔۔۔۔”
“جو باتیں پی گیا تھا میں وہ باتیں کھا گئی مجھ کو”
زاہرہ اب باقاعده رونے لگی تھی مولوی علی محمد بھی آبدیدہ ہو گئے تھے
“ابو زاہرہ تو شادی کے بعد اس رات ہی مر چکی تھی جب ۔۔۔۔جب۔ ۔ میں نے سجاول کے جسم پر وہ بال دیکھے تھے ۔۔۔۔وہ دو بال اتنے طاقت ور تھے کے میرا قتل کر دیا انہوں نے ابو ۔۔۔۔زاہرہ تو قتل ہو گئی تھی اسی رات ابو ۔۔۔۔۔۔۔۔زاہرہ قتل ہو گئی تھی ۔۔۔۔وہ دو بال نہیں تھے خنجر تھے خنجر ۔۔۔۔سجاول کو پتہ ہی نہیں ہے یہ اب تک ۔۔۔ انہوں نے یہ آٹھ سال ایک لاش کے ساتھ گزارے ہیں ۔۔۔۔”
وہ اب بیٹھ کر گھٹنوں کے بل بری طرح رو رہی تھی
“تم نے بہت صبر کیا ہے بیٹا سجاول کو نا چھوڑ کر اللّه تمہیں اس صبر کا بہت اجر دے گا”
وہ بهرائی ہوئی آواز میں بولے تھے
“ابو زاہرہ نے تو اس رات دنیا ہی چھوڑ دی تھی پھر وہ آپ کے بیٹے کو کیا چھوڑ کر جاتی ۔۔۔۔ابو صبر کا پھل ایسے نہیں ملتا ۔۔۔۔ابو ۔۔۔۔۔بہت ۔۔۔۔۔ببببب ۔۔۔ہت ۔۔۔مشکل سے گزرتا ہے یہ صبر کا وقت ۔۔۔”
اس کا ایک ایک لفظ خون آلود محسوس ہوا تھا مولوی صاحب کو ۔۔۔
“بیٹا ہو سکتا ہے دوسری اولاد سجاول کو بدل دے ۔۔۔وہ کم از کم تمہیں نہیں چھوڑے گا تم مضبوط ہوجاؤ گی زاہرہ ۔۔۔۔۔”
مولوی علی محمد نے آخری آس دلائی تھی
“ابو اولاد عورت کو کمزور کردیتی ہے بہت کمزور ۔۔۔۔عورت اولاد سے مضبوط نہیں ہوا کرتی ۔۔۔بلکہ وہ اور محتاج ہو جاتی ہے ہاں اتنا ضرور ہوتا ہے گھٹ گھٹ کر جینے کی وجہ مل جاتی ہے ایسی وجہ جو سکون کی موت کا حق بھی چھين لیتی ہے”
زاہرہ آج کرب کی انتہاہ کو چھو رہی تھی
“بیٹا بھلا ہو لوگوں کا جو میرا بهرم رکھ لیتے ہیں ورنہ سجاول نے میرے مولوی ہونے کی بھی دهجیاں اڑا دی ہیں بس میں نے اس کے دوستوں کے متعلق چھان بین کی ہوتی تو بات اس حد تک نا بڑھتی ۔۔۔۔ ۔۔”
مولوی صاحب اب کھڑے ہو کر زاہرہ کو دلاسہ دے رہے تھے
“ابو ۔۔۔۔ایک بات بتاؤں۔۔۔۔ آپ اگر کسی عورت کو ایک طرف تپتے توے اور دوسری طرف ، دوسری عورت کی اذیت سہنے میں انتخاب کا حق دیں ۔۔۔تو جانتے ہیں کوئی بھی بھی عورت تپتے توے پر ہاتھ رکھنے کی اذیت ہنس کر سہہ لے گی مگر دوسری عورت کو برداشت نہیں کرے گی ۔۔۔۔۔مگر میں نے وہ بھی کیا ہے ابو ۔۔۔۔ مگر میں پھر بھی خالی ہاتھ ہوں “
زاہرہ نے لمبی سانس کھینچ کر کہا تھا
وہ دونوں انہی باتوں میں مشغول تھے جب باہر کا داخلی دروازہ كهلنے کی آواز پر وہ دونوں اس طرف متوجہ ہوۓ تھے
سامنے کا منظر دونوں کو مزيد صدمے میں ڈالنے کے لئے کافی تھا
سجاول لڑکھڑاتا ہوااپنے سات سالہ بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر اندر داخل ہوا تھا جس کا مطلب یہی تھا کہ وہ اب بیٹے کی ہمراہی میں لکشمی بائی کے بازار حسن گیا تھا ۔۔۔
۔************
“صاحب اب آپ کیسا محسوس کررہے ہیں ؟؟؟”
زمرد خان نے ہوش میں آتے ساحل سے فورا پوچھا تھا
“میں ٹھیک ہوں،میں اندر کیسے آیا میں تو دروازے میں پھنس گیا تھا وہ اتنے اچھے سے بند کیسے ہو گیا یار ؟؟؟”
ساحل نے بیٹھتے ہوۓ پوچھا تھا
“دروازے میں ؟؟؟کون سا دروازہ صاحب ؟؟؟”آپ تو ٹی وی لاؤنچ میں بیہوش پڑے تھے وہ تو شکر ہے میرے پاس اس گھر كی اضافی چابی تھی کافی دیر تک آپ نے دروازہ نا کھولا نا ہی میرا فون لیا تو میں خود سے اندر آگیا ۔۔۔یہ سوپ پی لیں سعدیہ بہن سے بنوايا ہے اب وہ پورے گھر کی صفائی کر رہی ہے”
وہ پیالی آگے کرتے ہوۓ بولا تھا
“یہ ٹی وی خراب تھا سلیم گیا ہے اسے ٹھیک کروانے”
ساحل نے سوپ کا گھونٹ اس بات پر منہ میں ہی روک لیا تھا وہ بمشکل اس کو نگل پایا تھا
“رات بہت طوفانی بارش تھی صاحب ۔۔۔۔بہت نقصان ہوا ہے علاقے والوں کا ۔۔۔اور تو اور بہت سی قبریں زمین بوس ہو کر زمین کے ساتھ ایسی سیدھی ہوئی کہ صاحب مانو کبھی تھیں ہی نہیں ۔۔۔۔۔غائب۔۔۔۔۔ایک دم “
زمرد خان افسوس سے ہاتھ ملتا ہوا کہہ رہا تھا ساحل کو رات کا منظر وہ کفن میں کھڑے لوگ سب یاد آیا تھا اس نے سوپ ٹیبل پر رکھ دیا تھا
“صاحب تھوڑا کام تھا مجھے اگر آپ کی اجازت ہو تو میں چلوں ؟؟؟”
زمرد خان کھڑا ہو کر سعدت مندی سے پوچھ رہا تھا
“کہاں جانا ہے ؟؟؟میں بھی ساتھ چلتا ہوں علاقہ دیکھنا چاہتا ہوں،تم گاڑی میں جاؤ میں منہ ہاتھ دھو کر آتا ہوں”
وہ اٹھتے ہوۓ بولا تھا
“ویسے جانا کدھر ہے فلحال ؟؟!”
وہ جاتے جاتے پلٹا تھا اس کا ایک ہاتھ باتھ روم کی لائٹ بٹن پر تھا
“صاحب پورے علاقے کی بجلی خراب ہے رات سے یہ آن نہیں ہوگا”
“بک شاپ پر صاحب بچوں کی کتابیں لینے نئی کلاس میں بیٹھیں گے ماشاءالله سے”
وہ خوشی سے کمرے سے جاتے ہوۓ بولا تھا ساحل باتھ روم میں گھس گیا اور وہاں موجود روشن دان مکمل اوپر کر کے کھول دیا وہ باہر كی طرف شمشان گھاٹ کی طرف کھلتا تھا
ساحل نے غیر ارادی طور پر انگلش کموڈ پر پاؤں رکھا اور روشن دان کے پار دیکھنے لگا
فلحال شمشان گھاٹ سنسان پڑا تھا ساحل جیسے ہی نیچے اترا اسے کچھ عجیب محسوس ہوا وہ دوبارہ اوپر ہوا اور روشن دان کے پار دیکھا ایک کالا چولہ پہنے شخص جس کی ساحل کی طرف کمر تھی جلتی لکڑیوں کے ڈھیر کے طرف منہ کر کے کھڑا تھا
انسانی گوشت جلنے کی باس اس نم موسم میں اس کی ناک کے نتھنے جلا رہی تھی
ساحل اس منظر سے بے چین ہوا تھا ساحل نیچے ہوا اور فریش ہو کر باہر گاڑی میں آ کر بیٹھ گیا جہاں زمرد خان اس کا منتظر تھا
کچے پکے راستوں سے گاڑی ہوتی ہوئی اب ایک بک شاپ کے آگے کھڑی ہوئی تھی ساحل بھی نیچے اترا اور وہاں موجود مختلف کتابوں کو دیکھنے لگا اسی دوران زمرد خان نے اپنے بچوں کی مطلوبہ کورس کی کتابیں لیں اور وہ دونوں گاڑی میں آ کر بیٹھ گئے
بارش بہت زوروں پر تھی زمرد کو ایک جگہ گاڑی روکنی پڑی تھی سنسان سڑک پر ایک دم ایک آدمی ہاتھ میں چھتری تھامے ان کی گاڑی کے پاس آیا تھا وہ ہاتھ سے کھڑکی کے شیشے پر ناک کر اب ساحل کو متوجہ کر رہا تھا
ساحل نے شیشہ نیچے کیا
“ساحل سر بہت شوق تھا مجھے آپ سے ملنے کا میں آپ کی ہر تحریر پر بہت شوق سے پڑھتا ہوں ۔۔۔۔ایک فرمائش کرنی تھی آپ سے سر ؟؟؟”
ساحل نے اسے حیرانگی سے فقط دیکھا تھا
“اوہ سوری سر میرا نام جوزف ہے میں ادھر ہی رہتا ہوں”
وہ ہاتھ آگے کر کے اب مصافحہ کر رہا تھا
“میں آپ کی بات سمجھا نہیں مسڑ جوزف میرے فین کیوں ہیں آپ ؟؟؟”
ساحل نے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھول کر اسے اندر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوۓ کہا تھا
“آپ ادھوری کہانیاں کے رائیٹر ساحل ہی ہیں نا ؟؟؟”
“یہ آپ ہی تو ہیں یہ دیکھیں سر”
وہ اس کتاب جس پر ساحل کی پینٹنگ سٹائل میں تصویر بنی ہوئی تھی اس کو آگے پکڑاتے ہوۓ پوچھ رہا تھا
ساحل اپنی تصویر اس بک کے ٹائل پر دیکھ کر ششدر رہ گیا تھا
“یہ ہر ہفتے اپ ٹو ڈیٹ ہوتی ہے سر میں چاہتا ہوں کہ اس بار اس میں آپ میری بیوی کھیترین کے نام کا کردار لکھو۔۔۔ وہ بھی بہت شوق سے آپ کو پڑھتی ہے ۔۔۔”
وہ گزارش کرتا بول رہا تھا ساحل نے اس کے مزيد انکشافات سے بچنے کے لئیے سر ہلا کر حامی بھر لی تھی وہ خوش ہوتا شکریہ ادا کرتا اس تیز بارش میں وہاں سے چلا گیا تھا
زمرد خان اس کی ذہنی کیفیت سے بے خبر اسے گھر چھوڑ کر اپنے گھر کتابیں رکھنے آ گیا تھا
سعدیہ کام کر کے اپنے گھر جا چکی تھی ساحل نے نا چاھتے ہوۓ بھی کاپی اٹھائی اور کھیترین کے نام کی ایک کہانی لکھنے لگا
جوزف کی باتوں سے لگ رہا تھا وہ اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا ہے ساحل نے اس کے برعکس ایک ایسی کھیترين كی کہانی لکھی جیسے اس کا شوہر بہت نفرت کرتا ہے اور روٹين کی لڑائی میں اس کا قتل کر دیتا ہے ۔۔۔۔
“اب سب کلیر ہو جائے گا اس کہانی سے”
ساحل قلم رکھ کر اب دوپہر کا کھانا کھا کر سونے لیٹ گیا تھا
رات بھی بہت آرام سے گزری ۔۔۔۔
وہ صبح اٹھا تو زمرد خان پریشان سا اس کے پاس آ کر بیٹھا تھا
“صاحب ابھی ابھی یہاں آ رہا تھا تو میں نے دیکھا ہمیں جو کل آدمی ملا تھا بارش میں لگ اس کی بیوی کو دفنانے قبرستان لے کر جا رہے تھے وہ بیچارہ غم سے نڈھال ہے ۔۔۔۔موت کی وجہ کسی کو نہیں پتہ چلی ۔۔۔۔”
یہ الفاظ کسی بم کی طرح ساحل کے کانوں میں گرے تھے
وہ بنا کوئی جواب دیے زمرد خان کو جانے کا کہہ کر اپنے کمرے میں آ گیا تھا سارا دن وہ گهبراہٹ میں سوچوں میں گم اور پریشان رہا ۔۔۔رات کا کوئی پہر تھا جب زمرد خان اس کے کمرے میں آیا تھا
“ساحل سر وہ کل والا آدمی پھر سے آیا ہے”
تاریک کمرہ جہاں صرف لیمپ کی روشنی ٹیبل کو روشن کيے ہوۓ تھی
ساحل جلدی جلدی کچھ لکھنے میں مصروف تھا وہ سر تا پير پسینے سے بھیگا ہوا تھا اس کے ہاتھ بری طرح کانپ رہے تھے قلم بار بار اس کے ہاتھ سے چھوٹ رہا تھا
“ساحل سر ؟؟؟”
زمرد خان کو اس بار ساحل سر کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اپنی طرف متوجہ کرنا پڑا تھا ۔۔۔
“پنکھا ۔۔۔ پنکھا ۔۔ چلاؤ ۔۔۔۔”
ساحل نے اپنی شرٹ خود سے الگ کرتے ہوۓ کہا تھا
“ساحل سر اے۔سی فل سپیڈ سے چل رہا ہے ۔۔ “
زمرد خان نے اے۔سی کی سپیڈ دیکھ کر بتایا تھا
“مجھے معافی دلا دو ۔۔۔۔۔۔آخری بار ۔۔۔۔میں فادر کے پاس چرچ بھی گیا تھا ۔۔۔ مجھے کہیں سکون نہیں مل رہا ساحل سر پلیز ۔۔۔۔”
اس آدمی کی آواز اب ساحل تک بھی آ رہی تھی
“اسے کہو چلا جائے یہاں سے میں ابھی کسی سے نہیں ملنا چاہتا”
ساحل ذور سے چلایا تھا
اب وہ آدمی اندر آیا تھا وہ ساحل کے پاؤں پکڑ کر رونے لگا تھا
“میں جو لکھ چکا ہوں وہ میں واپس نہیں لے سکتا جوزف ۔۔۔۔۔تم جاؤ یہاں سے ۔۔۔۔۔ “
ساحل ایک بار پھر زور سے چیخا تھا
“ساحل سر ۔۔۔۔میں ۔۔۔۔میں اپنی بیوی کیتھرين کو بہت محبت کرتا تھا ۔ ۔۔۔میں نے آپ کی وجہ سے اسے قتل کیا ہے ۔۔ مانا کہ یہ سِن ہے ۔۔۔ ایسا سِن جو فادر کو کنفیس کرنے پر بھی معاف نہیں ہوگا ۔۔ مگر یاد رکھیئے گا ۔۔۔نا آپ یہ لکھتے نا میں ایسا کرتا ۔۔۔۔
آپ کا اللّه بھی آپ کو معافی نہیں دے گا ۔۔۔میں جا رہا ہوں ۔۔۔”
ساحل اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر نوچنے لگا تھا ۔۔۔
وہ آدمی روتا پیٹتا وہاں سے جا چکا تھا کچھ لمحوں بعد گولی چلنے کی آواز کے ساتھ ہی پرندوں کے اُڑنے کی آواز اس پہاڑی علاقے میں گونجی تھی ۔۔۔
ساحل نے اٹھ کر کھڑکی سے باہر دیکھا تھا درخت پر وہ باز ابھی ابھی آ کر بیٹھا تھا جس کی کالی آنکھوں کا محور ساحل تھا ۔۔..
