275.2K
19

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tehreer Episode 2

Tehreer by Jameela Nawab

جینی کچن میں آئی تو ایک نئی مشکل اس کی منتظر تھی

اس رہائشی کمرے سے کچن کا فاصلہ زیادہ اور بارش کی رفتار اتنی تیز تھی کہ ایک تو وہ پوری طرح بھیگ گئی تھی دوسرا اس وقت وہاں موجود ساری لکڑیاں گیلی ہو چکیں تھیں ابھی بھی چھت سے بارش کا سارا پانی ان لکڑیوں پر گر رہا تھا چھت پھٹ چکی تھی

“اللّه ۔۔۔۔اتنی ٹھنڈ ۔۔۔۔۔اب کیا کروں ؟؟؟؟”

وہ بری طرح کانپ رہی تھی

“ایسا کرتی ہوں جنگل سے اس درخت کی لكڑی لاتی ہوں جو گيلی ہو کر بھی آسانی سے جل جاتی ہے”

وہ بھاگتی ہوئی جنگل میں گھس گئی تھی جہاں درخت اتنے گھنے تھے کہ بعض جگہوں پر بس بارش کی آواز اور چند قطرے ہی نیچے زمین تک پہنچ رہے تھے

یہاں کی خنکی اور بھی برداشت سے باہر تھی گهپ اندھیرا ۔۔۔

“اماں نے بتایا تھا وہ لكڑی وزن میں کاغذ کی طرح ہلکی ہوتی ہے”

وہ اندھیرے میں نیچے ہاتھ مارتی رہی جس سے کچھ لکڑیاں ایسی اس كے ہاتھ لگ ہی گئی وہ ان کو اكهٹا کر کے بھاگ کر اپنے کچن میں لے آئی اب وہ اتنی بھیگ گئی تھی کہ پانی اس کے کپڑوں سے نچڑنے لگا تھا

بڑی مشکل اس نے ایک پرانی پرات میں ان لکڑیوں کو آگ لگائی تھی وہ آگ کو ایک برتن سے ڈھانپ کر کمرے میں لے آئی تھی اب وہ اپنا کوئی خشک جوڑا ڈھونڈنے لگ گئی تب تک کمرہ پہلے سے کافی گرم ہوگیا تھا

کپڑے بدل کر وہ کافی پر سکون ہوئی تھی اب وہ آگ کے پاس بیٹھی اس پر ہاتھ رکھ کے سيک رہی تھی اور دروازے سے باہر ہوتی تیز بارش کو دیکھ رہی تھی

“کتنا مزہ آتا ہوگا ان لوگوں جن کے گھر کی چھت نہیں ٹپکتی ہوگی ۔۔۔۔۔اور گرم بستر ہوتا ہے اس موسم میں ۔۔۔۔”

“مگر آج تو ہمارا کمرہ بھی گرم ہے اللّه تیرا شکر ۔۔۔۔وہ لوگ بھی تو ہیں جن کے پاس بارش سے بچنے کا ایسا ٹھکانہ بھی نہیں ۔۔۔”

وہ بہت خوش ہوئی تھی

“سو جا جينی اس وقت کیوں بیٹھی ہوئی ہے۔۔۔”

سُکھاں نے کروٹ بدل کر چادر میں خود کو لپیٹ کر نیند میں کہا تھا

“اماں تو سو جا میں تہجد اور فجر پڑھ کر ہی سوؤں گی اب”

وہ ایک خستہ سے پرانے موبائل میں وقت دیکھ کر وضو کرنے اٹھی تھی

“سو جا جينی نیند پوری کر لے جتنی مرضی نمازیں پڑھ لے تیری قسمت میں یہ دھول مٹی ہی لکھی ہے تو جو مرضی کر لے تقدیر نہیں بدل سکتی اپنی”

سکھاں نے بند آنکھوں سے بڑبڑاتے ہوۓ کہا تھا

جينی نے کمرے میں موجود پانی سے بھرے لوٹے سے وضو کیا ماں پر ایک نظر ڈالی اور تہجد پڑھنے لگی ۔۔۔

“اے اللّه اماں کو نہیں پتہ آپ نے ان کی باتوں پر برا نہیں ماننا،،وہ نہیں جانتی اپ مجھ سے ان سے زیادہ پیار کرتے ہیں اور میں تو آپ کی عاشق ٹھہری”

“اللّه مجھے آپ سے کچھ نہیں مانگنا بس آپ مجھ سے ملنا مت چھوڑنا ۔۔۔اگر آپ نے میری قسمت میں کوئی آسائش نہیں بھی لکھی تو کوئی بات نہیں مگر اگر آگے جا کر میں نماز چھوڑ دوں گی یہ لکھا ہے تو پلیز یہ مٹا دیں ۔۔ میرے پاس اس نماز کے علاوه کچھ بھی نہیں ہے ۔۔۔۔مجھے ایک یہی فرق پیسے والوں اور خود میں اچھا لگتا ہے ۔۔۔۔ان میں سے اکثر آپ کی دی ہوئی نعمتوں میں اتنے مسرور ہوتے ہیں کہ ان کو نماز پڑھ کر کچھ مانگنے اور رو کر دعا کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔۔۔۔”

وہ اب پھر اپنی سوئی ہوئی ماں پر محبت کی ایک نظر ڈال کر باہر ہوتی تیز بارش کی طرف دیکھ رہی تھی

“اللّه یہ جھلی کیا جانے ۔۔۔۔اگر میں بھی امیر ہوتی تو میں بھی گرم بستر میں سو رہی ہوتی ۔۔۔۔پھر مجھے ٹھنڈ کیسے لگتی بھلا ؟؟؟ ۔۔۔اور میں اس قیمتی لمحوں کو گنوا دیتی ۔۔۔۔۔میں پھر آپ سے کیسے ملتی اللّه ؟؟؟؟”

“تہجد کا وقت تو صرف خاص ملاقاتوں کے لئے ہوتا ہے نا صرف آپ کے خاص بہت خاص بندے ہی اس میں جاگ کر آپ سے اپنی ساری باتیں منوا لیا کرتے ہیں میں گرم بستر میں ہوتی تو میں تو سوئی رہ جاتی نا اور یہ وقت گزر جاتا ؟؟؟”

ایک دم وہ خوفزده ہوئی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی

“اللّه مجھے ایسی خوشی ۔۔۔۔ایسی نعمت مت دیجیئے گا جس کے مل جانے کے بعد میں .۔۔۔۔میں ۔۔۔ آپ کو بھول جاؤں ۔۔۔۔اللّه ۔۔ مجھے اس دنیا کی زندگی میں مت الجھائیے گا پلیز ۔۔ میں ۔۔۔میں برباد ہو جاؤں گی اللّه ۔۔۔۔میں ۔۔۔میں ۔۔۔آپ کے محبوب صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ والہ وَسَلَّم کو کیا منہ دکھاؤں گی یا رب ۔۔۔۔مجھے ان کے سامنے شرمندہ نہیں ہونا ۔۔۔”

وہ رب سے یہ سب ایسے کہہ رہی تھی جیسے وہ اس کے سامنے ہو ۔۔۔۔اور وہ اس کی موجودگی کو کھلی آنکھ سے دیکھ رہی ہو ۔۔۔کسی مادی وجود كی مانند ۔۔۔۔

وہ گڑگڑا رہی تھی ۔۔۔۔۔اس کے رونے سے سکھاں کی نیند میں خلل پڑا تھا

“جينی۔ ۔۔۔تیری یہ ملاقات ختم ہو گئی ہو تو بس کر دے اب سونے دے مجھے ۔۔۔نا حرام کر میری نیند صبح کام پر بھی جانا ہے میں نے ۔۔۔۔کچھ نہیں بدلنے والا تیری ان باتوں سے بس میری نیند حرام کر رکھی ہے تم نے روز روز ان حرکتوں سے ۔۔۔۔”

سُکھاں سخت غصے میں آ گئی تھی

“اماں ۔۔۔نا کہا کریں ایسا ۔۔۔اچھا بس کریں آپ سو جایئں میں نہیں بولتی اب ۔”

“اگر نا ہٹوں تو کیا ہوگا تیرا اللّه ناراض ہو کر مجھ پر عذاب نازل کر دے گا مجھے تکلیف میں مبتلا کردے گا ؟؟؟؟”

وہ اٹھ کر اب باقاعدہ لڑنے لگی تھی

“نہیں اماں میرا رب تو بہت رحم کرنے والا ہے وہ انسان کی اکثر گستاخیوں پر تو بنا معافی مانگےہی معاف کر دیا کرتا ہے۔۔۔۔اور میرا اللّه کبھی بھی اپنے بندے سے ناراض نہیں ہوتا ۔۔۔یہ فقط ایک شیطانی وسوسہ اور گمان ہے جو بندے کو اپنے رب کے قرب سے محروم کر دیا کرتا ہے ۔۔ورنہ اللّه تو ایک بار اللّه پکارنے پر اپنے بندے کی طرف بجلی کی تیزی سے متوجہ ہوتا ہے ۔۔۔۔بلکہ وہ تو بھولتا ہی نہیں کبھی اپنے بندے کو ۔۔۔۔اللّه تو ہم سب کے وجود میں سانس کی طرح بستا ہے ۔۔۔بس ہم ہی اسے بھول جاتے ہیں”

وہ جائے نماز تہہ کرتی ہوئی تحمل سے بول رہی تھی

“بس مجھے نہیں سننی یہ باتیں میں نے ساری عمر ذلالت میں گزار دی لوگوں کے گھر ،کپڑے برتن صاف کرتے کرتے ۔۔۔۔مجھے اپنا یہ سب تیرے اللّه نے کیوں نہیں دیا؟؟؟؟مجھ پر کیوں نہیں کیا رحم ؟؟؟؟”

سکھاں اٹھ کر بیٹھ گئی تھی

“اماں یہ سب مقدر کے کھیل ہیں ۔۔۔۔اللّه دے کر بھی آزماتا ہے اور محروم رکھ کر بھی ۔۔۔۔سب کا پیپر الگ ۔۔۔سوال الگ ۔۔ جواب الگ ۔۔۔۔۔اور پھر نتائج بھی۔۔۔۔۔

اماں اللّه نے کہا ہے اپنی نعمتوں اور محرومیوں میں مقابلہ بازی نا کرو ورنہ تفرقے میں پڑ جاؤ گے بھٹک جاؤ گے ۔۔۔۔کیوں کہ تم نہیں جانتے مگر میں جانتا ہوں اصل زندگی تو مرنے کے بعد شروع ہوگی ایک مومن کی ۔۔۔۔یہ دنیا ۔۔۔۔یہ رونقیں تو بس نظر کا دهوکا ہے ۔۔۔۔امیری غریبی ۔۔۔۔سب امتحان ہے اماں ۔۔۔یہ دنیا ایک امتحان گاہ سے زیادہ کچھ نہیں ہے ۔۔۔”

جينی دروازے میں کھڑی بارش دیکھتی ہوئی مگن سی بول رہی تھی

“تم سے میں کیسے جیت سکتی ہوں باپ جو مولوی تھا تیرا جينی ۔۔۔۔یہ ساری باتیں وہ تب سے کرتا تھا جب تم ابھی میرے پیٹ میں تھی ۔۔۔۔۔روز یہی باتیں ۔۔۔۔حق ہاآآ ۔۔۔۔۔آخری سانس تک اس کی باتیں یہی تھیں ۔۔۔جب تک وہ زندہ تھا گھر میں پیٹ بھر کر سوتی تھی ۔۔۔نماز کی بھی پابند تھی پھر جب وہ چلا گیا ۔۔۔۔زمانے نے مجھے اتنا ستایا کہ اتنی شکایت ہوئی مجھے اللّه سے کہ میں نے سجده کرنا ہی چھوڑ دیا ۔۔۔۔اس نے مجھے بے مقصد بس ذلیل کرنے کے لئے پیدا کیا ہے ۔۔۔لوگوں کی باتیں سننے”

سکھاں اب رو دی تھی

“اماں اللّه نے ایک پتا بھی بے مقصد نہیں پیدا کیا پھر آپ تو اشرف المخلوقات ہیں ۔۔۔۔آپ کا بھی بہت خاص مقصد ہوگا ۔۔۔۔بس یہ وقت آپ کو بتا دے گا ۔۔۔چلیں اب اٹھ ہی گئی ہیں تو نماز پڑھ لیں ۔۔۔فجر ہو گئی ہے”

جينی آگ ٹھیک کرتی بولی تھی

“نہیں پڑھنی میں نے نماز جس دن اللّه نے مجھے بھی کوئی سکھ دیا پڑھ لوں گی نماز ۔۔۔سونے لگی ہوں اب نا آئے تیری آواز”

سکھاں آگ کے پاس چٹائی کھسکاتی ہوئی چادر اوڑھ کر دوبارہ جلد ہی اونگنے لگی تھی

“اب روز بارش ہوگی ۔۔۔۔مون سون کی بارش ۔۔۔لكڑیاں پہلے سے ہی جمع رکھوں گی ۔۔۔ہاے کتنا مزہ آ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔اللّه تیرا لاکھ لاکھ شکریہ ۔۔۔اللّه اب سونے لگی ہوں اٹھ کر باتیں کریں گے”

وہ مسكراتی ہوئی پر سکون سی آگ کے پاس ہی سو گئی تھی ۔۔۔

وہ خوش تھی خوش کیوں نا ہوتی اطمینان کی دولت جو تھی اس کے پاس ۔۔۔۔جو کسی بازار سے خریدی نہیں جا سکتی ۔۔۔۔

وہ کچا مٹی کا بنا کمرہ ۔۔۔۔بارش کا شور ۔۔۔جلتی ہوئی آگ اور جينی اور جينی کا اللّه ۔۔۔۔

سکون ہی سکون تھا وہاں ۔۔۔۔

۔***********

اس حویلی میں زویا اور ساحل کے علاوہ کوئی بھی نہیں ہوا کرتا تھا

ساحل کا کمرہ دوسری منزل میں اوپر تھا اور زویا نیچے سویا کرتی تھی گھر میں صرف صاف صفائی کرنے والیوں کا آنا جانا تھا مگر وہ سلسلہ بھی بس دوپہر تک کا تھا باقی کا کام زویا خود کر لیا کرتی تھی

ساحل نے پورے گھر کی تلاشی لی تھی مگر کسی کے اندر آنے کے کوئی بھی شواہد نہیں ملے تھے

وہ بھاگ کر کچن میں گیا جہاں اب بھی سب ویسے ہی پڑا تھا جیسا وہ دن میں چھوڑ کر گیا تھا مطلب زویا دن میں باہر سے آنے کے بعد برتن سمیٹنے اور دوپہر کا کھانا بنانے کچن میں نہیں آئی تھی جو کہ الگ سے ایک حیران کن انکشاف تھا

“جو بھی ہوا فلحال سب سے ضروری کام اس لاش کو ٹھکانے لگانا ہے”

ساحل نے دماغ کو جگا کر فوری طور زویا کو فانوس سے اتار زمین پر لٹایا تھا وہ ابھی بھی ساحل کو ہی دیکھ رہی تھی

زویا ۔۔۔۔۔میری جان ۔۔۔۔تمہیں کس نے مار دیا ۔۔۔۔ثاقب بھائی کو کیا کہوں گا،کیا بتاؤں گا”

ساحل اس کی لاش گود میں رکھ کر مسلسل نم ہوتی آنکھیں صاف کر رہا تھا

زویا کی موت کی وجہ سرے سے سمجھ سے باہر تھی کیوں کہ اس کا پورا جسم سلامت تھا پھر خون کہاں سے نکل کر بہہ رہا تھا یہ بھی ایک عجیب سوال تھا

ساحل نے اس کی لاش کو زمین پر رکھا اور دروازہ کھول کر صحن میں آیا جہاں الو اور ديگر پرندوں کے بولنے کی بھیانک آوازیں مسلسل آ رہیں تھیں پورا دن مسلسل بارش ہونے کی وجہ سے مینڈک کی آواز بھی اس شور میں

شامل تھی ہوا بند تھی

اس نے مین گیٹ کھولا اور حویلی سے باہر گھنے درختوں کے درميان بیلچے سے کھدائی شروع کردی پھر زویا کو کندهوں پر لاد کر اس گڑھے میں دفنا دیا وہ روتا رہا اور مٹی برابر کرتا گیا

مٹی گيلی ہونے کی وجہ سے نرم تھی جس سے گڑھا کھودنے میں آسانی ہوئی تھی

بادل زور سے گرجے تھے جس کا مطلب تھا بارش جلد ہی دوبارہ شروع ہونے کو تھی جس سے زویا کی قبر سارے کیچڑ میں ایک جیسی لگنے لگتی اور کوئی بھی فرق باقی نا رہتا ۔۔۔

ساحل نے جلدی سے بیلچہ لے کر اندر کی طرف بھاگا تھا اس نے گیٹ تک پہنچ کر ایک بار مڑ کر اس گڑھے کی طرف دیکھا تھا اسی وقت دوبارہ سے بادل گرجے ہر جگہ روشنی ہوئی ساحل نے دیکھا زویا کی قبر پر بہت سے بڑے بڑے پروں والے جنگلی پرندے بیٹھے ہوۓ تھے ان کی آنکھیں ضرورت سے زیادہ سیاہ تھیں ان كی نظر میں غصہ تھا اور وہ ساحل کو ہی گھور رہے تھے

ساحل کو زندگی میں پہلی بار خوف محسوس ہوا تھا اس نے گیٹ کھلا چھوڑ دیا اور اندر کی طرف بھاگ گیا

وہ بھاگتا رہا پورا گھر کھلا چھوڑ کر اس نے اپنے کمرے میں پہنچ کر اندر سے دروازہ لاک کر کے ہی دم لیا ۔۔۔

اسی وقت بجلی زور سے کڑکی اور ساتھ ہی بجلی گل ہوگئی پورا علاقہ اندھیرے میں نہا گیا

ساتھ ہی بارش نے پھر سے زور پکڑ لیا

اب پورا کمرہ اندھیرے میں ڈوب گیا تھا سوائے اسٹڈی ٹیبل کے جہاں ساحل نے بیٹھ کر زویا پر کچھ لکھا تھا لیمپ مدهم سی روشنی کے ساتھ جل رہا تھا شاید بجلی مکمل طور نہیں گئی تھی بس ڈِم ہوئی تھی

کمرے کی کھڑکی شاید کھلی رہ گئی تھی کیوں کہ ٹیبل پر پڑی ڈائری کے صفحات تیزی سے پلٹ پلٹ کر اس شور کر رہے تھے

ساحل کو کوئی قوت محسوس ہوئی تھی جو اسے اس ٹیبل پر اپنی طرف بلا رہی تھی وہ کمفرٹر اوڑھے دبک کر لیٹا ہوا تھا

اب کمرے میں بس ان صفحات کی آواز زور پکڑے ہوئی تھی ساحل کا دماغ اور کان اس آواز سے بس پھٹ جانے کو تھے وہ اپنے ہاتھ کانوں پر رکھ کر اپنے گھٹنوں کو پیٹ سے لگا کر خوفزده سا لیٹا ہوا تھا

آخر تنگ آ کر وہ اٹھا اور اس ٹیبل کے پاس پڑی کرسی پر بیٹھ گیا اور اس ڈائری کو بند کر دیا ۔۔۔

کچھ دیر کے لئے کمرے میں سکون ہو گیا تھا اب صرف بارش کی آواز تھی وہ اس ڈائری پر ہاتھ رکھ کر اپنا سر ٹیبل پر جھکا کر اب زویا کے متعلق سوچ رہا تھا جب اس کی آنکھ لگی

تیز بارش، سیاہ رات وہ وہی موجود تھا جہاں وہ زویا کو دفنا کر آیا تھا

جب اس نے بہت سی سیاہ برقعے پہنے عورتوں کو اس طرف آتے دیکھا تھا

وہ بھاری بھرکم عورتیں عربی عورتوں كی طرح لمبی چوڑی جسامت کی مالک تھیں ساحل سانس روکے ان کو سہم کر یک ٹک رہا تھا

وہ ساحل کے پاس آئیں اور کسی خاص زبان میں ایک دوسرے سے بات کی جو ساحل کی سمجھ سے باہر تھی وہ جانتا تھا تو بس اتنا کہ یہ زبان عربی نہیں تھی اب وہ ساحل کی طرف دیکھ رہی تھیں

ساحل بے بس سا ان کی مرضی کے مطابق ان کے بنا کہے شرٹ اتار کر اب اوندھے منہ لیٹ گیا تھا اب وہ اس کی کمر پر کچھ لکھ رہی تھیں جس ساحل کو تیز جلن محسوس ہوئی تھی

انسانی جسم جلنے کی باس بھی ہوا میں شامل ہو چکی تھی وہ آگ کے شعلے سے ساحل کی کمر پر کچھ لکھ رہی تھیں

ساحل شدید تکلیف میں مبتلا تھا مگر خاموشی سے لیٹا رہا ۔۔۔

ایک دم تیز روشنی سے ساحل کی آنکھیں کھلی تھیں وہ کمرے میں موجود تھا اور وہ سر ٹیبل پر رکھے بیٹھا ہوا تھا

کمر کی جلن ابھی بھی اس کو تکلیف دے رہی تھی اس نے شرٹ اتاری اور کھڑے ہو کر کمرے میں موجود چاروں طرف کے شیشوں میں خود کو دیکھا جو منظر اس کو نظر آیا وہ بہت خوف ناک تھا

اس کی کمر کو آگ سے داغ کر شیطانی علم کی خاص علامت دجال کی ایک آنکھ بہت واضح انداز میں اس كی کمر پر بنائی گئی تھی

اس کے زخم سے خون رس رہا تھا اور سردی کی وجہ سے پورے جسم تیز بخار محسوس ہوا تھا

ایک دم پورے کمرے میں بہت سی عورتوں کا ایک ساتھ قہقہ بلند ہوا تھا

وہ گھبرا کر واپس کرسی پر بیٹھ گیا تھا اور اس کی نظر اپنی کل کی لکھی تحریر پر پڑگئی جس سے اس کی حیرانی میں مزيد اضافہ ہوگیا تھا

“زویا کی لاش فانوس سے لٹک رہی تھی”

جاری ہے

وہ اتنی کہانی لکھ کر ،کل پہلی قسط لکھ کر سونے لیٹ گیا تھا یہ جملہ سسپنس بنانے کے لئے پہلی قسط کے آخر میں لکھا گیا تھا زویا کو کوئی کیوں اور کیسے مارے گا یہ تو ابھی اس نے سوچا ہی نہیں تھا

اس نے زویا نام محض اپنے کردار کا رکھ کر اس میں اپنے بھائی کے لئے اس کی بیوی کے برے کردار کی طرف اس کی توجہ دلوانے کے لئے کچھ ہنٹ رکھے تھے ورنہ اس کا مقصد اصل زویا کو اپنے بھائی کے ہاتھ مروانے کا ہرگز نہیں تھا

وہ اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا

یہ محض اتفاق ہے ورنہ میرے لکھ دینے سے وہ کیسے مر سکتی ہے ؟؟؟؟؟

“یہ تحریر مجھے جيل بھیج دے گی”

اس نے اس ڈائری کو لیا اور نیچے کچن میں جا کر اس کو آگ لگا دی پھر راکھ کو گھر سے باہر جا کر بارش میں بہا دیا….

وہ یہ سب كر کے مڑ کر اندر جانے کو تھا جب اس کی نظر زویا کے مدفن کی جگہ پر پڑی تھی جہاں میت کو نہلانے والا پھٹہ پڑا ہوا تھا

اور زویا اس پر بیٹھی خود پر پانی ڈال رہی تھی

ساحل نے ایک بار پھر اندر کی طرف دوڑ لگا دی تھی زویا کے بلند قہقے اندر تک اس کا تعاقب کر رہے تھے

۔*************

یہ گاؤں اور شہر کے درميانے راستے میں ایک سركاری ہسپتال تھا جہاں شازونادر ہے کوئی ڈاکٹر آیا کرتا وجہ اس کا نہایت ہی سنساں سڑک پر وہ بھی کافی اندر کی طرف جا کر تعمیر ہونا تھا

دوسری وجہ اس میں موجود سرد خانہ تھا جہاں دور دور سے میتیں لا کر لمبے عرصہ تک یہاں رکھی جاتی تھیں ایسا صرف ان میتوں کے ساتھ کیا جاتا تھا جن کی موت مشکوک ہونے کی وجہ سے وارثین کو میت دینے سے پولیس انکاری ہوتی تھی اور مقدمے کا فیصلہ ہو جانے تک دفنایا بھی نہیں جا سکتا تھا اور بھی ایسی بہت سی ذيلی وجوہات والے مردے جن کو غیر معینہ مدت تک رکھنا مقصود ہوتا ۔۔۔۔

اب یہ ساری سہولیات ہو کر بھی فقط سرد خانے تک محدود ہو کر رہ گیا تھا

اکثر ڈاکٹر یہاں بوریت کا شکار ہوتے اور اپنے تعلقات کی بنیاد پر یا تو اپنی ٹرانسفر کروا لیتے یا یہاں آتے ہی نا اور ان کو تنخوا گھر میں پہنچا دی جاتی ۔۔۔

یہ انہی دنوں کی بات تھی جب فلحال یہاں کوئی ڈاکٹر نہیں تھا ۔۔۔۔۔

“یار میں ایک بندہ اتنے مردوں کو کیسے ہینڈل کروں گا میرے ساتھ کا لڑکا بھی آج بارش كی وجہ سے نہیں آیا”

ولی نے بیزاری سے لاشوں سے بھرے ٹرک کی طرف دیکھ کر کہا تھا

“یار بہت برا زلزلا تھا پورا گاؤں ختم ہوگیا ہے شاید ہی کوئی زندہ بچا ہو۔۔۔۔۔صبح سے شام ہونے کو آگئی حکومت کی طرف سے ابھی تک کسی بھی قسم کی امداد یا بندہ بشر نہیں آیا ۔۔۔اب میں نے سوچا اللّه کا نام لے کر ان کے کفن دفن کا کرتے ہیں کچھ ۔۔۔۔”

“برکت صاحب جو ساتھ والے گاؤں میں مسجد میں امامت کیا کرتے تھے ٹرک ڈرائیور اسلم سے پہلے ہی افسردگی سے بولے تھے

“مگر یہ تو سرد خانہ ہے آپ لوگ ان کو یہاں کیوں لائے ہیں ؟؟؟”

ولی نے ٹرک کا ڈالا کھولتے ہوۓ کہا تھا

“اَسْتَغْفِرُاللّٰه”

اَسْتَغْفِرُاللّٰه”

اتنے زیادہ لوگ ؟؟؟؟؟”

“ہاں ۔۔۔۔۔بس اللّه کا قہر نازل ہوا ہے ان گاؤں والوں پر ۔۔۔۔بہت شدید زلزلا تھا ۔۔۔۔توبہ توبہ میری توبہ ۔۔۔۔”

برکت صاحب نے خوفزد ہوتے ہوۓ کانوں کو ہاتھ لگا لگا کر کہا تھا

“مگر میں ان سب کا کیا کروں ؟؟؟؟”

“میرا سوال اب بھی وہ ہی ہے”

ولی اب ٹرک پر چڑھ کر میتوں کو جو ایک ڈھیر کی طرح الٹی سیدھی ایک دوسرے کے اوپر پڑی تھیں ان میں سے کچھ کو سیدھا کرتے ہوۓ کہہ رہا تھا

اتنے میں ٹرک کا ڈرائیور بھی اس کے ہمراہ اوپر آگیا تھا

“یار ۔۔۔۔فلحال مولوی صاحب کو ان کا جنازہ پڑھ کر فارغ کرو باقی کہ سوال جواب کرتے رہے گے میں رات ادھر ہی ہوں موسم خراب ہے ان کو چھوڑ کر بھی آنا ہے واپس”

اسلم نے رازداری سے اس کے قریب ہو کر کہا تھا جس کا مطلب وہ اب بھی ٹھیک سے سمجھ نہیں پایا تھا

“اچھا ۔۔۔چلو ٹھیک ہے”

اب وہ دونوں جلدی جلدی میتوں کو سركاری ہسپتال کے برآمدوں میں ایک ترتیب سے رکھنا شروع ہو گئے

ولی نے سفيد چادریں لا کر ان پر ڈال دی

اب وہ دونوں اور مولوی صاحب ایک طرف کھڑے ہو کر ان سب کا اجتمائی جنازہ پڑھنے لگے

شام کا اندھیرا بس پھیلنے کو تھا بادل بھی گرج گرج کر کچھ بتا رہے تھے

“ولی تم ان کو اندر شفٹ کرو میں مولوی جی کو چھوڑ کر بس آ رہا ہوں”

ولی نے اثبات میں سر ہلايا اور اندر چلا گیا