275.2K
19

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tehreer Episode 17

Tehreer by Jameela Nawab

جیسے ہی وہ پہلا مرد ماسوری کے زیادہ قریب آیا ساحل جس کو آج پانی نہیں دیا گیا تھا وہ آج مکمل ہوش میں تھا وہ تکلیف سے بلبلا اٹھا تھا۔

“مت چھوؤ ماسوری کو یہ میری بیوی ہے،میری عزت ہے”

وہ اس تالاب کے کنارے بھاگ کر اس مرد کا گريبان پکڑ کر چلایا تھا۔وہ آدمی چونکہ ایک ہیولا تھا وہ ایک دم اس کے ہاتھوں میں سے غائب ہو کر دوسری جگہ پر نظر آیا تھا۔

ساحل کو جب کچھ نا سوجھا تو وہ آنکھیں بند کر کے سورہ الناس بلند آواز سے پڑھنے لگا۔جس سے وہ ہیولا تکلیف سے کراہنے لگا جب ماسوری نے یہ دیکھا تو اس نے ساحل کو اپنی پوری طاقت کے ساتھ بھیانک آواز نکالتے ہوۓ تالاب کی طرف دھکا دے دیا وہ چونکہ اس حملے کے لئے بلکل تیار نہیں تھا وہ ڈھیلا ڈھالا تالاب میں گرا اور اس کے گہرائی میں پڑے پتھر سے اس کے سر کا پچھلا حصہ ٹکڑایا جس سے وہ ایک تو فوری طور ہوش کھو گیا دوسرا اس کی یادداشت پر ایسی ضرب لگی کہ وہ جزوی طور پر کھو گئی۔اگر اس کے سر سے خون بہہ جاتا تو وہ تکلیف میں رہتا مگر اس کی یاداشت سلامت رہتی ۔

(قسط نمبر 10 میں ساحل کو پانی میں ڈوبنے والا سین بھی ڈال کر میں نے ہنٹ دیا تھا۔عام طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ سر پر اندرونی گہری چوٹ لگ جانے سے اگر خون اندر ہی بہہ کر جم جائے تو مریض یا تو اپنی یاد داشت مکمل،یا جزوی طور پر ماضی اور حال میں مكس یادیں یا پھر وہ مکمل ماضی بھول جاتا ہے مگر کچھ رشتے جیسے والدین اور بہن بھائی کی پہچان ضرور رکھتا ہے مگر ان سے جڑی یادیں کھو جاتی ہیں۔ساحل کی یاد داشت جزوی طور مٹ گئی تھی اسے اب جو کچھ بتایا جاتا وہ اسی کو اپنا حال مانتا مطلب اس کی زندگی میں کیا تھا اور کیا ہے اس بات کا سارا دارومدار ان حالات اور اس انسان پر تھا جو اسے اس کے بارے میں بتاتا)

شاکا نے ساحل کو فورا پانی سے جادو کی مدد سے باہر نکالا اور ماسوری کو اسے الٹا لیٹا کر اس کے سینے پر وزن ڈالنے کا کہا تا کہ گندہ پانی باہر نکل آئے اور اس کی سانس بحال ہو سکے۔

کچھ دیر مسلسل محنت سے وہ ہوش میں تو آ گیا مگر وہ اجنبی نظر سے ماسوری کو دیکھ رہا تھا ۔شاکا نے فورا اپنے چیلوں کو دوبارہ ماسوری پر جهپٹنے کا کہا کیوں کہ شاکا نے بہت خاص چِلّا کاٹ کر اس محدود وقت میں ساحل سے خود کشی کروا کر اپنا مقصد پورا کرنا تھا۔مگر ساحل چپ چاپ ماسوری کو دیکھتا رہا اور سر کے درد سے کراہتا ہوا وہ اٹھا اور اپنا سر دونوں سے پکڑے آہستہ آہستہ وہاں سے آبادی کی طرف چلا گیا ۔

ماسوری اپنی ساڑھی میں بیہودگی کا جو نمونہ بنی کھڑی تھی ساحل کو یہی لگا سب اس کی مرضی سے ہو رہا ہے۔

دوسری طرف ماسوری حیران پریشان اسے جاتا دیکھ رہی تھی ۔

“چھوڑو مجھے وہ تو چلا گیا اب ہاتھ مت لگانا مجھے”

ماسوری دکھ اور شکست سے چلائی تھی۔

“سب ۔۔۔سب برباد کردیا تمہاری جلد بازی نے بد ذات،میری برسوں کی تپسیا ۔۔۔سب خاک کردیا توں نے،نا تم اسے دھکا دیتی نا اس کا دماغ اپنا کام چھوڑتا بس ۔۔۔بس چند قدم دور تھا میں اپنی منزل سے بد کردار لڑکی”

شاکا کا غصہ آسمان کو چھو رہا تھا اس كے منہ سے شعلے نکل رہے تھے ۔

“کككک ۔۔کیا مطلب ؟؟؟؟کیا ہوا ہے ساحل کو ؟؟؟میں ۔۔۔میں بھگوان نہیں بن سکتی اب؟؟؟”

شاکا بنا کوئی جواب دیئے آنکھیں بند کیئے بیٹھا رہا۔

“تم نے مجھے تباہ کیا ہے لڑکی اب تم پل پل تڑپوں گی۔جب تک تم ساحل کو اس کی یاداشت کے ساتھ واپس لا کر ادھر یہ عمل نہیں کرتی تب تک تم اس گندے تالاب میں قيد رہوگی،ہاں تمہاری روح آزاد ہوگی اس کا استعمال تم صرف ساحل کو ماضی یاد کروانے کے لئے کر سکتی ہو بس،تیری اس دن کی جلد بازی کی وجہ سے پورا گاؤں مسلمان ہوگیا مجھے اس دن کا بھی بہت غصہ تھا تجھ پر ماسوری مگر آج تو حد ختم کردی توں نے،بس یہی فرق ہے تم انسانوں میں اور ہم میں تم لوگ غلطی کیے بغیر کوئی بھی کام نہیں مکمل کر سکتے،چلو دفع ہو جاؤ اب تم تبھی باہر نکل سکتی ہو جب ساحل ادھر آ کر تمہیں پکارکر باہر آنے کا نہیں کہتا اپنی مکمل یاداشت کے ساتھ،کہانی یہی سے شروع ہو کر مکمل ہوگی،باہر وقت اسی طرح گزرے گا مگر تم پر اس تالاب میں آج کا دن ہی رہے گا یہی وقت یہی لمحے تمہیں قيد کیے رکھے گے،یہی تمہاری سزا ہے”

شاکا نے آنکھیں بند کی اور کچھ پڑھ کر ماسوری پر پھونک دیا جس سے کسی چیز نے اسے تالاب میں دکھیل دیا وہ چیخ چیخ کر روتی رہی معافیاں مانگتی رہی مگر شاکا پر اس کا کوئی اثر نا ہوا۔

ساحل کسی کٹی پتنگ کی طرح بس سر پر ہاتھ رکھے بنا منزل کا سوچے چلا جا رہا تھا ۔وہ بری طرح گيلا تھا اس سے پانی نچڑ رہا تھا کچھ بارش بھی ہو رہی تھی۔

آخر وہ ایک درخت کے نیچے بیٹھ گیا تھا ۔کیا ہو رہا ہے وہ لڑکی کون تھی وہ یہ سب جاننے سے قاصر تھا۔اس کے اعصاب شل ہو چکے تھے۔

ماسوری کے باپ عبدالله کی اس پر نظر پڑی تو وہ اس کے پاس بیٹھ گیا۔

“کیا بات ہے ساحل بیٹا ؟؟؟طبیعت خراب ہے تمہاری

اور میری بیٹی کدھر ہے تم تو اسی کے ساتھ گھر سے نکلے تھے نا تالاب کی طرف؟؟”

ساحل نے اس بات پر عبدالله کو ایسے دیکھا تھا جیسے وہ غلط فہمی میں اسے مخاطب کر بیٹھا ہے۔

“وہ لڑکی ادھر ہے شاید آپ جس کی بات کر رہے ہیں اس کے ساتھ سات مرد تھے وہ ان کے ساتھ بد فعلی میں مصروف ہے”

ساحل کا سر درد سے پھٹ رہا تھا وہ اپنے ماتھے کو دونوں ہاتھوں سے دباتے ہوۓ بڑبڑاہٹ والے انداز میں گویا ہوا تھا ۔اس کی بات سنتے ہی عبدالله نے سلیم(رامو) اور اپنے باقی ساتھیوں کو چلا کر آواز دی تھی اب وہ ہاتھوں میں لاٹھیاں اٹھاے اس تالاب کی طرف نکل گئے تھے۔یہ لگ بھگ پندرہ بیس لوگ تھے۔بيک سپورٹ کے لئے ہر بندے نے اپنے ساتھیوں کو تالاب پر مزيد بندے لے کر پہنچنے کا کہا تھا ۔

ساحل ایک بار پھر درد سے بیہوش ہو چکا تھا۔

لوگ جوک در جوک تالاب پر پہنچتے جہاں شاکا ان سب کا بھی وہ ہی انجام کرتا جو اس نے ماسوری کا کیا۔

“تم سب مسلمان اب یہی قيد رہو گے جب تک تمہارا وہ مسیحا آ کر تمہیں پہچانتا نہیں ہے۔تم سب کو اس لڑکی کے جرم کی سزا ملے گی”

شاکا چلاتا رہا اور منتر پڑھ پڑھ کر ہر آنے والے کو اس تالاب میں قيد کرتا چلا گیا۔ان سب کی روح کو آزاد رکھا گیا تھا تا کہ وہ ساحل کی یاداشت واپس لانے میں اپنا اپنا کردار ادا کر سکیں۔

ان سب مردوں کے بیوی بچے جب شام تک ان کے گھر نا آنے پر شدید پریشانی میں صبح ہوتے ہی اس تالاب پر ان کی تلاش میں آئے تو شاکا نے ان کو بھی قيد کرلیا۔آہستہ آہستہ یہ تالاب اور اس کے ارد گرد کا علاقہ موت کی وادی کے نام سے جانا جانے لگا کیوں کہ جو بھی وہاں جاتا شاکا اسے قيد کر لیتا اور دنیا کی نظر میں وہ مر جاتا۔

(اگر آپ کو یاد ہو تو قسط نمبر 9 میں جوزف ساحل کو اس تالاب کا یہی تعارف “موت کی وادی” کے نام سے دیتا ہے نيز وہ کہتا ہے کہ آج تک وہاں جو بھی گیا ہے وہاں سے واپس نہیں آیا ۔اور قسط نمبر 7 میں میں ساحل نے کفن میں لپٹے بہت سے لوگوں کو اپنی طرف شکایتی نظروں سے دیکھتے ہوۓ دیکھا تھا یہ یہی لوگ تھے۔ ان کو ساحل کے بدل جانے کا دکھ تھا وہ یہی جتا کر اسے ماضی یاد کروا کر خود کو آزاد کروانا چاھتے تھے۔قسط نمبر 5 میں سرد خانے میں موجود بہت سے بھیانک لوگ ساحل کو خود کو بچانے کا کہتے ہیں وہ لوگ بھی انہی لوگوں میں سے تھے۔)

ساحل ہوش میں آیا تو اس کے کسی جاننے والے نے گاؤں کے برے حالات دیکھتے ہوۓ اسے اس کے بھائی ثاقب کی گاڑی میں اس بڑی حویلی میں چھوڑ دیا تھا ۔

شاکا جانتا تھا ساحل کا دماغ فلحال کسی خالی سلیٹ کی طرح ہے وہ اپنی شخصیت کو وہ ہی شناخت دے گا جو اس کو دکھایا جائے گا۔

اس نے اس کے آنے سے پہلے ہی اس کے کمرے کو واحیات تصاویر سے سجا دیا اور اس کو ایک خود پسند انسان ثابت کرنے کے لئے اس کے پورے کمرے کو مکمل طور شیشے لگا کر شیش محل(یہاں میرا اشارہ فضول خرچی کی طرف ہے جو آج کل عزت اور ذوق کا معیار سمجھی جاتی ہے بیشک فضول خرچ شیطان کا بھائی ہے کیوں کہ اس سے انسان میں تكبر آتا ہے اور رائی کے دانے کے برابر تكبر بھی دل میں آجائے تو وہ جنت کی خوشبو تک سے محروم رہے گا) کی شکل دے دی۔اس کے کمرے کی الماریوں میں جگہ جگہ شراب کی بوتلیں رکھ دی۔ساحل بس جانتا تھا تو اتنا کہ اس کا نام ساحل ہے اور یہ گھر اس کا ہے کیوں کہ ہوش میں آ جانے کے بعد وہ اس میں موجود تھااور جو آدمی اسے وہاں لے کر آیا تھا اس نے یہی بتایا تھا۔

ساحل ہوش میں آیا تو وہ بنا شرٹ کے بستر پر الٹا لیٹا ہوا تھا وہ آدمی اس کے ہوش میں آتے ہی چند باتیں کر کے وہاں سے چلا گیا۔

(یہاں یہ بتاتی چلوں کہ ساحل نے اکیس سال اور چند ماہ کی عمر میں ماسوری سے نکاح کیا تھا اور وہ ایک سال تک اس کے ساتھ رہا تھا اب آگے کی کہانی میں وہ بائیس سال کا ہے ابھی ماضی چل رہا ہے جبکہ حال کی کہانی میں ساحل پچیس سال کا ہے مطلب تین سال ہونے کو ہیں کہ اس کی یاد داشت گئی ہوئی ہے)

ساحل نے اس کے جانے کے بعد نیچے آیا جہاں کوئی نہیں تھا۔اس نے کھانے کی تلاش میں باورچی خانے کا رخ کیا۔اتنے میں دروازہ کھلنے کی آواز سے وہ اس طرف متوجہ ہوا تھا جہاں سے ثاقب اندر آیا تھا (یہ ثاقب نہیں ہے بلکہ شاکا کا کوئی چیلا ہے جو ثاقب کا بھیس بدل کر آیا ہے)

“ساحل بہت بھوک لگی ہے مجھے میں جانتا تھا تم نے کچھ نہیں بنایا ہوگا چلو پلیٹیں لگاؤ میں کھانا باہر سے ہی لے آیا ہوں”

ثاقب مصروف سا بولا تھا ساحل کھڑا اسے پہچاننے کی سعی کر رہا تھا ۔

“تم لگتا ہے ابھی تک بوتل کے نشے میں ہو یار ثاقب ہوں میں تیرا بڑا بھائی”

وہ مسکرا کر بولا تھا ساحل شرمنده سا کچن سے برتن لا کر اب کھانا لگا رہا تھا ۔

دونوں نے کھانا کھایا ثاقب اسے جگہ جگہ موجود گوداموں کے بارے میں بتانے لگا مقصد اسے اپنا ذریعہ آمدن بتانا تھا اس نے اسے یہ بھی باتوں باتوں میں باور کروایا کہ اس پوری جائیداد کا مالک وہ ہی لہذا اسے شان و شوقت کی بھر پور زندگی

گزارنی چاہیے۔

“چلو کسی اچھی جگہ چلتے ہیں”

کھانا ختم کرتے ہی ثاقب نے ساحل کو وہ ہی پانی باتوں باتوں میں پلا دیا جو ماسوری اسے پلا کر احساس گناہ میں مبتلا کیا کرتی تھی۔

جسے پیتے ہی ساحل گناہوں کی نیند سو گیا۔اب کے پانی میں یہ فرق تھا کہ اسے

پی کر ساحل وہ وہ سب محسوس کرتا جو شاکا اس سے کروانا چاہتا اس دوران ثاقب کا ہیولا غائب ہو جاتا ۔ساحل کو اس طرح مد ہوش ركهنے کا شاکا کا ایک ہی مقصد تھا کہ اس کی یاد داشت جیسے ہی واپس آئے اس کا کردار اتنا داغ دار ہو چکا ہو کہ وہ اسی وقت خود کشی کر لے اور شاکا کا مقصد پورا ہو جائے دوسری بات وہ ساحل کا امیج دنیا کی نظر میں وہ ہی پاکیزہ مولوی والا برقرار رکھنا چاہتا تھا یہی وجہ تھی کہ وہ عملی طور پر ساحل سے زناجیسا گھناؤنا گناہ نہیں کروانا چاہتا تھا کیوں کہ شاکا کو اس کے اچھے نام کا سہارا لے کر ہی جعلی پیر یا عامل بن کر بیوہ قوف اور پریشان لوگوں سے نجس قسم کے مطالبات منوا کر اپنی شیطانی طاقتوں کو پروان چڑھانا تھا لہذا ساحل کا بس اپنی نظر میں ہی گرنا کافی تھا۔

وقت گزرتا گیا ساحل پورا پورا دن گھر میں بند پڑا رہتا اس حویلی والے علاقے میں ویسے بھی کوئی ساحل کی اس صلاحیت سے واقف نہیں تھا ۔دوسری بات اس کو یہ صلاحیت ماسوری سے نکاح کے بعد سے ویسے بھی ختم ہو چکی تھی۔

اسی دوران تیسرا سال شروع ہونے کو تھا جب ایک دن شاکا نے نئی چال چلی اس نے زویا کی صورت اپنا ایک ہیولا ثاقب کی بیوی بنا کر اس کے پاس بھیج دیا۔اب ساحل کو پانی پلانا بھی بند کرنا تھا کیوں کہ شاکا کو اس پانی پر بہت لمبا عمل کر کے حاصل کرنا پڑتا تھا جو وہ مزيد نہیں کرنا چاہتا تھا وہ تھکنے لگا تھا۔

ثاقب زویا کے ساتھ کچھ وقت کے لئے گھر پر رہتا پھر مہینہ مہینہ غائب رہتا زویا جان بوجھ کر ساحل کے سامنے دوپٹے کا خیال نا کرتی اور اس کے پاس بیٹھ جاتی وہ خود معصوم بنی ہوئی تھی جبکہ ساحل جو اس کی طرف بڑھنے لگا تھا وہ یہی سمجھ رہا تھا زویا مجبور ہے اور ضرورت سے زیادہ اچھی ہے تبھی ثاقب کو کچھ نہیں بتاتی۔۔۔۔اب شاکا چاہتا تھا کہ ماسوری کے گلٹ سے پہلے ہی اپنی بھابھی کے ساتھ گناہ کا احساس جرم ہی یاداشت کے آتے ہی ساحل کے لئے خود کشی کی وجہ بن جائے۔وہ ساحل کا ماسوری تک پہنچنے کا انتظار نہیں کر سکتا تھا۔مگر کی اس چال کا بھی کوئی فائدہ نا ہوا کیوں کہ نجس پانی پی پی کر ساحل میں احساس ندامت کی حس ہی دم توڑ چکی تھی ۔وہ زویا کے ساتھ رنگ رلیاں مناتا اور گھاٹ پر جا کر عورتوں کو دیکھتا ۔زویا چونکہ ایک ہیولا تھی وہ مسلسل انسانی شکل میں نہیں رہ سکتی اس لئے وہ اکثر گھر سے بابر چلی جاتی جس سے زویا کا کردار ساحل کی نظر میں مشکوک ہو چکا تھا ۔اصل زویا اتنی گوری نہیں تھی جتنی اس ہیولے والی زویا کو شاکا نے بنا دیا تھا۔تا کہ اسے ساحل کی توجہ حاصل کرنے میں آسانی ہو۔ اس نے زویا کو ہیولا بنا کر ہی ساحل کی زندگی میں اس لئے شامل کیا کہ اصل زویا ایک انسان تھی اور اس کا تعلق کوٹھے سے تھا جو لوگ دیکھ لیتے اور اس طرح ساحل کی رپوٹیشین علاقے میں خراب ہو جاتی جو شاکا نہیں چاہتا تھا ۔

اسی دوران اصل زویا جو کہ کوٹھے پر اپنی بہن مایا کے ساتھ رہتی تھی وہ اس پر اسرار بیماری کا شکار ہو گئی اور تکلیف اس کی برداشت سے باہر ہونے پر اس نے خود کشی کر لی ۔

اب شاکا بری طرح تھک چکا تھا اس نے اس بات سے نیا سبق لیا اور ساحل سے وہ زویا والی کہانی لکھوا کر اسے اس کی اس صلاحیت کا غلط انداز سے ادراک کروایا اور زویا کی لاش کو اس گھر کے اندر لٹکا دیا جو کہ سب صرف ساحل ہی دیکھ سکتا تھا اس کا مقصد فقط ساحل کو ماضی کی طرف تھوڑا سا لے کر جانا تھا اسے اس کی مستقبل بھانپ لینے کی صلاحیت کو غیر مناسب طور پر یاد کروانا تھا کہ وہ جیسا لکھے گا ویسا بی ہوگا اور وہ ہمیشہ کسی كی موت لکھے گا اس کا ایک اور مقصد بھی تھا اور وہ یہ تھا کہ ساحل خود کو بہت بڑی طاقت سمجھ کر خدا سے اور دور ہو جائے وہ یہ سوچے کہ وہ کسی سے بھی زندگی چھیننے کا اختیار رکھتا ہے بیشک اپنی علم پر تکبر کرنا بھی بہت بڑا گناہ ہے ایسے علم کو تکبر دیمک بن کر چاٹ جاتا ہے پھر وہ علم اس انسان کے پاس ہو کر بھی بے فائدہ ہو جاتا ہے ۔

شاکا سے ایک غلطی ضرور ہوئی اس نے زویا کا انتخاب کر کے بہت بڑی غلطی کر دی تھی کیوں کہ اسی وجہ سے وہ غار والی عورتیں اس تک پہنچ گئی تھیں جنہوں نے اس کی کمر پر وہ مہر لگا کر اسے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا تھا اس کے دل میں گناہ کی جگہ کھوج نے لے لی تھی ۔دوسرا نقصان یہ ہوا کہ وہ زویا کی تلاش میں کوٹھے تک پہنچ گیا اور اس كی بڑی بہن مایا جس کا روپ لکشمی دھار کر بیٹھی تھی جو شاکا كی بات پر عمل کرتے ہوۓ اسے شادی کا کہہ رہی تھی اس کے سامنے آتے ہی ساحل پر اس کا اصلی گوشت کی شاخوں والا روپ عیاں ہو گیا تھا جس کو دیکھ کر ساحل کا

دل عورت سے بری طرح کٹھا ہو گیا تھا۔

شاکا یہ بھول گیا تھا کہ جو اللّه اس پورے جہان کو سنبهالے ہوۓ ہے بیشک اسکی مرضی کے بغیر ایک پتا بھی نہیں ہل سکتا۔ان عورتوں نے ساحل کی کمر پر جو مہر لگائی تھی اس سے ساحل کے اندر کا پانچ وقتہ نمازی ساحل جاگ چکا تھا وہ سوچنے لگا تھا، کھوجنے لگا تھا بیشک سوچ وچار اور کھوج انسان کو اپنے خالق تک لے جایا کرتی ہے۔

ساحل کے ماتھے پر لگی نماز کی مہر نے اس مہر پر بہت برا مانا تھا وہ ساحل کی راہ نمائی کرنے لگی تھی ۔نماز تو وہ مشعل ہے جو قبر کے اندھیرا بھی پی کر اس کو منور کر دے گی پھر دنیا زندگی کیا چیز ہے۔

دوسری طرف ماسوری بھی اب ساحل کو اپنی طرف مختلف طریقوں سے متوجہ کرنے لگی تھی اور وہ غار والی عورتیں الگ زویا کو ذریعہ بنا کر ساحل کو تحقیق پر مجبور کرنے لگی تھیں۔

ساحل نے جو زویا کو دفنا کر قبر بنائی تھی اور جو پرندے وہاں عورتوں کے ساتھ آئے تھے وہ سب ساحل پر مہر لگا کر ماضی میں لے جانے آئے تھے۔

زویا کو دفنانے کے بعد بھی جب ساحل کو تسلی نا ہوئی تو وہ اسے سرد خانے لے گیا جو کافی عرصہ سے بند پڑا ایک سركاری ہسپتال تھا اور جہاں ڈاکٹر حمزہ کی ڈیوٹی تھی جیسے کہ اکثر ہمارے ہاں ہورہا ہے کہ حکومت کے خزانے سے بس تنخواہ جاتی ہے کون لیتا ہے، کام بھی کرتا ہے کہ نہیں، ادھر ضرورت بھی ہے اس بندے کی اس بات سے کسی کو کوئی لینا دینا نہیں ۔

ساحل کے دل میں زویا کو وہاں لے کر جانے کا خیال آنا اور اسے وہاں ولی اور اسلم کے ساتھ ملوانا وہ زیادہ میتیں دکھا کر زلزلا یاد کروانا سب نورانی تھا مگر اسی دوران شاکا اسے ان میتوں میں جان ڈال کر اسے خوفزده کیا اور ماسوری اور وہ تالاب والے مرد عورت اور بچے خوفناک کر کے اسے دکھائے اصل میں شاکا کے پاس جو نجس شکتیاں تھیں وہ اسی انداز میں ساحل کو ماضی یاد کروا سکتا تھا۔

اس کے بعد ساحل کو سڑک پر جو کُبا کتاب دیتا ہے وہ اسلم کی اب کی شکل تھی زیبا کا سچ جان کر اس نے خود کو مارنے کے لئے جو اپنا ٹرک کھائی میں گرادیا تھا اس کے بعد جسم كی بہت سی ہڈیاں ٹوٹ جانے پر اس کا جسم کیڑے پڑجانے کے بعد اكهٹا ہو کر کُبا ہوگیا تھا۔اب ماضی میں ولی اور اسلم ہی تھے جو ساحل کا پاکیزہ سچ اچھے سے جانتے تھے۔

ایک طرف اللّه تعالیٰ اس كی مدد کر کے اسے اس گاؤں لے آتے ھیں تو دوسری طرف شاکا اسے خود کو زویا،گوری،کھیترين اور جوزف کا قاتل ثابت ہونے کی الجهن میں حقائق سے دور رکھنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔

یہ اتفاق نہیں ہوتا بلکہ اللّه تعالیٰ کی طرف سے مدد ہوتی ہے کہ زمرد خان سعدیہ اور سلیم کے نام کے نوکر گھر میں لاتا ہے تا کہ ساحل کا ان سے کام کے لئے زیادہ سے زیادہ واسطہ پڑے اور اسے سعدیہ سے ماسوری اور سلیم سے رامو سے جڑا اچھا وقت یاد آجائے۔

جوزف اور کھیترين محظ جُھل اور فریب ہوتا ہے جو شاکا کے چیلے ہوتے ہیں ساحل سے جوزف کا ملنا اور اپنی بیوی کا ذکر کرنا پھر ساحل کا سٹوری لکھنا،ان دونوں میاں بیوی کا مارنا سب شاکا کی چال ہوتی ہے ساحل کو خود سے متنفر کرنے کی اسی دوران جب زمرد ساحل کو بازار حسن لے کر جاتا ہے اور اسے ماسوری نظر آتی ہے وہ ماسوری کی روح اسے ماضی کی یاد کے لئے نظر آتی ہے۔

زمرد خان ساحل کو ہسپتال لے جاتا ہے وہاں رب کی مدد ڈاکٹر حمزہ کی صورت ساحل کو مل جاتی ہے جو اسے پہچان کر دل و جان سے اس کے لئے کوشش شروع کر دیتا ہے وہ ساحل کا ماضی کُریدنے کے لئے تگ و دو کرنے کے بعد اس سے جڑے ہر سچ کو جان لیتا ہے

وہ اس بات سے اچھی طرح واقف ہوتا ہے کہ خود سے ساحل کو سب بتا کر یاد کروانا کافی نہیں ہوگا ضروری ہے کہ وہ خود اپنے ماضی سے جڑے سچ کی کھوج کرے۔ ماضی میں ولی اور اسلم دو ہی ایسے لوگ حمزہ کو نظر آتے ہیں جو ساحل کی مدد کر سکتے ہیں حمزہ دونوں کا پتا لگا چکا ہوتا ہے جس میں ولی ایک سركاری ہسپتال میں کومے میں جبکہ اسلم کسی روڈ پر پورا دن بھیک مانگتا ہے اور رات وہ آبادی سے دور ایک پھٹے ہوۓ کپڑوں سے بنی جھونپڑی میں رہتا ہے۔مگر وہ یہی چاہتا ہے جب تک ساحل خود اپنے ذہن پر زور ڈال کر ان تک پہنچنے کی کوشش نہیں کرے گا سیدھا ان تک لے جانا بے سدھ ثابت ہوگا۔اور دوسری بات ساحل کو سارا سچ بتانے سے بھی اگر اسے کچھ یاد نا آیا اور وہ ذہن پر زور ڈالتا رہا تو اس کی دماغ کی رگ پھٹ جانے اور ساحل کے جابحق ہونےکا خدشہ الگ سے تھا لہذا اس کا اپنے حساب سے ہی ماضی میں جانا ہی مناسب تھا۔

اس سب کا ایک اور حل ساحل کے دماغ کی سرجری کر کے وہ جما ہوا خون وہاں سے ہٹانا تھا اس سے بھی اس کی یاد داشت بحال ہو سکتی تھی۔مگر اس میں ہائی رسک تھا کیوں کہ اس کے ٹھیک ہونے یا اپریشن کے دوران ہی فوت ہوجانے کا چانس پچاس فیصد تھا۔لہذا ماضی کا خود سے یاد آجانا ہی مناسب ترين حل تھا۔

ساحل نے نماز پڑھ کر رب سے رابطہ بحال کر لیا تھا اب رب نے دوبارہ سے اس کا ہاتھ تھام لیا تھا اب فتح زیادہ دور نہیں تھی

اب ساحل کا ماضی مکمل ہو چکا ہے اب وہ حال میں داخل ہو چکا ہے۔

اللّه کی مدد ،شاکا،ماسوری اور وہ عورتیں مل کر اسے اپنے طریقے سے ماضی یاد کروا رہے تھے یہی وجہ تھی کہ اس کا دماغ اس دباؤ سے بار بار بیہوش ہو جاتا تھا ۔

زویا مر چکی ہے اور مایا بھی اس بیماری میں مبتلا ہو کر اس غار میں پہنچا دی گئی ہے۔

اب رہی بات یہ کہ ساحل تو بہت نیک تھا پھر اس کے ساتھ یہ سب کیوں ہوا تو ہمیشہ نيک اور اچھے لوگوں کی زندگی میں ہی حق و باطل کی جنگ ہوا کرتی ہے۔

اب آگے حال کی کہانی لکھ رہی ہوں ۔

۔*************

رات کا وقت تھا جینی صحن میں کھڑی سیاہ بادلوں سے بھرے آسمان کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔بادلوں کی مسلسل ہوتی گرج عجیب سی پراسراریت لئے ہوۓ تھی وہ دوپٹہ گلے میں ڈالے آسمان کو تاکتے ہوۓ گھوم رہی تھی ۔۔۔۔۔

بادلوں کی گرج بتا رہی تھی کہ تھوڑی ہی دیر میں طوفانی بارش بس شروع ہونے کو تھی ۔۔۔۔۔

“کون کہتا ہے اللّه نظر نہیں آتا ؟؟؟؟”

وہ خود سے ہم کلام ہوئی تھی

“اس خوبصورت موسم میں اللّه ہے ۔۔۔۔۔۔”

اب بارش شروع ہو گئی تھی

“ان نهنی بوندوں میں اللّه ہے ۔۔۔۔”

وہ دونوں ہاتھوں میں بارش کا پانی جمع کرتی گھوم گھوم کر دل سے ہنسی تھی ۔۔۔۔

“اس خوبصورت لمحے میں اللّه ہے ۔۔۔۔۔۔اللّه ۔۔۔۔۔۔۔میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔میرے اس جملے میں اللّه ہے ۔۔۔۔۔”

وہ اب آنکھیں بند کر کے جھوم رہی تھی جب کسی نے اس کا ہاتھ پکڑا تھا اس نے گھبرا کر آنکھیں کھولی تو سامنے وہ ہی ہیولا انسان کی شکل میں کھڑا تھا جس نے اسے رب سے دور کرنے کی جسارت کی تھی

جينی اس سے ہاتھ چھڑوانے کی بہت کوشش کر رہی تھی مگر اس کی گرفت سخت ہوتی چلی گئی ۔۔۔

“هاهاهاهاها ۔۔۔۔۔۔

“اب کہاں ہے اللّه میری جان ؟؟؟؟

اس ہیولے کا خوفناک قہقہ بلند ہوا تھا

“اللّه ۔۔۔۔۔یا اللّه میری مدد فرما ۔۔۔۔۔۔!!!!”

جینی نے اپنے سارے ڈر کو جمع کیا اور چیخ کر کہا

“جیسے پہلے بچایا تھا ویسے ؟؟؟هاهاهاهاها ۔۔۔۔”

وہ بھیانک آواز میں طنزیہ بولا تھا

“یا اللّه ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟”

“اس واقعے نے میرا ایمان اللّه پر پہلے سے زیادہ مضبوط کیا ہے ۔۔۔۔”

جينی چلائی تھی

“اچھا تو کدھر ہے اب تیرا اللّه ؟؟؟؟”

“میری اس پکار میں اللّه ہے ۔۔۔۔”

جينی نے اس کو پیچھے دکھیلا کر دوڑ لگا دی تھی جہاں سامنے وہ کسی وجود سے ٹکڑائی تھی اس کا سر اس کے سینے میں جا چھپا تھا ۔۔۔

وہ اس کا چہرہ نہیں دیکھ پائی تھی وہ سفید خوبصورت صاف جوڑا پہنے ہوۓ تھا داڑھی سنت کے عین مطابق تھی اس کے چہرے پر روحانیت تھی اس نے منہ میں کچھ پڑھا اور اس ہیولے پر پھونک دیا جو پہلے ہی اسے دیکھ کر خوفزدہ ہوگیا تھا اس سے اس ہیولے کو آگ لگ گئی اور اس کی فلق شگاف آوازیں اس تیز بارش میں بلند ہو گئیں۔۔۔

جينی آنکھیں میچ کر خوفزده سی کھڑی تھی جب اس وجود نے لال دوپٹہ اس کے سر پر اوڑایا اور غائب ہو گیا۔

جينی کی آنکھ کھل چکی تھی اس کا پورا جسم بری طرح پسینے میں شرابور تھا۔اسی وقت فجر کی اذان اس کے کان میں پڑی تھی وہ چہرے کو اپنے دوپٹے سے پونچھتی ہوئی وضو کرنے اٹھ گئی تھی۔