275.2K
19

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tehreer Episode 16

Tehreer by Jameela Nawab

كلمہ پڑھتے ہی وہ سب ادھر مسجد میں ہی بیٹھ گئے تھے۔ثاقب ماسوری کو لے کے گاڑی میں بیٹھ گیا تھا جبکہ ساحل اب ان لوگوں کے ساتھ بیٹھا تھا۔

“بیٹا میں نے بہت سنا ہے تیرے اس سونڑے رب کے بارے آج اس کا كلمہ پڑھ کر اندازہ ہو گیا ہے کہ واقعی وہ سکون کا نام ہے۔وہ دکھتا کیسا ہے ؟؟؟”

ماسوری کے باپو نے بھرائی ہوئی آواز میں پوچھا تھا

“اللّه کو اس آنکھ سے نہیں دیکھا جا سکتا اس کے دیکھنے کے لئے اپنے مَن کی آنکھ کھولنی پڑتی ہے محترم اباں جی”

ساحل نے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا

“آپ ہمیں روز وقت دے سکتے ہیں ہم آپ جیسے مسلمان بننا چاھتے ہیں۔ہم تهک گئے ہیں جانتے بوجھتے ہوۓ کہ یہ بت سے بنا بھگوان جو خود اپنی حالت نہیں بدل سکتا وہ بھلا ہمارے لئے کیا کر سکتا ہے۔آپ کچھ دن کے لئے ہمارے ساتھ ہمارے گاؤں میں رک جایئں۔ہم مندر توڑ کر ایک مسجد بنانا چاھتے ہیں”

ان میں سے ایک دانا آدمی بولا تھا

“میں اذان دوں گا۔آپ مجھے سیکھا سکتے ہیں ؟؟؟”

راموں نے گرم جوشی سے کہا تھا ساحل کو بہت خوشی ہوئی تھی یہ سب دیکھ کر اس کی آنکھوں میں نمی آ گئی تھی۔

“بیشک میرا رب ہدایت دینے پر آئے تو پتھر بھی اس کے آگے سجده ريز ہو جایئں۔اور جب اس کو منظور نا ہو تو گوشت پوست کا بنا انسان بھی گمراہ ہو کر اپنی آخرت اور دنیا دونوں کو اپنے ہاتھوں جہنم بنا لیتا ہے۔جی بلکل میں ضرور رکوں گا آپ سب کے ساتھ یہاں”

ساحل نے سب کی طرف باری باری دیکھتے ہوۓ خوشی سے کہا تھا۔پھر اس نے ان سب کو ایک ایک اسلامی نام دیا تھا ۔وہ کسی معصوم بچے کی طرح کسی خاص تحفہ مل جانے پر اپنا اپنا نام بار بار دوہراتے اور خوشی سے اچھل جاتے۔رامو کا نام سلیم رکھا گیا تھا

(اگر آپ یاد کریں تو جو زمرد خان نے میاں بیوی کو ساحل کے گھر پر کام کے لئے رکھا تھا انکے نام سلیم اور سعدیہ تھے۔ماسوری کا نام بدل کر سعدیہ رکھا گیا تھا جو کہ اس کی بیوی کا نام تھا۔یہ دونوں بلکل الگ کردار ہیں انکا خاص کہانی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے بس اگر کچھ اہم ہے تو وہ ان دونوں کے نام تھے جن کا مقصد ساحل کو ماضی یاد کروانا تھا)

اس وقت فجر کا وقت تھا ۔وہ نماز پڑھنا نہیں جانتے تھے مگر پھر بھی اللّه کی محبت میں ساحل کی امامت میں پیچھے کھڑے اس کی پيروی کرتے رہے۔ساحل نے نماز مکمل کی اب انہیں دعا کا طریقہ بتا رہا تھا ۔

“اللّه سے دعا کرنے کے لئے کچھ مانگنے کے لئے یا کوئی بھی بات کرنے کے لئے آپ کو نا تو کسی خاص جگہ کسی خاص لباس یا کسی خاص وقت کا انتظار کرنے کی ضرورت ہے وہ ہر لمحہ،ہر جگہ ہر حالت میں آپ کو دیکھ اور سن رہا ہوتا ہے بس اس کی موجودگی کا ادراک کرنے كی ضرورت ہے”

“اگر کبھی کسی ایسی پریشانی نے گھیر لیا کہ آپ کو اللّه سے بات کرنے کے لئے الفاظ نہیں مل رہے تو بس جائے نماز پر بیٹھ جائیں آنکھیں بند کر لیں اس ذات کے آگے خود کو بیٹھا محسوس کریں اور بس دامن پھیلا کر رو دیں،وہ دکھی دل کی پکار کا جواب اس بندے کے فقط ایک بار اللّه پکارنے اور فقط ایک قدم بڑھانے پر لپک کر اس بندے کی طرف دس قدم لیتا بس اپنی ہر ضرورت میں اللّه سے ہی مدد مانگیں بیشک وہ ہر درد کی دوا ہے”

“اگر یہ پوچھیں کہ وہ آپ کے کتنا قريب ہے تو وہ آپ کے شہہ رگ جو اس جگہ ہوتی ہے اس سے بھی زیادہ قريب ہے وہ آپ کے”

ساحل نے اپنی شہہ رگ پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا ۔

یہ بات سن کر وہ سب لوگ جو لگ بھگ بیس تھے رونے لگے تھے۔اللّه نے ان کے دل کو کسی معجزے کی طرح ایمان سے بھر دیا تھا۔ساحل کو رہ رہ کر ماسوری پر پیار آ رہا تھا جس کی بدولت وہ اتنے لوگوں کو كلمہ پڑھا کر اللّه کو خوش کر پایا تھا۔

وہ سجدہ ريز ہوکر اب رو رہے تھے ساحل کے دل میں سکون بھر گیا تھا۔

اس سب کے بعد وہ لوگ پيدل اور ماسوری انکے ساتھ گاڑی میں گھر آئی۔وہ راستہ بتاتی رہی صبح کی روشنی ہر طرف پهيل چکی تھی جب وہ گھر پہنچے۔یہ ایک ہندؤانہ طرز کا بنا ہوا کچا گھر تھا جہاں دیواروں پر جگہ جگہ تصویریں لگی ہوئی تھیں

(افسوس آج کل یہی حال ہمارا ہے ہم اس بات کو يكسر فراموش کر چکے ہیں کہ کسی بھی سانس لیتی چیز چاہے وہ کوئی پرندا یا کیڑہ مکوڑہ ہی کیوں نا ہو اسے تصویر کی صورت قيد کر کے دیوار پر لگانے سے اس جگہ رحمت کے فرشتے نہیں آتے جس کا مطلب یہی ہے کہ ہماری عبادت کی قبولیت میں شک ہے)

گھر میں ٹوٹل دو ہی کمرے میں تھے۔ماسوری کی ماں پچھلے برس گزرچکی تھی اب ایک کمرہ ماسوری کے استعمال میں تھا جبکہ دوسرا اس کے باپ کے جس کا نام ساحل نے اب عبدالله رکھا تھا۔

چونکہ رات سب نے جاگ کر گزاری تھی اب سب کو آرام کی ضرورت تھی۔ماسوری نے ناشتہ بنایا اس کے بعد ثاقب اور عبدالله ایک کمرے میں اور ساحل ماسوری کے ساتھ اس کے کمرے میں آ گیا جہاں ہر جگہ دجال کی آنکھ والی تصاویر مختلف انداز سے لگائی گئیں تھیں

اس کے علاوہ بھگوان كی سات ہاتھوں والیاور بڑی سی زبان نکالے تصویر نے بھی کمرے کا منظر پُراسرار کر رکھا تھا۔ساحل نے اندر آتے ہی وہ تمام تصاویر اکھاڑ پھینکی تھیں ماسوری بس خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی ۔

باہر چونکہ بارش کا موسم تھا سورج نہیں نکلا تھا یہی وجہ تھی کہ کمرے میں مدھم سی روشنی تھی۔فلحال لائٹ نہیں تھی۔

ساحل چارپائی پر بیٹھ گیا تھا وہ ماسوری کا منتظر تھا اس نے ماسوری کے ساتھ کچھ ضروری باتیں کرنے کر لئے اس کے والد عبدالله سے خاص طور اجازت لی تھی ۔جو بے چین سی چکر کاٹ رہی تھی۔

“ماسوری ؟؟”

(میں جہاں جہاں ساحل کا ماسوری کو مخاطب کرنا لکھوں اسکا مطلب ہوگا اس نے اسے سعدیہ کہہ کر پکارا ہے مگر میں آپ کی آسانی کے لئے ماسوری ہی لکھ رہی ہوں)

ساحل کو آخر خود ہی اسے پاس بلانا پڑا۔وہ اس کے پاس جھجھکتی ہوئی آ کر بیٹھ گئی تھی۔

“میں تمہارا بہت شکر گزار ہوں تمہاری وجہ سے آج یہ نیکی کرنا میرے لئے ممکن ہوا ہے،میں تمہیں ہمیشہ خوش رکھوں گا۔تم مجھے پہلی نظر میں ہی بھا گئی تھی مگر تب تمہیں یہ سب بتانا ممکن نہیں تھا”

ساحل نے ماسوری کا ہاتھ پکڑ کر کہا تھا۔ماسوری اٹھ کر کھڑی ہوئی تھی۔

“ساحل یہ میرے باپو کا گھر ہے یہاں ہمارا قریب آنا اور اس طرح الگ کمرے میں باتیں کرنا مناسب نہیں،آپ ایسا کریں آپ ادھر اکیلے ہی فلحال آرام کریں میں گھر کا پانی ختم ہے وہ جلدی سے تالاب سے بھر لاتی ہوں تب تک سب اٹھ جایئں گے پھر ہم کچھ وقت کے لئے ساتھ میں اس علاقے کی سیر کرنے نکل جائیں گے،ٹھیک ہے ؟؟؟”

وہ نرمی سے بولی تھی۔

“ہاں ٹھیک ہے میں بہت تھک گیا ہوں آرام کرنا چاہتا ہوں تم جاؤ مگر اچھے سے خود کو ڈھانپ کر جانا بیشک اب سے تمہارے ہر گناہ کا سوال مجھ سے بھی کیا جائے گا،شوہر کو بیوی کا نگران بنایا گیا ہے”

ساحل چارپائی کو جھاڑتے ہوۓ کہہ رہا تھا ۔

“یہ سب صاف سهترا ہے ساحل آپ ایسے بھی لیٹ سکتے ہیں”

ماسوری فوراً اس کا ہاتھ پکڑ کر بولی تھی ۔

“لیٹنے سے پہلے بستر جھاڑنا سنت ہے میرے پیارے نبی صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کا کیا ہوا ہر کام فقط ہمارے لئے بہتری اور فلاح ہے اگر آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نے یہ کیا ہے تو ضرور کوئی نا کوئی مصلحت ہوگی اس میں،اور ویسے بھی ایک سنت کو زندہ رکھنے کا اجر بہت زیادہ رکھا ہے اللّه نے پھر میں وہ یہ معمولی سی محنت سنت سمجھ کر کیوں نا کروں بھلے بستر ہو صاف”

ساحل نے اچھے سے بستر جھاڑا اور دائیں كروٹ منہ کے نیچے دایاں ہاتھ رکھ کر لیٹ گیا جبکہ ماسوری ہاتھوں کی انگلیاں چٹخاتی ہوئی ساحل کا دروازہ بند کر کے باہر آ گئی۔

سیاہ بدلی نے پورا آسمان گھیر رکھا تھا۔ماسوری نے کپڑے بدل کر وہ ہی واحیات ساڑھی پہنی اور سب کے سو جانے کی تسلی کرکے تیز تیز قدم اٹھاتی ہوئی وہ گھنے جنگلوں میں سے ہوتی ہوئی اس تالاب کے پاس گئی جس کا کالا پانی دور سے ہی خوفناک لگتا تھا۔

بارش شروع ہو چکی تھی جس سے وہ بری طرح بھیگ چکی تھی۔وہ تالاب پر جیسے ہی پہنچی ایک بدصورت وجود جس کا نام شاکا تھا وہ اسکا منتظر تھا۔

“تمہیں كلمہ پڑھ کر خود مسلمان ثابت کرنے کی کیا ضرورت تھی ماسوری ؟؟؟؟تم مسجد کے اندر کیوں گئی اگر تمہارے ایسا کرنے سے میرے جادو کا سحر ٹوٹ جاتا تو ساحل پر تمہارا مستقبل فوراً عیاں ہوجاتا وہ یہ بھانپ لیتا کہ تم خاص شکتیاں حاصل کر کے خود بھگوان بن جاؤ گی تو اس سب کا ذمہ دار کون ہوتا ؟؟نا تم اس طرح كلمہ پڑھتی نا اتنے زیادہ لوگ اس کی مثبت شعاعوں سے مسلمان ہوتے ؟؟میں ایک انسان کو گمرا کرنے جا رہا تھا اور تم نے بیس بندے صراط مستقيم پر روانہ کر دیئے ؟؟؟؟”

شاکا بری طرح برہم لگ رہا تھا

“وہ سب تب مجھے بہت ضروری لگا تھا شاکا مجھے بھگوان بننے کے لئے اب کیا کرنا ہوگا ؟؟جلدی بتائیں میں جلد از جلد اس لڑکے سے دور ہونا چاہتی ہوں وہ آج جیسے ہی پاس آیا اس کے پاک وجود سے میرا خون جلنے لگا تھا ایسا لگ رہا تھا کسی نے مجھے سر تا پير آگ میں ڈال دیا ہو”

ماسوری نے تڑپ کر کہا تھا وہ مزيد بولی

“اور رہی بات ان سب کے مسلمان ہونے کی تو جیسے ہی ساحل میرے رنگ میں رنگ جائے گا وہ اس سے اور اس کے رب سے ایسا متنفر ہونگے کہ وہ واپس مندر میں ماتھا ٹیک دیں گے”

ماسوری نے وثوق سے کہا تھا جس پر شاکا کا قہقہ بلند ہوا تھا ۔

“یہ تمہیں کس نے کہہ دیا ماسوری ؟؟؟آج تک کوئی بھی مسلمان کسی دوسرے مذہب میں نہیں گیا جو ایک بار اس رب کا كلمہ پڑھ لیتا ہے وہ اس کی عبادت کے لئے نماز بھلے چھوڑ دے مگر وہ اس کا دل سے اقرار نہیں چھوڑتا۔یہ بہت بڑی بھول ہے تیری،اور رہی بات تیرے بھگوان بننے کی تو جو تمہیں یہ پانی دے رہا ہوں یہ اسے تین وقت پلا دینا اس سے اسے یہی لگے گا وہ تمہارے ساتھ جسمانی تعلق قائم کر چکا ہے،وہ اس سے ہر وقت مدہوشی محسوس کرے گا وہ نماز میں سستی اور کاہلی کا شکار ہو جائے گا،اسے ہر وقت اپنا آپ پلید لگے گا وہ بار بار نہائے گا اور سکون پھر بھی نہیں حاصل ہو گا۔۔۔۔آخر ایک وقت ایسا آ جائے گا وہ صفائی کا خیال ترک کر دے گا وہ اسی پلیدگی میں ہی مطمین ہو جایا کرے گا منہ ہاتھ تک دھونا اسے مشکل لگنے لگے گا جو کہ خاص شیطان کا چیلا ہونے کی نشانی ہے ۔اس کو ہر وقت گوری عورتوں کی طلب ہوگی تم چونکے سانولی ہو وہ تم سے خار کھائے گا تم سے بس اسے اس پانی کا مطلب ہوگا جو میں نے بہت لمبی پوجا کے بعد حاصل کیا ہے وہ اسے پی کر ہر وقت خود کو عورتوں میں فقط محسوس کرے گا مگر ہوش میں آتے ہی اسے وہ سب سچ لگے گا اور احساس گناہ اسے آہستہ آہستہ رب سے دور کرتا چلا جائے گا اس سے پہلے کہ وہ توبہ کرے تم دوبارہ پانی پلا دیا کرنا تا کہ وہ پھر سے لذت میں مسرور پڑا رہے۔وہ کسی جانور کی سی زندگی گزارنے لگے گا۔جس کا مقصد بس پیٹ اور نفس کی ضرورت پوری کرنا ہوتا ہے خدا اور رسول کے احکامات سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔وہ خود کو دنیا کا برا ترين انسان سمجھنے لگے گا وہ خود کو ہر گناہ کا مرتکب مانے گا وہ اپنے مولوی ہونے اور ایسا گناہگار ہوجانے پر اتنا دلبرداشتہ ہو جائے گا کہ وہ خود کشی کر لے گا اللّه کے ایک ایسے نيک بندے کو گمرا کرنے اور حرام موت چننے پر مجبور کرنے پر جو کہ ایک روشن مشعل کی طرح اسلام کو پھیلا رہا تھا اس سے نا صرف میری شیطانی طاقتوں کو تقویت ملے گی بلکہ اس کی اس خاص صلاحیت کو میں حاصل کر کے اسی کا روپ دهار کر میں عامل بابا بن کر مسلمانوں کو گمراہ کرنے اور انکا عقیدہ تباہ کرنے کا ایسا کھیل شروع کروں گا کہ گناہ کی اس زندگی کا مزہ دوبالا ہو جائے گا۔”

(خود کشی اور احساس گناہ سے میرا اشارہ آج کل کی نئی نسل کی طرف ہے جو جی بھر کر موبائل اور حقیقت میں گندگی کرنے کے بعد جب تھک جاتے ہیں تو بجاۓ اپنی غلطی پر نادم ہو کر توبہ کرنے کے چپ چاپ خود کشی کر کے اپنا راز اپنے ساتھ ہی دفن کرنے کو ترجیح دینا پسند کرتے ہیں وہ ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرنے والے اللّه سے نا امید ہو جاتے ہیں جو سراسر كفرانہ روش ہے افسوس وہ انسانوں سے تو ڈرتے ہیں مگر اس رب سے نہیں جس سے مر کر بھی واسطہ نہیں ختم ہو سکتا،جس سے پہلے ہی کچھ بھی چھپا ہوا نہیں ہے۔ہماری زندگی میں بھی شاکا غیر اخلاقی ویڈیوز،آڈیوز بہت افسوس کے ساتھ اب تو ادب کے نام پر ناولز کی صورت بھی یہ کم سن بچوں اور بڑوں کو با آسانی فراہم ہے۔)

(یہاں یہ بتاتی چلو کہ شاکا کسی صورت بھی یہ نہیں چاہتا تھا کہ ان عورتوں کا اس بیماری کا عذاب ختم ہو اور نا ہی ساحل کے ان میں سے کسی عورت کے سچ کے ساتھ نکاح کر لینے اور اولاد پیدا کرنے سے ایسا ہونا تھا بلکہ ایسا کرنے سے وہ بیماری پہلے ملاقات پر ہی ساحل کو بھی لگ جاتی اور وہ بھی مستقل اپنی زندگی اس غار میں گزارنے پر مجبور ہو جاتا مگر اس سے شاکا کو نا تو اس کی وہ خاص صلاحیت ملتی نا ہی اس کا جسم استعمال کرنے کی اجازت لہذا اس کا فائدہ اپنی پاکیزگی کو کھو کر غلاظت کے احساس کے ساتھ خود کشی کرنے میں ہی تھا۔ یاد رہے شاکا اور وہ بیماری زدہ عورتیں کسی بد کردار مرد کی شکل اختیار کرنے پر قادر تھے مگر ساحل ایسا نہیں تھا اسی لئے شاکا کے لئے یہ سب کرنا ضروری تھا)

شاکا کے چہرے پر مکرو مسكراہٹ آئی تھی ۔

شاکا بولتا چلا گیا

“آقا میرا کام کب پورا ہوگا ؟؟”

ماسوری نے ڈر ڈر کے پوچھا تھا

“احساس گناہ جیسے ہی شدت پکڑے گا تم اس کی انکھوں کے سامنے ایسے ہی بیہودہ لباس پہن کر مندر بھی جاؤگی اور میرے سات چیلوں کے ساتھ گناہ کروگی جیسے ہی سات مرد پورے ہو جائیں گے ساحل پر سے اس پانی کا اثر ختم ہو جائے گا اور پھر وہ اس تالاب میں ڈوب کر اپنی جان لے لے گا اور تم بھگوان بن جاؤ گی لوگ تمہارے نام کے مندر بنائیں گے”

شاکا نے گرم جوشی سے کہا تھا جسے سنتے ہی ماسوری مدہوش سی ہو گئی تھی۔

(ماسوری ایک سر پھری ہندو لڑکی ہے جو فضول قسم کی منتیں لے کر روز مندر جایا کرتی اور عجیب عجیب سی حرکتیں خود سے سوچ کر انکے کرنے پر اس منت کے پورا ہونے کا انتظار کرتی۔چالیس دن تک پوری رات سڑک پر پهرنا بھی ان ہی میں سے ایک تھی۔ آخر وہ بھگوان سے اتنی متنفر ہوئی کہ وہ کبھی سورج کبھی ہوا اور آج کل وہ اس گندے پھپھوندی زدہ تالاب میں کھڑے جمع پانی کی پوجا کرنے آرہی تھی گندی ویران جگہیں شیطانوں اور نجس مخلوق کی آماجگاہیں ہوا کرتی ہیں۔ ایک دن شاکا کی نظر اس توہم پرستی کی شکار لڑکی پر پڑی اور اس نے اسے خود بھگوان بن کر پوجے جانے کا لالچ دے کر اپنے مقصد کے لئے استعمال کرنے کا سوچا ۔اس نے اسے دوبارہ سڑک پر پهرنے والا کام دے کر ساحل کا حلیہ بتایا اور اسے پهنسانے کا کہا اس کے لئے اس نے اس پر خاص منتر پڑھے جس سے ماسوری کا سچ ساحل بھانپنے میں ناکام رہا مگر وہ کامیاب نا ہو سکی۔اسی دوران اس کا باپ اس کی ان ختم نا ہونے والی حرکتوں سے تنگ آ گیا اور زبردستی وہ اس کو رامو کے ساتھ باندھ کر اپنی ذمہ داری ختم کرنا چاہتا تھا۔ماسوری نے شاکا کےساتھ منصوبہ بندی کے عین مطابق گھر سے اسی وقت دوڑ لگا دی جب ساحل کی گاڑی کو اس روڈ سے گزرنا تھا۔خوش قسمتی سے سب ان کی مرضی کے عين مطابق ہوا۔)

اب ہوا کچھ یوں کہ جب ثاقب دو دن کے لئے غائب ہوا تھا تب بھی شاکا نے موقع پا کر اسے کسی کے ذريعے غلیظ منتر والا پانی پلا کر پھر سے غلط سوچ میں مبتلا کر دیا تھا وہ جو اب اپنے بھائی کی

صحبت میں سدھرنے لگا تھا پھر سے دلدل میں دهنس گیا تھا۔مگر وہ پھر بھی ساحل کو اپنا جیسا بنانے میں ناکام رہا۔جو مرد اور لڑکے مسلمان ہوۓ تھے ان کے گھر والے بھی مسلمان ہو چکے تھے ۔تمام بت توڑ کر پھینک دیے گئے تھے

ماسوری واپس آئی تو ساحل ثاقب اور اس کا والد گھر پر نہیں تھے اس نے شکرکیا اور فوراً کپڑے تبدیل کر لیئے۔

ساحل تمام گاؤں کے لوگوں کے اكهٹا کر کے ایک جگہ بیٹھا ہوا تھا ۔وہ بیس لوگ اپنے ساتھ اور بھی لوگوں کو لے کر آئے تھے جو كلمہ پڑھنا چاھتے تھے۔انہی میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔انہی لوگوں میں ایک لڑکا جو جوان تھا اور شروع سے ہی مذہب اسلام میں دلچسپی لیتا تھا اس کا نام ارجند تھا، وہ بھی شامل تھا وہ سائنس کے ساتھ میٹرک کر کے گاؤں سے باہر شہر سےمیڈیکل کی تعلیم حاصل کرنےکے لئے ہاسٹل میں رہا کرتا تھا ۔وہ بہت لائق تھا اس کو سالانہ وظیفہ ملتا تھا اور اساتذہ کی مالی معاونت بھی حاصل تھی۔اس نے ساحل کو گلے لگا کر كلمہ پڑھا تھا ۔اس کا نام ساحل نے حمزہ رکھا تھا ۔(جو بعد میں ڈاکٹر حمزہ بن گیا تھا)

یہ سب اسی طرح چل رہا تھا جب ایک دم ثاقب کو گولی لگنے کی خبر نے تہلکہ مچا دیا تھا ساحل بھاگ کر اس جگہ پہنچا تو ثاقب بے سدھ سا خون میں لت پت پڑا نظر آیا تھا۔کسی نے بھی گولی چلانے والے کو نہیں دیکھا تھا۔

“اگر یہ سب ہونے والا تھا تو میں یہ بھانپ کیوں نہیں سکا ؟؟؟”

ساحل کو یاد آیا رات اس نے فجر کے بعد کچھ لکھا ہی نہیں تھا وقت اور حالات کی وجہ سے مگر سوال یہ تھا کہ وہ لکھے بغیر بھی تو اپنے بھائی کے لئے خطرہ بھانپ سکتا تھا ۔اور نا وہ اب ہی ثاقب کو لے کر کچھ بھانپ پا رہا تھا۔حیرانگی کی بات یہ بھی تھی ۔

(ماسوری جیسی کافر لڑکی سے نکاح کی وجہ سے اس کی اس صلاحیت پر فوری اثر ہوا تھا)

آخر ساری مذہبی رسومات کے ساتھ سب گاؤں والوں کے ساتھ ثاقب کو دفنا دیا گیا۔بھائی کی وفات کے بعد گاؤں والوں نے مزيد ساحل کو ادھر ہی روک لیا تھا ۔وہ ساحل سے نماز سیکھ چکے تھے اور اب زور و شور سے اللّه کی عبادت کرنے لگے تھے ۔وہ پورا گاؤں دنیا میں موجود جنت لگنے لگا تھا جہاں پیار محبت اور رب کی رحمت تھی۔ اس کے بعد ماسوری نے ساحل کے دکھی دل کا فائدہ اٹھاتے ہوۓ اپنی محبت کے جھوٹے جال میں پهنسا کر وہ شاکا کا دیا ہوا پانی دینا شروع کیا اور سب ویسا ویسا ہوتا چلا گیا۔

(اس نے ابھی تک ماسوری کے ساتھ کسی بھی قسم کا جسمانی تعلق نہیں بنایا تھا وہ آج بھی ویسے ہی با آبرو تھا بدلاؤ فقط اس کی سوچ میں آیا تھا)

وہ مسجد سے غیر حاضر رہنے لگا وہ پورا پورا دن سویا رہتا اٹھتا تو وہ گھنٹے گھنٹے غسل خانے میں نہاتا رہتا وہ بہت خاموش رہنے لگا تھا۔وہ خود کو کسی مجرم کی طرح سمجھنے لگا تھا ۔وہ خود کو ماسوری کا بھی مجرم سمجھتا کیوں کہ اسے لگتا تھا وہ غلط گوری عورتوں کے ساتھ زنا جیسے فعل میں ملوث ہے وہ جب سو کر اٹھتا تو یہی سمجھتا وہ کسی بازار حسن سے ابھی ابھی منہ کالا کر کے آ رہا ہے اوپر سے ماسوری اسے ایسے ہی ٹریٹ کرتی کہ وہ واقعی کب سے غائب تھا اور ابھی ابھی گھر آیا ہے۔گاؤں والے ساحل کے اس بدلاؤ پر دل سے اداس تھے۔مگر وہ پھر بھی دلی طور اس سے متنفر نہیں ہوۓ تھے ۔ایسے ہی ایک سال گزر گیا تھا ساحل اپنی حویلی بھی نہیں جا پایا تھا ۔وہ حمزہ نام کا لڑکا بھی آج کل آیا ہوا تھا۔

وہ ساحل سے ملنے آیا تو حیران رہ گیا یہ ساحل اور ایک سال پہلے والے ساحل میں زمین آسمان کا فرق تھا ۔

اس ساحل کا چہرہ نورانیت والا تھا جبکہ اس ساحل کے چہرے پر پھٹکار برس رہی تھی ۔ادھر شام کی اذان ہونے کو تھی اور یہ وقت سے بے خبر الٹا لیٹا خراٹے بھر رہا تھا ۔

حمزہ سمجھ گیا تھا کہ ضرور ساحل کے ساتھ کچھ غلط کیا جا رہا ہے مگر وہ صورت حال سمجھنے سے قاصر رہا اور واپس شہر چلا گیا۔

اسی دوران اب وہ اہم گھڑی آ چکی تھی جب ماسوری اسے بہلا پهسلا کر تالاب کے پاس لے کر گئی اسی وقت شاکا کے چیلے خوبصورت مرد بن کر ادھر حاضر ہوۓ تھے۔وہ ماسوری کے ساتھ غیر اخلاقی حرکات کرنے لگے ساحل کا چہرہ غصے سے لال ضرور ہوا تھا مگر اس جسم میں کوئی مزاحمت کرنے کی سکت نہیں تھی۔(یہاں بھی میرا اشارہ نئی نسل کی طرف ہے جس نے اپنے جسم کو شیطان کے حوالے ایسے کر رکھا ہے کہ اپنی ماں بہن کی نگرانی کی اس کو ہوش نہیں رہی ۔وہ سب دیکھ کر بھی یا تو اندھا ہے یا بے بس یا پھر اس کا اپنا کردار اتنا پھٹ چکا ہے کہ اب وہ کسی کو اچھائی برائی کا سبق دینے کا حق کھو چکا ہے یا یہ بھی ہوسکتا ہےکہ اسے فرق ہی نہیں پڑتا یہی وجہ ہے کہ اس کے گھر کی عورت میرا جسم میری مرضی مارچ کا حصہ بنی پھرتی ہے)

ساحل نے آج تک خود کو اتنا بے بس نہیں محسوس کیا تھا ۔