Tehreer by Jameela Nawab Readelle 50381 Tehreer Episode 11
Rate this Novel
Tehreer Episode 11
Tehreer by Jameela Nawab
“تمہاری محفل میں آ گئے ہیں ۔۔۔۔تو کیوں نا ہم یہ کام کر لیں ۔۔۔۔”
“سلام کرنے كی آرزو ہے ۔۔۔۔اِدھر جو دیکھو سلام کر لیں ۔۔۔۔”
“یہ دل ہے جو آ گیا ہے تم پر ۔۔۔۔وگرنہ سچ ۔۔۔یہ ہے بندہ پرور ۔۔۔۔۔”
“جسے بھی ہم دیکھ لیں پلٹ کر اسی کو اپنا غلام کر لیں ۔۔۔سلام کرنے كی آرزو ہے ادھر جو دیکھو سلام کرلیں ۔۔۔”
آج زیبا نے تمام رقاصاؤں کے خوبصورت لگنےکے ریکارڈ توڑ ڈالے تھے
(یہ وہ ہی زیبا ہے جس کا تعارف قسط نمبر 7 کے آخری پیراگراف میں کیا گیا تھا جن کو اس کی کہانی نہیں یاد وہ دوبارہ جا کر وہ پیرا گراف پڑھ لیں)
وہ کسی ماہر رقاصہ کی طرح ” امراؤ جان “فلم کے اس گانے پر ماحول میں سماں باندھے ہوۓ تھی اس کا اس جگہ یہ پہلا رقص تھا اس سے پہلے پورا ایک ماہ اسے ساتھی لڑکیوں نے رقص کی خاص تربیت دی تھی
سجاول جام پے جام پیتے ہوۓ مدہوش سا اس کی ہر ادا پر فدا ہو رہا تھا وہاں موجود ہر بندہ یہ جانتا تھا اس نئی طوائف کا پہلا ساتھ سجاول کو ہی نصیب ہوگا باقی بس ہاتھ ملتے اس کا رقص دیکھ کر ہی گزارا کر رہے تھے
لکشمی بائی سجاول کے ساتھ بیٹھی بار بار اپنے کوٹھے کی اس نئی رونق کی بلائیں لیتی نہیں تهک رہی تھی
اب گانا ختم ہوا تھا اور سجاول کے کمرے میں زیبا کو بھیج دیا گیا ۔۔۔سجاول گرتا پڑتا اس کمرے میں گیا اور دروازہ لگا کر اب بستر پر لیٹ گیا کچھ وقت ایسے ہی گزرگیا تھا زیبا واش روم سے ابھی تک نہیں نکلی تھی آخر سجاول کو اٹھ کر دروازہ کھٹکھٹانا پڑا ۔۔۔
وہ لال آنکھوں سے اب دروازہ کھول کر سجاول کے سامنے کھڑی تھی وہ اس کا ہاتھ پکڑنے لگا تو وہ اسے جھٹک کر خود ہی جا کر بیڈ پر بیٹھ گئی
سجاول بھی لڑکھڑاتا ہوا اس کے پیچھے آ کر اس کے پاس بیٹھ گیا تھا وہ اس کا دوپٹہ ہاتھ سے کھینچ کر پهنک چکا تھا وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے خود کو چھپاتی اب رونے لگی تھی
“میری بات سنیں سجاول ۔۔۔۔”
وہ روتے روتے بولی تھی
“میں نے بڑی رقم تمہاری بات سننے کے لئے نہیں دی زیبا جی ۔۔۔۔”
وہ مزيد قریب آیا تھا
“میں ۔۔۔۔میں کسی کے نکاح میں ہوں ۔۔۔۔میں یہ سب نہیں کر سکتی ۔۔۔۔”
اس کے رونے میں شدت آئی تھی سجاول غصے سے کمرے سے باہر نکلا تھا اور اب لکشمی کے ساتھ اندر آیا تھا
“سب تمہیں پہلے دن ہی بتا دیا گیا تھا تم یہاں خود اپنی منشاء سے آئی تھی پھر اب یہ شرافت کا بخار کیوں چڑھ گیا ہے تمہیں زیبا ؟؟؟”
لکشمی غصے کی انتہاہ پر تھی
“آپا ۔۔۔۔تب میں غصے میں تھی ۔۔۔مجھے لگا تھا اپنے شوہر والا تعلق کسی اور کے ساتھ بنانا اتنا ہی آسان ہوتا ہے مگر ۔۔۔۔۔آپا ۔۔۔۔مجھ سے یہ نہیں ہوگا آپ پلیز مجھے نچا لیا کریں۔۔۔۔۔مگر اس بات کے لئے مجھے مجبور مت کریں ۔۔۔۔”
وہ لكشمی کے پیروں میں بیٹھ کر روتے ہوۓ بولی تھی
“میرا شوہر مجھ سے لڑتا تھا الزام لگاتا تھا میرےبے وفا ہونے کا مگر ۔۔۔۔مجھ سے محبت بھی کرتا تھا ۔۔مجھے تین وقت کی روٹی کپڑے جوتے لے کر دیتا تھا ۔۔۔گھر کی چار دیواری میں رکھتا تھا جو مجھے قيد لگتی تھی ۔۔۔۔ وہ قيد نہیں تھی وہ تو تحفظ تھا میری عزت کی حفاظت تھی ۔۔۔۔۔ ۔میں اب سمجھی ہوں اسے میرے کھونے کا ڈر تھا وہ عورت ہی ہے جو اس خوف کے ساتھ بھی جی لیا کرتی ہے ۔۔ مردا
اس خوف سے نيم پاگل ہونے لگتے ہیں ۔۔۔مجھے ساری عمر اسے یقین دلانا چاہئیے تھا اس کی دماغی حالت کو سمجھنا چاہیے تھا مگر اس کے نکاح کی حد پهلانگ کر یہاں نہیں آنا چاہے تھا ۔۔۔آپا ۔۔۔۔میں اب واپس نہیں جا سکتی مجھے کوئی بھی قبول نہیں کرے گا ۔۔۔۔مگر مجھ سے یہ جسمانی تعلق نہیں بن پاۓ گا ۔۔۔۔آپا مجھ پر رحم کریں ۔۔”
“جب تک شوہر کا ہاتھ عورت کے ہاتھ میں ہوتا ہے اسے دنیا کا ہر کام آسان لگتا ہے ۔۔۔شوہر کیسا بھی ہو عورت کی طرف اٹھنے والی ہر انگلی اس پر اٹھنے سے پہلے ہی روکے رکھتا ہے ۔۔۔۔۔شوہر کے بغیر تو میں کچھ بھی نہیں آپا ۔۔۔۔۔مجھے صبر کر لینا چاہیےتھا اپنی ‘میں’ کو مار کر اپنا گھر آخری سانس تک بسانا چاہیے تھا ۔۔۔وہ عورت ہی کیا جو اپنی آنا کو اپنی عزت پر حاوی ہونے دے ۔۔۔آپا آپ میرے شوہر اسلم(اس کردار کا ذکر بھی پہلے کیا جا چکا ہے یہ ٹرک ڈرائیور تھا جیسے دیکھ کر ساحل سوچ میں پڑا تھا) سے بات کریں وہ مجھے واپس لے جایئں ۔۔۔۔۔مجھے معاف کر دیں ۔۔۔۔”
وہ اب لکشمی کی ٹانگوں سے لپٹ گئی تھی
“سجاول تم میرے ساتھ آؤ میں تمہارے لئے دوسرا کمرہ تیار كرواتی ہوں ۔۔۔۔اس بد ذات کو میں بعد میں دیکھوں گی ۔۔۔اور ویسے بھی یہ میرا اصول ہے یہاں آئی ہر عورت پوری دنیا کی ستائی ہوئی اور مجبور ہے ۔۔۔۔لہذا یہاں ان عورتوں کو مجبور نہیں کیا جاتا ہے ۔۔۔یہ جگہ ان کی سلطنت ہے یہاں یہ اپنے ہر فیصلے میں آزاد ہیں ۔۔۔”
لکشمی سجاول کا ہاتھ پکڑ کر باہر لے آئی تھی
“روبی( طوائف کا نام) تو بہت پسند آئی تھی نا آپ کو سجاول صاحب ۔۔۔؟؟”
لکشمی نے سجاول کا دھیان بدلنے کی کوشش کی تھی
“لکشمی جی زیبا نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا ۔۔۔ سارا موڈ خراب کر دیا میرا ۔۔۔۔مجھے انکار کر کے میری مردانگی کو للكارا ہے آپ کی اس چہیتی نے ۔۔۔”
سجاول مونچھوں کو تاؤ دے کر غصے سے بولا تھا
“تو آپ مرد ہیں ؟؟؟؟”
زاہرہ جو ابھی ابھی کھوٹے میں داخل ہوئی تھی اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھے تکلیف سے بولی تھی دوسرے ہاتھ میں چھتری تھی جس سے پانی ٹپک رہا تھا وجہ باہر ہوتی تیز بارش تھی اوپر سے رات کے آٹھ بجنے کو تھے
“تم یہاں کیا کر رہی ہو ؟؟؟؟؟یہ جگہ تمہارے لائق نہیں زاہرہ تمہیں اس بات کا علم ہونا چاہیے اب چلو یہاں سے”
وہ غصے سے لال ہوتا بے دردی سے زاہرہ کا ہاتھ پکڑ کر بولا تھا اس شور سے وہاں موجود اور طوائفیں بھی وہاں جمع ہو چکی تھیں زیبا بھی آنسو صاف کرتی ہوئی باہر نکلی تھی
“هاهاهاهاها ۔۔۔۔۔۔ارے واہ ۔۔۔۔۔یہاں فقط عورتیں ہی عورتیں ہیں ۔۔۔عزت سے کہو تو زنان خانہ ۔۔۔۔۔پھر بھی ایک عورت ہو کر بھی یہ جگہ میرے لئے بری ہے ۔۔۔۔آپ مرد ہو کر ان عورتوں میں کرنے کیا آئے ہیں کہیں آپ بھی عورت تو نہیں ہے سجاول ؟؟؟؟؟”
وہ درد سے کراہتی اس کا گريبان پکڑ کر بهرائی آواز میں بولی تھی
“بکواس مت کرو اور چلو گھر”
وہ اسے کھینچ کر بولا تھا
“عورت کا گھر اس کے گھر والے سے ہوا کرتا ہے سجاول صاحب ۔۔۔۔میرا گھر والا تو اس کھوٹے میں رہتا ہے وہ میرا گھر نہیں ہے میرا ۔۔۔”
وہ اس سے بازو چھڑوا کر بولی تھی
زاہرہ کا یہ روپ سجاول کے لئے بلکل نیا اور حیران کن تھا
“تمہاری زبان تو میں کاٹتا ہوں گھر چلو”
وہ اس کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ رسيد کر تا ہوا بولا تھا
“میری روح پر جو زخم آپ ڈال چکے ہیں سجاول جسم کی تکلیف تو اب محسوس ہی نہیں ہوتی ۔۔۔۔”
وہ لال ہوتے گال پر ہاتھ رکھے کرب سے بولی تھی
“گھر جا کر کرتے ہیں بات زایرہ چلو اس گندگی سے”
وہ اب اسے گھسیٹ رہا تھا
“سجاول میری بات سنیں”
زاہرہ مسلسل رو رہی تھی
“واہ سجاول میاں کیا خوب کہی آپ نے بھی ۔۔یہ گندی جگہ آپ جیسے غرت مند مردوں سے ہی تو آباد ہے ۔۔۔بھول گئے کیا آپ ؟؟؟ابھی تو آپ بہت خمار میں تھے اب بیوی سے ڈر کے اتر گیا سارا نشہ ؟؟؟؟؟”
لکشمی کو اپنی تضحیک محسوس ہوئی تھی وہ تالیاں بجاتے ہوۓ بولی تھی
“اس کی کیا اوقات جو میں اس سے ڈروں”
سجاول نے زاہرہ کا ہاتھ چھوڑ کر سینہ تان کر کہا تھا
“روبی سجاول کو ساتھ لے کر کمرے میں جاؤ ۔۔۔۔”
وہ سجاول کی آنکھوں میں دیکھ کر اس کی ہمت کو چلینج کرتی ہوئی بولی تھی
“سجاول ۔۔۔۔ایسا مت کریں ۔۔۔۔۔کم از کم میری حالت کا ہی لحاظ کر لیں ۔۔۔”
زاہرہ کی آواز کمزور پڑچکی تھی وہ بہت آہستہ آہستہ بولی تھی
“سجاول اپنے بیٹے کو کیوں نہیں لاۓ آج ؟”
لکشمی زاہرہ کی طرف جیت کے انداز میں جتاتے ہوۓ پوچھ رہی تھی جس سے زاہرہ مشتعل ہو کر کھڑی ہوئی تھی
“میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گی کتے ۔۔۔۔ذلیل انسان”
اس نے پاس رکھا بڑا سا گلدان اٹھایا اور سجاول کے سر میں دے مارا ۔۔۔۔سجاول کو ہلکی سی چوٹ آئی تھی مگر اس کی آنا پر گہرا زخم آیا تھا
“میں سجاول تمہیں زاہرہ اپنے ہوش و ہواس میں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں اب روک کر دکھاؤ مجھے”
وہ زاہرہ کو زور سے پیچھے کو دھکا دے کر روبی کو گود میں اٹھا کر اسے دکھاتا ہوا کمرے میں چلا گیا تھا
زاہرہ چیختی چلاتی بچوں كی طرح دل سے روتی ہوئی بیٹھ گئی تھی پیٹ میں تیز درد الگ سے تکلیف دے رہا تھا
“اب جاؤ یہاں سے سنو واپس مت آنا ۔۔۔۔ہاں جب پیٹ خالی ہو جائے اور کوئی گھر نا رہے تو یہاں آ جانا ۔۔۔۔انکار نہیں کروں گی ۔۔۔رقص تمہارے بس کا کام نہیں لگ رہا ہاں گاہک اچھے نپٹا لو گی تم ۔۔۔۔”
لکشمی اس کے پاس نیچے بیٹھ کر بولی تھی زاہرہ نے لال خون آلود ہوتی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا تھا
“تم لوگوں كی وجہ سے پہلے میرا دل ۔۔۔اور اب میرا گھر ٹوٹا ہے ۔۔۔۔میں ۔۔۔۔میں تم سب کو کبھی معاف نہیں کروں گی ۔۔۔۔میں تم لوگوں کا حساب اپنے رب پر چھوڑتی ہوں ۔۔۔۔۔”
وہ اپنا پیٹ پکڑے بہت مشکل سے اٹھ کر کھڑی ہوئی تھی
“میں زاہرہ ۔۔۔۔۔اس کوٹھے سے منسلک ہر انسان کو بد دعا دیتی ہوں کہ تم لوگ زندگی سے اتنے تنگ آ جاؤ کہ موت کو ترس جاؤ،تم لوگ اپنی جان خود لینے پر تل جاؤ ۔۔۔۔۔تم لوگ اپنے مروں کو کفن دفن کے لئے ترسو جاؤ”
“تم سب پر یہ دنیا اتنی تنگ پڑ جائے کہ کل تم جیسی عورتیں مجبوری کے نام پر کسی زاہرہ کے شوہر کو گمراہ نا کرو ۔۔۔غلیظ عورتوں تم لوگ خود کو مظلوم سمجھ کر اپنا گھر بار چھوڑ کر یہ جہنم آباد کر لیتی ہو ۔۔۔اور بدلے میں دوسری عورتوں کا ہی گھر اجاڑتی ہو ؟؟؟؟؟یہ کیسی عورتیں ہو تم سب ؟؟؟؟؟”
“اللّه کروٹ كروٹ اذیت دے تم سب کو “
وہ ہچکیوں سے روتی ہوئی اپنے دونوں ہاتھ دعا کے انداز میں پهیلا کر رک رک کر بول رہی تھی
“ارے باہر نکالو اس نيک بی بی کو اتنی تم اچھی ہوتی تو تیرا گھر والا ادھر نہ آتا ۔۔۔چل دفع ہو ۔۔۔
لکشمی نے اسے دروازے سے
باہر نکال کر نفرت سے کہا تھا زاہرہ جا چکی تھی مگر اس کی آہیں وہاں قيد ہو چکی تھیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ۔۔۔
جو لکشمی کی بیٹی ساریکا جو کہ ابھی سات سال کی تھی وہ بھی دروازے کی آڑ سے سن چکی تھی
(ایک قسط میں سکھاں جینی سے کہتی ہے کہ کسی کی آہ نسلوں تک سفر کرتی ہے تب اس کا اشارہ اسی آہ کی طرف ہوتا ہے ۔۔۔)
زاہرہ لٹی ہوئی باہر نکال دی گئی بارش بہت تیز تھی اور اب رات کے دس بج رہے تھے چھتری وہ جلدی میں اندر ہی چھوڑ آئی تھی
رات کا اندھیرا ۔۔۔۔تیز بارش ۔۔۔طلاق کا دهبہ ۔۔۔بیٹے کے مستقبل کی فکر اور زچگی كی تکلیف وہ منہ کھول کر سانس لیتی ہوئی اب انجان راستے پر چلتی جا رہی تھی
اس کے چاروں طرف زمین سے لگتے ہوۓ تیز آندھی میں جھومتے ہوۓ درخت اور سنسان سڑک وہ اب دلی اور روحانی دونوں طرح سے شدید تکلیف میں تھی
دور سے ایک گدھا گاڑی آتی نظر آئی تھی جس کے اوپر کپڑے کا جھونپڑی نما کمرہ بنا کر شیٹ ڈال کر اسے بارش سے محفوظ بنا یا گیا تھا
“کوئی میری مدد کرو”
وہ ایک ہاتھ پیٹ اور دوسرا اس گدھا گاڑی کی طرف کر کے بولی تھی
بارش کی آواز اتنی تیز تھی کہ اس کی آواز ان تک پہنچنا نا ممکن تھا مگر وہ میاں بیوی اسے دیکھ چکے تھے
ایک عورت جلدی سے اس جھونپڑی سے نیچے اتری تھی
“مولوی جی گڈی سیڈ تے لا دوو،بچی دے دن پورے نے”
وہ عورت اپنے شوہر کو جو کہ حلیہ سے ہی اللّه کا نيک بندہ مولوی لگ رہا تھا اس سے بولی تھی
“چنگا”
اس نے اس كی بات پر فوری عمل کیا تھا وہ برساتی سر پر پھیلا کر ایک گھنے درخت کے نیچے بیٹھ گیا تھا
“بیٹا جی گھبرانا نہیں ہے بس تھوڑی سی ہمت”
وہ عورت زاہرہ کو اس گدھا گاڑی کے اوپر بنے جھونپڑی نما کمرے میں لاتے ہوۓ بولی تھی
“اماں جی ۔۔۔۔آپ ۔۔۔ آپ کو پ پ پ پت پتہ ہے ۔۔۔۔ہے سجاول نے مجھے ۔۔۔۔۔۔مجھے نا حق طلاق دے دی ہے ۔۔۔۔میں ۔۔۔میں ۔۔۔اب ۔۔۔کدھر جاؤں ؟؟؟؟؟؟”
وہ ہچکیوں سے رک رک کر رو کر بولتی ہوئی ایک دم چیخی تھی
“میری بیٹی بد نصیب تھا جو میری بیٹی جیسا ہیرا سنبهال نہیں پایا چلو لیٹو ۔۔۔سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔وہ جو سب کا مالک ہے نا وہ ہی میری بیٹی کو ٹھکانہ دے گا ۔۔۔ہمت کرو ۔۔ “
وہ عورت اسے محبت سے پچکارتے ہوۓ کہہ رہی تھی
“اماں ۔۔۔میری امی بیوہ ہیں ۔۔۔وہ ۔۔۔بھائیوں سے ڈرتی ہیں ۔۔۔وہ مجھے گھر نہیں رکھے گی ۔۔۔۔”
“اللّه ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں کدھر جاؤں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔میرا بیٹا ۔۔۔۔وہ تباہی کی طرف جا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔سجاول میں ۔۔۔آپ سے محبت کرتی تھی ۔۔۔میں آپ کے بغیر کیسے رہوں گی؟ ؟؟؟؟؟؟؟¿؟؟ ؟؟”
عمومأ اس خاص وقت میں عورت جس تکلیف میں ہوتی ہے شاید ہی اتنی تکلیف کسی نے محسوس کی ہو مگر زاہرہ کے ساتھ جو ظلم ہو چکا تھا وہ جسمانی تکلیف جیسے محسوس ہی نہیں کر رہی تھی وہ درد سے آنکھیں زور سے میچ کر پھر سے سجاول کا نام پکارتے پکارتے اپنے دونوں ہاتھ منہ پر رکھ کر ٹوٹ کر رونے لگتی ۔۔۔۔
“مولوی جی معاملہ بہت خراب ہے خون بہت بہہ رہا ہے بات نہیں بن رہی آپ کوئی وظیفہ پڑھیں،ورنہ بچی مر جائے گی”
وہ عورت باہر نکل کر شوہر سے بولی تھی
“وظیفہ اپنی جگہ نيک بخت ڈاکٹرنی دی اپنی جگہ ۔۔۔دھی رانی کو ہسپتال لے جانے آں”
وہ اب گدھا گاڑی پر سنوار ہو کر اس کو روانہ کر چکا تھا
“میری بیٹی ابھی تمہاری اولاد اور تم خطرے میں ہو اس پر توجہ دو باقی سب چھوڑو”
وہ عورت اب اندر آ کر اسے ہمت کرنے کا کہہ رہی تھی جسے صرف سجاول سے دوری اور بیٹے کے غلط راستے پر ہونے کا غم کھائے جا رہا تھا
“اب وہ آبادی میں آ چکے تھے بارش تیز ہونے کی وجہ سے بہت آہستہ آہستہ وہ اس جگہ تک پہنچے تھے
“بیٹا ۔۔۔اپنے گھر کے کسی بڑے کا نام بتاو ؟؟؟”
وہ عورت اس كی حالت کے پیش نظر بولی تھی
“ابو ۔۔۔۔۔مولوی قاسم كی بہو۔۔۔۔۔۔۔۔بہو ۔۔۔تھی ۔۔۔۔۔۔میں ۔۔۔۔”
وہ اتنا کہہ کر زور سے چیخی تھی ساتھ ہی بچے کے رونے کی آواز فضا میں گونجی تھی مگر زاہرہ کی سسكياں اب خاموش ہو گئی تھی
“مولوی جی کتنا سونڑہ پتر ہویا جے رب نظر نا لگائے”
وہ عورت بچہ گود میں لے کر بولی تھی
“ماشاءالله ۔۔۔تے دھی رانی ؟؟؟”
مولوی جی نے خوش ہوتے ہوۓ پوچھا تھا
“بیٹا ؟؟؟؟بیٹا ۔۔؟؟؟”
وہ عورت زاہرہ کو ہلا ہلا کر اپنی طرف متوجہ کر رہی تھی مگر وہ کھلی انکھیں لئے خاموش ہو چکی تھی
“مولوی جی ۔۔۔۔اج ایک ھور ماں اولاد دی حیاتی تے قربان ہو گئی جے”
وہ عورت بهرائی آواز میں زاہرہ کی آنکھیں بند کرتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن
“بیشک میرا رب اپنے پاس بلا لیتا ہے ان کو جن پر یہ دنیا والے زمین تنگ کر دیا کرتے ہیں “
مولوی صاحب بھی اداسی سے بولے تھے
“بہت فکر تھی بیچاری کو ٹھکانے کی مولوی جی ۔۔۔۔۔رب نے پکا ٹھکانہ دے دیا”
وہ عورت اب بچے کو سینے سے لگا کر باقاعده رو دی تھی
۔************
سکھاں جیسے گئی تھی ویسے ہی چپکے سے واپس آ کر گيلے کپڑے بدل کر لیٹ گئی تھی کچھ دیر بعد
جينی فجر پڑھنے اٹھی تھی وہ نماز پڑھ کر اب جائے نماز پر بیٹھی آہستہ آہستہ قرت کے ساتھ قرآن پاک کی خوش الہان آواز میں تلاوت کر رہی تھی
“کاش میں نے شوہر کی موت پر صبر کیا ہوتا اس طرح شیطان کے آگے گھٹنے نا ٹیکے ہوتے”
سُکھاں بے آواز روتی ہوئی سوچ رہی تھی
(یہاں میرا اشارہ ان خواتین کی طرف ہے جو شوہر کی وفات کے بعد غیر محرم کے ساتھ مراسم بنا کر اپنا غم غلط کرتی ہیں اور وہ یہ کام ڈھٹائی سے کرتی ہیں اپنی طرف سے وہ اللّه سے اس تنہائی پر ناراض ہوتی ہیں ۔۔۔۔محلے داروں اور کزن کو بھائی بھائی کہہ کر شروع ہونے والا یہ سفر کب زنا میں بدل جاتا ہے یہ ان کو خود بھی پتہ نہیں چلتا۔۔۔ہر کسی کی موت کا وقت طے کیا جا چکا ہے ۔۔۔چاہے وہ آپ کو کتنا بھی عزیز کیوں نا ہو ۔۔۔۔اگر آپ بیوہ ہو گئی ہیں تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اللّه نے ایسا کر کے خدا نخواسطہ آپ کے ساتھ کوئی زیادتی کر دی ہے ۔۔۔جانے والا بھی انسان تھا اور اس کو جانا تھا ۔۔۔لہذا کسی کی موت کو اتنا سر پر مت سوار کریں کہ آپ کی زندگی تنگ ہو جائے یا گناہوں کی آماجگاہ بن جائے ۔۔
ایسی خاتون کے لئے شوہر کی وفات بڑا صبر آزما مرحلہ ہوتا ہے ۔ ایک طرف والدین کا گھر چھوٹ چکا ہوتا ہے یعنی ان کی معاشی کفالت سے آزاد ہوکر شوہر کی کفالت میں آچکی ہوتی ہے تو دوسری طرف زندگی کی تنہائی، بچوں کی پرورش وپرداخت اور گھر کے اخراجات جیسے اہم مسائل اس کے سامنے ہوتے ہیں ۔ ایسے صبر آزما مرحلہ میں اولین وقت پر صبر کرنے والی عورتوں کو اللہ کی طرف سے اجر وثواب ملتا ہے ۔ بخاری شریف میں ایک عورت کا کسی قریبی کی وفات پر رونے کا ذکر ملتا ہے، مسلم شریف میں بچے کی وفات پر رونے کا ذکر ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
مرَّ النبيُّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ بامرأةٍ تبكي عند قبرٍ ، فقال : اتَّقي اللهَ واصبري قالت : إليكَ عَنِّي ، فإنكَ لم تُصَبْ بمصيبتي ، ولم تعرفْهُ ، فقيل لها : إنَّهُ النبيُّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ ، فأتت باب النبيِّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ ، فلم تجد عندَهْ بوَّابِينَ ، فقالت : لم أعرفْكَ ، فقال : إنما الصبرُ عند الصدمةِ الأولى .(صحيح البخاري:1283)
ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک عورت پر ہوا جو قبر پر بیٹھی ہوئی رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سے ڈر اور صبر کر۔ وہ بولی جاؤ جی پرے ہٹو۔ یہ مصیبت تم پر پڑی ہوتی تو پتہ چلتا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان نہ سکی تھی۔ پھر جب لوگوں نے اسے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، تو اب وہ ( گھبرا کر ) آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ پر پہنچی۔ وہاں اسے کوئی دربان نہ ملا۔ پھر اس نے کہا کہ میں آپ کو پہچان نہ سکی تھی۔ ( معاف فرمائیے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صبر تو جب صدمہ شروع ہو اس وقت کرنا چاہیے۔
جو اللہ کی طرف سے فیصلہ ہوجاتاہے وہ ہوکر رہتاہے ،اسے کوئی ٹالنے والا نہیں ، ایک مومن کو اچھی بری تقدیر پر ایمان لانا ہے اور آنےوالی مصائب ومشکلات پر صبر کرنا ہے اور مذکورہ حدیث سے ہم نے جان لیا کہ صبر بعد میں نہیں مصیب کے نزول کے وقت ہی کرنا ہے ۔وفات پر یا نزول بلا پر آنکھوں سے آنسو بہ جائے ، بے اختیار رونا آجائے اس میں کوئی حرج نہیں ہے مگر قصدا پھوٹ پھوٹ کر دیر تک روتے رہنے ،آہ و بکا کرتے رہنے، جزع فزع کرنے ، زبان سے برے کلمے نکالنے اور نامناسب کام کرنے سے صبر کا اجر ضائع ہوجائے گا۔میت کی بیوہ یا ا س کے کسی رشتہ دار کو میت کے پاس جزع فزع کرنے کی ممانعت ہے ، وہاں چیخنے چلانے کی بجائے میت کے حق میں دعائے خیر کرنا چاہئے ۔ ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت ان کے گھر والے چیخنے چلانے لگے تو آپ ﷺنے فرمایا:
لا تَدعوا علَى أنفسِكُم إلَّا بِخيرٍ ، فإنَّ الملائِكَةَ يؤمِّنونَ على ما تَقولون ثمَّ قالَ : اللَّهمَّ اغفِر لأبي سلَمةَ وارفع درجتَهُ في المَهْديِّينَ ، واخلُفهُ في عقبِهِ في الغابِرينَ ، واغفِر لَنا ولَهُ ربَّ العالمينَ ، اللَّهمَّ افسِح لَهُ في قبرِهِ ، ونوِّر لَهُ فيهِ(صحيح أبي داود:3118)
ترجمہ: اپنے لیے بد دعائیں مت کرو بلکہ اچھے بول بولو کیونکہ جو تم کہتے ہو اس پر فرشتے آمین کہتے ہیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( بطور دعا ) فرمایا: اے اللہ ! ابوسلمہ کی بخشش فرما، ہدایت یافتہ لوگوں کے ساتھ اس کے درجات بلند کر اور اس کے پیچھے رہ جانے والوں میں تو ہی اس کا خلیفہ بن ۔ اور اے رب العلمین ! ہماری اور اس کی مغفرت فرما، اے اللہ ! اس کی قبر کو فراخ اور روشن کر دے ۔
اسی طرح مصیبت لاحق ہونے کے وقت یہ دعا پڑھنی چاہئے ۔ ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إذا أصابَ أحدَكم مصيبةٌ فليقل إنَّا للَّهِ وإنَّا إليهِ راجعونَ اللَّهمَّ عندَك أحتسبتُ مصيبتي فأجرني فيها وأبدلني منها خيرًا. (صحيح الترمذي:3511)
ترجمہ: جب تم میں سے کسی کوکوئی مصیبت لاحق ہو تو اسے : “إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ، اللَّهُمَّ عِنْدَكَ احْتَسَبْتُ مُصِيبَتِي فَأْجُرْنِي فِيهَا وَأَبْدِلْنِي مِنْهَا خَيْرًا”پڑھنا چاہئے۔
ایسے وقت میں سماج کے دوسرے افراد کو چاہئے کہ بیوہ کو دلاسہ دے اور اس کی تعزیت کرے اور اگر سماج میں مجبور ولاچار قسم کی بیوائیں ہیں تو سماج کے ذمہ دار طبقوں کی ذمہ داری ہے کہ ان کی خبر گیری کرے اور ان کے ماتحتوں کی تعلیم وتربیت کا انتظام کرے ۔۔۔)
“اماں آپ رو رہی ہیں ؟؟؟”
جينی جائے نماز سميٹ کر ماں کے پاس آ گئی تھی
“نہیں تو”
وہ جلدی سے آنسو صاف کر کے بولی تھی
“اماں آپ کو پتہ ہے آپ اللّه کی نظر میں کتنی اچھی ہیں ؟؟؟”
جينی ماں کا سر اپنی گود میں رکھ کر بولی تھی
“کیسے ؟؟؟”
اب وہ رو دی تھی
“اماں آپ نے اباں کے بعد دوسری شادی نہیں کی کیا آپ جانتی ہیں اس کا کتنا اجر رکھا ہے اللّه نے ؟؟؟”
اب جينی بولنا شروع ہوئی تھی
حضرت عوف بن مالک اشجعی ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا ،وہ عورت کہ جس کے رخسار اپنی اولاد کی پرورش و دیکھ بھال کی محنت اور مشقت اور ترک زینت و آرائش کی وجہ سے سیاہ پڑ گئے ہیں، قیامت کے دن اس طرح ہوں گے ،اس حدیث کے روای یزید بن ذریع نے یہ الفاظ بیان کرنے کے بعد انگشت شہادت اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا کہ جس طرح یہ دونوں انگلیاں ایک دوسرے کے قریب ہیں، اسی طرح قیامت کے دن آپ اور وہ بیوہ عورت قریب قریب ہوں گے اور سیاہ رخساروں والی عورت کی تشریح کرتے ہوئے بتایا کہ اس سے مراد وہ عورت ہے جو اپنے شوہر کے مر جانے یا اس کے طلاق دے دینے کی وجہ سے بیوہ ہو گئی ہو اور وہ حسین و جمیل اور صاحب جاہ وعزت ہونے کے باوجود محض اپنے یتیم بچوں کی پرورش اور ان کی بھلائی کی خاطر دوسرا نکاح کرنے سے باز رہے۔یہاں تک کہ وہ بچے جدا ہو جائیں، یعنی بڑے اور بالغ ہو جانے کی وجہ سے اپنی ماں کے محتاج نہ رہیں یا موت ان کے درمیان جدائی ڈال دے۔(سنن ابوداؤد حدیث نمبر۵۱۴۹)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بیوہ اگر بچوں کی تعلیم وتربیت اور ان کے مستقبل کی خاطر دوسرا نکاح نہیں کرتی ، تو اس کے لیے بڑی فضیلت ہے،مگر یہ سب کچھ اس وقت ہے جب وہ صبرواستقامت اور عفت وپاکدامنی کے ساتھ زندگی گزار سکتی ہو۔ اگر اسے فتنے میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو اسے نکاح کرلینا چاہیے اور جس قدر فتنے کا امکان زیادہ ہو اس قدر دوسرے نکاح کی تاکید بھی زیادہ ہوگی۔
سکھاں پر سکون سی جينی کی گود میں سر رکھ کر سو گئی تھی
