275.2K
19

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tehreer Episode 15

Tehreer by Jameela Nawab

رات کا وقت تھا ساحل سویا ہوا تھا بارش کی تیز آواز سے اس کی آنکھ کھلی تھی۔ثاقب کمرے میں نہیں تھا۔ساحل نے گھڑی دیکھی تو وہ رات کے دو بجا رہی تھی وہ اسی سوچ میں تھا کہ وہ رات کے اس پہر کہاں گیا ہوگا جب دروازہ کھلنے کی آہٹ سے وہ اٹھ کر بیٹھ گیا تھا۔

“اس وقت کہاں سے آ رہے ہیں آپ بھائی ؟؟”

ساحل نے شکایتی انداز سے فوراً پوچھا تھا جبکہ ثاقب جو بارش میں بری طرح بھیگا ہوا تھا ٹھنڈ سے کانپتے ہوۓ ہاتھ سے صبر کا اشارہ کر کے واش روم میں گھس گیا تھا تھوڑا وقت لگا کر کپڑے تبدیل کر کے وہ گرم رضائی میں ساحل کے ساتھ آ کر لیٹ گیا ۔

“میں نے تمہیں بتایا تو تھا ساحل میں ٹیکسی چلاتا ہوں بس گاہگ چھوڑ کر تھوڑی مستی کرنے بازار حسن چلا گیا وہ تھوڑا روڈ سے دور تھا پيدل آنا جانا پڑا تو بھیگ گیا۔تمہاری بات کر کے آ رہا ہوں کل چلنا میرے ساتھ تمہیں پتہ تو چلے زندگی کس چڑیا کا نام ہے ساحل”

وہ بهنگ کے ساتھ ساتھ زن کے نشے میں مسرور سا بولا تھا یہ بات سن کر ساحل کا چہرہ غصے سے لال ہوا تھا اس نے بنا کوئی جواب دیئے لائٹ بند کی اور دوسری طرف منہ پھیر لیا۔

“ارے میرا پیارا بھائی ناراض ہو گیا مجھ سے ؟؟؟”

ثاقب نے لائٹ دوبارہ آن کر کے پریشانی سے پوچھا تھا

“نہیں بھائی آپ ابھی نشے میں ہیں آپ سے کوئی بھی کام کی بات کرنا مناسب نہیں ہے آپ فلحال سو جایئں”

ساحل کا لہجہ دکھ سے بھرا ہوا تھا

ثاقب اب لائٹ بند کرتے ہی گہری نیند میں سو چکا تھا

ساحل کی نیند اب کوسوں دور تھی وہ اپنی ماں کی ایک ایک بات جو اس کی دوسری ماں ثوبیہ نے اس کو بتائی تھی، آج تک یاد رکھے ہوۓ تھا جو وہ مرتے ہوۓ ثاقب اپنے بڑے بیٹے کے مستقبل اور آخرت کی فکرمندی میں دوہراتی رہی تھی

“بھائی میں آپ کو اس طرح خود کو جہنم کا ایندھن نہیں بننے دوں گا،میں آپ کو اپنے جیسا بنا کر ہی دم لوں گا”

ساحل نے گہری نیند میں مست اپنے بڑے بھائی کو محبت سے دیکھتے ہوۓ خود سے وعدہ کیا تھا ثاقب کے چہرے پر وقت نے کسی والی وارث کے نا ہونے پر بہت گہرے زخم ڈال رکھے تھے اس کے چہرے پر بلا کی بے چینی اور تھکاوٹ تھی۔بن ماں باپ کا بچہ ہونے كی زمانے نے اسے بہت بڑی سزا دی تھی۔

ساحل ثاقب کو دیکھتا چلا گیا وہ ثاقب کی گناہوں کی حد کا اندازہ اس کے چہرے پر آئی سیاہی سے لگا چکا تھا

وہ کمرہ جو کے اس فلیٹ کی تیسری منزل پر تھا ساحل اس کے آگے بنے ٹیرس پر آ کر کھڑا ہو گیا تھا پورا علاقہ خواب خرگوش کے مزے لے رہا تھا اور بارش نے اپنا شور مچا رکھا تھا۔

سنسان سڑک پر ہوتی تیز بارش نے ماحول کو پُراسرار بنا دیا تھا۔

“تین بجنے کو ہیں تہجد پڑھ لیتا ہوں”

وہ یہ کہہ کر کمرے کی طرف مڑنے کو تھا جب اس کی نظر اس خراب موسم میں رات کے اس پہر تن تنہا جاتی ہوئی اس لڑکی پر پڑی جو ساڑھی پہنے ہوۓ نيم برہنہ سی تیز تیز چلتی جا رہی تھی۔اس کی چال کی کپکاپاہٹ بتا رہی تھی کہ اسے سخت سردی نےگھیرا رکھا ہے۔اب بارش کے ساتھ آندھی بھی چلنے لگی تھی وہ لڑکی سہمی سی اس فلیٹ کے نیچے بنے شیلٹر میں کھڑی ہو گئی تھی۔اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے خود کو سردی کم کرنے کے لئے جھکڑ رکھا تھا۔مگر وہ پھر بھی بری طرح کانپ رہی تھی ساحل کو اس پر بہت ترس آیا تھا۔

“اللّه جانے کس مجبوری میں یہ گھر سے اس وقت باہر نکلی ہوگی”

ساحل نے اپنی بڑی موٹی چادر لی اور زینے اترتا نیچے آگیا۔وہ سانولی رنگت اور پر کشش نقوش کی مالک لڑکی اب کانپتے ہوۓ ایک طرف سمٹ کر بیٹھ گئی تھی۔

“یہ اڑھ لیں شاید آپ کی کچھ مدد ہو جائے”

ساحل نظریں جھکا کر ہمدردرانہ لہجے میں بولا تھا جس پر وہ لڑکی کھڑی ہوئی اور جلدی سے وہ چادر لے کر خود پر لپیٹ لی۔

“ایک کپ چاۓ مل سکتی ہے میں کافی دیر سے اس طوفانی بارش میں چل کر آرہی ہوں اب جسم کو گرمائش کی اشد ضرورت ہے”

ساحل جانے لگا تو وہ فورا سے بولی جس پر ساحل سوچ میں پڑ گیا تھا

“ارے ایک کپ چا ۓ ہی تو مانگی ہے صاحب”

وہ ساحل کی دی ہوئی چادر ایک طرف رکھ کر ساڑھی کا پلو ہٹا کر اب نچوڑ رہی تھی اس کا کمر کے ساتھ لگا پیٹ ساحل آنکھیں بند کر کر بھی دیکھ سکتا تھا یہ پہلی بار ہوا تھا کہ ساحل باوجود کوشش کے بھی اس لڑکی کا سچ نہیں بھانپ پایا تھا

“مطلب میں ناں سمجھوں ؟؟”

وہ اپنے جسم سے پانی جھاڑتی ہوئی مصروف سی بولی تھی

“نہیں آپ رکیں میں لاتا ہوں”

ساحل کہہ کر تیزی سے اوپر آیا تھا وہ ثاقب کے اٹھنے سے پہلے پہلے اس بلا سے پیچھا چھڑوانا چاہتا تھا اس نے جلدی سے چاۓ بنائی اور نیچے لے آیا۔وہ اب ساحل کی چادر اپنے چاروں طرف اچھے سے لپیٹ کر اپنی روشن موٹی آنکھوں سے پریشان سی تیز ہوتی بارش کو دیکھ رہی تھی۔

“یہ پی لیں”

ساحل نظر زمین میں گاڑھے کپ آگے کر کے آہستہ سے بولا تھا مگر آگے سے کوئی ہاتھ نہیں بڑھا تھا۔آخر اسے نظر اٹھا کر اس کے ہونے کا تعین کرنا پڑا۔اس نے جیسے ہی نظر اٹھا کر اس بلیک بیوٹی کو دیکھا

وہ کھلکھلا کر پورے دل سے قہقہ لگا کر ہنسنے لگی۔اس کے خوبصورت چوڑے دانت موتیوں کی طرح چمک کر اس کے خوبصورت تیکھے نقوش میں اضافہ کر گئے تھے۔آج تک ساحل نے کبھی بھی مخالف جنس کی کسی بھی عمر کی عورت کو اس طرح جی بھر کر دیکھنے کی جسارت نہیں کی تھی مگر نا جانے اس لڑکی میں یہ کیسا جادو تھا جو وہ نظریں ہٹانا بھول گیا تھا۔

“کبھی لڑکی نہیں دیکھی کیا ؟؟؟”

وہ کپ لیتے ہوۓ اپنے چہرے پر آتی گيلی لٹیں پیچھے کرتے ہوۓ بولی تھی جس پر ساحل بری طرح شرمندہ ہوا تھا۔

“نہیں ایسی بات نہیں ہے،میں اپنی حرکت پر شرمندہ ہوں”

وہ بمشکل نظریں جھکا کر بولا تھا کیوں کہ اس کا دل اسے ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے کو کررہا تھا ۔

“چاۓ آپ زرہ بھی اچھی نہیں بناتے مسٹر ؟؟؟؟؟”

اس نے ہاتھ کے اشارہ کرتے ہوۓ نام پوچھا تھا

“ساحل ۔۔۔۔ساحل میرا نام ہے”

“اچھا تو ساحل صاحب رات کے اس پہر ٹیرس پر کیا کررہے تھے ؟؟؟”

وہ ساحل کے نزدیک ہو کر بے تکلفی سے بولی تھی

“میں اس وقت جاگ جاتا ہوں عموماً تہجد پڑھنے۔اور آپ اس وقت کیا کر رہی تھیں وہ بھی اکیلی؟؟؟”

ساحل کو اپنے اس بات بڑھانے والے سوال پر خود بھی حیرانی ہوئی تھی۔

“منت مانگی تھی میں نے ایک جو پوری کردی بھگوان نے بس اسی کو پورا کرنے بارش میں نکلی تھی۔ابھی تو آج دوسرا دن تھا چالیس راتیں مجھے ایسے ہی گزارنی ہیں،اچھا باپوں میری رہ دیکھ رہے ہونگے میں چلتی ہوں،چاۓ کے لئے شکریہ”

وہ چادر کو مزيد اچھے سے اپنے گرد لپیٹ کر کپ ساحل کو تهما کر بارش میں نکل گئی تھی۔ساحل بنا پلکیں جهپکاۓ کسی حسین خواب کی طرح اس کو جاتا دیکھ رہا تھا جو اس کے دل کی دھڑکن کو بے ترتیب کر گئی تھی۔

“اَللّٰهُُ اَكْبَر ،اَللّٰهُُ اَكْبَر”

دور کسی مسجد سے فجر کی اذان سنائی دی تھی۔

“ارے آج تہجد مس ہوگئی”

وہ افسوس کرتا چائے کا خالی کپ لئے اوپر آیا نماز پڑ ھی اور حسب عادت قران پاک کا کچھ حصہ حفظ کر کے تازہ کیا۔اب وہ زیادہ صفحات پر مشتمل ڈائری پر کچھ لکھنے بیٹھ گیا جو کام وہ بچپن میں تصویر بنا کر کرتا تھا اب لکھ کر کرتا تھا۔ آج اس نے ایک ایسے گاؤں کے بارے میں لکھا جہاں شدید زلزلا آئے گا۔

وہ اپنا لکھا جملہ بار بار پڑھتا اور پریشان ہوتا ۔میں زلزلہ تو نہیں روک سکتا مگر پورے گاؤں کو وہاں سے بھیج کر تباہ ہونے سے بچا سکتا ہوں۔

وہ اب اس گاؤں کے متعلق جاننے کے لئے ثاقب کے اٹھنے کا منتظر تھا۔

صبح کے سات بج رہے تھے جب ثاقب نہانے کے لئے واش روم گیا تھا۔جب تک وہ آیا ساحل ناشتہ بنا کر اس کا منتظر تھا۔

“بھائی یہ جتنے بھی پاس کے گاؤں ہیں ان کی خاص ایسی بات جو اس کی پہچان بن چکی ہو اور اسے سب سے منفرد کرتی ہو ؟؟؟”

ساحل نے چاۓ کا سپ لیتے ہوۓ تجسس سے پوچھا تھا ۔

“ایک تو ہمارا ہے جو اس بد دعائی کوٹھے کی وجہ سے جانا جاتا تھاجو ایک وقت کے لئے بلکل خالی ہو چکا تھا۔شکر ہے دادا جی کی ساری جائیداد وہ اپنی زندگی میں ہی وہاں سے بیچ کر دوسری جگہ، جگہ خرید کر محفوظ کر چکے تھے۔ ہم بہت امیر ہیں میرے پاس وصیت پڑی ہے اور ہر چیز کے اصل کاغذات بھی،بہت کوشش کی اپنی ضرورت کے لئے تیرا حصہ بیچنے کی پر ایسا پکا کام کیا ہے دادا جی نے کہ مت پوچھ ساحل میرے بھائی تجھے اندازہ تک نہیں ہے۔جو ہمارا بنگلا ساتھ والے گاؤں میں ہے مت پوچھ کیا چیز ہے وہ مگر افسوس سب تیرے نام پر ہے میں تو جیسے سوتیلا تھا نا”

وہ پراٹھا دانتوں میں دبا کر اوپر سے چاۓ کا بڑا سا گھونٹ بھرتا ہوا ناراض ہو کر بولا تھا

“آپ میرے بڑے بھائی ہیں اور ہم دو ہی تو ہیں اور ہے کون ہمارا ؟؟؟ہمارا تمہارا کیا ہوتا ہے بھائی ؟؟؟جو ہے ہم دونوں کا ہے،کچھ کام نپٹا لوں پھر اچھی سی گاڑی دیکھتے ہیں۔میں نے سوچا ہے ہم جگہ جگہ گودام بنا کر گندم اور ديگر چیزوں کے لئے رینٹ پر دے دیں گے اور ہم بس اللّه اللّه کریں گے امامت ۔۔۔گھر اور مسجد ۔۔۔آپ اس گاؤں کے بارے میں بتا رہے تھے کچھ وہ بات مکمل کریں”

ساحل نے چاۓ کا آخری سپ لے کر کپ سنک کی طرف لے جاتے ہوۓ کہا تھا

“میں بتا رہا تھا اس کوٹھے کے خالی ہو جانے کے بعد آہستہ آہستہ وہ گاؤں دوبارہ بسنے لگا اور اب وہاں پر ایک بڑی آبادی رہتی ہے”

ثاقب نے ناشتہ مکمل کرتے ہوۓ سنک کا رخ کیا تھا اب وہ برتن دھو رہا تھا۔

“اور کوئی خاص بات ؟؟؟”

“ہممممم ۔۔۔۔۔۔وہ زیادہ تر ہم جنس پرست ہیں عورتیں بھی اور مرد بھی،کہا جاتا ہے وہ اپنے علاقے سے اسی لئے نکالے گئے تھے کہ وہ مرد کا مرد اور عورت کا عورت سے نکاح کا حق مانگنے لگے تھے۔آہستہ آہستہ اس سوچ کے تمام لوگ اس خالی گاؤں میں آ کر رہنے لگے اب دنیا نے بھی ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے،اللّه خود ہی دیکھ لے گا ان کو”

ثاقب نے آخری برتن دھو کر اسٹینڈ پر رکھتے ہوۓ کہا تھا

“ہاں ۔۔صحیح کہا آپ نے اللّه خود ہے دیکھ لے گا ان کو،کتنی عجیب بات ہے ہم جنس پرست کی نسل اسی پر ختم ہو جاتی ہےاس فعل کی اس سے بھیانک سزا کیا ہو سکتی ہے

اس گناہ کی زندگی کے بعد وہ ایک اچھی ازدواجی زندگی کے قابل ہی نہیں رہتا پھر عورت ہو یا مرد وہ جگہ جگہ اولاد کے لئے ذليل ہوتا ہے،بیشک وہ انسان کے اپنے اعمال ہی ہیں جو اللّه کے غضب کو دعوت دیتے ہیں”

ساحل نے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر افسوس سے کہا تھا۔

ساحل نے کچھ بھی کرنے سے خود کو روک لیا تھا پھر وہ ہی ہوا شام تک اس گاؤں میں زلزلہ آیا اور ایسا آیا کہ پورے گاؤں کو ابدی نیند سلا گیا۔

(شروع کی اقساط میں اس بات کا ذکر کیا گیا تھا ۔جب وہاں سركاری ہسپتال کے سرد خانے میں میتوں کے ڈھیر لگے ہوتے ہیں اور ساحل وہاں زویا کی لاش لے کر جاتا ہے)

ساحل ثاقب کو زبردستی اپنے ساتھ مسجد لے کر جاتا اور اس کے ساتھ ٹیکسی بھی چلاتا مقصد اسے گناہوں سے دور رکھنا اور ہر وقت اس کی کڑی نگرانی کرنا تھا۔

“بیشک سب سے پہلے اللّه مجھ سے میرے اپنے بھائی کے متعلق ہی پوچھے گا باقی دنیا کی فلاح کا سوال بعد میں ہوگا”

ساحل نے اس بات کو بنیاد بنا کر اپنے والد مولوی احمد کے گاؤں میں واپس جانے کا ارادہ مستقل ترک کر کے ادھر ہی رہنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ یہاں چونکہ لوگ ساحل کی اس صلاحیت کے بارے فلحال نہیں جانتے تھے لہذا زیادہ وقت وہ اپنے بھائی کے ساتھ ہی گزارتا۔

رات کا وقت تھا ثاقب آج اکیلا ہی کام پر گیا تھا ساحل نے کافی دیر تک جاگ کر اس کا انتظار کیا مگر وہ نہیں آیا۔

“کاش میں آج بھی بھائی کے ساتھ چلا جاتا،لگتا ہے بھائی آج پھر سے اس بازار حسن چلے گئے ہیں مگر انہوں نے تو مجھ سے وعدہ کیا تھا نا”

ساحل شدید پریشانی میں خود سے بولا تھا

اب صبح کے تین بج رہے تھے جب ساحل ثاقب کو دیکھنے ٹیرس میں آیا تھا۔

وہ لڑکی آج بھی تیز بارش میں روڈ پر تیز تیز چلتی ہوئی ساحل کو نظر آئی تھی۔وہ بھی ساحل کو دیکھ چکی تھی۔وہ آج بھی اسی طرح برہنہ پیٹ پر ہاف بلاؤز کی ساڑھی پہنے ہوۓ تھی۔اس نے ہاتھ سے چاۓ کا اشارہ کر کے آج پھر اسی شیڈ کے نیچے پناہ لے لی تھی۔

“میں نہیں جاؤں گا آج اس کے پاس یہ مجھے گناہ گار کر دے گی”

ساحل ٹیرس کا دروازہ بند کر کے اندر آ گیا تھا اب وہ وضو کرنے جانے کو تھا جب ثاقب اسی لڑکی کے ساتھ اندر آیا تھا۔

“بھائی آپ کی دوست آئی ہے اور آپ اس کو باہر بیٹھائے ہوۓ ہیں”

ثاقب مسکراتا ہوا اندر آیا تھا جبکہ ساحل اس لڑکی کو بھیگا ہوا اوپر سے برہنہ پیٹ کے ساتھ، اس طرح رات کے اس پہر دو مردوں کے کمرے میں دیکھ کر زمین میں دھنسنے کو تھا۔

“آپ یہ پہن لیں اور پلیز یہاں سے چلی جایئں،دوبارہ مجھ سے ملنے یا یہاں آنے کی زحمت مت کیجیے گا”

ساحل غصے سے لال ہوتا ہوا بولا تھاجسے سنتے ہی اس لڑکی نے وہ ساحل کی ابھی ابھی دی ہوئی چادر ادھر اچھال کر پھینکی اور وہ پاؤں پٹختی وہاں سے چلی گئی۔

“ساحل آخر کیا ضرورت تھی یہ سب کہنے کی ؟؟؟اس دن بھی تم نے اس کو چاۓ پلائی تھی وہ بتا رہی تھی تو آج بھی پلا دیتے بات ختم،مہمان کے ساتھ ایسا کرنا کہاں کی مسلمانیت ہے ؟؟؟؟”

ثاقب گاڑی کی چابی ٹیبل پر رکھتا ہوا ناراض لہجے میں کہہ رہا تھا ۔

“اس دن مجھے وہ مجبور لگی تو میں اس خراب موسم میں اس کی مدد کرنے پہنچ گیا مگر اب یہ روز روز اس بیہودہ حلیہ لئے میرے سامنے آئے یہ میں برداشت نہیں کر سکتا،اور آپ کہاں تھے آج ؟؟؟”

ساحل نے کمرے کا دروازہ بند کرتے ہوۓ کہا تھا

“ایک بندے کو ہسپتال لے کر جانا پڑا گھر واپس آتے ہوۓ بس اسی لئے لیٹ ہوگیا ہوں”

ثاقب اب سونے کے لئے لیٹ گیا تھا جبکہ ساحل تہجد کے لئے وضو کرنے واش روم گھسا تھا۔

۔*************

ساحل اور ثاقب نے مل کر اپنے گودام بنانے والے پلان کو عملی جامہ پہنا دیا تھا وقت اور قسمت نے ان کا بھرپور ساتھ دیا تھا اچھی رقم میں وہ ان کو کرائے پر چڑھا چکے تھے۔

اس میں چھ ماہ کا عرصہ گزرچکا تھا۔ثاقب اب بھی شوقیہ ٹیکسی چلا رہا تھا۔وہ دونوں اپنے بڑے حویلی نما گھر میں شفٹ ہو چکے تھے۔

اس علاقے میں ان دونوں کو کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔ایک بار ایسا ہوا ثاقب دو دن تک گھر سے غائب رہا اور واپس آنے پر وہ بلکل بدلہ ہوا تھا وہ زیادہ دیر چپ رہتا مگر جب بات کرتا تو حیران کر دیتا۔

وہ عورت اور شراب کے علاوہ کوئی بات ہی نا کرتا وہ جب بھی بولتا عورت کی نسوانیت کو لے کر شرم ناک الفاظ استعمال کرتا اور مدہوش ہو جاتا۔ساحل جب بھی اس کا مستقبل بھانپتا اس کا دل اسے نيک انسان کے روپ میں دیکھ کر مطمین ہو جاتا۔ساحل نے کچھ دن اس کی اس تبدیلی کو نوٹ کیا پھر وہ کام کی مصروفیت میں مگن ہوگیا۔

آج ثاقب کو دوسرے شہر کسی سواری کے ساتھ اسے چھوڑنے جانا تھا واپسی کا سارا سفر اسے اکیلا نا کاٹنا پڑے بس اسی لئے اس نے ساحل کو بھی ساتھ چلنے کا کہا تھا۔دوسری وجہ ساحل کو اپنے اس شہر میں موجود گودام کا کرایہ بھی وصولنا تھا۔

وہ دونوں واپسی کے رستے پر تھے۔تیز بارش كی وجہ سے ثاقب گاڑی بہت آہستہ چلا رہا تھا۔(یہاں بتاتی چلوں یہ وہ ہی علاقہ ہے جہاں آج کل

ساحل رہ رہا ہے۔جہاں وہ تالاب ہے جو اس نے خواب میں دیکھا تھا)

سڑک بلکل سنسان تھی اور دونوں اطراف میں گھنے درختوں سے چھپی ہوئی،ثاقب بہت احتیاط سے گاڑی چلا رہا تھا۔ساحل تسبیح ہاتھ میں پکڑے نيم غنودگی میں آنکھیں موندے فرنٹ سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا۔گاڑی کی رفتار آہستہ سے آہستہ ہوتے ہوتے بلکل رک گئی تھی۔ساحل نے آنکھیں کھولی اور وجہ جاننے کے لئے اپنے بھائی ثاقب کو سوالیہ نظروں سے دیکھا،جس نے ہاتھ کے اشارے سے اس کو جواب دیا۔

سڑک کے ایک طرف بس اسٹاپ کا شیڈ بنا ہوا تھا جہاں وہ ہی لڑکی آج قمیض شلوار پہنے چادر اچھے سے لپیٹ کر خوفزده سی سہم کر بیٹھی ہوئی تھی۔ان کی گاڑی کی لائٹ نظر آتے ہی وہ سڑک کے وسط آ کھڑی ہوئی تھی۔وہ لفٹ چاہتی تھی۔

گاڑی رکتے ہی اس نے جلدی سے گاڑی کا دروازہ کھولا اور فورا بیٹھ گئی۔

“جلدی چلاؤ ورنہ گاؤں کے لوگوں کے ساتھ باپوں آجائے گا وہ مجھے ستی کر دیں گے”

وہ گھبرا کر روتے ہوۓ بولی تھی

ثاقب نے فوری اس کی بات پر عمل کیا تھا۔جو ساحل کو ناگوار گزرا تھا مگر وہ خاموش رہا۔ابھی وہ تھوڑا سا ہی آگے گئے ہونگے جب ثاقب کو فورا بریک لگا کر گاڑی روکنی پڑی تھی۔

“اب کیا ہوا ہے ؟؟؟”

ساحل نے غصے سے پوچھا تھا مگر ثاقب کے چہرے کی گھبراہٹ دیکھتے ہوۓ اس نے اس کی نظروں کا تعاقب کیا تھا۔

پورا گاؤں ڈنڈے ہاتھ میں پکڑے خالص ہندؤانہ طرز کی دھوتی اور قمیض پہنے لال ہوتی آنکھیں لئے اس تیز بارش اور کالی رات میں اس سڑک کو بند کئے کھڑے تھے۔

“میں دیکھتا ہوں”

ساحل کہہ کر اترنے کو تھا جب وہ لڑکی فورا بولی تھی۔

“دیکھو میں ان کے ساتھ بلکل نہیں جاؤں گی،میں مسلمان ہو چکی ہوں اور کسی مسلمان سے ہی بیاہ رچاؤں گی اس راموں سے ہرگز نہیں پان کھاتا ہے وہ زہر سے بھی زیادہ برا لگتا ہے مجھے وہ نگوڑہ،نیچے مت اترو گاڑی کو سائیڈ سے نکال دو یا ان سالوں کے درميان سے لے لو”

وہ نفرت آميز لہجے میں بولی تھی ساحل نے ایک نظر اس پر ڈالی اور نیچے اتر گیا ثاقب بھی اس کے ساتھ اترا تھا۔

“شکل سے تم مہذب بندے لگ رہے ہو،دیکھو ہمیں تم سے کوئی لینا دینا نہیں ہماری بیٹی کو ہمیں سونپ دو بس”

ان میں سے ایک بوڑھا مرد عزت سے بولا تھا

“رامو؟؟؟”

ساحل نے اس کا نام پکار کر اس لڑکی کی بات کی تصدیق کرنا چاہی تھی۔

ایک لڑکا لال زبان اور لال ہونٹ لئے میلے سے کپڑے پہنے ہوۓ آگے ہوا تھا۔

“میں ہوں جی رامو،ماسوری کے بچپن کا منگیتر”

وہ فخر سے بتارہا تھا۔

“میں آپ میں سے کسی کو بھی نہیں جانتا نا ہی جاننا چاہتا ہوں پھر بھی بس اتنا کہوں گا اگر آپ کی بیٹی کی مرضی ان سے شادی کی نہیں ہے تو آپ لوگ زبردستی مت کریں یہ غلط ہے،اور ان کا کہنا ہے کہ وہ مسلمان بھی ہو چکی ہیں تو ان کی شادی ایک مسلمان سے ہی ہونی چاہیے”

ساحل نے جس محبت اور عزت سے ان سے بات کی تھی وہ لوگ نرم پڑچکے تھے۔

“جھوٹ بولتی ہے یہ کوئی نہیں ہوئی یہ مسلمان ہر وقت مندر میں بیٹھی رہتی ہے کالی دیوی کی بهگت ہے یہ،یہ کیسے مسلمان ہو سکتی ہے؟؟؟ساری ساری رات ان کی پوجا میں یہ سڑکوں کی خاک چھانتی ہے،ایسے کیسے مان لوں میں ؟؟؟”

رامو مخلص ہونے کے ساتھ ساتھ سخت دلبرداشتہ لگ رہا تھا۔

“اور کوئی بھی مسلمان اس سے شادی نہیں کرے گا۔بہت عجیب لچھن ہووے ہیں اس کے”

رامو کار میں بیٹھی ماسوری کو گھور کر بولا تھا

“پھر ۔۔۔۔۔آپ پھر بھی کیوں کرنا چاھتے ہیں ان سے شادی ؟؟؟”

ثاقب نے پوچھا تھا۔

“میں تو بہت محبت کرتا ہوں ان سے بس دل کے ہاتھوں مجبور ہوں”

ساحل کو اس لڑکے پر دل سے رحم آیا تھا۔

“یہ تو ہندو رہ کر بھی خالص نہیں تھی مسلمان کیسے بن سکتی ہے ؟؟؟ہوا،سورج اور تو اور پانی کی بھی پوجا کرتی ہے یہ دیوی کالی بھی کوئی خاص خوش نہیں ہونگی اس سے”

رامو کے اتنا کہنے کی دیر تھی ماسوری جو اس کی بات سن چکی تھی اس نے ایک کرارے فراٹے دار تھپڑ سے اس کا گال رنگا تھا۔

“لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ‎”

بس ؟؟؟؟؟

“جو سکون مجھے اس مذہب کو قبول کر کے ملا ہے وہ کسی سے نہیں ملا۔ہر مادی چیز کی عبادت کر کے دیکھ چکی مگر جو سکون اس نا نظر آنے والے رب کو مان کر ملا وہ کہیں نہیں،اب دفع ہو جا اپنی اس فوج کو لے کر نہیں کرنی مجھے تجھ سے شادی”

ماسوری پر سکون سی دو ٹوک بولی تھی

“دیکھ میری بیٹی مجھے اس طرح رسوا نا کر پورے جگ کے سامنے ابھی گھر چل جب کوئی مسلمان لڑکا تیرا ہاتھ مانگے گا تو کردوں گا تیرا کنیادان(شادی)”

اس کا باپ بهرائی ہوئی آواز میں ماسوری کے آگے ہاتھ جوڑ کر بولا تھا مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہوئی تھی وہ واپس جانے سے انکاری تھی۔

“آپ اگر واقعی دل سے مسلمان ہو ہی گئی ہیں تو اپ کو بتاتا چلوں کہ اگر آپ کے والدین آپ سے خوش نہیں،تو ان کی ناراضگی آپ کے سارے اعمال مٹی کرنے کے لئے کافی ہے۔فرمانبردار اولاد اور ایک اچھے مسلمان کی تعریف میں بس اركان اسلام کی پابندی کا فرق باقی رہ جاتا ہے”

“جہاں جنت ماں کے قدموں تلے رکھ دی گئی ہے تو ادھر ہی باپ کو اسی جنت کا دروازہ کہا گیا ہے”

“آپ چو نکہ نو مسلم ہیں تو آپ نہیں جانتی ہونگی کہ باپ کی ناراضگی کو رب کی ناراضگی تک کہا گیا ہے”

ساحل نے ماسوری کو نرمی سے سمجھایا تھا

“تو کیا آپ اب بھی ان کی بات نہیں مانے گی ؟؟”

ساحل نے ماسوری کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھا تھا۔

“میں ان کے ساتھ جانے کے لئے راضی ہوں مگر میری ایک شرط ہے”

ماسوری نے خاص طور پر رامو کو دیکھ کر رک رک کر کہا تھا۔سب اب اس کی ،اس شرط کے منتظر تھے۔

“آپ اپنی شرط بتائیں اور اپنے والد کے ساتھ چلی جایئں،اس عمر میں ان کو رسوا مت کریں”

ساحل کا انداز بات ختم کرنے والا تھا

“آپ ۔۔۔۔آپ مجھ سے نکاح کر لیں کیوں کہ میں اسلام کو صحیح معنوں میں سیکھنا چاہتی ہوں اور وہ آپ سے بہتر مجھے کوئی بھی نہیں سکھا پاۓ گا”

ماسوری نے باآواز بلند کہا تھا جس پر سب حیران ہوۓ تھے۔

“هاهاهاهاها ۔۔۔۔تم جیسی سے یہ مولوی کیوں کرنے لگا ویواہ ماسوری ؟؟؟؟اگر تو یہ ایسا کرے گا تو میں یہ وچن دیتا ہوں کہ یہاں موجود ہم سب لوگ ابھی اور اسی وقت كلمہ پڑھ کر مسلمان ہو جایئں گے”

رامو نے جذبات اور ضد میں کافی بڑی بات کر دی تھی۔جس پر ماسوری کا رنگ اڑ گیا تھا اس کے چہرے پر صاف لگ رہا تھا وہ ایسا کچھ نہیں چاہتی مگر وہ خاموش رہی۔

“کیا واقعی آپ لوگ دل سے اسلام قبول کر لیں گے ؟؟؟”

ساحل نے سب کو مخاطب کیا تھا۔پھر ساحل نے ان کے مستقبل کو بھانپا وہ اپنے فیصلے پر پورا اترنے والے تھے۔اس نے بہت کوشش کی کہ وہ ماسوری کے بارے میں کچھ جان پاتا مگر اسکا دل و دماغ کچھ بھی بتانے سے قاصر رہا۔

“مجھے ان سے نکاح منظور ہے آپ سب كلمہ پڑھ لیں”

ساحل نے گرم جوشی سے کہا تھا۔پھر ساحل اور ثاقب ان کے ساتھ سڑک کے پار گاؤں میں بنی ایک مسجد میں گئے جہاں سب کو وضو کروا کر ساحل نے پہلے كلمہ پڑھایا پھر ماسوری اور ساحل کا نکاح کر دیا گیا۔