275.2K
19

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tehreer Episode 7

Tehreer by Jameela Nawab

ساحل اب بیگ سے کپڑے نکال کر کمرے میں بنی الماری میں ٹانگ رہا تھا اتنے میں زمرد خان سامان لے کر آیا تھا

“صاحب سامان کچن میں رکھ دیا ہے آپ دیکھ لیں روٹی اور سالن بھی لے آیا ہوں آج گزارا کریں کل سے سب گھر کا بنا ہی ملے گا۔۔۔۔میں اب چلتا ہوں صبح وقت پر آ جاؤ ں گا یہ میرا نمبر رکھ لیں اور اپنا بھی دے دیں”

نمبرز کے تبادلے کے بعد زمرد خان چلا گیا تھا جبکہ ساحل اب کھانا پلیٹ میں نکال کر ٹی وی لاؤنچ میں بیٹھ گیا تھا “

بارش اب بھی کافی تیز تھی کھانا کافی اچھا بنا ہوا تھا ساحل برتن کچن میں رکھ کر اب اپنے کمرے میں سونے آیا تھا

ٹھنڈ کافی تھی وہ لحاف اوڑھ کر کافی پرسکون ہوا تھا بارش نے جل تھل مچا رکھی تھی وہ جلد ہے گہری نیند میں جا چکا تھا

رات کا کوئی پہر ہوگا جب شدید پیاس سے ساحل کی آنکھ کھلی تھی بارش اب بھی ہو رہی تھی

وہ ٹی وی لاؤنچ سے ہوتا ہوا کچن میں پانی پینے گیا تھا

کرسی پر بیٹھا پانی پی رہا تھا جب بارش کی آواز میں کچھ اور آوازیں شامل ہوئی تھیں وہ پانی کا گلاس رکھ کر ٹی وی لاؤنچ میں آیا تھا

ٹی وی چل رہا تھا ایک خوبصورت عورت رقص کر رہی تھی کسی پرانے گانے پر اور بہت سے مرد سفید رنگ کے سوٹ، جو کہ اس دور میں اچھے گھرانوں سے ہونے کا پتہ دیتے تھے، پہنے ہوۓ چاروں اطراف میں بیٹھے ہوۓ تھے ۔۔۔

ساحل حیران پریشان یہ سب دیکھ رہا تھا اب ایک آدمی اٹھا اور اس عورت کا ہاتھ پکڑ کر ایک کمرے میں لے گیا۔۔۔

اب ٹی وی پر منظر بدل گیا تھا اب یہ وہ ہی تالاب تھا جس کی تلاش میں ساحل یہاں آیا تھا

اس کے گرد بہت سی عورتیں کالی چادروں میں لپٹی سر جھکاۓ بیٹھی ہوئی تھیں

ساحل نے دیکھا وہ سب رو رہی تھیں پھر اچانک ایک ہاتھ تالاب میں سے دلخراش چیخ کی آواز کے ساتھ باہر نکلتا ہے

وہ چیخ ساحل کو بلکل اپنے کان میں سنائی دی تھی اس نے گھبرا کر اپنے ارد گرد دیکھا تھا جانے کب کی لائٹ جا چکی تھی بارش بہت تیز تھی پورا علاقہ تاریخی میں ڈوبا ہوا تھا مگر ٹی وی اب بھی چل رہا تھا

اب وہ ساری عورتیں ساحل کی طرف دیکھ رہی تھیں آنکھوں کی جگہ گہر ے کالے گڑھے تھے

“ساحل میرے پاس آؤ۔۔ “

وہ لب بہت پاس محسوس ہوۓ تھے مگر آواز اب کی بار کھڑکھی طرف سے آئی تھی

ساحل فورا اس طرف اٹھا تھا

وہ جو کوئی بھی تھی اس کا منہ ساحل کی طرف تھا اب قبرستان کی طرف جا رہی تھی

ساحل نے جلدی سے الماری سے برساتی نکالی اور اس کے پیچھے دروازہ کھول کر تیز بارش میں نکل گیا ۔۔۔۔۔باہر اسے باڑ پھلانگ کر اس کے پیچھے جانا پڑا۔۔۔

“سنو؟؟؟؟؟کون ہو تم اس بارش میں تم ۔۔۔۔تم قبرستان کیوں جا رہی ہو؟؟؟؟”

وہ اسے آوازیں دیتا اس کے پیچھے بھاگا تھا

وہ بنا کوئی جواب دیئے بس چلی جا رہی تھی وہ ساڑی پہنے ہوۓ تھی جو بلکل ہندوآنہ طرز کی تھی وہ اس کا پیٹ اور کمر کا کا نچلا برہنہ حصہ آسانی سے دیکھ سکتا تھا وہ رنگت میں بلکل سانولی تھی مگر بلا کی پر کشش تھی

“میری بات تو سنو؟؟؟؟؟”

ساحل چلایا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کا چہرہ اپنی طرف کیا

لال روتی ہوئی آنکھیں۔۔۔۔۔شکوہ،دکھ،تکلیف،اذیت۔۔۔ کیا تھا جو ان آنکھوں میں موجود نہیں تھا۔۔۔چہرے پر آتی موٹی موٹی گیلی لٹیں اس کی خوبصورتی میں چار چاند لگا رہی تھیں۔۔۔وہ شکایت بھری نظروں سے ساحل کی آنکھوں میں بنا پلک جھپکے دیکھ رہی تھی۔۔۔

“تتتتتتتت۔۔۔۔۔تم۔۔۔۔۔۔کون۔۔۔۔۔۔”

وقت ٹھہر سا گیا تھا الفاظ ساحل کے منہ میں ہی گم ہو گئے تھے

وہ ساحل کا ہاتھ پیچھے کو کرتی اس تیز بارش میں جاتی غائب ہوتی چلی گئی۔۔۔۔

بجلی زور سے گرجی تھی ساحل جو تب اس کو دیکھنے کے چکر میں اپنے ارد گرد سے بلکل بیگانہ تھا اب جیسے ہوش کی دنیا میں واپس آیا تھا

وہ اس پرانے اور بوسیدہ قبروں پر مشتمل قبرستان کے وسط میں اس طوفانی بارش میں رات کے دوسرے پہر میں بلکل اکیلا کھڑا تھا

خوف کی ایک لہر اس کی ریڑھ کی ہڈی میں محسوس ہوئی تھی وہ بنا کچھ سوچے سمجھے اب باڑ کے اس پار گھر کی طرف بھاگا تھا

بہت سے لوگوں کے ہںسننے کی آوازیں اس کا تعاقب کر رہی تھیں

اس کو لگا مڑ کر دیکھا تو شاید وہ ایک قدم بھی نہیں چل پاۓ گا۔۔

مسلسل بھاگنے کی وجہ سے اس کے دونوں پاؤں کیچڑ میں لت پت ہو کر من من کے محسوس ہو رہے تھے

اس نے پھولی سانس کے ساتھ بمشکل باڑ پار کی مگر نئی مشکل اس کی منتظر تھی وہ دروازہ جو کنڈی لگا کر بھی کھل جایا کرتا تھا اب کھولنے پر بھی نہیں کھل رہا تھا

ساحل اب دروازہ پکڑے ادھر ہی بیٹھ گیا تھا اس نے ڈر ڈر کے باڑ کے پار قبرستان کی طرف دیکھا۔۔۔

بہت سے لوگ کفن میں لپٹے اس کی طرف سوالیہ نظروں سے اب خاموشی سے دیکھ رہے تھے

ٹھنڈ،خوف اوربے بسی سب ایک ساتھ ساحل کو بیہوش کرنے کے لئے کافی ثابت ہوئے تھے ۔۔۔۔

۔***********

“زاہرہ بیٹا یہاں کیا کر رہی ہو اس وقت خیریت ہے؟؟؟”

مولوی علی محمد ہاتھ میں تسبیح پڑھتے اپنی بہو کے پاس آۓ تھے

“جی ابو وہ۔۔۔۔۔ بس۔۔۔ویسے ہی کمرے میں گھبراہٹ ہو رہی تھی تو چھت پر آ گئی تازہ ہوا کھانے۔۔۔بس بارش بھی آنے والی ہے۔۔۔ “

زاہرہ دوپٹہ سر پر ٹھیک کرتی عزت سے کھڑی ہو کر بولی تھی

“بیٹا۔۔۔۔۔میں بہت شرمندہ ہوتا ہوں۔۔۔

جب سجاول پتر اس طرح تمہیں پریشان کرتا ہے۔۔۔اتا ہے تو میں کان پکڑ کر سمجھاؤ ں گا اسے۔۔۔تم پریشان مت ہو۔۔،۔۔میں پوری حویلی کا چکر لگا کر بس سونے جا رہا تھا تو تمہیں اس طرح چھت پر اکیلا کھڑا دیکھ کے ادھر آ گیا۔۔۔۔چلو میری بیٹی سو جاؤ۔۔۔۔وہ بس آتا ہی ہوگا۔۔ “

مولوی علی محمد نے زاہرہ کو سر پر پیار دے کر کہا تھا

“ابو ۔۔۔۔۔کیا وہ کسی اور سے شادی کرنا چاھتے تھے؟یہ شادی آپ نے زبردستی کروائی ہے ان کی مجھ سے؟؟؟”

زاہرہ نے ڈرتے ہوۓ اپنے دوپٹے کا ایک کونا مروڑتے ہوۓپوچھا تھا

“نہیں بیٹا ایسا کچھ نہیں تھا۔۔۔ جوانی میں سب ہی ایسے راتوں کو دیر سے آیا کرتے ہیں۔۔۔اور ابھی شادی کو وقت ہی کتنا ہوا ہے بیٹی۔۔۔ تم اس کا یہ مطلب مت نکالو۔۔۔۔چلو جاؤ اب۔۔۔۔نماز پڑھی ہے؟؟؟”

“جی ابو ۔۔۔۔۔کب کی پڑھ لی ۔۔۔۔”

وہ سعادت مندی سے گویا ہوئی تھی

“اور کھانا؟؟”

“نہیں ابو آج دل نہیں کیا کچھ کھانے کو ۔۔۔۔جی عجیب سا ہو رہا تھا۔۔ “

“گھبراہٹ بھی۔۔ “

وہ مزید بولی تھی

مولوی صاحب نے چاروں قل پڑھ کر زاہرہ پر پھونکے اور اسے اپنے ساتھ نیچے لے آۓ۔۔اور اپنے کمرے میں چلے گئے

“زاہرہ کچھ دیر جاگتی رہی پھر سو گئی پھر اس کی آنکھ کمرے میں ہوئی آہٹ پر کھلی تھی کوئی دھڑم سے اس کے ساتھ آ کر لیٹا تھا

” سجاول اپ کدھر تھے ساری رات؟؟؟؟”

زاہرہ نے غصے اور دکھ کے ملے جلے تاثرات لئے روہانسی ہو کر پوچھا تھا

“سونے دو صبح بات کروں گا”

وہ نشے میں دھت نیم غنودگی میں بولا تھا شراب کی باس زاہرہ کی ناک کو بری طرح چڑھی تھی وہ قے کرنے بھاگ کر باتھ روم گئی تھی جب تک وہ آئی وہ گہری نیند میں سو چکا تھا

زاہرہ نے کیچڑ میں لت پت اس کے بوٹ اتار کر رکھے اب وہ اسے رضائی اوڑھا رہی تھی جب اس نے اس کی گردن کے پاس دو تین لمبے بال چپکے ہوۓ دیکھے۔۔۔یہ ثبوت اس کی رات کی شب بیداری کی وجہ بتانے کے لئے کافی تھا

انسو ٹپ ٹپ بہتے ہوۓ اس کی گردن تک بھگونے کو تھے

“یا اللّه میں کس کو اپنا دکھ درد بتاؤں؟؟؟؟؟” میں۔۔۔ میں کہاں جاؤں؟؟؟؟”امی وہ مجھے کسی صورت گھر واپس نہیں رکھیں گی۔۔۔۔ یا اللّه؟؟؟؟؟میں یہ سب کیسے برداشت کروں؟؟؟؟؟”

زاہرہ سامنے پڑی کرسی پر دل پر ہاتھ رکھے بیٹھ گئی تھی

“اَللّٰهُُ اَكْبَر،اَللّٰهُُ اَكْبَر”

مولوی علی محمد کی نماز فجر کی اذان دینے کی آواز زاہرہ کے کان میں اس کے سوال کے جواب کی طرح سنائی دی تھی

وہ آنسو پونچھ کر وضو کرنے اٹھ گئی تھی

نماز قران پڑھ کر وہ کچن میں ناشتہ بنانے آئی تھی

مولوی صاحب گاؤں کے بچوں کو قران پاک پڑھاتے تھے یہی وجہ تھی کہ وہ ناشتہ فجر کے ایک گھنٹے بعد کر لیا کرتے تھے

زاہرہ ان کو ناشتہ دینے ان کے کمرے میں آئی تھی وہ اس کا اترا چہرہ دیکھ کر اس کی پریشانی سمجھ چکے تھے مگر وہ خاموش رہے ۔۔۔

زاہرہ کا دل اب بھی کچھ کھانے کو نہیں تھا وہ اب دن کے کام نپٹانے میں مصروف ہو گئی تھی وہ اس دوران بھی مسلسل روتی رہی ۔۔۔

دن کے بارہ بج رہے تھے جب سجاول جو اپنی جوانی کی بہترین عمر میں تھا اور مردانہ وجاهت اس کے انگ انگ سے ابهرتی تھی نہا دھو کر باپ کے پاس دسترخوان پر آ کر بیٹھا تھا

زاہرہ کھانا لگا رہی تھی وہ رات کی بھوکی اب چکراتی پھر رہی تھی سجاول کو دیکھ کر اس کا غم پھر سے تازہ ہوا تھا اس کی آنکھیں مکمل طور پر بھیگ چکی تھیں

“رات کدھر تھے آپ سجاول بیٹا ؟؟؟”

الفاظ سادہ مگر لہجہ سخت تھا

“ابو ۔۔۔یار دوستوں کے ساتھ تھا وقت کا پتہ ہی نہیں چلا مگر آئندہ دھیان رکھوں گا جلدی آجایا کروں گا”

جواب سوال کی نوعیت سمجھ کر تسلی بخش اور عاجزی سے دیا گیا تھا

“دیکھو بیٹا میں نے ساری عمر محنت کی بہت کچھ كمايا کچھ وراثت کی جائیداد بھی بہت ہے ۔۔۔۔مگر میں نے پھر بھی تمہیں پڑھایا لکھایا ۔۔۔اپنا محتاج نہیں رہنے دیا ۔۔۔۔میں نے ماں باپ دونوں کی ذمہ داری پوری کرنے کی کوشش كی مگر شاید میں ناکام ہوگیا ۔۔۔۔ورنہ تم اس طرح میرے بھائی كی بیٹی کو پریشان نہ کر رہے ہوتے ۔۔۔۔تمہیں اتنی خوبصورت اور خوب سیرت بیوی لا کر دی ۔۔۔۔کہ شاید تم اپنی روش بدل ڈالو ۔۔۔مگر افسوس ۔۔۔۔۔”

مولوی علی محمد نے روٹی کی چنگیر زاہرہ سے پکڑ کر اس کی نم آنکھوں کو دیکھ کر کہا تھا

“ابو ۔۔۔۔اب ایسا بھی کیا کر دیا میں نے جو روٹی پر اتنی باتیں سنا دی ہیں آپ نے مجھے ؟؟؟آخر کیا تکلیف ہے اس کو میرے ساتھ جو آنسو نہیں تھم رہے اس کے جب سے جاگا ہوں”

سجاول نے روٹی کا بڑا سا نوالا توڑ کر چباتے ہوۓ کہا تھا

“کھانا کھا لو۔۔۔۔۔ آؤ زاہرہ پھر کرتے ہیں بات”

مولوی صاحب نے محبت سے زاہرہ کو کہا تھا وہ آنسو صاف کرتی بیٹھ گئی تھی

کھانا خاموشی سے کھایا گیا تھا

زقہرہ برتن سميٹ کر واپس آ کر بیٹھ گئی تھی

“تم رات کدھر تھے سجاول ؟؟؟”

مولوی علی محمد نے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر لیٹتے ہوۓ پوچھا تھا

سجاول اپنی گهنی مونچھوں کو تاؤ دیتا کرسی پر بیٹھا تھا جبکہ زاہرہ موڑے پر بیٹھی زمین کو تاک رہی تھی

“ابو بتایا تو ہے یار دوستوں کے ساتھ ڈیرے پر تھا”

سجاول کا انداز سراسر جان چھڑوانے والا تھا

“تم لكشمی بائی کے کوٹھے پر تھے ؟؟؟؟”

مولوی علی محمد اب غصے سے چارپائی پر بیٹھ کر بولے تھے

زاہرہ جو کب سے ضبط کا مظاہرہ کر رہی تھی اب آواز کے ساتھ باقاعده رونے لگی تھی جبکہ سجاول نے پریشان سا باپ کی طرف دیکھا تھا

“ابو ۔۔۔۔جب سے شادی ہوئی تھی نہیں تھا گیا بس رات دوست کہہ رہے تھے ایک نئی طوائف آئی ہے بہت خوبصورت ہے ۔۔۔۔بس وہ ہی دیکھنے گیا تھا ۔۔۔۔”

سجاول نے خود کو فوراً سنبهالا تھا جبکہ زاہرہ اس بات پر زمین پر جھول گئی تھی

سجاول نے اسے چارپائی پر لٹایا اور مولوی صاحب کے کہنے پر گاؤں کی ایک سمجھ دار عورت جیسے سب دائی زکیہ کے نام سے جانتے تھے کو بلا کر لایا جس نے سوجھی آنکھیں لئے لیٹی زوہرہ کو دیکھتے ہی ان باپ بیٹے کو مبارک باد دی تھی

“ارے میرا سجاول باپ بننے والا ہے ۔۔۔میرے سجاول کی اولاد”

مولوی علی محمد نے پر نم آنکھوں سے بیٹے کو گلے لگایا تھا جبکہ زسہرہ کو ایک بار پھر شدت سے رونا آیا تھا ۔۔۔وہ دونوں ہاتھ منہ پر رکھے پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی

“ارے پگلی ماں وہ واحد ہستی ہے جسے رب نے اپنی تخليق کرنے والی صفت بھی دی ہے یہ تو بہت خوشی کی بات ہے ایک عورت کے لئے ۔۔۔”

زكيہ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر پیار سے کہا تھا

وہ کچھ احتیاطيں بتا کر چلی گئی تھی

سجاول نے زسہرہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے شکریہ کہا تھا

“بیٹا اب سب ٹھیک ہو جائے گا سجاول تم اب کبھی بھی اس خراب جگہ پر نہیں جاؤ گے اچھا ؟؟؟”

مولوی علی محمد نے بیٹے کو گلے لگا کر کہا تھا جس پر سجاول نے محض سر ہلایا تھا

۔************

آج چار دن بعد جینی اور سکھاں گھر آئیں تھیں باقی دو گهروں کا کام بھی وہ ادھر سے جاکر ہی کر لیا کرتی تھیں

دونوں ماں بیٹی نے مل کر گھر کی صفائی کی کھانا بنایا اور سستانے لیٹ گئیں

شام کی اذان ہوئی تھی جینی نے نماز پڑھی اس کا دماغ مسلسل گوہر کے بارے میں سوچ رہا تھا

“کیا بات ہے کوئی ناراضگی چل رہی ہے کیا ؟؟؟”

سکھاں نے فورا سے جائے نماز سے اٹھتی جینی سے پوچھا تھا

“اللّه سے باتیں کیوں نہیں کرتی آج کل ؟؟؟”

سکھاں نے آنکھیں موندے پوچھا تھا

“نہیں اماں ایسا تو کچھ نہیں ہے ۔۔۔۔”

جینی نے مختصر جواب دیا تھا

“بس گوہر باجی کے متعلق سوچ رہی تھی

“اللّه جانے کیا ہوا ہوگا ۔۔۔۔بیچاری نسرین آنٹی ۔۔۔”

جینی بھی ماں کے ساتھ لیٹ گئی تھی

“بیچارہ کوئی نہیں ہوتا جینی ۔۔۔اپنی فصل کاٹ رہا ہے ہر کوئی ۔۔۔۔۔۔میں بھی ۔۔۔۔”

“بد دعا بے اثر ہو سکتی ہے مگر کسی کی بنا الفاظ کی آہ ۔۔۔۔۔نسلوں تک سفر کرتی ہے۔۔۔۔وہ پیچھا نہیں چھوڑا کرتی ۔۔۔۔قبر تک “

سکھاں کی آنکھیں اب کھلی ہوئی تھیں وہ اب کسی گہری سوچ میں لگ رہی تھی

“کیا مطلب ہے اماں اس بات کا اب ؟؟؟”

جینی اٹھ کر بیٹھ گئی تھی وہ متجسس تھی

“بس اتنا یاد رکھنا اللّه کبھی کسی کا برا نہیں کرتا وہ بس انسان کے اپنے اعمال ہوتے ہیں جو اس کی زندگی کانٹوں سے بھر دیا کرتے ہیں”

جینی نے آج پہلی بار اپنی ماں کے منہ سے اللّه کے لئے ایسے الفاظ سنے تھے ورنہ تو وہ ہر وقت بس اللّه سے شکوہ ہی کرتی تھی

“اماں کیا آپ جانتی ہیں گوہر کی موت کی وجہ ؟؟؟”

“مجھے نیند آئی ہے جینی اب تیری آواز نا آۓ”

سکھاں دوسری طرف منہ کر کے بظاہر سونے لیٹی تھی مگر وہ جاگ رہی تھی ایک ہیولا کمرے کے دروازے میں نظر آتا اب غائب ہوا تھا سکھاں کا رنگ یہ دیکھ کر پیلا پڑ گیا تھا جبکہ جینی ماں کی باتوں کا مفہوم سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی

“اماں سوتی ہے تو آج اللّه سے ضرور بات کروں گی بس بہت ہو گیا میں اور اللّه سے دور نہیں رہ سکتی ۔۔۔وہ ہی مجھے ان سب سوالوں کے جوابوں تک لے کر جائے گا ۔۔۔

بادل زور سے گرجے تھے جینی ماں کو سوتا دیکھ کر کمرے کا دروازہ بند کرنے اٹھی تھی

۔************

“کیا نام ہے تیرا ؟؟اور کون چھوڑ کر گیا ہے تجھے ادھر ؟؟؟

“جانتی ہے نا اس جگہ آنے کا مطلب ؟؟؟”

لكشمی بائی نے اس خوفزدہ لڑکی کو تھوڈی سے پکڑ کر اوپر کیا تھا

“زیبا ۔۔۔۔زیبا نام ہے میرا”

“میرے شوہر نے،چھوڑ آئی ہوں میں اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اب میں کبھی واپس نہیں جاؤں گی روز محبت کی سزا دیتا تھا مجھے ۔۔۔۔۔۔میں نے اس کے لئے سب کو چھوڑا تھا اور وہ کہتا تھا میں بد کردار تھی تبھی میں اس کے ساتھ بھاگی ۔۔۔کہتا تھا تم جو اپنے باپ کی نا ہوئی تو میری کیا ہوگی ۔۔۔۔وہ مجھے روز یہی گالی دیتا تھا جو اس جگہ کی عورت کو کہا جاتا ہے ۔۔۔۔”

“میں مزيد اپنے کردار کی گواہی نہیں دے سکی ۔۔۔۔۔پھر میں نے سوچا اس کا جھوٹ سچ کردوں ۔۔۔۔اور ۔۔۔۔اور میں یہاں چلی آئی “

وہ چیخ کر روئی تھی

لکشمی نے اسے گلے لگایا اور مزيد کچھ نہ پوچھا

یہاں موجود ہر عورت کی اس جیسی ہی کوئی کہانی تھی

“اس کی کہانی لکھو ۔۔۔۔۔یہاں تک کا سفر لکھ کر ادھورا چھوڑ دینا ۔۔۔باقی کام وقت پر چھوڑ دینا ۔۔۔”

وہ اس کمرے میں جہاں ان دو عورتوں کے علاوہ کوئی اور نہیں تھا کسی کو مخاطب کر کے بولی تھی