Tehreer by Jameela Nawab Readelle 50381 Tehreer Episode 4
Rate this Novel
Tehreer Episode 4
Tehreer by Jameela Nawab
لگ بھگ ایک گھنٹہ گزرا تھا جينی اسی طرح پڑی تھی بارش کی تیز بوندوں نے اس کی آنکھ کھول دی تھی ہوش میں آتے ہی اسے سب یاد آیا تھا وہ شدید صدمے میں تھی
وہ رو رو کر نڈھال ہوگئی تھی
“میں نا پاک ہو گئی ۔۔۔۔اب میں اللّه سے بات کیسے کروں گی ؟؟؟؟وہ تو بہت پاک ذات ہے ۔۔۔۔۔تم نے مجھ سے میرا اللّه چھين لیا ۔۔۔۔اللّه تمہیں برباد کرے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک اللّه ہی تو تھا میرے پاس”
وہ چیختی ہوئی درد کی انتہاہ پر تھی
کچھ اور وقت گزرا تھا ۔۔۔
وہ ایسے ہی اسی انداز میں لیٹی لیٹی اکڑ جانے کو تھی پھر اسے اچانک اپنی ماں کا خیال آیا تھا
“اماں آ گئی تو مجھے طعنے دے گی ۔۔۔۔مجھے ۔۔۔۔۔مجھے ۔۔۔۔میں ۔۔۔۔میں ۔۔۔۔۔اللّه کے خلاف اس کی باتیں نہیں سن سکتی ۔۔۔۔۔وہ بھی ۔۔۔۔مجھ سے اللّه چھين لے گی ۔۔۔۔نہیں ۔۔۔ نہیں میں ان کو کچھ بھی نہیں بتاؤں گی”
وہ اٹھنے کے لئے ہلی تھی مگر پورا جسم درد سے چیخ اٹھا تھا ایک بار پھر وہ شدت سے رونے لگی تھی
بارش تھم چکی تھی وہ آہستہ آہستہ کمرے میں گئی اور غسل کی جگہ پر جو کمرے میں تھی وہاں بیٹھ گئی وہ خود پر پانی کا مگ بہاتی اور روتی ہوئی خود کو ملتی جاتی ۔۔۔۔
“یہ کیا ہو گیا میرے ساتھ ؟؟؟؟میں اب کبھی پاک نہیں ہوسکتی ۔۔۔۔۔میں ۔۔۔۔میں اس ذات کی عبادت کیسے کروں گی ؟؟؟؟یہ ۔۔۔۔یہ ۔۔۔ غلاظت جو میری روح تک کو غلیظ کر گئی ہے یہ کیسے صاف ہوگی ؟؟؟؟؟
“یہ کام پانی سے کیسے ہوگا ؟؟؟؟؟؟میں کیا کروں ؟؟؟؟؟؟؟”
وہ روتی رہی بے آواز چلاتی رہی ۔۔۔۔۔اور خود پر پانی ڈالتی گئی ۔۔۔
“غسل کیسے کرتے ہیں ؟؟؟”
جینی کا دماغ پریشانی میں جیسے سب بھول گیا تھا پھر وہ آنکھیں بند کیئے بیٹھی اب اپنے باپ کے بارے میں سوچ رہی تھی وہ ماضی میں جا چکی تھی جہاں اس کا باپ جو کہ مولوی صاحب تھے چھوٹے بچے بچیوں کو غسل کے بارے میں پڑھا رہے تھے
غسل میں تین چیزیں فرض ہیں، ان کے بغیر غسل درست نہیں ہوتا، آدمی ناپاک رہتا ہے:
اس طرح کلی کرنا کہ سارے منہ میں پانی پہنچ جائے۔
ناک میں پانی ڈالنا جہاں تک ناک نرم ہے۔
سارے بدن پر پانی پہنچانا۔
ان تین چیزوں کے علاوہ باقی چیزیں سنت ہیں، ان کے کرنے سے ثواب ملتا ہے اور اگر نہ کرے تو بھی غسل ہوجاتا ہے مگر سنت کے موافق نہیں ہوتا۔ غسل کرنے کا مسنون طریقہ درج ذیل ہے:
غسل کرنے والے کو چاہیے کہ پہلے گُٹوں تک دونوں ہاتھ دھوئے پھر استنجے کی جگہ دھوئے، ہاتھ اور استنجے کی جگہ پر نجاست ہو تب بھی اور نہ ہو تب بھی ہر حال میں ان دونوں کو پہلے دھونا چاہیے۔
پھر جہاں بدن پر نجاست لگی ہو اسے پاک کرے۔
پھر وضو کرے۔ اگر کسی چوکی(اسٹول) یا پتھر پر بیٹھ کر غسل کررہا ہے تو وضو کرتے وقت پیر بھی دھولے اور اگر ایسی جگہ ہے کہ پیر بھر جائیں گے اور غسل کے بعد پھر دھونے پڑیں گے تو سارا وضو کرے مگر پیر نہ دھوئے۔
وضو کے بعد تین مرتبہ اپنے سر پر پانی ڈالے، پھر تین مرتبہ داہنے(سیدھے) کندھے پر اور پھر تین بار بائیں(الٹے) کندھے پر پانی ڈالے اس طرح کہ سارے جسم پر پانی بہہ جائے۔ ایک مرتبہ پانی بہانے کے بعد پہلے سارے جسم پر اچھی طرح ہاتھ پھیر لے پھر دوسری بار پانی بہائے تاکہ سب جگہ اچھی طرح پانی پہنچ جائے، کہیں سوکھا نہ رہے۔
پھر اس جگہ سے ہٹ کر پاک جگہ میں آجائے اور پیر دھوئے اور اگر وضو کے وقت پیر دھو لیے ہوں تو اب دھونے کی حاجت نہیں۔ اس طرح غسل مکمل ہوجائے گا۔
مذکورہ بالا طریقہ کے علاوہ اور بھی چند باتیں ہیں جن کا غسل کرتے وقت خیال رکھنا چاہیے:
غسل کرتے وقت قبلہ کی طرف منہ نہ کرے۔
پانی بہت زیادہ نہ پھینکے اور نہ بہت کم لے کہ اچھی طرح غسل نہ کرسکے۔
ایسی جگہ غسل کرے کہ اسے کوئی نہ دیکھے۔
غسل کرتے وقت باتیں نہ کرے۔
غسل کے بعد کسی کپڑے سے اپنا بدن پونچھ ڈالے۔
بدن ڈھکنے میں بہت جلدی کرے، یہاں تک کہ اگر وضو کرتے وقت پیر نہ دھوئے ہوں تو غسل کی جگہ سے ہٹ کر پہلے اپنا بدن ڈھکے پھر دونوں پیر دھوئے۔
اگر تنہائی کی جگہ ہو جہاں کوئی نہ دیکھ پائے تو ننگے ہوکر نہانا بھی درست ہے، چاہے کھڑے ہوکر نہائے یا بیٹھ کر، لیکن بیٹھ کر نہانا بہتر ہے کیوں کہ اس میں پردہ زیادہ ہے۔
نہاتے وقت زبان سے کلمہ یا کوئی دعا نہ پڑھے۔
اگر غسل کے بعد یاد آئے کہ فلانی جگہ سوکھی رہ گئی تھی تو پھر سے نہانا واجب نہیں، بلکہ جہاں سوکھا رہ گیا تھا اسی کو دھولے، لیکن فقط ہاتھ پھیر لینا کافی نہیں ہے بلکہ تھوڑا پانی لے کر اس جگہ بہا لینا چاہیے، اور اگر کلی کرنا بھول گیا ہو تو اب کلی کرلے، اگر ناک میں پانی نہ ڈالا ہو تو اب ڈال لے، غرض کہ جو چیز رہ گئی ہو اب اس کو کرلے، نئے سرے سے غسل کرنے کی ضرورت نہیں۔
سر کے سب بال بھگونا اور ساری جڑوں میں پانی پہنچانا فرض ہے، اگر ایک بال بھی سوکھا رہ گیا یا ایک بال کی جڑ میں پانی نہیں پہنچا تو غسل نہیں ہوگا۔ البتہ خواتین کے بال اگر گُندھے ہوئے ہوں
تو بالوں کا بھگونا معاف ہے لیکن سب جڑوں میں پانی پہنچانا فرض ہے، ایک جڑ بھی سوکھی نہ رہنے پائے اور اگر بغیر بال کھولے سب جڑوں میں پانی نہ پہنچ سکے تو بال کھول ڈالے اور بالوں کو بھی بھگو دے۔
انگوٹھی، چھلےوغیرہ بہتر ہے کہ اُتار کر غسل کرے، البتہ اگر انگوٹھی، چھلے پہنے ہوں تو انہیں خوب ہلالے تاکہ پانی سوراخوں میں پہنچ جائے۔ اسی طرح خواتین نتھ اور بالیوں کو خوب ہلائیں اور اگر بالیاں نہ پہنے ہوں تب بھی سوراخوں میں پانی ڈال لیں، ایسا نہ ہو کہ پانی نہ پہنچے اور غسل صحیح نہ ہو۔
کان اور ناک میں بھی خیال کرکے پانی پہنچانا چاہیے، پانی نہ پہنچے گا تو غسل نہ ہوگا۔
(ماخوذ از بہشتی زیور، مؤلفہ: حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ)
فقط واللہ اعلم
“اباں ۔۔۔۔تیری بیٹی لٹ گئی اباں ۔۔۔۔۔”
“آپ کیوں چلے گئے اباں ؟؟؟؟؟میں خود اپنی حفاظت نہیں کر سکی اباں ۔۔۔۔۔۔”
“کرب” ۔۔۔۔۔۔ لفظ کرب بہت معمولی لفظ تھا اس وقت جينی کے لئے ۔۔۔۔۔
اب وہ کپڑے بدل کر اور پہلے والے دھو کر بیٹھ گئی تھی
دوائیوں کے شاپر سے پيناڈول نکال کر کھائی اب وہ خوفزدہ سی کمرے میں ایک طرف بیٹھ گئی وہ کھانا بنانا چاہتی تھی مگر لکڑیاں لینے وہ دوبارہ جنگل نہیں جا سکتی تھی وہ کمرے کا دروازہ تب سے ہی بند کر کے بیٹھی ہوئی تھی کافی وقت ایسے ہی گزر گیا تھا
بارش تب كی تھمی ہوئی تھی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی سُکھاں اپنے وقت پر گھر لوٹی تھی مگر خلاف معمول دروازہ بند دیکھ کر وہ تھوڑی حیران ہوئی تھی
“جينی دروازہ کھول”
وہ پریشانی سے بولی تھی
جينی نے نارمل نظر آنی کی پوری کوشش کی تھی وہ دروازہ کھول کر ماں کو سلام کر کے اس کے ہاتھ سے سامان لے کر بیٹھ گئی تھی
“چلو برتن میں ڈالو کھانا گرم گرم کھانا کھا لو دیگ کی بریانی اور بڑے گوشت کا روسٹ لائی ہوں باجی نے دیگیں پکوائیں تھیں آج ان کے بیٹے نے پہلا سپارہ مکمل کیا ہے ۔۔بڑے لوگ بڑی خوشیاں ۔۔۔”
سُکھاں چادر دیوار پر ٹانگتی ہوئی کہہ رہی تھی
جينی خاموشی سے کھانا برتن میں ڈال رہی تھی
“شکر ہے تم نے کھانا نہیں بنایا ۔۔۔ورنہ ضائع ہوجاتا”
“بہت مزيدار ہے قسم سے ۔۔۔۔ گرم گرم کھائی میں نے ۔۔۔۔ٹھنڈ پڑگئی معدے میں ۔۔۔”
“باجی نے دو دو شاپر بھر دیے کہتی نوکروں کا پہلا حق بنتا ہے”
سکھاں بات مکمل کر کے کچن کی چھت دیکھنے باہر آ گئی تھی
جينی خاموشی سے اب کھانا کھا رہی تھی
“شاباش بہت اچھا کام کیا تم نے جينی،بارش اس کے بعد آئی تھی نہ پھر سے لیک تو نہیں ہوا نا تب ؟؟؟”
سکھاں روسٹ کی ایک بوٹی اٹھا کر اب کھاتے ہوۓ پوچھ رہی تھی
“جی ۔۔۔۔جی اماں ۔۔۔”
جينی کو اس کے بعد کا واقعہ دوبارہ سے یاد آیا تھا اس نے کھانا چھوڑ دیا تھا
“کتنے مزے کا روسٹ ہے یہ بھی کھا۔۔۔نا”
سکھاں نے اس کی پليٹ گوشت ڈالتے ہوۓ کہا تھا
“اچھا تم لکڑیاں نہیں لائی رات پھر آدھی رات کو جنگل چلی گئی تھی میں لے کر آتی ہوں ابھی تم آرام سے کھانا کھا لو”
سکھاں ہاتھ چاٹتی باہر چلی گئی تھی جبکہ جينی کھانا چھوڑ کر اب رو رہی تھی
کچھ ہی دیر میں سکھاں لکڑیوں کا ڈھیر لے کر اندر آئی تھی
“جينی تیرا اللّه بلا رہا ہے اذان ہو رہی ہے,چل نماز پڑھ لے وقت سے پھر باتیں کرتے ہیں تمہیں بتاتی ہوں بڑے لوگوں کے نرالے انداز”
سکھاں نے دیکھا جينی اب بھی خاموشی سے برتن اٹھا کر واپس بیٹھ گئی تھی
“کیا بات ہے بیٹا ؟؟؟ایسے چپ چپ کیوں ہو ؟؟؟طبیعت ٹھیک ہے ؟؟؟”
سکھاں نے لكڑیاں چھوڑ کر اس کا ماتھا ہاتھ سے دیکھا تھا
“بخار ہے میری بیٹی کو تو چلو دوائی دیتی ہوں”
سکھاں نے ایک پيناڈول جينی کو دی اور اسے اپنے ساتھ لے کر لیٹ گئی
“بیٹا رات کے وقت میرے بغیر تمہیں اس طرح اکیلے جنگل نہیں جانا چاہیے تھا کچھ بھی ہو سکتا تھا ۔۔۔۔کوئی جنگلی جانور ۔۔۔۔کوئی سایا ۔۔۔کوئی بری روح ۔۔۔۔تجھے پریشان کر سکتی تھی طبیعت بھی اسی وجہ سے خراب ہوئی ہے تمہاری ۔۔۔۔چلو ہو جاؤ گی ٹھیک”
سکھاں ساتھ لیٹی جينی کی کمر کو سہلاتے ہوۓ محبت سے بول رہی تھی
“انسان سے بڑا درندا ۔۔۔انسان سے بڑا جنگلی جانور، برُی بد روح اور سایا کوئی نہیں ہو سکتا”
جينی نے دل میں سوچا اور آنسو اس کی آنکھوں سے رواں ہو گئے وہ آگے ہو کر ماں کے ساتھ لگ گئی تھی جس پر سکھاں کو پریشانی نے آ گھیرا تھا
“چلو بیٹا اب بخار پر رونا تو نہیں بنتا نا تمہارا ۔۔۔چلو اپنے اللّه سے ملو ۔۔تمہیں اسی کی اداسی ہے”
سکھاں نے اپنی پریشانی جينی سے چھپاتے ہوۓ بظاہر نارمل انداز میں کہا تھا
“امی آج نہیں پڑھنی میں نے نماز ۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔میں ۔۔۔”
جينی آہستہ سے بولی تھی
“اچھا ۔۔۔۔۔۔میں سمجھ گئی ہوں میں دودھ لاتی ہوں گرم دودھ میں ہلدی کے ساتھ دو انڈے ابال کر دیتی ہوں”
سکھاں اٹھ کر جا رہی تھی
“نہیں اماں آپ مت جایئں ۔۔۔۔آپ کو آتے آتے شام ہو جائے گی ۔۔۔”
“اور مجھے اکیلے نہیں رہنا،مجھے اچھا نہیں لگتا آپ کے بغیر”
جينی نے بچوں کی طرح تڑپ کر ماں کا دوپٹہ کھینچا تھا
“جينی پتر ایسے ماں کو پریشان مت کرو میں ابھی گئی اور ابھی آئی”
سکھاں جلدی سے نکل گئی تھی جينی نے بھاگ کر دروازہ اندر سے بند کیا تھا
جب تک سکھاں واپس آئی نہیں جينی دبک کر ایک طرف بیٹھی ہوئی تھی بادل بھی گرج رہے تھے بارش بس آنے کو تھی شام کی اذان بھی دور کہیں مسجد سے سنائی دے رہی تھی
“اگر اماں بارش میں کہیں رک گئی اور وہ درندا دوبارہ آ گیا تو ؟؟؟؟؟؟”
یہ سوال مسلسل اس کا خون سُکھا رہا تھا
سکھاں بارش میں بھیگتی واپس آ گئی تھی اس نے دودھ گرم کیا اور ہلدی ڈالی اور انڈے ابال کر جينی کو کھلاے ۔۔۔۔
وہ سمجھ رہی تھی جينی کی طبیعت ان خاص دنوں کی وجہ سے خراب ہے وہ اس کھلا پلا کر سونے لیٹ گئی تھی باہر بارش ہو رہی تھی
جينی عصر،مغرب اور اب عشاء کرنے کو تھی دل بری طرح بے چین تھا نیند کوسوں دور ۔۔۔۔
ایک انجانی طاقت تھی جس نے اسے اٹھایا ۔۔۔۔
اس نے وضو کيا اور جائے نماز پر بیٹھ گئی نماز ادا کی اور بنا کچھ کہے وہ سجدے میں سر جھکائے کافی دیر روتی رہی ۔۔۔۔۔
آخر ایک عاشق کو محبوب کے در پر حاضری دے کر ہی سکون ملا تھا
کہتے ہیں جب ہم خوش ہو اور ہمیں کسی کی یاد آئے تو سمجھو ہم اسے بہت پیار کرتے ہیں ۔۔۔۔
جب ہم اداس ہو شدید تکلیف میں ہو اور ہمیں کسی کی یاد آے تو اس کا مطلب ہے وہ ذات ہم سے بہت محبت کرتی ہے ۔۔۔۔
اور بہت افسوس کے ساتھ کہ ہم خوشی میں اکثر اللّه کو بھول جاتے ہیں جبکہ تکلیف میں درگاہوں،مسجدوں اور مدرسوں میں نیاز وغیرہ دے دے کر پھر اللّه سے مدد مانگتے ہیں ۔۔۔اسی کے آگے روتے ہیں ۔۔۔مطلب صاف ہے “اللّه” کی ذات ہی وہ واحد ذات ہے جو نا صرف ہم سے محبت کرتی ہے مخلص ہے بلکہ ایک وہ ہی ذات مشکل میں ہمارا ساتھ دیتی ہے ۔۔۔۔ہمیں پر سکون کرتی ہے ۔۔۔
دکھ،تکلیف اور آزمائش تو بس اللّه کا اپنے اور اپنے بندے کے درميان رسی کھینچنے کا انداز ہے جس سے وہ اسے اپنے پاس بلالیتا ہے ۔۔۔۔
جينی جائے نماز پر ہی پُرسکون سی سو گئی تھی اللّه نے اسے اپنی پناہ اپنی رحمت میں لے لیا تھا ۔۔۔
۔*************
“آج میرا رقص ہے میں اسے کے لئے تیار ہوئی ہوں دیکھو گے ؟؟؟”
مایا اپنی تیز لپ سٹک مزيد تیز کرتی ہوئی پوچھ رہی تھی
“نہیں ۔۔۔۔میں ایک لمحہ نہیں رک سکتا یہاں مزيد”
موسیقی کی تیز آواز اس کو سخت بیزار کر رہی تھی
“تم جتنا بھی بھاگ لو واپس میرے پاس ہی آؤ گے ۔۔۔۔تم تھک جاؤ گے ساحل ۔۔۔۔اپنے آپ سے لڑتے لڑتے ۔۔۔تمہارا قلم تمہیں کہیں کا نہیں چھوڑے گا ۔۔۔”
“مجھے اس اذیت سے نجات دو اور اپنا سچ پا لو ۔۔۔سکون سے زندگی گزارو اور مجھے بھی گزارنے دو”
“میں جانتی ہوں تم بہت سی عورتوں کے ساتھ گناہ کر چکے ہو پھر میں تو نکاح کا کہہ کر بس کچھ دنوں کا ساتھ ۔۔۔۔بس ماں بننے کی امید تک تمہارا ساتھ چاہتی ہوں ۔۔۔مت جاؤ ساحل ۔۔۔تم نہیں جانتے ہر کوئی تمہارا دشمن بن جائے گا ۔۔۔۔پلیز ۔۔۔میری بات سنو ۔۔۔۔ساحل ۔۔۔۔۔۔۔”
ساحل کمرے سے نکل گیا تھا مایا جو اس کے پیچھے بھاری ذیور اور گھونگروں پہنے ہوۓ بھاگ رہی تھی اس کی آواز اس بازار حسن کے داخلی دروازے تک اس کے سماعت سے ٹکڑاتی رہی ۔۔۔۔
مگر وہ چپ چاپ وہاں جگہ جگہ سجی سنوری لڑکیوں کو پیچھے دکھیلتا وہاں سے بھاگ کر باہر آ نکلا تھا آج زندگی میں پہلی بار اسے عورت ذات سے گبهراہٹ ہوئی تھی ۔۔۔سخت گھبراہٹ ۔۔۔۔۔کوئی بھی اس کے دل کو اچھی نہیں لگی تھی ۔۔وہ بھاگتا رہا ۔۔۔وہ راستہ جو اس نے گھنٹوں میں طے کیا تھا وہ بہت تیزی سے طے کر کے اب اپنی حویلی کے گيٹ کے آگے کھڑا تھا
وہ ہانپتا ہوا گھٹنوں پر ہاتھ رکھے جھک کر کھڑا اس حویلی کے گیٹ کی طرف دیکھ رہا تھا پھر اچانک اسے کوئی خیال آیا اس نے زویا کی مدفن کی طرف دوڑ لگا دی اور اب وہ دیوانہ وار اس جگہ کو ہاتھوں سے کھودنا شروع ہو گیا موسم رات کا ٹھیک ٹھاک ٹھنڈہ ہونے کی وجہ سے زویا کی لاش اب بھی بہتر حالت میں تھی
اس وقت شام ہونے کو تھی اور بارش بھی آنے والی تھی
ساحل نے زویا کی لاش کندھے پر اٹھا کر گاڑی کی ڈیگی میں ڈالی اور گاڑی سٹارٹ کردی
وہ اس سنسان جگہ پر موجود
تعمیر سركاری ہسپتال کے بارے میں جانتا تھا جس کا استعمال لمبے عرصہ تک میت کو سرد خانے میں رکھنے کے لئے ہوتا تھا
اب بارش تیز تھی اور وہ بے چین سا گاڑی کو اس سنسان سڑک پر ڈال چکا تھا بین کرتی عورتوں کی آوازیں مسلسل اس کو اپنا تعاقب کرتی محسوس ہو رہی تھیں
اس نے اچانک بریک لگائی تھی کیوں کہ سڑک پر ایک جنازہ جا رہا تھا
“اس تیز بارش میں جنازہ ؟؟؟؟”
ساحل نے سوچا تھا مگر سب سے زیادہ حیرت اسے اس بات پر نہیں تھی بلکہ اس بات پر تھی کہ اس جنازے میں کوئی بھی مرد نہیں تھا تمام عورتیں سیاہ برقعہ پہنے میت کو چارپائی میں اٹھائے لے جا رہیں تھیں
وہ اسی زبان میں با آواز بلند کچھ بول رہی تھیں جو ساحل کی سمجھ سے باہر تھی
وہ سانس روکے یہ سب دیکھ رہا تھا جنازہ اس کی ڈرائیونگ سیٹ والے دروازے کے پاس پہنچا تھا وہ میت کو دیکھنے کے لئے بے چین تھا مگر یہ کیا میت کی چارپائی خالی تھی بس کفن،صابن،كافور اور کفن دفن کا باقی سامان موجود تھا
ساحل کے آنکھیں حیرت سے بس باہر آنے کو تھی حد تو تب ہوئی جب اس کی نظر ان عورتوں کے لباس پر پڑی جو مایا کی طرح بس ایک کالی چادر لپیٹے ہوۓ تھیں
ساحل نے اب بنا کسی کی پرواہ کئے گاڑی کو ریس دی اور تیزی سے وہاں سے نکل گیا اب وہ اس ہسپتال جو کہ روڈ کے اندر جا کر آگے کو تھا اس کے سامنے کھڑا تھا
۔***********
اسلم مولوی برکت کو چھوڑنے اس کے گھر چلا گیا تھا
جبکہ ولی ان میتوں کو اب سرد خانے میں ٹھکانے لگا رہا تھا اب وہ جو میت اٹھا کر سٹریچر پر ڈال رہا تھا وہ ایک دهان پان سے لڑکے کی تھی جس کی جيب اچھی خاصی بھاری لگ رہی تھی ولی نے اس میں ہاتھ ڈالا تو وہ نقدی سے بھری ہوئی تھی
پانچ پانچ ہزار کے بہت سے نوٹ تھے جو سائیڈ کی دونوں جیبوں کے علاوہ قمیض کی اپر والی جيب کے ساتھ ساتھ شلوار کی جيب میں بھی بھرے ہوۓ تھے
“اتنے زیادہ پیسے ۔۔۔۔یہ تو مر گیا اب کم از کم یہ اس کی ملكيت تو نہیں رہے ۔۔۔۔۔اس سے پہلے کہ اسلم آجائے اور اپنا حصہ مانگے یہ سب چھپا لیتا ہوں”
ولی نے ساری رقم اپنے سافے میں ڈالی اور اب وہ اس میت کو ادھر ہی چھوڑ کر سب ميتوں کی تلاشی لینے لگا جو وہ اندر لے جا چکا تھا ان سب کی بھی جيبیں ٹٹول کر وہ اچھی خاصی بڑی رقم جمع کر چکا تھا اس میں خواتین اور بچیوں کے پہنے ہوۓ بندے،کانٹے،کڑے،انگھوٹیاں اور دیگر سونے کے زیورات بھی شامل تھا
وہ ایک گھٹری باندھ کر اسے اپنے دراز میں لاک کر کے اب پر سکون سا دوبارہ اس نوٹوں والی میت کے پاس آیا تھا جو وہ سٹریچر پر چھوڑ کر گیا تھا
بارش اب کافی تیز ہو گئی تھی اور تیز آندھی کے ساتھ مل کر اب خوفناک لگنے لگی تھی
بجلی گل ہو گئی تھی
ولی کو خوف کی عجیب سی سنساہٹ محسوس ہوئی تھی وہ اپنا موبائل نکال کر ٹارچ آن کر رہا تھا جب قہقے کی آواز پر اس کا موبائل اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر دور جا گرا تھا
“هاهاهاهاها ۔۔۔۔۔۔چھپا آئے لعنت ؟؟؟؟”
“تم بھی یہی لگ رہا تم یہ سب استعمال کرلو گے ؟؟؟؟”
ولی نے موبائل کی تلاش میں ميتوں کو ٹٹولا تھا موبائل اٹھا کر اس نے آواز کی جانب ٹارچ کی تو اس کی سانس گلے میں ہی پھنس گئی ۔۔۔
وہ سٹریچر والی میت جس کا رنگ کاغذ کی مانند سفيد پڑچکا تھا وہ بیٹھی ہوئی اپنی فقط کالی آنکھوں سے ولی کو گھور رہی تھی
“تتتت ۔۔۔۔تم ۔۔۔۔۔زندہ ہو ؟؟؟؟”
ولی پیچھے کو ہٹتا ہوا بمشکل بول پایا تھا
“هاهاهاهاهاها ۔۔۔۔”
ایک اور بلند بھیانک قہقہ ۔۔۔۔
“دکھ تو اسی بات کا ہے جب تک میں زندہ تھا میرا ضمیر مردہ تھا ۔۔۔۔۔تمہاری طرح میں بھی ہر انسان کی رقم چھپا کر(چوری)کے اس کو جیتے جی مار دیا کرتا تھا ۔۔۔
اس دن میں نے ایک بیٹی کے باپ سے اس کی بیٹی کی جہیز کے لئے جمع کی گئی رقم ۔۔۔۔اس کی ساری عمر کے ارمان ۔۔۔اس کی کمائی لوٹی ۔۔۔۔۔اور رات اسی طرح گھر آ کر سو گیا ۔۔۔۔میں یہ نہیں جانتا تھا کہ نئے دن کی روشنی میرے قسمت میں لکھی ہی نہیں گئی ۔۔۔۔اس رقم کا استعمال تو دور ۔۔۔
زلزلے نے مجھے محسوس بھی ہونے نہیں دیا اور میں کچل کر کمرے کی چھت تلے آ کر مر گیا ۔۔۔
وہ مردہ جس کے سر پر گہری چوٹ لگنے سے موت ہوئی تھی وہ خون جو بہہ بہہ کر سوکھ گیا تھا اب پھر سے اس کے سفيد پڑتے چہرے پر کسی دلہن کے لال جوڑے کی مانند چمک رہا تھا ۔۔۔۔بہت تیزی سے ۔۔۔کسی پھوٹتی ندی کی طرح ۔۔۔
ولی کی جان نكلنے کو تھی جب گاڑی کے ہارن پر وہ ایک دم گیٹ کی طرف متوجہ ہوا ۔۔۔
