275.2K
19

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tehreer Episode 3

Tehreer by Jameela Nawab

صبح ہو چکی تھی آج آسمان صاف ہوگیا تھا دو دن كی بارش سے موسم خاصا ٹھنڈہ اور خوشگوار ہو گیا تھا

ساحل سو کر اٹھا تو اس کا سر بری طرح بھاری ہو رہا تھا رات کا منظر کسی خواب كی طرح محسوس ہوا تھا

وہ سچ اور خواب میں فرق کے لئے کوئی واضح نشانی کی تلاش میں تھا جب اس کا فون بجنا شروع ہوا تھا

اس کے بڑے بھائی ثاقب کی کال آ رہی تھی

“اتنی صبح بھائی کا فون ۔۔۔۔۔۔”

ساحل بری طرح پریشان ہوگیا تھا تیسری بار آنے پر اس نے اٹھا لی تھی

“جی بھائی صبح صبح خیریت ؟؟؟”

ساحل نے فوری پوچھا تھا

“ہاں خیریت ہی ہے زویا کو گھر سے نکال دو اب مجھے وہ وہاں نظر نہیں آنی چاہیے،میں اگلے ہفتے چکر لگاؤں گا”

اس کا لہجہ خاصہ بگڑا ہوا تھا

“مگر بھائی زویا بھابھی نے ایسا بھی کیا کر دیا ہے جو آپ اپنے یہاں پہنچنے تک کا انتظار بھی نہیں کر رہے ؟؟؟”

ساحل نے چہرے پر آتے پسینے کو صاف کرتے ہوۓ تھوک نگل کر کہا تھا

“وہ بيگم جان کے پاس گئی تھی جب میں اسے عزت سے اپنا چکا تھا پھر اس کوٹھے میں وہ واپس کیا کرنے جاتی رہی ؟؟؟؟؟؟؟”

وہ دھاڑا تھا

“بيگم جان کوٹھا مطلب ،؟؟؟”

ساحل کو کچھ سمجھ نہیں آیا تھا

“وہ بازار حسن میں پسند آ گئی تھی مجھے میں گاہگ تھا اس کا ۔۔۔۔”

یہ بات سن کر ساحل کو کچھ حوصلہ ہوا تھا

“مگر ابھی کیا ہوا ہے ؟؟؟”

“کل میں وہاں پر تھا جب یہ وہاں دوبارہ آئی تھی میں نے اسے دیکھ لیا تھا اور اس نے مجھے ۔۔۔۔”

“بيگم جان نے جھوٹ بولا کہ یہ آج ہی آئی تھی بس مجھ سے ملنے مگر جس لڑکی کے ساتھ میں کل روم میں تھا اس نے مجھے بتایا کہ یہ اکثر آتی ہے ۔۔۔بيگم جان کے کمرے میں بیٹھی باتیں کرتی رہتی ہے”

ثاقب کمینگی سے بولا تھا

“تو بھائی بيگم جان نے اسے پالا پوسا ہوگا تو ماں سمجھ کر چلی جاتی ہوگی ملنے ۔۔۔۔”

ساحل اس کہانی کو سلجھانا چاہتا تھا

“تم نہیں جانتے ساحل ۔۔۔۔وہ بہت شاطر عورت ہے ۔۔۔۔وہ مجھ سے بہت بھاری رقم لے چکی ہے زویا کے بدلے اور اس نے یہ وعدہ کیا تھا کہ اب وہ کوئی بھی تعلق اس سے نہیں رکھے گی ۔۔۔۔مگر گندہ خون تھا زویا کا ۔۔۔۔وہ پھر بھی اس گندگی میں جانے سے بعض نہیں آ سکی ۔۔۔میں نے آج تک اسی لئے اتنے بڑے گھر میں کوئی بھی مرد کام کے لئے نہیں رکھا۔ ۔۔۔مجھے ڈر تھا کہ وہ خود پر کنٹرول نہیں رکھ پائے گی اور میری عزت کا جنازہ نکال دے گی ۔۔۔۔مگر اب میں اس خوف سے چھٹکارہ چاہتا تھا اسی لئے کل ایک ڈرائیور کام کے لئے گھر بھیجا تھا جیسے تم نے واپس بھیج دیا ۔۔۔۔۔میں نے سوچا تھا کچھ دن کام کر لے پھر اسے اعتماد میں لے کر زویا کی جاسوسی کرواؤں گا ۔۔۔ مگر افسوس ۔۔۔میں نے کل ہی اسے اس غلاظت میں خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ۔۔۔میں اب مزيد اسے اپنے گھر میں نہیں رکھ سکتا ۔۔۔۔”

ثاقب کا لہجہ اٹل تھا

“بس اب سب ختم ۔۔۔۔۔۔اس کو گھر سے نکال کر بتاؤ مجھے ۔۔۔طلاق کا میسج میں نے اسے دن میں ہی بھیج دیا تھا،بد ذات خاموش ہے تب سے،پہلے کافی دیر مجھے فون پر مناتی رہی مگر میں کیوں ایک بد کردار بیوی پر اعتبار کرتا ۔۔۔سیدھا

ون ٹو تھری ۔۔۔۔۔گیم اوور۔۔۔طلاق دے ڈالی سالی کو اب جائے بيگم جان کے پاس رونق لگانے “

وہ مزيد بولا

“بھائی مگر ایسا ہے تو آپ نے مجھے کل دوپہر کو کیوں نہیں بتایا ساری رات گزرنے کے بعد ہی کیوں کیا فون ؟؟؟؟”

ساحل نے ہمت کر کے پوچھا تھا

“مصروف تھا میں تیری نئی بھابھی کے ساتھ ۔۔۔۔۔کل خرید لایا ہوں ۔۔۔۔اسی بازار حسن سے ۔۔”

ثاقب کا موڈ ایک دم خوش گوار ہوگیا تھا

“اوکے ۔۔۔۔میں زویا کو نکالتا ہوں باہر ۔ . “

ساحل کال کاٹ کر مزيد پریشان ہوگیا تھا

“بیچاری زویا ۔۔۔۔۔۔۔لگتا ہے خود کشی کی ہے اس نے ۔۔۔مگر اگر بھائی کو اس پر ذرا سا بھی اعتبار نہیں تھا تو وہ اس کو میرے جیسے جوان بھائی کے ساتھ چھ ماہ سے اکیلے کیوں چھوڑ کر چلے جاتے تھے ؟؟؟؟”

“جو بھائی نے بتایا یہ آدھا سچ ہے ۔۔۔۔۔کچھ اور بھی ہے جو وہ چھپا گئے ہیں ۔۔۔۔”

ساحل اٹھ کر کرسی پر بیٹھ گیا تھا

“ان کی باتوں سے صاف لگ رہا تھا وہ زویا کو بیوی بنا کر پچھتا رہے تھے پھر ایک بار پھر انہوں نے بیوی کا انتخاب بازار حسن سے ہی کیوں کیا ؟؟؟؟”

“یہ ثاقب بھائی اتنے پراسرار پہلے تو کبھی نہیں تھے ۔۔۔”

“وہ تبھی میری کسی بھی حرکت کو بھائی تک نہیں پہنچاتی تھی کیوں کہ وہ کتنا بھی سچ کہتی ثاقب بھائی اسے ہی اس کے ماضی کی روشنی میں غلط ٹھہراتے ۔۔۔۔آج پہلی بار مجھے اپنے مرد ہونے پر افسوس ہو رہا ہے ۔۔۔۔عورت کتنی بے بس ہوتی ہے ہمارے آگے ۔۔۔”

“ساحل نہا کر کپڑے بدل کر نیچے آیا کرو”

زویا كی آواز ساحل کے کانوں میں گونجی تھی اور وہ رو دیا تھا ۔۔۔

وہ آنسو صاف کرتا نہانے گھس گیا تھا

نہا دھو کر وہ کچن میں آیا اور اپنے لئے ناشتہ تیار کیا اب وہ بيگم جان کے پاس جانا چاہتا تھا

وہ گیٹ سے باہر آیا تو اس کی نظر زویا کے مدفن پر پڑی تھی ۔۔

ایک دکھ بھری نظر ڈال کر وہ اب مختلف لوگوں سے پوچھتا پوچھتا بيگم جان کے بازار حسن تک آ پہنچا تھا

رنگ برنگی کپڑوں میں سجی سنوری لڑکیاں گاہکوں کو اپنی طرف مائل کرنے میں مصروف تھیں ساحل جیسا گبرو جوان خوبصورت لڑکا دیکھنے کی دیر تھی ہر لڑکی خود کو پیش کرنے میں لگ گئی تھی

“ساحل کو صرف گوری چمڑی پسند ہے اور میں مردار نہیں کھاتا میں شیر ہوں اپنا شکار خود تلاشا کرتا ہوں ۔۔۔”

وہ دل میں سوچتا ان سے بيگم جان کا کمرہ پوچھ کر ادھر گیا تھا

ایک عورت جو سر تا پیر لباس کے نام پر فقط ایک کالی چادر میں ڈھکی ہوئی تھی اور اس کے چہرے پر بھی سیاہ نقاب تھا

اس کی نظریں بلکل ایسی تھیں جیسے وہ ساحل کی ہی منتظر تھی اس نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا

“مجھے زویا کے متلعق سب جاننا ہے ۔۔۔۔”

ساحل نے بیٹھ کر فورا کہا تھا

“زویا ۔۔۔۔کون زویا وہ زویا جو کل مر گئی یا یہ والی زویا ؟؟؟؟؟”

اس عورت نے اپنا نقاب ہٹایا تھا ساحل اس کا چہرہ دیکھ کر بس بیہوش ہونے کو تھا وہ زویا ہوبہو زویا جیسی تھی مگر رج کے کالی تھی

“تتتتمم کون ہو ؟؟؟؟”

ساحل بمشکل بول پایا تھا

گهبراؤ نہیں ۔۔۔۔میں زویا نہیں ہوں میں مایا ہوں،اس کی بڑی بہن مایا ۔۔۔جیسے لوگ یہاں بيگم جان کہتے ہیں ۔۔۔مگر میرا جو روپ تم دیکھ رہے ہو میں دنیا کو ایسی نہیں نظر آتی ۔۔۔”

وہ ساحل کی گھبراہٹ کی وجہ سمجھ گئی تھی

“کون سا روپ ؟؟؟تم میں اور زویا میں بس رنگ کا فرق ہے ۔۔۔ورنہ تم بھی تو ایک عام انسان ہی ہو ۔۔۔”

ساحل اب سنبھل گیا تھا

وہ کھڑی ہوئی اور اپنی چادر کا ستر کھول دیا اور بولی

“اب کیا کہو گے ؟؟؟؟”

وہ گردن سے نیچے کسی درخت کی طرح تھی اس کے پورے جسم پر گوشت کی شاخیں نکلی ہوئی تھیں جن سے خون رس رہا تھا

(آپ کو اس بیماری پر جس کا نام tree disease ہے یو ٹیوب پر بہت سی ویڈیوز مل جائے گی یہ کس وجہ سے ہوتی ہے میں نہیں جانتی مگر میں نے اپنی کہانی میں اس کا استعمال اپنے حساب سے کیا ہے”

ساحل ایک جیتے جاگتے انسان کو اتنی بھیانک شکل میں دیکھ کر بیہوش ہوگیا تھا

جب وہ ہوش میں آیا تو زویا اس کے پاس بیٹھی ہوئی تھی اور اس پر پانی ڈال رہی تھی

“تم زندہ ہو ؟؟؟؟؟”

“وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر فورا بولا تھا

“نہیں ۔۔۔میں مایا ہوں زویا نہیں ۔۔۔۔وہ مایا جیسے دیکھ کر تم بیہوش ہو گئے تھے

آخر یہ سب کیا کر رہے ہو تم سب میرے ساتھ مل کر؟؟؟؟کیوں دل بند کر دینا چاھتے ہو میرا ؟؟؟؟؟”

“کوئی سیدھی بات کیوں نہیں بتاتا مجھے؟؟؟؟”

ساحل چیخ کر بولا تھا

“مجھ سے شادی کرلو ۔۔۔۔۔اور مجھے ماں بنا دو سب بتا دوں گی”

وہ کہہ کر پیچھے اپنے خاص بستر پر بیٹھ گئی تھی وہ ساحل کو مزيد پریشان کر گئی تھی۔***********

“جينی آج موسم صاف ہے گھر اچھے سے صاف کر لینا اور کچن كی چھت بھی جنگل سے لکڑی لا کر ٹھیک کر لینا میں شام تک آ جاؤں گی۔پھر شام تک پھر بارش آتی ہی ہوگی تب تک سارے کام دیکھ لینا”

سُکھاں ناشتہ کر کے جانے کے لئے اٹھی تھی

“اماں؟؟”

سُکھاں نے مڑ کر سر ہلا کر ۔۔۔۔کیا ہے۔۔؟ کہا تھا

“جیسے اباں مجھے جیسمین پکارا کرتےتھےآپ بھی میرا نام لیا کریں نا ۔۔۔مجھے بہت اچھا لگے گا ۔۔۔”

جينی نے بہت پُر مسرت انداز سے کہا تھا

“نہیں ۔۔۔۔تم ایک گهروں میں کام کرنے والی عورت کی بیٹی ہو اب صرف ۔۔۔تمہارا نام جينی ہی سجتا ہے”

وہ اپنا شاپر ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں کرتی بد مزہ سے بولی تھی

“مگر اماں نام تو نام ہے نا ہر انسان کا پہلا حق کہ اسے اس کے پیارے نام سے پکارہ جائے ۔۔۔۔۔اور عزت دینے کی پہلی سیڑھی ۔۔۔۔۔”

“نام اوقات کے حساب ہی ججتے ہیں جينی ۔۔۔۔انسان کی پہچان اس کی جيب میں موجود پیسہ ہوا کرتا ہے پھر اس کا نام سعد ہو یا قطب الدين کوئی فرق نہیں پڑتا،اب تیری آواز نا آئے کام پر جانے دے مجھے سکون سے”

وہ بنا جواب کا انتظار کیئے جا چکی تھی

“اماں میری پیاری اماں ۔۔۔۔۔آپ اتنی نا امید کیوں ہیں میرے رب کی تقسیم سے ۔۔۔۔۔۔”

اس نے پہلے کمرے میں جھاڑو لگائی پھر کچن کی چھت کے لئے لکڑی جمع کرنے جنگل کا رخ کیا وہ جنگل میں داخل ہوئی ہی تھی جب ایک دم بادل آسمان میں بهرنا شروع ہوگئے تھے گرج چمک بھی ۔۔۔اس نے جلدی سے لكڑیاں جمع کرنا شروع کیں اسی دوران ایک آدمی جو شکاری تھا اس کی نظر جينی پر پڑی تھی اس ویران جنگل میں ایک کم عمر اور سانولی خوبصورتی کی مالک لڑکی اسے جنت کی حور لگی تھی

وہ ایک بدطینت شخص تھا وہ درخت کی آڑ میں اسے کھڑا دیکھتا رہا جينی نے جلدی سے لكڑیاں اكهٹی کیں اور گھر کا رخ کیا تب تک کالا اندھیرا چھا گیا تھا اب وہ جلدی جلدی کچن کی چھت ٹھیک کرنے لگی وہ آدمی اسے چھپ چھپ کر دیکھتا رہا وہ جیسے ہی کام ختم کر کے اندر گئی اسے کھانا بنانے کے لئے لكڑیاں جمع کرنے کا خیال آیا موبائل پر وقت دیکھا جو دن کا ایک بتا رہا تھا

“اس سے پہلے کے بارش شروع ہو جلدی سے یہ کام کرلوں پھر اللّه سے ملتی ہوں”

وہ تیز قدم چلتی جنگل میں گئی اور لكڑیاں جمع کرنے لگی ڈھیر ابھی آدھا ہوا تھا جب بارش شروع ہو گئی

وہ آدمی جو کب سے خود کو روکے ہوۓ تھا اب اس کے پاس آیا تھا جينی اپنے کام میں مگن اس سے بے خبر تھی وہ بیہوش ہونے کو تھی جب دو ہاتھ اسے اپنے گرد محسوس ہوۓ تھے وہ اسے پیچھے دکھیل کر اس کی طرف مڑی تھی

“کون ہو تم دور ہٹو مجھ سے”

وہ گھبرا کر بولی تھی بادل زور سے گرجے اور بارش میں تیزی آ گئی راستہ جو رات کی بارش سے پہلے ہی نرم تھا اب پهسلن زدہ ہو گیا تھا

جينی بھاگی تھی مگر پهسلن سے اس کا پاؤں پهسلا اور وہ منہ کے بل گر گئی تھی وہ انسان کے بھیس میں چھپا درندا اس کے پیچھے بھاگا اور اس پر ہاوی ہوگیا

جينی نے کبھی ایسی صورت حال کے بارے میں سوچا تک نہیں تھا وہ اتنے میں ہی بے جان سے کسی پرندے کی طرح اس کے ہاتھوں میں پھڑپھڑا رہی تھی ۔۔۔

وہ اس کی عزت کو چند لمحوں میں ہی داغ دار کر کے وہاں سے بھاگ گیا تھا

جينی نيم بیہوش سی تیز بارش میں ادھر ہی لیٹی ہوئی تھی

درد،تکلیف،اذیت،دکھ کیا نہیں تھا جو اس لمحے جينی کو محسوس نہیں ہوا تھا

تیز بارش میں کیچڑ اور غلاظت میں لت پت وہ بیہوش ہو چکی تھی