Tehreer by Jameela Nawab Readelle 50381 Tehreer Episode 6
Rate this Novel
Tehreer Episode 6
Tehreer by Jameela Nawab
“اب کیا کرنا ہے صاحب ؟؟؟”
زمرد خان نے پریشان ہو کر پوچھا تھا
“اس طوفان کو گزر لینے دو پھر دیکھتے ہیں کیا کرنا ہے”
ساحل نے جمائی روکتے ہوۓ کہا تھا
“تب تک تم بھی سو جاؤ میں بھی سونے لگا ہوں”
ساحل سیٹ پر سیدھا ہوتا ہوا بولا تھا
“صاحب میرا ایک مسئلہ ہے میں ایک بار سو جاؤں تو جلدی نہیں اٹھ پاتا ۔۔۔۔۔اوپر سے بہت گہری نیند سوتا ہوں ۔۔۔”
زمرد خان گاڑی کی چابی نکال کر گاڑی کھڑی کر کر بولا تھا
“مطلب ؟؟؟”
ساحل نے دوبارہ ایک طویل جمائی لے کر کہا تھا
“مطلب میں جب تک نیند سے رج نا جاؤں کسی کے جگانے پر نہیں اٹھ پاتا ۔۔۔۔۔مطلب میں سو گیا تو آپ کی مرضی سے اٹھ کر گاڑی نہیں چلا سکتا ۔۔۔۔۔جب تک اپنی مرضی سے خود نہیں اٹھوں گا ۔۔۔”
وہ شرمندہ سا بولا تھا
“اچھا تم ایسا کرو پیچھے آ جاؤ میں خود گاڑی چلا لوں گا تمہارے اٹھنے تک”
ساحل نے یہ کہتے ہی گاڑی کا دروازہ کھولا اور تیز بارش میں باہر نکل آیا وہ جیسے ہی باہر آیا اس کے کان کی لو کو ہونٹوں سے چھو کر کسی نے ساحل سے کچھ کہا تھا جس سے اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سرد سی لہر سرائیت کرتی محسوس ہوئی تھی
دوسری طرف زمرد خان بھی اتر گیا تھا وہ پیچھے اور ساحل اب ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تھا
زمرد خان تھوڑی ہی دیر میں خراٹے لے کر اب گہری نیند میں جا چکا تھا
ساحل تیز بارش اور اس کے ساتھ ہوا کے طوفان کی عجیب و غریب آواز کو سن رہا تھا ہوا اتنی تیز تھی بارش کے ساتھ درخت بھی زمین کے ساتھ جھک کر لگ جاتے تھے
“ساحل ۔۔۔۔۔۔۔میں تمہارے بہت پاس ہوں میرے پاس آؤ”
اس شور میں یہ آواز بہت واضح سنائی دی تھی
ساحل نے بے چینی سے زمرد خان کو دیکھا تھا باہر تو گہرا اندھیرا تھا
ساحل نے اپنے کوٹ کی جيب سے اپنا مفلر نکالا اور آنکھوں پر اچھی طرح باندھ دیا اور سونے کی کوشش کرنے لگا
بارش کی وجہ سے گاڑی کے اندر بھی کافی خنکی ہورہی تھی ساحل اپنے کوٹ کی جيب میں ہاتھ ڈال کر بڑی مشکل سو پایا تھا
“صاحب ؟؟؟؟؟؟”
زمرد خان نے اس کے کندھے پر ہاتھ سے جنجھوڑتے ہوۓ کہا تھا
“ہوں ۔۔۔۔۔۔کیا ہوا ؟؟؟؟”
ساحل نے آنکھوں سے مفلر ہٹا کر زمرد خان کو دیکھ کر فورا پوچھا تھا
“بارش ہلکی ہو گئی ہے تھوڑی دیر تک یہ رک جائے گی اب اسی دوران ہمیں کسی ٹھکانے پر پہنچنا پڑے گا،بس صبح بھی ہونے کو ہے تھوڑی دیر میں فجر ہو جائے گی”
“آپ پیچھے آجایئں”
زمرد خان گاڑی سے اتر کر بول رہا تھا
“تم ہر بار اتنا کم سوتے ہو ؟؟”
ساحل نے اترتے ہوۓ پوچھا تھا
“نہیں صاحب ۔۔۔اتنی جلدی میری آنکھ شایدکبھی نہیں کھلی مگر پتہ نہیں آج مزہ نہیں تھا نیند کا”
زمرد خان نے گاڑی سٹارٹ کی اور گاڑی بيک لیتے ہوۓ کہا تھا
ساحل بھی فرنٹ سیٹ پر اس کے ساتھ ہی بیٹھ گیا تھا
“یہاں سے کچھ دور ایک چند کمروں کا گھر ہے سب سامان موجود ہے اس میں ،اس کا مالک باہر ہوتا ہے جس کے پاس اس کی چابی ہوتی ہے وہ میرا دوست ہے اگر آپ اس گھر میں رہنا چاہے تو اس کی بیوی سعدیہ بہت اچھا کھانا بنا لیتی ہے اور وہ خود بھی گھر کے کام دیکھ لیتا ہے ۔۔۔اس کا نام سلیم ہے”
“آپ کو کتنے دن کا کام ہے یہاں ویسے ؟؟؟”
وہ مزيد بولا تھا اب اس نے گاڑی کو ایک دوسرے راستے پر ڈالا تھا
” کچھ کہہ نہیں سکتا فلحال،چلو پھر اسی گھر میں لے جاؤ”
ساحل نے کچھ سوچ کر کہا تھا
“مگر صاجب وہ گھر تھوڑا الگ سی جگہ پر ہے آبادی کم ہے وہاں”
“اور جنگل اور اس گھر کے درمیان بس ایک خار دار باڑ کا فاصلہ ہے”
زمرد خان نے ایک کھائی میں سے گاڑی کو بچاتے ہوۓ مصروف سے انداز میں بتایا تھا
“چلو تم بھی میرے ساتھ رہو گے کوئی مسئلہ ہوا تو مل کر دیکھ لے گے”
ساحل نے اس کو جتاتے ہوۓ کہا تھا
“جی صاحب مگر میرا گھر اسی علاقے میں ہے میں رات زیادہ تر اپنے گھر پر ہی رکا کروں گا جب کوئی ضروری کام ہوا آپ مجھے رات کو بھی بلا سکتے ہیں بس پندرا منٹ کا فاصلہ ہے پيدل ۔۔۔”
زمرد خان فوراً بولا تھا جس پر ساحل نے بس ایک نظر ڈال کر اسے جواب دیا تھا، جو کہ ٹھیک ہے تھا ۔۔۔۔۔
عجیب و غریب جنگلی راستوں سے ہوتے ھوئے اب وہ آبادی سے ذرا ہٹ کر بنے ہوۓ کاٹیج طرز تعمیر میں بنے گھر کے سامنے آ کر رکے تھے جس کا داخلی گيٹ رہائشی ایریا سے تھوڑا دور تھا
چوں چراں کی آواز کے ساتھ تیز ہوا کی وجہ سے وہ گيٹ خود ہی کبھی كهلتا کبھی بند ہو رہا تھا
بارش کی وجہ سے کیچڑ اور پھسلن کافی زیادہ تھی زمرد خان نے گاڑی اندر لا کر کھڑی کردی اب وہ اپنے موٹے پہاڑی کوٹ سے اس گھر كی چابیاں نکال رہا تھا
ساحل باہر کے گیٹ کا جائزہ لینے اس کے پاس آ گیا تھا
اس کی کنڈی اچھی خاصی تھی اس نے لاک لگایا تالا کھولتے زمرد خان کے پاس جانے کی طرف مڑا وہ ابھی چند قدم ہی چلا تھا کہ وہ دروازہ اب پہلے کی طرح چوں چراں کے ساتھ كهلنا اور بند ہونا شروع ہو گیا تھا ساحل نے حیرانگی سے اسے دیکھا تھا
“کنڈی خود سے کیسے کھل گئی ؟؟؟”
وہ دوبارہ اس طرف جانے کو تھا مگر
زمرد کی آواز پر رک گیا
،”یہ نہیں لگتی صاحب اس کو چھوڑیں اندر آ جایئں ٹھنڈ ہے بہت”
ساحل نے ایک نظر دروازے اور دوسری کالے بادلوں پر ڈالی اور اندر آ گیا
یہ گھر کسی ہوٹل کی طرح بنا ہوا تھا لمبی سی راہ داری اور سائیڈ پر کمرے ایک بڑا سا کچن اور ٹی وی لاؤنچ ۔۔۔۔
دیواروں پر جگہ جگہ پرانی پینٹنگز لگی ہوئیں تھیں پورا گھر سامان سے بھرا ہوا تھا پرانے طرز کا شاندار فرنیچر ۔۔۔۔
ہر کمرے میں لکڑی کا خوبصورت کام کیا گیا تھا چلتے تھے تو لگتا تھا کسی بوٹ يا شِپ میں چل رہے ہیں فرش بھی لکڑی کا تھا
“شاندار”
پہلا لفظ جو بے اختیار ساحل کے منہ سے ادا ہوا تھا
“مگر یہ سامان؟؟؟ یہ سب سامان کس کا ہے ؟؟؟”
ساحل نے ایک بہت پرانے سے ٹی وی کو بٹن سے آن کرتے ہوۓ پوچھا تھا
“یہ جو یہاں لوگ رہتے تھے ان کا ہے ۔۔۔وہ اپنی نسل کی آخری پیڑی تھی اور کوئی ان کا بچا ہی نہیں جو یہ سب سنبھالتا ۔۔۔۔۔۔ جو صاحب باہر رہتے ہیں وہ ان کی پیڑی کا آخری بندہ ہے وہ بھی بہت دور پرے سے ۔۔۔۔ان کا ایک ہی حکم ہے یہاں کوئی بھی ٹھہرے بس گھر کی صفائی سھترائی اور چیزوں کی حفاظت ہونی چاہیے بس ۔۔۔۔”
زمرد خان نے شیشے پر سے ڈسٹ ہٹاتے ہوۓ کہا تھا
“آپ ابھی ریسٹ کریں میں سلیم اور اس کی بیوی کو بھیجتا ہوں ان سے تنخواہ کی بات کر لیں وہ پورا گھر صاف بھی کر دیں گے اور کھانا بھی بنا دیں گے ۔۔۔”
“میں اب چلتا ہوں ان دونوں کو لے کر آتا ہوں”
وہ چابی دروازے کے اوپر بنی جگہ پر لٹکا کر باہر نکل گیا تھا
ساحل نے بہت کوشش کی مگر ٹی وی نہیں ان ھوا۔۔۔۔اب وہ کمروں کو دیکھنے اٹھا تھا
انہیں کمروں میں سے ایک جس كی کھڑکی ایک جاندار پیڑ کی طرف كهلتی تھی ساحل نے اپنے لئے اس کمرے کو چنا اور بیگ رکھ کر وہ اب نہانے گھس گیا تھا
۔***************
“اماں نسرين باجی کتنی اچھی ہیں”
جينی ماں کے ساتھ بیٹھی کھانا کھاتے ہوۓ بولی تھی
“ہاں بیٹا ۔۔۔بہت اللّه والی ہیں ۔۔۔اللّه سے بہت ڈرنے والی ۔۔۔”
“سکھاں ؟؟؟؟،سکھاں ؟؟؟؟؟”
“اماں یہ تو باجی كی آواز ہے”
جينی نے کہا تھا سکھاں نوالا پلیٹ میں چھوڑ کر بھاگ کر نیچے گئی تھی
“کیا ہوا باجی ؟؟؟؟”
سکھاں نے دوپٹے سے ہاتھ صاف کرتے ہوۓ پریشانی سے پوچھا تھا
“میری بیٹی مر گئی ہے سکھاں دیکھو کمرے میں پهنكے کے ساتھ لٹک رہی ہے اس کی لاش”
نسرين نیچے بیٹھ کر اب گھٹ گھٹ کر رو رہی تھی
سکھاں بھاگ کر اندر گئی تو اس نے دیکھا ان کی چھوٹی بیٹی گوہر چھت سے لٹک رہی تھی اس کی آنکھیں اور زبان باہر کو نکلی ہوئی تھیں
سکھاں نے گھبرا کر اپنے دونوں ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لئے تھے
“باجی یہ کیوں کیا گوہر بیٹی نے؟؟؟”
“میں نہیں جانتی کچھ بھی سکھاں میں کیا جواب دوں گی اس کے باپ اور بھائیوں کو؟؟؟؟؟”
وہ بیچاری سر پکڑے بری طرح رو رہی تھی
جینی بھی شور سن کر نیچے آ چکی تھی
“جینی تم مت دیکھو”
سکھاں نے اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیا تھا مگر تب تک وہ سامنے کا منظر دیکھ چکی تھی
شام کی اذان ہونے سے پہلے تک گھر کے سب افراد گھر آ چکے تھے گوہر کی میت کو نیچے اتار دیا گیا تھا
گھر کے افراد جہاں ایک طرف اس کی موت کو لے کر صدمے میں تھے دوسری طرف اس کی خودکشی کی وجہ کو لےکر بہت پریشان تھے جینی اور اس کی ماں آج رات ادھر ہی رک گئے تھے
لوگوں کو اس کی موت کی وجہ کرنٹ لگنا بتائی جا رہی تھی مگر ہر کوئی مشکوک نظروں سے وہاں موجود اس گھر کے دکھی افراد کو دیکھ کر چہ مگوئیاں کرنے میں مگن تھا
اب میت کو غسل دینے کا وقت آ چکا تھا جس عورت کو غسل دینے کے لئے بلوایا گیا تھا اس نے غسل دینے سے پہلے وہاں موجود تمام عورتوں کو غسل کے حوالے سے کچھ باتیں بتائی تھیں
“پیاری بہنوں میت کو غسل دینے اور کفنانے کا طریقہ ہم سب بہنوں کو ضرور آنا چاہیے۔۔۔۔میری بات د ھیان سے سمجھ لیں”
سب سے پہلے جس تختہ پر میت کو غسل دیاجائے اُسے اچھی طرح دھو لیاجائے،اس پر میت کو قبلہ رخ یا جیسے بھی آسانی ہو لٹایا جائے، اس کے بعد میت کے بدن کے کپڑے اتاردیے جائیں اور میت کے ستر پر کوئی موٹاکپڑاڈال دیاجائے، تاکہ میت کا جسم بھیگنے کے بعد ستر نظر نہ آئے، پھر بائیں ہاتھ سے میت کو استنجا کرائیں، اس کے بعد وضو کرائیں لیکن وضو میں ناک اور منہ میں پانی نہ ڈالا جائے ،بلکہ کوئی کپڑا یا روئی وغیرہ گیلی کرکے ہونٹوں، دانتوں اور مسوڑھوں پر پھیر دیں، اور ناک بھی اچھی طرح صاف کردیں، اس کے بعد ناک، منہ اور کانوں کے سوراخوں میں روئی رکھ دیں، تاکہ وضو وغسل کراتے ہوئے پانی اندر نہ جائے، وضو کرانے کے بعد ڈاڑھی اورسر کے بالوں کو صابن وغیرہ سے خوب اچھی طرح دھوئیں ، پھر میت کو بائیں پہلوپر لٹاکر دائیں پہلوپرصابن استعمال کرکے خوب اچھی طرح تین مرتبہ پانی بہادیں ۔ پھر دائیں پہلو پر لٹاکر بائیں پہلوپر سر سے پاوں تک اسی طرح تین مرتبہ اچھی طرح پانی ڈالا جائے ، نیز پانی ڈالتے ہوئے بدن کو بھی آہستہ آہستہ ملا جائے۔
اس کے بعد میت کو ذرا بٹھانے کے قریب کردیں اور پیٹ کو اوپر سے نیچے کی طرف آہستہ آہستہ ملیں ،اگر کچھ نجاست نکلے تو اس کو صاف کرکے دھو ڈالیں۔ پھر سارے بدن کو خشک تولیہ وغیرہ سے صاف کردیا جائے، اور آخرمیں میت کے بدن پر کافور یا کوئی اور خوشبو مل دیں ور کفن پہنا دیں۔فقط واللہ اعلم
اب آتے ہیں کفن کے حصوں اور کفن ڈالنے کی طرف۔۔۔۔۔
“ملحوظ رہے کہ مرد کے کفنِ سنت میں قمیص ازار اور چادر شامل ہیں، جب کہ عورت کے کفنِ سنت میں ان تین کپڑے کے ساتھ ساتھ سینہ بند اور سر کی اوڑھنی (سر بند ) بھی شامل ہے، عورت کو کفنانے کا طریقہ یہ ہے کہ چارپائی پر پہلے لفافہ (چادر) بچھا کر اس پر ازار بچھا دیں، پھر کرتہ (قمیص) کا نچلا نصف حصہ بچھائیں اور اوپر کا باقی حصہ سمیٹ کر سرہانے کی طرف رکھ دیں، پھر میّت کو ستر کا خیال رکھتے ہوئے غسل کے تختے سے آہستہ سے اٹھا کر اس بچھے ہوئے کفن پر لٹا دیں اور کرتہ (قمیص) کا جو نصف حصہ سرہانے کی طرف رکھا تھا، اُس کو سر کی طرف الٹ دیں کہ قمیص کا سوراخ (گریبان) گلے میں آ جائے اور پیروں کی طرف بڑھا دیں۔ جب اس طرح قمیص(کرتہ) پہنا چکیں تو غسل کے بعد جو تہبند /کپڑا میت کے بدن پر ڈالا گیا تھا وہ نکال دیں، پھر سر کے بالوں کے دو حصے کر کے کُرتے کے اوپر سینے پر ڈال دیں، ایک حصہ دائیں جانب اور ایک حصہ بائیں جانب، اس کے بعد سر پر اور بالوں پر سر بند ڈال دیں، اس کو نہ باندھیں اور نہ ہی لپیٹیں، اس کے بعد ازار لپیٹ دیں، پہلے بائیں طرف لپیٹیں پھر دائیں طرف، اس کے بعد سینہ بند باندھ دیں، پھر چادر لپیٹیں، پہلے بائیں جانب، پھر دائیں جانب۔ سینہ بند کو سر بند کے بعد ازار لپیٹنے سے پہلے باندھنا بھی جائز ہے اور سب کپڑوں سے اوپر باندھنا بھی درست ہے۔۔۔۔۔
اس کے بعد گوہر کو غسل دیا گیا اور رات کے وقت ہی اسے دفنا دیا گیا ۔۔۔۔۔
لوگ قل کے ختم کے بعد اپنے گھروں کو جا چکے تھے تین دن سے سُکھاں اور جینی ادھر ہی تھیں
آج چوتھا دن تھا ۔۔۔۔۔۔۔
سکھاں نسرین بیگم کے پاس آ کر بیٹھی تھی وہ تین دن سے مکمل طور خاموش تھیں چھت کو دیکھ کر چینخنے لگ جاتیں۔۔۔کھانا بھی بہت مشکل سے ان کو کھلایا گیا تھا
“باجی۔۔۔۔۔۔۔۔ایک بار دل کھول کر رو لیں ۔۔۔۔دل ہلکا کر لیں ورنہ آپ پاگل ہو جائے گی”
سکھاں نے ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنائیت سے کہا تھا
“وہ تو زندگی سے بہت محبت کرنے والی تھی سکھاں وہ اپنے ساتھ ایسا نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔۔۔وہ تو سوئی لگ جانے پر بھی آسمان سر پر اٹھ لیا کرتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
“ہا ئے میری بیٹی۔۔۔۔۔۔ “
وہ بیٹھی ہوئی آواز کے ساتھ بہت تکلیف سے رو رہی تھیں
“اس کا باپ کہتا ہے اگر کوئی پسند تھا تو مجھے بتا دیا ہوتا میں کچھ نا کہتا چپ کر کے شادی کروا دیتا بس وہ زندہ رہتی ۔۔۔۔۔ “
“بھائی کہتے ہیں کوئی تنگ کرتا تھا کوئی غلطی کر بیٹھی تھی تو ہمیں صرف ایک بار بتاتی ہم۔۔۔۔۔ہم اس کا اعتبار کرتے۔۔ اسی کا ساتھ دیتے مگر بس وہ زندہ رہتی۔۔۔۔۔”
“ہاۓ سکھاں اس نے ایک پل کو بھی ہمارا نہیں سوچا۔۔۔۔۔۔۔اور مار دیا۔۔۔۔۔اس نے خود کو نہیں مارا ۔۔۔۔اس نے ہمیں مار دیا ہے سکھاں۔۔۔۔۔۔”
اب وہ کرب اور اذیت سے ایک بار پھر چپ کر گئی تھیں
“باجی رو لیں۔۔ ۔”
سکھاں نے ہلا کر کہا تھا
“یہ دکھ ایسا ہے میری بہن کہ والدین رو کر بھی نہیں کم کر سکتے۔۔۔۔۔”
وہ اندر ہی اندر ہچکیاں لیتی روتی ہوئی تڑپ رہی تھیں۔۔۔
“امی یہ سب الزام ہے میری بہن پر جیسے بھائی اور بابا سمجھے ہیں ایسی کوئی وجہ نہیں تھی ۔۔ “
گوہر کی شادی شدہ بڑ ی بہن مونا ماں کے پاس آ کر بولی تھی
“تمہیں کچھ کہا تھا اس نے؟؟؟؟کیوں پریشان تھی میرا جگر کا ٹکڑا؟؟؟؟؟؟؟”
نسرین بیگم نے تقریباً اپنی بیٹی کا گریبان پکڑ کر پوچھا تھا
“اس کو دھمکیاں دی جا رہی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔اور۔۔۔وہ۔۔۔۔وہ اپنے خوابوں سے تنگ تھی امی “
وہ روتے ہوۓ آہستہ سے بولی تھی
“کیسے خواب؟؟؟”
سوال جینی نے کیا تھا جو کب کی کھڑی وہ سب سن رہی تھی
“وہ ۔۔۔۔وہ میں نہیں بتا سکتی۔۔۔۔امی میں اپنے گھر جا رہی ہوں آپ جانتی ہیں میں ماں بننے والی ہوں وہ مجھے اس سے زیادہ یہاں نہیں رکنے دے رہے۔۔۔وہ باہر ہیں میں فون کرتی رہوں گی”
وہ ماں کو گلے لگا کر آنسو صاف کرتی جا چکی تھی
“آنٹی اگر آپ کی اجازت ہو تو کیا میں گوہر باجی کا کمرہ دیکھ سکتی ہوں؟؟؟”
“جینی نے ڈر ڈر کر پوچھا تھا
” ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔دیکھ لو۔۔۔ “
نسرین بیگم آہستہ سے بیٹھی ہوئی آواز میں گویا ہوئی تھیں ۔۔
جینی نے کمرے کی ہر چیز کو دیکھا کوئی بھی سراغ نا ملا۔۔۔۔ وہ اب بیڈ کی چادر ٹھیک کرنے لگی اسی دوران تکیے کر نیچے سے ایک اسلامی کتاب ملی جو مکمل طور ایک مومن کی زندگی پر تھی اس کا ایک صفحہ جو شاید بار بار پڑھا گیا تھا اسے موڑ کر واضح بھی رکھا گیا تھا
جہاں کچھ لائنز کو کلر کے ہائی لائٹ کیا گیا تھا جینی وہ پڑھتی چلی گئی۔۔۔۔۔
خود کشی فعلِ حرام ہے
1۔ خود کشی کیوں حرام ہے؟
خودکشی کے بارے میں اسلامی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ فعلِ حرام ہے۔ اِس کا مرتکب اللہ تعالیٰ کا نافرمان اور جہنمی ہے۔ قرآن و حدیث کے دلائل پر بحث سے قبل آئیے دیکھتے ہیں کہ اسلام نے اسے اتنا بڑا جرم کیوں قرار دیا۔
درحقیقت انسان کا اپنا جسم اور زندگی اس کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ اﷲ عزوجل کی عطا کردہ امانت ہیں۔ زندگی اللہ تعالیٰ کی ایسی عظیم نعمت ہے جو بقیہ تمام نعمتوں کے لیے اساس کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی لیے اسلام نے جسم و جاں کے تحفظ کا حکم دیتے ہوئے تمام افرادِ معاشرہ کو اس امر کا پابند بنایا ہے کہ وہ بہرصورت زندگی کی حفاظت کریں۔ اسلام نے ان اسباب اور موانعات کے تدارک پر مبنی تعلیمات بھی اسی لیے دی ہیں تاکہ انسانی زندگی پوری حفاظت و توانائی کے ساتھ کارخانۂ قدرت کے لیے کار آمد رہے۔ یہی وجہ ہے اسلام نے خودکشی (suicide) کو حرام قرار دیا ہے۔ اسلام کسی انسان کو خود اپنی جان تلف کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔
2۔ قرآن و حدیث میں خودکشی کی ممانعت
جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا ہے کہ زندگی اور موت کا مالک حقیقی اﷲ تعالیٰ ہے۔ جس طرح کسی دوسرے شخص کو موت کے گھاٹ اتارنا پوری انسانیت کو قتل کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے، اُسی طرح اپنی زندگی کو ختم کرنا یا اسے بلاوجہ ہلاکت میں ڈالنا بھی اﷲ تعالیٰ کے ہاں ناپسندیدہ فعل ہے۔ ارشاد ربانی ہے :
وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْکُمْ اِلَی التَّهْلُکَةِج وَاَحْسِنُوْاج اِنَّ اﷲَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَo
البقرة، 2 : 195
’’اور اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اور صاحبان احسان بنو، بے شک اﷲ احسان والوں سے محبت فرماتا ہےo‘‘
امام بغوی نے سورۃ النساء کی آیت نمبر 30 کی تفسیر کے ذیل میں سورۃ البقرۃ کی مذکورہ آیت نمبر 195 بیان کرکے لکھا ہے :
وقيل : أراد به قتل المسلم نفسه.
بغوی، معالم التنزيل، 1 : 418
’’اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد کسی مسلمان کا خودکشی کرنا ہے۔‘‘
ایک اور مقام پر اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
وَلَا تَقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْط اِنَّ اﷲَ کَانَ بِکُمْ رَحِيْمًاo وَمَنْ يَفْعَلْ ذٰلِکَ عُدْوَانًا وَّظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيْهِ نَارًاط وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اﷲِ يَسِيْرًاo
النساء، 4 : 29، 30
’’اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو، بے شک اﷲ تم پر مہربان ہےo اور جو کوئی تعدِّی اور ظلم سے ایسا کرے گا تو ہم عنقریب اسے (دوزخ کی) آگ میں ڈال دیں گے، اور یہ اﷲ پر بالکل آسان ہےo‘‘
امام فخر الدین رازی نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے :
﴿وَلاَ تَقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ﴾ يدل علی النهی عن قتل غيره وعن قتل نفسه بالباطل.
رازی، التفسير الکبير، 10 : 57
’’(اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو)۔ یہ آیت مبارکہ کسی شخص کو ناحق قتل کرنے اور خودکشی کرنے کی ممانعت پر دلیل شرعی کا حکم رکھتی ہے۔‘‘
مزید برآں امام بغوی نے ’’معالم التنزیل (1 : 418)‘‘ میں، حافظ ابن کثیر نے ’’تفسیر القرآن العظیم (1 : 481)‘‘ میں اور ثعالبی نے ’’الجواھر الحسان فی تفسیر القرآن (3 : 293)‘‘ میں سورۃ النساء کی مذکورہ بالا آیات کے تحت خود کشی کی حرمت پر مبنی احادیث درج کی ہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ائمہ تفسیر کے نزدیک بھی یہ آیات خود کشی کی ممانعت و حرمت پر دلالت کرتی ہیں۔
احادیث مبارکہ میں بھی خود کشی کی سخت ممانعت وارد ہوئی ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
فَإِنَّ لِجَسَدِکَ عَلَيْکَ حَقًّا وَإِنَّ لِعَيْنِکَ عَلَيْکَ حَقًّا.
بخاری، الصحيح، کتاب الصوم، باب حق الجسم فی الصوم، 2 : 697، رقم : 1874
’’تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھوں کا تم پر حق ہے۔‘‘
’’حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے تیر کے ذریعے خودکشی کرلی تو حضور سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھاؤں گا۔‘‘خود کشی کس قدر سنگین جرم ہے اس کا اندازہ حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اِس عمل مبارک سے ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سراپا رحمت ہونے کے باوُجود خودکشی کرنے والے کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھائی حالاں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیشہ اپنے بدترین دشمنوں کے لیے بھی دعا فرمائی، اور جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح حکم نہیں آگیا کسی منافق کی نماز جنازہ پڑھانے سے بھی انکار نہیں فرمایا۔۔۔۔
دوران جہاد بھی خودکشی کرنے والا جہنمی ہے
احادیث مبارکہ میں ہے کہ کسی غزوہ کے دوران میں مسلمانوں میں سے ایک شخص نے خوب بہادری سے جنگ کی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس کی شجاعت اور ہمت کا تذکرہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علمِ نبوت سے انہیں آگاہ فرما دیا کہ وہ شخص دوزخی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یہ سن کر بہت حیران ہوئے۔ بالآخر جب اس شخص نے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خود کشی کرلی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر یہ حقیقت واضح ہوئی کہ خود کشی کرنے والا چاہے بظاہر کتنا ہی جری و بہادر اور مجاہد فی سبیل اﷲ کیوں نہ ہو، وہ ہرگز جنتی نہیں ہو ۔۔۔۔
حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے کسی بھی چیز کے ساتھ خود کشی کی تو وہ جہنم کی آگ میں (ہمیشہ) اسی چیز کے ساتھ عذاب دیا جاتا رہے گا۔‘‘
مندرجہ بالا احادیث مبارکہ کے کلمات۔ جن میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خودکشی کے عمل کو دوزخ میں بھی جاری رکھنے کا اشارہ فرمایا ہے۔ دراصل اس فعلِ حرام کی انتہائی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔ یعنی بہت سے ناجائز امور کی سزا تو جہنم ہوگی مگر خودکشی کے مرتکب کو بار بار اس تکلیف کے عمل سے گزارا جائے گا۔ گویا یہ دہرا عذاب ہے جو ہر خودکش کا مقدر ہوگا۔ (العیاذ باﷲ)
مذکورہ بالا روایات میں اِس امر کی بھی اِجازت نہیں دی گئی کہ اگر کسی کو کوئی تکلیف یا مرض لاحق ہوجائے تو وہ اس تکلیف سے چھٹکارا پانے کی غرض سے ہی اپنے آپ کو موت کے گھاٹ اتار دے۔ اگر کوئی شخص ایسا کرے گا تو اس کا یہ عمل مقبول نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے باعث جہنم بنے گا۔۔۔
خود کشی کرنا بہت ہی بڑا گناہ ہے، اور اس پر سخت عذاب کی وعیدیں آئی ہیں، لیکن خود کشی کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا، لہٰذا ایسے شخص کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔ البتہ علماء اور پیشوا حضرات کو جنازہ میں شرکت نہیں کرنی چاہیے؛ تاکہ دیگر حضرات کو عبرت حاصل ہو۔
الدرالمختار مع ردالمحتار:
“من قتل نفسه ولو عمدًا یغسل ویصلی علیه. به یفتی. وإن کان أعظم وزرًا من قاتل غیره”. (۳/۱۰۲، باب صلاة الجنازة)فقط واللہ اعلم
ان صفحات ک خستہ حالی بار بار ان کو پڑھے جانے کا پتہ دے رہی تھی۔۔۔
“پھر یہ سب جانتے ہوۓ گوہر نے ایسا کیوں کیا ہوگا؟؟؟؟”
یہ وہ سوال تھا جس کا جواب گھر کے ہر فرد کے لئے معمہ بن چکا تھا۔۔۔۔
۔*************
“السلام عليكم صاحب میرا نام سلیم ہے اور یہ میری بیوی سعدیہ”
ساحل نہا کر باہر آیا تو زمرد خان کے ساتھ وہ دونوں میاں بیوی اس کے منتظر تھے
“وعليكم السلام۔۔۔۔گھر تو بہت اچھا ہے اس کا کرایہ کتنا ہوگا؟؟؟”
ساحل نے ان کو بیٹھ جانے کا اشارہ کر کے پوچھا تھا
“اس کا کرایہ لینے کی ہمیں اجازت نہیں ہے ۔۔۔۔ اس میں بس کوئی فری میں بھی رہ لے تو بہت ہے ۔۔ ہم گھر کی صفائی اور کھانا بنانے کے پانچ پانچ ہزار لیں گے”
سعدیہ نے فورا سے کہا تھا
“وہ تو ٹھیک ہے مگر آپ کی پہلی والی بات کا کیا مطلب تھا؟؟؟”
ساحل نے باہر دوبارہ سے شروع ہوتی بارش کو دیکھ کر پوچھا تھا
“وہ صاحب اس گھر کے ایک طرف پیچھے قبرستان ہے تھوڑا آگے شمشان گھاٹ۔۔۔۔پھر عیسائیوں کا قبرستان۔۔۔۔بس اسی وجہ سے لوگ ڈر کے مارے ادھر نہیں رہتے۔۔۔”
سلیم نے بیوی کو ناگواری سے دیکھ کر جواب دیا تھا
“اچھا۔۔۔۔ آج اگر کچن میں کچھ موجود ہے تو بس کھانا بنا دو کل سے باقی کام کے لئے وقت پر آجانا۔۔۔”
ساحل اٹھ کر بولا تھا
“صاحب آپ مجھے پیسے دے دیں میں بازار سے ضروری سامان لا دیتا ہوں کچن میں بس برتن ہیں”
زمرد خان نے کہا تھا جس پر ساحل نے اسے کچھ رقم تھما دی تھی اب وہ تینوں ساتھ ہی باہر نکل گئے تھے جبکہ ساحل اب گھر کے ہر طرف کھلتی کھڑکھیا ں دیکھ رہا تھا وہاں ایک پچھلی طرف قبرستان کی طرف بھی تھی
“ساحل۔۔۔۔۔۔۔”
وہ ہی آواز۔۔۔وہی ہونٹ۔۔۔۔
دوبارہ سے تیز بارش میں قبرستان کو دیکھتے ساحل کی کان کی لو سے ٹکڑاۓ تھے۔۔۔۔
ساحل بھاگ کر دروازے پر آیا تھا وہ تینوں اس مین گیٹ میں کھڑے بس نکلنے کو تھے
“سنو یہاں مجھ سے پہلے کون رہتا تھا؟؟؟”
بارش کی وجہ سے ساحل چلا کر بولا تھا
“وہ ایک لڑکی تھی صاحب”
سلیم نے بھی بلند آواز میں جواب دیا تھا
“کیا نام تھا اس کا؟؟؟؟”
“ماسوری”
اب جواب کسی نے ساحل کے کان میں دیا تھا وہ تینوں تو کب کے بارش میں بھاگتے وہاں سے جا چکے تھے۔۔۔۔
