275.2K
19

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tehreer Episode 12

Tehreer by Jameela Nawab

ساحل جب ہوش میں آیا تو وہ ایک بہت بڑے وارڈ میں تن تنہا لیٹا ہوا تھا رات کا کوئی پہر تھا اور تیز ہوتی بارش وہ کھڑکیوں سے دیکھ سکتا تھا

اس کو ٹھنڈ محسوس ہوئی تھی مگر اس کے پاس کچھ بھی اوڑھنے کو نہیں تھا

اس کے ہاتھ پر ڈرپ لگی ہوئی تھی جو بس ختم ہونے کو تھی اس نے اسے خود سے الگ کیا اور وہ بیٹھ گیا اب وہ آہستہ آہستہ اٹھ رہا تھا اس کا سر بری طرح بھاری ہورہا تھا وہ اپنا سر دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر بیٹھ گیا تھا مگر ٹھنڈ بھی ناقابل برداشت تھی آخر اس نے ہمت کی اور بہت آرام آرام سے دیوار پکڑ کر چلنے لگا ۔۔۔

وہ وارڈ سے باہر نکلا تو پورا کوریڈور خالی تھا

“کوئی ہے یہاں ؟؟؟؟؟”

مگر کوئی بھی آواز نہیں آئی ۔۔۔

وہ مزيد آگے گیا تو وہاں ICU کا بورڈ لگا ہوا تھا اور اندر سے برقی مشینیں چلنے کی بيپ بھی سنائی دے رہی تھی

ساحل نے ذرا آگے ہو کر اندر دیکھا تو ایک نرس پشت اس کی طرف کیئے بیٹھی کوئی کام کر رہی تھی

“سسٹر میں وارڈ سے آیا ہوں مجھے كمبل چاہیے ۔۔۔۔مجھے بہت ٹھنڈ لگ رہی ہے”

ساحل دروازے میں کھڑے کھڑے ٹھنڈ سے مٹھیاں بھینچتا ہوا بولا تھا وہ سوال کر کے اب اس کے جواب کا منتظر تھا مگر اس نے تو جیسے سنا ہی نہیں تھا

ساحل نے اپنا سوال دوہرایا تھا کوئی جواب نا پا کر اب Icu میں اندر گیا اور وہاں لیٹے مریضوں کو دیکھنے لگا

دو بیڈوں پر مریض تھے باقی جگہیں خالی تھی

ان میں سے ایک وہ ہی بچہ تھا جیسے وہ پہلے بھی دیکھ چکا تھا اس کے سر پر اور چہرے کے علاوہ ہر جگہ سفید پٹی بندھی ہوئی تھی جیسے عمومأ برين سرجری کے بعد کیا جاتا ہے

وہ بچہ آنکھیں بند کیے لیٹا ہوا تھا ساحل کو اس بچے سے عجیب سی وحشت ہوئی تھی وہ اس کے پاس سے ہوتا دوسرے بیڈ پر آیا تھا جہاں ایک آدمی لیٹا ہوا تھا جس کے دونوں ہاتھوں پر پلاسٹر اور ایک ٹانگ پلاسٹر کے بعد اسٹینڈ کے ساتھ اوپر کی طرف جھول رہی تھی

اس کا چہرہ چادر سے ڈھکا ہوا تھا ساحل نے قریب ہو کر چادر ہٹائی تو وہ دیکھ کر حیران رہ گیا وہ ٹرک ڈرائیور اسلم تھا جو مردہ خانے میں اس کو ملا تھا

اس نے آنکھیں کھولی تو وہ بلکل سفید تھیں ساحل گھبرا پیچھے ہوا اور اس کے پیچھے پڑا ڈرپ اسٹینڈ زور سے پیچھے کو گر گیا جس سے کافی آواز پیدا ہوئی اس نے بچے کو دیکھا جو اب اٹھ کر بیٹھ گیا تھا اور باآواز بلند خوفناک قہقہ لگایا تھا

ساحل نے دوڑ لگا دی تھی وہ دروازے سے بس نکلنے کو تھا جب وہ نرس اس كی طرف مڑی تھی جس کی فرنٹ لُک اس کی پشت سے یکسر مختلف تھی وہ کالے کپڑے پہنے ہوۓ تھی اور اس کی شکل بہت بھيانک تھی اس کی آنکھیں بلکل کالی تھیں

“كمبل تو لیتے جاؤ”

اس نے كمبل ساحل کے چہرے کی طرف اچھال کر پُراسرار انداز میں کہا تھا

“ساحل صاحب آپ ٹھیک ہیں ؟؟؟”

ساحل جو مسلسل اپنے دونوں ہاتھ اپنے چہرے پر مار کر خود سے کچھ دور کر رہا تھا پاس بیٹھے زمرد خان نے اس کے ہاتھ پکڑ کر کہا تھا

ساحل نے آنکھیں کھولی تو خود کو اسی ہسپتال میں پایا جہاں ایک بار پہلے زمرد خان اسے لے کر آیا تھا

“مجھے کیا ہوا ہے زمرد خان ؟؟میں ادھر کیسے آیا ؟؟؟”

ساحل اٹھ کر بیٹھا تو اس نے دیکھا وہ جان بچانے والی برقی مشینون میں سر تا پير جھکڑا ہوا تھا

“صاحب آپ کل گھر سے باہر قبرستان میں بیہوش پڑے تھے پھر آپ کو میں ادھر لے آیا ۔۔۔۔۔آپ کو سانس کا بہت مثلا ہو رہا تھا اور بھی بہت مسائل تھے …..بس تب سے آپ ادھر ہیں ۔۔ آپ کو یہاں ایک ہفتہ ہو گیا ہے ۔۔۔۔ڈاکٹر حمزہ کا کہنا تھا اگر آپ مزيد دو دن تک ہوش میں نہیں آتے تو پھر آپ کو برين سرجری کے لئے شہر کے کسی اچھے نیورو سرجن کے پاس بھیجنا پڑے گا ۔۔۔مگر شکر ہے آپ ہوش میں آگئے ۔۔۔”

اس سے پہلے کہ ساحل زمرد خان کو کوئی جواب دیتا ڈاکٹر حمزہ Icu میں آ گئے تھے

“کیسے ہیں آپ مسڑ ساحل اب ؟؟؟”

وہ ساحل کے ساتھ لگی برقی مشینوں کی اتار چڑھاؤ دیکھتا ہوا پوچھ رہا تھا

“میرے ساتھ مسئلہ کیا ہے ڈاکٹر مجھے کھلی آنکھوں سے بہت کچھ نظر آتا ہے ۔۔۔۔میں ان لوگوں کو اکثر نہیں جانتا ۔۔۔۔میں جب ان کو سوچتا ہوں تو بیہوش ہو جاتا ہوں ۔۔ . میں بہت پریشان ہوں ڈاکٹر ۔۔۔۔”

ساحل کمرے کی چھت کو دیکھتا ہوا بے بس سا بولا تھا

“زمرد آپ باہر جایئں میں آپ کو خود ہی اندر بلا لوں گا”

ڈاکٹر حمزہ کے ہاتھ میں اب ساحل كی کچھ برین کی رپورٹس تھیں وہ جن کو غور سے دیکھتے ہوۓ سرسری انداز لیئے زمرد خان کو باہر جانے کا اشارہ کرتے ہوۓ بولے تھے جس پر زمرد خان نے فوری عمل کیا تھا

اب کمرے میں بس باہر تیز ہوتی بارش کی آواز اور مشینوں کی بیپ سنائی دے رہی تھی

“ساحل ۔۔۔۔۔۔آپ دوسری مخلوق پر یقین رکھتے ہیں ؟؟؟اس سے مراد میرا بدروحیں ہیں وہ لوگ جن کی زندگی کا مقصد ادھورا رہ جاتا ہے ۔۔۔۔اور وہ اس وقت تک آسمان اور زمین کے درميان ہی رہتی ہیں جب تک وہ پورا نہیں ہوتا ۔۔۔۔”

“یہ تو ہوئی توہم پرستی کی رو سے آپ کی بیماری ۔۔۔۔اب اگر اس کو میں میڈیکل سائنس میں کہوں تو ۔۔۔۔۔ساحل صاحب ۔۔۔۔آپ اپنی یاد داشت کا ایک خاص حصہ جزوی طور پر کھو چکے ہیں ۔۔۔اور آپ دو زندگیاں جی رہے ہیں ۔۔۔”

“Split persoanilty or personality dissorder”

ڈاکٹر حمزہ نے ساحل کی آنکھوں میں دیکھ کر بہت رک رک کر بات مکمل کی تھی

“جب بھی آپ کا دماغ ماضی کو سوچنے لگتا ہے تو آپ بیہوش ہو جاتے ہیں ۔۔۔کیوں کہ آپ کا حال آپ کے ماضی کو واپس نہیں لانا چاہتا ۔۔۔ مگر جو لوگ آپ کے ماضی سے جڑے ہیں وہ آپ کو ماضی یاد کرواتے ہیں ۔۔۔۔کیوں کہ ۔۔ ان کی زندگی کا مقصد تبھی حاصل ہو پاۓ گا جب آپ ان کے ماضی کا حصہ بن کر وہ سب کریں گے جو کہیں نا کہیں ادھورا رہ گیا ہے ۔۔۔۔”

“سادہ الفاظ میں آپ ماضی اور حال کے درمیان میں پس کر رہ گئے ہیں”

“آپ کا ذہن آپ کو بار بار ماضی یاد کروانے کی کوشش کرتا ہے مگر کچھ خاص طاقتیں آپ کو حال میں پکڑے رکھتی ہیں ۔۔۔۔آپ کبھی ماضی تو کبھی حال کا ساحل بن کر سوچتے ہیں ۔۔۔”

ڈاکٹر حمزہ اب کھڑے ہو کر کھڑکی میں ہوتی تیز بارش کو دیکھ کر بول رہے تھے

“آپ ڈاکٹر ہو کر اتنی توہم پرستی کی باتیں کیسے کر سکتے ہیں ؟؟؟”

حمزہ خود سے برقی آلات دور کرتا ہوا تنک کر بولا تھا

“ساحل ۔۔۔۔۔وہ سوال مت کرو جس کا جواب ابھی فلحال تمہارا ذہن برداشت نہیں کرے گا”

حمزہ نے اس کو ایسا کرتا دیکھ واپس لیٹنے کا اشارہ کرتے ہوۓ کہا تھا

“میں تنگ آ گیا ہوں اس زندگی سے ڈاکٹر ۔۔۔۔میں ۔۔۔۔میں خود کو مار ڈالوں گا ایک دن ۔۔۔”

ساحل نے بے بس سا واپس لیٹ کر کہا تھا

“وہ یہی تو چاھتے ہیں ساحل ۔۔۔۔۔۔کہ تم ان ہی کی طرح حرام موت چن لو اور ان کی جیسی زندگی بسر کرو”

ڈاکٹر حمزہ برہم ہوتا ہوا چیخ کر بولا تھا

“موت کے بعد کیسی زندگی ڈاکٹر ؟؟؟اب تم مجھے اور بھی الجھا رہے ہو ۔۔۔”

ساحل اپنا سر دونوں ہاتھوں میں دباتا ہوا بولا تھا

“ہاں ۔۔۔۔یہ زندگی فانی ہے ۔۔۔۔۔ختم ہونے والی ۔۔۔مگر جانتے ہو اصل زندگی وہ ہی ہے جو مرنے کے بعد شروع ہوتی ہے ۔۔۔۔۔ ابدی زندگی .۔۔۔۔۔۔ہمیشہ رہنے والی زندگی ۔۔۔۔۔۔۔ساحل ۔۔۔”

ڈاکٹر حمزہ اپنے دونوں ہاتھ اب اپنی پينٹ کی سائیڈ پاکٹس میں ڈال کر پر سکون سا بولا تھا

“میں کیا کروں ڈاکٹر پھر ۔۔۔۔آپ ایسا کریں آپ مجھے لمبے عرصہ کے لئے بیہوش کر دیں میں ان سب سے دور ہونا چاہتا ہوں ۔۔۔میں ۔۔۔میں بہت تھک گیا ہوں اس سب سے ۔۔۔”

“ساحل نے اب بھرائی آواز میں کہا تھا

“اس سے ان کا کام اور بھی آسان ہو جائے گا ساحل ۔۔۔۔وہ تمہاری روح پر آسانی سے قابض ہو جائیں گے ۔۔۔اور تمہیں ماضی میں لے جا کر وہ سب کروا لیں گے جو وہ چاھتے ہیں ۔۔۔”

ڈاکٹر حمزہ نے بہت سوچ کر جواب دیا تھا

“ڈاکٹر ۔۔۔۔۔۔میں کیا کروں ۔۔۔”

ساحل نے تکلیف سے کہا تھا

“تم اپنی اس بیماری کو سمجھو اور اسے قبول کرلو”

ڈاکٹر حمزہ نے گویا تابوت میں آخری کیل ٹھوک کر کہا تھا

“اور اس کے بعد ؟؟؟”

ساحل نے پرامید ہو کر پوچھا تھا

“پھر تمہیں واپس ماضی میں جانا ہوگا ۔۔۔۔اپنی اور اپنے سے جڑے ہوۓ لوگوں كی ادھوری کہانی کو مکمل کرنا ہوگا۔ ۔۔۔۔”

ڈاکٹر حمزہ اب ساحل کا ہاتھ پکڑ کر کہہ رہے تھے

“کچھ پوچھوں تو سچ سچ بتاو گے ؟؟؟”

ڈاکٹر حمزہ نے پراسرار انداز میں پوچھا تھا

“جی پوچھیں ۔۔۔”

ساحل اٹھ کر بیٹھ گیا تھا

“تم اس رات اس سرکاری ہسپتال میں کیا کرنے گئے تھے وہ بھی اکیلے ۔۔۔۔پورا علاقہ جانتا ہے وہ بند پڑا ہے ۔۔۔وہاں کوئی نہیں جاتا ۔۔۔وہ بھی رات کے وقت ۔۔۔اس خراب موسم میں ؟؟؟”

ڈاکٹر حمزہ نے مشکوک انداز سے پوچھا تھا

“آپ یہ کیسے جانتے ہیں ڈاکٹر آپ وہاں تو نہیں تھے ؟؟؟آپ کو اس لڑکے نے بتایا ہوگا جو وہاں میتیں سرد خانے رکھ رہا تھا ۔۔۔۔نہیں نہیں ۔۔۔آپ کو ضرور اس ٹرک ڈرائیور نے بتایا ہوگا ؟؟؟؟”

ساحل بے چینی سے بولا تھا

“میں اپنے کیبن میں تھا ۔۔۔میری ڈیوٹی تھی ادھر ہی ہے ان دنوں ۔۔۔۔وہاں کوئی نہیں جاتا پھر بھی میں ہفتے کے دو دن ادھر ضرور رکتا ہوں ۔۔۔۔میں نے تمہیں دیکھا تھا گاڑی سے اترتے پھر اندر کچھ وقت گزارنے کے بعد واپس تیزی سے جاتے ۔۔۔”

ڈاکٹر حمزہ کا انداز کھوجنے والا تھا

“اگر ایسا ہے تو آپ نے یہ بھی دیکھا ہوگا کہ میں اکیلا نہیں گیا تھا ۔۔۔۔اور اندر بھی دو لوگ موجود تھے ۔۔۔”

ساحل نے گویا اسے اپنی طرف سے لاجواب کیا تھا

“تم اکیلے ہی اندر گئے تھے ساحل ۔۔۔۔میں تمہیں سی سی ٹی وی فوٹیج سے یہ ثابت کر سکتا ہوں ۔۔۔۔دوسری بات اس رات تو کیا وہاں کبھی بھی میرے یا ڈیوٹی ڈاکٹر کے علاوہ کوئی بھی نہیں ہوتا ۔۔۔”

ڈاکٹر حمزہ نے ساحل کو الٹا لا جواب کیا تھا

“وہ لڑکا ولی ؟؟؟؟اور جو اس نے مجھ سے فارم فل کروایا تھا وہ سب ؟؟اور وہ ٹرک ڈرائیور ؟؟؟؟”

ساحل نے فورا کہا تھا

“وہ ولی جسے کتوں نے اتنا زخمی کیا تھا کہ وہ اپنی دماغی حالت تک کھو بیٹھا ؟؟؟؟”

“وہ ابھی تک کومے میں ہے ۔۔۔۔اور رہی بات ٹرک ڈرائیور كی تو جس دن اسے اس کی بیوی (زیبا) چھوڑ کر چلی گئی تھی اور اسے اس بات کا علم ہوا کہ وہ کھوٹے میں گئی ہے اس نے جان بوجھ کر اپنا ٹرک ایک کھائی میں گرا دیا ۔۔۔مگر وہ پھر بھی زندہ رہا ۔۔۔۔اس کے دونوں ہاتھ اور ایک ٹانگ طویل عرصہ تک پلاسٹر لگا رہنے کی وجہ سے گل گئے اور وہ کاٹنے پڑے ۔۔۔۔۔”

ڈاکٹر حمزہ نے افسوس سے کہا تھا

“وہ دونوں اب کہاں ہیں ؟؟؟؟”کیا میں ان سے مل سکتا ہوں”

ساحل کو تجسس ہوا تھا

“وہ دونوں تمہارے ماضی میں کہیں دفن ہیں ڈھونڈلو ۔۔۔۔”

“ساحل ۔۔۔۔میں نے تمہاری اس گزشتہ بیہوشی کے دوران تمہارے لواحقين کا پتہ لگانے کی بڑی کوشش کی مگر کوئی نہیں ملا ۔۔۔۔تم اتنی بڑی حویلی میں اکیلے کیسے رهتے تھے ؟؟؟؟”

اس سوال نے ساحل کے پیروں سے گویا زمین نکال دی تھی

“میں اکیلا تو نہیں تھا میری بھابھی زویا بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔میرے ساتھ رہتی تھیں اور میرے بڑے بھائی ثاقب بھی کبھی کبھی آیا کرتےتھے ۔۔۔”

ساحل کو اپنے ہی الفاظ پر شبہ سا ہوا تھا

“تمہارے بھائی کا تو انتقال ہو چکا ہے نا ۔۔۔۔کوئی گاڑی اسے کچل کر گزر گئی تھی ۔۔۔پھر شادی کب كی اس نے ؟؟؟؟”

ڈاکٹر حمزہ نے بظاہر یہ بات سرسری سی کہی تھی

“یہ جھوٹ ہے ۔۔۔۔ڈاکٹر یہ بات میں کیوں نہیں جانتا ؟؟؟؟”

ساحل چینخا تھا

“کیوں کہ تمہاری آنکھیں وہ ہی دیکھتی ہیں جو تم چاھتے ہو مسٹر ساحل ۔۔۔۔۔تم اپنی زندگی فرض کر کے گزار رہے ہو ۔۔۔۔۔تمہیں اللّه نے ایک خاص ۔۔۔۔بہت خاص صلاحیت سے نواز رکھا ہے جس کا استعمال غلط لوگوں کے ہاتھ میں چلا گیا ہے ۔۔۔۔۔تم ایک ربورٹ ہو ۔۔۔۔جس کا ریموٹ کسی اور کے ہاتھ میں چلا گیا ہے ۔۔۔۔کبھی نماز پڑھی ہے ؟؟؟؟پڑھنی آتی ہے ؟؟؟!”

ڈاکٹر حمزہ چلا کے پوچھ رہے تھے ساحل اس بات پر خاموش تھا

“تم نا بھی بتاؤ تو تمہارے ماتھے پر بنا نشان اس بات کا ثبوت ہے کہ تم پانچ وقت کے نمازی ہوا کرتے تھے ۔۔۔”

ڈاکٹر حمزہ نے اس کے ماتھے کو بے دردی سے مسلا تھا

“مگر ۔۔۔۔مجھے نماز نہیں آتی ۔۔۔۔ڈاکٹر ۔۔۔۔۔”

ساحل دکھ سے اپنے خالی ہاتھوں کو دیکھ کر بولا تھا

“کسی مولوی سے سیکھ لو”

ڈاکٹر حمزہ نے آسان حل بتایا تھا

“نہیں مجھے مولوی اچھے نہیں لگتے پتہ نہیں کیوں”

ساحل کے الفاظ میں اب بھی اداسی تھی

“تم مولوی کے گھر پیدا ہوۓ ۔۔۔۔۔مولوی کے گھر پرورش پائی ۔۔۔۔تمہیں نفرت کیسے ہو سکتی ہے مولوی سے۔۔۔۔۔۔ ساحل اپنے اندر جھانکوں ۔۔۔۔یہ تم نہیں ہو ۔۔۔خود کو کھوج لو ۔۔۔۔۔اس بھنور سے باہر نکلو ساحل ورنہ بھول بھولیوں میں ہی دفن ہو جاؤگے ۔۔ “

ڈاکٹر حمزہ کا انداز اب ساحل کو سمجھانے والا تھا

“یاد آیا ۔۔۔۔میں ۔۔۔میں کبھی نماز نہیں پڑھ سکتا ڈاکٹر ۔۔ میری کمر پر ۔۔۔وہ ۔۔۔وہ مہر لگ چکی ہے ۔۔۔۔یہ دیکھیں ۔۔۔”

ساحل اب بھاری آواز میں کہہ کر اپنی شرٹ اتار کر اس كی طرف کمر کر کے کھڑا ہو گیا تھا

“یہاں کوئی ایسی مہر نہیں ہے ساحل ۔۔۔۔ہاں البتہ مہر موجود ضرور ہے ۔۔”

ڈاکٹر حمزہ اس کو شرٹ پہننے کا اشارہ کر کے بولا تھا

“کہاں ؟؟؟؟”

ساحل نے شرٹ پہنتے ہوۓ پوچھا تھا

“یہاں ۔۔۔۔تمہارے سینے پر ۔۔۔۔”

ڈاکٹر حمزہ نے ساحل کے دل پر ہاتھ رکھ کر رسان سے کہا تھا

“جانتے ہو جب ہم چالیس دن تک مسلسل نماز قضا کرتے ہیں اس طرح کے ہم نماز جمعہ بھی چھوڑ دیں اور تین جمعے ہو جایئں پھر اس انسان کے سینے کو اللّه مہر لگا کر مقفل کر دیا کرتا ہے وہ پھر شاید ہی نماز پڑھ پاۓ۔۔۔۔”

جمعہ کی نماز فرض ہے اور بلاعذر جمعہ کی نماز ترک کرنے والا سخت گناہ گار ہے، احادیثِ مبارکہ میں جمعہ کی نماز چھوڑنے والوں سے متعلق سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، چنانچہ مشکاۃ شریف کی روایت میں ہے :

’’ حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما دونوں راوی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے منبر کی لکڑی (یعنی اس کی سیڑھیوں) پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگ نمازِ جمعہ کو چھوڑنے سے باز رہیں، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا اور وہ غافلوں میں شمار ہونے لگیں گے‘‘۔

نیز ایک دوسری روایت میں ہے :

’’ حضرت ابی الجعد ضمیری راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جو آدمی محض سستی و کاہلی کی بنا پر تین جمعے چھوڑ دے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دے گا‘‘۔ (سنن ابوداؤد، جامع ترمذی ، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ)

مشکاۃ شریف کی ایک اور روایت میں ہے :

’’ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو آدمی بغیر کسی عذر کے نماز جمعہ چھوڑ دیتا ہے وہ ایسی کتاب میں منافق لکھا جاتا ہے جو نہ کبھی مٹائی جاتی ہے اور نہ تبدیل کی جاتی ہے‘‘. اور بعض روایات میں یہ ہے کہ ’’جو آدمی تین جمعے چھوڑ دے‘‘ (یہ وعید اس کے لیے ہے)۔

اس حدیث کی تشریح میں صاحب مظاہر حق لکھتے ہیں :

’’ مطلب یہ ہے کہ ترکِ جماعت کے جو عذر ہیں مثلاً کسی ظالم اور دشمن کا خوف، پانی برسنا، برف پڑنا یا راستے میں کیچڑ وغیرہ کا ہونا وغیرہ وغیرہ اگر ان میں سے کسی عذر کی بنا پر جمعہ کی نماز کے لیے نہ جائے تو وہ منافق نہیں لکھا جائے گا، ہاں بغیر کسی عذر اور مجبوری کے جمعہ چھوڑنے والا منافق لکھا جائے گا … حاصل یہ ہے کہ نمازِ جمعہ چھوڑنے والا اپنے نامہ اعمال میں کہ جس میں نہ تنسیخ ممکن ہے اور نہ تغیر و تبدل ، منافق لکھ دیا جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ نفاق جیسی ملعون صفت ہمیشہ کے لیے چپک کر رہ جاتی ہے؛ تاکہ آخرت میں یا تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اسے عذاب میں مبتلا کر دے یا اپنے فضل و کرم سے درگزر فرماتے ہوئے اسے بخش دے۔ غور و فکر کا مقام ہے کہ نمازِ جمعہ چھوڑنے کی کتنی شدید وعید ہے؟ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے عذاب سے محفوظ رکھے‘

“بھولنے کی بیماری ان لوگوں میں زیادہ پائی جاتی ہے جو نماز نہیں پڑھتے ۔۔۔۔۔تم تو حافظ قرآن بھی ہو ساحل ۔۔۔۔۔نماز پڑھو ۔۔۔اللّه تمہاری راہ نمائی ضرور کرے گا مگر جلد بازی مت کرنا ۔۔۔۔بس اس یقین کے ساتھ پانچ وقت کی نماز پڑھنا کہ خدا کے ہاں دیر ہے ۔۔۔۔اندھیر نہیں ۔۔۔۔تمہاری روح پوری طرح حال میں نہیں آئی وہ ماضی میں کہیں قيد ہے ۔۔۔یہ جنگ روحوں کی ہے ۔۔۔تمہیں اپنی روح سے ہی جیتنی ہے واپس جا کر ۔۔۔۔۔اور ایک كلمہ گو ۔۔۔بنا نماز کے کوئی بھی جنگ نہیں جیت سکتا ساحل ۔۔۔جائے نماز ادھر رکھ چکا ہوں ۔۔۔۔عشاء پڑھ کر سونا ۔۔۔۔چلتا ہوں”

ڈاکٹر حمزہ نے ساحل کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر خلوص سے کہا تھا

“مگر ۔۔۔۔۔میں کیسے پڑھ سکتا ہوں ۔۔ مجھے ۔۔ تو آتی ہی نہیں ۔۔۔”

ساحل رک رک کر صدمے سے بولا تھا

“یہ اب تمہارا اور رب کا معاملہ ہے ساحل ۔۔۔میں کچھ نہیں کر سکتا ۔۔۔”

ڈاکٹر حمزہ اتنا کہہ کر اب جا چکا تھا

ساحل خود کو برقی آلات سے آزاد کرتا سر کے بل بھاگ کر وضو کرنے گیا تھا جسم تو کچھ بھی نہیں بھولا تھا بس کسی موبائل کے میموری کارڈ کی طرح اٹیچ کرنے کی دیر تھی وہ روتا ہوا وضو کرتا گیا اب وہ بجلی کی تیزی سے جائے نماز بچھا کر اس پر کھڑا ہوا تھا

وہ بری طرح کانپ رہا تھا رو رہا تھا اس ڈر سے اس كی روح قبض ہونے کو تھی

کہ اگر وہ نماز پڑھنے سے قاصر رہا تو وہ کیا کرے گا ۔۔۔۔

بِسْمِ اللّٰهِِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْم

اس نے نماز کا آغاز کیا ۔۔۔

نیت باندھی اور پھر رب نے اس کی ایک سچی پکار پر اس کا ہاتھ تھام لیا تھا ۔۔۔۔۔وہ نماز پڑھتا چلا گیا ۔۔۔۔دھیرے دھیرے اس کی روح پرسکون ہوتی گئی گویا کوئی بوجھ تھا جو جسم سے اترنے لگا تھا ۔۔۔۔ایک میلوں کے سفر طے کرنے والے کسی پيدل چلنے والے مسافر كی طرح ۔۔۔جیسے منزل سے پہلے ہی حسین سفر کا تحفہ دے کر پر سکون نیند سلا دیا جائے ۔۔۔آج اس كی بے چین روح کو چین کی دولت ملی تھی ۔۔۔

بیشک جیسے جسم کو خوراک كی ضرورت ہوتی ہے ویسے ہی روح کی خوراک قرب الہی میں خدا نے رکھا ہے ۔۔۔اللّه سے رابطہ مضبوط ہو تو پوری دنیا بھی ساتھ چھوڑ دے تو انسان اکیلا نہیں محسوس کرتا مگر رب ناراض ہو جائے تو انسانوں کا طوفان پوری ،دنیا کا ہر ذی روح مل کر بھی ہمارا اکیلا پن نہیں دور کر سکتا ۔۔۔

ساحل نماز مکمل کر کے اب تڑپ کر بس ہاتھ جوڑے روۓ جا رہا تھا ۔۔۔۔

کافی وقت ایسے ہی گزرا روح پر سکون ہوئی تو وہ جائے نماز کو طے لگا کر اب اپنی فائل کھول کر کھڑا ہوا تھا جہاں تشخیص کردہ بیماری کے خانے میں ڈاکٹر حمزہ نے Zgwamj لکھا تھا ۔۔۔ (یہ وہ ہی ہے جو ادھوری کہانیان کتاب پر لکھا تھا)

۔************،*

مولوی قاسم (سجاول کےوالد) نے پوری رات کانٹوں پر گزاری تھی نا وہ اپنے پوتے کو اکیلا چھوڑ کر زاہرہ کے پیچھے جا سکتے تھے نا ہی سجاول گھر لوٹا تھا وہ انتہائی پریشانی میں پوری رات گھر کے داخلی دروازہ پر نظریں جمائے کھڑے رہے مگر اب فجر ہونے کو آئی تھی جبکہ دونوں کی کوئی خبر نہیں تھی

سجاول کو روبی رات اپنی فتح کے جشن میں اتنی پلا چکی تھی کہ اب اس طوفانی بارش میں سجاول کا گھر آنا نا ممکن ہو گیا تھا وہ رات ادھر ہی سو گیا تھا

مولوی قاسم فجر کی اذان دے کر اب زاہرہ كی تلاش میں نکلنے کو تھے جب ان کے دروازے کے آگے ایک گدھا گاڑی آ کر رکی تھی مولوی جی اس آہٹ پر فورا باہر آئے تھے

“آپ مولوی قاسم ہیں ؟؟؟”

گدھا گاڑی والے مولوی احمد نے سلام اور مصاحفہ کرتے ہوۓ ادب سے پوچھا تھا

“جی ۔۔۔۔اور آپ ؟؟؟”

وہ فورا گھبرا کر بولے تھے

“میں مولوی احمد ہوں اس جگہ بلايا گیا ہے مجھے تین مہینے کے لئے پھر کہیں اور کا بلاوا آجائے گا بے اولاد ہوں یہی حکم دیا تھا مرشد نے دس مسجدوں میں جگہ جگہ امامت کرو رب اولاد دے دے گا یہ نویں مسجد ہوگی ۔۔۔۔اب یہی امامت کروں گا ۔۔۔۔مسجد کے ساتھ ہی گھر بھی دیا گیا ہے ۔۔۔۔رہی بات آپ کے پاس آنے كی تو ۔۔۔”

وہ خاموش ہو کر لمبی سانس کھینچ کر دوبارہ بولا ۔۔۔

“بهلی مانس ان كی امانت ان کو سونپ دو”

وہ اپنی بیوی سے مخاطب ہوۓ تھے جو اندر بیٹھی ہوئی تھی وہ فورا باہر آئی تھی

“یہ ۔۔آپ کا پوتا ہے ۔۔۔۔۔آپ کی بہو ۔۔۔۔”

وہ بچہ گود میں اٹھائے بری طرح رو دی تھی

وہ مولوی جی کا ہاتھ پکڑ کر اس جھونپڑی کا پردے کا دروازہ اوپر اٹھا کر بولے تھے جہاں زاہرہ پرسکون سی پڑی تھی

مولوی جی پیچھے ایک دم پیچھے ہٹے اور پھر دم سادے بیٹھ گئے ۔۔۔

“ابو میں واپس نا آئی تو میرے دونوں بچے آپ کے سپرد ہونگے ۔۔۔”

زاہرہ کے جاتے وقت کے الفاظ مولوی قاسم کے کانوں میں گونجے تھے

“وقت قبولیت تھا وہ ۔۔۔۔۔وقت قبولیت تھا وہ”

مولوی جی یہ جملہ بار بار دوہراتے ہوۓ اپنا صافہ چہرے پر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیے تھے

اس کے بعد مولوی احمد نے وہ پوری بات ان کے گوش گزار کر دی جو جو زاہرہ اس تکلیف میں بتا گئی تھی جیسے سن کر وہ غصہ اور تکلیف کے ملے جلے تاثرات لئے ایک بار رو دیے تھے ۔۔۔

چونکہ یہ بچہ ابھی بہت چھوٹا ہے اور ہمارے گھر میں کوئی عورت نہیں ہے ۔۔۔میں فلحال اس کی ذمہ داری آپ کو دینا چاہتا ہوں اگر آپ کو اعترض نا ہو بیٹی ؟؟؟”

مولوی قاسم مولوی احمد کی بیوی ثوبیہ کے آگے ہاتھ جوڑ کر بولے تھے

“ہمارا گھر مسجد کی دوسری طرف والی گلی میں ہے مولوی صاحب آپ جب چاہے اپنے پوتے سے ملنے آسکتے ہیں”

وہ اولاد کی نعمت کے لئے ترسا ہوا مولوی احمد خوشی سے فورا بولا تھا

“اس کو لے جاؤ ۔۔۔۔میں نہیں چاہتا کہ میرے بیٹے کو اس کی اس اولاد كی خبر ہو ۔۔۔”

مولوی جی نے وہاں مسجد سے اپنے کچھ اعتماد کے شاگردوں کو بلوا کر زاہرہ کی میت گھر میں ركهوائی اور ان دونوں میاں بیوی کو جانے کا کہا ۔۔۔

زاہرہ کی میت اب تن تنہاصحن میں پڑی تھی جس اولاد کی فکر میں وہ آخری سانس تک گھلی تھی وہ بے خبر اندر سو رہی تھی

مولوی قاسم نے مسجد میں اعلان کروا کر سب کو خبر دی اب آہستہ آہستہ لوگ اكهٹے ہونا شروع ہو گئے تھے ۔۔۔

آخر زاہرہ كی اس مجبور ماں کو بھی اطلاع ملی اور وہ بھاگی بھاگی اپنے بیٹوں سميت وہاں پہنچ گئی تھی جس کو آزمائش سے بچانے کے چکر میں وہ پل پل الٹی چھری سے ذبح ہوتی رہی ۔۔۔

اب سب رو رہے تھے بھائی بھی اور ماں بھی ۔۔۔۔ اب کیا فائدہ تھا اس رونے دھونے کا آخر ؟؟؟؟؟؟سب کو

وجہ موت دوران زچگی بتائی گئی اور بچے کا یہی بتایا کہ وہ پیٹ میں ہی مردہ ہو چکا تھا

بڑا بیٹا سو کر اٹھا تو ماں کو اس طرح دیکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا وہ لپٹ لپٹ کر ماں کا چہرہ اپنی طرف کرتا اور اسے مخاطب کرتا اور جواب نا پا کر اور شدت سے رونے لگتا ۔۔۔۔وہ موت کا مطلب نہیں جانتا تھا شاید مگر اس کا دل ماں کو اس طرح دیکھنا برداشت نہیں کر رہا تھا ۔۔۔

سجاول نے اسے طلاق دے دی تھی یہ بات اس کے ساتھ ہی دفن ہونے جارہی تھی آج ۔۔۔اللّه نے زاہرہ کا پردہ بھی رکھ لیا تھا اور مستقل ٹھکانہ بھی دے دیا تھا ۔۔۔۔اب وہ ہر غم سے آزاد اور بے فکر تھی نا وہ کسی کی محتاج رہی تھی ۔۔۔۔

ہر کوئی سجاول کا پوچھ رہا تھا مولوی جی اس کی مصروفیت کا بہانہ کر کے جلد ہی اس کے آنے کا کہہ رہے تھے

سجاول کا نشہ ٹوٹا تو اس نے گھر کی رہ لی گھر آیا تو پورا گھر لوگوں سے بھرا ہوا تھا رات کیا ہوا تھا وہ فلحال سب بھولا ہوا تھا

وہ حیران پریشان سا ادھر أدھر دیکھ رہا تھا اباں اور بیٹا موجود تھا اگر کوئی نہیں تھا تو زاہرہ غائب تھی وہ ڈرتا ہوا میت کر پاس آیا اور چادر اٹھائی زاہرہ پر سکون سی سو رہی تھی

“میری بیٹی چلی گئی ۔۔۔۔۔سجاول ۔۔۔۔چلی گئی میری بیٹی ۔۔۔۔۔،”

زاہرہ کی ماں سجاول کے گلے لگ کر روتے ہوۓ بولی تھی کسی خواب کی طرح رات کا سارا منظر سجاول کی آنکھوں کے آگے آیا تھا

“میں ۔۔۔۔یہ نہیں چاہتا تھا زاہرہ میں ۔۔۔میں ۔۔۔تمہیں کھونا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔۔۔تم ۔۔۔ تم کیسے جا سکتی ہو مجھے چھوڑ کر زاہرہ ؟؟؟؟؟؟”

وہ چیخا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا ۔۔۔

“اب پچھتاۓ کیا ہوت۔۔۔ جب چڑياں چگ گئیں کھیت ۔۔۔۔”

ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی جب ساری تیاری مکمل کر کے اب بس جنازہ اٹھایا جانے کو تھا ۔۔۔۔

زاہرہ كے جنازہ اٹھایا تو سجاول نے آگے ہو کر اس کی چارپائی کو کندھا دیا تھا ۔۔۔۔باقی تین بھائیوں نے بھی ۔۔۔۔

کاش یہ سہارا وہ چاروں زاہرہ کو جیتے جی دے دیتے ۔۔۔۔تو وہ اس طرح اذیت سے تنگ آ کر اپنی جان سے ہاتھ نا دھوتی ۔۔۔

یہ دنیا بہت عجیب ہے یہاں اچھا کہلوانے کے لئے مرنا پڑتا ہے اور سہارا تبھی ملتا ہے جب منزل قبرستان ہو ۔۔۔۔