Tehreer by Jameela Nawab Readelle 50381 Tehreer Episode 13
Rate this Novel
Tehreer Episode 13
Tehreer by Jameela Nawab
سجاول نے زاہرہ کی ساری آخری رسومات بہت دل سے ادا کی تھیں
وہ سچ میں اس کے انتقال سے دکھی تھا اب وہ زیاده وقت گھر پر ہی گرزانے لگا تھا اسے لگ بھگ مہینہ ہونے کو تھا جب وہ لکشمی بائی کے کھوٹے پر نہیں گیا تھا وہ زیادہ وقت کام اور اپنے گھر پر اپنے باپ اور بیٹے کے ساتھ گزارتا ۔۔۔
مولوی صاحب جانتے تھے یہ بدلاؤ بھی وقتی ہے ۔۔۔۔مولوی قاسم اپنے چھوٹے پوتے سے ملنے کو بے قرار تھے ان کا دل اس کی تربیت اور پرورش کے بارے میں اللّه نے مطمین کر رکھا تھا ۔۔۔
جب سے زاہرہ کا انتقال ہوا تھا وہ اس سے ایک بار بھی ملنے نہیں گئے تھے اور ان لوگوں کو بھی گھر آنے سے سختی سے منع کر رکھا تھا
سجاول آج شام میں اپنے بیٹے ثاقب کو لے کر بازار حسن نکل گیا تھا مولوی صاحب نے موقع دیکھا اور نکل گئے مولوی احمد کی طرف گھر تو ویسے بھی دور نہیں تھا مولوی صاحب تھوڑی ہی دیر میں اب ان کے گھر بیٹھے اپنے پوتے جس کا نام انہوں نے ساحل رکھا تھا اس کو کھلا رہے تھے
“میں بہت خوش ہوں کہ یہ آپ جیسے اچھے لوگوں میں پلے بڑھے گا ۔۔۔۔میں ہر وقت بیمار رہتا ہوں ۔۔۔۔میرے بیٹے سجاول کے جو کرتوت ہیں وہ میرے بڑے پوتے کو تباہ کر کے ہی دم لے گا ۔۔۔۔۔میں زاہرہ کو کیا منہ دیکھاؤں گا ثاقب کو نہیں بچا سکا میں اس دلدل میں گرنے سے ۔۔۔۔۔وہ نو سال کا ہونے کو ہے ۔۔۔نو سال کا بچہ مکمل مرد جتنی سوچ بنا چکا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔وہ اب اپنے باپ کے ہی نقش قدم پر چلے گا ۔۔۔۔اور پَستی میں گِرتا چلا جائے گا ۔۔۔۔۔مگر میں چاہتا ہوں کہ میرا ساحل میری طرح رب کا راستہ چنے ۔۔۔۔اس کی مکمل ذمہ داری میں آپ دونوں کو دیتا ہوں ۔۔۔۔”
مولوی قا سم روتے ہوۓ بولے تھے جبکہ وہ ساحل کو گود میں لئیے ہوۓ تھے جو بے غم سو رہا تھا
“آپ فکر نا کریں ۔۔۔۔ہم اس کو اپنی اولاد سمجھ کر ہی پال رہے ہیں ۔۔۔مولوی جی ۔۔۔۔آپ جانتے ہیں یہ تو ہماری برسوں کی دعا ہے جو اللّه نے بہت لمبے انتظار کے بعد پوری کی ہے ۔۔۔اس کی اہمیت ہمارے لئے جو ہے وہ تو ہم الفاظ میں بیان ہی نہیں کر سکتے ۔۔۔”
مولوی احمد کی بیوی ثوبیہ نے چاۓ اور دیگر لوازمات ٹیبل پر رکھتے ہوۓ خلوص سے کہا تھا
“میرا بیٹا مجھے دے دیں آپ یہ کھائیں آرام سے”
ثوبیہ نے نمکو کی پلیٹ مولوی قاسم کو دیتے ہوۓ کہا انہوں نے ساحل کو بوسہ دے کر ان کو پکڑا دیا ۔۔۔
ادھر أدھر کی باتیں ہوتی رہی پھر مولوی قاسم جانے کے لئے اٹھ گئے سلام دعا کی اور چلے گئے
مولوی جی نے بہت بار سجاول کو ثاقب کے بارے میں سمجھایا مگر وہ کوئی خاص ردعمل نا دیتا ۔۔۔وہ حرام کا راستہ چن چکا تھا اور ہدایت اُسے نہیں ملا کرتی جو اس کا طلب گار نہیں ۔۔۔۔
اسی میں ایک سال گزر گیا ثاقب اسکول بھی جاتا تو وہاں سے اس کی شکایات آتیں ۔۔۔۔اساتذہ اس کے رَف الفاظ کے استعمال اور پڑھائی میں غیر سنجیدگی کا بارہا کہہ چکے تھے مگر آگے سنتا کون ؟؟؟
سجاول میں وہ باپ کی پریشانی لینے والی حس سرے سے تھی ہی نہیں مولوی صاحب یہ سب دیکھ دیکھ وقت سے پہلے چارپائی سے جا لگے تھے ۔۔۔
کسی نے سچ کہا ہے باپ سر پر نا بھی رہے تو عورت ماں اور باپ دونوں بن جاتا کرتی ہے مگر اولاد کو بکھرنے نہیں دیتی مگر ماں نا رہے تو بچوں پر سے باپ کا سايا بھی ساتھ لے جاتی ہے کیوں کہ مرد یا تو شادی کر کے اولاد کو خود سے دور کر لیتا ہے یا پھر گردش آیام میں ایسا کھو جاتا ہے کہ اولاد کو وقت نہیں دے پاتا ۔۔۔
یہ ہنر رب نے عورت کو ہی دیا ہے کہ وہ سو جگہ ہاتھ پهنسا کر بھی اولاد سے بے خبر نہیں ہوتی ۔۔ بلکہ مصروفیت جتنی زیادہ ہو ماں اولاد کے لئے اتنی ہی شدت سے گھلنے لگتی ہے ۔۔۔۔۔جسمانی طور وہ جہاں بھی ہو دل و دماغ بچوں میں ہی ہوتا ہے ۔۔۔۔۔
میرے حساب سے عورت مرد کی نسبت جسمانی لحاظ سے بوڑھی اور دلی و دماغی طور ختم بھی جلدی اسی لئے ہوتی ہے کہ اس نے ایموشنلی مرد سے زیادہ لمبی مسافت طے کی ہوتی ہے ۔۔۔۔پہلے وہ ماں باپ بہن بھائیوں کے لئے سسرال میں بیٹھ کر چھپ چھپ کر روتی ہے ۔۔۔۔پھر شوہر اور سسرال کے رویے ۔۔۔۔۔پھر اولاد کی تربیت اور مستقبل كی فکر ۔۔۔۔۔اسے اپنے علاوہ ہر کسی کی فکر ہوتی ہے ۔۔۔یہی فکر اسے سلو پوزن کی طرح ختم کرتی چلی جاتی ہے ۔۔۔۔۔اور ایک دن ایسا آتا ہے کہ سب سب اپنی زندگیوں میں سیٹ ہو جاتے ہیں وہ سب ہو جاتا ہے جیسا وہ چاہتی تھی ۔۔۔۔۔اس سب میں وہ تھکن سے چور ہو کر بستر پر لگ جاتی ہے ۔۔ . اور اب ۔۔۔۔جب اسے اولاد اور شوہر کی جسمانی اور جزباتی لحاظ سے ضرورت ہوتی ہے تو کوئی نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔
(اللّه سب کے والدین کو صحت و تندرستی کے ساتھ ان کے سر پر قائم رکھیں امین)
مولوی صاحب نے اپنے انتقال سے پہلے ہی اپنی ساری جائیداد ساحل کے نام کر دی تھی بہت کم حصہ ثاقب کے نام کیا تھا ۔۔۔۔جبکہ بیٹے سجاول کو اپنی اس وصیت پر عمل کی صورت ہی جائیداد کے استعمال کا حق دیا تھا ۔۔۔۔
مولوی قاسم نے جاتے جاتے سجاول کو اس کی دوسری اولاد کا بتا دیا تھا مگر وہ اس وقت کہاں تھی یہ مولوی صاحب خود بھی نہیں جانتے تھے کیوں کہ مولوی احمد وہاں تین ماہ پورے کر کے کہاں گئے یہ وہ نہیں جانتے تھے ۔۔۔۔۔وہ مل کر ضرور گئے تھے وہ اپنا ٹھکانہ بتانا چاھتے تھے مگر مولوی قا سم جانتے تھے اب وہ چند دن کے مہمان ہیں ان کے پیچھے جانا ان کے بس کی بات نہیں رہی اب ۔۔۔۔اپنے پوتے کو خاص دعا دی تھی
“میں نے ہمیشہ اللّه کے کلام کی پرچار کی ۔۔۔ پوری زندگی مسجد سے گھر ۔۔۔ گھر سے مسجد میں گزار دی ۔۔۔مگر آپ کے ابو نے اس رہ کو چن کے مجھے جیتے جی درگور کر دیا ہے ساحل ۔۔۔۔۔آپ میری نقش قدم پر چلنا ۔۔۔۔لوگوں کے لئے آسانیاں بنانا ۔۔۔۔۔اللّه تمہیں کامیاب کرے ۔۔ اپنے اس مجبور دادا کا نام روشن کرے گا ساحل ؟؟؟تیری ماں ۔۔۔۔۔۔بہت اچھی تھی ۔۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔۔۔۔اس کا مان ۔۔۔۔۔کم از کم تم رکھنا ۔۔۔۔۔۔۔تمہارے باپ نے اس کی ذات کی دھجیاں اڑا دی ۔۔۔ میری بیٹی ۔۔۔۔ہاۓ میرے ربا۔۔۔۔۔میرا پوتا ثاقب ۔۔۔۔ میں بہت بے بس ہوں ۔۔۔۔”
زاہرہ کے ذکر پر وہ اتنا روۓ کے ان کی ہچکی بندہ گئی ۔۔۔
وہ ایک سال کے بچے کو گود میں اٹھا کر یہ سب اس طرح شدت سے روتے ہوۓ کہہ رہے تھے جیسے وہ یہ سب سمجھ رہاہو وہ کھلکلا کر هنسا تھا یہ سب سن کر ۔۔۔۔
مولوی صاحب کو ان کی عمر بھر کی ریاضت کا رب نے خوب صلہ دیا تھا ۔۔۔ساحل بہت ہی خاص صلاحیت کے ساتھ پیدا ہوا تھا ۔۔۔۔جو وقت ثابت کرنے والا تھا ۔۔۔۔
باپ کا سایا گھر سے اٹھنے کی دیر تھی گھر میں بے برکتی نے ڈھیرے ڈال لئے تھے ۔۔۔
سجاول کچھ دنوں سے بیمار رہنے لگا تھا اسکا پورا جسم درد سے بے قرار رہتا ۔۔۔ ثاقب جو اب دس سال کا تھا وہ کبھی کبھی اسکول جاتا ۔۔۔زیادہ وقت آوارہ گردی میں گزارتا ۔۔۔
سجاول کو گھر میں کوئی پانی تک دینے والا نہیں تھا ۔۔ اب اسے زاہرہ کی یاد شدت سے آنے لگی تھی جیسے اس نے کبھی انسان سمجھا ہی نہیں تھا ۔۔۔وہ انسان جسے محبت اور همدردی کے دو بول کی بہت ضرورت ہوتی ہے ۔۔۔
“محبت اور احساس کی ضرورت تو گھر میں لگے پیڑ پودوں کو بھی ہوا کرتی ہے ۔۔۔۔وہ بھی عدم توجہ پر مرجھا جایا کرتے ہیں ۔۔۔۔تم تو پھر انسان تھی زاہرہ ۔۔۔۔۔۔۔ تم پھر بھی کوئی شکایت نہیں کرتی تھی کبھی ۔۔۔۔۔مجھے کسی بادشاہ کی طرح کنیز بن کر سنبهال لیا کرتی تھی ۔۔۔۔۔زاہرہ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟میں اب کبھی اس گندی جگہ نہیں جاؤں گا ۔۔۔۔تم ۔۔۔ تم ۔۔ بس ایک بار واپس آجاؤ ۔۔۔۔۔۔”
وہ پورے گھر میں دیوانہ وار زاہرہ کو ڈھونڈتا رہتا ۔۔۔اب جب وہ منوں مٹی تلے دفن ہو چکی تھی اسے ہر جگہ نظر آنے لگی تھی ۔۔۔۔۔۔کبھی کچن میں کھانا بناتی ۔۔۔کبھی صحن میں جھاڑو لگاتی ۔۔۔۔کبھی اس کے بستر پر محبت کے دو بول سننے کے لئے سجاول کی طرف حسرت سے دیکھتی ہوئی ۔۔۔۔کبھی اس کی بے تکی مار کھا کر پھوٹ پھوٹ کر روتی ہوئی ۔۔۔۔وہ اسے چپ کروانے کی بہت کوشش کرتا مگر وہ چپ ہی نا ہوتی ۔۔۔۔کہیں سجاول کو اپنا بوڑھا باپ کھڑا ہاتھ جوڑے نظر آتا جو اسے بس زاہرہ کا ہونے کے لئے منتیں کرتا۔۔۔۔وقت سے بڑا ظالم کوئی نہیں ہوتا ۔۔۔۔
“اباں اب تیرے ساتھ مسجد جا کر پانچ وقتہ نماز پڑھوں گا ۔۔۔۔اباں ۔۔۔۔ایک بار ۔۔۔۔بس اک واری توں واپس آ جا ۔۔۔۔زاہرہ کو بھی ساتھ لے آ ۔۔ اباں ۔۔۔ میں بہت اکیلا پڑ گیا ہوں ۔۔۔ اباں ؟؟؟؟”
وہ دونوں روز ہر جگہ مختلف کام کرتے ہوۓ نظر آتے اور سجاول کو نم آنکھوں سے دیکھ کر غائب ہو جاتے ۔۔۔۔
سجاول کو سخت پچھتاوے نے آگھیرا تھا ۔۔۔وہ نيم پاگل ہو چکا تھا اوپر سے اس کےجسم کا گوشت جگہ جگہ سے بڑھ کر لٹکنے لگا تھا وہ جسمانی اور ذہنی دونوں طرح کی اذیت کی انتہاہ پر تھا ۔۔۔
ضمیر کا بوجھ جسم اور روح دونوں نے اٹھانے سے انکار کر دیا تھا ۔۔۔
اب اسے اپنے بیٹے کے مستقبل کی فکر بھی ستانے لگی تھی جو دن بدن پستیوں میں گرتا جا رہا تھا ۔۔۔
ثاقب کو اپنے باپ کی صحت سے کوئی لینا دینا نہیں تھا وہ تو اپنی دنیا میں ہی مست تھا ۔۔۔
اس معصوم کا کوئی قصور نہیں تھا ۔۔۔۔اس کو اس دلدل میں دکھیلنے والا سجاول خود ہی تو تھا ۔۔۔
(آپ سب پڑھنے والوں سے یہاں یہ ضرور کہوں گی اپنے شوہر ۔۔۔۔اپنی بیوی کو اپنی اولاد پر فو قيت دیں ۔۔۔وہ بہت جلد اپنی زندگی میں مگن ہو جایئں گے پھر آپ دونوں کے کام صرف اور صرف آپکی بیوی یا آپ كا شوہر ہی آۓ گا ۔۔۔ ایک دوسرے کی صحت ۔۔۔۔۔اور دلی خوشی کو مقدم رکھیں ۔۔۔۔اولاد كی محبت میں اپنے شوہر اپنی بیوی کو نیچا مت دکھائیں۔۔۔۔۔بس اتنا خیال رکھیں کل جب اپنی اولاد کی طرف سے پر سکون ہوں ۔۔۔۔۔تو اپنا ہاتھ محبت سے اس سکون کو محسوس کرنے کے لئے کسی کے سینے پر رکھ کر سونے کے لئے آپ کے ساتھ کی جگہ خالی نا ہو ۔۔۔محبت عمر بڑھا دیتی ہے ۔۔۔اولاد اپنی جگہ اپنے رشتے کو محبت اور عزت کی خوراک دیتے رہیں ۔۔۔۔)
ایسی ہی ایک رات تھی جب یہ تکلیف اتنی شدید ہوئی کہ سجاول نے خود کو گولی مار دی ۔
اسے تب بھی زاہرہ اپنے سامنے کھڑی نظر آرہی تھی جس نے اسے یہ کرنے سے روکا نہیں تھا وہ سپاٹ چہرہ لئے بس اس کا تماشہ دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
کسی کی دی ہوئی تکلیف انسان اچھے دنوں میں بھول جاتا ہے مگر وہ جو میرا رب ہے نا وہ ایک ایک لمحے ۔۔۔ ایک ایک آنسو کا حساب رکھتا ہے ۔۔ ۔
زاہرہ کی بد دعا کا اثر شروع ہو چکا تھا ۔۔۔
لکشمی بائی کا کھوٹا بیماری کی ذد میں آ چکا تھا ۔۔۔۔کھوٹھے کی ساری عورتیں اسی گوشت والی بیماری کا شکار ہو چکی تھیں ۔۔۔
لکشمی نے اپنی بیٹی ساریکا کو زیبا کے ساتھ بہت پہلے ہی
(جب زاہرہ بد دعا دے کر جاتی ہے اور زیبا نے لکشمی سے جسم فروشی سے معذرت کی تھی) کسی دوسرے شہر بھیجوادیا تھا ۔۔۔
جہاں وہ ایک پر سکون اور عزت والی زندگی گزار رہی تھیں ۔۔۔زیبا اب بھی اسلم کے نکاح میں تھی مگر خلع نہیں لے سکتی تهی ایسا کرنےسے اس کا ٹھکانہ گھر والوں کو پتہ چل جاتا اور وہ کسی کا بھی سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔لہذا اس نے سب اللّه پر چھوڑ دیا اور ایک شریف آدمی ولی (وہ ہی لڑکا جو سرد خانے میں میتیں ٹھکانے لگارہا تھا) سے نکاح کر لیا ۔۔۔جس سے اس کی دو جڑوہ بٹیاں زویا اور مایا پیدا ہوتی ہیں ۔۔۔
وہ نکاح پر نکاح کر کے گناہ عظیم کر چکی تھی یہاں بھی حرام زندگی نے اس کا پیچھا نہیں چھوڑا ۔۔۔ زویا اور مایا حرام کی اولادیں تھیں ۔۔
ولی سرد خانے کا انچارچ تھا جو اکثر لا وارث میتوں کی جيبیں خالی کیا کرتا تھا ۔۔۔۔ جبکہ اسلم زیبا کا پہلا شوہر ٹرک چلاتا تھا ۔۔۔ولی اور اسلم ساتھ کام کرتے تھے مگر اس سچ سے لاعلم تھے ۔۔۔
ساریکا کو مولوی برکت(ان کا ذکر بھی کیا جا چکا ہے جو سركاری ہسپتال میں اجتمائی نماز جنازہ پڑھاتے ہیں ولی کے ساتھ) پسند کر لیتا ہے ۔۔۔جس سے شادی کے کافی عرصہ بعد بیٹی جیسمین (جينی) پیدا ہوتی ہے ۔۔۔
ساریکا کا نام مسلمان ہونے کے بعد مولوی برکت نے سکینہ رکھا تھا جو وہ شوہر کی وفات کے بعد سکھاں کے نام سے جانی جانے لگی تھی
اب آتے ہیں ان دنوں کھوٹھے کے حال کی طرف!!
اب وہاں کوئی بھی نہیں جاتا تھا کیوں کہ وہاں کی عورتیں گندی بیماری میں مبتلا ہو کر بھیانک ہو چکی تھیں ان کے جسم پر جگہ جگہ گوشت لٹکنے لگا تھا جس سے خون رستا رہتا ۔۔۔
کوٹھے کی عورتوں کو روٹی کے لالے پڑ گئے تھے جو جو لوگ اس جگہ آیا کرتے تھے وہ بھی اسی پر اسرار بیماری کا شکار ہوگئے تھے ڈاکٹرز اس کا علاج کرنے سے قاصر تھے
آخر یہی طے پایا جو لوگ اس بیماری سے محفوظ ہیں وہ سب کسی دوسری جگہ شفٹ ہوجایئں ۔۔۔
وہ مرد اپنی بیوی بچوں اور باقی گھر والوں کو گِڑگڑا کر رو رو کر روکتے رہے مگر ان کی گھروں سے غیر حاضری کا راز اس بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد سب رشتہ دار جان چکے تھے سب نے ان پر لعن تعن کی اور ان کو چھوڑ کر باقی گھر والوں کو اپنے پاس بلا لیا ۔۔۔
جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس بیماری میں مبتلا مرد حضرات جو اب بلکل تنہا رہ چکے تھے اب روز تین یا چار لوگ مختلف طریقوں سے خود کشی کرتے اور حرام موت چن کر خود کو اس تکلیف سے نجات دے دیتے ۔
جو اپنی تنہائیوں میں رب کی موجودگی کو نظر انداز کرتا ہے ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے جب اس کا سچ پوری دنیا کی زبان پر ہوتا ہے ۔۔۔۔پھر اللّه اسے ایسا تنہائی کا انعام دیتا ہے کہ وہاں وہ خود بھی اپنے ساتھ نہیں ہوتا ۔۔۔۔
آہستہ آہستہ یہ گاؤں منحوس سمجھا جانے لگا اس کا ذکر ہوتے ہی لوگ اپنے کانوں کو ہاتھ لگانے لگتے۔
کھوٹھے کی عورتوں کو اس بڑھے ہوۓ گوشت میں شدید خارش ہوتی اور وہ لوہے کے برشوں سے ان میں خارش کر کے بھی سکون نا پاتیں ۔
وہ کوٹھا جہاں ديدہ زيب لباس زيب تن کر کے لوگوں کے گھر توڑنے کے لئے ان کے واحد كفیلوں کو پهانسنے کا سامان کیا جاتا اب وہ بھڑکیلے لباس ان کے جسموں سے ایسے چپکتے کہ ان کے زخموں سے الگ کرنا مشکل ہو جاتا ۔۔۔نتیجہ یہ ہوا کہ اب سب عورتیں کالی چادریں جسم پر پھیلا کر اندھیرے میں بیٹھی رہتیں ۔۔۔
وہ عورتیں جو جسم کی نمائش کر کے بوڑھے والدین کی عمر بھر کی کمائی لوٹتیں اب اپنے جسم کی بد صورتی سے خود بھی گھن کھانے لگیں تھیں
وہ کوٹھا جہاں سے دور سے ہی مسہورکن موسيقی چھوٹے چھوٹے بچوں سے ان کا باپ چھين لیتی تھی اب ادھر سے اٹھنے والی آہوں اور سسكیوں کا شور پاس سے گزرنے والوں کا دل دہلا دیتا تھا ۔
زاہرہ کی ایک آہ نے اس پورے گاؤں کے بد کردار مردوں اور عورتوں کی زندگی کا مطلب بدل دیا تھا
وہ سب ہاتھ جوڑے ایک دوسرے سے موت کی بھیک مانگتیں،ان کے جسم سے بد بو کے بھوبھوکے الگ سے فضا کو آلوده رکھتے۔
لکشمی بائی جو کہ ہندو تھی اس نے ان حالات سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لئے اپنے کالے علوم کے ماہر شاکا سے رابطہ کیا جس نے ان تمام عورتوں اور ان تمام مردوں کو اپنے پاس ایک پرانی اور اندھیری غار میں جمع ہونے کا کہا
وہ اپنے نجس علوم میں ناپاکی کی ہر حد پار کر چکا تھا اتنی بڑی تعداد میں اپنے پيروں کار دیکھ کر اس کا دل اپنے علوم اور طاقت میں اضافے کو کیا تھا
منظر کچھ یوں تھا کہ اس کے آگے بڑی تعداد میں مرد اور عورتیں سیاہ چادریں لپیٹ کر بیٹھے ہوۓ تھے وہ سب مسلسل خود کو آہنی تاروں والی كنگیوں سے کھجا رہے تھے جس سے اچھی خاصی آواز پیدا ہو رہی تھی وہ اپنی اس تکلیف کا ذمہ دار اپنے اعمال کو ٹھہرا چکے تھے یہی وجہ تھی کہ وہ خدا کو خود سے ناراض سمجھ کر اس آزمائش کو سزا کا نام دے کر اس سے مدد نہیں مانگ رہے تھے باوجود اس کے کہ گاؤں کے اکثر مرد اور کھوٹھے کی خواتین مسلمان تھیں(ایک قسط میں ان عورتوں کی اللّه سے توبہ نا کرنے اور شیطان کی پيروی کا افسوس کرتے ہوۓ دیکھایا گیا تھا)
“ہماری مدد فرما آقا ۔۔۔ہمارا خدا ہم سے روٹھ چکا ہے ۔۔۔اب توں ہی ہمارا سب کچھ ہے ہمیں اس تکلیف سے نجات دے دے”
وہ سب یک زبان ہو کر بولے تھے
“مجھے بہت خوشی ہے کہ تم سب نے مجھے اپنا آقا مانا ۔۔۔۔یہ مسئلہ بہت سادہ سا ہے ۔۔۔۔بس کچھ دنوں میں ہی تم سب بلکل پہلے جیسے ہو جاؤگے ۔۔۔”
اس کا تكبر آسمان کو چھو رہا تھا
“اگر تم تمام مرد ان عورتوں کا حیض کا خون پی لو تو تمہاری سزا منٹوں میں ختم ہو جائے گی ۔۔۔۔۔”
وہ بہت آرام سے بولا تھا
(یہاں میرا مقصد زنا سے تنبیہ کرنا ہے بیشک ناپاک زانی مردوں کو جہنم میں ان ناپاک زانی عورتوں کا یہ نجس خون پلایا جائےگا توبہ استغفار،زنا بہت بڑا گناہ ہے چاہے تنہائی میں کچھ پڑھ اور دیکھ کر کیا جائے یا باقاعدہ کسی گندی جگہ جا کر ۔۔۔۔زنا جسم کے ہر حصے کا ہوتا ہے ۔۔۔اپنی بینائی،اپنی گویائی اور اپنی سننے کی حس کی بھی حفاظت کریں ۔۔۔۔وقت ضرور گزر جاتا ہے مگر جو کرامأ کاتبین لکھ لیتے ہیں وہ نہیں مٹ سکتا ۔۔۔۔اس کا حساب آپ کو ہی دینا ہے ہر حال میں)
اس وقت وہ سب جتنی تکلیف میں مبتلا تھے ان کو یہ بہت آسان حل لگا تھا اس پر وقتأ فوقتأ عمل کیا گیا مگر ایسا کرنے سے ان کا مرض مزيد بڑھتا چلا گیا ۔۔۔
ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اس گاؤں میں موجود سب مرد خود کشی کرتے کرتے ختم ہو گئے اور انہیں جسم میں طاقت کی قلت کی وجہ سے ایسے ہی گڑھوں میں غار کے ایک طرف پهینک دیا جاتا ۔۔اس انسانی گوشت پر جوک در جوک بڑے بڑے جنگلی پرندے عادی ہونے لگے ۔۔۔۔مردہ پهينکنے کی دیر ہوتی وہ اسے نوچ نوچ کر کھا جاتے ۔۔۔۔شاکا ان جنگلی پرندوں کو بھی اپنے وش میں کر چکا تھا وہ اس کے بہت سے کام پلک جهپک کر کر دیا کرتے ۔جب سے انہوں نے ایک شیطان کو اپنا آقا بنایا تھا ان کی شکلیں بھیانک ہو چکی تھیں ۔
وقت گزر رہا تھا مگر یہ اذیت تھی کہ ختم تو کیا کم ہونے کا نام تک نہیں لے رہی تھی ۔۔۔۔آج ایک عورت نے اپنی نبض کو پتھر سے کچل کر تڑپ تڑپ کر اپنی جان دی تھی۔اس کی لاش کسی مردار جانور کی طرح آنکھیں کھولے پڑی تھی جس کو وہ جنگلی پرندے نوچ نوچ کر کھا رہے تھے
(جب ساحل کو وہ عورتیں زویا کی میت سركاری ہسپتال لے جاتے ہوۓ جنازہ لے کر جاتی ہوئی نظر آئی تھیں جس میں اس نے صابن،کافور،کفن اور باقی سامان چار پائی میں دیکھا تھا مگر چارپائی کو میت تک ميسر نہیں تھی کیوں کہ جنگلی پرندے وہ فوراً کھا لیتے تھے۔ اس کا مطلب یہی تھا کہ وہ کفن دفن کو ترس رہی ہیں)
اب ان کا بین آسمان تک شور پیدا کر رہا تھا
“تم موت کو ترسو۔۔۔۔تمہیں کفن دفن نا ملے”
زاہرہ کے الفاظ اس غار میں کسی طوفانی بارش میں تیز کڑکتی بجلی کی طرح گونجے تھے جیسے سن کر ان کے رونے میں شدت آئی تھی
“زاہرہ کے صبر نے ہمارا تختہ پلٹ دیا ہے ۔۔۔”
لکشمی چیخی تھی
آج تمام عورتیں شاکا(یہ ساریکا والا ہی ہے) کے پاس جمع تھیں وہ اس سے اپنی بیماری اور اس اذیت سے چھٹکارے کا کوئی آخری حل چاہتی تھیں
“اس مسلے کا حل یہی ہے کہ اس عورت زاہرہ کا چھوٹا بیٹا جیسے اللّه نے بہت ہی خاص صلاحیت “مستقبل بھانپ لینے کی حس” دے رکھی ہے تم کچھ ایسا کرو کہ وہ میرا غلام بن جائے ۔۔۔۔جو بندہ جتنا نيک ہوتا ہے اسے سیدھے راستے سے ہٹا کر اپنے راستے پر چلانے کا مجھے اتنا ہی زیادہ مزہ آتا ہے ۔۔۔میری طاقت میں بہت تیزی سے اضافہ ہوتا ہے ۔۔۔۔۔اور جو چیلنج میں خدا کو سجده کرنے سے انکار کر کے آیا ہوں اس میں کامیاب ہونے کے میں اتنا ہی زیادہ قریب ہو جاتا ہوں،کچھ ایسا کرو کہ وہ جو آج کل قران پاک حفظ کر رہا ہے وہ سب بھول کر میرے گمراہی کے راستے پر چل پڑے ۔۔۔بلکل اپنے بھائی کی طرح جو اتنے لوگوں کے ساتھ بگاڑ چکا ہے کہ پستول کی گولیاں موت کے فرشتہ بن کر اس کو ڈھونڈتی ہیں”
وہ گہری سوچ میں بولا تھا
“مگر اس معصوم بچے کو کیسے گمراہ کر سکتے ہیں ؟؟؟”
لکشمی تکلیف سے بمشکل بولی تھی
“وقت آنے دو ابھی وقت نہیں آیا”
وہ یہ کہہ کر غائب ہو گیا تھا
وہ روتی دھوتی واپس غار میں آ گئی تھیں
