Tehreer by Jameela Nawab Readelle 50381

Tehreer by Jameela Nawab Readelle 50381 Last updated: 17 November 2025

275.2K
19

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tehreer by Jameela Nawab

اب کمرے میں بس ان صفحات کی آواز زور پکڑے ہوئی تھی ساحل کا دماغ اور کان اس آواز سے بس پھٹ جانے کو تھے وہ اپنے ہاتھ کانوں پر رکھ کر اپنے گھٹنوں کو پیٹ سے لگا کر خوفزده سا لیٹا ہوا تھا
آخر تنگ آ کر وہ اٹھا اور اس ٹیبل کے پاس پڑی کرسی پر بیٹھ گیا اور اس ڈائری کو بند کر دیا ۔۔۔
کچھ دیر کے لئے کمرے میں سکون ہو گیا تھا اب صرف بارش کی آواز تھی وہ اس ڈائری پر ہاتھ رکھ کر اپنا سر ٹیبل پر جھکا کر اب زویا کے متعلق سوچ رہا تھا جب اس کی آنکھ لگی
تیز بارش، سیاہ رات وہ وہی موجود تھا جہاں وہ زویا کو دفنا کر آیا تھا
جب اس نے بہت سی سیاہ برقعے پہنے عورتوں کو اس طرف آتے دیکھا تھا
وہ بھاری بھرکم عورتیں عربی عورتوں كی طرح لمبی چوڑی جسامت کی مالک تھیں ساحل سانس روکے ان کو سہم کر یک ٹک رہا تھا
وہ ساحل کے پاس آئیں اور کسی خاص زبان میں ایک دوسرے سے بات کی جو ساحل کی سمجھ سے باہر تھی وہ جانتا تھا تو بس اتنا کہ یہ زبان عربی نہیں تھی اب وہ ساحل کی طرف دیکھ رہی تھیں
ساحل بے بس سا ان کی مرضی کے مطابق ان کے بنا کہے شرٹ اتار کر اب اوندھے منہ لیٹ گیا تھا اب وہ اس کی کمر پر کچھ لکھ رہی تھیں جس ساحل کو تیز جلن محسوس ہوئی تھی
انسانی جسم جلنے کی باس بھی ہوا میں شامل ہو چکی تھی وہ آگ کے شعلے سے ساحل کی کمر پر کچھ لکھ رہی تھیں
ساحل شدید تکلیف میں مبتلا تھا مگر خاموشی سے لیٹا رہا ۔۔۔
ایک دم تیز روشنی سے ساحل کی آنکھیں کھلی تھیں وہ کمرے میں موجود تھا اور وہ سر ٹیبل پر رکھے بیٹھا ہوا تھا
کمر کی جلن ابھی بھی اس کو تکلیف دے رہی تھی اس نے شرٹ اتاری اور کھڑے ہو کر کمرے میں موجود چاروں طرف کے شیشوں میں خود کو دیکھا جو منظر اس کو نظر آیا وہ بہت خوف ناک تھا
اس کی کمر کو آگ سے داغ کر شیطانی علم کی خاص علامت دجال کی ایک آنکھ بہت واضح انداز میں اس كی کمر پر بنائی گئی تھی
اس کے زخم سے خون رس رہا تھا اور سردی کی وجہ سے پورے جسم تیز بخار محسوس ہوا تھا
ایک دم پورے کمرے میں بہت سی عورتوں کا ایک ساتھ قہقہ بلند ہوا تھا
وہ گھبرا کر واپس کرسی پر بیٹھ گیا تھا اور اس کی نظر اپنی کل کی لکھی تحریر پر پڑگئی جس سے اس کی حیرانی میں مزيد اضافہ ہوگیا تھا
"زویا کی لاش فانوس سے لٹک رہی تھی"