275.2K
19

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tehreer Episode 1

Tehreer by Jameela Nawab

تیز بارش کی آواز اور سیاہ رات۔۔۔۔۔

وہ گہری نیند میں گرم بستر میں سو رہا تھا جب کسی نے اسے بری طرح جھنجھوڑا تھا

“اٹھو ۔۔۔ جلدی کرو ساحل ماسوری کی شادی ہو رہی ہے ۔۔۔۔وقت کم ہے”

آواز جانی پہچانی تھی مگر نقوش سمجھ سے باہر تھے

“یہ کیسے ہو سکتا ہے وہ تو میرے نکاح میں ہیں نا ؟؟”

ساحل چیخ کر اندھا دهند بھاگا تھا

طوفانی موسم میں جابجا درخت گر رہے تھے سڑک سنسان تھی بارش کے قطرے اتنی تیزی سے برس رہے تھے کہ جسم پر جہاں لگتے وہاں جلن ہونے لگتی مگر ساحل اس سب سے بیگانہ بس ہوا کے گھوڑے پر سوار اپنی طرف سے بس بھاگتا جا رہا تھا ۔۔

وہ بہت کوشش کرتا مگر وہ ایک ہی جگہ پر کھڑا تھا وہ چل نہیں پا رہا تھا ۔۔۔

وہ چیخ رہا تھا مگر آواز اس کے گلے میں ہی گم ہوجاتی ۔۔۔

“ماسوری ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟”

وہ درد کی شدت سے مسلسل پکار رہا تھا مگر بارش کا شور ۔۔۔۔اتنا تیز تھا کہ اس کی پکار اس شور میں ضم ہورہی تھی ۔۔۔

وہ اب گھٹنوں کے بل بیٹھ کر رونے لگا تھا آسمان کالے بادلوں سے سیاہ ہو چکا تھا

وہ اس گھنے جنگل میں آسمان کو بمشکل دیکھ پا رہا تھا جب ایک تناور درخت اس کی طرف تیزی سے گرا تھا درد سے بچنے کی غرض سے ساحل نے آنکھیں میچ لی تھیں ۔۔۔

پھر منظر بدلا تھا

اب بہت سے لوگ ایک جگہ جمع تھے

بارش اب بھی ہو رہی تھی مگر وہ کوئی منڈپ جیسی جگہ لگ رہی تھی جس پر چھت موجود تھی درمیان میں آگ جل رہی تھی جس کے شعلے اوپر تک دور سے دیکھے جا سکتے تھے

“ارے رستہ دو اس کو”

ایک آدمی جو عجیب و غریب شکل کا مالک تھا اور ساحل کی طرف سب كی طرح اس کی بھی کمر تھی ایک دم اس کی طرف متوجہ ہوا تھا

اس کے کہنے کی دیر تھی وہاں موجود ہر شخص جو اسی آدمی کی شکل کا تھا انہوں نے ساحل کی طرف دیکھا اور درميان میں راستہ چھوڑ دیا اب سامنے کا منظر صاف تھا

ایک خوبصورت پُرکشش نقوش مگر سانولی رنگت کی لڑکی ہندوانہ طرز کا دلہن کا جوڑا پہنے کھڑی تھی جس کے ساتھ سات مردوں کے دوپٹوں کو باندھاجا رہا تھا جو عمومأ کسی بھی مذہب میں جائز نہیں۔ ۔۔۔ہر مذہب میں ایک وقت میں کسی بھی عورت کاشوہر ایک ہی ہوا کرتا ہے مگر یہاں معاملہ يكسر الگ تھا ۔۔۔سات آدمیوں سے جن کے چہروں کو سامنے ہو کر بھی دیکھا نہیں جا سکتا تھا اس لڑکی کو پھیرے دلوا کر ان کی پتنی بنایا جا رہا تھا

“یہ سب روک دو خدا کے لئے یہ لڑکی مسلمان ہے اور میری منکوحہ بھی ۔۔۔۔ تم ایسے کیسے اس کی شادی اس طرح کر سکتے ہو ؟؟؟؟”

ساحل نے اپنی طرف سے یہ جملہ چیخ کر کہا تھا مگر اس کی آواز پر کسی نے کوئی ردعمل نہیں دیا تھا

پھیرے مکمل ہو چکے تھے اب وہ ساتوں آدمی باری باری اس لڑکی کی مانگ میں صندور بھر رہے تھے

ساحل بے بسی سے یہ سب دیکھ رہا تھا

اب اس لڑکی نے ایک بلند قہقہ لگایا اور ساحل کی طرف دیکھا تھا

اتنے میں ساحل کا خواب ٹوٹا تھا وہ اٹھ کر بیٹھ گیا تھا

“یا اللّه روز ہی یہی ایک خواب ۔۔۔۔۔۔۔آج مولوی صاحب سے بات کرتا ہوں”

“یہ دن ہی رہ گیا تھا کہ اب ساحل اتنا امیر اور پڑھا لکھا ہو کر کسی دو ٹکے کے مولوی کے پاس جائے گا ؟؟؟لوگ کیا سوچیں گے ؟؟؟؟”

ساحل نے غرور سے خود کو دیوار گیر شیشے میں دیکھ کر سوچا تھا

اس کمرے کی ہر دیوار پر شیشے لگے تھے یہ عام شیشوں سے مختلف تھے

“یہ ہے میرا شیش محل ۔۔۔۔۔ هاهاهاهاهاها “

“اور پوری دنیا جانتی ہے ساحل کو کالی چمڑی والی عورت زہر لگتی ہے ۔۔۔۔گوری لڑکیاں ۔۔۔۔میری کمزوری ہیں ۔۔۔۔اس کالی لڑکی سے میں کیوں کرنے لگا نکاح ہنہہ ۔۔۔۔”

“کالی بكری هاهاهاهاها ۔۔۔”

“اوپر سے نام تو دیکھو ۔۔۔ماسوری ۔۔۔۔هاهاهاهاها ۔۔۔۔فلم ہی بن گئی یہ تو ۔۔۔۔ساحل چل باہر نکل کر دیکھتے ہیں ۔۔۔زویا ڈارلنگ کیا کر رہی ہے”

وہ بکھرے بالوں کو ہاتھ سے ٹھیک کرتا۔۔۔۔۔ بنا منہ ہاتھ دھوئے باہر آیا تھا جہاں ایک سادہ نقوش مگر حد سے زیادہ گوری درميانے عمر کی لڑکی ایک ادھیڑ عمر کی عورت سے کچھ کہہ رہی تھی

“چلو اب تم جاؤ اسے میں شام تک بھیج دوں گی”

اس سے پہلے وہ ساحل کو رات کے رف اور بے تكلف حلیے میں دیکھتی زویا نے اس عورت کو وہاں سے بھیج دیا تھا

“کیا ہو رہا ہے زویا میری جان”

ساحل بنا کسی کے پروا کئیے زویا کو لپٹا تھا جس کے چہرے پر اس کی اس حرکت پر نفرت واضح نظر آئی تھی

“ساحل مت کیا کرو ایسے کوئی تمہارے بھائی کو بتا دے گا وہ مجھے طلاق بعد میں دیں گے گولی پہلے مارے گے،اور بھابھی بولا کرو مجھے”

وہ اسے پیچھے دکھیل کر جلدی سے اپنا حلیہ درست کرنے لگی تھی

“کون بتائے گا بھائی کو یار ۔۔۔۔تم ایسے ہی ڈرتی رہتی ہو ۔۔۔”

وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا تھا

“نئی کام والی رکھی ہے اب خدا کے لئے اس کو تنگ مت کرنا ساحل”

“اور کم از کم اپنا حلیہ تو درست کر لیا کرو کمرے سے نكلنے سے پہلے ۔۔۔۔نا نہائے نا منہ دھویا ۔۔۔۔آ لیں ثاقب ان سے شکایت کروں گی میں”

زویا چاۓ کا سپ لے کر ساحل کو گھورتی

ہوئی بولی تھی

“کہو تو میں بھی بات کروں بھائی سے ؟؟؟”

ساحل اس کے پاس ایک بار دوبارہ بیٹھ گیا تھا

“کونسی بات ؟؟؟”

زویا اس سوال پر تھوڑی بے چین سی ہو گئی تھی

“ابھی نہیں ۔۔۔۔وقت آنے پر ضرور کروں گا ۔۔۔پیاری بھابھی جان”

ساحل زویا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں الجھا کر بولا تھا

“ساحل میں تمہارا ناشتہ لاتی ہوں”

زویا اس سے ہاتھ چھڑوا کر سہولت سے اٹھ کر تیزی سے اسے مڑ مڑ کے دیکھتی ہوئی کچن میں گھس گئی تھی

“جتنا بیوقوف تم نے مجھے سمجھ رکھا ہے زویا میں اتنا ہوں نہیں”

بادل زور سے گرجے تھے جس کی آواز پر وہ اس حویلی نما بڑے گھر کے بڑے سے صحن میں بھاگ کر آیا تھا

“بارش ۔۔۔۔میری پہلی محبت ۔۔۔۔”

“صاحب آپ کو کہیں جانا ہے ؟؟؟”

ایک بھاری بھرکم آدمی جو ڈرائیور کے لباس میں میں ملبوس تھا ساحل کے پاس آیا تھا

“تمہیں کس نے رکھا ہے یہاں اور کب ؟؟؟

ساحل بد لحاظی سے بولا تھا

“میں کچھ دیر ہوئی یہاں آیا ہوں مجھے ثاقب صاحب نے بھیجا ہے”

وہ بیچارہ پریشان سا بولا تھا

“میں کرلوں گا بھائی سے بات تم جاؤ یہاں سے اور دوبارہ نظر مت آنا”

“جی صاحب ۔۔ “

وہ ساحل پر سر تا پیر عجیب سی نظر ڈال کر گیٹ سے باہر نکل گیا تھا

“ساحل ناشتہ تیار ہے ۔۔۔۔کرلو،اندر آ جاؤ میں نے خود بنایا ہے”

زویا ساحل کے پاس آئی تھی

“ثاقب بھائی گھر کب آئیں گے ؟؟؟آج تو ہفتہ پورا ہو گیا نا ان کو شہر گئے ؟؟؟ “

ساحل نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا تھا جو بس برسنے کو تھا

“مجھے نہیں پتہ ۔۔۔خود کرلو فون،چلو آؤ ناشتہ کرتے ہیں”

زویا جانے کو مڑی تھی

“زویا جب بھی اس موسم کو دیکھتا ہوں شدت سے میرا دل کرتا ہے کوئی کہانی لکھ ڈالوں جس کا مرکزی کردار ہم دونوں ہو ۔۔۔۔”

“ہاں ہاں ضرور ۔۔۔۔اور تمہارا بھائی ؟؟؟”

زویا کھل کر مسکرائی تھی

“ہممممم۔۔۔۔۔اس کا بھی سوچتے ہیں کچھ ۔۔۔ویسے بھی پوری جائیداد تو میرے نام ہے ۔۔۔ویسے میں بہت حیران ہوتا ہوں دادا جی نے ابو کو اسی شرط پے یہ سب کیوں دیا تھا کہ سب میرے نام کریں گے وہ اپنی زندگی میں ہی ؟؟؟”

ساحل نے زویا کی گوری کلائی اپنے ہاتھ میں تھامی تھی

“ساحل میرا دماغ مت کھاؤ پلیز ۔۔۔۔ناشتہ کرو گے یا نہیں ؟؟؟”

وہ اپنا ہاتھ پیچھے کو جھٹک کر بولی تھی

“نہیں ۔۔ میں ابھی گھاٹ پر جا رہا ہوں ۔۔۔۔بارش دیکھنے”

وہ خباثت سے بولا تھا

“یہ کام چھوڑ دو ساحل ۔۔۔تمہیں خدا کا واسطہ ہے ۔۔ لوگوں کی مجبور بہو بیٹیاں وہاں پانی بھرنے جاتی ہیں جن کو تم اپنی غلیظ نظروں سے دیکھتے ہو،ثاقب کو آ لینے دو بس اس بار ۔۔ “

زویا کہہ کے چلی گئی تھی

اتنے میں بارش کی موٹی موٹی بوندیں گرنا شروع ہوگئی تھیں

“گھاٹ ۔۔۔۔۔هاهاهاهاها ۔۔۔۔خوبصورت ۔۔۔۔گوری حسیناؤں ۔۔۔۔۔آ رہا ہوں میں ۔۔۔۔”

“بچنا اے حسینوں لو میں آ گیا ۔۔۔۔”

وہ گنگناتا،قہقہ لگاتا ، بارش میں بھیگتا، کھیتوں میں کیچڑ سے ہوتا ہوا گھاٹ کی طرف آیا تھا

جہاں آج خلاف توقع کوئی بھی نہیں تھا اسے سخت نا امیدی ہوئی تھی

وہ گھاٹ پر جا کر تیز بارش میں آنکھیں بند کیے لیٹ گیا تھا

پائل کی مدہوش آواز نے اس کے سرور میں خلل ڈالا تھا

آنکھیں کھلنے پر وہاں کوئی نظر نہی آیا تھا مگر اس کے دل کی دھڑکن اب بے چین ہوگئی تھی وہ تیز بارش میں گھاٹ کے آس پاس موجود جھاڑیوں میں اس آواز کی وجہ ڈھونڈتا ڈهونڈتا تهک گیا تھا مگر کوئی سراغ نہیں ملا تھا ۔۔۔۔

دو گھنٹے ایسے ہی گزر گئے تھے اب اسے بھوک ستانے لگی تھی وہ گھر کی طرف چل دیا تھا گھر آیا پورا گھر سنسان تھا زویا شاید گھر پر نہیں تھی

“بس میں ہلا نہیں ۔۔۔۔اور موقع مل گیا اسے گھر سے نکلنے کا ۔۔۔۔۔یہ عورت قابو سے باہر ہو رہی ہے ۔۔۔۔”

ساحل گیلے کپڑوں میں ہی کچن میں آیا اور خود سے ناشتہ کرنے لگا

وہ ناشتہ کر کے باہر آیا اور اپنے کمرے میں چلا آیا ۔۔۔خشک کپڑے پہنے اور کچھ سوچنے لگا

“ایسا کرتا ہوں آج زویا پر کچھ لکھتے ہیں ۔۔۔ “

وہ کاغذ قلم لے کر بیٹھ گیا تھا اور جو جو ذہن میں آیا وہ لکھتا چلا گیا ۔۔۔”

وہ آج کی تحریر مکمل کر کے کھڑکی میں کھڑا ہوگیا تھا جہاں سے وہ نیچے گیٹ سے اندر داخل ہوتی زویا کو باآسانی دیکھ سکتا تھا ایک نفرت آلود نگاہ ڈال کر وہ کھڑکی کا پردہ آگے کر کے اپنے بستر پر لیٹ گیا تھا ۔۔۔

“بس میری یہ کہانی بھائی کے ہاتھ لگنے دو زویا بھابھی ۔۔۔۔جان ۔۔۔۔بہت مزہ آنے والا ہے ۔۔ “

انہی سوچوں میں گم اس کی آنکھ لگ گئی تھی

بارش تھم چکی تھی باہر گہری خاموشی تھی ہوا بھی بند تھی

رات کا کوئی پہر تھا جب ساحل کی آنکھ کھلی تھی “میں دن میں دو بجے سویا تھا اور اب رات کے دو بج رہے ہیں میں اتنی دیر کیسے نان سٹاپ سو سکتا ہوں ؟؟؟؟”

وہ پریشان سا اٹھ کر بیٹھ گیا تھا

“زویا بھی مجھے اٹھانے نہیں آئی لگتا ہے بھائی آ گئے ہیں،چلو جا کر دیکھتا ہوں”

وہ جمائی روکتا سیڑھیاں اترتا نیچے آیا تھا مگر سامنے کے منظر نے اس کے قدم ادھر ہی روک دیئے تھے

زویا کی لاش چھت سے لگے فانوس کے ساتھ لٹک رہی تھی

“زویا کو کس نے مارا ؟؟؟؟؟؟؟؟

ساحل سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا اس کے پورے جسم پر کپکپی طاری ہو چکی تھی ۔۔۔

وہ سیڑھیوں میں سہما سا بیٹھا ہوا تھا جبکہ زویا کی کھلی آنکھیں اسی کا تعاقب کر رہی تھیں خون مسلسل بہہ بہہ کر فرش کو لال کر رہا تھا

۔***********

“اماں۔۔۔۔۔بہت ٹھنڈ لگ رہی ہے ۔۔۔۔کچھ گرم اوڑھنے کو دے دو”

جينی نے ٹھنڈ سے خود کو اكهٹا کرتے ہوۓ ساتھ سوئی ہوئی درميانی عمر کی عورت جس کا نام سُکھاں بی بی تھا اسے ایک ہاتھ سے ہلا کر آہستہ سے کہا تھا جس پر اس نے فقط ہوں کہا تھا اب جينی اس کے خراٹے سن رہی تھی

دونوں ایک بوسیده سی گرم چادر اوڑھے ہوۓ زمین پر ایک چٹائی پر لیٹی ہوئی تھیں

“اتنی تیز بارش ہے اور یہ کچا چھوٹا سا کمرہ چھت الگ سے ٹپ ٹپ ٹپک رہی ہے ۔۔۔یہ بھی کیا زندگی ہے”

جينی سر كهجاتی ماں پر بے زار سی نظر ڈال کر اٹھ گئی تھی

“خود ہی کچھ کرتی ہوں ۔۔۔۔ایسے تو آج میں ٹھنڈ سے ہی مر جاؤں گی”

وہ دروازے میں آ کر کھڑی ہوئی موسم کا جائزہ لے رہی تھی کیوں کہ اسے کچن کے نام پر موجود مختصر سی چھت والے کمرے میں جا کر کچھ دہکتے کوئلے کمرے میں لاکر رکھنے تھے

بارش بہت تیز تھی وہ کچن تک جانے میں ہی بھیگ گئی تھی

یہ مٹی کا گھر جنگل کے کنارے بنایا گیا تھا کھلی جگہ پر بس ایک کمرہ اور کچن بنایا گیا تھا جبکہ حاجت کے لئے پورا جنگل استعمال میں لایا جاتا تھا

یہ دونوں ماں بیٹی لوگوں کے گھر میں کام کر کے گزر بسر کیا کرتی تھیں ۔۔۔

جنگل سنسان تھا تبھی انسانوں کا یہاں بہت کم بلکہ نا ہونے کے برابر گزر ہوتا یہی وجہ تھی کہ وہ خود کو محفوظ سمجھ کر آرام سے رات یہاں سونے آ جاتیں ۔۔۔

یہ دونوں کمرے یہاں پہلے ہی موجود تھے کس نے اور کیوں بنائے ان ماں بیٹی کو اس بات سے کوئی لینا دینا نہیں تھا ۔۔۔۔