275.2K
19

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tehreer Episode 5

Tehreer by Jameela Nawab

“ایک میت ركهوانی ہے سرد خانے میں”

ساحل ڈرائیونگ سیٹ سے اتر کر ایسے ہانپ رہا تھا جیسے میلوں دور سے بھاگ کر آیا ہو، ولی کو اس کی آمد سے بہت حوصلہ ہوا تھا وہ خود بھی گاڑی کی آواز پر ،بھاگ کر بارش میں گيٹ کی طرف آیا تھا

“میں سٹریچر لاتا ہوں ابھی لائٹ نہیں ہے موبائل کی لائٹ آن کر دیں اور گاڑی کی فرنٹ لائٹ بھی میرے ساتھ اندر چلیں”

ساحل نے ولی کی ہدایت پر عمل کیا اور اس کے ساتھ بھاگ کر اندر چلا گیا

“میں سٹریچر اندر سے لاتا ہوں”

ولی خود سے بارش کے قطرے جھاڑتا ہوا اندر کسی وارڈ میں چلا گیا جبکہ ساحل وہاں پڑیں ميتوں کی تعداد پر حیران اور خوفزدہ ہوا تھا

وہ موبائل كی لائٹ ان پر کرتا ہوا ان کو دیکھ رہا تھا وہ کچھ میتیں دیکھ کر اب ولی جس طرف گیا تھا ادھر منہ کر کے کھڑا ہو گیا تھا جب اس کے کانوں میں ایک نسوانی آواز گونجی تھی

“بہت پانی ۔۔۔۔۔بہت ۔۔۔ بارش ۔۔۔۔میں ڈوب رہی ہوں ۔۔۔۔۔۔ساحل ۔۔۔۔۔میرا ہاتھ تھام لو ۔۔۔۔۔مجھے بچالو ۔۔۔۔۔”

اس نے موبائل کی لائٹ بنا سوچے اس آواز کی طرف گھمائی تھی سب میتوں سے الگ کچھ فاصلے پر ایک ماده میت اوندھے منہ پڑی تھی

ساحل ڈرتا ڈرتا بلی کے قدم لیتا اس کی جانب بڑھتا رہا اس نے اس کے قریب جا کر اس کو سیدھا کیا جو منظر اس کا منتظر تھا وہ جان ليوا تھا

سیاہ چہرے والی ایک بوڑھی عورت کھلے گندے الجھے بالوں کے ساتھ سیاہ دانت لیئے مسکرا رہی تھی اس کا چہرہ اتنا جھریوں زدہ تھا کہ یہ گمان ہوتا تھا اس کے چہرے کو تیزاب ڈال کر مسخ کیا گیا ہے شاید

“هاهاهاها هاهاها”

پُر اسرار ٹھہر ٹھہر کر لیا گیا بھیانک قہقہ ہوا میں بلند ہوا تھا

ساحل جس کا ہاتھ اس کے کندھے پر تھا اسے پیچھے کو دکھیل کر موبائل کی لائٹ لیے دوسری طرف کر کے بس ولی کی طرف بھاگنے کو تھا

اب وہ میت اس کے منہ کے عين سامنے کھڑی تھی وہ اب بھی مسکرا رہی تھی ساحل اس کو وہیں چھوڑ کر برآمدے سے اندر ہسپتال کے ایریا کی طرف بھاگ گیا تھا

وہ بھاگتا رہا جہاں جہاں اسے راستہ سمجھ آتا گیا ۔۔۔ایک جگہ کھڑے ہو کر وہ سانس لینے کو رک گیا ۔۔۔

کچھ وقت گزرا تھا اسے ایسا محسوس ہوا تھا اس کے گرد بہت سے لوگ ہیں جو اس کو دیکھ رہے ہیں

اس نے جیسے ہی موبائل کی لائٹ اپنے ارد گرد ڈالی واقعی وہاں بہت سے لوگ تھے جن کی گردنیں لٹکی ہوئی تھیں مگر پھر بھی سیدھے کھڑے آنکھیں پھاڑے اس كی طرف غصے سے دیکھ رہے تھے

انہی میں زویا بھی تھی

“ان سب کا میرا والا حال ہوگا ساحل ۔۔۔۔”

زویا نے دکھ سے کہا تھا

“مجھے بچا لو ساحل میں ڈوب رہی ہوں”

کسی نے ساحل کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا

ساحل نے جیسے ہی مڑ کر دیکھا اس کا چہرہ زیادہ دیر تک پانی میں رہنے کی وجہ سے گلا ھوا سا لگ رہا تھا

اس سے پہلے کے ساحل کا ہارٹ فيل ہوتا پورا کمرہ روشن ہوا تھا لائٹ آ چکی تھی بارش اب ہلکی ہو چکی تھی

وہ کمرہ پوسٹ مارٹم روم تھا جہاں تیز آوزار جگہ جگہ پڑے نظر آ رہے تھے

“صاحب میں آپ کو کب سے ڈھونڈ رہا تھا”

ولی کی آواز نے ساحل کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا

“ہاں ؟؟؟؟چلو ۔۔۔”

ساحل منہ پر آئی ننھی پسینے کی بوندوں کو كف سے پونچھتا ہوا اس کے ساتھ گیا تھا

ساحل نے گاڑی کی ڈگی سے زویا كی میت نکال کر سٹریچر پر ڈالی اور ولی کے ساتھ اندر چلا گیا

“صاحب یہ فارم فل کر دیں”

ولی نے ایک کاغذ اور پین اس کی طرف بڑھا کر کہا تھا

ساحل نے وہ فِل کر کے واپس دے دیا تھا

“میں چلتا ہوں”

ساحل کہہ کر چلا گیا تھا وہ گاڑی میں بیٹھ رہا تھا جب اسلم اپنا ٹرک کھڑا کر کے نیچے اتر رہا تھا

اسلم اپنے حلیے سے ہی ایک عام دکھنے والا ٹرک ڈرائیور لگ رہا تھا مگر جانے اس میں ایسی کیا بات تھی کہ ساحل اس کو کھڑا ھو کر دیکھنے پر مجبور ہو رہا تھا

“کیا بات ہے باؤ جی کوئی کام ہے ہم سے ؟؟؟”

اسلم مونچھوں کو تاؤ دیتا ساحل کے پاس آ گیا تھا

“نہیں ۔۔۔۔نہیں تو ۔۔۔۔۔”

ساحل کہہ کر گاڑی میں بیٹھ گیا اور سٹارٹ کردی

اسلم ولی کے پاس اندر آیا تھا جہاں ولی تیزی سے مردے سرد خانے میں منتقل کر رہا تھا

“ارے ان کو کدھر سنبھال رہے ہو پوسٹ مارٹم روم لے کر چلو دو دو کو یہ سب تازہ لاشیں ہیں کسی بیماری سے نہیں مرے ۔۔۔۔۔سب کچھ تازہ ہے ان کا ۔۔۔۔۔بہت بڑ ی مارکیٹ ہے انسانی اعضاء کی ۔۔۔۔سمجھا ولی ؟؟؟؟کروڑ پتی بن جائیں گے ہم ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ لاشیں نہیں ہیں میری جان سویز اکاؤنٹ ہیں ۔۔۔۔۔سویز اکاؤنٹ ۔۔۔”

اسلم کے چہرے پر مکرو سی مسكراہٹ بہت واضح تھی ولی نے خشک لبوں پر زبان پھیر کر اس کا ساتھ دیا تھا

“مگر ایک مسئلہ ہے ہم یہ کام خود نہیں کر سکتے ہمیں کسی ڈاکٹر کی ضرورت پڑے گی،ہے کوئی ڈاکٹر نظر میں ؟؟؟؟؟”

اسلم نے راز داری سے قریب ہو کر پوچھا تھا

“ڈاکٹر حمزہ”

ولی نے کچھ دیر سوچنے کے بعد موبائل جيب سے نکالتے ہوۓ کہا تھا

“چل بلا پھر اپنے اس حمزو کو”

اسلم نے اسی سٹریچر والی میت کی جيب ٹٹولتے ہوۓ پر جوش ہو

کر کہا تھا

ولی نے اس ڈاکٹر حمزہ کا نمبر ملایا تھا جس کی آج کل اس ہسپتال میں ڈیوٹی تھی مگر وہ اپنی فیملی کے ساتھ گھر کے قریب والے اپنے پرائیویٹ كلینك کو چلا کر ڈبل سیلری کما رہا تھا

۔************

ساحل گھر پہنچا تو رات کے بارہ بج رہے تھے بارش رک چکی تھی اور اب ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی

ساحل کو اب بھوک بھی تنگ کر رہی تھی وہ ہاتھ منہ دھو کر کچن میں آیا تھا

فریج سے مرغی کا گوشت نکال کر اس پر مختلف مصالاجات اور آئل ڈال کر اس نے اسے اوون میں آدھا گھنٹہ روسٹ ہونے رکھ دیا خود وہ اب ٹیبل پر سر رکھ کر بیٹھ گیا اسی دوران تھکاوٹ کے باعث اس کی آنکھ لگ گئی اور وہ سو گیا اب ایک اور عجیب خواب شروع ہوا تھا

اس نے دیکھا کہ ایک لڑکا جو بہت تیزی سے بھاگ رہا ہے اور اس کے پیچھے بہت سے بڑے منہ والے بھیانک شکل کے کتے دوڑ رہے ہیں آخر وہ تهک جاتا ہے اور وہ سب کتے اسے دبوچ لیتے ہیں

“ساحل مجھے بچا لو”

وہ لڑکا چلایا جس پر ساحل کی آنکھ کھل گئی

“یہ سب کیا ہے ؟؟؟مجھ سے ہر کوئی مدد کیوں مانگ رہا ہے ؟؟؟”

“مایا میرے قلم کا کیوں کہہ رہی تھی ؟؟؟کیا واقعی زویا محض میرے لکھ دینے سے مری ہے ؟؟؟؟”

ساحل سر پکڑ کر سوچ رہا تھا جب روسٹ کی خوشبو نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا تھا اس نے گرم گرم وہ کھایا اور اوپر اپنے کمرے میں آ گیا

کاپی پین اٹھایا اور گوری نام کی ایک لڑکی پر ایک چھوٹا سا افسانہ لکھ ڈالا

ایک بات عجیب بات جو اپنی لکھی تحریر مکمل پڑھ کر ساحل نے سو چی تھی کہ اس نے اپنی اس تحریر کس اختتام بھی اس گوری نامی لڑکی کو مار کر کیا تھا

“اس کو نا مارتا تو شاید افسانے کا یہ مزہ نا ہوتا،”

اس نے سب سمیٹا اور پر سکون سا سو گیا

صبح وہ کافی دیر تک سوتا رہا جب اٹھا تو دس بج رہے تھے

وہ اٹھا حسب عادت بنا منہ ہاتھ دھوئے وہ شیشے میں بال سیٹ کر کے نیچے آیا ہاتھ دھو کر چائے اور ٹوس بنائے اور کھا کر گھاٹ کی طرف نکل گیا کل کی بارش سے موسم کافی اچھا ہوگیا تھا

“آج ذرا روٹين پر آتا ہوں خوبصورت لڑکیاں گیلی گيلی گھاٹ پر کپڑے دھوتیں پانی بھرتیں ۔۔۔آئے ہائے ۔۔۔۔”

وہ سینے پر ہاتھ مارتا پر جوش سا گھاٹ پر پہنچا تھا جہاں کافی رش تھا

وہ ایک طرف جھاڑیوں میں چھپ کر بیٹھ گیا اور ان کو کام کرتا دیکھتا رہا ۔۔۔

جن میں سے اکثر اس جگہ کو اپنا گھر بنا کر دوپٹہ مکمل طور نظر انداز کیے سائیڈ پر رکھ کر کپڑے دھونے میں مصروف تھیں

ایک دم وہاں شور اٹھا اور سب ایک جگہ ایک لڑکی کے گرد جمع ہو گئیں

ساحل نا چاہتے ہوۓ ان کے پاس آ گیا

“گوری کو کالے بچھو نے کاٹ لیا ہے”

ایک لڑکی جو نہایت گوری تھی وہ نیچے لیٹی بیہوش پڑی تھی اس کے ہاتھ پر ایک گہرا نشان تھا جو اس کے پاس موجود لڑکی کے مطابق بچھو کا کاٹا تھا

ساحل حیران پریشان وہاں کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا

“یہ سانس نہیں لے رہی مر گئی ہے اس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ ۔۔۔۔۔کون دیکھے گا اب ان کو ؟؟؟؟گوری مر گئی”

ایک عورت اب روتے ہوۓ کہہ رہی تھی یہ سنتے ہی ساحل وہاں سے بھاگ گیا ۔۔۔

“کیا واقعی میں جو لکھتا ہوں ویسا ہو جاتا ہے؟؟؟مطلب میں کسی کو بھی مار سکتا ھوں ؟؟؟؟”

ساحل اپنے کمرے میں آ کر بیٹھ کر اب گلاس پر گلاس پی کر سوچ رہا تھا

“ایسا کیسے ہو سکتا ہے ؟؟؟؟”

وہ نیچے آیا اور گاڑی سٹارٹ کردی بے مقصد مٹر گشت کرتا اب وہ مین روڈ پر تھا جہاں روڈ پر اسے کتابوں کا ایک سٹال نظر آیا تھا تمام کتابیں روڈ پر رکھی گئی تھیں دوکان کا مالک غائب تھا

یہ سڑک زیادہ رش والی نہیں تھی

“یہ کس پاگل نے یہاں دوکان لگا لی اپنی”

ساحل نے بد مزہ سا کہا تھا

تیز ہوا چلی اور وہ سب کتابیں اڑ اڑ کر یہاں وہاں بکھر گئیں ساحل کو مجبورا گاڑی روکنی پڑی وہ نیچے اترا اور اس دوکان کا مالک کو ڈھونڈنے لگا مگر وہاں کوئی نہیں تھا

اسی دوران اس کی نظر ایک کتاب پر پڑی جس پر وہ ہی دجال کی ایک آنکھ بنی ہوئی تھی

بے اختیار ساحل نے وہ کتاب اٹھا لی

“ادھوری کہانیاں”

“دلچسپ۔۔۔۔ بہت دلچسپ کتاب لگ رہی ہے یہ تو”

“ZGWAMJ”

“اس کا کیا مطلب ہے ؟؟؟؟”

ساحل اسی سوچ میں تھا جب وہاں ایک کُبا سا آدمی آیا تھا وہ مکمل جھکا ہوا تھا

“صاحب کسی کی چیز بلا اجازت نہیں لیتے”

وہ اپنی کتابیں اکھٹی کرتا ہوا بولا تھا

“کیا قیمت ہے اس کی ؟؟؟”

ساحل نے وہ کتاب اس کی طرف بڑھا کر پوچھا تھا

“اپنی چیز کی کون قیمت دیتا ہے ؟؟یہ آپ کی ہے،اب جاؤ یہاں سے”

وہ ساحل کو جانے کا اشارہ کرتے ہوۓ بولا تھا

“یہ میری چیز نہیں ہے”

ساحل اسے کتاب تهما کر گاڑی میں بیٹھ گیا اور گاڑی سٹارٹ کردی

ساحل نے تھوڑی آگے جا کر سائیڈ مرر میں دیکھا وہاں نا اب وہ آدمی تھا اور نا ہی وہ کتابیں ہاں مگر وہ کتاب اس کے پاس فرنٹ سیٹ پر موجود تھی

ساحل نے گھبرا کر وہ کتاب اٹھا کر کھڑکی سے باہر پھینک دی

وہ باہر جا کر پہلے سے بھی زیادہ ذہنی اذیت کا شکار ہو گیا تھا

جب تک گھر آیا تو عصر ہونے کو تھی وہ اپنے کمرے

میں آنے کی بجائے زویا کے کمرے میں آ کر لیٹ گیا

وہ اکثر اسے اس کے کمرے میں آ کر بھی تنگ کیا کرتا تھا وہ چپ چاپ اس کے گناہ کا حصہ بن جایا کرتی تھی

“زویا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟تم مجھے ایک بار تو اپنا سچ بتاتی ۔۔۔۔میں تمہیں بچا لیتا زویا ؟؟؟؟”

وہ دہاڑا تھا

“جب سے تم گئی ہو میں عذاب میں ہوں”

ایسے ہی روتے دھوتے ساحل کی آنکھ لگ گئی تھی

اس نے دیکھا بہت سا پانی ہے وہاں ایک بہت بڑا تالاب ہے جس میں ایک لڑکی ڈوب رہی ہے

“ساحل مجھے اپنا ہاتھ دو میں بچ جاؤ گی مجھے بچا لو ابھی بھی وقت ہے میرے پاس آ جاؤ”

وہ روتے ہوۓ بولی تھی

ساحل کی آنکھ ڈر کر کھل گئی تھی اس نے موبائل آن کیا اور گوگل پر اس خواب والے منظر کی جگہوں کو سرچ کیا بہت آسانی سے ہی ہوبہو ویسے تالاب اس کو مل گیا تھا جو ایسے علاقے میں تھا جہاں سال کے بارہ ماہ ہی بارش ہوا کرتی ہے

اس نے اپنا ضروری سامان بیگ میں ڈالا اور گاڑی لے کر اس لوکیشن پر گاڑی ڈال دی لگ بھگ دو گھنٹے کی مسافت طے کرنے کے بعد ایک پہاڑی علاقہ شروع ہوا تھا

ایک جگہ روڈ پر سائیڈ پر ٹینٹ لگا کر دو آدمیوں نے اس کا رستہ روکا تھا

“صاحب کدھر جانا ہے ؟؟جدھر جا رہے ہو ادھر کا راستہ بھی جانتے ہو ؟؟؟؟؟”

ان میں سے ایک نے پوچھا تھا

“مجھے اس جگہ جانا ہے،یہ اسی علاقے میں ہے نا ؟؟؟”

ساحل نے اس جنگل کے بیچوں بیچ پھپھوندی زدہ تالاب کی تصویر موبائل میں نکال کر دکھائی تھی

“ہاں مگر ادھر تمہارا کیا کام ؟؟؟یہ تو موت کی وادی میں ہے ۔۔۔”

ان دونوں کا رنگ اڑگیا تھا ان میں سے ایک بولا

“آپ دونوں میں سے کوئی ایک میرے ساتھ چلو پلیز”

ساحل نیچے اتر کر بولا تھا

“میں زمرد خان ہوں،میں چلا جاؤں گا مگر دو ماہ کی تنخواہ پیشگی لوں گا،پورے تیس ہزار”

ساحل واپس گاڑی میں گیا اور پورے سال کے حساب سے پیسے نکال کر اس کو تهما دیے جس پر وہ خوشی خوشی دوسرے بندے سے مصافحہ کر کے اس کے ساتھ ڈرائیور کے طور پر بیٹھ گیا

“پیسہ پھینک تماشہ دیکھ،پیسہ دیکھنے کی دیر ہے کوئی بھی مرد طوائف کا روپ دهار لیتا ہے”

ساحل نے زمرد خان کو دیکھ کر دل میں سوچا تھا

“وہاں بہت ٹھنڈ ہے صاحب گرم کپڑا لائے ہو ساتھ ؟؟؟”

وہ گاڑی سٹارٹ کرتے ہوۓ بولا تھا

“نہیں مگر لے لوں گا،میں اب سونا چاہتا ہوں”

وہ آنکھیں بند کر کے مختصر بولا تھا

وہ سو چکا تھا اب ایک بار پھر ماسوری والے خواب سے گھبرا کر اس كی آنکھ کھلی تھی وہ سخت بے زار تھا

“کچھ بہت برا ہونے والا ہے”

ساحل نے اپنے بال دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر سوچا تھا

باہر بارش بہت تیز تھی شاید یہ وہ ہی علاقہ شروع ہو چکا تھا رات کے دو بج رہے تھے

“بارش بہت تیز ہے صاحب ۔۔۔آگے گاڑی لے جانا ممکن نہیں ہے یہ پہاڑی علاقہ ہے یہاں جگہ جگہ کھائیاں ہیں اتنے خراب موسم میں رات کے اس پہر ایسے ایک انجان رستے پر جانا خطرے سے بلکل خالی نہیں ہوگا ۔۔۔ہمیں بارش رکنے کا انتظار کرنا ہوگا”

زمرد خان خاص پہاڑی حلیے میں ملبوس تھا وہ پیچھے بیٹھے ساحل کو مخاطب کر کے پریشانی سے بولا تھا جس کا ساحل پر زرہ بھی اثر نہیں ہوا تھا

“میں نے سنا ہے یہ علاقہ بارش کے لئے خاص مشہور ہے یہاں بہت کم ایسا وقت آتا ہے جب سورج نكلتا ہے تو پھر انتظار کر کے کیا ہوگا ؟؟؟؟”

وہ نيم غنودگی میں بولا تھا

“اب اس نشے میں دهت شخص کو کیسے سمجھاؤں”

زمرد خان نے اس پر ایک ناپسندیدہ سی نظر ڈال کر خود كلامی میں کہا تھا

“نشہ نہیں کرتا میں,بس وقت سے پہلے سب جان جاتا ہوں میں،حقیقت مد ہوش رکھتی ہے مجھے”

ساحل نے بڑبڑاتے ہوۓ کہا تھا جس پر زمرد خان کی ریڑھ کی ہڈی میں سرسراہٹ ہوئی تھی

بجلی بہت زوروں سے کڑکی تھی جس سے وہ پورا جنگل روشن ہوا تھا

مختلف پرندوں کے ایک ساتھ بولنے کی آواز اس طوفانی بارش میں بھی واضح طور پر کانوں کر پردے پھاڑ کر گزری تھی ۔۔۔

اس روشنی میں زمرد خان نے بہت سے جنگلی پرندوں کو اپنی گاڑی پر ہر جگہ بیٹھے دیکھا تھا جن کی کالی آنکھوں کا تعاقب اس کے پیچھے بیٹھا وہ شخص تھا جو اب بھی آنکھیں بند کیے تھا ۔۔۔

“صاحب ؟؟؟؟”

یہ سب کیا تھا ؟؟؟؟”

وہ چیخا تھا

“توجہ سے گاڑی چلاؤ ۔۔۔۔ایک سال کی سیلری تم ایڈوانس میں لے چکے ہو اب خاموشی سے سب ہوتا دیکھو ۔۔۔مزيد کوئی سوال نہیں ۔۔۔سمجھے ؟؟؟؟؟”

ساحل نے ایک دم سے آنکھیں کھول کر جنونی انداز میں کہا تھا

زمرد خان نے جیسے ہی ساحل سے نظریں ہٹا کر سامنے دیکھا ایک بڑا سا درخت گاڑی کے عين سامنے آ کر گرا تھا ساتھ ہی اب بارش کے ساتھ ہوا کا طوفان شامل ہوا تھا جس نے اس منظر کو مزيد خوفناک بنا دیا تھا ۔۔۔

۔************

صبح جينی اٹھی تو وہ کافی حد تک نارمل ہو چکی تھی

“اماں آج سے میں بھی آپ کے ساتھ کام پر جایا کروں گی”

وہ چادر اوڑھتی بولی تھی

تیرا کیا کام بیٹا لوگوں کے گھروں میں ؟؟؟میں تین گهروں میں جاتی ہوں ہر جگہ تمہیں کیسے لئے لئیے گھوموں گی ہیں ؟؟؟؟”

سکھاں ناشتے کے برتن سمیٹتی ہوئی بولی تھی

“بس اماں کچھ نہیں ہوتا،آپ کا ہاتھ بٹا دوں گی”

وہ بضد تھی سکھاں سمجھ گئی تھی اب یہ نہیں مانے گی

“اچھا چلو پھر کرو ذلیل خود کو”

دونوں ماں بیٹیاں چادر اوڑھے کمرے کو تالا لگا کر نکل گئی تھیں

دو گهروں میں کام کر کے اب وہ تیسرے گھر میں پہنچ گئی تھیں

“باجی یہ میری بیٹی ہے”

سکھاں نے جاتے ہی خوش آمدی لہجے میں کہا تھا

“دیکھو سکھاں میں خود بھی بیٹیوں والی ہوں اور میرے جوان دو دو بیٹے بھی ہیں میں نہیں چاہتی تمہاری اتنی پیاری اور معصوم بچی کو یہاں کسی قسم کی پریشانی ہو میرا اوپر والا پورشن بلکل خالی پڑا ہے تمہیں اس کی چابی دے دیتی ہوں تم اپنی بیٹی کو سیدھا اوپر لے جایا کرو ادھر پنکھا اور لائٹ بھی ہے ویسے تو جتنی ادھر ہر وقت بارش ہوتی ہے پنكھا شاید ہی کوئی چلاتا ہوگا ۔۔۔جب تمہیں کھانا دوں گی تو بیٹی کے ساتھ اوپر لے جا کر کھا لیا کرنا ٹھیک ہے ؟؟؟”

وہ بہت شفیق عورت لگی تھی جينی کو اس نے جينی کے سر پر پیار دے کر اس کا نام پوچھا تھا

“جیسمين “

جينی نے خوش ہو کر بتایا تھا

“مگر میں تو اس کو جينی کہتی ہوں باجی مجھے تو یہی اچھا لگتا ہے”

سکھاں فورا بولی تھی

“چلو بیٹا میں نماز پڑھ لوں تم بھی پڑھ لو اوپر جائے نماز رکھا ھوا ہے”

وہ عورت جس کا نام نسرين بيگم تھا اپنی موٹی عینک ٹھیک کرتی ہوئی اٹھتے ہوۓ بولی تھیں