Tehreer by Jameela Nawab Readelle 50381

Tehreer by Jameela Nawab Readelle 50381 Tehreer Episode 18 (Last Episode Part1)

275.2K
19

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tehreer Episode 18 (Last Episode Part1)

Tehreer by Jameela Nawab

باہر تیز بارش ہو رہی تھی ۔ساحل فجر پڑھ کر اب ٹکٹکی باندھے ہسپتال کی کھڑکی میں کھڑا بارش کو دیکھ رہا تھا۔

“یا اللّه میں کون ہوں ؟؟؟؟مجھے کچھ یاد کیوں نہیں آرہا ؟؟؟وہ کون لوگ ہیں جو مجھ سے جڑے ہیں جن کی زندگی میرے آج کی وجہ سے گزرے ہوۓ کل میں اٹکی ہوئی ہے ؟؟؟”

ساحل دل ہی دل میں رب سے ہمکلام ہوا تھا۔

ساحل بے چین سا کھڑا تھا جب زمرد خان صبح کا ناشتہ لے کر اندر آیا تھا۔

“صاحب ناشتہ کر لیں”

زمرد ناشتہ سلیقے سے ٹیبل پر لگا کر ساحل سے مخاطب ہوا تھا۔

ساحل نے زمرد کو بھی اپنے ساتھ ناشتہ کرنے کا کہا جس پر زمرد خان تھوڑا سا حیران بھی ہوا۔

خاموشی سے ناشتہ کیا گیا۔

“صاحب آج کی طبیعت تو کافی بہتر لگ رہی ہے مگر آپ کافی پریشان لگ رہے ہیں،وجہ جان سکتا ہوں؟”

زمرد خان ناشتے کے خالی ڈسپوزبل برتن ڈسٹ بِن میں ڈالتے ہوۓ پوچھا تھا۔

“یار بہت تهک چکا ہوں،زندگی کا کوئی سرا نہیں مل رہا،میں نے بہت کوشش کی ہے مگر مجھے کچھ یاد نہیں آتا”

ساحل بے بس سا بولا تھا

“ارے کوئی بات نہیں ساحل صاحب ہم ہیں نا آپ کو سب یاد کروانے کے لئے”

ڈاکٹر حمزہ کے ساتھ ایک صاحب اندر آکر پرجوش سے گویا ہوۓ تھے۔

“یہ ڈاکٹر طاہر ہیں،یہ بہت اچھے ماہر نفسيات ہیں،یہ یقینأ آپ كی مدد کر سکتے ہیں”

ڈاکٹر حمزہ کا انداز بھی پرجوش اور پر امید تھا

“تو مسٹر ساحل کیا آپ تیار ہیں،آج کے ہمارے پہلے سیسشن کے لئے ؟؟”

ڈاکٹر طاہر نے ساحل کی فائل میں موجود ایم۔آر۔آئی اور سٹی۔سکین کی رپورٹس باغور دیکھتے ہوۓ کہا تھا۔

“میں آپ کو بتاتا چلوں کہ میں ماہر نفسيات ہونے کے ساتھ ساتھ روحانی علم بھی تھوڑا بہت رکھتا ہوں لہذا آپ کو بس اتنا کرنا ہوگا کہ مجھ پر بھروسہ کرتے ہوۓ اپنا آپ مکمل طور پر میرے حوالے کرنا ہوگا۔۔۔۔۔۔کين یو ؟؟؟”

ڈاکٹر طاہر کی آواز اب ساحل کو پہلے سے بھاری اور ان کی آنکھوں میں عجیب سی پراسراریت محسوس ہوئی تھی۔

ساحل کے سر میں ایک دم تیز درد ہوا تھا ۔اس نے آہ کے ساتھ اپنا سر دونوں ہاتھوں میں قيد کر لیا تھا۔

“یہ پہلے سیشن کے لئے بھرپور وقت ہے ڈاکٹر حمزہ ان کو جلدی سے تھیراپی روم میں شفٹ کریں،میں تیاری کرتا ہوں،کوئیک”

ڈاکٹر طاہر جو موٹی سی پرانے طرز کی گلاسیز لگائے ہوۓ تھے تیزی سے کہہ کر کمرے سے باہر نکلے تھے۔

حمزہ نے زمرد خان كی مدد سے ایک طرف سے پکڑ کر تھیراپی روم میں شفٹ کیا تھا۔

وہ ایک تنگ سا گھٹن زدہ کمرہ تھا جہاں بس مریض اور ڈاکٹر کے بیٹھنے کی ہی گنجائش تھی۔ساحل کو ایک باریک سے سڑیچر نما بیڈ پر لیٹا کر ڈاکٹر طاہر نے اس کے ماتھے کے دونوں طرف کن پٹیوں پر اس کے سر کے پچھلی طرف کچھ خاص پلگ لگا کر اب اس کی شرٹ کے بٹن کھول کر اس کی شرٹ اتار کر اس کے سینے پر بھی اسی طرح کی برقی تاریں جوڑ دی تھیں۔

ساحل بے بس سا خود کو اس کے حوالے کر چکا تھا۔ڈاکٹر حمزہ اور زمرد خان باہر بیٹھ کر بس اس کے لئے دعا مانگ رہے تھے۔

سب ترتیب دینے کے بعد ڈاکٹر طاہر نے ساحل کو آنکھیں کھول کر اپنی طرف دیکھنے کا کہا تھا۔ساحل جو کہ سر درد سے بے حال ہو رہا تھا وہ بمشکل آنکھیں کھولے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔

“میری آنکھوں میں غور سے دیکھو،جو جو نظر آتا ہے مجھے بتاؤ”

ڈاکٹر طاہر نے گلاسز اتاری اور اتنا کہہ کر اب مسلسل کچھ پڑھنے لگے تھے ساحل کبھی ان كی لال ہوتی موٹی آنکھوں کو دیکھتا کبھی ان کے مسلسل ہلتے ہونٹوں کو،یہ سب اتنی تیزی سے ہو رہا تھا کہ ساحل کے سر کا درد اب برداشت سے باہر ہونے کو تھا،وہ مزيد آنکھیں کھلی نہیں رکھ پا رہا تھا”

“ہمت کرو ساحل،میری آنکھوں میں دیکھتے رہو آنکھیں بند نہیں کرنی۔کم آن ساحل یو کین ڈو اِٹ”

ڈاکٹر طاہر ایک بار پھر بھاری آواز میں بولے تھے۔

“آپ ۔۔۔۔آپ كی آنکھوں میں مجھے بہت سے لوگ نظر آرہے ہیں۔۔۔۔یہ ۔۔۔یہ مجھے اپنے پاس بلا رہے ہیں ۔۔۔میں ۔۔۔میں ان کو نہیں جانتا”

ساحل کسی معصوم بچے کی طرح رک رک کر سہم کر بولا تھا۔

“ان کی بات سنو ساحل یہ جو کہہ رہے ہیں مجھے بتاؤ،میری آنکھوں سے اپنی نظریں مت ہٹنے دو پلیز”

ڈاکٹر طاہر تیزی سے بولے تھے

“وہ ۔۔۔سب مل کر کچھ کہہ رہے ہیں بہت بہت شور ہے میں کچھ سمجھ نہیں پا رہا ڈاکٹر،میرا سر ۔۔۔۔میرا سر پھٹ جائے گا درد سے”

ساحل کی آنکھوں میں اب تکلیف کی شدت سے پانی آگیا تھا۔

“ان میں سے کسی ایک کو دیکھو اس کی بات سننے كی کوشش کرو”

ساحل نے ان میں سے ایک بوڑھے آدمی کی بات کو سننے كی کوشش كی تھی

“ساحل بیٹا واپس آجاؤ ہماری مسجد میں گھاس اگ آئی ہے اس کو ہم چاہ کر بھی آباد نہیں کر سکتے،تم آؤ گے تو مل کر پہلے اس کی صفائی کریں گے پھر تمہاری امامت میں اس رب کو سجده کریں گے”

وہ بوڑھا ہچکیوں سے روتا ہوا اپنا چہرہ اپنی چادر سے صاف کرتا ہوا بول رہا تھا ساحل اس سے مزيد الجھا تھا۔

“آپ آپ کون ہیں ؟؟؟اور ۔۔۔اور مجھے کیوں بلا رہے ہیں اپنے پاس ؟؟؟؟”

ساحل کرب سے چینخا تھا

اس کی آواز سن کر ڈاکٹر حمزہ اندر کی طرف دوڑ کر آئے تھے مگر ڈاکٹر طاہر نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا تھا۔

“ساحل اب کسی دوسرے كی بات پر توجہ دینے كی کوشش کرو فاسٹ”

ڈاکٹر طاہر اپنی پڑھائی میں تھوڑا وقفہ دے کر فوراً بولے تھے

“ساحل بیٹا ہم بہت مشکل میں ہیں ہماری مدد کرو”

ایک اور شخص روتے ہوۓ بولا تھا

“میں ایک مجبور اور بے بس انسان اپنی پہچان تک کھو چکا ہوں میں کسی کی کیا مدد کر سکتا ہوں ؟؟؟؟؟”

“میں ۔۔۔۔۔میں تو اپنی مدد نہیں کر سکتا۔۔۔”

ساحل اب اپنے دونوں ہاتھ چہرے پر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا تھا۔ڈاکٹر طاہر نے پڑھائی مکمل کر کے اس پر پھونک کر اس سے لگی برقی مشین بند کردی تھیں۔

“ان کو روم میں لے جایئں”

ڈاکٹر طاہر نے ڈاکٹر حمزہ کو اشارہ کرتے ہوۓ کہا اور وہ اپنے کیبن میں چلے گئے۔

ڈاکٹر حمزہ نے ساحل کو گلے لگا لیا اور جی بھر کر رونے دیا۔پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر وہ اسے اس کے بیڈ تک لے آیا زمرد خان کو ان کے پاس بیٹھا کر خود ڈاکٹر طاہر کے پاس چلا آیا۔

“کیا لگتا ہے آپ کو یہ تھیراپی کچھ ہیلپ فُل ثابت ہوگی ؟؟؟”

حمزہ کرسی پیچھے کو کھینچ کر بیٹھتے ہوۓ بولا تھا ڈاکٹر طاہر بال پوائنٹ کی نوک ٹیبل پر موجود کاغذ پر ٹکائے اسے بغور دیکھتے ہوۓ گہری سوچ میں لگ رہے تھے۔

“ڈاکٹر طاہر ؟؟؟”

حمزہ کو انھیں دوبارہ مخاطب کرنا پڑا تھا۔

“جی ۔۔جی ۔۔۔ڈاکٹر حمزہ ۔۔۔آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میری پہلے تھیراپی میں مجھے اتنی نا امیدی کا سامنا کرنا پڑا ہو”

ڈاکٹر طاہر ہنوز بال پوائنٹ پر نظریں جمائے پر سوچ انداز سے بولے تھے۔

“پھر کیا کریں ان کو ان کے آبائی گاؤں لے جایئں ؟؟؟اس سے کوئی فرق پڑ سکتا ہے ؟؟”

حمزہ نے نیا نقطہ اٹھایا تھا۔

“ان کو جسمانی طور پر کہیں لے کر جانا فلحال بے سدھ ہوگا،آپ ایسا کریں ان کو دو گھنٹے کے لئے نیند کا انجکشن لگا دیں پھر تھیراپی روم میں دوبارہ لے کر آجائیں”

ڈاکٹر حمزہ نے ڈاکٹر طاہر کی بات پر عمل کیا اور دو گھنٹے کے ریسٹ کے بعد ساحل کو تھیراپی روم میں پہنچا دیا۔

ڈاکٹر طاہر نے وہ ہی سب دوہرایا اور ساحل کو اپنی آنکھوں میں دیکھنے کا کہا۔نیند لینے سے ساحل کا سر درد کافی بہتر ہوا تھا۔وہ نسبتأ زیادہ توجہ سے ڈاکٹر طاہر کی بات پر عمل کر رہا تھا۔

ڈاکٹر طاہر نے کچھ پڑھا اور ساحل پر پھونک دیا اب ساحل دوبارہ ڈاکٹر طاہر کے مسلسل ہلتے ہونٹ اور لال ہوتی آنکھیں دیکھ رہا تھا۔

ساحل خاموشی سے اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔

“کیا نظر آ رہا ساحل مجھے ایک ایک بات بتاؤ”

ڈاکٹر طاہر تیزی سے بولے تھے۔

“ایک گھنا جنگل ہے۔۔۔۔دو کمرے ہیں ۔۔۔ایک کم عمر لڑکی نماز پڑھ رہی ہے”

ساحل مسرور سا بولا تھا۔

“اس کی بات سنو وہ تم سے کیا کہہ رہی ہے ؟؟؟”

ڈاکٹر طاہر چلا کر بولے تھے۔

“ششش۔۔۔۔۔”

“وہ میری طرف دیکھ ہی نہیں رہی وہ بہت مگن ہو کر دعا کر رہی ہے اب ڈاکٹر”

ساحل نے سرگوشی میں اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر جواب دیا تھا۔

“وہ کیا کہہ رہی ہے اللّه سے اس کی بات سن کر مجھے بتاؤ”

ڈاکٹر طاہر نے بھی سرگوشی میں کہا تھا۔ساحل اب اس لڑکی کے ہلتے ہونٹ پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کرنے لگا تھا۔

# سورہ_اخلاص

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

_بِسْمِ اللہِ الرّٰحْمٰنِ الرّٙحِیْمِ_

# قُلۡ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ‌ ۞

آپ کہہ دیجئے کہ وه اللہ تعالیٰ ایک (ہی) ہے

# اَللّٰهُ الصَّمَدُ‌ ۞

اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے

# لَمۡ يَلِدۡ ۙ وَلَمۡ يُوۡلَدۡ ۞

نہ اس سے کوئی پیدا ہوا نہ وه کسی سے پیدا ہوا

# وَلَمۡ يَكُنۡ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۞

اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے۔

ساحل نے یہ سب دوہرایا۔یہ سب کہنے کی دیر تھی اب سامنے کا منظر بدل گیا تھا۔وہ ساتھ ساتھ سب ڈاکٹر طاہر کو بتارہا تھا۔

یہ ایک مسجد تھی جہاں بہت سے بچے ہل ہل کر جھوم کر سپارہ ہاتھ میں پکڑے سبق یاد کررہے تھے۔

“شاباش ساحل اب مجھے بتاؤ ان بچوں میں سے تم کسی کو پہچانتے ہو ؟؟؟”

ڈاکٹر طاہر نے بلند آواز میں پوچھا تھا۔

ساحل اب ان تمام بچوں کو غور سے دیکھنے لگا مگر ایک بچے پر اس کی نگاہ رک سی گئی تھی۔وہ بچہ خالی ہاتھ پریشان سا کبھی سب بچوں کو تو کبھی ساحل کو دیکھتا اور اپنے انگلیاں چٹخانے لگتا۔

“تم ۔۔۔تم خالی ہاتھ کیوں بیٹھے ہو سپارہ کدھر ہے تمہارا؟؟”

ساحل نے چلا کر پوچھا تھا۔جس پر اس بچے نے ایک طرف مسجد کی کھلی کھڑکی کی طرف اشارہ کیا تھا۔جہاں ساحل نے ایک کالا سایہ کھڑا دیکھا تھا۔

“میرا سپارہ ان کے پاس ہے ساحل انکل،آپ لا دیں گے پلیز”

وہ بچہ آنکھیں ملڈتا ہوا آہستہ آہستہ بولا تھا۔

“میں کیسے لا کر دوں سپارہ میں تو ادھر ہوں خود جا کر لے لو”

ساحل نے خود کو بےقرار اور کشمکش میں محسوس کیا تھا۔

“ساحل تم اندر جا سکتے ہو تم خود کو محسوس تو کرو تم بھی وہی ہو خود کو ڈھونڈو”

طاہر نے فوراً تیزی سے کہا تھا ۔

ساحل خود کو اب وہاں تلاش کرنے لگا مگر اسے اپنا آپ کہیں نظر نا آیا

وہ بچہ اب رونے لگا تھا۔

“آپ ادھر ہی تو ہیں انکل وہ دیکھیں”

اس بچے نے دوسری طرف اشارہ کیا تھا۔ساحل نے اس طرف دیکھا تو وہ ہی بچہ کھڑا مسکرا رہا تھا۔اتنے میں قاری صاحب نے اسے آواز دی تھی۔

“ساحل بیٹا میں آپ کے ابو مولوی احمد سے آپ کی شکایت کروں گا آپ نے اپنا سپارہ کیوں اس آدمی کو دے دیا ہے اور اب واپس بھی نہیں لے رہے”

قاری صاحب بول اس چھوٹے بچے سے رہے تھے مگر دیکھ ساحل کو رہے تھے”

“قاری صاحب میری امی زاہرہ کو تو نہیں بتائیں گے نا جو مجھے اور ثاقب بھائی کے مستقبل کی فکر میں سسک سسک کر اس دنیا سے چلی گئی تھیں ؟؟اور میری امی ثوبیہ کو بھی نہیں بتانا جنہوں نے مجھے میری سگی ماں سے بڑھ کر پالا”

وہ بچہ بھی مسلسل ساحل کو دیکھ رہا تھا۔

“تم لوگ کون ہو ؟؟؟اور مجھے کیوں اس طرح دیکھ رہے ہو ؟؟؟”

ساحل کرب سے روتے ہوۓ چیخا تھا۔

“وہ دیکھو تمہاری ماں کا جنازہ جا رہا ہے ساحل”

اس قاری نے ساحل پر نظریں ٹکائے ہاتھ کے اشارہ سے کہا تھا ۔

اب منظر بدلا تھا بہت سے لوگ جنازہ لے کر جا رہے تھے۔اب میت کو جناز گاہ میں رکھا جا چکا تھا۔ساحل کی آنکھوں سے زار و قطار آنسو بہہ رہے تھے۔

“کیا دیکھ رہے ہو ساحل تم اس طرح رو کیوں رہے ہو ؟”

ڈاکٹر طاہر نے پوچھا تھا

“پتہ نہیں ڈاکٹر کسی کی ماں کا جنازہ پڑھایا جا رہا ہے میرا دل پتہ نہیں کیوں غمزدہ ہوگیا ہے یہ سب دیکھ کر”

وہ آنسو كف سے صاف کرتا ہوا ہچکی لے کر بولا تھا۔

“جا کر میت کا چہرہ دیکھو کون ہے ؟؟”

ڈاکٹر طاہر نے لمبی سانس کھینچ کر کہا تھا۔

ساحل جنازہ پڑھائے جانے کے بعد ایک لڑکے کو اس عورت کی چارپائی سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر روتے دیکھا تھا۔اس کا سر چارپائی کے ساتھ نیچے کو جھکا ہوا تھا وہ جو بھی تھا سب اسی کو دلاسا دے رہے تھے۔

“ساحل بیٹا آخری دیدار کرلو پھر میت کو دفنانا ہے”

کسی نے اس لڑکے کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا۔

“ساحل ؟؟؟؟؟”

“یہ میرا نام کیوں لے کر اس لڑکے کو مخاطب کر رہے ہیں”

ساحل کو گھبراہٹ سے پسینہ آیا تھا مشین کی بيپ بج کر الگ سے ساحل کے دل کی دھڑکن کنٹرول سے باہر ہونے کا بتانے لگی تھی۔

ڈاکٹر طاہر نے جلدی سے ساحل کو انجکشن لگایا تھا جو وہ پہلے سے ہی تیار کر کے ہاتھ میں پکڑے ہوۓ تھے۔ساحل کے جسم کو جھٹکے لگنے لگے تھے۔

اس لڑکے نے اس میت کے چہرے سے كپڑا ہٹایا تو اس کا چہرہ دیکھتے ہی ساحل کی حالت غیر ہوگئی تھی اس کے ساتھ لگی ساری مشینیں اب بولنے لگی تھیں۔ڈاکٹر حمزہ بھاگ کر اندر آئے تھے۔دونوں نے فوری طور پر ڈرپ میں مختلف قسم کے انجکشن ڈال کر ساحل کے جسم کو قابو کیا تھا جو اب بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپنے لگا تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ ہوش کی دنیا سے بیگانہ ہو چکا تھا۔

وارڈ بوئے کو بلا کر اسے وارڈ میں شفٹ کرواکر وہ دونوں اب پھر سے کمرے میں آ گئے تھے۔

“یار یہ سیشین اچھا رہا اب وہ ہوش میں آتا ہے تو ضرور کچھ نا کچھ یاد آ چکا ہوگا اسے،اپنی ماں کو دیکھ کر اس کی جو حالت ہوئی تھی اس سے یہی اندازہ ہوا ہے مجھے کہ اس کا دماغ ماضی کو کھوجنے لگا ہے”

ڈاکٹر طاہر پر امید نظر آ رہے تھے۔

“یاد آیا ۔۔۔۔يس ۔۔۔،يس ۔۔۔تم بتا رہے تھے ولی کومہ میں ہے وہ ہمارے کام آ سکتا ہے،اس کے یہاں لانے کا بندوبست کرو فورا”

ڈاکٹر طاہر جوش سے کھڑے ہو گئے تھے۔

“مگر وہ جو ایک لمبے عرصہ سے برقی مشینوں کے رحم و کرم پر سانسیں لے رہا ہے وہ کیا مدد کرے گا ہماری ڈاکٹر ؟؟؟”

ڈاکٹر حمزہ الجھ کر بولے تھے۔

“یہ کھیل روحوں کا ہے حمزہ،اس کا جسم مشینوں نے زندہ رکھا ہے مگر روح تو آزاد ہے نا روح کو کبھی موت نہیں آتی وہ تو بس انتقال کرتی ہے دنیا سے آسمان کی طرف،ولی ساحل کا ماضی کافی حد تک جانتا ہے خاص کر وہ ماضی جو ندی کے شفاف پانی کی طرح پاک ہے۔۔۔ساحل کو یہ بتانا بہت ضروری ہے کہ وہ برا انسان نہیں تھا بلکہ سب اس کالی منفی طاقت کی چال ہے،جس وقت ساحل خود کے بارے میں نیک خیالات سوچنے لگے گا پھر اس کو کوئی نہیں ہرا سکتا،اپنے بارے میں نيک گمان رکھنا شیطان کی پہلی ہار ہوتی ہے،خود کو عزت دینا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا باقی رشتوں کو،سب سے پہلا حق آپ پر آپ کی اپنی ذات کا ہوتا ہے سب سے پہلے خود کو عزت دینا اہم ہے ڈاکٹر جو ساحل کھو چکا ہے”

ڈاکٹر طاہر ٹیبل پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے وثوق سے بول رہے تھے۔

“ٹھیک ہے وہ قریبی سركاری ہسپتال میں ہے میں شام تک اس کو یہاں شفٹ کروا لوں گا”

ڈاکٹر حمزہ یہ کہہ کر باہر نکل گئے تھے۔

۔**********

شام کے آٹھ بج رہے تھے باہر بارش نے جل تھل مچا رکھی تھی۔ساحل اور زمرد خان نے مل کر کھانا کھایا تھا اب ساحل گم سم سا کھڑا باہر ہوتی بارش کو دیکھ رہا تھا ۔

“بیٹا باہر مت جاؤ بارش بہت تیز ہے،پتہ ہے نا آپ کی مما کو آپ کے بغیر نیند نہیں آتی ؟؟؟ساحل مما کی جان ۔۔۔۔آپ کہاں ہیں ؟؟؟رکو رکو ۔۔۔۔”

ساحل کو اپنا بچپن کسی فلم کی طرح اس بارش میں نظر آ رہا تھا وہ ثوبیہ اپنی ماں کو پہچان چکا

تھا۔وہ دونوں بارش میں بھیگتے ہوۓ آگے پیچھے بھاگ رہے تھے۔دونوں کے قہقے اس بارش میں بھی کھنک پیدا کررہے تھے۔گول مٹول سا ساحل اپنی پوری قوت سے دوڑ لگا دیتا ثوبیہ گلے میں دوپٹہ ڈالے اس کے پیچھے بھاگتی ہوئی اسے فورا پیٹ سے پکڑ لیتی پھر وہ دونوں خوشی سے قہقے لگا کر ہنسنے لگتے۔

“امی ایک بار اور ۔۔۔”

ساحل کہہ کر پھر سے بھاگا تھا مگر ماں کی آواز پر رکا تھا۔

“ساحل آپ کے اباں جان آ گئے ہیں چلیں اندر”

ثوبیہ گھبرا کر بولی تھی

“ارے اندر کیوں ؟؟اب میرا بیٹا پاپا کے ساتھ بارش میں کھیلے گا”

اس بات سے سب کا اجتماعی قہقہہ بلند ہوا تھا۔

اب احمد صاحب بھی ان دونوں کے ساتھ بارش میں کھیل رہے تھے۔

ساحل کا چہرہ آنسوؤں سے مکمل بھیگ گیا تھا۔

“میری امی ۔۔۔میرے ابو ۔۔۔”

وہ زیر لب بڑبڑاتا ہوا کھڑکی کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر رو دیا تھا۔

“ابو ؟؟؟؟امی ؟؟؟؟”

وہ چیخ کر کہتا ہوا باہر کی طرف بھاگا تھا مگر سامنے سے آتے ڈاکٹر حمزہ اور ڈاکٹر طاہر نے اسے پکڑ کر واپس بیڈ پر بیٹھا دیا تھا۔

“ان کے اٹینڈنٹ کدھر ہیں ؟؟؟ان کو اکیلا کیوں چھوڑ رکھا ہے ؟؟”

ڈاکٹر طاہر نے غصے سے ڈاکٹر حمزہ کو پوچھا تھا۔

“صاحب میں ان کے ساتھ ہی تھا بس ابھی واش روم گیا ہی تھا”

زمرد خان نے فورا اپنی صفائی میں کہا تھا۔

“ڈاکٹر حمزہ آپ ساحل کو آئی۔سی ۔یو میں لے کر آئیں میں ادھر ہی جا رہا ہوں”

ڈاکٹر طاہر نے ولی کے پاس ساحل کو لانے کا کہا تھا جہاں پردہ آگے کر کے ولی کو ایک طرف چھپا کر رکھا گیا تھا۔

“ساحل آپ ٹھیک ہیں کیا دیکھا آپ نے وہاں ؟؟”

ڈاکٹر حمزہ نے پیار سے ساحل کو بیڈ پر بیٹھا کر پوچھا تھا جو کسی بچے کی طرح اپنی آنکھیں صاف کر رہا تھا۔

“امی ۔۔۔۔۔ابو ۔۔۔تھے وہاں ۔۔۔۔اور کچھ یاد نہیں آ رہا ۔۔۔ ڈاکٹر میں بہت تھک گیا ہوں”

ساحل بھرائی ہوئی آواز میں بولا تھا

“آج نماز پڑھی ہے ؟؟”

حمزہ نے اس کا دھیان بدلنے کی کوشش کی تھی۔

“جی ڈاکٹر ساری ۔۔۔پڑھی ہیں ۔۔۔ مگر ۔۔۔مگر سکون نہیں مل رہا ۔۔۔ایسا لگ رہا ہے کچھ اور بھی ہے جو میں بھول رہا ہوں،مگر سمجھ میں نہیں آتا ۔۔بہت کوشش کرتا ہوں پھر بھی یاد نہیں آتا “

وہ ایک بار پھر رو دیا تھا ڈاکٹر حمزہ کو اس کی معصومیت پر جی جان سے پیار آیا تھا۔

“سب ٹھیک ہو جائے گا ساحل بھائی ۔۔۔بس جب ہماری برداشت کی انتہا ہونے لگے تو سمجھ جاؤ آزمائش ختم ہونے والی ہے،اللّه کبھی بھی ہم پر ہماری برداشت سے زیادہ کا بوجھ نہیں ڈالا جاتا،چلیں میرے ساتھ”

ڈاکٹر حمزہ ساحل کی کمر کے گرد ہاتھ رکھ کر اسے اپنے ساتھ آئی۔سی ۔یو میں لے آئے تھے جہاں ڈاکٹر طاہر انہی کے منتظر نظر آئے تھے۔

ساحل کو بیڈ پر لیٹ جانے کا کہہ کر ڈاکٹر حمزہ ڈاکٹر طاہر کے پاس آئے تھے۔

“کیا سین ہے ڈاکٹر،آپ ان دونوں کے ساتھ کیا کرنے والے ہیں ؟؟”

ڈاکٹر حمزہ نے راز داری سے پوچھا تھا۔

“ان دونوں کی روح کو میں ماضی میں ساتھ میں بھیجنے والا ہوں،یہ ولی کو نہیں جانتا مگر ولی اس کو جانتا ہے وہ بس اس کے ساتھ رہے گا اور ضرورت پڑنے پر اس کے سامنے آکر اس کی مدد کرے گا”

“مگر ولی کی روح اس کی مدد کرے گی اس بات كی کیا گارنٹی ہوگی ؟؟؟”

حمزہ نے کچھ سوچ کر پوچھا تھا۔

“آپ نے بتایا تھا کہ ساحل کے خواب میں آ کر یہ لڑکا بار بار کتوں سے بھاگتا ہوا ساحل سے مدد مانگ چکا ہے،اس کا مطلب یہی ہوا یہ بھی انہی لوگوں میں سے ہے جو ساحل کو ماضی یاد کروانا چاھتے ہیں،اس کا مطلب صاف ہے کچھ ہے جس کی وجہ سے اس لڑکے کی روح بھی ماضی میں اٹک کر رہ گئی ہے یہی وجہ اس کو ابھی تک کومے میں رکھے ہوئی ہے،تو بات یہ ہے کہ یہ ساحل کی مدد ضرور کرے گا”

ڈاکٹر طاہر کافی پُر امید تھے۔

“میں نے آپ کو ساحل كے والدین،بھائی اور اپنے گاؤں کے لوگوں اور ماسوری سے جڑی ساری کہانی بتا دی تھی ڈاکٹر،کچھ پوچھنا ہے تو آپ مزيد پوچھ سکتے ہیں”

ڈاکٹر حمزہ کھڑے ہو کر بولے تھے جس کا جواب ڈاکٹر طاہر نے نہیں کہہ کر ہاتھ سے اشارہ کر کے دیا تھا ۔

“میرے لئے اس سے زیادہ جاننا ضروری نہیں،اس کو اپنی جنگ خود لڑنی ہے،سب ختم ہوگیا یہ اس کے چہرے کا سکون بتائے گا مجھے”

“اوکے ۔۔۔چلیں شروع کرتے ہیں”

ڈاکٹر حمزہ کہہ کر ساحل کے پاس آ کر بیٹھ گیا تھا۔جو آنکھیں بند کئیے لیٹا ہوا تھا۔

“اٹھ کر بیٹھ جایئں اور اس کی طرف غور سے دیکھیں”

ڈاکٹر طاہر نے ہیپنوٹائزر ساحل کی آنکھوں کے سامنے آگے پیچھے کرتے ہوۓ کہا۔ساحل نے اس پر عمل کیا۔

بمشکل پانچ منٹ ساحل کو اس کی طرف دیکھتے ہوۓ گزرے ہونگے جب ڈاکٹر طاہر نے ہاتھ کی دو انگلیوں سے چٹکی بجائی اور ساحل نے ایک دم سے آنکھیں بند کرلی اور ڈاکٹر حمزہ نے جلدی سے اسے سہارا دے کر آرام سے لیٹا دیا۔

دوسری طرف پردہ ہٹا کر ڈاکٹر طاہر نے ولی کو ساحل کے آمنے سامنے کیا تھا۔

“پتہ کیسے چلے گا سب ٹھیک ہے اور دن کی طرح ساحل کی طبیعت نہیں بگڑے گی؟”

حمزہ نے پوچھا تھا۔۔۔۔۔۔