275.2K
19

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tehreer Episode 14

Tehreer by Jameela Nawab

ساحل اور مولوی احمد ابھی ابھی مسجد سے نماز پڑھ کر گھر آۓ تھے جہاں ثوبیہ رات کا کھانا بناکر ان کی منتظر تھی۔

اب وہ تینوں نیچے دسترخوان بچھائے رات کا کھانا

کھا رہے تھے۔

“ثوبیہ کل فجر کے بعد ہم دونوں میلے کے لئے نکلیں گے پاس کے گاؤں میں بابا جی کے مزار پر بہت دور دور سے لوگ اكهٹے ہونگے بس غریب عوام نے جھولے اور رنگ رنگ کے ٹھیلے لگا دیئے اور اس ملاقات کو میلے کی شکل دے دی ہے،تیاری کرلو میری اور ساحل کی”

مولوی احمد کھانا کھاتے ہوۓ ساحل کے چہرے پر میلے پہ جانے کی خوشی دیکھتے ہوۓ گرم جوشی سے کہہ رہے تھے

“ٹھیک ہے مولوی جی،میرا بیٹا تو بہت خوش لگ رہا ہے”

وہ ساحل کے کھلتے چہرے پر پیار کرتے ہوۓ بولی تھیں

“جی امی مجھے بہت شوق ہے ایسی جگہ پر جانے کا”

وہ پرجوش سا بولا تھا

کھانا کھانے کے بعد وہ تینوں بہت اچھے ماحول میں باتیں کرتے رہے

“چلو بیٹا اب سوتے ہیں”

ثوبیہ نے کہا تھا

“امی میں تھوڑی دیر پینٹنگز بناؤں گا پھر سوجاؤں گا”

“بس آج کی تصویر بنا لوں پھر آتا ہوں”

ساحل کچن کے ساتھ بنے ہوۓ چھوٹے سے کمرے میں جاتے ہوۓ بولا تھا

“اللّه جانے کیا ملتا ہے ساحل کو یہ عجیب و غریب لوگوں کی تصویریں بنا کر”

ثوبیہ ساحل کو جاتے ہوۓ دیکھ کر مولوی احمد کو کہہ رہی تھی

“بہت سمجھ دار ہے ہمارا بیٹا بهلی مانس”

وہ محبت سے مسکرا کر بولے تھے

ساحل نے کچھ وقت اس کمرے میں کچھ بنایا پھر واپس آ کر ماں کے ساتھ سو گیا

صبح فجر کے فورا بعد وہ تینوں گدھا گاڑی میں روانہ ہو چکے تھے میلے والا گاؤں بہت زیادہ دور نہیں تھا تین سے چار گھنٹے لگے تھے ان کو اس مزار پر پہنچنے میں جہاں لوگوں کا سمندر ٹھاٹھے مار رہا تھا

اس میلے میں زیبا اپنی دونوں بیٹیوں زویا مایا اور اپنے شوہر ولی کے ساتھ آئی تھی

بہت عجیب سا منظر تھا ایک طرف دو جڑواں قبریں جن پر عالی شان گنبد نما کمرہ اور اس کے آگے بڑا سا کشاده صحن بنایا گیا تھا اس پوری جگہ کو کسی دلہن کی طرح سجایا گیا تھا تو دوسری طرف اس سے تھوڑا سا ہٹ کر ایک بڑا قبرستان تھا جس کے اندر جگہ جگہ یہ میلا منقعد کیا گیا تھا ۔۔۔

ایک طرف قبریں تھیں جہاں اونچا بولنا اور قہقہ لگانے کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے بیشک قبرستان تو عبرت اور غورو غوث کرنے کی جاء ہے مگر یہاں معاملہ يكسر الٹ تھا جگہ جگہ بلند آواز میں موسيقی چل رہی تھی جس پر خواجہ سرا سرے عام موت کے کنوے کے آگے بے ہودہ رقص کر رہے تھے جو رات کو جسم فروشی کا دھندہ کرتے دکھ کی بات یہ نہیں تھی بلکہ حد تو یہاں ختم ہو رہی تھی کہ ان کی بوكنگ کرنے والے لڑکے زیادہ تر بیس سے نیچے نیچے کم سن کنوارے لڑکے تھے جن کے گھر والے خواب میں بھی اپنے ان معصوم بچوں کی سوچ کو نہیں بھانپ سکے تھے انہی لڑکوں میں ادھر ثاقب بھی تھا جو اس تین دن کے میلے میں پہلے دن سے شامل ہوا تھا

ایک چالیس ڈولیوں والا جھولا جو بلند ہونے کی وجہ سے دور سے نظر آ رہا تھا اور جو بہت تیزی سے بچوں اور بڑوں سے بھر رہا تھا ساحل کی نظر اپنے ابو کے ساتھ مزار کے اندر بیٹھے مسلسل اس پر ٹکی ہوئی تھی پھر وہ گھبرا کر اپنے باپ سے مخاطب ہوا

“ابو میرے ساتھ آئیں جلدی کریں وقت کم ہے”

وہ ابو کا ہاتھ پکڑ کر کھینچ کر ان کو کھڑا کرتے ہوا بولا تھا

“مگر کہاں ؟؟؟کیا ہوا ہے ساحل بیٹا؟؟؟”

وہ پریشان ہوگئے تھے

“ابو سب بتاتا ہوں”

وہ باپ کا ہاتھ پکڑے بس بھاگے جا رہا تھا وہ دونوں پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ اس جھولے کے مالک کے پاس پہنچے تھے جپ بس آخری ڈولی بھر کر اس کو چلانے والا تھا

“انکل اس کو مت چلائیں اس کے تین نٹ کھلے ہوۓ ہیں اگر آپ نے اس کو ایسے ہی چلا دیا تو دس سے پندره لوگ موقعے پر ہی مر جائیں گے”

ساحل نے گھبراہٹ میں چیخ کر یہ سب مالک کو کہا جو پاس موجود لوگوں نے سن کر شور مچا دیا اب بھگدھڑ مچ گئی جو لوگ اوپر تھے ان میں کچھ لٹک کر نیچے اترے اور باقیوں کو مالک نے ساحل کو سخت غصے سے دیکھتے ہوۓ اتار دیا اب وہ ان کے ٹکٹ کے پیسے واپس کر رہا تھا زرا سکون ہوا تو مالک نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ پورا جھولا چیک کیا تو وہ حیران رہ گیا کچھ نٹ واقعی کھلے ہوۓ تھے اور وہ ایسی جگہوں پر تھے کہ تیز چلتے جھولے میں گرنے والے موقعے پر ہی جابحق ہو جاتے۔۔۔۔۔۔ولی جو اپنے بیوی اور بیٹی کے ساتھ کھڑا اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا وہ یہ سب دیکھ رہا تھا وہ اب مالک اور وہاں موجود لوگوں کو دیکھ رہا تھا جو سب ساحل کے گرد جمع ہو چکے تھے عام طور پر ایسے میلوں میں بہت سے لوگ رزق کی تلاش میں آ کر اپنی اپنی ہاتھ کی صفائی سے مجمع لگا لیا کرتے ہیں مگر ساحل اور اس کے والد مولوی احمد صاف سفيد جوڑے اورٹوپی سر پر پہنے تھے ان کو دیکھ کر یہ صاف لگ رہا تھا کہ وہ ان لوگوں کی طرح دھوکے باز نہیں ہیں سب لوگ اپنی جان بچانے پر ساحل کو پیسے دے کر شکریہ ادا کرنا چاھتے تھے

جن میں وہ جھولے کا مالک بھی تھا مولوی احمد حیران پریشان یہ سب سنبهالنے کی کوشش کر رہے تھے آخر سب کو انکار کرتے ہوۓ وہ ساحل کو جو کہ سات سال کا تھا گود میں اٹھا کر اس بھیڑ سے دور لے آے۔

“بیٹا آپ کو کیسے پتہ چلا یہ سب ؟؟؟”

فوری سوال ہوا تھا

“ابو ۔۔۔۔۔ابو میں نہیں جانتا ۔۔۔۔مگر یہ سچ ہے میں یہ کل ہی گھر میں جان گیا تھا”

ساحل کچھ سوچ کر بولا تھا اس جواب نے مولوی احمد کو اور بھی الجھا دیا تھا چلو بیٹا حاضری ہو گئی اب گھر چلتے ہیں مولوی جی اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی دور کھڑی سواری کے پاس جا رہے تھے جب گولی چلنے کی آواز کے ساتھ ہی ایک جگہ لوگ اکھٹے ہوۓ تھے

وہ ساحل کا ہاتھ پکڑ کر اس طرف بھاگے تھے

“گولی پاؤں کو چھو کر گزرگئی ہے شکر ہے بچ بچا ہوگیا ورنہ مولوی قاسم کی نسل کا یہ آخری دانہ بھی گیا تھا آج”

کوئی شخص طنز اور خوشی کے ملے جلے تاثرات لئے ہنس کر بولا تھا مولوی قاسم کا نام سن کر مولوی احمد اس بھیڑ کو چیرتے ہوۓ اندر آئے تھے جہاں ایک جوان لڑکا جس کی عمر لگ بھگ سترہ برس تھی بیہوش پڑا تھا جب کہ اس کی ٹانگ سے خون نکل رہا تھا

مولوی احمد نے وہاں موجود کچھ لوگوں کی مدد سے اسے اپنی گدھا گاڑی پر موجود جھونپڑی میں ڈالا اور اسے قریبی ہسپتال لے آیا مرهم پٹی کے ساتھ ایک ڈرپ لگا دی گئی جس سے وہ ہوش میں آ گیا

“ساحل بیٹا یہ تمہارا بڑا بھائی ثاقب ہے”

وہ ساحل کے شعور كی دنیا میں آتے ہی اس کو اس کے اصل والدین کے متعلق آگاہ کر چکے تھے ساحل ثاقب کو دیکھ کر بہت خوش ہوا تھا ثاقب بھی اپنے اس بھائی کے متعلق جانتا تھا کیوں کہ وہ جائیداد کے متعلق وصیت پڑھ چکا تھا جس کے مطابق اس کے چھوٹے بھائی ساحل کے نام تمام جائیداد کی گئی تھی وہ پیسوں کے لئے بہت بار ساحل کو اپنے طور ڈھونڈ بھی چکا تھا

دونوں گلے مل کر بہت خوش ہوۓ تھے ساحل ابھی عمر کے جس حصے میں تھا وہ ڈائریکٹ خود بھی جائیداد کا کچھ بیچ نہیں سکتا تھا پھر وہ ثاقب کے نام کیا کرتا ثاقب ان کے ساتھ ہی گھر آ گیا اور دو دن رہ کر ملتے رہنے کا وعدہ کر کے واپس چلا گیا۔

ساحل مسجد میں قران پاک حفظ کر رہا تھا مولوی احمد گھر کسی کام سے آئے تو غیر ارادی طور وہ کچن کے ساتھ بنے کمرے میں آ کر ساحل کی بنائی ہوئی تصاویر دیکھنے بیٹھ گئے

دو دن پہلے جو تصاویر ساحل بنا کر میلے میں گیا تھا وہ دیکھ کر مولوی احمد کا پسینہ چھوٹ گیا۔

ساحل نے جھولا بنایا تھا جس سے لوگ لٹک لٹک اتررہے تھے ایک اور جگہ ساحل نے ایک ہیولے کو ایک لڑکا جس کا چہرہ واضح نہیں تھا اس کو گولی مارتے ہوۓ دکھایا تھا مطلب ثاقب کو گولی سے ہلکا سا زخمی کرنے والا کوئی سایہ تھا انسان نہیں ۔۔۔۔

مولوی احمد نے ثوبیہ کو وہ سب دکھایا جس سے وہ بھی سخت پریشان ہوئی ۔

مولوی احمد مسجد میں آئے تو مسجد لوگوں سے بھری ہوئی تھی لوگ ساحل کو نام بتاتے اور وہ ان کو ان کی پریشانی كی وجہ اور ان کا حل بتا دیتا اور وہ خوشی سے جو دینے لگتے تو وہ لینے سے انکار کرکے اپنی ماں زاہرہ اور دادا کا نام لے کر ان کو دعا دینے کا کہتا ۔۔۔۔ساتھ ساتھ اپنے منہ بولے والدین کی لمبی عمر کی دعا کا بھی کہتا ۔۔لوگوں کا کہنا تھا ساحل جیسا بتاتا ہے ہوبہو ویسا ہی ہوتا ہے۔ساحل بہت سے لوگوں کو مستقبل کی پریشانی کا پیشگی حل بتا کر ان کو بچا چکا تھا۔مسجد کا چندہ بكس تیزی سے پیسوں سے بھرنے لگا تھا۔

مولوی احمد یہ سب دیکھ کر جہاں سکتے میں آ گئے تھے وہ وہاں خوش بھی تھے کہ زاہرہ بیٹی اور مولوی قاسم کی بے چین روح کو اپنی اس اولاد کو اس طرح نيكی کا راستہ منتخب کرنے پر قرار ضرور آیا ہوگا۔ساحل کو اللّه نے جہاں اس عجیب اور انوکھی صلاحیت سے نوازا تھا وہیں کمال کا حافظہ دے رکھا تھا وہ دن میں اسکول بھی جاتا واپس آ کر ظہر پڑھ کر قیلولہ کرتا پھر عصر کے بعد مسجد میں لوگوں کے مسائل کا حل دیتا پھر مغرب کے بعد حفظ کا سبق یاد کرنے بیٹھ جاتا اور وہ سبق فجر کے بعد باپ کو سنا کر اگلا لے لیتا ۔۔۔۔یہ سب بہت خوبصورتی اور آسانی سے پایا تكميل کو پہنچ رہا تھا۔

وقت گزر رہا تھا ساحل اب بلوغت کی عمر پار کرنے کو تھا۔وہ جوان اور اس کے والدین بوڑھے ہو چکے تھے۔

ثاقب کبھی کبھی ملنے آتا ایک دو دن گزارتا اور چلا جاتا۔جیسے کہ پہلے بتا چکی ہوں کہ ولی اور اسلم ساتھ میں کام کرتے تھے۔زیبا اسی پراسرار بیماری کا شکار ہو چکی تھی جس کی وجہ سے ولی ہر وقت پریشان رہتا وہ اس کا ہر قسم کا علاج کروا کروا کر عاجز آ چکا تھا اور دوسری طرف اسلم جو اکثر اپنی بیوی زیبا کی گمشدگی كو لے کر پریشان رہتا تھا دونوں نے مل کر اس لڑکے کے پاس جا کر اپنے مسئلے کا حل نکالنے کا فیصلہ کیا جس کی دھوم اب دور دور تک پھیل چکی تھی۔ولی جس کا عملی نظارہ ساحل کے بچپن میں خود میلے میں بھی دیکھ چکا تھا۔

وہ دونوں ایک ساتھ ہی ساحل کے پاس اندر آئے تھے۔

“میں اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا تھا مگر وہ اللّه جانے مجھے کیوں چھوڑ کر چلی گئی۔میں نے ہر جگہ اس کو بہت ڈھونڈہ مگر وہ نہیں ملی اور تو اور وہ اپنے والدین کے گھر بھی نہیں گئی تب سے وہ مجھے کہاں ملے گی؟؟؟”

اسلم نے لاچارگی سے پوچھا تھا ساحل کچھ دیر اس کی طرف دیکھتا رہا پھر ولی پر نظر ڈال کر نظریں جھکا لی۔

“آپ کا کیا مسئلہ ہے؟؟”

وہ ولی سے مخاطب ہوا تھا جس پر ولی نے اپنی بیوی جس نے اپنا نام اسے زوبیہ بتایا تھا اس کی بیماری اور اس کا حل پوچھا۔

“آپ جن کی تلاش میں ہیں وہ پہلے بازار حسن میں تھیں پھر لگ بھگ دو ماہ بعد وہ ۔۔۔۔۔۔۔”

“اب کہاں ہیں وہ ؟؟؟”

اسلم نے زرد پڑتے چہرے سے پسینہ صاف کرتے ہوۓ پوچھا تھا

“وہ اب ان کے گھر ہیں ۔۔۔۔۔جو بیماری ان کو لاحق ہے وہ کسی کی بددعا ہے اور بد دعا قبر تک پیچھا نہیں چھوڑتی،وہ کبھی نہیں ٹھیک ہو سکتیں”

ساحل نے افسردگی سے کہا تھا

“وہ ان کے گھر ہیں ؟؟مطلب؟ ؟”

اسلم غصے سے کھڑا ہو گیا تھا

“آپ دونوں کی بیوی ایک ہی عورت ہے”

ساحل نے یہ کہہ کر ان کو باہر جانے کا اشارہ کیا تھا کیوں کہ ان کے مسئلے کا کوئی حل نہیں تھا

اسلم اور ولی دونوں آگ بگولا سے گھر گئے تھے وہ اس بات کی تصدیق چاھتے تھے

شاکا کا چیلا جو ایک بڑا باز تھا وہ سامنے درخت پر بیٹھ کر یہ سب سن کر شاکا تک پہنچا چکا تھا جس نے لکشمی بائی کے ایک خاص بندے کا روپ ڈھال کر زیبا کو ان دونوں کے گھر پہنچنے سے پہلے ہی اسلم اور ولی کا حقیقت جان لینے کا سچ بتا دیا تھا جس کے بعد ویسے بھی ولی اسے اس بیماری کے ساتھ گھر سے نکال ہی دیتا دونوں بچیوں سميت،لہذا اس نے اسے غار میں بلوا لیا تھا اور اس كی دونوں بیٹیوں کو جن کی خوبصورتی کا استعمال کر کے اب ساحل کو پھانسنا تھا ان کو اس علاقے کے ایک بازار حسن چھوڑ آیا۔

اب جب اسلم اور ولی گھر آئے تو زیبا بچیوں سميت غائب تھی جس سے ولی اور برہم ہوا۔اسلم نے گھر کی دیوار پر لگی زیبا کی تصویر سے ساحل کی بات کی تصدیق کردی تھی وہ اتنا دلبرداشتہ ہوا کہ واپس گھر جاتے ہوۓ اس نے جان بوجھ کر اپنا ٹرک کھائی میں گرا دیا اور زندگی بھر کے لئے آپاہج ہوگیا۔پھر اس کا جسم ٹھیک سے علاج نا ملنے پر گلنے سڑنے لگا مگر موت پھر بھی اس پر مهربان نا تھی اس کے جسم میں کیڑے پڑچکے تھے مگر وہ زندہ رہا۔وہ میتوں کی بےحرمتی کر کے ان کے اعضاء نکال کر بیچا کرتا اور ان کا آخری سفر مشکل کردیا کرتا تھا اس حرام کی کمائی نے اس کا جسم اور شکل جیتے جی بگاڑ دیا تھا وہ جگہ جگہ سے اکھٹا ہو کر ایک کھبے انسان کی شکل اختیار کر چکا تھا۔جبکہ ولی جو اس کام میں اس کا پارٹنر تھا وہ ساحل سے ملنے سے پہلے تک اس بات سے بے خبر تھا کہ وہ اس پیسے سے مکمل حرام کی زندگی گزار رہا ہے۔حرام کی بیوی حرام کی اولاد ۔۔۔۔ایک دن وہ سرد خانے میں رات اکیلا زیبا اور بچیوں کے بارے میں سوچتا ہوا پریشان بیٹھاتھا جب وہ باہر نکلا تو اسے ایک بڑی تعداد میں پاگل کتوں نے دبوچ لیا وہ مسلسل بھاگتا رہا مگر ان سے بچ نا سکا ۔۔۔۔ جان تو بچ گئی مگر وہ کومے میں ایسا گیا کہ اب تک کسی سركاری ہسپتال میں کومے میں پڑا ہے۔چونکہ وہ ایک سركاری ملازم تھا تو اس کا علاج بنا کسی وارث کے سركار ابھی تک کرنے کی کوشش میں تھی۔

(یہ دونوں زندہ ہے یہ کہاں ہیں اس کا ذکر حال میں بھی آئے گا کیوں کہ یہی دونوں حال میں وہ بندے ہیں جو ساحل کا ماضی جانتے ہیں۔یہاں تک اسلم اور ولی کی ماضی کی کہانی مکمل ہوتی ہے۔اب تک کی کہانی کے حساب سے زویا اور مایا جو کہ اب جوان ہیں وہ کسی بازار حسن میں ہیں جبکہ زیبا انہی غار والی عورتوں کے ساتھ غار میں۔جبکہ ساحل اب بیس سال کا ہو چکا ہے اور اس کے والدین کا انتقال ہو چکا ہے۔وہ حفظ بھی کر چکا ہے اور ایف۔اے بھی اب اس کی زندگی کا مقصد بس امامت اور لوگوں کی مدد کرنا ہے اب اس کے بعد کی کہانی لکھنے لگی ہوں۔ایک ریڈر نے سوال کیا تھا کہ جينی کی ماں کی عمر کیا ہے تو وہ ثاقب سے بھی دو سال چھوٹی ہے کیوں کہ جب ساریکا یعنی سکھاں سات سال کی تھی جب زاہرہ بد دعا دے کر جاتی ہے تب ساحل پیدا ہوا تھا اور ثاقب لگ بھگ نو دس سال کا تھا اور ساریکا سات سال کی۔کھوٹے سے جانے کے بعد بالغ ہوتے ہی زیبا نے اس کی شادی مولوی برکت سے کروا دی تھی جو کہ ایک جوان مولوی تھا اور نيكی کی غرض سے ایک ہندو لڑکی کو مسلم بنانے کے چکر میں اس کی شادی کی درخوست قبول کر لیتا ہے شادی کے وقت ساریکا کی عمر بارہ سال تھی اور جينی کی پیدائش شادی کے پانچ سال بعد ہوئی۔جیسے کہ میں نے ایک جگہ لکھا تھا کہ مولوی برکت اور ساریکا کی اولاد بہت لیٹ پیدا ہوئی تھی۔اب حال كی کہانی میں جينی چودہ سال کی لڑکی ہے جبکہ ساحل پچیس اور ساريكا کی عمر اکیتیس سال ہے)

ساحل حسب معمول مسجد سے گھر آرہا تھا جب اس کا بھائی ثاقب جو کہ اب ستائیس سال کا تھا اس سے ملنے آیا اور اسے اسرار کرنے لگا کہ وہ اب اس کے ساتھ دوسرے گاؤں آ کر رہے۔ساحل پہلے تو انکار کرتا رہا پھر اپنے مسجد کے دوست احباب سے مشورہ کر کے کچھ دنوں کا بتا کر ثاقب کے ساتھ اس کے ایک کمرے کے گھر میں آ گیا۔

وہ کمرہ کم اور شراب اور نشے کا اڈہ زیادہ لگ رہا تھا۔وہ شرمندہ شرمندہ سا کمرہ صاف کرنے لگا جو ساحل کو دیکھ کر بہت اچھا لگا۔وہ تھوڑی سی کوشش سے یہ سب چھوڑ سکتا ہے ساحل نے یہ بھانپ لیا تھا۔شاکا کا چیلا جو ہیولا بن کر ہر وقت ان دونوں کی نگرانی کرتا تھا وہ یہ دیکھ رہا تھا کہ جب سے ساحل آیا ہے ثاقب نے ایک بھی غلط کام نہیں کیا تھا۔اس نے یہ خبر فورا شاکا کو پہنچا دی تھی جس نے لکشمی بائی کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ تمام عورتوں کو جمع کرے۔اب سب اس اندھیری غار میں شاکا کے حضور موجود تھیں۔

“تم لوگوں کے پاس میری پرتسش کر نے کی وجہ سے ایک خاص شکتی ہے جو میں آج بتانے جا رہا ہوں”

وہ سب تکلیف سے چور بس اس کی بات مکمل ہونے کی منتظر اس کی طرف دیکھ رہی تھیں

“تم بارہ گھنٹے کے لئے کسی بھی انسان کا روپ دهار سکتی ہو،اور اگر تم میں سے کوئی بھی تھوڑی سی کوشش کر لے تو مستقل اس بیماری سے نجات حاصل کر کے اسی انسان کی شکل میں رہ کر پوری زندگی گزار سکتی ہو”

“مگر ایک خاص احتیاط بہت ضروری ہے،مسلسل وہ روپ دھارنے کے لئے کچھ وقت کے لئے میرے پاس حاضر ہونا ضروری ہے میں وہ ہی منتر دوبارہ پڑھ کر متعدد بار تم پر پھونکوں گا جس سے تمہارا روپ برقرار رہے گا اور تم اپنا مقصد پاسکوگی یہ الگ بات ہے کہ ضرورت پڑنے پر تم دونوں میں کوئی بھی شکل اختیار کر سکتی ہو بشرط کے میں نے منتر پڑھ دیا ہو ورنہ بارہ گھنٹے مکمل ہوتے ہی تمہاری یہ بیماری زدہ شکل ہر کسی پر عیاں ہو جائے گی”

شاکا آج کافی گہری سوچ میں غوطہ زن لگ رہا تھاوہ مزيد بولا ۔۔۔

“جیسے کہ تم سب جانتی ہو یہ سب زاہرہ کی وجہ سے ہوا ہے۔تو اس کا حل بھی زاہرہ میں ہی چھپا ہے”

اس بات سے ساری عورتیں گرم جوشی سے شاکا کی طرف متوجہ ہوئی تھیں اور حل پوچھنے لگیں۔

“اگر تم میں سے کسی سے بھی تمہارے سچ کے ساتھ اس کا وہ بیٹا جواس وقت اس کے پیٹ میں تھا نکاح کر لیتا ہے اور اولاد ہو جاتی ہے تو ایک طرف اس بچے کا جنم ہوگا تو دوسری طرف تم سب پر یہ عذاب ختم ہو جائے گا۔کیوں کہ اس نيک انسان کا خون اس سلسلے میں شامل ہوتے ہی ایک نئی نسل کا آغاز ہوگا جو اس کے سارے برے آثرات مٹادے گا”

شاکا نے ستائشی نظروں کی تلاش میں سب كی طرف دیکھا تھا

لکشمی جانتی تھی شاکا اتنا اچھا نہیں ہے جو اتنی آسانی سے ان کے بھلے کی بات کرے ضرور ایسا کرنے سے اسی کو کوئی فائدہ ہوگا یہ سب بس اپنے اس خاص مفاد تک پہنچنے کی ایک چال ہے۔

“مگر وہ بنا یہ سچ جانے بھی تو نکاح کر سکتا ہے اس کو سچ بتانا کیوں ضروری ہے؟؟”

زیبا جو کہ شروع سے مسلمان تھی جیسے شاکا کبھی بھی اچھا نہیں لگا تھا وہ تنک کر بولی تھی

“وہ مستقبل بھانپ لیتا ہے اور تم سے کوئی بھی عورت کسی بھی روپ میں اس کے سامنے چلی جائے تم لوگوں کی اصلیت اس پر فورا عياں ہو جائے گی۔اس نے آج تک قصدا کوئی گناہ تو کیا غلطی نہیں کی اسے جھل دینا بہت مشکل ہے”

شاکا افسوس سے بولا تھا

“سب سے پہلے اسے احساس گناہ دینا ہوگا تا کہ اس کی پارسائی کا جو چہرہ ہے وہ اتنا بگڑ جائے کہ وہ خود کو برا انسان سمجھ کر ہر گناہ کے لئے آماده ہو جائے،اور اچھائی کی نیت سے منہ تک دھونا چھوڑ دے وہ نيكی سے اتنا دور ہو جائے،آج کے مسلمان پاکیزگی اور صفائی کے نصف ایمان ہونے کی شرط کی وجہ سے ہی ناواقف ہیں شاید ورنہ وہ روز نہا کر اس سکون کو محسوس کریں”

“ہمیں درجہ با درجہ اسے پستی میں ڈال کر اس حد تک نیچے لانا ہوگا کہ خدا اس سے یہ صلاحیت واپس لےلے اور میں اس کا اتنا خاص بندہ گمراہ کر کے اور طاقت ور ہو جاؤں”

شاکا غصے سے دھاڑہ تھا

“اس کا بھائی ثاقب بھی اس کے رنگ میں رنگنے کو ہے اس کا بھی کچھ کرنا پڑے گا،تم سب کو یہاں بلانے کا مقصد یہی تھا کہ اپنے طور تم میں سے ہر کوئی نا کردار بن کر ساحل کو گمراہ کرنا شروع کرو۔یاد رہے تم میں سے کوئی بھی کسی نيک انسان کا روپ نہیں دھار سکتا ماسواۓ بد کردار مردوں اور عورتوں کے،یہ منتر پڑھنا دن رات شروع کرو”

پھر شاکا نے ایک ناپاک منتر بتایا اور غائب ہو گیا۔