Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

ناول “” روح رایان “”
از 🖋زرش نور
قسط نمبر ۵

رونی تو مغداد کی سالگرہ کسی ہوٹل میں منعقد کرنا چاہتا تھا لیکن ماشہ نہیں مانی ۔
دیکھو رونی زیادہ کسی کو تو بلانا نہیں ہے ۔ ویسے بھی عفان ان چیزوں کے حق میں نہیں لیکن بس میں اپنی خوشی کے لئے یہ سب کر رہی ہوں جو خرچا ہوٹل میں ہو گا اتنے پیسے ہم چیریٹی کر دیں گے۔آچھا بتاؤ تم نے سالار کو انوائٹ کیا ہے۔
رونی نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
چلو پھر آ جاؤ کیک تم بیک کرو گے جیسے آپ کہیں میڈم ۔
ماشہ کے منع کرنے کے باوجود رونی نے ڈیکوریشن بھی کروائی تھی اور باہر سے کیک بھی منگوایا تھا۔
سالار جب یشال کے ساتھ وہاں پہنچا تو رونی ماشہ کے ساتھ کچن میں مصروف تھا جب کے عفان مغداد کو ڈریس چینج کروا رہا تھا۔ وہ سالار کے ساتھ بہت تپاک سے ملا کچن اے رونی کو نکلتے دیکھ کر یشال چونکی کیونکہ سالار نے اسے رونی کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔ رونی بھی یشال کو دیکھ کر ٹھٹھک گیا کالے رنگ کا کوٹ ساتھ میں کالی جینز شانوں تک آتے کھلے بال ہلکا سا میک اپ وہ پیاری لگ رہی تھی ۔ وہ سالار کے پاس آیا اس سے بغل گیر ہو کر وہ واپس مڑ گیا ۔ یشال کو وہ بہت برا لگا اکڑوکہیں کا نہ ہو تو یشال نے دل ہی دل میں اسے بہت ای باتیں سنائی۔
ماشہ اور رونی نے سب کچھ ٹیبل پر سیٹ کیا اور پھر ماشہ اور عفان نے مغداد کو اٹھا کر کیک کٹوایا لیکن مغداد رونی کی طرف بھاگ رہا تھا۔ تنگ ہو کر ماشہ اور عفان نے مغداد کو رونی کو ہی دے دیا۔ اور وہ بھی اس کے پاس جاتے ہی کھلکھلا کر ہنس دیا۔کیک کے بعد کھانے کا دور چلا کھانا کھاتے ہوۓ رونی اور یشال ساتھ ساتھ بیٹھے ہوۓ تھے۔یشا ل بے دلی سے کھانا کھا رہی تھی عفان سالار اور ماشہ پرانی باتیں یاد کر رہے تھے۔رونی اور سالار کی دوستی بہت پرانی تھی وہ دونوں نائنتھ کلاس سے ساتھ پڑھتے آ رہے ہیں اور اس کے بعد پھر کالج یونیورسٹی میں بھی ساتھ رہے ہیں ان لوگوں کی باتوں سے پتہ چل رہا تھا کے وہ رونی کے گھر بھی آتا جاتا رہا ہے کیونکہ جس طرح سے وہ ماشہ اور عفان سے باتیں کر رہا تھا اس سے تو ایسا ہی لگ رہا تھا۔رونی نے یشال کو خالی پلیٹ میں چمچ چلاتے دیکھا تو بریانی کی ڈش اس کے آگے رکھ دی۔ یشال نے چونک کر اس کی طرف دیکھا تو اسے شکریہ کہا لیکن وہ اس کے منہ میں ہی رہ گیا کیونکہ وہ دوسری طرف موجود سالار سے باتوں میں مصروف ہو چکا تھا۔عجیب بندہ ہے وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑائی اس کی بڑبڑاہٹ اتنی اونچی تھی جو رونی کی سماعتوں تک پہنچ چکی تھی۔اس نے مڑ کر اسے گھورنا چاہا لیکن اب تلملانے کی باری رونی کی تھی کیونکہ وہ اپنی پلیٹ کی طرف متوجہ ہو چکی تھی۔
اب ماشہ یشال کی طرف متوجہ ہوئی یشال کیا کر رہی ہوآپ؟
جی کچھ نہیں بس جاب کر رہی ہوں۔
بہت آچھی بات ہے کہاں کر رہی ہو جاب۔
اب کی بار یشال گڑبڑا گئی جی ایک الیکٹرونکس کی کمپنی ہے۔
آچھی بات ہے۔
جی!
رات دیر سے جب وہ گھر کے لئے نکلے تو ان کے ساتھ ہی رونی بھی نکلا وہ سالار اور یشال کو ڈراپ کر کے آگے بڑھ گیا۔
بھیا یہ تو بہت امیر آدمی ہےُآپ کی اور اس کی دوستی کیسے ہو گئی۔
بہت پرانی دوستی ہے یشی۔
آچھا ویسے یہ ہے بہت مغرور سا بندہ ۔
نہیں ایسا تو نہیں ہے تمہیں کیوں ایسا لگا ؟بس ویسے ہی کہہ رہی ہوں۔
تم سے نہیں ملا اس لئے کہہ رہی ہو وہ لڑکیوں سے زرا دور ہی رہتا ہے۔


دوسرے دن یشال سالار کے ساتھ ہی کام پر نکلی وہ نہیں جانتی تھی کے سالار بھی اب واپس وہی پہ ہی کام کرے گا۔
سالار اسے ساتھ لے کر رونی کے آفس میں داخل ہوا یشال اس کا آفس دیکھ کر حیران رہ گئی بہت ہی کشادہ قیمتی سامان سے آراستہ اس کی سربراہی کرسی کے پیچھے بہت ہی گریس فل سی عورت کی تصویر لگی تھی۔ رونی کے ساتھ اس وقت سالار اور رونی کا مشترکہ دوست سعد موجود تھا۔ سعد کی ان دونوں کی طرف پشت تھی سالار کے سلام کرنے پر وہ تیزی سے مڑا اور سالار سے بہت گرمجوشی کے ساتھ بغل گیر ہوا ۔ سالار سے گلے ملتے ہوۓ اس کی نظر سالار کے پیچھے کھڑی یشال پر پڑی وہ تھوڑی دیر اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔ سالار سےالگ ہو کر اس نے یشال کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا سالار نے اس کا تعارف کروایا تو سعد نے جلدی سے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا یشال نے تھوڑا تامل سے ہاتھ آگے بڑھایا اور جلدی ہی واپس کھینچ لیا۔ان دونوں کے ہاتھ ملانے پر رونی اپنی جگہ پر پہلو بدل کر رہ گیا۔ یشال بھی وہی ایک طرف صوفے پر بیٹھ گئی رونی نے دیکھا کے سعد بہانے بہانے سے اس طرف دیکھ رہا تھا جس طرف یشال بیٹھی تھی۔ آخر رونی کا صبر جواب دے گیا۔
مس یشال آپ باہر میری سیکرٹری کے پاس جائیں وہ آپ کو آپ کا کام سمجھا دے گی۔یشال نے سالار کی طرف اجازات طلب نظروں سے دیکھا اور باہر نکل گئی۔رونی کو اس کی یہ بات بہت آچھی لگی ۔
یشال نے باہر نکل کر شکر کیا اسے وہ آدمی بہت ہی عجیب لگ رہا تھا۔اس نے دل ہی دل میں رونی کا بھی شکریہ ادا کیا۔


آج یشال نے آفس سے چھٹی کی تھی تو اسے نیدی کی کال آئی کے آج وہ بھی نہیں گئی تو یشال نے نیدی کو گھر پر ہی بلا لیا۔ وہ نیدی کے لئے کافی بنا رہی تبھی نیدی نے ایک انڈین نیوز چینل لگایا جہاں پر کسان احتجاج کے بارے میں بتایا جا رہا تھا ۔یشال کافی لے کر آئی تو نیدی نے چینل چینج کر دیا۔ نیدی یار یہ آپ لوگوں کا کیا قصہ ہے یہ کیا ہو رہا ہے کسانوں کے ساتھ اور یہ آپ لوگ سنگر ریانہ کے پیچھے کیوں پڑے ہوۓ ہو ۔
بس یار مجھے نہیں پتا کوئی بل پیش کیا گیا راجیاسبھا میں جو کے کسان کہتے ہیں کے ہمارے حقوق کے خلاف ہے لیکن کوئی نہیں یار ٹھیک ہو جائے گا ۔
کب ٹھیک ہو گا دو ماہ تو گزر چکے ہیں ۔
نہیں ابھی کچھ پروگرس ہوئی ہے اس نے ٹالنے والی بات کی ۔
تبھی ٹی وی چلنے والی نیوز پراس نے چونک کردیکھا اور بولی یشال آج ویمن ڈے ہے نہ یہ تم لوگوں کے ہاں کیا چل رہا ہے عورتیں کیوں باہر نکل آئی ہیں اور یہ کیا کہہ رہی ہیں میرا جسم میری مرضی یار ہمارے ہاں بھی عورتوں کو بہت آزادی حاسل ہے اب تو ساری دنیا گروم ہو چکی ہے آپ لوگ بھی گروم ہو جاؤ عورتوں کو ان کے حقوق دو عورتوں کو پہننے اوڑھنے کی آزادی ہونی چاہئے آپ باۓ فورس کسی کو برقعہ نہیں اوڑھا سکتے۔

نیدی نے اپنی بات ختم ک تو یشال نے ایک گہرا سانس لیا ۔ نیدی ہمارے دین نے آج سے چودہ سو سال پہلے جو آزادی اور حقوق دئیے نہ وہ اس وقت کی عورت تصور بھی نہیں کر سکتی تھی ۔ جہاں تک ان عورتوں کا تعلق ہے جو تمہیں سکرین پر نظر آ رہی ہیں یہ ہمارے معاشرے کی پانچ فیصد عورتوں کی نمائندگی بھی نہیں کرتی ۔ ہماری عورت گھر کے اندر محفوظ ہے ۔ تم مجھے بتاؤ تم کہتی ہو ہندوستان میں عورتوں کو پہننے اوڑھنے کی آزادی ہے صرف آپ لوگوں کے پہناوے کی وجہ سے روز کتنے ریپ کیس ہوتے ہیں ۔ انڈیا اس وقت ریپ ہونے والے ممالک میں کہاں کھڑا ہے اس وقت ۔ بات یہ نہیں ہے کے عورت کو آزادی پہننے اوڑھنے کی دی جاۓ ۔ اگر تم پاکستان کی ۹۰ فیصد عورتوں اے پو چھو تو وہ بہت خوش ہیں اپنی زندگی سے مرد اے عورت کو تحفظ کااحساس ہوتا ہے۔اگر عورت مرد کے بغیر چل سکتی تو کتنی عورتیں ہیں جو یہ عونا روتی ہیں کاش ان کا بھی کوئی بھائی ہوتا۔ ہمارے معاشرے میں میں مے دیکھا ہے ایک بھائی نو نو اور دس دا بہنوں کی کفالت کرتا ہے ان کی شادیاں کرتا ہے اور پھر اس کے بعد بھی ان کے لئے میکے کا مان بھی ہوتا ہے۔ کیا مرد اور عورت برابر ہو سکتے ہیں ۔ بالکل بھی نہیں مرد عورت کے لئے ایک بہت بڑا سہارا ہے۔ تم اپنی بات کرو تم سے چھوٹی تمہاری چار بہنیں ہیں اگر تم سے چھوٹا کوئی بھائی ہوتا تو وہ آج تمہیں اکیلےُ اتنی دور آنے دیتا کبھی نہیں بلکہ خود سختیاں جھیلتا لیکن تم پر آنچ بھی نہآنے دیتا۔میںان عورتوں سےاتفاق نہیں کرتی جو کہتی ہیں “” میرا جسم میری مرضی۔””
میری کیا مرضی جوبھی ہے میرے خدا کی مرضی۔
؀وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں
اپنے گھر کا کام کرنا اپنے بچوں کے کام کرنے سے آپ نوکر نہیں بن جاتے یہ کام کرنے سے تو دل کو سکون ملتا ہے۔میرے رب نے آپ
کو اتنا بڑا مقام دے دیا ہے تو آپ کو اور کیا چائیے آپ کے قدموں
کے نیچے جنت رکھ دی ہے۔

❤️❤️❤️❤️❤️