Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

ناول “” روح رایان””
از🖋 قلم زرش نور
قسط نمبر ۶

نیدی لاجواب ہو کر یشال کے پاس سے اٹھ آئی اور بہت سے نئے سوالوں نے بھی جنم لے لیا تھا اس کے دماغ میں اسے لگ رہا تھا وہ ان دونوں بہن بھائی سے بہت متاثر ہو رہی ہے۔ سالار کا یشال کا خیال رکھنا یشال کا کوئی بھی کام کرنے سے پہلے سالار کو بتانا نماز کے وقت جتنا بھی ضروری کام کر رہے ہوں اٹھ کر نماز پڑھنا ایک بار یشال نے نیدی کے سامنے نماز پڑھی تو نیدی پہ بہت ہی عجیب کیفیت طاری ہو گئی۔وہ لوگ جب بھی کسینو جاتے تھے تو یشال کو بھی ساتھ لے جانا چاہتے تھے وہ جب یشال سے کہتے کے وہ سالار سے اجازات کیں گے تو سختی سے منع کر دیا کہا اگر آج کے بعد ہم نے اسے کوئی ایسی آفر کی تو وہ اس کا اور ہماری دوستی کا آخری دن ہو گا۔عہ بہت الجھی ہوئی وہاں سے گھر پہنچی گھر پہنچ کر اسے اور بے چینی نے گھیر لیا۔


رونی کی سیکرٹری میکی ایک چائنیز تھی اور بہت سے چائنیز کے برعکس بہت روانی نے انگریزی بولتی تھی۔جب اسے پتہ چلا کے وہ پاکستان سے ہے تو اس کا یشال کے ساتھ لگاؤ بھی کچھ زیادہ ہوگیا۔وہ رونی کی بہت تعریفیں کرتی تھی جبکے یشال حیرانگی سے اس کی باتیں سن رہی تھی ۔ تم اس کی اتنی تعریفیں کر رہی ہو مجھے تو بہت ہی مغرور سا بندہ لگا ہے اپنے علاوہ کسی کو کچھ سمجھتا ہی نہیں ہے۔
یشال کی دروازے کی طرف پیٹھ تھی وہ اپنے پیچھے کھڑے رونی کو نہیں دیکھ سکی میگی کے اشارہ کرنے پر اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس کو سینے میں سانس رکتا ہوا محسوس ہوا۔رونی آگے آیا یشال کے پاس سے گزر کر میگی کے پاس رکا اسے کچھ ہدایات دےکر اپنے آفس کی طرف قدم بڑھاتے ہوۓ بولا مس یشال آپ میرے آفس میں آئیے۔
یشال کی مانو تو جان ہی نکل گئی۔
میگی آج میرا اس آفس میں میرے خیال میں آخری دن ہے ۔میگی اس کی حالت پر اپنی مسکراہٹ ُچھپا گئی۔
یشال دستک دے کر اس کے آفس میں داخل ہوئی یشال اپنی متوقع ڈانٹ کے بارے میں سوچتے ہوۓ مناسب الفاظ سوچنے لگی کو اسے اپنے دفاع میں کہنے تھے۔
وہ اندر داخل ہوئی تو رونی نے ایک گہری نظر یشال پر ڈالی جو کھلے بالوں میں گلے میں سکارف ڈالے لونگ کوٹ ساتھ جینز پہنے پیاری لگ رہی تھی لیکن رونی کو اس کی ڈریسنگ بالکل بھی آچھی نہیں لگی۔ اسے تو خود کو چھپاۓ ہوۓ لڑکیاں آچھی لگتی ہیں۔اس نے اپنا سر جھٹکا وہ بھی کیا سوچ رہا ہے۔یشال سر جھکاۓ کھڑی تھی متوقع جھاڑ کھانے کے لئے تبھی اسے آواز آئی مس یشال یہ فائل لے کر جائیں اور ایک گھنٹہ ہے آپ کے پاس اسے پڑھنے کے لئے اور اپنی پریزنٹیشن تیار کر لیں آپ میرے ساتھ چل رہی ہیں میٹنگ میں۔
یشال نے مرتا کیا نہ کرتا کے مصادق اٹھ کر وہ فائل اٹھائی اور باہر نکل آئی اپنے کیبن میں آ کر اس نے سکھ کی سانس لی لیکن اب ایک نئی پریشانی میں گیر چکی تھی وہ ایک گھنٹے میں کیسے یہ کرے گی۔
ٹھیک ایک گھنٹے کے بعد اسے رونی کا بلاوا آ گیا تھا وہ اپنا بیگ اور کمپنی کی طرف سے ملا لیپ ٹاپ اٹھا کر تیار ہو گئی۔

رونی اس کے پاس آ کر بس ایک پل کے لئے رکا چلیں اور آگے بڑھ گیا یشال کو اس تک پہنچنے کے لئے بھا گنا پڑ رہا تھا وہ کمبے لمبے ڈگ بھرتا بہت آگے نکل گیا تھا پارکنگ میں پہنچ کر وہ گاڑی کے پاس رک کر اس نے گھڑی پر ایک نظر ڈالی اور دوسری نظر بھاگتی ہوئی آتی یشال پر جب وہ پاس پہنچی اس نے اس کے لئے دروازہ کھولا اس کو بٹھا کر دوسری سائیڈ سے آ کر خود بیٹھا اور ڈرائیور کو چلنے کے لئے بولا۔گاڑی کے چلنے کے بعد وہ یشال کی طرف متوجہ ہوا اور اسے پریزنٹیشن کے مین پوائنٹ بتانے کے لئے بولااسکے ساتھ بیٹھ کر یشال نے جو پوائنٹس نوٹ کیے تھے وہ بھی بھول گئی۔
رونی منہ بنا کر دوسری طرف دیکھنے لگا۔ آدھے گھنٹے کے بعد گاڑی ایک آفس کے سامنے رکی رونی کے ساتھ یشال بھی اتر آئی ۔ وہ دونوں لفٹ کی طرف بڑھ گئے لفٹ میں داخل ہو کر رونی نے اسے فلور نمبر بتایا تو یشال نے بٹن پش کر دیا لفٹ ایک جھٹکے کے ساتھ چلی اور اگلے ہی منٹ رک بھی گئی وہ دونوں لفٹ سے نکل کر بائیں طرف مڑ گئے ۔ یشال نے نوٹ کیا کہ اس بار اس کی رفتار کم تھی وہ اس کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی ۔ اس کمپنی کے عہدیدارن نے اس کا استقبال کیا رونی کا وہی اکڑو سا انداز نوٹ کیا سب سے ملتے اور بات کرتے ہوۓ ایک خاص قسم کا فاصلہ رکھا ہوا تھا۔
میٹنگ روم وہ زیادہ تر خاموش ہی رہا اور باقی لوگ بولتے رہے۔ سب کی باتیں سننے کے بعد اس نے بولنا شروع کیا اور چند ایک ضروری باتوں کے بعد یشال سے فائل لے کر خود ہی ہروجیکٹر کے پاس گیا اور دو چار سلایئڈز چلا کر اور چند پوائنٹ بتانے کےبعد وہ آ کر اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا ۔ میٹنگ کامیاب رہی واپسی میں یشال خاموش ہی رہی اسے لگا وہ اس کی خوب انسلٹ کرے گا لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا وہ اسے ڈراپ کر کے آگے بڑھ گیا۔


رونی کا آج گھر جانے کا دل نہیں کر رہا تھا اس لئے وہ ماشہ کی طرف چلا آیا دروازہ کھولنے پر ماشہ نے خوشگوار حیرت کا اظہار کیا۔
تمہیں آج خود سے کیسے ہماری یاد آ گئی؟
ماشہ نے پہلا سوال یہی کیا۔
رونی صرف مسکرانے پر اکتفا کیا اور آگے بڑھ کر مغداد کو باہوں میں بھر لیا اور اس کے ساتھ کھیلنے لگاوہ بھی اسے دیکھ کر زور زور سے ہنسنے لگا اور اپنی توتلی زبان میں ماما کہنے لگا۔
ماشہ کچن کی طرف بڑھ گئی جہاں عفان آج مینچورین بنا رہا تھا اور ماشہ اس کے ہیلپر کے طور پر کام کر رہی تھی۔ وہ مغداد کو لے کر لاؤنج میں ہی بیٹھ گیا عفان نے مصروف سے انداز میں وہاں سے ہی رونی سے ہاۓ ہیلو کی ۔ ماشہ عفان کو واپس آنے کا کہہ کر آ کر رونی کے ساتھ بیٹھ گئی۔
رونی کیسی ہے وہ؟
مجھے کیا پتہ وہ جلدی وہ بول گیا اور پھر جلدی سے بات بدل گیا کس کی بات کر رہی ہو تم ۔
اسی کی جس کی تم سمجھ رہے ہو۔
وہ چپ ہو گیا ۔
رونی میں جانتی ہو جب ایک بار میں اور تم سالار کے گھر گئے تھے واپس جب ہم جا رہے تھے ۔ہم لوگ گاڑی میں بیٹھے ہوۓ تھے تبھی وہ کالج سے آئی تھی اور میں نے تمہاری آنکھوں میں اس کے چلو تب وہ چھوٹی تھی لیکن اب تو وہ بڑی ہو گئی ہی اس کی سٹدیز بھی اب مکمل ہو چکی ہیں اگر تم کہو تو میں سالارسے بات کروں ۔
نہیں ابھی نہیں مجھے کچھ وقت چاہئے اور شاید اسے بھی وہ میرے بارے میں بہت بدگمان ہے اس کے خیال میں میں بہت مغرور ہوں ۔
آچھا کہو تو میں اسے بتا دوں کہ میرا بھائی جس چیز سے سب سے زیادہ لاپروائی دیکھاتا ہے اصل میں اس کا سب سے زیادہ دھیان اسی چیز پر ہوتا ہے۔
تم مجھے کچھ زیادہ نہیں جاننے لگی۔
بہن کس کی ہوں۔بھائی کی طرح جاسوسی کرنے کی عادت ہو گئی ہے۔
تم کچھ زیادہ ہی جان گئی ہو۔
جی ہاں میری دوست کی بہن یشال کے کالج میں ہی پڑھتی تھی اور اس نے بتایا تھاکے وہ اکثر تمہاری گاڑی کالج کے باہر دیکھتی تھی۔وہ جو تمہیں اکڑو سمجھتی ہے اگر اسے پتہ چل جائے کے تم تو اس کی محبت میں پاگل ہو تو پھراس کا کیا ردعمل ہو گا۔
اب کی بار رونی مسکرا دیا۔
یشال گھر پہنچی تو سالار کھانا بنا چکا تھا ۔ بھیا آپ کہاں چلے گئے تھے ۔
یشی میں رونی کی کمپنی کی ایک برانچ کا ہیڈ ہوں جیسے عفان ہے۔
آپ مجھے لینے کیوں نہیں آۓ؟
کیونکہ مجھے رونی نے بتایا تھا کے تم اس کے ساتھ کسی میٹنگ میں جا رہی ہو تو وہ تمہیں خود ہی چھوڑ دے گا۔مبارک ہو تمہاری پہلی پریزنٹیشن کامیاب رہی۔
آپ کو کس نے بتایا؟ یشال نے حیرانگی سے پوچھا۔
رونی کو کال کی تھی میں نے میٹنگ کے بعد اس نے ہی بتایا تھا۔
آچھا! یشال الجھی ہوئی ۔


یشال صبح سے بہت مصروف تھی اسے صبح صبح میگی نے بہت ساری فائلز دیں اور اسے سارا دن سر اٹھا کر دیکھنے کی بھی فرصت نہیں ہوئی۔چار بجے میگی اس کے پاس آئی تو یشال نے اس سے پوچھا کہاں تھی تم صبح سے؟
میں میٹنگ روم میں تھی جن کلائنٹ کے ساتھ کل میٹنگ تھی نہ وہی آج یہاں آۓ ہوۓ تھے نہ۔
یشال نے شکر ادا کیا کے اسے نہیں بلا لیا وہ پہلے ہی بہت شرمندہ تھی اور اس کی پوری کوشش تھی کے اس کا رونی سے آمنا سامنا نہ ہو۔
آفس ٹائم ختم ہوتے ہی یشال نے سالار کا کال کی ! بھیا مجھے ساتھ لے کر چلنا۔
یشی میں ڈرائیور کو کہتا ہوں وہ تمہیں چھوڑ دے گا۔
کتنی دیر لگے گی ؟
میں بتاتا ہوں تمہیں دوبارہ کال کر کے۔
تھوڑی دیر کے بعد سالار کی کال آ گئی یشی تم جاؤ پارکنگ میں ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰”
اوکے یشال نے سالار کی پوری بات سنی ہی نہیں اور کال کاٹ کر اپنا بیگ اٹھایا اور چل دی اس کی بس کوشش تھی کے وہ کسی طرح آج رونی سے اس کا آمنا سامنا نہ ہو۔
وہ نیچے آئی تو آگے ڈرائیور کھڑا تھا میم یشال!ڈرائیور نے سوالیہ انداز میں پوچھا۔
یشال اس کے پیچھے چل پڑی اور اپنے موبائل میں مصروف گاڑی میں بیٹھ گئی۔
گاڑی تھوڑا سا آگے گئی تو یشال کو یاد ایا کے اسے گھر کے لئے کچھ سامان لینا ہے اس نے ڈرائیور کو کہا کہ آگے کوئی حلال فوڈ کی شاپ دیکھی تو گاڑی روکنا بات کرتے کرتے یشال نے سر اوپر اٹھایا تو اپنے ساتھ بیٹھے رونی کو دیکھ کر ڈر گئی ۔ اس نے ایک زوردار چیخ ماری کے ڈرائیور نے بھی اسی جگہ پر گاڑی روک دی۔
رونی نے بھی حیران ہو کر اسے دیکھا اور ڈرائیور کو گاڑی آگے بڑ ھانے کے لئے بولا۔
مس یشال آپ یہ بچوں والی حرکتیں ختم کریں ۔
نہیں میں ڈر گئی تھی وہ سالار بھیا نے کہا تھا کہ ڈرائیور ہے تو میں نے سوچا صرف ڈرائیور ہی ہوگا۔
مس یشال سالار ہر جگہ آپ کے ساتھ نہیں ہاگا خود کو بدلئے۔
کوئی بات نہیں میں شوہر بھی سالار بھیا جیسا ہی ڈھونڈوں گی۔جلدی میں اس کے منہ سے نکل گیا جب سمجھ آئی تو اپنی زبان دانتوں تلے داب لی۔


❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️