Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

ناول “” روح رایان””
از🖋زرش نور

قسط نمبر ۱۷
یس آفیسر کیا مسئلہ ہے؟

مسٹر رایان آپ کے خلاف مسٹر احمر نے ہاسپٹل میں بیان دیا ہے کے آپ نے ان پر ان کے ساتھی پر قاتلانہ حملہ کیا ہے ۔آپ کو ہمارے ساتھ چلنا پڑے گا۔

رایان واپس اپنے گارڈز کے ہاس پہنچا ۔گھر کی سیکیورٹی بڑھا دینا ۔میم کو کہیں بھی آنے جانے نہیں دینا ہے۔اس نے اپنے گارڈز کو ہدایات دیں اور واپس پولیس آفیسر کے پاس پہنچا۔

چلیں سر ؟ پولیس آفیسر نے رایان سے ہوچھا۔

یس چلیں ۔

راستے میں رایان نے اپنے وکیل سے بات کی اور اسے پولیس سٹیشن پہنچنے کے لئے بولا۔

رایان جب سٹیشن پہنچا اس کا وکیل پہلے سے سٹیشن پہنچ چکے تھے۔ان کے ساتھ دو وکیل اور بھی تھے۔

انہوں نے بہت کوشش کی لیکن یہ ممکن نہیں تھا رایان کو آج کی رات پولیس سٹیشن میں رہنا تھا۔

رایان نے اکیلے میں اپنے وکیل سے ملا اور کافی دیر کی گفت وشنید کے بعد وکیل روانہ ہو گیا۔

رایان نے پولیس آفیسر کو رات گئے کچھ پیسے دئیے اور دو گھنٹے کے لئےلاک اپ سے باہر گیا۔


رایان وہاں سے نکلا تو پولیس اسٹیشن سے تھوڑا فاصلے پر رایان کا خاص آدمی روزی گاڑی کے ساتھ موجود تھا۔رایان نے اسے ایک مشہور پرائیوٹ ہاسپٹل میں چلنے کے لئے بولا۔ہاسپٹل کے مین ڈور پر اتر کر رایان نے روزی کو گاڑی بیک سائیڈ پر لے کر جانے کے لئے بولا۔وہ رام نمبر ۱۳ میں داخل ہوا تو سامنے موجود شخص اٹھ کر بیٹھ گیا۔رایان اس کے سامنے جا کر بیٹھ گیا تم تیار ہو کل میرے آدمی آ کر تمہیں کورٹ لے جائیں گے۔تمہیں جیسے بولا تھا ویسے ہی کرنا ہے۔
اس نے اثبات میں سر ہلایا اور رایان وہاں سے نکل کر بیک سائیڈ پر آیا اور وہاں سے سیدھا پولیس اسٹیشن پہنچا۔


یشال رات سے پریشان بیٹھی تھی سارے ٹی وی چینلز پر رایان کے بارے میں بتایا جارہا تھا لیکن زیادہ تشویش کی بات یہ تھی کے کوئی ٹی وی چینل والا یہ نہیں جانتا تھا کے رایان کو کون سے پولیس اسٹیشن لے جایا گیا ہے۔ وہ ساری رات ٹی وی کے آگے ہی بیٹھی رہی۔صبح کے وقت اس نے پاکستان سالار کو کال کی اور اسے رایان کے بارے میں بتایا۔

یشال تم پریشان نہ ہو میں جلد سے جلد پہنچنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ویسے بھی تم پریشان نہ ہو اگر اس نے ایسا کیا ہے تو وہ کبھی بھی نہیں پھنس سکتا ۔میں اسے آچھی طرح سے جانتا ہوں۔جہاں دوسروں کی سوچ ختم ہوتی ہے وہاں سے اس شخص کی شروع ہوتی ہے۔

صبح دس بجے کے قریب رایان کو عدالت میں پیش کیا گیا عدالت کے باہر رپوٹر موجود تھے ۔رایان نے پولیس آفیسر سے بات کی اور وہ اسے ایک سیف راستے سے عدالت میں لے گئے ۔رپوٹر باہر انتظار کرتے رہ گئے ۔

احمر اس وقت وٹنس سٹینڈ میں چئیر پر بیٹھا تھا۔جج صاحب کے آنے پر باقاعدہ کروائی شروع کی گئی۔

احمر نے اپنا بیان دینا شروع کیا ۔سر بائیس جولائی کو یہُ شخص رایان میرے فلیٹ میں ایک ڈلیوری بوائے کے لباس میں داخل ہوا ۔اس نے مجھے بری طرح سے مارا پیٹا جب کے میرے دوست موری کی ٹانگ پر گولی ماری میں بے ہوش ہو گیا ۔جب میری آنکھ کھلی تو میں نے خود کو ہا سپٹل میں پایا۔

اب کی بار احمر کے وکیل نے ڈاکٹر سے اجازات چاہی کے وہ انسپکٹر صاحب کو وٹنس باکس میں بلانا چاہتا ہوں۔

جی انسپکٹر صاحب کیا آپ بتا سکتے ہیں کے آپ لوگوں کو کیسے پتہ چلا کے احمر اپنے فلیٹ میں زخمی پڑا ہے۔

سر ہمیں جس بلڈنگ میں یہ رہتے ہیں اس بلڈنگ کے چوکیدار نے کال کر کے بتایا۔
جب ہم وہاں پہنچے تو یہ بری طرح سے زخمی تھے ۔کمرے میں توڑ پھوڑ کے نشانات تھے لیکن یہ وہاں اکیلے تھے۔

جی تو انسپکٹر صاحب آپ نے ان کے کہنے پر دوسرے آدمی کو تلاش نہیں کیا۔

جی سر تلاش کیا ہے اور وہ ہمیں ویسٹ پہ ان کے گھر سے کوئی دو فرلانگ دور ایک روڈ کی سائیڈ پر ملے انہیں ہم ہاسپٹل لے کر گئے اور ان کے کہنے کے مطابق ان کی دونوں ٹانگوں پر گولی ماری گئی ہے۔

تو انسپکٹر صاحب پھر تو آپ کو وہ ہتھیار بھی مل گیا ہو گا جس سے انہیں گولیاں ماری گئیں ہوں گی۔اب کی بار سوال رایان کے وکیل کی طرف سے آیا تھا۔

جی ہمیں ہتھیار بھی مل گیا ہے وہ پسٹل ہمیں مسٹر احمر کے گھر سے ملا ہے اس پر ان کے فنگر پرنٹ بھی ملے ہیں۔

اب کی بار احمر حیران تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔

تو پھر آپ لوگوں نے ان سے بھی بیان لیا ہو گا۔

جی سر ان کے بیان کے مطابق وہ رایان صاحب کے ڈرائیور تھے ۔ احمر نے انہیں دولاکھ ڈالر دینے کی آفر کی اور انہیں کہا کے وہ کسی طرح رایان سر کی بیوی کو اکیلے ان تک پہنچاۓ۔
وہ فنانشلی پروبلم میں تھا اس لئے میں نے ان کی بات ہر عمل کیا۔مسٹر احمر نے مسز رایان ہر چاقو سے حملہ کیا لیکن وہ پھر بھی بچ گئیں ۔
مین نے جب مسٹر احمر سے پیسوں کا تقاضہ کیا تو وہ اپنی بات سے مکر گئے اور مجھے جان سے مارنے کی کوشش کی لیکن خوش قسمتی سے میں بچ گیا۔

احمر بازی پلٹنے پر حیران ہریشان تھا۔اس نے رایان کی طرف دیکھا تو اس نے وکٹری کا نشان بنایا۔


❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️