No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
ناول “”روح رایان”
از 🖋زرش نور
قسط نمبر ۸
رایان کمرے میں داخل ہوا تو پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو اس کے نتھنوں سے ٹکرائی وہ اس خوشبو کو اپنے اندر اتراتا ہوا بیڈ کی طرف بڑھا جہاں اس کی زندگی تھی۔
اس نے یشال کا لہنگا ہٹا کر بیٹھنا چاہا تو وہ پرے کھسک گئی ۔رونی کی پیشانی پر سلوٹیں نمودار ہوئیں لیکن وہ صبر کر گیا۔
اس نے یشال کا گھونگھٹ اٹھایا تو سانس لینا بھول گیا وہ اس کی سوچ سے بھی ذیادہ خوبصورت لگ رہی تھی۔ اس نے اس کا ہاتھ پکڑنا چاہا تو یشال نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ رونی اس کے پاس سے اٹھا اور بولا چینج کر لو یہ کہہ کر وہ بالکنی کی طرف بڑھ گیا۔
بالکنی میں ٹھنڈی ہوا نے اس کا استقبال کیا۔اس نے ایک سیگریٹ سلگایا اور لمبے لمبے کیش لینے لگا۔اس کے ہونٹوں پر بڑی گہری مسکراہٹ تھی۔
اس کا موبائل رنگ ہوا اس نے سکرین پر نمبر دیکھا اور فون کان سے لگا لیا۔دوسری سائیڈ کی بات سن کر بولا “چھوڑ دو اسے۔”
آج اسے کے رواں رواں میں اک سرشاری تھی اس نے جسے شدت سے چاہا اسے پا لیا۔
حسن تھوڑی دیر باہر سے آوازیں سننے کی کوشش کرتا رہا جب کافی دیر اسے کوئی آواز سنائی نہیں دی تو وہ دروازے کی طرف بڑھا اور یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کے دروازہ کھلا تھا۔وہ نہیں جانتا تھا کے وہ وہاں کتنی دیر سے ہے اسے ہوش آیا تو وہ اس کمرے میں تھا ۔پہلے تو اس میں اتنی طاقت ہی نہیں تھی کے وہ اٹھ سکے پھر ایک گھنٹے کے بعد وہ اپنے حواسوں میں لوٹا اور اپنے اندر تھوڑی توانائی محسوس کی تو وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
باہر نکل کر اس نے دیکھا کے وہ ایک ہوش علاقے میں تھا لیکن یہ علاقہ اس کے گھر اور یشال کے گھر سے بہت دور ۔وہ اپنا بٹوہ کریڈٹ کار ڈ موبائل سب کچھ کھو چکا تھا۔
رات کافی ہو چکی تھی اس نے ایک آدمی سے موبائل لے کر گرپیت کو کال کی اا نے چھوٹتے ہی پوچھا یار تو کہاں ہے ہم کتنا پریشان ہیں تو جانتا ہے۔
حسن نے اسے بتایا کے وہ فلاں جگہ پر ہےوہ اور وہ اپنی ساری چیزیں کھو چکا ہے۔گرپیت نے اسے کہا کے وہ ٹیکسی کر کے آ جائے وہ اسے سالار کے گھر کے باہر ملے۔
ٹھیک ایک گھنٹے کے بعد وہ ان سے آ کر ملا اور جو نیوز گرپیت اور نیدی نے اسے سنائی اس کی رہی سہی ہمت بھی جاتی رہی۔اسے یہاں آ کر پتہ چلا کے یہ رات بھی گزر چکی ہے اور اس کی زندگی میں بہت کچھ بہا کر لے گئی ہے۔
رایان کو جب ماشہ نے بتایا کے سالار حسن کو زبان دے چکا ہے اب تم اسے بھول جاؤ رایان نے کچھ بولے بغیر کال بند کر دی۔
وہ اس وقت بہت طیش میں تھااگر سالار اس کا دوست نہ ہوتا تو وہ اسی وقت یشال کو لے آتا لیکن وہ دوستی کا بھرم رکھنا چاہتا تھا۔
اس نے سب سے پہلے کوشش کی کےحسن کی والدہ کو ویزہ نئ مل سکے اس کے لئے اس نے اپنےکنٹیکٹ استعمال کیے اور ویسا ہی ہوا جیسا وہ چاہتا تھا۔اس کا خیال تھا کے اس طرح کرنے سے شادی کچھ عرصے کے لئے رک جاۓ گی۔لیکن یہ اس کی خام خیالی تھی کیونکہ حسن نے سالار کو راضی کر لیا تھا کے وہ لوگ یہاںشادی کے بعد ان ڈیا چلیں جائیں گے اور پھر وہاں ان کا ولیمہ ہو گا۔پھر اس نے اگلا پلان ترتیب دیا شادی والے دن جب حسن گھر سے اپنی مختصر ہی بارات جس میں گرپیت نیدی اور کچھ اور اس انڈین اور پاکستانی دوست تھے ان کے ساتھ گھر سے نکلا تو راستے میں وہ سگنل بند ہونے پر پھول لینے کے لئے گاڑی سے اترا اور گرپیت کو گاڑی تھوڑی آگے لے جا کر کھڑی کر کے آنے کے لئے کہا لیکن وہ جب واپس اس جگہ پر پہنچا جہاں اسے لیکن وہ وہاں نہیں تھا۔
حسن جب مال کے اندر داخل ہونے لگا تو اسے کسی لڑکے نے آکر کہا کے آپ کو وہاں آپ کے دوست آپ کو بلا رہے ہیں حسن بھی اس طرف چل پڑھا وہ جس جگہ پر پہنچا وہاں سی سی ٹی وی کیمرہ نہیں تھا وہاں سے اس کے منہ پہ کسی نے کوئی چیز رکھی اور پھر اسے کوئی ہوش نہیں رہا۔
رونی ماشہ مغداد اور عفان کے ساتھ ہوٹل پہنچا۔سالار نے شادی کا انتظام ایک چھوٹے سے ہوٹل میں کیا تھا اس نے اپنے بہت سے جاننے والوں کو بھی بلایا تھا مازیہ اور اس کا شوہر امان بھی پاکستان سے آۓ تھے ۔رایان ایک سائی ڈ پر آکر بیٹھ گیا تبھی مازیہ اور ماشہ یشال کو لے کر آئیں تو رایان کے لئے سب کچھ پس منظر میں چلا گیا ری ڈ لہنگے میں جس پر گول ڈن نفیس موتیوں کا کام کیا ہوا تھا اس کے ساتھ بھاری جیولری اور میک اپ کے ساتھ وہ آج کوئی پری لگ رہی تھی۔یہ ڈریس رایان کے کہنے پر ماشہ نے گفٹ کیا تھا یشال کو اور اصعار کیا تھا کے وہ یہی ڈریس پہنے ۔آگے سب کچھ رایان کے پلان کے مطابق ہوا گرپیت اور نیدی نے آ کر حسن کی گمشدگی کے بارے میں بتایااور پھر اس وقت ماشہ نے سالار کے آگے عایان کا نام رکھ دیا جسے تھوڑی بحث مباحثے اور سالار کا رایان سے کنفرم کرنا کے اسے کوئی اعتراض تو نئیں ہے کے بعد قبول کر لیا گیا اور اب وہ یشال کے ساتھ اپنے گھر میں موجود تھا۔
آگے کا اگر کسی کو پتہ چل بھی گیا تو اسے پروا نہئں تھی وہ سب سے نپٹ لے گا یہ اسے یقین تھا۔وہ سیگریٹ ختم کر کے واپس کمرے میں آیا تو دیکھا یشال صوفے پر بیٹھی تھی اسے دیکھ کر کھڑی ہو گئی ۔رایان نے اس کی طرف ایک نظر دیکھا ۔کیا ہوا کچھ کہناہے تمہیں؟
جی وہ میں آپکا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں۔
کس بات کے لئے؟
آپ نے جو آج سب کچھ کیا اس کے لئے۔
تم یہ شکریہ کسی اور طرح بھی ادا کر سکتی ہو۔
اس کی اس بات پر یشال پریشان ہو گئی اسے رایان سے اس بے باک گفتگو کی امید نہیں تھی۔
اب یشال کے ہاس کوئی جواب نہیں تھا۔ رایان تھوڑی دیر اس کے جواب کا انتظار کرتا رہا اور پھر بولا سو جاؤ یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گیا۔
حسن سالار کے فلیٹ پر پہنچا اسے اپنےساتھ ہوئیے سارے واقعے کی تفصیل بتائی تو سالار کا سب سے پہلا شک رایان پر ہی گیا اور حسن نے بھی یہی کہا کے اسے رایان پر ہی شک ہے کیونکہ کوئی اور یہاں ایسا پلان نہیں بنا سکتا اور سالار رایان کے ان پلانز کے بارے میں آچھی طرح سے جانتا تھا ۔ وہ دونوں اپنی سوچوں میں غرق تھے تبھی وہاں رایان پہنچا اور بولو جو تم دونوں سوچ رہے ہو وہ صیح ہے یہ سب میں نے ہی کیا ہے۔
❤️❤️❤️❤️❤️**❤️❤️❤️
