Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

ناول “” روح رایان””
از🖋زرش نور
قسط نمبر۷

سالار اور رونی اس وقت ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھے ہوۓ تھے تبھی وہاں حسن آگیا سالار سے مل کر وہ رونی کی طرف متوجہ ہوا رونی یہ حسن ہے اور حسن یہ……
جی ان کو کون نہیں جانتا ؟
رونی نے مصحافہ کے لئے ہاتھ بڑھایا دونوں نے حسن کو بھی جوائن کرنے کے لئے بولا۔
اور حسن کب آئے واپس ؟
مجھے ایک ہفتہ ہو گیا ہے آۓ ہوۓ۔
آچھا!
سالار بھیا میں آپ سے کافی دنوں سے ملنا چاہتا تھا ۔ مجھے آپ سے کچھ ضروری بات کرنی تھی۔حسن نے سالار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
جی بولا حسن میں سن رہا ہوں۔
وہ مجھے اس نے رونی کی طرف دیکھا سالار بھیا مجھے آپ سے اکیلے میں بات کرنی ہے۔
اوکے سالار مجھے اجازات دو میں چلتا ہوں رونی نے فورا سے پہلے جانے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا۔
ارے تم کہاں چل دئے بیٹھو یہاں ساتھ ہی چلتے ہیں ۔
نہیں یار میں چلتا ہوں تم دونوں بات کر لو۔
آچھا اس لئے جا رہے ہو بیٹھو یہاں سالار نے ساتھ اسے کھینچ کے چئیر پر بٹھا دیا۔
حسن بات شروع کرو رونی میرے لئے بھائیوں کی طرح ہے تم بولو۔
سالار بھیا حسن کے لئے بہت مشکل ہو دہا تھا لیکن اسے بات تو کرنی تھی میری امی آنا چاہتی ہیں یہاں آپ سے ملنے۔
مجھ سے ملنے کیوں؟سالار کچھ سمجھ تو گیا تھا لیکن وہ حسن کے منہ سے سننا چاہتا تھا۔
سالار نے اسے اور مشکل میں ڈال دیا تھا۔
سالار بھیا وہ میر ے لئے آپ سے یشال کا ہاتھ مانگنا چاہتی ہیں میری خواہش پر۔
سالار تھوڑی دیر کے لئے خاموش ہو گیا۔ اور رونی اس کا بس نہیں چل رہا تھا کے وہ حسن کو ابھی کے ابھی یہاں سے اٹھا کے کہیں پھینک دے۔اسنے دونوں مٹھیاں بھینچی ہوئیں تھی اور بظاہر ان کی باتوں سے لاپروا نظر آنے کی پوری کوشش کر رہا تھا۔
کافی دیر کے بعد سالار بولا حسن تم بہت آچھے لڑکے ہو لیکن میں یشال کو اتنی دور کبھی نہیں تم اپنے ملک کی کسی لڑکی سے شادی کر لو کوئی اور ملک ہوتا تو پھر بھی ٹھیک تھا لیکن ہمارے اور آپ کے ملک کے تعلقات آۓ روز خراب ہوتے رہتے ہیں پھر آنے جانے میں بھی مشکل ہوتی ہے۔اس لئے میری طرف سے نہ ہے۔
پلیز ایسا مت کہیں میں یشال کو انڈیا کبھی نہیں لے کر جاؤ گا ہم یہی رہیں گے۔حسن نے بہت لجاجت سے کہا وہ کسی بھی
طر ح سالار کو منانا چاہتا تھا۔
اسی دوران رونی نے سالار سے اجازات چاہی اور آگے بڑھ گیا سالار نے اس بار اسے نہیں روکا کیوں کہ وہ خود الجھ گیا تھا۔
رونی نے باہر نکل کر سب سے پہلے سیگریٹ جلائی اور اپنی فرسٹیشن نکالنے کی کوش کی اور گاڑی میں بیٹھ گیا۔
دوسری طرف ریسٹورنٹ میں بیٹھا سالار الگ الجھن کا شکار تھا۔
اس نے ایک بار پھر سے کہنا شروع کیا دیکھو حسن وقت اور حالات کا کچھ پتہ نہیں ہوتا تم یہاں تب تک ہی جاب کر سکتے ہو کب تک تمہیں تمہاری کمپنی ویزا دے رہی ہے پھر اس کے بعد تم واپس اپنے ملک لوٹ جاؤ گے۔ شادی صرف لڑکی اور لڑکے کے درمیان میں نہیں ہوتی بلکہ دو خاندانوں کے درمیان ہوتی ہے تم اپنے ماں باپ کے اکلوتے بیٹے ہو تم ہمیشہ کے لئے یہاں نہیں رہ سکتے۔

حسن سالار کی بات پر خاموش ہو گیا۔
طویل خاموشی کے بعد بس اتنا بولا آپ اگر ایک بار یشال سے پوچھ لیں تو۔
اس کی بات پر سالار نے جلدی سے حسن کی طرف دیکھا ۔ سالار کو یشال پر خود سے زیادہ یقین تھا لیکن پھر بھی حسن کے کہنے پر وہ تھوڑی دیر کے لئے وہمی سا ہو گیا اور سوچنے لگا اگر یشال نے کہہ دیا کے وہ حسن سے ہی شادی کرے گی تو وہ کیا کرے گا وہ کسی بھی صورت یشال کو اپنے سے دور نہیں کرنا چاہتا تھا ۔ آخر میں اس نے حسن کی بات پر ہتھیار ڈالتے ہوۓ اثبات میں سر ہلا دیا۔میں اس سے بات کر کے تمہیں جواب دوں گا۔
حسن کو بھی تھوڑا حوصلہ ہوا اسے پتہ تھا کے یشال کبھی بھی اس کے حق میں فیصلہ نہیں دے گی لیکن وہ پھر بھی ایک امید کے سہارے اٹھ کر چلا گیا۔
اس کے جانے کے بعد بھی سالار کرنی دیر وہاں بیٹھا یشال کے بارے میں سوچتا رہا اور جوں جوں سوچتا جا رہا تھا اور پریشان ہوتا جا رہا تھا۔


رونی ریش ڈرائیونگ کرتے ہوئے گھر پہنچا اپنے کمرے میں داخل ہو کر اسے نے اپنا کوٹ اتار کر ایک سائیڈ پر پھینکا ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کی اور کمرے میں ادھر ادھر چکر لگانے لگا۔ اسے لگا تھا کے یشال کو حاصل کرنا اس کے لئے کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے لیکن آج اس لگ رہا تھا وہ اس کی دسترس سے بہت دور ہے۔اس نے اپنا سر اپنے ہاتھوں پر گرا لیا اور پھر کچھ خیال آنے پر موبائل پر نمبر ملانے لگا۔


ماشہ سوئی ہوئی تھی موبائل کی رنگ سےاس کی آنکھ کھلی اس نے وقت دیکھا رات کے دو بج رہے تھے اس نے موبائل میں رونی کی کال دیکھی تو جلدی سے کال ریسیو کی رونی کیا ہوا خیریت ہے تم نے اس وقت کیوں کال کی۔کافی دیراس کی آواز نہیں آئی ماشہ کے ہیلو ہیلو کہنے پر وہ ہوش کی دنیا میں واپس آیا۔ ماشہ صبح سب سے پہلے سالار کے گھر جانا یشال کا رشتہ لے کر۔”ماشہ کو اس کی آواز بھیگی ہوئی لگی۔”
کیا ہوا ہے رایان ؟
کچھ نہیں ماشہ اس سے پہلے وہ کسی اور کی ہو جائے تم سالار سے بات کرلو۔
ٹھیک ہے۔
اس کے ساتھ ہی رونی نے کال ڈسکنکٹ کر دی۔


سالار گھر پہنچا تو یشال ابھی تک جاگ رہی تھی۔سالار ریسٹورنٹ سے ایک فیصلہ کر کے اٹھا تھا۔یشال نے سالار سے کھانے کے بارے میں پوچھا اس کا جواب سن کر وہ اپنے کمرے کی طرف چل دی ۔
یشی سالار کے پکارنے پر وہ کمرے خے دروازے پر رک گئی اور مڑ کر سوالیہ انداز میں سالار کو دیکھنے لگی۔
میرے پاس آکر بیٹھو۔
وہ دھیرے سے چلتی ہوئی آئی آکر سالار کے ساتھ بیٹھ گئی۔
سالار سوچ رہا تھا کے بات کا آغاز کیسے کرے۔
یشال منتظر نظروں سے سالار کی طرف دیکھ رہی تھی۔
سالار نے ایک نظر یشال کی طرف دیکھا اور بات شروع کرنے کے لئے مناسب الفاظڈھونڈنے لگا۔
یشال حسن کیسا لڑکا ہے؟
جی بہت آچھا ہے محنتی ہے ہر کسی کی مدد کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے جب آپ جب شہر سے باہر گئے ہوئے تھے اور آپ سے کوئی رابطہ نہیں ہو رہا تھا تو وہی مجھے رونی سر کے گھر لے کر گیا تھا۔
ویسے کیوں پوچھ رہے ہیں آپ؟
کچھ نہیں تم جاؤ سو جاؤ۔
یشال کے جواب نے سالار کے لئے فیصلہ کرنا آسان کر دیا۔


اطلاعی گھنٹی کی آواز پر سالار نے جا کر دروازہ کھولا تو عفان اور ماشہ تھے ۔ سالار کو انہیں اپنے گھر دیکھ کر خوشگوار احساس ہوا ۔ یار تم لوگ اتنے سویرے سویرے؟
با ہم نے سوچا تمہیں آج چل کر سرپرائز دیں ۔
سالار کو دروازے پر ایستادہ دیکھ کر ماشہ نے جھانک کر اندر دیکھا اور بولی اندر آنے کے لئے نہیں بولو گے؟
سالار نے جلدی سے راستہ دیا آجاؤ اندر ۔
وہ دونوں اندر آۓ تو سامنے ہی ایک نوجوان بیٹھا ہوا تھا اسے دیکھ کر رک گئے وہ جلدی سے اٹھا اور دونوں کو ایک ساتھ سلام کیا۔
وعلیکم سلام!
ارے آؤ نہ تم لوگ بیٹھو پلیز ۔ یشال جلدی سے باہر آؤ دیکھو کون آیا ہے؟
یشال جلدی سے باہر آئی اور ماشہ کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی اس کی گود سے مغداد کو لیتے ہوئے انہیں بیٹھنے کے لئے بولا۔
ارے ماشہاس سے ملو یہ حسن ہے یشال کا فینسی۔
عفان اور ماشہ ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگے۔
یشال کے لئے بھی یہ نیوز نئی تھی۔
سالار نے حسن کو صبح صبح اسی لئے بلایا تھا تاکہ وہ اسے پوچھ سکیں کے وہ جتنی جلدی ہو سکے وہ اپنی والدہ کو بلا سکتا ہے بلا لے۔وہ جلد سے جلد یشال کے فرض سے سبکدوش ہونا چاہتا تھا۔
سب سے پہلے عفان ہی اس جھٹکے سے باہر آیا تھا اس نے سالار کو مبارک دی۔


❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️