No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
ناول “”روح رایان “
از 🖋 زرش نور
قسط نمبر ۲
رونی اگلے آدھے گھنٹے میں تم مجھے گھر پر ملو
its your last warning
لیکن ماشہ میں اس وقت میٹنگ میں ہوں ۔
رونی تم پہنچ رہے ہو یا نہیں “ہاں اور نہ” میں جواب دو۔”
اوکے پہنچ رہا ہوں ۔
کال بند کر کے رونی انگلی سے اپنی پیشانی سہلانے لگا ۔
کیا ہوا سر؟ سالار نے رونی کو سوچ میں ڈوبا دیکھا تو پوچھ لیا۔
سالار مجھے کسی کام سے جانا ہے ۔ تو تم یہ میٹنگ اٹینڈ کرو گے۔
اوکے سر نو پرابلم۔
رونی اس وقت ماشہ کے فلیٹ کے باہر کھڑا تھا اس نے ابھی گھنٹی کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کے دروازہ کھل گیا۔رونی سلام کر کے اندر داخل ہوا۔ سلام کا جواب عفان کی طرف سے آیا تھا۔ وعلیکم سلام سالے صاحب ! آج کیسے راستہ بھول گئے؟
یار تُو تو آگ نہ لگا پہلے ہی جلنے کی بو آ رہی ہے۔
اس کی بات ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کے ایک کشن اڑتا ہوا آ یا جسے رونی نے کیچ کر لیا۔عفان سے مغداد کو لے کر رونی کچن میں چلا آیا ۔ جہاں ماشہ کھانا بنا رہی تھی۔
آج کیا بنا ہے؟ رونی نے خود ہی ایک پین کا ڈھکن اٹھا کر دیکھنے لگا۔یار بہت بھوک لگ رہی ہے جلدی سے کھانا دو۔
رونی اپنی عادت کے خلاف بہت سے سوالات کر چکا تھا ماشہ سے لیکن جواب ندارد۔
اب رونی خاموش ہو کر صوفے پر بیٹھ گیا۔
آجاؤ آپ لوگ کھانا کھا لو۔ ماشہ نے اسے مخاطب کیے بغیر کہالیکن اب رونی کی باری تھی وہ اٹھ کر نہیں گیا اور عفان کو مخاطب کر کے بولا میں نے کھانا نہیں کھانا۔
اب ماشہ کو بھی احساس ہوا کے بہت ہو گئی ناراضگی وہ آ کر رونی کے پاس بیٹھ گئی۔
کیوں نہیں آۓ اتنے دن سے؟”ماشہ نے نرمی سے پوچھا۔”
یار بہت بزی تھا تم جانتی ہو نہ۔
اور کال کیوں نہیں کی؟
اس کے لئے سوری۔
جانتے ہو نہ ماں باپ نہ ہوں تو بہنوں کے لئے سب کچھ بھائی ہی ہوتے ہیں۔
جی رونی نے اثبات میں سر ہلایا وہ کوئی وضاحت نہیں دینا چاہتا تھاکیوں کے پھر اسے آدھا گھنٹہ اور لیکچر سننا پڑتا۔
وہ رونی کو بازو سے پکڑ کر کھانے کے ٹیبل پر لے آئی۔
ماشہ اور رونی دوہی بہن بھائی تھے۔ ان کا باپ پاکستانی جب کے ماں سنگاپورین تھی۔وہ دونوں پاکستان کبھی نہیں گئے ان کا باپ ان کی ماں کو چھوڑ کر جو پاکستان گیا تو واپس لوٹ کر نہیں آیا۔ پانچ سال پہلے ان کی ماں بھی فوت ہو گئی۔
عفان ایک پاکستانی تھا جو کے روزگار کی تلاش میں سنگاپورآیا وہ رونی کی کمپنی کی ایک برانچ سنبھال رہا ہے۔ماشہ اور عفان ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے جب اس بات کا پتہ رونی کو چلا تو اس نے صاف انکار کر دیا کے وہ ماشہ کی شادی کسی پاکستانی سےنہیں کرے گا۔لیکن وہ ماشہ کے آگے مجبور ہو گیا کیونکہ ماشہ نے کہہ دیا تھا کے وہ شادی کرے گی تو عفان سے ہی کرے گی۔
رونی راضی تو ہو گیا لیکن اس نے عفان کو بتا دیا کے اگر کبھی وہ اس کی بہن کو چھوڑ کر گیا تو وہ اسے جہاں بھی چلا جاۓ دنیا کے کسی کونے میں بھی تو وہ اسے ڈھونڈ لے گا اس لئے کبھی میری بہن کو چھوڑ کر جانے کے بارے میں سوچنا بھی مت۔
دونوں بہن بھائی میں بہت پیار ہے عفان رونی کے سامنے تو کچھ بھی نہیں بولتا لیکن ماشہ کو کہتا ہے میں تم دونوں بہن ھائی کے پیار سے بہت جیلس ہوتا ہوں۔
سالار آج گھر آیا تو بہت تھکا ہوا لگ رہا تھا۔۔بھیا کیا ہوا آج تو کچھ زیادہ ہی لگتا ہے کام کیا ہے۔
جی گڑیا بس آج سائیڈ پہ بھی کچھ کام تھا اس لئے تھک گیا ہوں۔
سالار اور یشال اور مازیہ تینوں بہنُ بھائی ہیں ان کے ماں باپ فوت ہو گئے ہیں مازیہ سب سے بڑی ہے اس کی شادی اپنے ماموں کے بیٹے کاشف سے ہوئی ہی وہ پاکستانُ میں ہی ہوتے ہیں ۔یشال جب دس سال کی تھی تو وہ لوگ پاکستان سے یہاں اپنے ماں باپ کے ساتھ آۓ تھے لیکن تین سال پہلے پاکستان میں یہ لوگ مازیہ کی شادی کے لئے گئے تھے شادی کے دوسرے دن ایک ایکسڈنٹ میں ان کے ماں اور باپ دونوں فوت ہو گئے ۔اس صدمے کا یشال نے بہت گہرا اثر لیا۔ مازیہ نے بہت کہا کے وہ یشال کو اپنے پاس رکھے گی لیکن سالار نہیں مانا اور یشال کو ساتھ لے آیا یہاں آ کر وہ کافی چینج ہوگئی اب پہلے کی طرح ہنستی کھیلتی نہیں تھی لیکن آہستہ آہستہ ٹھیک ہو رہی ہے۔
آج سالار آفس آیا تو ابھی اپنی سیٹ پر بیٹھا ہی تھا کے اسے پیغام ملا کے اسے باس اپنے آفس میں بلا رہے ہیں۔
سالا ردستک دے کراندر داخل ہوا تو رونی نے اسے بیٹھنے کے لئے بولا !مسٹر سالار کل آپ نے میری جگہ پر ایک میٹنگ اٹینڈ کی تھی۔
یس سر !
کیسی رہی میٹنگ؟
سر بہت آچھی۔
آپ کے لئے یا میرے لئے؟
سر ظاہر سی بات ہے یہ کمپنی آپ کی ہے تو اس کا فائدہ بھی آپ کو ہی ہوگااور چونکہ ہم لوگ اس کمپنی سے جڑے ہیں تو کہیں نہ کہیں اس کا فائدہ ہمیں بھی ہو گا۔
رونی نے ایک فائل اٹھا کر سالار کے آگے پھنکی پھر یہ کیا ہے مسٹر سالار میری کمپنی کی یہ اتنی اہم فائل ان لوگوں تک کیسے پہنچی۔اس سے پہلے کے سالار کوئی جواب دیتا رونی نے سالار کے منہ پر ایک طماچہ رسید کیا۔اور اس کے بعد اس نے سالار پر تھپڑوں اور مکوں کی بارش کر دی۔سالار نڈھال ہو کر نیچے گر گیا تو رونی اپنی سیٹ پر آگیا اور احمر کو بلایا۔
احمر اسے لے جاؤ اور جب تک یہ سب سچ سچ بتا نہ دے اسے کھانے پینے کے لئے کچھ نہیں دینا۔ لے جاؤ اسے یہاں سے۔
یشال کو آے دو گھنٹے ہو چکے تھے لیکن سالار کا کہیں کوئی اتا پتہ نہیں تھا۔ جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا یشال کی پریشانی میں اضافہ ہو رہا تھا۔وہ بار بار اس کا نمبر ٹرائی کر رہی تھی لیکن اس کا نمبر مسلسل بند جا رہا تھا ۔صوفے پر بیٹھے بیٹھے نہ جانے رات کے کس پہر اس کی آنکھ لگی ۔صبح اس کی آنکھ سورج کی کر نیں آنکھوں پر پڑنے سےکھلی۔وہ ہڑ بڑا کر اٹھی اور کمرے میں جا کر سالار کو دیکھنے لگی کے شاید وہ آگیا ہو لیکن اسے کمرے میں نہ پا کر اب کی بار اس نے نیچےُفرش پر بیٹھ کر رونا شروع کر دیا تھاوہ نہیں جانتی تھی کے وہ کہاں کام کرتا ہے۔ اس نے اس کے کمرے میں جا کر اس کی سٹڈی ٹیبل پر کچھ ڈھونڈنا شروع کیاکے وہاں سے اسے اس کے آفس کا پتہ مل جاۓ۔
سالار کی حالت بہت بری تھی لیکن اسے اپنی حالت سے زیادہ یشال کی فکر تھی۔وہ سوچ رہا تھا میری غیر موجودگی میں اس کی کیا حالت ہوگی۔احمر نےُاسےُ صاف صاف کہہ دیا تھا جب تک تم سچ نہیں بتا دیتے تب تک تم یہی قید رہو گے۔سالار سوچ رہا تھا کے کس نے ایسا کیا ہے پھر اس کے دماغ میں ایک دھماکہ ہوا جس وقت وہ واپس جا رہا تھا اس کے ساتھ ایک آدمی ٹکرایا تھا اور دونوں کے ہاتھ سے فائلز گری تھیں اسی وقت فائلز ایکسچینج ہوئیں ہوں گی۔
اسے اب بس احمر سے ملنا تھا۔
یشال کام پر بھی نہیں گئی آج دو دن ہو گئے تھے سالار کو غائبےےہوۓ اس نے رو رو کر آنکھیں سوجھا لیں تھیں۔آج اس نے نیدی اور حسن کو کال کی اور سالار کے بارے میں بتایا وہ دونوں بھی پریشان ہو گئے اور اسے کچھ حوصلہ دیا کے پریشان نہ ہو ۔شام کو وہ لوگ اس کے فلیٹ پر آئے اور پھر بہت سوچ بچار کے بعد حسن نے یشال کو مشورہ دیا کے وہ رونی سر سے ملے وہُ اس شہر کا سب سے اثر رسوخ والا بندہ ہے اور اگر یشال اس سے مل سکے تو وہ اس کی مدد کر دے گا۔لیکن سب سے مشکل کام اس سے ملنا ہے اس کے آفس بہت ساری جگہ پر ہیں کسی کو بھی نہیں پتہ ہوتاا کے وہ کس وقت کہاں ہوتاہے لیکن ہاں اگر تمُ اس کے گھر میں اس سے مل سکو تو بات بن سکتی ہے۔
سالار نے احمر سے کہا کے اسے رونی سے ملنا ہے لیکن احمر نے اسے بتایا کے رونی ملک سے باہر گیا ہوا ہے وہ تین دن کے بعد آۓ گا اب سالار کو اس کے آنے تک انتظار کرنا پڑے گا۔
یشال آج حسن کے ساتھ رونی کے گھر آئی تھی بہت انتظار کے بعد اس کے سیکیورٹی گارڈز نے انہیں بتایا کے کے وہ ملک سے باہر گیا ہوا ہے اور وہ دو دن کے بعد آۓ گا۔
یشال مایوس ہو کر واپس گھر آ گئی۔
سر آپ سے کوئی لڑکی ملنے آئی ہے نام بھی نہیں بتا رہی اور یہاں سے جا بھی نہیں رہی کہہ رہی ہے جب تک وہ آپ سے نہیں ملے گی یہاں سے نہیں جاۓ گی۔
اوکے بھیجو اسے!
یس سر!
وہ سست قدموں سے اس عالی شان گھر میں داخل ہوئی اس کچھ پتہ نہیں تھا کے وہ کہاں کہاں سے گزر کر یہاں تک پہنچی تھی ۔ اس نے نظر اوپر اٹھائی وہ اس کی طرف پیٹھ کیے کھڑا تھا وہ صرف جینز میں ملبوس تھا اس کے جسم سے پانی کی بوندیں گر رہی تھی۔
بولو لڑکی!
لگتا تھا اس کی دو آنکھیں پیچھے کی طرف بھی ہیں۔
دیکھئے سر مجھے میرے ایک دوست نے آپ کے بارے میں بتایا ہے ۔ میرا ایک ہی بھائی ہے اس کا نام سالار ہے وہ پیچھلے سات دن سے گھر نہیں آیا ۔ یہ اس کی تصویر ہے اس نے تصویر سامنے پڑے ٹیبل پر رکھی ۔ اگر آپ اسے ڈھونڈنے میں میری مدد کر دیں۔
سر آپ کے سگنیچر چاہیے ہیں ایک آدمی فائل اٹھاۓ مودب انداز میں اس کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔ رونی نے سگنیچر کر کے نظر اوپر اٹھائی تو واپس پلٹنا بھول گیا۔
کیا نام ہے تمہارا؟؟
جی یشال!
اس لڑکی کا ایڈریس اور نمبر نوٹ کر لو اور اسے گھر چھوڑ کر آؤ۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
