Rooh E Rayan By Zarish Noor Readelle50110 Last updated: 23 July 2025
No Download Link
Rate this Novel
Rooh E Rayan
By Zarish Noor
اس کے ساتھ ہی وکی نے اپنی سائلنسر لگی پسٹل نکالی اور رایان کے سر کا نشانہ لیا لیکن اس سے پہلے ہی رایان اس کے ہاتھ سے پسٹل جھپٹتے ہوۓ اس سے تھوڑا فاصلے پر موجود تھا۔یہ سب کچھ بس کچھ سیکنڈز میں ہوا تھا۔رایان نے کرسی پر بیٹھے بیٹھے ہی اپنے ہاتھ میں موجود رسی وکی کے ہاتھوں پر پھینکی اور کھڑے ہو کر گرتی ہوئی پسٹل کیچ کر لی۔
رایان نے پسٹل ہاتھ میں آتے ہی اپنے کان پر ہاتھ رکھا اور بولا "اندر آ جاؤ۔"
وکی اور رایان اس کی بات پر ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔
اب وکی سر آپ زرا یہ سیٹ سنبھالیں اس نے پسٹل کے ساتھ اشارہ کرتے ہوۓ کہا۔
اور ساتھ ہی زینے سے نیچے سالار آیا اس نے آتے ہی وکی کو دھکیل کر کرسی پر بیٹھایا اور پسٹل نکال کر بولا۔
رایان وقت نہیں ہے جلدی سے ان کا کام تمام کرو ۔
وکی بالکل بے بس ہو گیا وہ ان دو کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا اس لئے اس نے اپنے ملک کے ساتھ وفاداری کو ترجیح دی اور اپنے منہ میں موجود کیپسول نگل لیا۔اگلے ہی پل وہ تڑپتا ہوا نیچے گرا اور اس کے منہ سے جھاگ سی نکلی اور وہ دار فانی سے کوچ کر گیا۔
رایان اب کی بار جینیفر کی طرف مڑا۔ جو کے ڈری سی ایک سائیڈ پر کھڑی تھی۔ رایان ختم کرو اس لڑکی کو اور نکلو یہاں سے۔رایان نے سالار کی طرف دیکھا ۔
نہیں سالار اس کا اس کے حال پر رہنے دو زندگی کے میدان میں دوبارہ کبھی اگر یہ ہمارے راستے میں آئی تو اس کا پکا انتظام کروں گا۔
تم ہوش میں ہو رایان؟؟
جی سالے صاحب ہوش میں ہوں۔
کیا ہے کے میری بیوی جو ہے نہ اس کے حسن سے بہت متاثر ہوئی ہے۔اس لئے میں اسے چھوڑ رہا ہوں ۔
تم پاگل ہو رایان !یہ کہہ کر سالار دھپ دھپ کرتا وہاں سے نکل گیا۔
*****
آج سالار اور رایان پورے ایک ماہ کے بعد کشمیر سے واپس پاکستان لوٹے تھے ۔ان دونوں نے ہیڈ کوارٹر میں اپنی رپورٹ پیش کی اور پھر اپنے گاؤں کی طرف چل پڑے ۔
رایان اور سالار حویلی میں پہنچے تو حویلی روشنیوں میں نہائی ہوئی تھی ۔رایان اور یشال کی ولیمے کی تقریب رکھی گئی تھی۔
رایان کو دھچکا تب لگا جب اسے اس کے کمرے کی بجاۓ مہمان خانے میں ٹھہرایا گیا۔
رایان تلملا کر رہ گیا لیکن وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ ******
دوسرادن شام میں ریان اور یشال کی دعوت ولیمہ کی تقریب حویلی کے صحن میں رکھی گئی ۔جس میں صرف قریبی عزیزوں مدعو کیا گیا۔ یشال کو رایان کے برابر لا کر بٹھایا گیا تو رایان نے بہت کوشش کی کے وہ یشال کی ایک جھلک دیکھ سکے لیکن اس کا بڑا سا گھونگھٹ نکالا گیا تھا اور ساتھ میں فارحہ سنتری کے فرائض ادا کر رہی تھی۔
آخر اللہ اللہ کر کے رات کو بارہ بجے سب مہمانوں سے فارغ ہو کر رایان اپنے کمرے کے پاس پہنچا تو وہاں ایک اور امتحان تھا ابھی جہاں فارحہ کچھ دوسری کزنز کے ساتھ دروازے میں ایستادہ تھی۔
