Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

ناول “” روح رایان “”

از 🖋زرش نور

قسط نمبر ۱۵

رایان آج پھر کیسینو میں آیا تھا اسے وہ آدمی سامنے ہی مل گیا اس نے رایان کے آگے ایک پرچی رکھی اور اٹھ گیا۔ رایان کچھ سوچ کر مسکرا دیا ۔تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد وہ اٹھ آیا۔
وہ وہاں سے سیدھا اپنے گھر آیا گھر آکر اس نے اپنی گاڑی میں اپنے خاص آدمی روزی کو اپنی گاڑی میں بٹھایا اور خود اپنے گھر کی بیک سائیڈ پر آگیا۔


احمر اس وقت اپنے فلیٹ پر موجود تھا اس کے ساتھ اس کا خاص آدمی میک بھی تھا جسے اس نے رایان کے ہاں ڈرائیور رکھوایا تھا اور آخر میں اس کی مدد سے اس رایان حیدر کو وہاں چوٹ پہنچائی تھی جہاں کے بارے میں وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا اور آج وہ باقی سارا حساب بھی برابر کرنےوالا تھا۔لیکن یہ اس کی خوش فہمی تھی کے وہ اس شخص کو دھوکہ دے سکتا ہے جو دنیا کو اپنے ہاتھوں پر نچا رہا تھا۔رایان اپنے گھر کی بیک سائیڈ سے نکلا وہاں پہ ایک گاڑی کھڑی تھی وہ اس میں بیٹھا اور اپنی منزل کی طرف روانہ ہوا۔اپنی مقررہ منزل سے تھوڑا پہلے وہ گاڑی سے اتر گیا ۔وہ ایک چار مالے بلڈنگ تھی جس کی تیسری منزل پر رایان نے جانا تھا۔رایان نے بلڈنگ کے باہر موجود سیکیورٹی گارڈ کو اپنا کارڈ دیکھایا وہ اس وقت ڈیکیوری بواۓکپڑوں میں تھا اس نے گارڈ کو پیزا ڈیلیور کر نے کا کہا اور اندر چلا گیا۔اس نے لفٹ میں داخل ہو کر پیزا والے ڈبے سے گن نکالی اس پہ سائلنسر لگایا لفٹ سے باہر نکلنے سے پہلے اس نے اپنی کیپ اپنے سر پر اس طرح رکھی تاکہ سی سی ٹی وی کیمرے میں اس کا چہرہ نظر نہ آۓ۔اس نے جا کر دروازے پر دستک دی ۔
احمر نے حیرانگی سے دروازے کی سمت دیکھا اس وقت کون آ گیا۔اس نے آہستہ سے دروازہ کھولا آگے ڈیلیوری بواۓ تھا۔
آپ کا آرڈر سر۔
ہم نے کوئی آرڈر نہیں ! اس کی بات اس کے منہ میں ہی رہ گئی کیونکہ ایک زوردار کک اس کے منہ پر پڑی تھی ۔اس کے منہ سے خون کا فوارہ پھوٹ پڑا۔رایان نے آگے بڑھ کر دروازہ لاک کیا ۔احمر نے اجنبھا سے اسے دیکھا۔تم یہاں کیا کر رہے ہو؟
رایان مسکرایا اور ایک کرسی گھسیٹ کر احمر کے پاس بیٹھ گیا ۔
تم نے تو پوری کوشش کی تھی کے تم میرا کام تمام کر سکو۔لیکن تم یہ بات کیوں بھول گئے کے تم سات سال میرے ساتھ رہے ہو اور میں تمہاری ہر چال سمجھتا ہوں۔
تبھی واش روم سے ڈرائیور موری باہر نکلا ۔رایان نے اس کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔
تم آؤ ! تمُ تو میرے خاص مہمان ہو یشال کو مقررہ جگہ پر تم نے ہی ہہنچایا تھا نہ۔
ڈرائیور نے ادھر ادھر دیکھا وہ کسی بھی طرح ٹیبل پہ رکھی اپنی گن اٹھانا چاہتا تھا ۔لیکن رایان اسے اتنا موقعہ نہیں دینا چاہتا تھا اس نے پہلے اس کی ٹانگ کا نشانہ لیا پھر اسکی دوسری ٹانگ پر گولی ماری ۔وہ نیچے گر گیا اور تڑپنے لگا۔پھر وہ احمر کی طرف مڑا۔
ؔ*
وہاں سے نکل کر رایان سیدھا سالار کے فلیٹ پر آیا لیکن وہ لاک دیکھ کر وہ پاگل سا ہو گیا۔اس نے سالار کے نمبر پر کال کی۔
دوسری بیل پر کال ریسیو کر لی گئی۔
سالار کہاں ہو تم لوگ؟
رایان ہمارے دادا بیمار ہیں اس لئے ہم لوگ ہاکستان جا رہے ہیں ہمارا جہاز پانچ منٹ میں ٹیک آف کر نے والا ہے ۔اگر تم پاکستان آنا چاہتے ہو تو میں تمہیں ہمارا پاکستان کا ایڈریس سینڈ کر رہا ہوں آ جانا۔
اس نے کال کاٹ دی اور اگلے ہی پل اس کے واٹس اپ پر اسے میسیج موصول ہوا جس میں پاکستان کا ایڈریس تھا۔
تیار ہو جاؤ یشا ل میں آ رہا ہوں اور اس بار میں تمہیں بہت بری سزا دوں گا۔
ؔ***
یشال اور سالار پاکستان پہنچے تو احمد حسن انہیں خود لینے ائیر پورٹ آے ہوۓ تھے۔
بھیا آپ نے مجھ سے جھوٹ بولا تھا؟
نہیں ! سالار نے مختصر جواب دیا۔
آپ نے کہا تھا دادا جان بیمار ہیں ۔
ہاں بولا تھا۔
وہ ٹھیک ہیں بالکل !
ہاں ٹھیک ہیں تو!
بھیا مجھے نہیں پتہ آپ بتاؤ آپ مجھے کیوں لے کے آۓ ہیں پھر۔
اس لئے تاکہ رونی پاکستان آۓ ۔
کیوں!
کیونکہ رونی حیدر چاچو کا بیٹا ہے ۔
کیا؟
آپ کیسے جانتے ہیں ؟
میں نے رونی کے آفس میں حیدر چاچو کی تصویر دیکھی ہے ۔میرے پوچھنے پر کے یہ کون ہیں۔ اس نے تصویر کے ٹکڑے کر دئے ۔اگر میں اسے بتاتا کے وہ میرے کون ہیں تو وہ کبھی پاکستان نہ آتا ۔اس لئے میں تمہارے زریعے اسے پاکستان لانا چاہتا ہوں۔حیدر چاچو نے اپنی آخری سانسوں میں دادا جی کو بتا گئے تھے انھوں نے دادا جی سے یہ بات چھپائی تھی ان کے ڈر کی وجہ سے۔
لیکن بھیا رومانہ چاچی انہیں دادا جی نے بتا دیا ہے انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے ویسے بھی فاریہ اکیلی ہے اس لئے وہ بھی خوش ہیں کے چلیں فاریہ کے بھی بہن اور بھائی ہیں۔
حویلی پہنچنے پر سالار سے زیادہ یشال کا شانداراستقبال کیا گیا تھا ۔رومانہ بیگم بہت خوشی سے ملی تھیں کے ان کی بہو آئی ہے۔


رایان نے اپنے کانٹیکٹ استعمال کیے تھے اور تین دنوں میں اس کا پاکستان کا ویزا لگ گیا تھا۔

اور آج اس نے اپنی زندگی میں پہلی بار اپنے باپ کے وطن پاکستان کی سرزمیں پر پہلا قدم رکھا تھا۔تیز ہوا کے جھونکے نے اس کا استقبال کیا۔ائیرپورٹ سے وہ سیدھا ایک فائیو سٹار ہوٹل میں گیا وہان اپنا سامان رکھ کر اس نے ہوٹل کے مینیجر کو اپنے موبائل پر پرہ دکھایا کے اسے اس جگہ جانا ہے اس نے اسے ہوٹل کی گاڑی میں ہی اسے آگے بھیجا ۔وہ گاؤں میں جس وقت پہنچا رات کے گیارہ بج رہے تھے ۔اس نے حویلی کے باہر چوکیدار کو بتایا کے اسے سالار حیات احمد سے ملنا ہے ۔
وہ ایک ملازم کی میعت میں اندر بیٹھک میں آیا تھوڑی دیر کے بعد ایک باریش بزرگ کمرے میں داخل ہوۓ ۔رایان نے انہیں آپنا تعارف کروایا تو وہ روتے ہوۓ اس کے گلے لگ گئے۔رایان کا حیرانگی ہوئی ان کے آنسو دیکھ کر تھوڑی دیر میں ہی سالار ان تک پہنچا اور اس نے احمد حسن کو رایان سے الگ کیا ۔سالار رایان سے بہت آچھے طریقے سے ملا اب رایان کو سالار کا رویہ بھی غیر معمولی لگا ۔سالار نے رایان سے پوچھا کے وہ اس وقت یہاں کیسے پہنچا ہے۔اور پھر اس کے بتانے پر وہ باہر نکل گیا۔
کھانا کھا کر سالار نے رایان کو آرام کرنے کے لئے کہا ۔رایان تو یہ سوچ کر آیا تھا کے وہ پہلے سالار سے بات کرے گا کے وہ یشال کو اس کے ساتھ بھیج دے اور اگر وہ نہ مانا تو پھر وہ کورٹ اور پولیس سے اپنی ایمبیسی سے رابطہ کرےگا ۔لیکن یہاں تو سب کچھ الٹ تھا۔رایان کو کمرے میں چھوڑ کر سالارچلا گیا۔رایان وہی پاس پڑے صوفے ہر بیٹھ گیا اس نے لائٹ نہیں جلائی ۔تھوڑی دیر کے بعد دروازے پر دستک ہوئی اور ایک ملازم کپڑوں کا ایک جوڑا رایان کو دے کر گیا ۔رایان نے وہاں بیٹھ کر ایک سیگریٹ جلایا اور سوچنے لگا کے یہ کیا معاملہ ہے ۔
وہ کپڑے بدل کر بیڈ پر آیا تو اسے محسوس ہوا کے بیڈ پر ایک اور وجود بھی ہے اس نے اپنے موبائل کی لائٹ جلائی تو دیکھا وہ یشال تھی جو لگ رہا تھا گھوڑے گدھے بیچ کر سو رہی ہے۔رایان کو ایک خوشگوار حیرت ہوئی وہ خود بھی تو سب سے پہلے اسے ہی دیکھنا چاہتا تھا۔آج وہ پورے ایک ہفتے کے بعد اسے دیکھ رہا تھا۔وہ اس کے برابر لیٹ گیا اور اس کے منہ پر آۓ بال پیچھے کر کے اسے دیکھنے لگا۔وہ بہت تھکا ہوا تھا لیکن اس کا چہرہ دیکھ کر ساری تھکن کئی اڑن چھو ہو گئی تھی۔


❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️