Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

ناول “” روح رایان””

از 🖋زرش نور
قسط نمبر ۱۴

نیدی جو کے سالار کے ساتھ کچن میں اس کی مدد کر رہی تھی اس نے حیران ہو کر رایان کو جاتے دیکھا۔سالار جانتا تھا وہ جا رہا ہے لیکن اس نے پیچھے مڑ کر دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا۔
نیدی یشال کے پاس آئی اور اس سے رایان کے جانے کے بارے میں ہوچھا۔
کچھ کام تھا اسے بس مجھ سے ملنے آیا تھا۔یشال نے نظریں چراتے ہوۓ جواب دیا۔
سالار نے اس کی غلط بیانی پر سر جھٹکا۔وہ بے شک اپنے کام میں مشغول تھا لیکن اس کا سارا دھیان ان دونوں کی طرف ہی تھا۔
کھانا کھا کر نیدی جانے کے لئے کھڑی ہو گئی۔
کس کے ساتھ جاؤ گی اس وقت؟یشال نے اس سے پوچھا۔
چلی جاؤں گی پاس ہی توجانا ہے۔
نہیں اکیلے نہیں جانا بھیا تمہیں چھوڑ آئیں گے۔
سالار نے گھور کر یشال کو دیکھا لیکن وہ اس کی طرف متوجہ نہیں تھی۔


وہ دونوں اپارٹمنٹ سے نکلے تو سالار نے اپنی بلڈنگ کے سامنے ہی ایک گاڑی کھڑی دیکھی اور مطمئن ہو کر آگے بڑھ گیا۔
میں کافی دنوں سےآپ کو کچھ بتانا چاہتی تھی۔
ہمم بولو!
نہیں ابھی نہیں پھر کبھی۔
جیسے تمہاری مرضی سالار نے کندھے اچکاۓ۔۔
یہ شخص جتنا بےنیاز بنتا تھا اتنا نیدی کا دل اس کی طرف کھینچتا تھا۔
نیدی لے اپارٹمنٹ کے باہر پہنچ کر سالار نے خدا حافظ کہہ کر واپسی کی راہ لی ۔پھر کچھ سوچ کر واپس مڑا !سنو نیدی جو کے اپارٹمنٹ کا لاک کھول رہی تھی ۔اس کی طرف مڑی۔جی!
ایسے کپڑوں میں تم آچھی لگتی ہو۔وہ یہ کہہ کر آگے بڑھ گیا۔
نیدی خوشگوار حیرت میں گری اس کو جاتا دیکھتی رہی۔مطلب میری محنت رائیگاں نہیں گئی۔


رایان سالار کے گھر سے نکل کر سیدھا
البر ٹو کیسینو میں پہنچا تھوڑی دیر کے بعد اسے اپنا مطلوبہ شخص مل گیا۔
رایان جا کر اس کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گیا اور اپنی پاکٹ سے ایک بھاری رقم نکال کر اس کے سامنے رکھ دی۔
مجھے جاننا ہے کے آج سے ایک مہینہ پہلے ویٹانہ روڈ پر ایک لڑکی کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی تھی ایک شخص کو میں جانتا ہوں لیکن دوسرے کے بارے میں معلومات چاہئے ۔کب اور کہاں ملیں گے دونوں ایک ساتھ۔
مجھے کیا ملے گا؟
تمہاری سوچ سے زیادہ۔
دو دن بعد یہاں پہ ہی ملیں گے۔
رایان تھوڑی دیر بیٹھا رہا اور پھر چل دیا۔

لیکن دور کسی کی نظریں اس پر ہی ٹکی تھی وہ جانتا تھا کے وہ یہاں ضرور آۓ گا ۔
اس کے جانے کے بعد وہ آدمی اس آدمی کے پاس آ کر بیٹھا۔
میں نے اسے دو دن بعد آنے کے لئے بولا۔
اس آدمی نے اس کے آگے ایک پرچی رکھی۔
اس جگہ کا بتا دینا۔
اوکے!


وہ فریش ہو کر باہر آیا تو اس کا موبائل رنگ کر رہا تھا۔
اس نے دیکھا تو یشال کا نمبر جگمگا رہا تھا۔اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ گئی۔اس نے کینسل کر دی۔تھوڑی دیر کے بعد دوبارہ رنگ ہوئی۔اس بار رایان نے کال ریسیو کر لی۔
بولو کیوں کال کی ہے ؟

آپ ناراض ہیں مجھ سے؟

یہ پوچھنے کی ضرورت ہے۔

میں آپ کے ساتھ جانا چاہتی تھی لیکن میں سالار بھیا کو بھی انکار نہیں کر سکتی تھی ۔

اوکے کچھ اور کہنا ہے۔

نہیں !
اوکے اللہ حافظ۔
رایان کی ناراضگی تو کب کی ختم ہو گئی تھی۔وہ تو بس اسے تنگ کر رہا تھا۔


یشال نے مو بائل کو گھور کر دیکھا اور سوچ لیا کے اب وہ بھی کال نہیں کرے گی۔
دروازے پر دستک دے کر سالار اندر داخل ہوا ۔
جاگ رہی ہو ابھی تک؟

بس نیند نہیں آ رہی تھی ۔

یشال میں نے تمہیں پہلے بھی بتایا تھا کے دادا جان کی طبعیت خراب ہے وہ ہمیں بلا رہے ہیں ۔

کب جانا ہے؟

یشال کو اب رایان سے بدلہ لینے کا موقع مل گیا تھا۔اس نے سوچ لیا تھا کے وہ اسے بتاۓ بغیر اب پاکستان جاۓ گی۔یہ جانے بغیر کے وہ اس کے ہاسپٹل سے یہاں آنے پر اتنا ناراض ہے تو اس کے پاکستان جانے پر وہ کیا کرے گا۔لیکن آج اس کی باتوں نے اسے بہت ہرٹ کیا تھا وہ اس سے بدگمان ہو گئی تھی۔
پرسوں کا ٹکٹ کروا دیتا ہوں میں کل آفس جاؤں گا اور تم نے گھر میں آرام کرنا ہے ۔تمہاری پیکنگ میں آ کر کر دوں گا۔

سالار اب اس فکر میں تھا کے وہ یہاں سے یشال کو کیسے لے کر جاۓ گا ۔وہ ایسے جانا چاہتا تھا تاکہ رایان کو خبر بھی نہ ہو لیکن باہر کھڑے اس کے آدمی جنہیں اس نے یشال کی حفاظت کے لئے رکھا ہے ان سے بچ کر کیسے نکلے گا۔پھر کچھ سوچ کر وہ مطمئن ہو گیا۔

 ❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️